Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • قومی اسمبلی اجلاس: سپریم کورٹ کے حکم پر ہورہا ہے:پرویز اشرف

    قومی اسمبلی اجلاس: سپریم کورٹ کے حکم پر ہورہا ہے:پرویز اشرف

    سابق وزیر اعظم صدر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے قومی اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہا ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے سات بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم نے وفاقی وزراء اور اسپیکر کے ساتھ پوری رات مذاکرات کیے، اسپیکر نے آج ووٹنگ کروانے کا وعدہ کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو توہین عدالت سے بچانا چاہتے ہیں، افطار کے بعد ووٹنگ کرانے کا وعدہ کیا گیا، حکومت اکثریت کھو چکی ہے، سپریم کورٹ کی توہین نہ کریں۔

    خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ اس ملک کو ملک رہنے دیں جنگل نہ بنائیں، ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں، کسی سازش کا حصہ نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نہیں آئے جب کہ اپوزیشن کے بینچز بھرے نظر آئے

    ادھر آج خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرآمد ہونا ہی ہونا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرآمد ہونا ہی ہونا ہے، رات بارہ بجے تک وقت ہے، ہم انتظار کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وقت ختم ہونے کے بعد عدالت سے رجوع کریں گے۔

  • سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں،اسد عمر

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے حوالہ سے قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری ہے

    وفاقی وزیر اسد عمر نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بلاول بھٹو کی باتوں کا جواب دوں گا،3سال میں روزگار کے 55لاکھ مواقع پیدا کیے گئے،بہت عرصے سے عمران خان کی حکومت گرا نے کی پلاننگ کی جارہی تھی 7مارچ کو مراسلہ بھیجا گیا اور 8مارچ سے ان کی کامیابیاں شروع ہوگئیں،بتایا جائے یہ کون سی جمہوریت ہے جس کا نمونہ آج ہمیں مل رہا ہے ایک منحرف رکن نے کہا کہ 23کروڑ روپے میں زندگی بہت اچھی گزرے گی، سینیٹ کا الیکشن سب کے سامنے ہے، چوری کیا گیا،یوسف رضا گیلانی کیلئے ووٹ خریدے گئے، ویڈیو موجود ہے، ابھی بلاول بندوں کے لاپتہ ہونے کا کہہ رہے تھے،پتہ نہیں کس سے گلہ کر رہے تھے ہمارے پاس تو بندوقیں ہیں نہیں،ضمیر فروشی کا دروازہ بند کرنے کیلئے بھی تو اپوزیشن آگے بڑھے،یہ خود آگے بڑھیں تاکہ کوئی بندوق والا آگے نہ آسکے، کیا یہ سب پاکستان کے آئین کے مطابق ہو رہا ہے ،اس وقت فرق سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ دو نظریوں کا ہے،ایک نظریئے کے تحت پاکستان کے 22 کروڑ عوام بھکاری ہیں، دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ پاکستانی دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں،پاکستان اس وقت اسی دوراہے پر کھڑا ہوا ہے،ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو کس سمت لے کر جانا ہے،تقریروں سے نہیں،عوام کے ووٹوں سے حل نکلے گا،سنا ہے بلوچستان حکومت ساڑھے تین ارب روپے میں تبدیل ہوئی ،میرے پاس 10 ،15 ارب روپیہ ہوتا تو کچھ اچھا کام کر رہا ہوتا،

    اسد عمر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے کہا کہ پوری پارلیمان کو اپنے اختیار کیلئے اکٹھا ہونا ہوگا، اگر سپریم کورٹ نے ہی سب طے کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیں ،پارلیمان سے اپنے حق اور اختیار کیلئے یکجا آواز بلند ہونی چاہیے،پارلیمان سُپریم فورم ہے اور اِس فورم سے متعلق ماضی کے فیصلوں کو ”جوڈیشل مرڈر“ کا نام دیا گیا – کیا ہم کَل کو سُپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کر سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ کس وقت کُھلے گی ٫ کونسا کیس لگے اور کس طرح کا فیصلہ آئے گا ؟ اگر ہم یہ نہیں کرسکتے تو آپ بھی نہ کریں ، اگر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اجلاس کس دن ہوگا کارروائی کیا ہوگی تو اس پارلیمنٹ کو بند کر دیں

    اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ مراسلے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی ابھی بھی وقت ہے ان کیمرا اجلاس بلائیں اور تفصیلی بریفنگ لیں،

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عمران خان اب کس منہ سے یہ کام کرے گا؟ ریحام خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو

    قومی اسمبلی ، اپوزیشن اتحاد کے کتنے اراکین اجلاس میں موجود؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ق لیگ دھوکہ دے گئی

    آخری بال تک کھیلنے والا بنی گالہ کے کمرے میں چھپ گیا ہے،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    بریکنگ،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟

    قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع،اسد قیصر صدارت نہیں کر رہے

    قومی اسمبلی میں آخری گیند عمران خان کی منتظر

    عمران پہلے بھی سیلیکٹڈ فیض یاب ہوا تھا اب ایک مرتبہ پھر فیض یاب ہونا چاہتا ہے بلاول

    بلاول کو عورت مرد کی پہچان ہونی چاہئے، شیریں مزاری

  • سپریم کورٹ کے از نوٹس کیس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے از نوٹس کیس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے از نوٹس کیس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے سپریم کورٹ کے از نوٹس کیس کے لارجر بینچ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے،

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کے 7 اپریل 2022 کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے اسد عمر نے یہ درخواست بابراعوان اور محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا 7 اپریل کا حکم واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قومی اسمبلی کو آرٹیکل 69 کے تحت ٹائم ٹیبل نہیں دے سکتی

    گزشتہ شب وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی تا ہم عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہوں، آج عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پریشان ہیں، ایک کے بعد ایک کوشش کرسی بچانے کی کر رہے ہیں مگر اب انہیں ہر طرف مایوسی دکھائی دے رہی ہے، تمام تر کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کا پلڑا ہر آئے روز بھاری پڑ رہا ہے، اپوزیشن اراکین کی تعداد بڑھ چکی ہے، عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے، حکومتی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، تحریک انصاف کے کئی اراکین منحرف ہو چکے ہیں،یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ممکنہ طور پر استعفیٰ دے دیں تا ہم اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان استعفے دینے والے نہیں انہیں کل خود گھر بھیجنا پڑے گا

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسد قیصر کا اہم شخصیت سے رابطہ

    اجلاس ملتوی ہونے کے بعد فواد چودھری کی سعد رفیق کے ساتھ گپ شپ

    عدم اعتماد پر ووٹنگ، منحرف اراکین سے ووٹ دلوانے ہیں یا نہیں؟ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ

    عمران خان اب کس منہ سے یہ کام کرے گا؟ ریحام خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو

    قومی اسمبلی ، اپوزیشن اتحاد کے کتنے اراکین اجلاس میں موجود؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ق لیگ دھوکہ دے گئی

    آخری بال تک کھیلنے والا بنی گالہ کے کمرے میں چھپ گیا ہے،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    بریکنگ،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی؟

    قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع،اسد قیصر صدارت نہیں کر رہے

    قومی اسمبلی میں آخری گیند عمران خان کی منتظر

    https://login.baaghitv.com/imran-khan-ab-aikbaar-phir-faizyaab-hona-chahat-hay-bialwlal/

  • پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے، لطیف کھوسہ

    پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے، لطیف کھوسہ

    پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے، لطیف کھوسہ
    پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری ہے،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں آصف زرداری نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا،آصف زرداری کی سیاسی بصیرت ہے کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو جمع کیا،ق لیگی رہنما آصف زرداری کے ساتھ تھے انہیں مبارکباد دے رہے تھے،ق لیگی رہنما وں کی سیاسی بصیرت ایک دم سے دھڑام ہوگئی،سپریم کورٹ نے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کی،سپریم کورٹ نے صدر اور اسپیکرکی رولنگ کو غیر آئینی قراردے دیا بلاول بھٹو بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دئیے،عمران خان نے جو کوشش کی وہ ناکام ہوگئی سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کی بالادستی پر مہروثبت ہے،

    سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نےوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ،آئین کی بالا دستی کے لیے نظریہ ضرورت کو دفن کرنا ضروری تھا عدالت کا فیصلہ سب کے لیے پیغام ہے کہ آئین سے بالاتر کوئی بھی نہیں، اسپیکر کی رولنگ اور اسمبلی تحلیل کرنے کا عمل غیر آئینی تھا،شکست سے بچنے کے لیے آئین کی ایک نہیں 3 بار خلاف ورزی کی گئی،تحریک انصاف آئین کی اہمیت سے واقف ہی نہیں،

    پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی اور خوش آئند ہے ، اب کوئی آئین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جر ات بھی نہیں کر سکتا،کل حکومت کا گھر جانے کا آخری روز ہے، وقت ہے ،مستعفی ہوکر خود ہی گھر چلے جائیں،

    پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی تھا سپریم کورٹ نے آئین کی سربلندی کا فیصلہ سنایا ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد غیر یقینی صورتحال میں بہتری آئی،معاشی پالیسی میں استحکام سے معیشت میں بہتری آئے گی،اسٹاک ایکسچینج میں بھی بہت بہتری آئی ہے،سرمایہ کار پھر ملک میں پیسہ لگانے کے لیے تیار ہورہے ہیں عمران خان کا کل تک جانے کا موڈ نہیں لگ رہا کل اسمبلی کے اجلاس کے بعد عمران خان کو گھر بھیجیں گے،

    ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ امید ہے عمران نیازی کھلے دل سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کریں گے امید ہے عمران خان بحیثیت قائد حزب اختلاف اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، توقع ہے حکومت اور اپوزیشن ملکر معیشت کی بحالی کے لیے کام کریں گے

    دوسری جانب ن لیگی منحرف ایم پی اے جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ فیصلے پر ایک گروپ خوشیاں منا رہا ہے اور ایک غوروفکر کررہا ہے،اگر فیصلہ نئے انتخابات کا آتا تو زیادہ احسن تھا شہباز شریف اور زرداری کا ایک دم قریب ہونا باہر سے کسی بڑے کی ہدایت ہے،بچوں کی طرح فضل الرحمان کے دائیں بائیں بیٹھ گئے ہماری دعائیں عمران خان کے ساتھ ہیں ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے اب بھی ہیں اور کھڑے رہیں گے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز از خود نوٹس کا فیصلہ سنا دیا ہے، اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی،فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی .

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

    https://login.baaghitv.com/noon-league-nay-parvez-elahi-kkhilaf-bara-qadam-utha-liaiaa/

  • نوازشریف کا سپریم کورٹ کےفیصلے پراثراندازہونےاورسپریم کورٹ کوپابند کرنےکامنصوبہ

    نوازشریف کا سپریم کورٹ کےفیصلے پراثراندازہونےاورسپریم کورٹ کوپابند کرنےکامنصوبہ

    اسلام آباد:نوازشریف کا سپریم کورٹ کےفیصلے پراثراندازہونےاورسپریم کورٹ کوپابند کرنے کا منصوبہ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو اب صرف کالعدم قرار دینا ہی کافی نہیں ہو گا، آئین اور قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کی فوری بحالی ہو ۔

    ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین اور قانون کےخلاف تھی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین اور قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کی فوری بحالی ہو تاکہ پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں اور فیصلے آئین اور قانون کے مطابق جاری رکھ سکے۔

     

    دوسری طرف شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آرٹیکل 69 کے تحت اسپیکر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، ڈپٹی اسپیکر نے کوئی آئین شکنی نہیں کی۔

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں رہنے چاہئیں، آئین سے ماورا قدام اٹھانا تحریک انصاف کی پالیسی نہیں۔

    ادھر تحریک انصاف کے رہنما و سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں، اپوزیشن نے اقتدار تبدیل کر کے نیب، ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم کرنا تھا، یہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوئے، عمران خان آئندہ الیکشن میں دو تہائی اکثریت سے جیتیں گے۔

  • قران اٹھا کر کہتا ہوں کہ عمران خان اگر کوئی ثبوت لائے تومیں سیاست چھوڑ دونگا،

    قران اٹھا کر کہتا ہوں کہ عمران خان اگر کوئی ثبوت لائے تومیں سیاست چھوڑ دونگا،

    بطوراپوزیشن لیڈر پہلے دن سے الیکشن کی ڈیمانڈ کرتے رہے اب کیوں نہیں کررہے،

    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پر سماعت سپری،م کورٹ کے 5رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ا ز خود نوٹس پرسماعت کی

    دوران سماعت عدالت نے شہباز شریف کو روسٹرم پر بلالیا ،شہباز شریف نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں قانونی معاملات پر میرے وکیل بات کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی موجود ہے،ان تجاویز بھی لے لیں موجودہ مینڈیٹ 2018 کی اسمبلی کا ہے، آج اگر کوئی حکومت بنائے گا تو کتنی مستحکم ہو گی ،شہباز شریف نے کہا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، پارلیمنٹ خود مختار ہے،اسپیکرکے رولنگ پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آئینی ہے یا غیر آئینی ،ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں ،ججز پر ہمیں فخر ہے،وقفے سے پہلے جو ریمارکس دیئے اس پر کہوں گا کہ پارلیمنٹ کو بحال کریں،رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی  اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی، جوغلطیاں ہوئیں انکی توثیق اور سزا نہ دیئے جانے کی وجہ سے یہ حال ہوا، اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کریں،پارلیمنٹ میں عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے،ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا، ہمارا اتحاد ملک کے بہترین جماعتوں پر مشتمل ہے ہم ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،میثاق معیشت کی بات میں نے کی تھی ہمارے پاس ایک ایجنڈا ہے ، یقین کریں ہم آگے بڑھیں گے،اس حکومت کے ایک اتحادی نے اپوزیشن کیمپ کوجوائن کیا،ہمارے پاس 177 ووٹ ہیں ہم اپنے آئین کی حفاظت کرینگے اورقوم کی خدمت کریں گے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ نے 2018 میں کتنی سیٹیں لی تھیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے 2018 میں 115 سیٹیں حاصل کی تھیں بطور اپوزیشن لیڈر چارٹر آف اکنامکس کی پیش کش کی،2018میں ڈالر 125 روپے کا تھا،آج 190 تک پہنچ چکا ہے،پارلیمنٹ ارکان کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے، پی ٹی آئی نے بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی،اپنی پہلی تقریر میں چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، عوام بھوکی ہو تو ملک کو قائد کا پاکستان کیسے کہیں گے، مطمئن ضمیر کیساتھ قبر میں جاوں گا،سیاسی الزام تراشی نہیں کروں گا، آج بھی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر دستخط کریں،

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی،شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئین توڑنے کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کی مرمت ہم کر دینگے،ہم 184/3 کےتحت درخواستوں پر سماعت کررہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کا موقف سنا ،سوال یہ ہے کہ آپ آگے کیسے چلیں گے ،آپ کی حکومت پہلے پانچ سال حکومت کامیابی سے چلا چکی ہے، بطور اپوزیشن لیڈر پہلے دن سے الیکشن کی ڈیمانڈ کرتے رہے اب کیوں نہیں کررہے ، شہباز شریف نے کہا کہ اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کرینگے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے ،عام آدمی تباہ ہوگیا اس کیلئے ریلیف پیدا کرنے کی کوشش کرینگے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب چاہتے ہیں اراکین اسمبلی کے نہیں عوام کے منتخب وزیراعظم بنیں،جنہوں نے عمران خان کو پلٹا ہے وہ شہباز شریف کو بخشیں گے؟ اپوزیشن کا الیکشن کا مطالبہ پورا ہو رہا ہے تو ہونے دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عد م عتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو الیکشن میں جانے کے لیے آپ کو کتنا عرصہ لگے گا؟ عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا دورانیہ رہے گا؟ شہباز شریف نے کہا کہ ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے،ن لیگ کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل شروع ہو گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بخشنے اور نہ بخشنے کا بیان عدالت میں دیا یہ ایک سیاسی بیان ہے

    شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ 199ارکین قومی اسمبلی پر غداری کے الزمات لگائے گئے،میں قران اٹھا کر کہتا ہوں کہ عمران خان اگر کوئی ثبوت لائے تو میں سیاست چھوڑ دونگا جو سزا عدالت دے گی قبول ہوگی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے ریمارکس غداری سے متعلق نہیں تھے وکلا نے وزیر اعظم ،صدر اور دیگر کے بارے میں بات کی اس پر ریمارکس دیئے،سیاسی جماعتوں کا آپس میں تعلق اتنا خراب ہے کہ پتہ نہیں ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، میاں صاحب وہ آپ سے ناراض رہتے ہیں ہاتھ نہیں ملاتے،،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میاں صاحب چھوڑ دیں آپ میں سے کسی کو کچھ نہیں کہا گیا، شہباز شریف نے کہا کہ سازش کے ثبوت لے آئیں عدالت کی ہر سزا قبول کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دونگا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    https://login.baaghitv.com/remarks-qanonpunjab-ka-muamla-highcourt-ly-kr-jayen/

  • چلو کم از کم اب ھم غدار نہیں رہے.شکریہ سپریم کورٹ الحمد للہ

    چلو کم از کم اب ھم غدار نہیں رہے.شکریہ سپریم کورٹ الحمد للہ

    چلو کم از کم اب ھم غدار نہیں رہے.شکریہ سپریم کورٹ الحمد للہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے بعد از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہ ایک بات نظر آرہی ہے کہ رولنگ غلط ہے،آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں فیصلے ہاوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے، اب یہ بتائیں اگلا قدم کیا ہو گا،قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے ، آج فیصلہ سنائیں گے،اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد اور عملی ممکنات کو دیکھ کر ہی آگے چلیں گے۔

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ غلط ھے.چلو کم از کم اب ھم غدار نہیں رہے.شکریہ سپریم کورٹ الحمد للہ

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس پر آج فیصلہ سنا سکتی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل عدالت کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، ایف سی اور پولیس کی سیکیورٹی نے عدالت کے اندر اور باہر اطراف کی سڑکوں پر غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی ۔آئی جی اسلام آباد بھی خود عدالت پہنچ گئے

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

  • اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباو  بڑھانےکیلیے100 سےزائدخط لکھوا دیے

    اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباو بڑھانےکیلیے100 سےزائدخط لکھوا دیے

    اسلام آباد :اپوزیشن کی نئی چال:سپریم کورٹ پردباوبڑھانےکیلیے100 سےزائد شخصیات سےخط لکھوا دیے ،اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ کر ’نظریہ ضرورت‘ دفن کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    پاکستان کی 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے نام کھلا خط لکھ کر ‘نظریہ ضرورت’ دفن کرنے کا مطالبہ کردیا ۔

    100 سے زائد ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان کے نام کھلے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری کے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی قانونی حیثیت کے معاملےمیں آئین اورقانون پر سمجھوتہ نہ کیاجائے ۔

    خط کے مصنفین نےگزشتہ حکومت کے مجوزہ فیصلوں کو قوم کی فلاح وبہبود اور یگانگت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیصلوں کے غیرقانونی پائے جانے کی صورت میں ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔

    خط میں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سابقہ حکومت کے خلاف بیرونی سازش کے الزامات کے بارے میں ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

    اس کے عللاوہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیرثابت شدہ الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمانی عمل کو معطل اور اراکین پارلیمنٹ کے حق رائے شماری کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    خط میں مزید کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ آج آئین کے تقدس کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ہماری قومی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کرےگا اور ہماری آئندہ نسل کی عزت و آبروہ اور خوشحالی کا دارومدار صرف آئین کی بالادستی اور ایسی سیاست کے فروغ میں ہے جس میں باہمی احترام اور شائستگی کے اجزا شامل ہوں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی تاہم ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک کو آئین کے خلاف قرار دے کر مسترد کردیا۔

    قرارداد مسترد ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے خطاب میں صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کرنے کا کہا جس کے بعد صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔

    ادھر ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خط لکھوائے گئے ہیں اور ان خطوط کے پیچھے اپوزیشن کی جماعتیں ہیں جو سپریم کورٹ پردباو بڑھا کرڈپٹی اسپیکر کی ولنگ کو ختم کرانا چاہتی ہیں

  • جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ سماعت کررہا ہے ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں جوکچھ ہورہا ہے وہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی کڑی ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیان حلفی دے دیں کہ وزیر اعلیٰ کے انتخابات کب ہوں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اس پر بات کرنے کا موقع آئے گا تو سن لیں گے،گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل نے کہا تھا آئین کے مطابق الیکشن ہونگے،

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے دلائل دیئے گئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آج اجلاس ہونے کی یقین دہانی کرائی،پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم نوعیت کا کیس زیر سماعت ہے،3اپریل کو قومی اسمبلی میں جو ہوا اس پر سماعت پہلے ختم کرنا چاہتے ہیں، عدالت کے بارے میں منفی تبصرے کیے جا رہے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ عدالت معاملے میں تاخیر کر رہی ہے، پنجاب اسمبلی کا معاملہ آخر میں دیکھ لیں گے، آج اس کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کوشش ہے کہ مقدمہ کو نمٹایا جائے سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں،یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟

    بابر اعوان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی ، پشتون تحفظ موومنٹ ، راہ حق پارٹی نے درخواست دائر نہیں کی،یہ وہ جماعتیں ہیں جن کی کہیں نہ کہیں پارلیمان میں نمائندگی ہے۔تمام سیاسی جماعتیں عدالت کے سامنے فریق ہیں،ایم کیو ایم ، تحریک لبیک ،بی اے پی ، پی ٹی ایم اور جماعت اسلامی عدالت کے سامنے فریق نہیں،راہ حق پارٹی کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے لیکن وہ عدالت کے سامنے فریق نہیں،شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ازخود نوٹس لیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے،ہمارے سامنے آرٹیکل 95 کا بھی ایک مقصد ہے،بابر اعوان نے کہا کہ یہ بھی کہا گیا کہ آرٹیکل 5 کے ذریعے کسی کو غدار کہا گیا ہے، درخواست گزاروں نے عدالت سے آرٹیکل 95 اور 69 کی تشریح کی استدعا کی،آرٹیکل 63 اے پر کسی نے لفظ بھی نہیں کہا ان کا دعوی ٰہے کہ پارلیمانی جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،ن لیگی صدر نے پریس کانفرنس کے ذریعے کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا،درخواست گزار چاہتے ہیں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے، اپوزیشن چاہتی ہے عدالت انکے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے،سیاسی جماعت جس کی مرکز،صوبے،کشمیر گلگت میں حکومت ہیں کہتے ہیں اسکو نظرانداز کردیں،درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے وہ جمہوریت کو بچانے آئے ہیں کیا آئین کا موازنہ بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے آئین سے کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیس سیاسی انصاف کی ایڈمنسٹریشن کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیںاس کا بیک گراونڈ کیا ہے، اس پر بات کریں،اسپیکر کے اقدامات کا دفاع ضرور کریں، اس پرآپ کو خوش آمدید کہتے ہیں کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ ایجنڈے سے ہٹ کرممبران سے مشاورت کے بغیر ولنگ دے سکتا ہے؟ کیا اسپیکر آئینی طریقہ کارسے ہٹ کے فیصلہ دے سکتا ہے؟کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس ایسا مواد تھا جو انہوں نے ایسی رولنگ دی؟ ہمیں راستے نہ بتائیں ہم راستے ڈھونڈ لیں گے،اسپیکر نے کونسی بنیاد پر ایکشن لیا

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے ان کیمرا بریفنگ کی استدعا کر دی،کہا بریف لایا ہوں اگراس پران کیمرا بریفنگ ہوسکتی ہے،کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کیس میں لاگو نہیں ہوتا، کیا سندھ ہاوس اور لاہور ہوٹل میں جو کچھ ہوا اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ اراکین اسمبلی کے کردار پر قرآن و سنت اور مفتی تقی عثمانی کا نوٹ بھی دوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی حقائق پر جا سکے،ایسا کوئی مٹیریل موجود ہے؟ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کب ہوئی؟ آئینی طریقہ ہے جس کو سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ عدالتیں قانون کے مطابق چلتی ہیں، کیس میں ایک الزام لگایا گیا ہے ہم متنازعہ حقائق پر نہیں جانا چاہتے ،ڈپٹی اسپیکر نے ایک اقدام کیا ہے، بنیادی چیز حقائق پر آئیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، بابر اعوان نے کہا کہ میٹنگ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن، ڈیفنس اتاشی سمیت 3 ڈپلومیٹس شامل تھے، ڈی سائفر کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس میں چار چیزیں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ معلومات کوڈز میں آئی ہیں یا سربمہر لفافے میں؟ آپ نے ڈی سائفر کا لفظ استعمال کیا، بابر اعوان نے کہا کہ میں اس کو یوں کر لیتا ہوں کہ ہمارا فارن آفس اس پر نظر ڈالتا ہے،ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے جس میں فارن سیکریٹری دستیاب نہیں ہوتے سیکریٹ ایکٹ کے تحت کچھ باتیں کرنا نہیں چاہتا، خفیہ پیغام پر بریفنگ دی گئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ خفیہ پیغام پر بریفنگ کابینہ کو دی یا دفترخارجہ کو دی؟ عدالت نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے کہ ان کیمرا سماعت کریں، آپ سے صرف واقعات کا تسلسل جاننا چاہ رہے ہیں، بابراعوان نے کہا کہ فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے، تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے اگر کامیاب ہو گئی تو پھر سب ٹھیک ہے، ‏بابر اعوان نے ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی عدالت میں پیش کر دی اور کہا کہ ترجمان پاک فوج نے کہا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کے اعلامیہ سے متفق ہیں، ‏چیف جسٹس نے بابراعوان کے دلائل کو کہانیاں قراردے دیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہونا لازمی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو وفادار نہیں اس کیخلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے، جو لوگ غیر ملک سے ملکر تحریک عدم اعتماد لائے انکے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر کسی سیاسی جماعت کے وکیل کو دلائل نہیں دینے چاہیے خط کا معاملہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے اس کو کوئی سیاسی پارٹی ڈسکس نہیں کرسکتی ، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فارن پالیسی کے معاملات پر مداخلت نہیں کرسکتے، بابر اعوان نے کہا کہ سائپر سے نوٹس بنا کر فارن منسٹری کابینہ میٹنگ کو بریف کرتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے، بات پولیٹیکل پارٹی کی جانب سے نہ آئے ،جوکچھ ہے وہ رولنگ سے پڑھ دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت زیادہ تفصیلات نہیں دے سکتا،فارن آفس نے مراسلہ دیکھ کر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کیساتھ میٹنگ کی کابینہ کی میٹنگ میں متعلقہ ڈی جی نے مراسلے پر بریفنگ دی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی تھی؟ بابر اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاوں گا،کیا کچھ باتیں ان کیمرا ہو سکتی ہیں؟ فارن آفس نے جو بریفنگ دی وہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال خط نہیں مانگ رہے،کیا اسپیکرنے کوئی میٹنگ کی تھی، اس کے منٹس پیش کریں تب بات بنے گی، یہ عدالت قانون کے مطابق عمل کرے گی، بظاہر ہمارے سامنے یہ کیس الزمات اور مفروضوں پر مبنی ہے آیا وہ الزمات اور مفروضے قابل جواز ہیں یا نہیں ،ہم متضاد الزمات پر نہیں جاتے اسپیکر کے پاس کیا مواد تھا جس پر ایکشن لیا گیا؟ بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دوسرا ملک ہمارے وزیراعظم سے خوش نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ خارجہ پالیسی پر بات کسی سیاسی جماعت کا وکیل نہ کرے،جتنا رولنگ میں لکھا ہوا ہے اتنا ہی پڑھا جائے تو مناسب ہوگا،بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا نتائج ہونگے

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ باتیں اسپیکر کے وکیل کو کرنے دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کابینہ نے کیا فیصلہ کیا یہ بتائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں یہ سماعت جلد مکمل کرنی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمیں پارلیمانی جمہوریت کا بتانا تھا،ہم نے اس معاملے کو ختم کرنا ہے ،بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم اور ہم نے غداری والے معاملے پر احتیاط سے کام لیا تھا،پاکستان صدیوں رہے گا ،ہم آتے جاتے رہیں گے عدالت نے 3اپریل کے حکمنامہ میں امن و امان کے خدشے کا اظہار کیا تھا،دوسری اہم چیز عدالتی حکم میں غیرآئینی اقدامات سے روکنا تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم میں زیادہ اہم چیز ڈپٹی ا سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی ہم ا سپیکر کی رولنگ اور آرٹیکل 69 پر بات کرنا چاہتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ واقعاتی شواہد دے رہے ہیں کہ یہ ہوا تو یہ ہوگا، ان تمام واقعات کو انفرادی شخصیات سے کیسے لنک کرینگے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر عمران خان کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو مطلب ہوا کہ انہیں معلوم نہیں کون ملوث ہے،بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے،وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لیے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے،میمو کیس ابھی بھی زیر التواہے،حقائق متنازعہ ہوں تو اسکی تحقیقات ضروری ہیں برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کوئی باہر سے آ کر پارلیمان اجلاس ملتوی نہیں کر سکتا، برطانوی عدالت نے کہا پارلیمان اپنے ہاوس کی خود ماسٹر ہوتی ہے، کوئی بھی قانون شریعت کیخلاف نہیں بنایا جا سکتا،قومی مفاد سب سے بے چارہ لفظ ہے جو پاکستان میں بہت استعمال ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کا لفظ اسپیکر کے حلف میں کہاں استعمال ہوا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ رولز کے مطابق ا سپیکر ووٹنگ کے علاوہ بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تحریک ایوان میں پیش کر دی جائے تو پھر فیصلہ کیے بغیر خارج نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق رولز بذات خود کہتے ہیں کہ تحریک کو ووٹنگ کے بغیر مسترد کیا جاسکتا ہے آپ نے کام کی اور بہترین بات کی ہے،بابر اعوان نے کہا کہ میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رکیں مجھے یہ پوائنٹ لکھنے دیں،

    بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 94 کے تحت صدر وزیراعظم کو نئی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں، کہاں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لی جا سکتی؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ نہیں دے سکتا؟ اگر کہیں لکھا نہیں ہوا تو اسے عدالت پڑھ بھی نہیں سکتی، تحریک عدم اعتماد نمٹانے تک اجلاس موخر نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کو ووٹنگ کے علاوہ بھی نمٹایا جا سکتا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ پارلیمانی رولز کو ملا کر اور آرٹیکل 95 کیساتھ ملا کر ہی پڑھا جا سکتا ہے علیحدگی میں نہیں ،فیصلہ عدالت کی اس سائیڈ ہونا ہے یا اس سائیڈ ہونا ہے وہ سائیڈ جیت جائے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا، بابر اعوان نے کہا کہ جی بلکل اس ساری صورتحال میں ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا،جو کچھ بھی ہوگا اس میں عوام متاثر ہونگے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس لئے آپ کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے حلف میں لکھا ہے کہ جب انہیں سپیکر کا کام کرنے پڑے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، بابر اعوان نے کہا کہ ایک وکیل نے کہا اب چھانگا مانگا نہیں رہا، اب سندھ ہاؤس اور آواری چلے گئے ہیں، جس ادارے کے اندر ہارس ٹریڈنگ کی مشق ہو رہی وہ اصول اور ضابطے بتاتا ہے ذوالفقار علی بھٹوکو آئین دینے کے بعد سولی پر لٹکایا گیا صدارتی ریفرنس اس عدالت میں زیر التوا ہے، بابر اعوان کے دلائل مکمل ہو گئے، بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی چیئرمین نے بھی کہا ہے کہ وہ الیکشن کے لیے تیار ہیں الیکشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا،بھارت اور بنگلہ دیش نے ای وی ایم کا راستہ نکالا مگر ہم نہیں مانتے، اگر یہاں سے راستہ بننا ہے تو میں سعادت سمجھتا ہوں کہ اس تاریخ کا حصہ بنوں

    صدر کے وکیل علی ظفر کے دلائل شروع ہو گئے،صدر مملکت نے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، وہ فیصلہ کرینگے جو عوام کے مفاد اور سب پر ماننا لازم ہوگا، بابر اعوان نے کہا کہ قرآن کریم میں واضح ہے کہ حق سے پھرنے والا تباہ ہو جاتا ہے ،حدیث ہے کہ تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ طاقتور کیلئے قانون اور تھا اور کمزور کیلئے اور، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے، آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے جسے عدالت پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی اس کیس میں اسپیکر کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے،اگر عدالت میں ایک کیس چل رہا ہے تو پارلیمنٹ اس پر تبصرہ نہیں کرتی، عدالت بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف عدالت سے رجوع کرنا پارلیمنٹ میں مداخلت ہے، اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہو سکتی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیا غیرآئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا،ایوان ا سپیکر سے مطمئن نہ ہو تو عدم اعتماد کر سکتا ہے،اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لیا تو ا سپیکر کا ہر فیصلہ ہی عدالت میں آئے گا،صدر کے اقدام کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اس معاملے کاحل نئے الیکشن ہی ہیں جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی،باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا جو غیرآئینی ہے،اسپیکر ایوان کا ماتحت ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اسپیکر اگر رولنگ دے تو کا ایوان واپس کر سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر اسپیکر ایوان کی بات ماننے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہاوس اسپیکر کو اوور رول کر سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر کا اقدام تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کی میعاد ہٹانے کیلئے تھا ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم رولنگ کو نہیں چھیڑ سکتے ،وزیراعظم نے صدر کو تجویز بھیجی اس کو دیکھ سکتے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کو 18 فیصد افراد کے کہنے پر پیش کر دیا جائے تو بھی عدالت اس کو نہیں دیکھ سکتی،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا جائے تب بھی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کسی بھی پارلیمنٹ کے معاملے کو نہیں دیکھ سکتی،یہ مقدمہ در حقیقت پارلیمان کے استحقاق میں مداخلت ہے،سپریم کورٹ پارلیمان کے بنائے قانون کو پرکھ سکتی ہے لیکن مداخلت نہیں کر سکتی، اگر پارلیمان میں 10 بندوں کو ووٹ نہ ڈالنے دیا جائے انہوں باہر نکال دیا جائے تو اسے بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ نیا اسپیکر آئے اور دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے، کیا اسپیکر پورے پارلیمنٹ کو بھی ختم کر سکتا ہے،علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر ایسا کر سکتے ہیں، چیف جسٹس صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کا دلائل پر مسکراتے رہے،علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رولنگ واپس نہیں ہو سکتی،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے استفسار کیاکہ اسپیکر کی رولنگ کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کو ہاؤس ختم کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپکے مطابق اس کیس میں فورم اسپیکر کو ہٹانا تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلہ دے گی تو پارلیمان کا ہر عمل عدالت میں آجائے گا ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان اگر ایسا فیصلہ دے جس کے اثرات باہر ہوں تو پھر آپ کیا کہتے ہیں ،علی ظفر نے کہا کہ عدالت پارلیمان کے فیصلے کا جائزہ نہیں لے سکتی عدالت پارلیمان کے باہر ہونے والے اثرات کا جائزہ لے سکتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہو سکتی ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین کے تحت ہر شہری اسکا پابند ہے،کیا اسپیکر آئین کے پابند نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے،درخواست گزار کہتے ہیں آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے،

    وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہوا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایوان کے آئینی انتخاب کو بھی استحقاق حاصل ہے،پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ووٹ کم ہوں اور اسپیکر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ پارلیمانی مسائل تو ہو سکتے ہیں لیکن عدالت پارلیمنٹ پر مانیٹر نہیں بن سکتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ سپیکر کی بدنیتی کہاں تھی،اگر اسپیکر وزیر اعظم کو بچانا چاہتا ہے تو اپوزیشن بھی ایسا ہی کرتی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں سیاسی معاملے میں نہیں جاؤں گا عدالت ڈپٹی اسپیکر کی بدنیتی کی بات کر رہی ہے،میں صدر مملکت کا وکیل ہوں ڈپٹی اسپیکر کی بات نہیں کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صدر مملکت کے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ اسپیکر کی رولنگ غلط ہو تو بھی اسے استحقاق ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کرتے ہیں کیا آئین شکنی کو بھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی،جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،ہماری کوشش ہے معاملے کو جلد مکمل کیا جائے،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل تک کے لئے ملتوی ملتوی کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر کل سماعت صبح جلدی کرینگے وزیر اعظم کے وکیل کل30منٹ لیں گے، پٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا کہ اسی پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو منتخب کیا ڈپٹی اسپیکر نے قوانین کی پروا نہیں کی ڈپٹی اسپیکر اجلاس کو ملتوی نہیں کرسکتا تھا ،جو کچھ ہوا وہ سب ایک پری پلان تھا اسپیکر اورصدر نے جو کیا وہ آئین کی خلاف ورزی ہے،

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد شہباز شریف اسلام آباد سپریم کورٹ میں پہنچ گئے سینئر وائس پریزیڈنٹ مسلم لیگ نون لائرز فورم راولپنڈی ڈویژن چودھری غلام جیلانی منہاس ایڈوکیٹ نے دیگر وکلاء کے ساتھ اپنے قائد کا استقبال کیا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر 3 اپریل کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

  • عدالت نے 31 مارچ اور 3 اپریل کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس طلب کرلیے

    عدالت نے 31 مارچ اور 3 اپریل کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس طلب کرلیے

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کرہ تحریک عدم اعتماد کو آئین و قانون کے خلاف قرار دے کر مسترد کرنے کی رولنگ پر سماعت شروع ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 5 رکنی لارجر بینچ اس معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس اور متعدد فریقین کی درخواستوں پر سماعت کررہا ہے۔

    گزشتہ روز ہوئی سماعت میں سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے اس معاملے کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

    سماعت کے آغاز میں درخواست گزاروں میں سے ایک خاتون نے روسٹرم پر آکر کہا کہ امریکا میں تعینات رہنے والے سفیر اسد مجید کو بلایا جائے تو سب سامنے آ جائے گا۔

    چیف جسٹس نے خواتین درخواست گزاروں کو بات کرنے روکتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سنیں گے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے دلائل کے آغاز میں کہا کہ الیکشن کمیشن کا میڈیا میں بیان آیا ہے کہ تین ماہ میں انتخابات ممکن نہیں، کوشش ہے کہ آج دلائل مکمل ہوں اور مختصر فیصلہ آ جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی جلدی فیصلہ چاہتے ہیں لیکن تمام فریقین کا مؤقف سن کر دیں گے۔

    رضا ربانی نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنٰی حاصل ہے، جو کچھ ہوا اس کو سویلین مارشل لا ہی قرار دیا جا سکتا ہے، سسٹم نے ازخود ہی اپنا متبادل تیار کر لیا جو غیرآئینی ہے۔

    رضا ربانی نے کہا کہ سیکریٹریٹ کوموشن جمع ہونے کے باوجود ممبرز کو نوٹس جاری کرنے چاہیے ،جمع کرائی گئی ریکیوزیشن پر14دن میں اجلاسں بلانا تھا جو نہیں بلایا گیا، یہ بدنیتی ہے، 3 اپریل کو ووٹنگ ہونا تھی تو فواد چوہدری اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر خط اور بیرونی سازش لے آئے جبکہ یہ جز اجلاس کے ایجنڈے پر موجود ہی نہیں تھا۔

    رضا ربانی نے کہا کہ 25مارچ سے 3 اپریل تک اجلاس بلا کر جس طرح کارروائی چلائی گئی یہ بدنیتی ہے جو کچھ ہوا اس کو سویلین مارشل لا ہی قرار دیا جا سکتا ہے جو ہائبرڈ سسٹم کے تحت لگایا گیا سسٹم نے ازخود ہی اپنا متبادل تیار کر لیا جو غیرآئینی ہے 28مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر سماعت ملتوی کر دی گئی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی تھی، اسپیکر کی رولنگ ماورائے آئین نہیں ہو سکتی تحریک عدم اعتماد ووٹنگ کے بغیر ختم نہیں کی جاسکتی، آرٹیکل 95 کے تحت ووٹنگ کا عمل ضروری تھا۔

    دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکلز 6 کا حوالہ دیا ہے، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے جاری کردہ نوٹس کے بعد ووٹنگ ضروری ہے، ووٹنگ آئینی کمانڈ ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے تحریری دلائل میں لکھا ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی-

    رضا ربانی نے کہا کہ غلطی سے ٹائپ ہو گیا ہوگا،معذرت خواہ ہوں،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اسمبلی رولز اور آئین کے منافی ہے،تحریک پیش ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا، 28مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر کارروائی ملتوی کر دی گئی،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ پڑھی اور تمام ارکان کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ڈپٹی ا سپیکر نے یہ بھی اعلان نہیں کیا تھا کہ تفصیلی رولنگ جاری کرینگے-

    رضا ربانی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس بنیاد پر رولنگ دی کچھ نہیں بتایا گیا، ڈپٹی ا سپیکر کے سامنے عدالتی حکم تھا نہ ہی سازش کی کوئی انکوائری رپورٹ ،ڈپٹی اسپیکر نے تحریری رولنگ دیکر اپنی زبانی رولنگ کو غیر موثر کر دیا،اسمبلی توڑنے کی سمری پرصدر نے عجلت میں دستخط کیے صدر نے سمری واپس بھیج کر اعتماد کے ووٹ لینے کا کہنا تھاالیکشن کمیشن کہہ چکا ہے کہ وہ اس وقت الیکشن کرانے کے لیے تیار نہیں ،کیا اسپیکر عدالتی فائڈنگ کے بغیر رولنگ دے سکتے تھے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں تین آپشن کی بات کی،تین آپشن والی بات کی اسٹبلشمنٹ نےتردید کی-

    رضا ربانی کا مزید کہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے ڈپٹی اسپیکر کا اپوزیشن اراکین کو غدار قرار دینا غلط تھا، ڈپٹی اسپیکر نے آئین کے تحت کارروائی نہیں بڑھائی، اسپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع ہوچکی تھی جس کے بعد اسپیکر کے اختیارات محدود ہوجاتے ہیں ڈپٹی اسپیکر ماسوائے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے علاوہ کوئی رولنگ نہیں دے سکتا تھا، اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی تھی، اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کا پابند تھااسکے علاوہ جو کچھ بھی کیا گیا وہ غیر قانونی تھا۔

    رضا ربانی نے مزید کہا کہ آرٹیکل ووٹنگ کا وقت فراہم کرتا ہے، تین سے سات روز میں ووٹنگ کرانا ہوتی ہے البتہ وزیراعظم مستعفی ہوجائے تو پھر تحریک عدم اعتماد غیر مؤثر ہوجاتی ہے، بصورت دیگر کوئی اور آپشن تھا ہی نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اگر اکثریت کھو رہے ہیں تو انہیں اعتماد کا ووٹ لیناہوتا ہے، آرٹیکل 95 کے تحت تحریک عدم اعتماد کی کارروائی ہوتی ہے، تحریک عدم اعتماد کے دوران اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کیا جا سکتا، حتٰی کہ ووٹنگ کا عمل مکمل کیے بغیر اسمبلی کا اجلاس بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    رضا ربانی نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ا سپیکر کی رولنگ غیرآئینی قرار دے،نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے منٹس اور خط منگوایا جائے اور عدالت ا سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیکر اسمبلی کو بحال کرے-

    سپریم کور ٹ میں رضا ربانی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رضا ربانی شکریہ آپ کے دلائل بہت اچھے تھے-

    مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان کو جسٹس جمال خان مندو خیل نے ہدایت کی کہ جلد از جلد دلائل دیں انہوں نے کہا کہ وکلا جلدی دلائل مکمل کریں تاکہ فیصلہ دیا جاسکے-

    مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 95 کی ذیلی شق ون کے تحت عدم اعتماد قرار داد جمع ہوئی،عدم اعتماد کی تحریک پر 152 ارکان کے دستخط ہے-

    وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے 31 مارچ اور 3 اپریل کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس طلب کرلیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نعیم بخاری اسپیکر کے وکیل ہیں، منٹس منگوا لیں،

    مخدوم علی خان نے کہا کہ 28مارچ کو قرارداد پیش کرنے کے معاملے پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا یہ پروسیجرل ایشو نہیں بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے ،آرٹیکل 95 کے طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا اکثریت کھو نے کے بعد یہ پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے کہ وہ وزیراعظم رہیں،-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر کب کیا ہونا ہے یہ رولز میں ہے آئین میں نہیں-

    مخدوم علی خان نے کہا کہ رولز بھی آئین کے تحت ہی بنائے گئے ہیں-

    آئین اورقوائد و ضوابط کیا کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہو تو کیا کیا جائے جسٹس منیب اختر کا مکالمہ

    قوائد وضوابط آئین کے ماتحت ہوتے ہیں عدالت کے کئی فیصلے موجود ہیں مخدوم علی خان کا جواب

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک بار عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوجائے تو پھر رولز اپنا کام شروع کرتے ہیں آئین کے مطابق 7دن میں عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری ہے انہوں نے استفسار کیا کہ اگر کسی وجہ سے ووٹنگ آٹھویں دن ہو تو کیا غیرآئینی ہوگی؟

    قبل ازیں پہلی سماعت میں سپریم کورٹ نے تمام سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں کو آئینی حدود کے مطابق کردار ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعظم اور صدر کے تمام احکامات سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے مشروط کردیے تھے۔