Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پیپلزپارٹی کا ذولفقار بھٹو کی پھانسی کیخلاف سپریم کورٹ میں سماعت کا مطالبہ

    پیپلزپارٹی کا ذولفقار بھٹو کی پھانسی کیخلاف سپریم کورٹ میں سماعت کا مطالبہ

    پاکستان پیپلزپارٹی نے ذولفقار بھٹو کی پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے ڈاکٹر جاوید اقبال آڈیٹوریم میں پیپلز لائرز فورم کے زیر اہتمام یوم سیاہ کے موقع پر سیمنار منعقد کیا گیا.
    منی لانڈرنگ کیس: مونس الہٰی کی عبوری ضمانتوں میں 14 جولائی تک توسیع

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد سعید چیمہ،چودھری اسلم گل ،خرم۔لطیف کھوسہ،راجہ اسرار عباسی،اصف بٹ،میاں شاہد عباس اور خاور کھٹانہ کا کہنا تھا کہ آج عدم برداشت اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی سوچ کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔ غیر جمہوری عناصر کے پاس صرف الزام تراشی کا ہتھیار ہوتا ہے تاکہ جمہوری سوچ کو دبایا جائے۔

     

    امریکی اہلکار سے معذرت ،دوغلی پارٹی کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا،حسن مرتضیٰ

     

    پیپلز لائرز فورم کے زیر پاکستان میں سیاسی استحکام کےعنوان سے سیمنار سے خطاب کرتےہوئےسیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب شہزاد سعید چیمہ نے آمر ضیاء کی جانب سے شہید ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت گرانے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ "4 اور 5 جولائی 1977 کی درمیانی شب ظلمت کی تعفن زدہ سیاہ رات تھی جو ایک خوبصورت منور صبح کو نگل گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ جمہور،ائین اور قانون کی تاریخ ہے,

    پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے صدر اسلم گل کا کہنا تھا کہ ذولفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے سیاسی استحکام کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے,جمہوری نظام کی آبیاری میں پیپلز پارٹی کا خون شامل ہے,,آج بھی ہمارا یہی نعرہ ہے کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی آبیاری میں پیپلز پارٹی کا خون شامل ہے۔دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں,آصف علی زرداری نے بے نظیر کی شہادت کے بعد انتشار کی بجائے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔پاکستان پیلیز پارٹی جمہوری روایات کی پاسدار ہے.تقریب کے اختتام میں ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس پر جلد فیصلہ کرنے کےلیے قرارداد بھی پاس کی گئی.

  • سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ کا بڑا اچھا فیصلہ ہے
    جو چیز یں ہم چاہتے تھے وہ مانی گئی ہیں، میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس رولز کے مطابق ہو گا کوئی پسند ،ناپسند نہیں ہوگی ۔

    چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی کہا ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت اور پولیس استعمال نہیں کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ 22جولائی تک ہاوس مکمل ہو جائے گا جس کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو گا.

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ22جولائی کو اجلاس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوگا اور کہیں نہیں ہوگا ، جو ماحول عدالت کے اندر بنا وہ عدالت کے باہر بھی رہنا چاہئیے، یہی جمہوریت ہے.

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہا کہ عدلیہ نے صاف اور شفاف الیکشن کی راہ ہموار کر دی ہے ،امید کرتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہونگے ۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، تین ماہ کا بحران ہم نے 3 سیشنز میں حل کردیا ہے،حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اس بینچ میں شامل تھے۔

    لاہور سے پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان یا اپنے مسائل خود حل کریں یا ہمارے پاس آکر ہماری بات مانیں۔

    لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ کےلیے قائم مقام وزیر اعلیٰ کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوں گے، ، کیس کا تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کریں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے، ججز جواب نہیں دے سکتے، حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل عدالت نے کیس کی سماعت آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کی تھی اور پرویز الہٰی کو حکم دیا تھا کہ وہ عمران خان سے رابطہ کرکے آدھے گھنٹے میں عدالت کو آگاہ کریں، جس کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو عمران خان کی ہدایت سے متعلق آگاہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حمزہ کو قائم مقام وزیراعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس، پنجاب الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری قانون پر عمل کریں۔ بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے جن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کا حصہ ہے، الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلیٰ قبول ہیں، الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات موجود ہیں۔

    چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حمزہ شہباز صاحب آپ کا ارادہ ہے دھاندلی کرنے کا؟ جس پر جواب دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کوئی دھاندلی نہیں ہو گی۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت مجموعی حکم جاری کرے گی چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہیں پڑے گی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کو خاندانی تنازع نہ بنائیں تو بہتر ہے۔

    حمزہ شہباز کو نگراں وزیر اعلیٰ بنانے پر پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کے درمیان اختلاف ہوگئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویزالہٰی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کے لیے حمزہ پر عائد کی جاسکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا، صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید روسٹرم پر آئے، اور انہوں نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے، انتخاب کے لیے17 جولائی کے بعد کا وقت دے دیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے محمود الرشید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست گزار نہیں اس لیے آپ کو نہیں سن سکتے۔پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اپنے پارٹی لیڈر سے مشاورت کر کے15 منٹ میں عدالت کو آگاہ کروں گا، محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک قانونی پوزیشن لیں اور ہمیں بتائیں، جو حکم جاری کریں گے وہ کسی ایک کے فائدے میں نہیں ہوگا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ بابر اعوان صاحب! آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟بابر اعوان نے بتایا کہ درخواست گزار سبطین خان کا وکیل ہوں، 16 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی، لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کو ایوان میں طلب کیا گیا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے کچھ نکات پر اختلاف کیا ہے، ایک جج نے کہا ہے کہ انہوں نے 197 ووٹس حاصل کیے، اگر 25 ووٹ نکال لیں تو 172 ووٹ بچیں گے، اس طرح پہلے پول میں حاصل اکثریت چلی گئی تو یہ انتخاب متنازع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کرائی جائے، ممبران جو موجود ہوتے ہیں اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں، ان کے ووٹ شمار ہوتے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کے لیے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہوا ہے، آپ بتائیں کہ آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں؟ آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست تو یہ ہے کہ کچھ اراکین حج پر، کچھ شادی بیاہ پر گئے، ان کو آنے دیں، سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کیوں کرے؟ کیا پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ مزید وقت دیا جائے؟ کس اصول کے تحت ہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کریں؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟

    اس پر پی ٹی آئی نے پنجاب میں دوبارہ انتخابی عمل کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے 7 دن کا وقت مانگ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں، آپ کے منحرف اراکین کے ووٹ پہلے ہی نکل چکے ہیں، پی ٹی آئی کے اراکین کو لاہور پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری جماعت کا مسلم لیگ ق سے اتحاد ہے، ہم تجویز پر رضا مند نہیں ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ پرویز الہٰی امیدوارہیں انہیں اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟چوہدری پرویز الہٰی نے عدالت میں کہا کہ محمود الرشید کے مشورے پر ہی آمادہ ہوا ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاشرے میں بہت تقسیم ہوگئی، سیاست میں بہت تقسیم بھی ہوگئی، آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے؟

    بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے،حمزہ شہباز کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئینی خلا نہیں بنانا۔پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہےعدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان سے سوال کیا کہ آپ کے امیدوار کی مرضی کچھ اور ہے، دوسری سائیڈ سے ان کا اتفاق رائے ہے، آپ کی اب مرضی کیا ہے؟ آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے؟بابر اعوان نے کہا کہ عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ ہمیں قبول ہوگا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ آئینی صورت حال ہے، اسے حل کریں، مزید خراب نہ کریں۔بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی ہیں لیکن یہ الگ جماعتیں ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دو دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ شہباز17 جولائی تک وزیر اعلیٰ، یہی 2 آپشن ہیں۔

    بابر اعوان نے کہا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں۔

  • 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

    ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سترہ جولائی کو عوام نے بیس نشستوں پر ووٹ دینے ہیں،ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ‏اجلاس نہ ہونے پر قائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہوسکتا ہے، کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلی کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج چار بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں، ‏قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلی کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہ سکتا ہے، مطمئن کریں کی 4 ججز کا دیا وقت مناسب نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 7 دن تک کیا صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے، سات دن کا وقت دینا مناسب نہیں،‏مزید سماعت 2.45 تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں، ہم آپکو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور سوچیں۔

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز روسٹروم پر آجائیں،ہمارے سامنے جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ وقت زیادہ زیادہ نہیں دیا گیا،زیادہ وقت نہ دینے کی مختلف وجوہات ہیں، عدالت خود سے وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا،بتایا گیا کہ وقت دیا جائے تو حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکتے ہیں،کیا یہ بات درست ہے؟ چودھری پرویزالہیٰ نے کہا کہ بات اس طرح نہیں، اسمبلی کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں اس معاملے پر ہیں اس کو آئین اور جمہوری روایات کے مطابق حل ہونا چاہیے،وکلا نے کہا کہ پولنگ کا وقت 17تاریخ تک کا دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی بنیاد پر آپ کو بلایا ہے، آپ کی درخواست میں 26 گھنٹوں کو بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے،آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی،آپ کی طرف سے آنے والی سفارش پر ہمیں لگا کہ آپ اس پر سوچیں، آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی صاف شفاف الیکشن کے بعد جس کی اکثریت ہو وہ وزیر اعلی ٰبن جائے گا،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں ہاوس 17تاریخ تک مکمل ہوگا،اس وقت تک ساراعمل مکمل ہو جائے تو ہمارا کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت تک حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ رہنے کو آپ مانتے ہیں ،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں ایسا نہیں مان سکتا وہ اپنے عہدے پر نہ رہے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرہم آئینی راستہ اختیار کریں گے جس سے آپ دونوں کا نقصان ہوگا،پرویز الہیٰ نے کہاکہ عدالت یہ حکم دیں کہ ہم آپس میں طے کریں جس حل پر دونوں راضی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام آپ عدالت آنے سے پہلے کرکے آجاتے نا چودھری صاحب،

    حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت کا احترام کرتا ہوں ،شخص اہم نہیں نظام اہم ہے،قوم نے دیکھا کہ ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ہوا ہمارے پاس عددی اکثریت موجود ہے، آج الیکشن ہونے دیا جائے جب 20سیٹوں پر الیکشن ہوگا تو عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں،ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا، انہوں نے اپنے بندوں کو کیوں نہیں روکا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کو پرویز الہٰی کی تجویز منظور نہیں،آج جو 4 بجے اجلاس ہونا تھا وہ اب نہیں ہوگا کیونکہ4 بج چکے ہیں،اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 17 تک دونوں فریقیں راضی ہیں کہ الیکشن نہ ہو ، حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف سے اگر کوئی قانونی دلیل ہو تو میں ماننے کو تیار ہوں،آئین اور قانون کے مطابق میرے پاس عددی اکثریت ہے،اگر17 تک کوئی بھی وزیراعلیٰ نہ رہا تو نظام کیسے چلے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں ہم گورنر کو ہدایت کرسکتے ہیں کہ وہ نظام چلانے کے اقدامات کرے اگر ہم مزید وقت دیں تو آپ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے،حمزہ شہباز نے کہا کہ اس کا بہتر حل ہے کہ آج رات12بجے تک الیکشن کرائے جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ایک مناسب وقت دیا ہے،اب جو وقفہ آیا ہے اس کے لیے وقت دینا چاہیے،حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ معاملہ اسی فورم پر حل ہونا ہے عدالت جو فیصلہ دے،

    پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمارے آنے کا سبب یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پیش ہوئے ہیں،17 جولائی کے بعد تک کا وقت مل جائے تو بہتر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ قانون کے مطابق یہ الیکشن فوری ہو، ہائوس پورا ہو یا پھرابھی،ہمیں 17 تک کا وقت دینا مناسب نہیں لگتا ،اگر حمزہ شہباز یہ کہیں کہ 17 کو الیکشن کرائیں لیکن اس دوران حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر حل نکالنا نہیں چاہتے، وہ رن آف الیکشن کی بات کررہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ مجھے 17 تک وزیر اعلی رہنے دیں،ہم آپ کو کچھ وقت دیتے ہیں اس پر عدالتی فیصلے کے مطابق الیکشن کرائیں،پرویز صاحب آپ کے پاس دو آپشن ہیں کہ حمزہ شہباز کو17 تک وزیر اعلی مانیں یا پھر اس سے پہلے جو وقت دیتے ہیں تو اس دوران الیکشن کرائیں،پرویز الہیٰ نے کہا کہ اگر ہم ان کو 17تک وزیر اعلی مانتے ہیں تو اس سے پہلے وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں اور پکڑ دھکڑ نہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم حکم دینگے کہ کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو،الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتو کوئی تقرری اور تبادلہ نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں اس وقت کہ کمپرومائیز نہ ہو،آپ دونوں بیٹھ جائیں اس کا کوئی قانونی حل نکالتے ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ حمزہ شہباز17 تاریخ تک قائم مقام وزیر اعلی رہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہاں پنجاب اسیمبلی والوں کا موقف الگ یے بابر اعوان آپ کا موقف کیوں الگ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے سیاست میں کوئی اختلاف نہ رہے ،ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل چلتا رہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا کا موقف اپنے امیدوار سے الگ کیوں ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ہم اتحادی ہیں وہاں اکثریت میں ہیں، درخواست گزار اپوزیشن لیڈر ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میاں محمود الرشید کا مشورہ عدالت کے سامنے رکھا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی پارٹی کی نہیں ایک انفرادی شخص کی درخواست ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وقت دیں تب تک وزیر اعلی کو ہٹا دیں بابر اعوان صاحب ہم آئینی بحران نہیں پیدا کرنا چاہتے،اگر دو دن کا وقت دیتے ہیں تو نظام حکومت کون چلائے گا ،بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم حمزہ شہباز شریف کو عبوری طور پر وزیر اعلی نہیں مانیں گے، بابر اعوان نے پرویز الہی کے موقف کی عدالت میں تردید کردی۔

    بابر اعوان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا موقف سامنے رکھنا چاہتے ہوں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار آپ نے کہا کہ 17جولائی تک ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور 7 دن کا وقت مانگا،بابر اعوان نے کہا کہ سوال ہے کہ ہمیں مزید وقت چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے کہا کہ لگتا ہے آپ نےآئین کا آرٹیکل 130 مکمل نہیں پڑھا، اس کو پڑھیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا اور آپکے امیدوار کا موقف ایک جیسا نہیں ہے تو عدالت کیا کرے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ باقی عدالت جو حکم دیگی وہ ہم مانیں گے،اس بحران سے نکلنے کےلئے کچھ وضاحت آپ نے کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں آئینی معاملہ ہے، اس کوحل کرنا ہے اس کو مزید خراب نہیں کرنا، بابر اعوان نے کہا کہ آئین کی ایک شق ہے جو 187/1 ہے ، عدالت نے کہا کہ آئین کی شق 187/1 کو ایسے ہی استعمال نہیں کرسکتے ،اب ساڑھے چار بج چکے ہیں، بابر اعوان نے کہا کہ آپکا شکریہ جو آپ ہمیں سن رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شکریہ ادا نہ کریں یہ ہمارا کام ہے، اگر دوبارہ پول کی اجازت دیتے ہیں تو کچھ وقت دینا ہوگا،وزیر اعلی کے الیکشن میں پہلی بار ایسی صورتحال ہوئی ہے،اب نکتہ یہ ہے کہ اگر وزہر اعلی کو ہٹا دیتے ہیں تو اس کا حل نکالنا ہوگا، ہوسکتا ہے چند دنوں میں اس کا حل نکل آئے لیکن20 دن نہیں دے سکتے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ راضی نہیں ہوتے تو ہم آرڈر پاس کردیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیئر سیاستدان اس کا حل نکالیں،وکیل پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہم نے کورٹ میں مشاورت کی ہے اسپیکر کے ساتھ کہ 17جولائی کے بعد کا وقت دیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل کی درخواست ہی نہیں اس لئے آپ کو کیوں سنیں،بابر اعوان نے کہا کہ ہمیں مزید دس منٹ دیں پارٹی لیڈر سے بات کرنا چاہتا ہوں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان آپ کو ہم دو سے تین دن دینگے اس قانون میں بھی جواز ہے،پرویز الہی آپ بھی اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرلیں اور آدھے گھنٹے میں دوبارہ بتائیں ،

    دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم اس نکتے پر راضی ہیں کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کام جاری رکھیں،اس بات پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اتفاق ہوا ہے، پرویز الہیٰ نے کہا کہ اسپیکر ہوتے ہوئے حمزہ شہباز کو لیڈر آف اپوزیشن مانا اور ان کی رہائی کے آرڈر جاری کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اس نکتے پر راضی ہونا اچھی بات ہے،میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ دونوں فریقین راضی ہو گئے ہیں، بابر اعوان آپ بتائیں کیا بات ہوئی؟ بابر اعوان نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر کے ساتھ پنجاب میں پارلیمانی لیڈر اور امیدوار سے بھی بات ہوئی،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھیں عمرن خان چاھتے ہیں عدالت آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو قانون کے مطابق عمل کی ہدایت کرے،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھے، پی ٹی آئی وکلا نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ کام حاری رکھنے پر اتفاق کر لیا

    بابراعوان نے کہا کہ ااس دوران حکومت کوئی بھی فنڈز اور اختیارات استعمال نہیں کرے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی اور الیکشن کمیشن کوڈ آف کنڈیکٹ پر سختی سے عمل در آمد کرے، آپ کو آپریشنل صورتحال پر اعتراض ہے کہ تنگ نہ کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا حکم دے گی جو سب کو قبول ہو گا، بابر اعوان نے کہا کہ وہاں سب کو بلاکر بٹھایا جارہا ہے، اس صورتحال کو عدالت دیکھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ دوبارہ ہمارے پاس آئیں،بابر اعوان نے کہاکہ ہم بھی اس معاملے میں نہیں آنا چاہتے لیکن دوسرے کیسز میں آئیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ارادہ ہے کہ انتخابات میں کسی کو ہراساں اور دھاندلی کریں؟ حمزہ شہباز نے کہا کہ میرا ایسا کوئی اردہ نہیں، میں ایک سیاسی کارکن ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کسی کو ہراساں اور دھاندلی نہیں کرینگے،حمزہ شہباز نے کہا کہ جی میں بالکل ایسا نہیں کروں گا،

    پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ حمزہ شہباز سے متعلق 13 اپریل کو نوٹیفکیشن جاری ہوا،آپ ہمیں عدالتوں میں آنے سے روک نہیں سکتے، ہم عدالت میں آتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق ہیں۔ہم ایسا آرڈرجاری کرینگے الیکشن صاف اور شفاف ہوں اور عزت اور تکریم رہے، مختصر حکمنامہ آج رات تک جاری کردینگے،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئ ہے، امید ہے سپریم کورٹ اس بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہی سماعت کرے گی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس روک دیا جائے گا

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آج ہی سماعت کی جائے،وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہونے والے الیکشن کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں پنجاب حکومت اورڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں حمزہ شہباز،پرنسپل سیکریٹری گورنر اورسیکریٹری اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مناسب وقت دیا جائے تاکہ دوردراز کے ممبرز پہنچ سکیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےلیے دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے جمعہ کو 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئی ایاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

  • تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست

    تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست

    تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست
    سپریم کورٹ میں‌ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کیخلاف ایک اور درخواست دائرکی گئی ہے

    درخواست میں عمران خان،فواد چودھری،شیریں مزاری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،الیکشن کمیشن،پی ٹی اے اور ایف آئی اے کو بھی فریق بنایا گیا ہے ،دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کو اداروں کیخلاف بیان بازی سے روکا جائے،اقتدار جانے کے ساتھ ہی عمران خان نے ملک کو کمزور کرنے کی تحریک شروع کی پی ٹی آئی رہنما عدلیہ،فوج اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر اداروں پر الزامات لگا رہے ہیں تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں ملکی ادارے کمزور ہوں گے تو بیرونی سازشیں کامیاب ہوسکتی ہیں،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے عدلیہ ، فوج اور الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات جاری ہیں اپنی تقاریر میں عمران خان نے فوج کو سیاست میں شامل ہونے اور ان کا ساتھ دینے کا کہا سپریم کورٹ عمران خان کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن تشکیل دے جو ا ن بیانات کا جائزہ لے کر ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لے عدالت عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کو قومی اداروں کے خلاف بیانات دینے اور میڈیا پر نشر کرنے سے روکنے کے احکامات دے

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    عمران خان کی جب سے حکومت گئی ہے تب سے وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس میں پراجمان ہونے کے لئے بیتاب ہیں، عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے جا نہیں رہے تھے گئے تو پھر آنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان اب بنی گالہ کو ہی وزیراعظم ہاؤس کا نام دے دیں کیونکہ ان حالات میں عمران خان نے کرسی جانے کے بعد اداروں پر تنقید کی، عسکری قیادت پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ چلائے اور تنقید کی، اپنی کرپشن چھپانے کے لئے ،جیل سے بچنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے عمران خان اتنے بہادر ہیں کہ لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد چھوڑ دیا اور گرفتاری کے خوف کی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں چھپ کر بیٹھ گئے، اسکے بعد لانگ مارچ کرنے آئے تو پھر گرفتاری کے خوف سے ہی واپس چلے گئے، اسکے بعد اب بھی گرفتاری کا اتنا خوف ہے کہ انہوں نے عدالت سے ضمانت کروائی ہے،

    فرح گوگی کی کرپشن کے چرچے عمران خان کی حکومت کے جانے سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے، نیب نے بھی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، فرح گوگی کے ساتھ تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی بے نقاب ہونے والے ہیں جنہوں نے حکومت میں رہ کر کرپشن کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا،

  • امریکی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی

    امریکی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی

    امریکا کی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے”روئٹرز” کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو مذہبی حقوق کو وسیع کرنے کے لیے ایک اور اہم فیصلہ جاری کیا، یہ معاملہ اس وقت کھڑا ہوا تھا جب واشنگٹن ہائی اسکول کے ایک سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی میچ کے بعد 50 گز کی لائن پر باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی وجہ سے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    عدالت، خاص طور پر اس کے قدامت پسند بلاک نے حالیہ برسوں میں متعدد مقدمات میں مذہبی آزادی کے بارے میں وسیع نظریہ اپنایا ہے یہاں اکتوبر میں شروع ہونے والی اس کی موجودہ مدت کے دوران فیصلہ کیے گئے مذہبی حقوق سے متعلق کچھ معاملات پر ایک نظر ہے۔

    سابق فٹ بال کوچ جوزف کینیڈی نے اپنی برطرفی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انھوں نے نماز پڑھنے کی اجازت محض مذہبی رواداری کے تحت دی تھی جو آئین کی خلاف ورزی نہیں۔

    امریکی سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں نے آج ایک بار پھر آئینی ترمیم کی دوبارہ تشریح کی جو سرکاری ملازمین کو کام کی جگہ اپنے عقیدے کے اظہار سے متعلق ہے۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    امریکی وفاقی ججز نے اسکولوں سمیت تمام سرکاری عمارتوں میں مسلمان ملازمین کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ پابندی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے جو ملازمین کے عقائد کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے6 ججز نے باجماعت نماز کی اجازت دینے کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ 3 نے مخالفت کی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کی پہلی ترمیم حکومت کو “مذہب کے قیام کا احترام” کے خلاف کوئی قانون بنانے سے روکتی ہے۔ یہ شق ایسے حکومتی اقدامات پر بھی پابندی عائد کرتی ہے جو غیر ضروری طور پر ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دیتے ہیں۔

    جسٹس نیل گورسچ نے لکھا کہ آئین اور ہماری بہترین روایات باہمی احترام اور رواداری کا مشورہ دیتی ہیں، نہ کہ سنسر شپ اور دباؤ کا۔ فٹبال کوچ کو مختصر، پرسکون، ذاتی مذہبی پابندی میں مشغول ہونے پر سزا دی گئی۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • امریکہ:اسقاط حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعدجھڑپیں اوردنگا فساد شروع

    امریکہ:اسقاط حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعدجھڑپیں اوردنگا فساد شروع

    واشنگٹن:لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں مظاہرین کو پولیس افسران کے ساتھ مارپیٹ کرتے دیکھا گیا، امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل کے ایک تاریخی مقدمے کی منسوخی کے بعد امریکہ بھر کے شہروں میں بدامنی ، چھڑبیں اوردنگا فساد شروع ہوگیا ہے

    یہ جھڑپیں فیصلے کے کچھ دیربعد شروع ہوئیں اور ابھی بھی بڑے بڑے علاقوں میں پولیس کے ساتھ عوام کا ٹکراوجاری ہے ، مظاہرین کو پولیس پر آتش بازی سمیت اشیاء پھینکتے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھلے عام جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔افسروں نے لاٹھیوں سے جواب دیا، اور کئی گرفتاریاں کرتے نظر آئے، بعد میں ایل اے کے مرکز میں 4 اور مین اسٹریٹ کے آس پاس کے علاقے میں جمع ہونے والوں کو منتشر کرنے کا حکم جاری کیا۔

    بعد ازاں دوسرے شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے، اور فینکس، ایریزونا میں پولیس کے زبردست ردعمل بھی دیکھے گئے، جہاں افسران کو ریاستی دارالحکومت کی عمارت سے ایک ہجوم پر آنسو گیس پھینکتے ہوئے فلمایا گیا۔

    امریکی سپریم کورٹ نے مشہور زمانہ روئے ویڈ (Roe v. Wade) کیس کے 1973 کے فیصلے کو غیرمتوقع طور پر کالعدم قرار دے دیا، جس میں اسقاط حمل کو خواتین کا آئینی حق تسلیم کرکے قانونی قرار دیا گیا تھا۔

    اس فیصلے کو ری پبلکن اور مذہبی قدامت پسند اپنی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو اسقاط حمل کو محدود یا اس پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔

    عدالت نے 4-5 کے فیصلے سے میسیپی قانون برقرار رکھا، جس کے تحت 15 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔ ججوں نے کہا کہ روئے بمقابلہ ویڈ کے فیصلے میں 24 تا 28 ہفتوں سے قبل تک اسقاط حمل کی اجازت دی گئی تھی جو کہ غلط فیصلہ تھا کیونکہ امریکی آئین میں اسقاط حمل کے حقوق پر کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    میسیپی کے قانون پر نچلی عدالتوں نے پابندی لگا دی تھی کہ اسقاط حمل کے حقوق سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔ میسیپی میں واحد بچ جانے والے اسقاط حمل کے کلینک جیکسن ویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈیمو کریٹس کے امریکی صدر جوبائیڈن کی حمایت سے اس قانون کو 2018 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    متذکره قانون کے مطابق اسقاط حمل کی اجازت صرف میڈیکل ایمرجنسی یا مہلک معذوری کی صورت میں دی گئی تھی لیکن اس میں ریپ کی وجہ سے ہونے والے حمل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    روئے بمقابلہ ویڈ (Roe v. Wade) فیصلے میں بتایا گیا کہ امریکی آئین ذاتی رازداری کے تحت خواتین کو اسقاط حمل کا تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہونے پر کوئی استثنیٰ نہیں دی گئی ہے۔

    ‘پلینڈ پیرنٹ ہڈ آف ساؤتھ ایسٹرن پنسلوانیا بمقابلہ کیسی’ کہے جانے والے کیس میں سپریم کورٹ نے 1992میں اسقاط حمل حقوق کی توثیق کی تھی اور کہا تھا کہ اسقاط حمل قوانین کا نفاذ ‘غیر ضروری بوجھ’ ڈالنے کے مترادف ہے۔

    امریکا میں 1980 میں اسقاط حمل اپنے عروج پر تھا جو ایک ہزار حاملہ خواتین میں 29.3 تھا جبکہ 2017 میں یہ ایک ہزار خواتین میں 13.5 تھا جس کے بعد 2020 تک اسقاط حمل بڑھ کر 14.4 فی ہزار خاتون ہو گیا تھا۔

    بین الاقوامی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق میں اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال 7.3 کروڑ اسقاط حمل ہوتے ہیں جو تمام حاملہ خواتین کا 29 فیصد بنتا ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ مغربی ممالک جس اسقاط حمل کو اپنا فطری حق سمجھتے ہیں، اُسے اسلام میں فطرت کے اصولوں کے خلاف اور حرام قرار دیا گیا ہے اور اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں اسکے ذمہ دار کو دیت اور خونبہا کی ادائگی کا پابند بنایا گیا ہے۔

  • سود کیخلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سود کیخلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسٹیٹ بینک نے سود کیخلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کو سماعت کیلئے منظور کیا جائے،شرعی عدالت کے فیصلے میں اٹھائے گئے نکات کی حد تک ترمیم کی جائے اسٹیٹ بینک کیطرف سے سلمان اکرم راجہ نے اپیل دائر کردی چار نجی بینکوں نے بھی شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی اپیل میں وزارت خزانہ،قانون، چیئرمین بینکنگ کونسل اور دیگر کو فریق بنایا گیا, اپیل میں کہا گیا ہے کہ شرعی عدالت نے سیونگ سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز کو خلاف اسلام قرار دیا،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے فیصلے کو چیلنج کئے جانے پر کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اقدام قابل مذمت ہے۔ سود اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ سودی معیشت سے جان چھڑائے بغیر ترقی و خوشحالی نہیں آ سکتی۔

    صحافی انصار عباسی کہتے ہیں کہ پہلے 1992 میں نواز شریف کی حکومت تھی جب سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کی بجائے SC میں چیلنج کر دیا گیا۔ آج پھر ایک بار سود کے خلاف شرعی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا ہے اور حکومت شہباز شریف کی ہے۔ چینلج کرنے والوں میں سٹیٹ بنک بھی شامل ہے۔ افسوس صد افسوس

    واضح رہے کہ رواں برس 28 اپریل کو وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف کیس کا 19 سال بعد فیصلہ سنا یا تھا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی بینکنگ کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں ،معاشی نظام سےسود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینکوں کے منافع کی تمام اقسام سود کے زمرے میں آتی ہیں، انٹرسٹ ایکٹ 1839 مکمل طورپرشریعت کیخلاف ہے سود کیلئےسہولت کاری کرنیوالے تمام قوانین اورشقیں غیرشرعی قرار دے دی گئیں اسلامی بینکاری نظام رسک سے پاک اوراستحصال کیخلاف ہے، ملک سے ربا کا خاتمہ ہرصورت کرنا ہو گا، ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے، بینکوں کاقرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے، بینکوں کا ہرقسم کا انٹرسٹ رباہی کہلاتا ہے، قرض کسی بھی مدمیں لیا گیا ہواس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا ،وفاقی شرعی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ تمام بینکوں کی جانب سےاصل رقم سے زائدرقم لینا سود کے زمرے میں آتا ہے، حکومت کوہدایت دی جاتی ہے کہ انٹرسٹ کا لفظ ختم کرے، ربا مکمل طورپرہرصورت میں غلط ہے

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

     ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    سود کا خاتمہ حکم الہٰی کے ساتھ آئین پاکستان کا اہم تقاضا بھی، ڈاکٹر قبلہ ایاز

  • منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی جاسکتی ہے۔
    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے انسداد منشیات کے پی ایکٹ 2019 کی شق 27 کی تشریح کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔

    ملزم سید زوالفقار علی شاہ نے ضمانت بعد گرفتاری کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالت نے کہا ملزم کو چرس فروخت کے الزام پہ گرفتار کیا گیا، ملزم نے اپنے دفاع میں انسداد منشیات ایکٹ کی شق 27 کا حوالہ دیا، ملزم نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شق 27 کے تحت منشیات کے مقدمے میں سپیشل جج سے سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

    سپریم کورٹ نے کہا منشیات مقدمات میں ملزم کے غائب ہو جانے کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کو رسمی کارروائی میں نہ پڑنے کے عدالتی نظائر موجود ہیں، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی دلیل پر ٹرائل روکا جاسکتا ہے نہ سزا ختم کی جاسکتی ہے، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کے سبب کسی ملزم کو بری نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے سید ذوالفقار علی شاہ کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

  • سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا

    سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا

    اسلام آباد : سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ ،حج انتظامات کیلئے معاونین کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے معاونین حجاج کرام کے انتخاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا-

    آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے حج انتظامات متاثر ہو رہے ہیں، معاونین کا انتخاب حجاج کرام کی خدمت کیلئے کیا جاتا ہے،حجاج کرام کیساتھ معاونین کا انتخاب سعودی حکومت کا تقاضا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ معاونین کا انتخاب کون کرتاہے اورمعاوضہ کون ادا کرتا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ معاونین کے انتخاب کیلئے سرکاری محکموں سے نام مانگے جاتے ہیں،حکم معطل نہیں ہوا تو سعودی عرب پہنچنے والے حجاج کو مشکلات ہوں گی-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ ایسا کرتے ہیں درخواست کو نمٹا دیتے ہیں سپریم کورٹ نے کہا کہ عمومی طور پر عبوری حکم نامہ میں مداخلت نہیں کرتے،حجاج کرام کی مشکلات کے پیش نظر ہائیکورٹ کا حکم معطل کر رہے ہیں-

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے سینئیر جج جسٹس شاہد کریم نے 109 آفیسرز سمیت 232 لوگوں کو بطور معاون فری حج پر بھیجنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت کی تھی معاونین کو مقرر کرنے کا اقدام روکتے ہوئے معاملہ پرنسپل سیٹ پر بھیج دیا تھا-

    بعد ازاں آفیسرز اور پالیسی سے ہٹ کر معاون مقرر کرنے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی تھی ہائیکورٹ ملتان بینچ میں پالیسی سے ہٹ کر آفیسرز کو معاون مقرر کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ معاون حج حکومت کی طرف سے فری حج کرتے ہیں اور سعودی حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں جو خزانے پر بوجھ ہیں،-

    عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، اٹارنی جنرل پاکستان، وزارت مذہبی امور کو نوٹسز جاری کئے تھے کانسٹیبل ظہیر عباس سمیت 5 پولیس کانسٹیبل نے درخواست دائر کی تھی۔ ، پنجاب پولیس کے کانسٹیبل ظہیر عباس ، صابر حسین اور سعید احمد وغیرہ کا نام قرعہ اندازی کے ذریعے معاونین حج کے لیے آیا تھا-

    درخواست گزاروں موقف اپنا یا تھا کہ آئی جی پنجاب نے بذریعہ قرعہ اندازی 66 لوگوں کے نام حج معاونین کے لئے دیے تھے۔ وزارت حج نے پالیسی کے خلاف اپنے من پسند لوگوں کو حج معاونین مقرر کر دیا تھا مجموعی طور پر 232 حج معاونین میں سے 109 آفیسرز کو بھی حج معاونین مقرر کیا تھا جو غیر قانونی ہے۔ حج معاونین حاجیوں کے مددگار ہوتے ہیں جو ہر محکمے سے بذریعہ قرعہ اندازی لئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پولیس دفاتر، تھانوں اور ٹریفک آفس میں انٹری ایگزیٹ کنٹرول سسٹم انسٹال کرنے کا فیصلہ

  • نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

    نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

    نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نیب کے مختلف مقدمات میں ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت کی

    نیب پراسیکیوٹرعدالت میں پیش ہوئے ،دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کی ٹرائل کورٹ سے بریت سے ضمانت منسوخی کی اپیلیں غیر موثر ہوچکی ہیں نیب پراسیکیوٹر کے موقف پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملزمان عدالت سے کب بری ہوئے؟ کیا احتساب عدالتوں سے ملزمان کی بریت کا نیب کے پاس حساب کتاب ہے؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ملزمان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور نیب کیسز ثابت نہ ہونے پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب بیورو آفسز میں ملزمان کا تمام ریکارڈ رکھا جاتا ہے عدالت نے نیب سے احتساب عدالتوں سے ملزمان کی بریت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    نیب نے ظہیر الدین،ناصر قادر،مسود اختر،سلیم اختر، خالد نعیم کی صمانت منسوخی کیلئے اپیلیں دائر کی تھی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف