Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ، رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال کر دی

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا،عادل بازئی نے رکنیت معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی رکنیت ختم کر دی تھی،عدالت نے حکم امتناع دیتے ہوئے عادل بازئی کو بطور ایم این اے بحال کر دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عادل بازئی آزاد امیدوار منتخب ہونے کے بعد ن لیگ میں شامل ہوئے ،آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل خان بازئی کی نشست خالی دینے کی درخواست دی تھی ،عادل خان بازئی کی نااہلی کا ریفرنس پارٹی صدر نواز شریف نے سپیکر کو بھجوایا تھا،عادل بازئی نے بجٹ سیشن کے دوران پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کی

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آرٹیکل 63 اے کے تحت عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے ایک ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا۔ اس ریفرنس کے تحت قومی اسمبلی نے عادل بازئی کی نشست خالی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔عادل بازئی نے آزاد حیثیت سے حلقہ این اے 262 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کی پالیسی کے تحت حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ تاہم، انہوں نے حالیہ سیاسی حالات کے دوران پارٹی کی ہدایت کے خلاف 26 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی بجٹ کے بارے میں ووٹ نہیں دیا، جس کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے ہی دو خطوط الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے، جس میں عادل بازئی کی نااہلی کے حوالے سے شواہد پیش کیے گئے تھے۔

  • خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت کو بچوں کے حقوق کا احساس ہے۔

    یونیسیف اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام سیمینار سے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد بچوں کو عدالت میں سنا جائے گا، ہمیں بچوں کو سننا ہوگا،بچے پیش ہوتے ہیں لیکن ہم نہیں سنتے،خدا کیلئے بچوں کو بھی سنیں، آئندہ کوئی بچہ عدالت میں پیش ہو تو اسکو بھی عدالتی عمل میں شامل کریں، بچے نہ صرف ہمارا مستقبل ہیں، ہمارا حال بھی ہیں، بچے کل کے لوگ نہیں آج کے افراد ہیں۔ماتحت عدلیہ کے ججز کو بتانا چاہتا ہوں بچوں کیلئے انصاف کس قدر اہم ہے،بدقسمتی سے ہمارے سامنے جب بچہ پیش ہوتا ہے ہم اسکو سنتے نہیں ہیں، ایک جج کو کمرہ عدالت میں بچوں کو سننا ہوگا،عدلیہ کو بچوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا چاہیے، بچوں کو عدالتی نظام سے دور رکھنے کی ضرورت ہے، بچوں کو بھی کیسز سے گزرنے میں 15 یا 20 سال نہیں لگنے چاہئیں،ملک میں 25 ملین سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بچوں کو سائبربلنگ جیسے نئے خطرات کا بھی ذکر کیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےخطاب کے دوران آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ کیا،جسٹس منصورعلی شاہ نے ہال میں موجود جسٹس جمال مندوخیل کو مخاطب کر دیا اور کہا کہ بچوں سے متعلق آئین کے آرٹیکل 11 تین کی تشریح کی ضرورت ہے میں اب یہ تشریح کر نہیں سکتا آپ کر سکتے ہیں آئی ایم سوری، مجھے یہ بار بار کہنا پڑ رہا ہے میں مگر اب کیا کروں میں یہ تشریح کر نہیں سکتا ،

    بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس منصور علی شاہ نے مستعفیٰ ہونے کی تردید کردی ہے، بچوں کے انصاف سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کی خبروں کی تردید کردی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپکے مستعفی ہونے سے متعلق افواہیں درست ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے جواب دیا کہ پتہ نہیں آپ کو یہ فکر کہاں سے لاحق ہوئی، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ، بھاگ کر نہیں جائیں گے، جو کام کر سکتا ہوں وہ جاری رکھوں گا، ابھی ایک کانفرنس پر آیا اس کے بعد دوسری پر جا رہا ہوں، ہاتھ میں نظام کو جتنا بہتر کرنے کا اختیار ہے وہ استعمال کریں گے۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

  • جوڈیشل کمیشن رولز بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل

    جوڈیشل کمیشن رولز بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے جوڈیشل کمیشن رولز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق جوڈیشل کمیشن رولز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس جمال مندوخیل کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جب کہ بیرسٹر علی ظفر، فاروق نائیک اور پاکستان بار کے نمائندہ اختر حسین بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے اعلامیے میں بتایا کہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی رولز بنانے کے لئے قائم کمیٹی کا حصہ ہوں گے جب کہ کمیٹی کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن سمیت دو ریسرچ افسران کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی کا عمل 21 دسمبر تک موخر کردیا گیا ہے، دونوں ہائی کورٹس کے لئے ججز کی نامزدگیاں دس دسمبر تک بھیجوائی جاسکتی ہیں۔

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    سرفراز دلبرداشتہ ،ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا

    متحدہ نے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، چین کی 13 امریکی کمپنیوں پر پابندیاں

  • جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،جسٹس مسرت ہلالی

    جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات قائم ہونے پر سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کرلی ہے

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مارگلہ ہلز پر غیر قانونی تعمیرات کے کیس کی سماعت کی،سی ڈی اے وکیل اور ڈی جی ماحولیات عدالت میں پیش ہوئے، مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی بینچ کے حکم پر ہمارے ریسٹورینٹ کو گرا دیا گیا مگر مارگلہ ہلز میں ابھی 134 کے قریب ہوٹل ریسٹورینٹس اور کھوکھے قائم ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مارگلہ ہلز پروٹیکٹڈ ایریا ہے، وہاں ہر قسم کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے،جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ ابھی کتنی غیر قانونی تعمیرات مارگلہ ہلز میں قائم ہیں، وکیل میونسپل کارپوریش نے بتایا کہ مارگلہ ہلز پر 80 سے 132 تعمیرات باقی ہیں جب کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اسلام آباد کلب بھی آجاتا ہے، جسٹس نعیم نے کہا کہ 1960 کے ماسٹرپلان میں سپریم کورٹ بھی مارگلہ نیشنل پارک کی حدود میں تعمیر ہوا، سی ڈی اے پہلے مونال کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کو دیکھ لے

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف مونال کےلیے تھا؟ عدالت نےمارگلہ ہلز میں تعمیرات سے متعلق اصول طے کردیا ہے، سی ڈی اے اپنا کام کیوں نہیں کرتا؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سی ڈی اے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کر رہا ہے؟ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ مارگلہ ہلز میں ابھی 50 سے زاہد کھوکھے چل رہے ہیں جو مارگلہ ہلز میں ماحولیاتی مسائل کا سبب بن رہے ہیں، عدالتی احکامات میں کھوکھوں کو گرانے سے روک دیا گیا تھا۔ آئینی بینچ نے سی ڈی اے سے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات پر رپورٹ طلب کرلی۔

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ: مارگلہ ہلز نیشنل غیر قانونی تعمیرات کیس میں دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے،وکیل میونسپل کارپوریشن نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اسلام آباد کلب بھی آجاتا ہے ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بات مارگلہ ہلز کی ہوتی ہے آپ سپریم کورٹ اسلام آباد کلب چلے جاتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،ناران جاکر دیکھیں وہاں کیا حال ہے،

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں کمرشل سرگرمیوں کو روکنے کا تاریخی فیصلہ

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

  • 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے خط26 آئینی ترمیم درخواستوں پر سماعت کیلئے تحریر کیا اور کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیں۔چیف جسٹس چیف جسٹس آفریدی رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کیلئے لگانے کا حکم دیں،خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے، اس کے فیصلے میں کسی واضح معیار اور طریقہ کار کا فقدان ہے۔ ججز کی تقرری کا عمل صرف "ایگزیکٹو کی ووٹنگ طاقت” کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جو کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کمیشن کو دی گئی ہے۔ ا ان تقرریوں کا کوئی معقول جواز نہیں ہے اور کمیشن کی میٹنگز کے منٹس عوام کے سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید کہا کہ کمیشن کا اصل مقصد آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری ہے، جو کہ عوامی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ تاہم، ان تقرریوں کے متعلق میٹنگز کے منٹس کو عوام کے ساتھ شیئر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے معلومات تک رسائی کی آزادی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے فیصلوں کے بارے میں معلومات کا شائع نہ کرنا عوام میں مشکوک اندازوں کو جنم دیتا ہے اور عدلیہ کی اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کا یقین نہیں ہوتا۔ شفاف طریقے سے تقرریوں کی اطلاعات دینا عدلیہ کی ساکھ کو بہتر بنانے اور ججز کو اپنے فیصلوں میں آزادی اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جو کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو اجلاس طلب کیا جائے تاکہ 26ویں آئینی ترمیم پر زیر التوا درخواستوں کی سماعت کی جا سکے۔ انہوں نے مزید درخواست کی کہ پاکستان کے نئے عدالتی کمیشن کا اجلاس اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک وہ درخواستیں فل کورٹ کے سامنے نہیں آ جاتیں، اور کمیشن اپنے طریقہ کار کے اصول آئین کے آرٹیکل 175 اے (4) کے تحت وضع نہیں کرتا۔عدالتی کمیشن کے فیصلوں کی شفافیت اور معلومات تک رسائی کا حق ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔”

    خط میں کہا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی تھی،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دو درجن سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں منظور بھی ہو سکتی ہیں اور مسترد بھی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست منظور ہوتی ہیں تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقت ختم ہو جائے گی ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی،

  • عدالت  اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے کر پی آئی اے نجکاری کا کیس نمٹا دیا

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری کیس کی سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنلز بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع کیا تھا، نجکاری کے عمل سے پی آئی اے میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں،پی آئی اے نجکاری کا عمل کمیشن دوبارہ کرنے جا رہا ہے، پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی بھی ختم ہو گئی ہے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ دوبارہ نجکاری کے عمل میں اب شائد ریٹ زیادہ ملے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی آئی اے نجکاری کر کے حکومت کہیں سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجکاری پر اعتماد میں لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب کیطرف سے جسٹس منصور علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ محتسب کیطرف سے جسٹس منصور کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا،وفاقی محتسب نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے،وفاقی محتسب نے اپنی متفرق درخواست بھی واپس لے لی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ کیس تو ایسا لگتا ہے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹسز کیے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کا معاملہ،ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کیس سماعت کے لیے نیا بینچ بنے گا.

    ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کمیشن کے دو ممبران بینچ کا حصہ ہیں وہ کیسے کیس سن سکتے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اعتراض لگا کر واپس کیا تو کیا آپ دوبارہ جوڈیشل کمیشن گئے،جوڈیشل کمیشن ایک نام تجویز کرتا ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی جاتا ہے، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ سماعت کی

    دوسری جانب پاکستان تحریک نے سپریم کورٹ آئینی بنچ میں الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کیخلاف درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کی غرض سے واپس لے لی، ریٹائرڈ ججز کی الیکشن ٹریبونل کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ٹیک اپ کر لیا ہے اسلیے پی ٹی آئی نے فی الحال آئینی بنچ سے درخواست واپس لےلی۔بیرسٹر گوہر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست واپس لے لی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، ہم یہ اعتراضات دور کر کے دوبارہ درخواست دائر کریں گے،

  • آئینی بینچ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سے معذرت

    آئینی بینچ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سے معذرت

    اسلام آباد: آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور ممبر جسٹس جمال مندوخیل نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سننے سے معذرت کرلی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں6 رکنی بنچ نے مختلف مقدمات کی سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنیارٹی بنیادی حق نہیں اس سے ہٹ کر چیف جسٹس تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کمیشن کے دو رکن یہ مقدمہ نہیں سن سکتے،بینچ نے دوسرے بینچ میں کیس لگانے کا حکم دے دیا۔

    آڈیولیکس کمیشن کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا حالیہ امن وامان کی صورتحال کے باعث معاملہ کابینہ میں پیش نہیں ہوسکا، اب آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بینچ نے جیلوں میں قیدیوں کو یکساں سہولیات کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

    سپریم کورٹ نے بجلی کمپنی کے ساتھ حکومتی معاہدوں کیخلاف درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کردیئے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا ہم معاہدوں کو ختم کر سکتے ہیں؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ عوامی مفاد کا مقدمہ ہے ہم مداخلت کرسکتے ہیں، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے اسٹون کرشنگ کیس میں رپورٹ جمع کرائی، عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی رپورٹ وکلا کو فراہمی کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

  • سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک نمٹائے گئے مقدمات کی رپورٹ جاری کر دی۔

    اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں چار ہزار 372 مقدمات نمٹا دیئے، ایک ماہ کے دوران 1853 نئے مقدمات دائر ہوئے۔سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس اور ساتھی ججز نے انتھک کوشش کی جس سے زیر التوا مقدمات نمٹانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل ریفارمز چیف جسٹس کے ایجنڈے میں ترجیح پر ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیس پینڈنگ پر ہیں جن کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے.

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

  • سپریم کورٹ میں  موسم سرما  کی تعطیلات کا شیڈول جاری

    سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری

    اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان میں سردیوں کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا گیا،چیف جسٹس یحیی آفریدی کی منظوری سے رجسٹرار آفس نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی:نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں 18 سے 31 دسمبر تک موسمِ سرما کی تعطیلات ہوں گی،موسمِ سرما کی تعطیلات کے دوران سپریم کورٹ میں دفاتر کھلے رہیں گے، اہم نوعیت کے مقدمات کمیٹی کی منظوری سے دستیاب بینچز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیے جاسکیں گے۔