Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • امریکی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی

    امریکی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی

    امریکا کی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے”روئٹرز” کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو مذہبی حقوق کو وسیع کرنے کے لیے ایک اور اہم فیصلہ جاری کیا، یہ معاملہ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب واشنگٹن ہائی اسکول کے ایک سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی میچ کے بعد 50 گز کی لائن پر باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی وجہ سے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    عدالت، خاص طور پر اس کے قدامت پسند بلاک نے حالیہ برسوں میں متعدد مقدمات میں مذہبی آزادی کے بارے میں وسیع نظریہ اپنایا ہے یہاں اکتوبر میں شروع ہونے والی اس کی موجودہ مدت کے دوران فیصلہ کیے گئے مذہبی حقوق سے متعلق کچھ معاملات پر ایک نظر ہے۔

    سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی نے اپنی برطرفی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انھوں نے نماز پڑھنے کی اجازت محض مذہبی رواداری کے تحت دی تھی جو آئین کی خلاف ورزی نہیں۔

    امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں نے آج ایک بار پھر آئینی ترمیم کی دوبارہ تشریح کی جو سرکاری ملازمین کو کام کی جگہ اپنے عقیدے کے اظہار سے متعلق ہے۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    امریکی وفاقی ججز نے اسکولوں سمیت تمام سرکاری عمارتوں میں مسلمان ملازمین کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ پابندی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے جو ملازمین کے عقائد کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے6 ججز نے باجماعت نماز کی اجازت دینے کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ 3 نے مخالفت کی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کی پہلی ترمیم حکومت کو “مذہب کے قیام کا احترام” کے خلاف کوئی قانون بنانے سے روکتی ہے۔ یہ شق ایسے حکومتی اقدامات پر بھی پابندی عائد کرتی ہے جو غیر ضروری طور پر ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دیتے ہیں۔

    جسٹس نیل گورسچ نے لکھا کہ آئین اور ہماری بہترین روایات باہمی احترام اور رواداری کا مشورہ دیتی ہیں، نہ کہ سنسر شپ اور دباؤ کا۔ فٹبال کوچ کو مختصر، پرسکون، ذاتی مذہبی پابندی میں مشغول ہونے پر سزا دی گئی۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • امریکہ:اسقاط حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعدجھڑپیں اوردنگا فساد شروع

    امریکہ:اسقاط حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعدجھڑپیں اوردنگا فساد شروع

    واشنگٹن:لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں مظاہرین کو پولیس افسران کے ساتھ مارپیٹ کرتے دیکھا گیا، امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل کے ایک تاریخی مقدمے کی منسوخی کے بعد امریکہ بھر کے شہروں میں بدامنی ، چھڑبیں اوردنگا فساد شروع ہوگیا ہے

    یہ جھڑپیں فیصلے کے کچھ دیربعد شروع ہوئیں اور ابھی بھی بڑے بڑے علاقوں میں پولیس کے ساتھ عوام کا ٹکراوجاری ہے ، مظاہرین کو پولیس پر آتش بازی سمیت اشیاء پھینکتے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھلے عام جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔افسروں نے لاٹھیوں سے جواب دیا، اور کئی گرفتاریاں کرتے نظر آئے، بعد میں ایل اے کے مرکز میں 4 اور مین اسٹریٹ کے آس پاس کے علاقے میں جمع ہونے والوں کو منتشر کرنے کا حکم جاری کیا۔

    بعد ازاں دوسرے شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے، اور فینکس، ایریزونا میں پولیس کے زبردست ردعمل بھی دیکھے گئے، جہاں افسران کو ریاستی دارالحکومت کی عمارت سے ایک ہجوم پر آنسو گیس پھینکتے ہوئے فلمایا گیا۔

    امریکی سپریم کورٹ نے مشہور زمانہ روئے ویڈ (Roe v. Wade) کیس کے 1973 کے فیصلے کو غیرمتوقع طور پر کالعدم قرار دے دیا، جس میں اسقاط حمل کو خواتین کا آئینی حق تسلیم کرکے قانونی قرار دیا گیا تھا۔

