Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • گستاخ نوپور شرما کو ریلیف دےدیا گیا

    گستاخ نوپور شرما کو ریلیف دےدیا گیا

    نئی دہلی :بھارتی سپریم کورٹ نے گستاخ نوپور شرما کوتحفظ دینے کی ٹھان لی،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ سے بی جے پی کی انتہا پسند لیڈر نوپور شرما کو بڑا ریلیف مل گیا، عدالت نے پولیس کو 10 اگست تک نوپور شرما کی گرفتاری سے روک دیا۔

    بھارتی سپریم کورٹ میں آج (منگل کو) نوپور شرما کی درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے بی جے پی کی رہنما کے خلاف گستاخانہ بیان پر درج مقدمات کے معاملے پر ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 10 اگست تک ملتوی کردی۔

    نوپور شرما نے نئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے ان سے متعلق سخت تبصرہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    نوپور شرما نے اپنے خلاف 8 ریاستوں میں درج 9 مقدمات میں گرفتاری نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور تمام مقدمات کو یکجا کرکے دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی، درخواست میں مرکز کے علاوہ 8 ریاستوں دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، جموں و کشمیر اور آسام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ایک پاکستانی کو گرفتار کیا ہے جو نوپور شرما کو قتل کرنے کیلئے ہندوستان میں داخل ہوا تھا، پکڑے گئے شخص کی شناخت 24 سالہ رضوان اشرف کے نام سے ہوئی ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤ الدین کا رہائشی ہے۔

    نوپور شرما کون ہیں؟
    نوپور شرما بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی ترجمان ہیں جنہیں اب متنازعہ ریمارکس کے بعد عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ نوپور شرما نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران کیا تھا۔
    نوپور شرما دہلی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرونِ ملک چلی گئیں اور بھارت کی یوتھ ایمبیسیڈر بھی تھیں۔ بعدازاں ملک واپس آنے کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے لیے کام کیا۔

     

     

    بی جے پی رہنما نے 2008 میں اے بی وی پی سے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ میں نیشنل ایگزیکٹو کی رکن کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ وہ بی جے پی میں مختلف اہم عہدوں پر بھی فائز رہی ہیں۔

    نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی
    بی جے پی رہنما کا متنازعہ بیان فرقہ وارانہ واقعات کے ایک سلسلے کے پسِ منظر میں شروع ہوا، بی جے پی کی ترجمان نے قطر میں ایک انٹرویو کے دوران نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،نااہلی کا ریفرنس بھیجیں گے،رانا ثناء اللہ

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،نااہلی کا ریفرنس بھیجیں گے،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر، سابق وزیراعظم اور ڈپٹی سپیکر نے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، اس سے بڑا کوئی جرم نہیں، سزا بھی آرٹیکل 5 اور 6 میں درج ہے، الیکشن کمیشن ڈی سیٹ کرے، نااہل بھی قرار دے۔

    سینیٹ میں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئےقرارداد

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین کی سر بلندی ہوئی، آئین پاکستان عوام کی مقدس امانت ہے، تفصیلی فیصلے میں سابق حکومت کی آئینی خلاف ورزیوں کو برملا واضح کیا گیا۔

    آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

     

    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے، عمران نیازی نے اقتدار کو بچانے کے لیے آئین کی خلاف ورزی کی، ایسے ٹولے کی سیاست میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، وفاقی حکومت آئین کی خلاف ورزی پر ریفرنس بھیج سکتی ہے، ریفرنس بھیجنے کے حوالے سے کام شروع ہوچکا ہے، آئین کیساتھ فراڈ، خلاف ورزی کے آپشن کو ہم کھلا نہیں رکھیں گے، سپریم کورٹ کے حکم کو بجا لایا جائے گا، فیصلے کے بعد ریفرنس بنتا ہے، سپیکر فیصلے کے بعد نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں، الیکشن کمیشن انہیں ڈی سیٹ کرے اور نااہل قرار دے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن بڑا مبارک ہے، صدر مملکت اور سابق وزیراعظم، سپیکر، ڈپٹی سپیکر نے ملک کے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، یہ ایک قابل تعریف فیصلہ ہے، آئین توڑنے کی سزا پر عمران خان کو گرفتار کرنے کو تیار ہوں، کابینہ سے مقدمہ درج کرنے کی اجازت ملے گی تو گرفتار کریں گے، اب تو فیصلے کے بعد بڑا جرم ہوگیا ہے، ریفرنس ہوگا یا گرفتاری ہوتی ہے قانون اپنا راستہ لے گا، عمران خان نے مسلح افراد کے ساتھ دارالحکومت پر چڑھائی کی، لانگ مارچ کے دوران شیخ رشید کو گرفتار کرنے کا ارادہ تھا، بڑا ڈھونڈا ملا نہیں تھا۔

    نیوز کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک نے آئین کے مطابق چلنا ہے، سپریم کورٹ نے جو کہا ہے وہی سچ ہے، فواد چودھری جو کہہ رہے ہیں وہ سچ نہیں، نواز شریف کی سزا غلط ہے، ان کے ساتھ زیادتی ہوئی، نواز شریف کی سزا معطل کرکے پنجاب حکومت نے انہیں باہر بھیجا تھا، سابق وزیراعظم واپس آکر اپیلوں کی سماعت کروائیں، وہ بری ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو آئین و قانون کے تحت چلانا ہے تو پھر کارروائی کرنا ہوگی، کل کابینہ کا اجلاس ہوگا اس میں یہ معاملہ ڈسکس ہوگا، میری ذاتی رائے میں اس فیصلے کے بعد ریفرنس اور ایکشن لینا چاہیے، میری رائے ہے سپیکر ان کیخلاف فوری ریفرنس بھیج سکتے ہیں، ہماری اتحادی حکومت ہے مشاورت سے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے اپنے کیس کے حوالے سے جواب دیا کہ شہریار آفریدی نے غلط قدم اٹھایا تھا، اصل ذمہ دار تو عمران خان اور شہزاد اکبر تھے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف نہیں، کبھی ایک زمانہ تھا لوگ غائب ہوجاتے تھے، اب وہ زمانہ ہے لوگ اغوا ہوتے ہیں اور دو گھنٹے بعد بازیاب ہوجاتے ہیں، ابصارعالم پر حملہ کرنے والا شیخوپورہ سے پکڑا گیا تھا، شیخوپورہ سے پکڑے جانے والے نے خود کہا تھا ابصار عالم پرحملہ کیا تھا، پکڑے جانے والا مرکزی ملزم نہیں آلہ کار تھا۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،عمران خان

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی، عدلیہ نے کہا مراسلے سے متعلق تفتیش نہیں ہوئی، جب صدر نے عدالت عظمیٰ کو مراسلہ بھیجا تب چیف جسٹس نے تحقیقات کیوں نہیں کرائی۔

    سلیم صافی کی عمران خان اور بشری مانیکا کو 4 دن کی مہلت اسکے بعد چھپے راز فاش کرنے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان میں عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان، اسپیکر نے مراسلہ چیف جسٹس کو بھجوایا تھا، امریکی انڈر سیکریٹری ڈونلڈ لو کس کو پیغام دے رہا تھا؟ سپریم کورٹ انکوائری کرے اور کمیشن بنائے۔انہوں نے کہا کہ منٹس موجود ہیں کہ میں نے وہ مراسلہ پہلے کابینہ، نیشنل سیکیورٹی کونسل، پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جس میں واضح تھا کہ امریکی انڈر سیکریٹری ہمارے سفیر کو کہتا ہے عمران خان کو ہٹاؤ ورنہ مشکل میں آجاؤ گے۔

     

    سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اتحادیوں کے کیس نیب منتقل کرنے میں سرگرم رہے۔ انکشاف

     

    عمران خان نے کہا کہ امریکا کی دھمکی میرے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے تھی، سوال کرتا ہوں کہ 22 کروڑ عوام کے حامل ملک کے لیے اس سے زیادہ توہین اور کیا ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ نے اسپیکر رولنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے اسمبلی توڑی جس پر اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فیصلے پر کہا ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کو جس طرح سازشی بیانے کا رنگ دینے کے لیے جھوٹ گھڑا وہ انتہائی قابل شرم ہے

  • ڈپٹی سپیکر کا تحریک عدم اعتماد مسترد کرنیکا فیصلہ غیر آئینی قرار، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    ڈپٹی سپیکر کا تحریک عدم اعتماد مسترد کرنیکا فیصلہ غیر آئینی قرار، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف از خود نوٹس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔

    86 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، فیصلے کا آغاز سورہ الشعراء سے کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے، وزیر اعظم کا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جاتا ہے، مبینہ بیرونی مراسلے کا مکمل متن عدالت کو نہیں دکھایا گیا، مراسلے کا کچھ حصہ بطور دلائل سپریم کورٹ کے سامنے رکھا گیا۔

    فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ تحریک انصاف کے وکیل کے مطابق مراسلے کے تحت حکومت گرانے کی دھمکی دی گئی، مبینہ بیرونی مراسلہ ایک خفیہ سفارتی دستاویز ہے، سفارتی تعلقات کے پیش نظر عدالت مراسلے سے متعلق کوئی حکم نہیں دے سکتی، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کو تسلیم کیا گیا، قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے میں واضح تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد میں کوئی بیرونی سازش نہیں کی، بیرونی سازش کیخلاف کوئی انکوائری یا تحقیق نہیں کرائی گئی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتیں مصدقہ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں نہ کہ قیاس آرائیوں پر، سفارتی مراسلے سے متعلق فیصلہ کرنا ایگزیکٹیو کا کام ہے، چیف جسٹس پاکستان کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں 12 ججز نے از خود نوٹس کی سفارش کی، سپریم کورٹ نے آئین کو مقدم رکھنے اور اسکے تحفظ کیلئے سپیکر رولنگ پر از خود نوٹس لیا۔

    فیصلہ کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے سپریم کورٹ متحرک ہوئی، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم ایڈوائس اور صدر مملکت نے اسمبلی توڑی، ڈپٹی سپیکر رولنگ، وزیراعظم ایڈوائس اور صدر کے اقدامات کی وجہ سے اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے، از خود نوٹس کی کارروائی کے دوران سائفر فریقین نے دلائل دیئے، سائفر عدالت کو دکھایا نہیں گیا، صرف سائفر کے اجزاء عدالت کو بتائے گئے۔

  • سپریم کورٹ میں منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد:منحرفین کےخلاف گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے اوریہ کہ اس وقت یہ کیس پاکستان کی عدالت عظمیٰ کےپاس پہنچ چکا ہے،اطلاعات ہیں کہ اس حوالےسے پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی کیخلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیوں پر جسٹس عمرعطابندیال نے 3 رکنی بینچ تشکیل دیدیا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 19 جولائی کو پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کرے گا۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے مقدمے کے فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ریفرنس خارج کردیا تھا، پی ٹی آئی نے الیکشن کمشین کے فیصلے کیخلاف ارکان اسمبلی کی ڈی سیٹنگ کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے درخواست وکیل فیصل چوہدری کے توسط سے دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 11 مئی کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنسز کو خارج کیا، جو کہ غیر آئینی فیصلہ ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تمام ثبوت موجود تھے، پھر بھی عدم شواہد کی بنیاد پر ریفرنسز خارج ہوئے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کی بقا کے لیے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کے خلاف فیصلہ دینا چاہیے تھا۔عمران خان نے درخواست میں الیکشن کمیشن اور راجا ریاض کو فریق بنایا ہے۔

  • انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے،چیف جسٹس

    انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کی الیکشن کمیشن فیصلے خلاف اپیلوں پرچیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی.

    عدالت نے منحرف اراکین کو پارٹی پالیسی کے خلاف مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کے نکتے پر تیاری کر کے آنے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی، وکیل منحرف اراکین نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کیلئے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں،پی ٹی آئی کے وزیراعلی کے امیدوار پرویز الہی نے انتخاب کے روز اجلاس سے بائیکاٹ کر دیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبر ہوتے ہوئے آپ نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیئے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ کی جماعت نے اجلاس سے بائیکاٹ کیا تو آپ نے شرکت کیوں کی؟ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں انحراف کو پہلے ہی کینسر قرار دے چکی ہے،انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے،

    دوران سماعت پنجاب میں پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے ڈی سیٹ عظمٰی کاردار روسٹرم پر آگئیں اور کہا کہ مجھے پی ٹی آئی نے پارٹی سے نکالا میرا کیس انحراف سے ہٹ کر ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستیں سیاسی جماعت کی اسمبلی میں ٹوٹل کے تناسب سے ہوتی ہیں، دیکھنا ہو گا کہ جب آپ کو پی ٹی آئی نے پارٹی سے ہی نکال دیا تو آپ ممبر کیسے تھیں؟ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ میں نے پی ٹی آئی کیلئے خون پسینہ لگا کر محنت کی آج بھی پارٹی کی رکن ہوں پی ٹی آئی کی اندرونی سازشوں کی وجہ سے مجھے پارٹی سے بے دخل کیا گیا، مجھے آرٹیکل 63 اے نے تحفظ دیا کہ مجھ پر انحراف ثابت نہیں ہوا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو نہیں معلوم تھا کہ آپ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے؟ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تمام دستاویزات موجود تھے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا،سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے کہ اس کا رکن اس سے وفاداری کرے،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا حوالہ دیا اور کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے بورس جانسن کو شکست کہاں ہوئی؟ بورس جانسن کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئی تھی بورس جانسن کو ان کی پارلیمنٹری پارٹی نے فارغ کیا تھا یہ جمہوریت کی نشوونما ہے، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کسی کی ہمت نہیں کہ پارٹی لیڈر کے خلاف بات کر سکے، کہتے رہے بزدار کو سپورٹ کرنا ہے جب بات نہیں بنی تو دوسری طرف چلے گئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کا سربراہ اور پارلیمانی پارٹی لیڈر الگ الگ ہوتے ہیں، جماعت کے سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے،منحرف اراکین کا معاملہ کیس ٹو کیس دیکھیں گے سپریم کورٹ کے سامنے پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ کا معاملہ بھی ہے،

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    یاد رہے کہ چند دن پہلے پاکستان تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا ۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایاتھا ۔

    چیف الیکشن کمشنر نے فیصلے میں کہا کہ منحرف ارکان پنجاب اسمبلی سے متعلق فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔

    ڈی سیٹ ہونے والے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی میں راجہ صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، علیم خان، نذیر چوہان، محمد امین ذوالقرنین ، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان، زوار وڑائچ، نزید احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گل، عظمی کاردار، ملک اسد، اعجاز مسیح، سبتین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم اور فیصل حیات شامل ہیں۔

  • پیپلزپارٹی کا ذولفقار بھٹو کی پھانسی کیخلاف سپریم کورٹ میں سماعت کا مطالبہ

    پیپلزپارٹی کا ذولفقار بھٹو کی پھانسی کیخلاف سپریم کورٹ میں سماعت کا مطالبہ

    پاکستان پیپلزپارٹی نے ذولفقار بھٹو کی پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے ڈاکٹر جاوید اقبال آڈیٹوریم میں پیپلز لائرز فورم کے زیر اہتمام یوم سیاہ کے موقع پر سیمنار منعقد کیا گیا.
    منی لانڈرنگ کیس: مونس الہٰی کی عبوری ضمانتوں میں 14 جولائی تک توسیع

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد سعید چیمہ،چودھری اسلم گل ،خرم۔لطیف کھوسہ،راجہ اسرار عباسی،اصف بٹ،میاں شاہد عباس اور خاور کھٹانہ کا کہنا تھا کہ آج عدم برداشت اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی سوچ کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔ غیر جمہوری عناصر کے پاس صرف الزام تراشی کا ہتھیار ہوتا ہے تاکہ جمہوری سوچ کو دبایا جائے۔

     

    امریکی اہلکار سے معذرت ،دوغلی پارٹی کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا،حسن مرتضیٰ

     

    پیپلز لائرز فورم کے زیر پاکستان میں سیاسی استحکام کےعنوان سے سیمنار سے خطاب کرتےہوئےسیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب شہزاد سعید چیمہ نے آمر ضیاء کی جانب سے شہید ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت گرانے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ "4 اور 5 جولائی 1977 کی درمیانی شب ظلمت کی تعفن زدہ سیاہ رات تھی جو ایک خوبصورت منور صبح کو نگل گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ جمہور،ائین اور قانون کی تاریخ ہے,

    پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے صدر اسلم گل کا کہنا تھا کہ ذولفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے سیاسی استحکام کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے,جمہوری نظام کی آبیاری میں پیپلز پارٹی کا خون شامل ہے,,آج بھی ہمارا یہی نعرہ ہے کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی آبیاری میں پیپلز پارٹی کا خون شامل ہے۔دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں,آصف علی زرداری نے بے نظیر کی شہادت کے بعد انتشار کی بجائے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔پاکستان پیلیز پارٹی جمہوری روایات کی پاسدار ہے.تقریب کے اختتام میں ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس پر جلد فیصلہ کرنے کےلیے قرارداد بھی پاس کی گئی.

  • سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ کا بڑا اچھا فیصلہ ہے
    جو چیز یں ہم چاہتے تھے وہ مانی گئی ہیں، میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس رولز کے مطابق ہو گا کوئی پسند ،ناپسند نہیں ہوگی ۔

    چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی کہا ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت اور پولیس استعمال نہیں کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ 22جولائی تک ہاوس مکمل ہو جائے گا جس کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو گا.

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ22جولائی کو اجلاس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوگا اور کہیں نہیں ہوگا ، جو ماحول عدالت کے اندر بنا وہ عدالت کے باہر بھی رہنا چاہئیے، یہی جمہوریت ہے.

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہا کہ عدلیہ نے صاف اور شفاف الیکشن کی راہ ہموار کر دی ہے ،امید کرتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہونگے ۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، تین ماہ کا بحران ہم نے 3 سیشنز میں حل کردیا ہے،حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اس بینچ میں شامل تھے۔

    لاہور سے پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان یا اپنے مسائل خود حل کریں یا ہمارے پاس آکر ہماری بات مانیں۔

    لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ کےلیے قائم مقام وزیر اعلیٰ کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوں گے، ، کیس کا تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کریں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے، ججز جواب نہیں دے سکتے، حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل عدالت نے کیس کی سماعت آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کی تھی اور پرویز الہٰی کو حکم دیا تھا کہ وہ عمران خان سے رابطہ کرکے آدھے گھنٹے میں عدالت کو آگاہ کریں، جس کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو عمران خان کی ہدایت سے متعلق آگاہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حمزہ کو قائم مقام وزیراعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس، پنجاب الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری قانون پر عمل کریں۔ بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے جن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کا حصہ ہے، الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلیٰ قبول ہیں، الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات موجود ہیں۔

    چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حمزہ شہباز صاحب آپ کا ارادہ ہے دھاندلی کرنے کا؟ جس پر جواب دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کوئی دھاندلی نہیں ہو گی۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت مجموعی حکم جاری کرے گی چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہیں پڑے گی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کو خاندانی تنازع نہ بنائیں تو بہتر ہے۔

    حمزہ شہباز کو نگراں وزیر اعلیٰ بنانے پر پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کے درمیان اختلاف ہوگئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویزالہٰی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کے لیے حمزہ پر عائد کی جاسکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا، صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید روسٹرم پر آئے، اور انہوں نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے، انتخاب کے لیے17 جولائی کے بعد کا وقت دے دیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے محمود الرشید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست گزار نہیں اس لیے آپ کو نہیں سن سکتے۔پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اپنے پارٹی لیڈر سے مشاورت کر کے15 منٹ میں عدالت کو آگاہ کروں گا، محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک قانونی پوزیشن لیں اور ہمیں بتائیں، جو حکم جاری کریں گے وہ کسی ایک کے فائدے میں نہیں ہوگا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ بابر اعوان صاحب! آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟بابر اعوان نے بتایا کہ درخواست گزار سبطین خان کا وکیل ہوں، 16 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی، لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کو ایوان میں طلب کیا گیا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے کچھ نکات پر اختلاف کیا ہے، ایک جج نے کہا ہے کہ انہوں نے 197 ووٹس حاصل کیے، اگر 25 ووٹ نکال لیں تو 172 ووٹ بچیں گے، اس طرح پہلے پول میں حاصل اکثریت چلی گئی تو یہ انتخاب متنازع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کرائی جائے، ممبران جو موجود ہوتے ہیں اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں، ان کے ووٹ شمار ہوتے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کے لیے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہوا ہے، آپ بتائیں کہ آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں؟ آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست تو یہ ہے کہ کچھ اراکین حج پر، کچھ شادی بیاہ پر گئے، ان کو آنے دیں، سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کیوں کرے؟ کیا پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ مزید وقت دیا جائے؟ کس اصول کے تحت ہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کریں؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟

    اس پر پی ٹی آئی نے پنجاب میں دوبارہ انتخابی عمل کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے 7 دن کا وقت مانگ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں، آپ کے منحرف اراکین کے ووٹ پہلے ہی نکل چکے ہیں، پی ٹی آئی کے اراکین کو لاہور پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری جماعت کا مسلم لیگ ق سے اتحاد ہے، ہم تجویز پر رضا مند نہیں ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ پرویز الہٰی امیدوارہیں انہیں اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟چوہدری پرویز الہٰی نے عدالت میں کہا کہ محمود الرشید کے مشورے پر ہی آمادہ ہوا ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاشرے میں بہت تقسیم ہوگئی، سیاست میں بہت تقسیم بھی ہوگئی، آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے؟

    بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے،حمزہ شہباز کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئینی خلا نہیں بنانا۔پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہےعدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان سے سوال کیا کہ آپ کے امیدوار کی مرضی کچھ اور ہے، دوسری سائیڈ سے ان کا اتفاق رائے ہے، آپ کی اب مرضی کیا ہے؟ آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے؟بابر اعوان نے کہا کہ عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ ہمیں قبول ہوگا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ آئینی صورت حال ہے، اسے حل کریں، مزید خراب نہ کریں۔بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی ہیں لیکن یہ الگ جماعتیں ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دو دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ شہباز17 جولائی تک وزیر اعلیٰ، یہی 2 آپشن ہیں۔

    بابر اعوان نے کہا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں۔

  • 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق،رات کو حکمنامہ جاری کرینگے،چیف جسٹس

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

    ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سترہ جولائی کو عوام نے بیس نشستوں پر ووٹ دینے ہیں،ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ‏اجلاس نہ ہونے پر قائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہوسکتا ہے، کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلی کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ آج چار بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں، ‏قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلی کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہ سکتا ہے، مطمئن کریں کی 4 ججز کا دیا وقت مناسب نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 7 دن تک کیا صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے، سات دن کا وقت دینا مناسب نہیں،‏مزید سماعت 2.45 تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چکا سکتے ہیں، ہم آپکو آدھا گھنٹا دیتے ہیں سر جوڑیں اور سوچیں۔

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز روسٹروم پر آجائیں،ہمارے سامنے جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ وقت زیادہ زیادہ نہیں دیا گیا،زیادہ وقت نہ دینے کی مختلف وجوہات ہیں، عدالت خود سے وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا،بتایا گیا کہ وقت دیا جائے تو حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکتے ہیں،کیا یہ بات درست ہے؟ چودھری پرویزالہیٰ نے کہا کہ بات اس طرح نہیں، اسمبلی کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں اس معاملے پر ہیں اس کو آئین اور جمہوری روایات کے مطابق حل ہونا چاہیے،وکلا نے کہا کہ پولنگ کا وقت 17تاریخ تک کا دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویز الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی بنیاد پر آپ کو بلایا ہے، آپ کی درخواست میں 26 گھنٹوں کو بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے،آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی،آپ کی طرف سے آنے والی سفارش پر ہمیں لگا کہ آپ اس پر سوچیں، آپ کے وکیل نے 10 اور 7دن کی استدعا کی صاف شفاف الیکشن کے بعد جس کی اکثریت ہو وہ وزیر اعلی ٰبن جائے گا،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں ہاوس 17تاریخ تک مکمل ہوگا،اس وقت تک ساراعمل مکمل ہو جائے تو ہمارا کوئی اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت تک حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ رہنے کو آپ مانتے ہیں ،پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں ایسا نہیں مان سکتا وہ اپنے عہدے پر نہ رہے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرہم آئینی راستہ اختیار کریں گے جس سے آپ دونوں کا نقصان ہوگا،پرویز الہیٰ نے کہاکہ عدالت یہ حکم دیں کہ ہم آپس میں طے کریں جس حل پر دونوں راضی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام آپ عدالت آنے سے پہلے کرکے آجاتے نا چودھری صاحب،

    حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت کا احترام کرتا ہوں ،شخص اہم نہیں نظام اہم ہے،قوم نے دیکھا کہ ڈپٹی اسپیکر پر حملہ ہوا ہمارے پاس عددی اکثریت موجود ہے، آج الیکشن ہونے دیا جائے جب 20سیٹوں پر الیکشن ہوگا تو عدم اعتماد کی تحریک لاسکتے ہیں،ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا، انہوں نے اپنے بندوں کو کیوں نہیں روکا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کو پرویز الہٰی کی تجویز منظور نہیں،آج جو 4 بجے اجلاس ہونا تھا وہ اب نہیں ہوگا کیونکہ4 بج چکے ہیں،اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 17 تک دونوں فریقیں راضی ہیں کہ الیکشن نہ ہو ، حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف سے اگر کوئی قانونی دلیل ہو تو میں ماننے کو تیار ہوں،آئین اور قانون کے مطابق میرے پاس عددی اکثریت ہے،اگر17 تک کوئی بھی وزیراعلیٰ نہ رہا تو نظام کیسے چلے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں ہم گورنر کو ہدایت کرسکتے ہیں کہ وہ نظام چلانے کے اقدامات کرے اگر ہم مزید وقت دیں تو آپ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے،حمزہ شہباز نے کہا کہ اس کا بہتر حل ہے کہ آج رات12بجے تک الیکشن کرائے جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ایک مناسب وقت دیا ہے،اب جو وقفہ آیا ہے اس کے لیے وقت دینا چاہیے،حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ معاملہ اسی فورم پر حل ہونا ہے عدالت جو فیصلہ دے،

    پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمارے آنے کا سبب یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پیش ہوئے ہیں،17 جولائی کے بعد تک کا وقت مل جائے تو بہتر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ قانون کے مطابق یہ الیکشن فوری ہو، ہائوس پورا ہو یا پھرابھی،ہمیں 17 تک کا وقت دینا مناسب نہیں لگتا ،اگر حمزہ شہباز یہ کہیں کہ 17 کو الیکشن کرائیں لیکن اس دوران حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر حل نکالنا نہیں چاہتے، وہ رن آف الیکشن کی بات کررہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ مجھے 17 تک وزیر اعلی رہنے دیں،ہم آپ کو کچھ وقت دیتے ہیں اس پر عدالتی فیصلے کے مطابق الیکشن کرائیں،پرویز صاحب آپ کے پاس دو آپشن ہیں کہ حمزہ شہباز کو17 تک وزیر اعلی مانیں یا پھر اس سے پہلے جو وقت دیتے ہیں تو اس دوران الیکشن کرائیں،پرویز الہیٰ نے کہا کہ اگر ہم ان کو 17تک وزیر اعلی مانتے ہیں تو اس سے پہلے وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کریں اور پکڑ دھکڑ نہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم حکم دینگے کہ کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو،الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتو کوئی تقرری اور تبادلہ نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں اس وقت کہ کمپرومائیز نہ ہو،آپ دونوں بیٹھ جائیں اس کا کوئی قانونی حل نکالتے ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ حمزہ شہباز17 تاریخ تک قائم مقام وزیر اعلی رہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہاں پنجاب اسیمبلی والوں کا موقف الگ یے بابر اعوان آپ کا موقف کیوں الگ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم چاہتے سیاست میں کوئی اختلاف نہ رہے ،ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری عمل چلتا رہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا کا موقف اپنے امیدوار سے الگ کیوں ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ہم اتحادی ہیں وہاں اکثریت میں ہیں، درخواست گزار اپوزیشن لیڈر ہیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ میاں محمود الرشید کا مشورہ عدالت کے سامنے رکھا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی پارٹی کی نہیں ایک انفرادی شخص کی درخواست ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وقت دیں تب تک وزیر اعلی کو ہٹا دیں بابر اعوان صاحب ہم آئینی بحران نہیں پیدا کرنا چاہتے،اگر دو دن کا وقت دیتے ہیں تو نظام حکومت کون چلائے گا ،بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم حمزہ شہباز شریف کو عبوری طور پر وزیر اعلی نہیں مانیں گے، بابر اعوان نے پرویز الہی کے موقف کی عدالت میں تردید کردی۔

    بابر اعوان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا موقف سامنے رکھنا چاہتے ہوں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار آپ نے کہا کہ 17جولائی تک ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور 7 دن کا وقت مانگا،بابر اعوان نے کہا کہ سوال ہے کہ ہمیں مزید وقت چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے کہا کہ لگتا ہے آپ نےآئین کا آرٹیکل 130 مکمل نہیں پڑھا، اس کو پڑھیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کا اور آپکے امیدوار کا موقف ایک جیسا نہیں ہے تو عدالت کیا کرے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ باقی عدالت جو حکم دیگی وہ ہم مانیں گے،اس بحران سے نکلنے کےلئے کچھ وضاحت آپ نے کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں آئینی معاملہ ہے، اس کوحل کرنا ہے اس کو مزید خراب نہیں کرنا، بابر اعوان نے کہا کہ آئین کی ایک شق ہے جو 187/1 ہے ، عدالت نے کہا کہ آئین کی شق 187/1 کو ایسے ہی استعمال نہیں کرسکتے ،اب ساڑھے چار بج چکے ہیں، بابر اعوان نے کہا کہ آپکا شکریہ جو آپ ہمیں سن رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شکریہ ادا نہ کریں یہ ہمارا کام ہے، اگر دوبارہ پول کی اجازت دیتے ہیں تو کچھ وقت دینا ہوگا،وزیر اعلی کے الیکشن میں پہلی بار ایسی صورتحال ہوئی ہے،اب نکتہ یہ ہے کہ اگر وزہر اعلی کو ہٹا دیتے ہیں تو اس کا حل نکالنا ہوگا، ہوسکتا ہے چند دنوں میں اس کا حل نکل آئے لیکن20 دن نہیں دے سکتے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر آپ راضی نہیں ہوتے تو ہم آرڈر پاس کردیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سینیئر سیاستدان اس کا حل نکالیں،وکیل پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہم نے کورٹ میں مشاورت کی ہے اسپیکر کے ساتھ کہ 17جولائی کے بعد کا وقت دیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل کی درخواست ہی نہیں اس لئے آپ کو کیوں سنیں،بابر اعوان نے کہا کہ ہمیں مزید دس منٹ دیں پارٹی لیڈر سے بات کرنا چاہتا ہوں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان آپ کو ہم دو سے تین دن دینگے اس قانون میں بھی جواز ہے،پرویز الہی آپ بھی اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرلیں اور آدھے گھنٹے میں دوبارہ بتائیں ،

    دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم اس نکتے پر راضی ہیں کہ حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کام جاری رکھیں،اس بات پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اتفاق ہوا ہے، پرویز الہیٰ نے کہا کہ اسپیکر ہوتے ہوئے حمزہ شہباز کو لیڈر آف اپوزیشن مانا اور ان کی رہائی کے آرڈر جاری کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اس نکتے پر راضی ہونا اچھی بات ہے،میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ دونوں فریقین راضی ہو گئے ہیں، بابر اعوان آپ بتائیں کیا بات ہوئی؟ بابر اعوان نے کہا کہ اسد عمر اور دیگر کے ساتھ پنجاب میں پارلیمانی لیڈر اور امیدوار سے بھی بات ہوئی،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھیں عمرن خان چاھتے ہیں عدالت آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو قانون کے مطابق عمل کی ہدایت کرے،ہمیں عبوری طور پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ حمزہ شہبازکام جاری رکھے، پی ٹی آئی وکلا نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ کام حاری رکھنے پر اتفاق کر لیا

    بابراعوان نے کہا کہ ااس دوران حکومت کوئی بھی فنڈز اور اختیارات استعمال نہیں کرے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی اور الیکشن کمیشن کوڈ آف کنڈیکٹ پر سختی سے عمل در آمد کرے، آپ کو آپریشنل صورتحال پر اعتراض ہے کہ تنگ نہ کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا حکم دے گی جو سب کو قبول ہو گا، بابر اعوان نے کہا کہ وہاں سب کو بلاکر بٹھایا جارہا ہے، اس صورتحال کو عدالت دیکھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ دوبارہ ہمارے پاس آئیں،بابر اعوان نے کہاکہ ہم بھی اس معاملے میں نہیں آنا چاہتے لیکن دوسرے کیسز میں آئیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ارادہ ہے کہ انتخابات میں کسی کو ہراساں اور دھاندلی کریں؟ حمزہ شہباز نے کہا کہ میرا ایسا کوئی اردہ نہیں، میں ایک سیاسی کارکن ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتیں کھلی ہیں جس کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ عدالت آسکتا ہے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کسی کو ہراساں اور دھاندلی نہیں کرینگے،حمزہ شہباز نے کہا کہ جی میں بالکل ایسا نہیں کروں گا،

    پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ حمزہ شہباز سے متعلق 13 اپریل کو نوٹیفکیشن جاری ہوا،آپ ہمیں عدالتوں میں آنے سے روک نہیں سکتے، ہم عدالت میں آتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22 جولائی کو سب وزیر اعلی کے انتخاب پرمتفق ہیں۔ہم ایسا آرڈرجاری کرینگے الیکشن صاف اور شفاف ہوں اور عزت اور تکریم رہے، مختصر حکمنامہ آج رات تک جاری کردینگے،

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئ ہے، امید ہے سپریم کورٹ اس بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہی سماعت کرے گی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس روک دیا جائے گا

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آج ہی سماعت کی جائے،وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہونے والے الیکشن کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں پنجاب حکومت اورڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں حمزہ شہباز،پرنسپل سیکریٹری گورنر اورسیکریٹری اسمبلی کو بھی فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مناسب وقت دیا جائے تاکہ دوردراز کے ممبرز پہنچ سکیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےلیے دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے جمعہ کو 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئی ایاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

  • تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست

    تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست

    تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں،سپریم کورٹ میں درخواست
    سپریم کورٹ میں‌ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کیخلاف ایک اور درخواست دائرکی گئی ہے

    درخواست میں عمران خان،فواد چودھری،شیریں مزاری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،الیکشن کمیشن،پی ٹی اے اور ایف آئی اے کو بھی فریق بنایا گیا ہے ،دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کو اداروں کیخلاف بیان بازی سے روکا جائے،اقتدار جانے کے ساتھ ہی عمران خان نے ملک کو کمزور کرنے کی تحریک شروع کی پی ٹی آئی رہنما عدلیہ،فوج اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر اداروں پر الزامات لگا رہے ہیں تحریک انصاف کے ہتھکنڈے ملکی سالمیت اور بقا کیلئے خطرہ ہیں ملکی ادارے کمزور ہوں گے تو بیرونی سازشیں کامیاب ہوسکتی ہیں،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے عدلیہ ، فوج اور الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات جاری ہیں اپنی تقاریر میں عمران خان نے فوج کو سیاست میں شامل ہونے اور ان کا ساتھ دینے کا کہا سپریم کورٹ عمران خان کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن تشکیل دے جو ا ن بیانات کا جائزہ لے کر ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لے عدالت عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کو قومی اداروں کے خلاف بیانات دینے اور میڈیا پر نشر کرنے سے روکنے کے احکامات دے

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    عمران خان کی جب سے حکومت گئی ہے تب سے وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس میں پراجمان ہونے کے لئے بیتاب ہیں، عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے جا نہیں رہے تھے گئے تو پھر آنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ عمران خان اب بنی گالہ کو ہی وزیراعظم ہاؤس کا نام دے دیں کیونکہ ان حالات میں عمران خان نے کرسی جانے کے بعد اداروں پر تنقید کی، عسکری قیادت پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ چلائے اور تنقید کی، اپنی کرپشن چھپانے کے لئے ،جیل سے بچنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے عمران خان اتنے بہادر ہیں کہ لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد چھوڑ دیا اور گرفتاری کے خوف کی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں چھپ کر بیٹھ گئے، اسکے بعد لانگ مارچ کرنے آئے تو پھر گرفتاری کے خوف سے ہی واپس چلے گئے، اسکے بعد اب بھی گرفتاری کا اتنا خوف ہے کہ انہوں نے عدالت سے ضمانت کروائی ہے،

    فرح گوگی کی کرپشن کے چرچے عمران خان کی حکومت کے جانے سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے، نیب نے بھی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، فرح گوگی کے ساتھ تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی بے نقاب ہونے والے ہیں جنہوں نے حکومت میں رہ کر کرپشن کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا،