Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

    تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی رضا ربانی نے بطور پارلمیٹرینز ان پرسن دلائل کا آغاز کر دیا ،رضا ربانی نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے بعد آئینی عہدیداروں نے آئین کی خلاف ورزی کی،جمہوری اداروں پر بدنیتی تنقید کے دو طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں، بدنیتی پر مبنی تنقید سے یا ملک فاشزم کی طرف جاتا ہے یا سویت یونین بنتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کیلئے کیلئے کھڑی ہے، رضا ربانی نے کہا کہ آئین کیلئے کھڑے ہونے پر ہی اداروں کے خلاف مہم چلی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو ماننے والے جب تک ہیں تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں، عدالت کا کام سب کے ساتھ انصاف کرنا ہے،تاریخ بتاتی ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دیں ہیں،قربانیاں دے کر بھی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اداروں کا ساتھ دیا ہے، کوئی ہمارے بارے میں کچھ بھی سوچے ملکےکی. خدمت کرتے رہیں گے،قربانیاں دینے والوں کا بہت احترام کرتے ہیں،

    رضا ربانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کے دیے گیے ڈیکلریشن کا جائزہ لے سکتا ہے،کمیشن بااختیار ہے کہ ڈیکلریشن کے شواہد شکوک و شبہات سے پاک ہوں،لازمی نہیں کہ پارٹی سے وفا نہ کرنے والا بے ایمان ہو، کاغذات نامزدگی میں دیا گیا حلف پارٹی سے وابستگی کا ہوتا ہے،اصل حلف وہ ہے جو بطور رکن قومی اسمبلی اٹھایا جاتا ہے، آرٹیکل تریسٹھ اے ارکان کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہ دینے کا خوف دلاتا ہے،ارکان کو علم ہوتا ہے کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دیا تو نتائج ہوں گے، اٹارنی جنرل مغربی جمہوریتوں کی مثالیں دیتے رہے جو غیر متعلقہ ہیں،پاکستان میں سیاسی جماعتیں دوسرے ممالک کی طرح ادارے نہیں بن سکیں،ریاست ارکان کو ایک سے دوسری جگہ بھیج کر حکومتیں گراتی رہی،

    رضا ربانی نے کہا کہ مغرب میں ریلوے کے حادثہ پر وزیر فوری استعفی دے دیتا ہے، ایسے حادثات پر وزیر کا استعفی آنا چاہیے،پاکستان میں استعفی دینے کا کلچر نہیں، پاکستان میں چند دن پہلے وزیر اعظم آئین کی خلاف ورزی کے لیے تیار تھا، وزیر اعظم سنگین خلاف ورزی کے لیے تیار تھا لیکن استعفی نہیں دیا،پارٹی سے انحراف پر آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا،آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت منحرف رکن ڈی سیٹ ہونا ہے نااہل نہیں،انحراف کی سزا رکنیت کا خاتمہ ہے مزید کچھ نہیں،منحرف رکن کو نااہل کرنا مقصد ہوتا تو مدت کا تعین بھی آئین میں کیا ہوتا، سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہی منحرف رکن کی شرمندگی کے لیے کافی ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیکر آپ رو پڑے تھے،اپ نے تقریر میں کہا تھا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہے، اگر مستعفی ہوجائے تو کیا خیانت ہوتی؟ رضا ربانی نے کہا کہ استعفی دینے کے بعد حالات کا سامنا کر سکتا تھا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپ نے کسی خوف کا اظہار نئیں کیا تھا، رضا ربانی نے کہا کہ استعفی دینے کے لیے اخلاقی جرات نہیں تھی ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ سینیٹر تھے عوام کے منتحب کردہ نمائندے نہیں،رضا ربانی نے کہا کہ میرا حلقہ پورا سندھ ہے سینیٹرز بھی خود کو منتحب کہلانا پسند کرتے ہیں، پارٹی کے خلاف ووٹ دینے سے پہلے استعفی دینا ہمارے حالات میں آپشن نہیں ہے،استعفی دینے کا مطلب سیاسی کیرئیر کا خاتمہ ہے، سینیٹر رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • ایچ ای سی کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    ایچ ای سی کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 26 اپریل کو سماعت کرے گا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    وفاق نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال کے شروع میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید بنوری کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا سابقہ حکومت پی ٹی آئی نے گذشتہ سال مارچ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کو مدت ملازمت مکمل کرنے سے پہلے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    سٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002 میں ترمیم کے بعد ڈاکٹر طارق بنوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہےآرڈیننس 2002 کے تحت ڈاکٹر طارق بنوری نے چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے پر چار سال کے لیے فائز رہنا تھا، اس کے تحت ان کی مدت ملازمت مئی 2022 میں مکمل ہونا تھی ترمیمی آرڈیننس 2021 کے تحت چیئرمین ایچ ای سی کی مدت کم کر کے دو سال کر دی گئی ہے۔

    امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات میں کون سی امریکی سازش پر بات ہوئی؟ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے دائرہ اختیار اور چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹائے جانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

    بعد ازاں وفاق نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس پررواں سال فروری میں سپریم کورٹ نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لی تھی اس وقت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ چیئرمین ایچ ای سی کی سربراہی میں کمیشن جو بھی تعیناتیاں کر رہا ہے وہ اس کیس سے مشروط ہوں گی۔

    سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی کا مختصر فیصلہ جاری کیا ہے ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد کیس کی سماعت کریں گےکیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کو پابند کیا جائے کہ روزانہ کے معاملات پر کام کریں چیئرمین ایچ ای سی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی تعینات نہیں کر سکتے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ایچ ای سی کے قوانین اب بدل چکے ہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چیئرمین ایچ ای سی کو پالیسی معاملات پر فیصلوں سے روکا جائے۔

    عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ ، ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کریں ،حکومتی مراسلہ

    جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا تھا کہ چیئرمن ایچ ای سی کے پاس کسی کی تعیناتی کے اختیار کیوں نہیں ہیں؟ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں قانون میں ترمیم کر دی اور پھر کہہ رہے ہیں چیئرمین کو اختیارات کے استعمال سے بھی روکیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی صرف ایکسپرٹ تعینات کر سکتے ہیں چیئرمین ایچ ای سی ریکٹر اور کمیٹی ممبران کی تعیناتی کرکے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کے موجودہ کیس کے فیصلے پر تعیناتیوں کا معاملہ طے ہو گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی تھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 26 اپریل کو سماعت کرے گا-

    واضح رہے کہ ڈاکٹر طارق بنوری کو پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مئی 2018 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین تعینات کیا تھا۔

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

  • وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے؟ چیف جسٹس

    وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے؟ چیف جسٹس

    وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیئے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 1997 میں 13 ویں ترمیم کے زریعے 58 ٹو بی کو ختم کیا گیا تھا مشرف نے 2002 میں ایل ایف او کے ذریعے 58 ٹو بی کو بحال کیا،2010 میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے 58 ٹو بی دوبارہ ختم ہوئی، چودہویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کو آئین میں شامل کیا گیا ،چودہویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو بہت وسیع اختیارات تھے الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی سربراہ کا فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 62 ون کی تشریح سپریم کورٹ نے کی، فاروق نائیک نے کہا کہ قانون سازوں نے آرٹیکل 63 اے میں منحرف رکن کی نااہلی کا تعین نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں 4 مواقعوں پر وفاداری کو پارٹی پالیسی سے مشروط کر دیا ہے،وفاداری بنیادی آئینی اصول ہے، ایک نااہلی کوئی معمولی بات ہے، آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے دفاداری کو یقینی بنانا ہے ضروری نہیں جو حاصل کرنا ہے،وہ آرٹیکل 63 اے سے حاصل کریں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کو مجموعی طور پر دیکھنا ہے، پارٹی ٹکٹ ہولڈر ہر امیدوار حلف دیتا ہے،ٹکٹ ہولڈر حلف دیتا ہے کہ کس پارٹی سے وابستہ ہے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نااہلی جیسی بڑی سزا ٹرائل کے بغیر نہیں دی جا سکتی،آزاد کامیاب ہو کر پارٹی میں شامل ہونے والے نے جماعت سے وفاداری کا حلف نہیں لیا ہوتا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت گھوڑے اور گدھے کو ایک نہیں کر سکتی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واضح کریں کہ گدھا کون ہے اور گھوڑا کون، فاروق نائیک نے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی پارٹی سربراہ کی ہر بات ماننے کا حلف نہیں اٹھاتا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں آزاد اراکین ہونے ہی نہیں چاہیے، چند اراکین کے آزاد ہونے سے فرق نہیں پڑتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں پارلیمانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں، ریڑھ کی ہڈی کو کینسر لگا کر نظام کیسے چلایا جا سکتا ہے؟ فاروق نائیک نے کہا کہ منحرف اراکین ڈی سیٹ ہوتے لیکن ہیں نااہل نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا مستقبل یہ بھی ہے کہ پارٹی معاف کردے،1998سے یہ آرٹیکل آج تک صرف ایک کیس میں آیا ہے،اس کا مطلب ہے پارٹی سربراہ نے اس آرٹیکل کو سنجیدہ نہیں لیا، اس کی کیا وجہ ہے پارٹی سے انحراف کرنے والوں کو واپس لیا جاتا ہے، پارٹی منحرف اراکین کو واپس لینے کی وجہ سیاست میں لچک ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیاست میں سخت گیری سے انتشار پھیلتا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتادیں کوئی انحراف کرے وہ ڈی سیٹ کے بعد ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے، وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انحراف سے ڈی سیٹ ہونے والا ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے انحراف کرنے والے کی یہی سزا ہے کہ ڈی سیٹ ہو، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریما رکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اچھے دلائل دیئے ،

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

  • منحرف ہونا اتنا بڑا جرم ہےتو وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی؟،سپریم کورٹ

    منحرف ہونا اتنا بڑا جرم ہےتو وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی؟،سپریم کورٹ

    رٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کیا ضمیر کی آواز پر پارٹی کے خلاف ووٹ دینا جرم ہے ؟،کیسا جرم ہے جس کی آئین میں اجازت دی گئی ہے ؟۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ نیوٹرل ہونے کی وجہ سے آئین میں نا اہلی کی سزا نہیں تھی-

    کمسن بچی سے زیادتی اورقتل کے مجرموں کو2،2مرتبہ موت کی سزا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت ،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نا ئیک کے دلائل دیئے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بظاہر آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے انحراف روکنا تھا ،دیکھنا ہے کہ منحرف ہونے کی سزا اتنی سخت ہے کہ رکن کے دل میں ڈر پیدا ہو یا نہیں سب سے پہلے طے کرنا ہے منحرف ہونا درست ہے یا غلط، منحرف ہونا غلط قرار پایا تو دیکھیں گے اس کے اثرات کیا ہوں گے تاریخ گواہ ہے کہ پارٹی سے انحراف صرف ضمیر جاگنے پر نہیں ہوتا، کئی مغربی ممالک میں پارٹی سے انحراف رکوانے کی کوشش ہے، پارٹی سے انحراف کی سزا کیا ہو گی یہ اصل سوال ہے؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 162ون ایف میں عدالتی ڈکلیئریشن شامل کیا گیا –

    3 روز سے 14 سالہ لاپتہ بچی کی ماں کی قوم سے اپیل

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیئے کہ کیا ضمیرکی آواز پر پارٹی کے خلاف ووٹ دینا جرم ہے؟ ، یہ کیسا جرم ہے جس کی آئین میں اجازت دی گئی ہے ۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ امریکی جج کے مطابق عدالتی فیصلہ نہ ماننے والی حکومت کو لوگ ووٹ نہیں دیں گے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمارا ملک اس وقت انارکی کی جانب بڑھ رہا ہے-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حالات اتنے خراب نہیں ہیں عمومی بات نہ کریں-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کلچر بن گیا ہے کہ فیصلہ حق میں آئے تو انصاف ،خلاف آئے تو انصاف تار تار ہو گیا-

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ عوام کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ فیصلہ کیا آیا ہے، جو بات لیڈر کرتا ہے عوام اس کے پیچھے چل پڑتی ہے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ فرض کریں وزیراعظم کے خلاف چوتھے سال عدم اعتماد آتی ہے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن جاتا ہے، الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے ایک سال فیصلے ہونے میں لگتا ہے فیصلے تک اسمبلی مدت پوری کر جائے تو منحرف رکن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی؟-

    فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے وکیل کو الیکشن کمیشن نامکمل ہونے پر اعتراض

    فاروق نائیک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نااہلی ریفرنس پر مقررہ مدت تک فیصلے کا پابند ہے-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی مقررہ مدت تک فیصلے کی پابند ہے، جہاں بھی اختیار حد سے زیادہ ہو گا وہاں استعمال غلط ہو گا-

    وکیل نے جواب دیا کہ نوے کی دہائی میں اسمبلیاں 58ٹوبی کے اختیارات استعمال کر کے تحلیل کی گئی-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 63 اے کا مقصد نااہلی ہے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا مطلب منحرف رکن کو پھانسی دینا بھی نہیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کیا الیکشن کمیشن منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس مسترد کر سکتا ہے،جسٹس جمال نے ریمارکس میں کہا کہ منحرف ہونا اتنا بڑا جرم ہے تو وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی؟ –

    عدالت نے سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کر دی –

    عمران خان و دیگر وزرا پر غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست خارج کرنے کیخلاف اپیل…

  • پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے سپریک کورٹ میں درخواست دائر کر دی-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکرد ی سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عدالت میں آرٹیکل184 تھری کے تحت درخواست دائرکی-

    درخواست میں ادارہ شماریات، وفاق، الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کوفریق بنایا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیرسے روکا جائےاور قرار دیا جائے کہ3 مئی 2018 میں کروائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا شیڈول غیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا جائے، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل یقینی بنانے کا حکم دیا جائے-

    اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی،پاکستان بارایسوسی ایشنز

  • 10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کا آغازہو گیا ہے

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ، جسٹس جمال خان نے استفسار کیا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں انحراف کی اجازت ہو کچھ چاہتے ہیں نہ ہو؟ آج کل آسان طریقہ ہے 10ہزار بندے جمع کرو کہو میں نہیں مانتا پارلیمان نے تاحیات نااہلی کا واضح نہیں لکھا،پارلیمنٹ نے یہ جان بوجھ کر نہیں لکھا یا غلطی سے نہیں لکھا گیا، پارلیمنٹ موجود ہے دوبار اس کے سامنے پیش کردیں،عدالت کے سر پر کیوں ڈالا جارہا ہے ؟

    اے جی اسلام آباد نے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا عدالت کا ہی کام ہے،سینیٹ الیکشن کے بعد بھی ووٹ فروخت ہورہے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو خود ترمیم کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کے عدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں، ایسے فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں، عدالت اپنا آئینی کام سر انجام دیتی ہے، قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہیے، آئینی تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، عدالت کیوں آپ کے سیاسی معاملات پر پڑے؟

    سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دلائل مکمل ہو گئے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کی ایک بیناد سیاسی جماعت ہے، سیاسی جماعتوں کو چار صورتوں میں آرٹیکل 63 میں تحفظ دیا گیا ہےضیا الحق نے پارٹی سے انحراف پر پابندی کی شق آئین سے نکال دی تھی ہارس ٹریڈنگ پر فیصلے آئے تو 1998 آئین میں ترمیم کی گئی 2010میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا آئین کی خلاف ورزی چھوٹی بات نہیں ہے، کئی لوگ آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل چھ پر چلے جاتے ہیں، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی آرٹیکل 6 کا کیس نہیں بنتا ،صدراتی ریفرنس کے مطابق منحرف اراکین پر آرٹیکل 62 ون کا اطلاق ہونا چاہیے،عدالت تعین کرے گی کہ آئین سے انحراف کا کیا نتیجہ ہوگا آئین کی خلاف ورزی کرنے والا یا اپنی خوشی پر جائے گا یا قیمت ادا کرنی ہو گی

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے تاحیات نااہلی ہوئی تو ارٹیکل 95 کی کیا اہمیت رہ جائے گی،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ آرٹیکل 95 کا سوال ابھی عدالت کے سامنے نہیں ہے،وکیل پی ٹی آئی بابر اعوان نے کہا کہ ہماری درخواست کا میمو دیکھ لیں، درخواست کا میمو گیٹ سے تعلق نہیں ، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اب بند کرنا ہو گا،بابر اعوان نے کہا کہ گیٹ بند کرنے کا موقع تھا لیکن ضائع کردیا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ھم نے آپ کو ریفرنس پر دلائل دینے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔ اگر آپ سابق اٹارنی جنرل کے دلائل اپنانا چاھتے ہیں تو بتا دیں ھمیں بتائیں آپ ریفرنس پر کیا موقف اپناتے ہیں؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں سابق اٹارنی جنرل کے دلائل نہیں اپنائوں گا۔میں اپنی درخواست جو پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی ہے اس بات کرنا چاھتا ہوں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس وقت آپ کی وہ درخواست ہمارے سامنے نہیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ ریفرنس پر دلائل کل دے سکتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے ھم آپ کو کل سنیں گے۔ ھم آج مزید ایک گھنٹے تک سماعت جاری رکھیں گے۔

    ایڈوکیٹ جنرل کے پی شمائل بٹ نے کہا کہ کیا صوبوں کو بھی آج ہی سنا جائے گا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر آپ نے تحریری معروضات جمع کرا دی ہیں تو آپ کو سن لیتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ تحریری معروضات جمع نہیں کرائیں۔ کل جمع کرائوں گا ،۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ سندھ نے اپنی تحریری معروضات جمع کرادی ہیں۔ اس پر کل دلائل دونگا

    مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ صدر نے ریفرنس میں عدالت سے آئین دوبارہ لکھنے کا کہا ہے آرٹیکل تریسٹھ اے بالکل واضح ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں ووٹ نہ دینا اور مخالف پارٹی کو ووٹ دینا الگ چیزیں ہیں، مخالف پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے مستعفی ہونا زیادہ معتبر ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ مستعفی ہونے جیسا انتہائی اقدام واحد حل کیسے ہو سکتا ہے،پارٹی سربراہی کی پابندی کرنا غلامی کرنے کے مترادف ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسی بات سے آپ پارلیمانی جمہوریت کی نفی کررہے ہیں، پارلیمانی پارٹی کے فیصلے سے اختلاف ہے تو الگ ہو جائیں گے،ضمنی الیکشن آزاد حثیت سے لڑ کر واپس آیا جاسکتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیسے آئین نے منحرف قرار دیا ہے، آپ اسے معزز کیسے بنا رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شکایت ہے یا نہیں کیا ہورہا ہے ہم نہیں جانتے ،وکیل بی این پی مینگل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے جو اسلام آباد اور لاہور میں ہوا،بابر اعوان نے کہا کہ ویڈیو معاملے پر دورکن الیکشن کمیشن گئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بابر اعوان نے جو بات کی ہے اس سے لگتا ہے کہ انکی جماعت بھی سنجیدہ نہیں،ازخود نوٹس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ نے پیرامیٹرز طے کردیئے ہیں،ہمیں مایوسی ہوئی ہے پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں درخواست دیتے ہوئے عدالتی فیصلے کے مطابق عمل نہیں کیا .

    بابر اعوان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے وقت پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں کوئی شکایت نہیں کر رہا سیاسی جماعتوں سے درخواست کر رہا ہوں کہ پارلیمانی جمہوریت کا دفاع کریں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ریفرنس سے لگتا ہے آئین میں نقص نہیں، نقص ہم میں ہے،وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت تبدیل ہوئی وفاق نے کچھ نہیں کیا،اسلام آباد اور پنجاب میں جو ہوا وہ بھی عدالت کے سامنے ہے، بابر اعوان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں آڈیو وڈیو ثبوت لے کر ہمارے دو ممبران اسمبلی الیکشن کمیشن گئے تھے، چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے 2ارکان اسمبلی الیکشن کمیشن گئے لیکن آپ کی جماعت نہیں،معذرت کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کی جماعت آڈیو ویڈیومعاملے پر سنجیدہ نہیں تھی،ہمیں کہا جاتا ہے کہ ازخود نوٹس لیں،سپریم کورٹ ازخود نوٹس لیے جانے کے طریقہ کار طے کر چکا ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی کا کہا جا رہا ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے کہ منحرف رکن کے خلاف کارروائی کرے ممکن ہے کہ پارٹی سربراہ کوئی کارروائی نہ کرے ممکن ہے کہ انحراف کرنے والا اپنے عمل کی وضاحت دے،مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کے خلاف سنجیدہ قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی حفاظت کرنا ہماری زمہ داری ہے،ہم نبھائیں گے،عدالت 24 گھنٹے کام کرتی ہے کسی کو عدالتی کارروائی پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کو مفروضوں کی بنا پر غیر ضروری طور پر سیاسی عمل میں دھکیلا گیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی معزز رکن اپنے عمل کی وضاحت کردے تو کیا ہوگا،

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست دائر

    منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست دائر

    منحرف اراکین کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست دائر

    پارٹی سے انحراف کرنے والے اراکین اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دینے کی درخواست داٸر کر دی گئی

    درخواست اظہر صدیق کی جانب سے سپریم کورٹ رجسٹری میں داٸر کی گٸی ،درخواست گزار نے کہا کہ آٸین کسی بھی رکن اسمبلی کو پارٹی سے منحرف ہونے کی اجازت نہیں دیتا ،آٸین کے مطابق ووٹ پارٹی کی امانت ہے جس میں خیانت نہیں کی جا سکتی ، ہارس ٹریڈنگ جمہوریت کے لیے کینسر اور زہر قاتل ہے ،آٸین کے مطابق اب کسی بھی سیاسی جماعت کا فارورڈ بلاک نہیں بن سکتا ،پنجاب اسمبلی میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کا مظاہرہ کیا گیا ،پنجاب اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اکٹریتی پارٹی کو شکست دے کر حمزہ شہباز وزیر اعلی بنے ،آٸین کے تحت منخرف ہونے والے اراکین کے ووٹ گنے ہی نہیں جا سکتے ، منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوتی ہے ،

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت آرٹیکل 63A کی تشریح کرے اور پارٹی سے انحراف کو غیر آٸینی قرار دے ، عدالت پارٹی سے انحراف کرنے والے اراکین کو تاحیات نااہل قرار دے ،

    قبل ازیں رواں ماہ 14 اپریل کو پی ٹی آئی نے منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے جماعت چھوڑنے اور پیسے لیکر فلور کراسنگ کرنے والے ارکان آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جماعت کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کارروائی ہوتی ہے،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جیت پر عوام کے ووٹ کو بیچا نہیں جاسکتا، بابر اعوان نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ قراردیا جائے کہ منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوگی۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ جو بھی رکن پارٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین صادق اورامین نہیں رہتے سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انحراف کو ناسور قرار دے چکی ہے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمارنہیں ہونا چاہیئے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ متنازعہ تصور کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منحرف ارکان کی نااہلی تاحیات قرارنہ دی جائے

    پرویز الہیٰ کی جانب سے حملے کے الزام کے بعد رانا مشہود بھی خاموش نہ رہ سکے

    حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب آج، کون لے گا حلف؟

    عثمان بزدار ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

    جب تک صدر پاکستان عہدے سے نہیں ہٹاتے میں گورنر پنجاب ہوں، عمرسرفراز چیمہ

    مولانا فضل الرحمان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

     

  • منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    پی ٹی آئی نے منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے جماعت چھوڑنے اور پیسے لیکر فلور کراسنگ کرنے والے ارکان آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جماعت کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کارروائی ہوتی ہے،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جیت پر عوام کے ووٹ کو بیچا نہیں جاسکتا، بابر اعوان نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ قراردیا جائے کہ منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوگی۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ جو بھی رکن پارٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین صادق اورامین نہیں رہتے سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انحراف کو ناسور قرار دے چکی ہے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمارنہیں ہونا چاہیئےمنحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ متنازعہ تصور کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منحرف ارکان کی نااہلی تاحیات قرارنہ دی جائے

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے 20 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف جمع کروا دیا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس سپکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کروا دیا ،ریفرنس پارٹی چئیرمین عمران خان کی طرف سپیکر کو بھجوایا گیا ،ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ منحرف اراکین پی ٹی ائی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے میڈیا رپورٹس کے متعلقہ اراکین نے پی ٹی ائی چھوڑ کر اپوزیشن پارٹیز میں شمولیت اختیار کر لی ، منحرف اراکین کو شوزکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ،شوزکاز نوٹس کا خاطر جواب نہیں دیا گیا, منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کی کاروائی کا آغاز کیا جائے

    قبل ازیں منحرف ارکان کو قومی اسمبلی کو ملک عامر ڈوگر نے پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا ،تحریک انصاف کے 17منحرف ارکان کو واٹس اپ گروپ سے نکالا گیا عامر لیاقت، فرخ الطاف، سمیع گیلانی، سید مبین عالم، عاصم نذیر ،احمد حسین ڈیہڑ کو گروپ سے نکالا گیا ریاض مزاری ،امجد فاروق کھوسہ،عامر گوپانگ، نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ کو بھی گروپ سے نکال دیا گیا نزہت پٹھان،وجیہہ قمر ، رمیش کمار، باسط بخاری، راجہ ریاض اور رانا قاسم نون کو بھی گروپ سے نکال دیا گیا ،گروپ سے نکالنے سے قبل پی ٹی آئی آراکین نے منحرف آراکین پر گروپ میں شدید تنقید کی

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

    سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟

    عمران خان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے ،بلاول کا اعلان

    این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا

  • ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاونڈیشن میں پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی
    دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک اسلامی جمہوریہ ہے مگر یہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا ،ہم راتوں رات انقلاب لاتے ہیں وزیر اعظم اپنی صوابدید پر 2،2 پلاٹ الاٹ کر دیتا ہے،وزیر اعظم کون ہوتے ہیں ایسے پلاٹ دینے والے ؟ ملک میں پلاٹ دینے کا کوئی اصول نہیں، اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ سیکریٹری کو 2پلاٹ دیئے گئے،ملک میں صرف بڑے لوگوں کو پلاٹ ملتے ہیں غریب کو کوئی نہیں دیتا،کچی آبادی میں لوگوں نے اوپر نیچے چھوٹے چھوٹے کمرے بنائے ہوئے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہاوسنگ فاونڈیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بڑے افسران کو دو دو پلاٹ نہیں دیتے؟ وکیل نے کہا کہ پہلے دو دو پلاٹ دے دیئے جاتے تھے 2006 کے بعد کسی کو دو پلاٹ نہیں ملے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے پلاٹ پر گھر تعمیر کر لیا اب مجھ سے واپس لیا جارہا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا پہلے ایک اور پلاٹ تھا اس لیے آپ سے واپس لیا جارہا ہے سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی پلاٹ واپس کرنے کی درخواست مسترد کردی

    آغا سراج درانی کے خلاف پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم

    سراج درانی کے خلاف کیس کی سماعت،کتنے ملزمان کے شناختی کارڈ ہوئے بلاک

    مریم دیکھتی رہ گئی،شہباز شریف نے بھی پاکستان سے جانے کا ارادہ کر لیا

    جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

  • عدم اعتماد،ووٹنگ نہ کرانے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت درخواست جمع

    عدم اعتماد،ووٹنگ نہ کرانے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت درخواست جمع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے

    سپریم کورٹ میں آنیوالے باقی ججز بھی سپریم کورٹ سے چلے گئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں آنے والے ججز بھی واپس چلے گئے ہیں

    قبل ازیں دھمکی آمیز مراسلہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیف جسٹس پاکستان کو دے دیا گیا ہے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ دھمکی آمیز مراسلہ چیف جسٹس، سپیکر قومی اسمبلی کو شئیر کیا جائے گا.

    قبل ازیں، ووٹنگ نہ کرانے کا معاملہ، سپریم کورٹ بار نے توہین عدالت کی درخواست جمع کرادی ہے ،سپریم کورٹ بار نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیکر نےقومی اسمبلی کا اجلاس صبح 10:30بجےبلایا لیکن اسپیکراورامجدنیازی نے سپریم کورٹ کےحکم پرعمل کرانے اور عدم اعتماد پرووٹنگ کرانےمیں ناکام رہے۔

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے عدم اعتماد سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت کرنے والے دیگر ججز بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے سپریم کورٹ کا عملہ عدالت پہنچ گیا اعظم نذیر تارڑ اور دیگر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عمران خان اب کس منہ سے یہ کام کرے گا؟ ریحام خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو

    قومی اسمبلی ، اپوزیشن اتحاد کے کتنے اراکین اجلاس میں موجود؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ق لیگ دھوکہ دے گئی

    آخری بال تک کھیلنے والا بنی گالہ کے کمرے میں چھپ گیا ہے،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    بریکنگ،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟

    قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع،اسد قیصر صدارت نہیں کر رہے

    قومی اسمبلی میں آخری گیند عمران خان کی منتظر

    عمران پہلے بھی سیلیکٹڈ فیض یاب ہوا تھا اب ایک مرتبہ پھر فیض یاب ہونا چاہتا ہے بلاول

    بلاول کو عورت مرد کی پہچان ہونی چاہئے، شیریں مزاری

    سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    ان کے پاس ہمارے کافی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہیں، وہ بھی واپس آئیں گے،آصف زرداری

    وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب

    منخرف ارکان کے خلاف ریفرنس جمع

    عمران خان نے ملک کی اہم شخصیت کو برطرف کر دیا،کامران خان کا دعویٰ