    اس فیصلے کو ری پبلکن اور مذہبی قدامت پسند اپنی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو اسقاط حمل کو محدود یا اس پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔

    عدالت نے 4-5 کے فیصلے سے میسیپی قانون برقرار رکھا، جس کے تحت 15 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔ ججوں نے کہا کہ روئے بمقابلہ ویڈ کے فیصلے میں 24 تا 28 ہفتوں سے قبل تک اسقاط حمل کی اجازت دی گئی تھی جو کہ غلط فیصلہ تھا کیونکہ امریکی آئین میں اسقاط حمل کے حقوق پر کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    میسیپی کے قانون پر نچلی عدالتوں نے پابندی لگا دی تھی کہ اسقاط حمل کے حقوق سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔ میسیپی میں واحد بچ جانے والے اسقاط حمل کے کلینک جیکسن ویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈیمو کریٹس کے امریکی صدر جوبائیڈن کی حمایت سے اس قانون کو 2018 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    متذکره قانون کے مطابق اسقاط حمل کی اجازت صرف میڈیکل ایمرجنسی یا مہلک معذوری کی صورت میں دی گئی تھی لیکن اس میں ریپ کی وجہ سے ہونے والے حمل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    روئے بمقابلہ ویڈ (Roe v. Wade) فیصلے میں بتایا گیا کہ امریکی آئین ذاتی رازداری کے تحت خواتین کو اسقاط حمل کا تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہونے پر کوئی استثنیٰ نہیں دی گئی ہے۔

    ‘پلینڈ پیرنٹ ہڈ آف ساؤتھ ایسٹرن پنسلوانیا بمقابلہ کیسی’ کہے جانے والے کیس میں سپریم کورٹ نے 1992میں اسقاط حمل حقوق کی توثیق کی تھی اور کہا تھا کہ اسقاط حمل قوانین کا نفاذ ‘غیر ضروری بوجھ’ ڈالنے کے مترادف ہے۔

    امریکا میں 1980 میں اسقاط حمل اپنے عروج پر تھا جو ایک ہزار حاملہ خواتین میں 29.3 تھا جبکہ 2017 میں یہ ایک ہزار خواتین میں 13.5 تھا جس کے بعد 2020 تک اسقاط حمل بڑھ کر 14.4 فی ہزار خاتون ہو گیا تھا۔

    بین الاقوامی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق میں اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال 7.3 کروڑ اسقاط حمل ہوتے ہیں جو تمام حاملہ خواتین کا 29 فیصد بنتا ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ مغربی ممالک جس اسقاط حمل کو اپنا فطری حق سمجھتے ہیں، اُسے اسلام میں فطرت کے اصولوں کے خلاف اور حرام قرار دیا گیا ہے اور اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں اسکے ذمہ دار کو دیت اور خونبہا کی ادائگی کا پابند بنایا گیا ہے۔

  • سود کیخلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سود کیخلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسٹیٹ بینک نے سود کیخلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کو سماعت کیلئے منظور کیا جائے،شرعی عدالت کے فیصلے میں اٹھائے گئے نکات کی حد تک ترمیم کی جائے اسٹیٹ بینک کیطرف سے سلمان اکرم راجہ نے اپیل دائر کردی چار نجی بینکوں نے بھی شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی اپیل میں وزارت خزانہ،قانون، چیئرمین بینکنگ کونسل اور دیگر کو فریق بنایا گیا, اپیل میں کہا گیا ہے کہ شرعی عدالت نے سیونگ سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز کو خلاف اسلام قرار دیا،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فیصلے کو چیلنج کئے جانے پر کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اقدام قابل مذمت ہے۔ سود اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ سودی معیشت سے جان چھڑائے بغیر ترقی و خوشحالی نہیں آ سکتی۔

    صحافی انصار عباسی کہتے ہیں کہ پہلے 1992 میں نواز شریف کی حکومت تھی جب سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کی بجائے SC میں چیلنج کر دیا گیا۔ آج پھر ایک بار سود کے خلاف شرعی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا ہے اور حکومت شہباز شریف کی ہے۔ چینلج کرنے والوں میں سٹیٹ بنک بھی شامل ہے۔ افسوس صد افسوس

    واضح رہے کہ رواں برس 28 اپریل کو وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف کیس کا 19 سال بعد فیصلہ سنا یا تھا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی بینکنگ کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں ،معاشی نظام سےسود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کے منافع کی تمام اقسام سود کے زمرے میں آتی ہیں، انٹرسٹ ایکٹ 1839 مکمل طورپرشریعت کیخلاف ہے سود کیلئےسہولت کاری کرنیوالے تمام قوانین اورشقیں غیرشرعی قرار دے دی گئیں اسلامی بینکاری نظام رسک سے پاک اوراستحصال کیخلاف ہے، ملک سے ربا کا خاتمہ ہرصورت کرنا ہو گا، ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے، بینکوں کاقرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے، بینکوں کا ہرقسم کا انٹرسٹ رباہی کہلاتا ہے، قرض کسی بھی مدمیں لیا گیا ہواس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا ،وفاقی شرعی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ تمام بینکوں کی جانب سےاصل رقم سے زائدرقم لینا سود کے زمرے میں آتا ہے، حکومت کوہدایت دی جاتی ہے کہ انٹرسٹ کا لفظ ختم کرے، ربا مکمل طورپرہرصورت میں غلط ہے

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

     ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    سود کا خاتمہ حکم الہٰی کے ساتھ آئین پاکستان کا اہم تقاضا بھی، ڈاکٹر قبلہ ایاز

  • منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی جاسکتی ہے۔
    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے انسداد منشیات کے پی ایکٹ 2019 کی شق 27 کی تشریح کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔

    ملزم سید زوالفقار علی شاہ نے ضمانت بعد گرفتاری کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالت نے کہا ملزم کو چرس فروخت کے الزام پہ گرفتار کیا گیا، ملزم نے اپنے دفاع میں انسداد منشیات ایکٹ کی شق 27 کا حوالہ دیا، ملزم نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شق 27 کے تحت منشیات کے مقدمے میں سپیشل جج سے سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

    سپریم کورٹ نے کہا منشیات مقدمات میں ملزم کے غائب ہو جانے کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کو رسمی کارروائی میں نہ پڑنے کے عدالتی نظائر موجود ہیں، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی دلیل پر ٹرائل روکا جاسکتا ہے نہ سزا ختم کی جاسکتی ہے، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کے سبب کسی ملزم کو بری نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے سید ذوالفقار علی شاہ کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

  • سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا

    سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا

    اسلام آباد : سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ ،حج انتظامات کیلئے معاونین کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا-

    آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے حج انتظامات متاثر ہو رہے ہیں، معاونین کا انتخاب حجاج کرام کی خدمت کیلئے کیا جاتا ہے،حجاج کرام کیساتھ معاونین کا انتخاب سعودی حکومت کا تقاضا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ معاونین کا انتخاب کون کرتاہے اورمعاوضہ کون ادا کرتا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ معاونین کے انتخاب کیلئے سرکاری محکموں سے نام مانگے جاتے ہیں،حکم معطل نہیں ہوا تو سعودی عرب پہنچنے والے حجاج کو مشکلات ہوں گی-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ ایسا کرتے ہیں درخواست کو نمٹا دیتے ہیں سپریم کورٹ نے کہا کہ عمومی طور پر عبوری حکم نامہ میں مداخلت نہیں کرتے،حجاج کرام کی مشکلات کے پیش نظر ہائیکورٹ کا حکم معطل کر رہے ہیں-

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے سینئیر جج جسٹس شاہد کریم نے 109 آفیسرز سمیت 232 لوگوں کو بطور معاون فری حج پر بھیجنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت کی تھی معاونین کو مقرر کرنے کا اقدام روکتے ہوئے معاملہ پرنسپل سیٹ پر بھیج دیا تھا-

    بعد ازاں آفیسرز اور پالیسی سے ہٹ کر معاون مقرر کرنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی تھی ہائیکورٹ ملتان بینچ میں پالیسی سے ہٹ کر آفیسرز کو معاون مقرر کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ معاون حج حکومت کی طرف سے فری حج کرتے ہیں اور سعودی حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں جو خزانے پر بوجھ ہیں،-

    عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، اٹارنی جنرل پاکستان، وزارت مذہبی امور کو نوٹسز جاری کئے تھے کانسٹیبل ظہیر عباس سمیت 5 پولیس کانسٹیبل نے درخواست دائر کی تھی۔ ، پنجاب پولیس کے کانسٹیبل ظہیر عباس ، صابر حسین اور سعید احمد وغیرہ کا نام قرعہ اندازی کے ذریعے معاونین حج کے لیے آیا تھا-

    درخواست گزاروں موقف اپنا یا تھا کہ آئی جی پنجاب نے بذریعہ قرعہ اندازی 66 لوگوں کے نام حج معاونین کے لئے دیے تھے۔ وزارت حج نے پالیسی کے خلاف اپنے من پسند لوگوں کو حج معاونین مقرر کر دیا تھا مجموعی طور پر 232 حج معاونین میں سے 109 آفیسرز کو بھی حج معاونین مقرر کیا تھا جو غیر قانونی ہے۔ حج معاونین حاجیوں کے مددگار ہوتے ہیں جو ہر محکمے سے بذریعہ قرعہ اندازی لئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ

  • نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

    نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

    نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نیب کے مختلف مقدمات میں ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت کی

    نیب پراسیکیوٹرعدالت میں پیش ہوئے ،دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کی ٹرائل کورٹ سے بریت سے ضمانت منسوخی کی اپیلیں غیر موثر ہوچکی ہیں نیب پراسیکیوٹر کے موقف پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملزمان عدالت سے کب بری ہوئے؟ کیا احتساب عدالتوں سے ملزمان کی بریت کا نیب کے پاس حساب کتاب ہے؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ملزمان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب بیورو آفسز میں ملزمان کا تمام ریکارڈ رکھا جاتا ہے عدالت نے نیب سے احتساب عدالتوں سے ملزمان کی بریت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    نیب نے ظہیر الدین،ناصر قادر،مسود اختر،سلیم اختر، خالد نعیم کی صمانت منسوخی کیلئے اپیلیں دائر کی تھی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

  • ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،شیخ رشید

    ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،شیخ رشید

    راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب بجلی قیمت میں اضافے کا تیسرا کرنٹ لگے گا جبکہ فارن ترسیلات، فارن ریزرو اور روپے کی گراوٹ کی کمی کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ ایک مہینے میں درآمدگی بل سو فیصد بڑھ گیا ہے۔

    عوام پر ظلم برداشت نہیں ،کل آئیندہ کا لائحہ عمل دوں گا،عمران خان

    شیخ رشید نے کہا کہ 7 ارب ڈالرز کے ریزرو، ایک ارب کی ترسیلات اور 50 کروڑ کی ایکسپورٹ کم ہو گئی۔ ایل این جی مہنگی اور ڈالر 210 روپے کا ہو گیا ہے ،یہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے لیے امریکہ کے پاؤں پڑ رہے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اب نواز شریف کی واپسی کا منتظر ہے۔

    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب کے ایک صوبے میں 2 اسمبلیوں کے اجلاس ہو رہے ہیں اور 20 منحرف اراکین کا الیکشن ایک ووٹ کی اکثریتی حکومت کا فیصلہ کرے گی حالات خراب ہو رہےہیں اور سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ آج شام 9 بجے لال حویلی سے اندرونی اور بیرونی سازشوں پر تفصیلی بات کروں گا۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت مفاد پرستوں کا دوسرا نام ہے اور امپورٹڈ حکومت کو غریبوں کی نہیں اپنے کیسز کے ختم کرانے کی فکر ہےخدا خیر کرے اب آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کی کمان سنبھال لی ہے۔

    لاہور میں ضمنی الیکشن:انتخابی مہم کے دوران جھگڑا، متعدد افراد زخمی

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کے 2 ماہ میں ہی پاکستان کی تاریخ کے تمام مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ابھی قیمتوں میں مزید اضافے کی خبریں آ رہی ہیں۔ وقت ہے کہ نکلیں اور اس غلامی کی قیمت کے خلاف آواز اٹھائیں ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے اسد عمر نے عوام کو مہنگائی کے خلاف رات 9 بجے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا

    قبل ازیں چیئرمین تحریک انصاف کی زیرصدارت جماعتی ترجمانوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اپنی جائیدادیں باہر رکھنے والوں کو عوام کی مشکلات اور ملک کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے،تحریک انصاف اپنے لوگوں پر دن دیہاڑے ظلم برداشت نہیں کرے گی، انہوں نے کہا تھا کہ کل کے احتجاج میں قوم کے ساتھ ملکر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے-

    عمران خان نے کہا تھا کہ ظالم جبر اور طاقت سے عوام کو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتے، پچھلے دو ماہ کے واقعات نے سازش کے ہر کردار اور اس کے اہداف پوری طرح آشکار کئے، بغیر تیاری کے سازش سے حکومت پر قابض ہونے والا لشکر اپنی چوری بچانے کیلئے قوم کا مستقبل دا پر لگا رہا ہے، خود کو اقتدار میں رکھنے کیلئے اداروں کو بدترین تباہی سے دوچار کیا جارہا ہے، تنبیہ کی تھی کہ سنبھلتی معیشت کو عدمِ استحکام سے دوچار کیا گیا تو حالات بے قابو ہوں گے-

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

  • دعا زہرہ کیس، فیصلے کیخلاف والد سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دعا زہرہ کیس، فیصلے کیخلاف والد سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دعا زہرہ کیس، فیصلے کیخلاف والد سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دعا زہرا کے والد نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائرکردی

    دعا زہرا کے والد کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے آٹھ جون کو دعا زہرہ کو اسکی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا، عدالت نے دعا کے بیان اور میڈیکل ٹیسٹ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا، میڈیکل ٹیسٹ کے بعد میڈیکل رپورٹ میں انکی بیٹی دعا زہرہ کی عمر 17 برس لکھی گئی ہے جو غلط ہے، دعا زہرہ کی عمر نادرا ریکارڈ، تعلیمی اسناد کے مطابق 14 برس ہے، سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں خامی ہے درخواست پر فوری سماعت کی جائے

    واضح رہے کہ 8 جون کو سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے دعا کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دی تھی

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھےمیرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

  • گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

    گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں جہاں انتظامی بحران ہے وہاں آئینی بحران بھی اپنے عروج پر ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ پنجاب پچھلے دوماہ سے چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہا ہے ، ادھرتازہ آئینی بحران میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کی جانب سے جاری کیے گئے تین آرڈیننس کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ملک میں مسائل کا الیکشن کے علاوہ کوئی اور حل نہیں،شاہ محمود قریشی

    بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے جاری کئے گئے آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا ہے۔جس کے لیے ماہرین قانون کی ٹیمیں اس کیس کا جائزہ لے رہی ہیں

    صوبہ پنجاب میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا، آئینی و قانونی ماہرین کا وزیراعلیٰ…

    یہ آرڈیننس جوجاری کیا گیااس میں گورنر بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ختم کرنے کے لیے سیکرٹری قانون کولکھا۔ سیکریٹری قانون کو سیکرٹری اسمبلی کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔اجلاس طلبی کے بعد سیکریٹری قانون کو اسمبلی سیکرٹری کے اختیارات دیے۔ گورنر کسی آرڈیننس کے ذریعے اسپیکر کے اختیارات ختم نہیں کر سکتے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے اختیارات میں صرف اسمبلی ہی کمی بیشی کر سکتی ہے، اسمبلی اجلاس طلبی کے بعد آرڈیننس جاری کرنا غیر آئینی ہے۔دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ کیس بڑی اہمیت کا حامل ہے اوراگرسپریم کورٹ اس کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے آرڈیننس کو غیرقانونی قراردیتی ہےتوپھرپنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کونقصان پہنچ سکتا ہے

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

  • ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ تحقیقاتی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس ،ایف آئی اے نے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    سربمہر لفافوں میں تمام شواہد اور ریکارڈ پر مبنی ڈیجیٹل ریکارڈ یو ایس بی میں جمع کروایا گیا ،رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت ایف آئی اے کے 14 ہائی پروفائل ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے،اعجاز ہارون نام ای سی ایل سے نکلنے کے بعد بیرون ملک گئے تاحال واپس نہیں آئے،

    کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس محمد علی مظہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس کہاں ہیں؟ ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کمیٹی کا گزشتہ روز اجلاس ہوا منٹس ایک دو روز میں مل جائیں گے کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا کہا ہے اٹارنی جنرل آفس نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق ایس او پیز بنا کر اداروں کو بھجوا دی ہیں ای سی ایل سے نکالے گئے تمام ناموں کا الگ الگ کر کے دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جو ترمیم ہوچکی ہے یا جو نام ای سی ایل سے نکل گئے انکا کیا ہوگا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے سے مشاورت کے بعد رولز بنائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود مستفید ہوئے ہیں وہ رولز میں ترمیم کیسے کر سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں شامل افراد کو بیرون ملک سفر کیلئے وزارت داخلہ سے اجازت لینے کا حکم دے دیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ بیرون ملک جانے سے پہلے متعلقہ شخص وزارت داخلہ سے اجازت لے گا، جب تک حکومت قانون سازی نہیں کر لیتی یہ عبوری طریقہ کار رائج رہے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حاکمیت چاہتے ہیں،سوال اہم ہے کہ مقتدر لوگوں نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے فائدہ اٹھایا، جن لوگوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان کیلئے مروجہ طریقہ کارپرسمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے موجودہ حالات منفرد نوعیت کے ہیں،پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت پارلیمنٹ سے باہر جاچکی ہے، ملک معاشی بحران کا شکار ہے،ایگزیکٹو کو اپنے اختیارات آئین و قانون کی روشنی میں استعمال کرنا ہونگے،کسی بھی تحقیقاتی ادارے،ایجنسی اور ریاستی عضو کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیں گے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا حکومت کا یہ جواب ہے کہ ماضی میں ہوتا رہا تو اب بھی ہوگا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بااختیار افراد نے ترمیم کرکے اسے سے فائدہ اٹھایا،کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی ضمانت حاصل کرنے کے اقدام کی تعریف کی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی ٰنے خود پیش ہوکر ضمانت کرائی، ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لینگے ،کابینہ ارکان نے تو بظاہر ای سی ایل کو ختم ہی کر دیا،

    واضح رہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنے تھے تو اسکے بعد ای سی ایل سے کئی لوگوں کے نام نکالے گئے تھے اور مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہونے والے افسران کا بھی تبادلہ کیا گیا تھا جس پر سپرہم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا،اس کیس میں کئی سماعتیں ہو چکی ہیں، آخری سماعت پر سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے تفصیلی جواب طلب کیا تھا جو آج ایف آئی اے نے جمع کروا دیا ہے

    گزشتہ سماعت پرچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل