Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،شیخ رشید

    ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،شیخ رشید

    راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب بجلی قیمت میں اضافے کا تیسرا کرنٹ لگے گا جبکہ فارن ترسیلات، فارن ریزرو اور روپے کی گراوٹ کی کمی کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ ایک مہینے میں درآمدگی بل سو فیصد بڑھ گیا ہے۔

    عوام پر ظلم برداشت نہیں ،کل آئیندہ کا لائحہ عمل دوں گا،عمران خان

    شیخ رشید نے کہا کہ 7 ارب ڈالرز کے ریزرو، ایک ارب کی ترسیلات اور 50 کروڑ کی ایکسپورٹ کم ہو گئی۔ ایل این جی مہنگی اور ڈالر 210 روپے کا ہو گیا ہے ،یہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے لیے امریکہ کے پاؤں پڑ رہے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اب نواز شریف کی واپسی کا منتظر ہے۔

    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب کے ایک صوبے میں 2 اسمبلیوں کے اجلاس ہو رہے ہیں اور 20 منحرف اراکین کا الیکشن ایک ووٹ کی اکثریتی حکومت کا فیصلہ کرے گی حالات خراب ہو رہےہیں اور سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ آج شام 9 بجے لال حویلی سے اندرونی اور بیرونی سازشوں پر تفصیلی بات کروں گا۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت مفاد پرستوں کا دوسرا نام ہے اور امپورٹڈ حکومت کو غریبوں کی نہیں اپنے کیسز کے ختم کرانے کی فکر ہےخدا خیر کرے اب آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کی کمان سنبھال لی ہے۔

    لاہور میں ضمنی الیکشن:انتخابی مہم کے دوران جھگڑا، متعدد افراد زخمی

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کے 2 ماہ میں ہی پاکستان کی تاریخ کے تمام مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ابھی قیمتوں میں مزید اضافے کی خبریں آ رہی ہیں۔ وقت ہے کہ نکلیں اور اس غلامی کی قیمت کے خلاف آواز اٹھائیں ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے اسد عمر نے عوام کو مہنگائی کے خلاف رات 9 بجے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا

    قبل ازیں چیئرمین تحریک انصاف کی زیرصدارت جماعتی ترجمانوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اپنی جائیدادیں باہر رکھنے والوں کو عوام کی مشکلات اور ملک کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے،تحریک انصاف اپنے لوگوں پر دن دیہاڑے ظلم برداشت نہیں کرے گی، انہوں نے کہا تھا کہ کل کے احتجاج میں قوم کے ساتھ ملکر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے-

    عمران خان نے کہا تھا کہ ظالم جبر اور طاقت سے عوام کو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتے، پچھلے دو ماہ کے واقعات نے سازش کے ہر کردار اور اس کے اہداف پوری طرح آشکار کئے، بغیر تیاری کے سازش سے حکومت پر قابض ہونے والا لشکر اپنی چوری بچانے کیلئے قوم کا مستقبل دا پر لگا رہا ہے، خود کو اقتدار میں رکھنے کیلئے اداروں کو بدترین تباہی سے دوچار کیا جارہا ہے، تنبیہ کی تھی کہ سنبھلتی معیشت کو عدمِ استحکام سے دوچار کیا گیا تو حالات بے قابو ہوں گے-

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

  • دعا زہرہ کیس، فیصلے کیخلاف والد سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دعا زہرہ کیس، فیصلے کیخلاف والد سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دعا زہرہ کیس، فیصلے کیخلاف والد سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دعا زہرا کے والد نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائرکردی

    دعا زہرا کے والد کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے آٹھ جون کو دعا زہرہ کو اسکی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا، عدالت نے دعا کے بیان اور میڈیکل ٹیسٹ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا، میڈیکل ٹیسٹ کے بعد میڈیکل رپورٹ میں انکی بیٹی دعا زہرہ کی عمر 17 برس لکھی گئی ہے جو غلط ہے، دعا زہرہ کی عمر نادرا ریکارڈ، تعلیمی اسناد کے مطابق 14 برس ہے، سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں خامی ہے درخواست پر فوری سماعت کی جائے

    واضح رہے کہ 8 جون کو سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے دعا کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دی تھی

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھےمیرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

  • گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

    گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں جہاں انتظامی بحران ہے وہاں آئینی بحران بھی اپنے عروج پر ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ پنجاب پچھلے دوماہ سے چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہا ہے ، ادھرتازہ آئینی بحران میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کی جانب سے جاری کیے گئے تین آرڈیننس کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ملک میں مسائل کا الیکشن کے علاوہ کوئی اور حل نہیں،شاہ محمود قریشی

    بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے جاری کئے گئے آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا ہے۔جس کے لیے ماہرین قانون کی ٹیمیں اس کیس کا جائزہ لے رہی ہیں

    صوبہ پنجاب میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا، آئینی و قانونی ماہرین کا وزیراعلیٰ…

    یہ آرڈیننس جوجاری کیا گیااس میں گورنر بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ختم کرنے کے لیے سیکرٹری قانون کولکھا۔ سیکریٹری قانون کو سیکرٹری اسمبلی کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔اجلاس طلبی کے بعد سیکریٹری قانون کو اسمبلی سیکرٹری کے اختیارات دیے۔ گورنر کسی آرڈیننس کے ذریعے اسپیکر کے اختیارات ختم نہیں کر سکتے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے اختیارات میں صرف اسمبلی ہی کمی بیشی کر سکتی ہے، اسمبلی اجلاس طلبی کے بعد آرڈیننس جاری کرنا غیر آئینی ہے۔دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ کیس بڑی اہمیت کا حامل ہے اوراگرسپریم کورٹ اس کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے آرڈیننس کو غیرقانونی قراردیتی ہےتوپھرپنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کونقصان پہنچ سکتا ہے

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

  • ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ تحقیقاتی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس ،ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سربمہر لفافوں میں تمام شواہد اور ریکارڈ پر مبنی ڈیجیٹل ریکارڈ یو ایس بی میں جمع کروایا گیا ،رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت ایف آئی اے کے 14 ہائی پروفائل ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے،اعجاز ہارون نام ای سی ایل سے نکلنے کے بعد بیرون ملک گئے تاحال واپس نہیں آئے،

    کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس محمد علی مظہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس کہاں ہیں؟ ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کمیٹی کا گزشتہ روز اجلاس ہوا منٹس ایک دو روز میں مل جائیں گے کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا کہا ہے اٹارنی جنرل آفس نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق ایس او پیز بنا کر اداروں کو بھجوا دی ہیں ای سی ایل سے نکالے گئے تمام ناموں کا الگ الگ کر کے دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جو ترمیم ہوچکی ہے یا جو نام ای سی ایل سے نکل گئے انکا کیا ہوگا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے سے مشاورت کے بعد رولز بنائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود مستفید ہوئے ہیں وہ رولز میں ترمیم کیسے کر سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں شامل افراد کو بیرون ملک سفر کیلئے وزارت داخلہ سے اجازت لینے کا حکم دے دیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ بیرون ملک جانے سے پہلے متعلقہ شخص وزارت داخلہ سے اجازت لے گا، جب تک حکومت قانون سازی نہیں کر لیتی یہ عبوری طریقہ کار رائج رہے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حاکمیت چاہتے ہیں،سوال اہم ہے کہ مقتدر لوگوں نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے فائدہ اٹھایا، جن لوگوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان کیلئے مروجہ طریقہ کارپرسمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے موجودہ حالات منفرد نوعیت کے ہیں،پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت پارلیمنٹ سے باہر جاچکی ہے، ملک معاشی بحران کا شکار ہے،ایگزیکٹو کو اپنے اختیارات آئین و قانون کی روشنی میں استعمال کرنا ہونگے،کسی بھی تحقیقاتی ادارے،ایجنسی اور ریاستی عضو کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیں گے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا حکومت کا یہ جواب ہے کہ ماضی میں ہوتا رہا تو اب بھی ہوگا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بااختیار افراد نے ترمیم کرکے اسے سے فائدہ اٹھایا،کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی ضمانت حاصل کرنے کے اقدام کی تعریف کی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی ٰنے خود پیش ہوکر ضمانت کرائی، ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لینگے ،کابینہ ارکان نے تو بظاہر ای سی ایل کو ختم ہی کر دیا،

    واضح رہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنے تھے تو اسکے بعد ای سی ایل سے کئی لوگوں کے نام نکالے گئے تھے اور مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہونے والے افسران کا بھی تبادلہ کیا گیا تھا جس پر سپرہم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا،اس کیس میں کئی سماعتیں ہو چکی ہیں، آخری سماعت پر سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے تفصیلی جواب طلب کیا تھا جو آج ایف آئی اے نے جمع کروا دیا ہے

    گزشتہ سماعت پرچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

    ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

     

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ کیس جلد ختم ہو،14 سماعتیں ہوچکی ہیں حامد خان جلد دلائل مکمل کریں،بینچ میں شامل دو ججز جولائی اور اگست میں ریٹائر ہورہے ہیں،ججز کی ریٹائرمنٹ سے قبل کیس ختم کرنا چاہتے ہیں،زیر التوا مقدمات کے بوجھ کے باعث لارجر بینچ مشکل سے بنتا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس دوپہر 12 بجے شروع ہو تو دلائل کیلئے زیادہ وقت مل جائے گا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں تو سپریم کورٹ میں کیس سننے کیلئے تیار ہیں،عدالت نے حامد خان کو، آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کل اٹارنی جنرل کو سن لیں گے،

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیف جسٹس کو خط

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

  • سپریم کورٹ کا موسم گرما کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا موسم گرما کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کا موسم گرما کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عوام کو بڑے پیمانے پر انصاف کی فراہمی کے لیے موسم گرما کی تعطیلات میں بھی بھرپور کام ہوگا۔

    ترجمان کا پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ تعطیلات کے پہلے ہفتے میں 3 بینچز سمیت پرنسپل سیٹ پر کام کریں گے جبکہ ایک بینچ کراچی رجسٹری کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ترجمان عدالت عظمیٰ کے مطابق 13 اور 14 جون کے لیے 2 لارجر بینچ بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال موسم گرما کی تعطیلات میں اسی روٹین پر عمل کیا جائے گا۔

    ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں کمی ہوئی ہے، گزشتہ چار ماہ کے دوران زیر التوا مقدمات میں ایک ہزار 182 کی کمی آئی ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ 10 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں 183 نئے مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ 568 مقدمات نمٹائے گئے، اس طرح زیر التوا مقدمات مزید کم ہو کر 385 رہ گئے۔

    یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ عدلیہ کی تاریخ بھری پڑی ہے جس میں ہر دور میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے رواں سال موسمِ گرما میں بھی ‘انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے’ کام جاری رکھا

    2019 میں بھی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘سپریم کورٹ کو زیرِ التوا مقدمات کا ادراک ہے اس لیے پرنسیپل سیٹ سمیت تمام برانچ رجسٹریوں میں گرمیوں کے دوران کام جاری رہے گا تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔’

    خیال رہے کہ پاکستان میں لگ بھگ ڈھائی ماہ تک چھوٹی بڑی تمام عدالتیں گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث بند پڑی رہتی تھیں۔ عدالتوں سے منسلک سرکاری ملازمین کو حاصل یہ ‘سہولت’ ملک میں کسی دوسرے سرکاری ادارے کو حاصل نہیں ہے۔عموماً اس دوران اگر عدالتوں میں انتہائی ضروری نوعیت کے کیسز آئیں تو چھٹیوں میں مقدمات ڈیوٹی ججز سنتے تھے۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں لاکھوں کیسز سالہا سال سے فیصلے کے منتظر ہیں وہاں ججوں کے تعطیلات پر ہونے کی وجہ سے ہزاروں سائلین کو مزید پریشانی اٹھانا پڑتی تھی اور اس حوالے سے کئی حلقوں کی جانب سے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

    چھٹیوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟
    عدالتی چھٹیوں کی روایت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل یہاں موجود برطانوی حکام نے اس خطے میں گرم ترین مہینوں میں موسم کی سختی سے بچنے اور اپنی سہولت کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں کا شیڈول بنایا تھا۔

    عمومی طور پر انگریز جج موسمِ گرما میں برصغیر سے واپس برطانیہ چلے جاتے تھے یا پھر کسی پرفضا پہاڑی مقام پر اپنا ڈیرہ لگاتے۔

    گورے جج تو چلے گئے مگر اپنی یہ روایت پاکستانی عدلیہ کے لیے ترکے میں چھوڑ گئے۔ ان کے جانے کے تقریباً 70 سال بعد بھی برصغیر کے دونوں بڑے ممالک انڈیا اور پاکستان آج بھی اس روایت پر عمل پیرا ہیں۔

  • جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اورانہیں جرمانہ ٹھوکیں،سپریم کورٹ

    جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اورانہیں جرمانہ ٹھوکیں،سپریم کورٹ

    جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اورانہیں جرمانہ ٹھوکیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں پارک ویو سوسائٹی کی این او سی منسوخی کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    سپریم کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کو سڑک کی تعمیر کیلئے حد بندی کی ہدایت کر دی ،عدالت نے پارک ویو سوسائٹی کو اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے سے ملکر راستہ ریگولر کرانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے چاہے تو پارک ویو پر قانون کے مطابق جرمانہ کر سکتا ہے، عدالت نے سی ڈی اے کو متاثرین کو ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ تعین کرے پارک ویو نے کسی کی زمین پر قبضہ کیا ہے یا نہیں،

    وکیل پارک ویو نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات کی وجہ سے بجلی اور گیس کے میٹر نہیں لگ رہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنی نیک نیتی دکھانے کیلئے الاٹ شدہ مقام پر سڑک کی تعمیر شروع کریں،الاٹ شدہ زمین کا جو حصہ متنازع نہیں وہاں سڑک بنانی شروع کریں، وکیل پارک ویو نے کہا کہ سی ڈی اے متاثرین کیساتھ مسئلہ حل کرے تو فوری تعمیر شروع ہو جائے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کا مسئلہ حل کرنے میں پارک ویو سے زیادہ جلدی کسی کو نہیں ہو سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم درست نہیں، سی ڈی اے بھی سویا ہوا ہے،پارک ویو نے غیر قانونی کام اور سی ڈی اے نے مجرمانہ غفلت دکھائی،عدالت مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں پھنس گئی ہے، اثاثے بنانا معیشت کیلئے بہت ابھی چیز ہے،اثاثے غلط بنے ہوں تو قصور بنانے والے کا ہوتا ہے، جو گھر بن چکے ہیں انہیں گرانا مسئلے کا حل نہیں ہے، جو تعمیرات ریگولر ہو سکتی ہیں انہیں کرنا چاہیے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نسلہ ٹاور کا بھی مسئلہ سڑک کا ہی تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تو قرار دیا کہ سب کچھ مسمار کر دو ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوموٹو کا اختیار کیسے استعمال کر لیا، ہائیکورٹ کے حکم پر مقدمہ بھی درج نہیں ہوا، مقدمہ درج ہو جاتا تو حقائق سامنے آ جاتے، وکیل متاثرین نے کہا کہ نیشنل پارک کی زمین کسی سوسائٹی کو الاٹ نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی حل نکل رہا ہو تو اس پر فوکس کرنا چاہیے، پارک ویو نے سڑک بنا کر سی ڈی اے کا بھلا کیا، بے قاعدگیاں ہوتی رہتی ہیں، کیس کہیں سے شروع ہوتا ہے پہنچ کہیں اور جاتا ہے، جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اور انہیں جرمانہ ٹھوکیں متاثرین کا اگر کوئی بند راستہ ہے تو انتظامیہ سے رجوع کریں، عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

    علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    بنی گالہ کی حدود میں صحافیوں پر تشدد، مقدمے کے اندراج میں سیاسی اثرورسوخ حائل ہوگیا

  • امریکا: سپریم کورٹ کے جج کو قتل کرنے کی نیت سے آنیوالا مسلح شخص گرفتار

    امریکا: سپریم کورٹ کے جج کو قتل کرنے کی نیت سے آنیوالا مسلح شخص گرفتار

    امریکا میں سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج جسٹس بریٹ کیوانا کو قتل کرنے کی نیت سے آنے والے مسلح شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    باٍی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے "سی این این” کے مطابق محکمہ انصاف نے بدھ کی صبح میری لینڈ میں جسٹس بریٹ کیوانا کے گھر کے قریب سے گرفتار ہونے والے اس شخص پر امریکی جج کو اغوا یا قتل کرنے کی کوشش یا دھمکی دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

    امریکا میں پُر تشدد واقعات کے خطرات ہیں، ہوم لینڈ سیکیورٹی نے انتباہ جاری کر دیا

    مجرمانہ شکایت کے مطابق، اس شخص، 26 سالہ، سمی ویلی، کیلیفورنیا کے، نکولس جان روسکے، نے حکام کو فون کیا تھا کہ وہ خودکشی کے خیالات رکھتا ہے اور اس کے سوٹ کیس میں آتشیں اسلحہ تھا، جس کی وجہ سے اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

    بدھ کو ایف بی آئی کے ایک حلف نامے کے مطابق، اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ اس نے کیلیفورنیا سے "امریکی سپریم کورٹ کے ایک مخصوص جسٹس” کو قتل کرنے کے لیےسفر کیا تھاحلف نامے میں کہا گیا ہےکہ روسکے اسقاط حمل کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے کے لیک ہونے، آنے والے گن کنٹرول کیس اور Uvalde، Texas میں گزشتہ ماہ اسکول میں ہونے والی فائرنگ سے پریشان ہیں۔

    انڈونیشیا: لاشوں کو دریا میں پھینکنے کے جرم میں فوجی افسر کو عمر قید کی سزا

    حراست میں لیے گئے مشتبہ شخص نے گرفتاری کے بعد پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس بریٹ کیونو کو قتل کرنے کے ارادے سے ان کے گھر کی جانب آیا تھا، جس پر ملزم کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    ملزم کے قبضے سے ایک پستول، مرچوں والا اسپرے اور دیگر اشیا بھی برآمد کرلی گئی ہیں۔ میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں داخل کیے گئے مقدمے کی دستاویز کے مطابق ملزم نے یہ بھی بتایا کہ وہ جج کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کی جانب سے چند روز قبل ہی ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، جس میں آئندہ دنوں کے دوران ممکنہ دہشت گردی سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

  • کیا ہم کبھی ایک فائل سے کاغذ ڈھونڈیں گے کبھی دوسرے سے؟ سپریم کورٹ

    کیا ہم کبھی ایک فائل سے کاغذ ڈھونڈیں گے کبھی دوسرے سے؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نئی حلقہ بندیوں کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی گئی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن جواب ملنے پر فیصلہ کرے گا حلقہ بندی کس مردم شماری پر ہوگی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں ترمیم کی اجازت دی تھی لیکن درست انداز میں فائل نہیں ہوئی کیا ہم کبھی ایک فائل سے کاغذ ڈھونڈیں گے کبھی دوسرے سے؟ عدالت نے تحریک انصاف کو آئندہ پیر تک درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی عدالت نے پی ٹی آئی کو متفرق اور ترمیم شدہ درخواستیں یکجا کرکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی

    وکیل پی ٹی آئی نے عدالت میں کہا کہ حلقہ بندیوں کے شیڈول پر تیزی سےعمل ہورہا ہے،نئی حلقہ بندیوں کو آرٹیکل 51(5) کا تحفظ حاصل نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن متعلقہ حکام کی جانب دیکھ رہا ہے،الیکشن کمیشن پوچھ رہا ہے 2021 کی مردم شماری کب تک مکمل ہوگی، عدالت نے تحریک انصاف کو آئندہ سوموار تک درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عدالت میں آرٹیکل184 تھری کے تحت درخواست دائرکی درخواست میں ادارہ شماریات، وفاق، الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کوفریق بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ درخواست میں اپیل کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیرسے روکا جائےاور قرار دیا جائے کہ3 مئی 2018 میں کروائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا شیڈول غیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا جائے، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل یقینی بنانے کا حکم دیا جائے-

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    لا کالج جگا گیری کر رہے ہیں، سسٹم کا تماشا بنا دیا گیا،لاہور ہائیکورٹ برہم

     لا کالجزقائم کرنے کے باقاعدہ طریقہ کارسے متعلق قائمہ کمیٹی کے قیام کا حکم

  • ایک ایک کمرے کےلا کالج، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    ایک ایک کمرے کےلا کالج، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    ایک ایک کمرے کےلا کالج، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں مبینہ جعلی داخلوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے لا سٹوڈنٹس کو امتحان دینے کی اجازت دے دی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امتحانات کے بعد طلبا کا تمام ریکارڈ عدالتی حکم کے تحت قائم کمیٹی کو بھجوایا جائے گا ،سپریم کورٹ نے کمیٹی سے امتحانات کے بعد دو ہفتے میں داخلوں پر رپورٹ طلب کرلی،وزیر قانون نے کہا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں14ہزارجعلی ا سٹوڈنٹس کے داخلے سامنے آئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں14ہزارجعلی داخلے تو سوچ سے باہر ہیں ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں 3سالہ لا ڈگری ختم کرنے کا حکم دیا تھا ،وکیل یونیورسٹی نے کہاکہ 2016 کے داخلے کے ہی اب امتحانات لیے جا رہے ہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2016 کے داخلوں کا امتحان اب 2022 میں لینے کی سمجھ نہیں آتی ،ایک ایک کمرے کے لا کالج بنائے گئے، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار بن چکا ہے ،وکیل بار کونسل نے کہا کہ عدالتی حکم پر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے کسی کالج کو ڈی ایفلیٹ نہیں کیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 32 لا کالجز کو فوری طور پر ڈی ایفیلیٹ کرنے کا حکم دیا تھا عدالتی حکم کے باوجود جعلی کالجز کی یونیورسٹی سے ایفلی ایشن ختم نہیں کی گئی، اسکروٹنی کے عمل میں ایف آئی اے کو شامل کریں گے، جعلی داخلے چھوٹا اسکینڈل نہیں ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو شامل کیا یا امتحانات روکے تو 6 سال کچھ نہیں ہوگا ،حقیقی طلبا کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کمیٹی رپورٹ آنے تک ملتوی کردی

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    لا کالج جگا گیری کر رہے ہیں، سسٹم کا تماشا بنا دیا گیا،لاہور ہائیکورٹ برہم

     لا کالجزقائم کرنے کے باقاعدہ طریقہ کارسے متعلق قائمہ کمیٹی کے قیام کا حکم