Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے سینئر صحافی سلیم صافی نے عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    ٹویٹ کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کے خلاف پارٹی فنڈنگ کیس(انڈین،امریکیوں اورحتیٰ کہ اسرائیلیوں سے فنڈزلینے کا الزام) انتخابات سے قبل چل رہا تھا۔ اس کی وجہ سے انہیں الیکشن سے منع کیا گیا اورنہ حکومت کرنے سے۔اسی اصول کے تحت سفارتی کیبل کے معاملے کا الگ فیصلہ ہواورعدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکرکوالیکشن ٹریبیونل ہزاروں ووٹوں کی چوری کا مرتکب قراردے کر نااہل قراردے چکا۔2 سال سے وہ اعلیٰ عدلیہ کی سٹے پرچل رہے ہیں۔ اب وہ جج بن کرآئین شکنی کررہا ہے۔ عدلیہ وقت پر فیصلہ کرتی تو قوم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس لئے عدم اعتماد کے فیصلے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ دو باخبرترین صحافیوں نجم سیٹھی اورحامد میرکا دعویٰ ہےکہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیراسدکی کیبل میں مرضی کی ترمیم کی گئی ہے۔اب ضروری ہوگیاہےکہ عدالت قریشی،سیکرٹری خارجہ اوراسد کوبلا کر حقیقت معلوم کرے۔ کیونکہ جعلی الیکشن سے سیلیکٹ ہونے والی حکومت کوئی بھی جعل سازی کرسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

  • ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجر بینچ کا حصہ ہیں

    عدم اعتماد کا معاملہ،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے درخواست پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی ،سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ کی اجازت سے میں گزشتہ روز پیش ہوا تھا آج میں پی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہورہا ہوں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو بعد میں سن لیں گے ،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ میں دوباتیں کرنا چاہتا ہوں اسکی اجازت چاہیے، صدارتی ریفرنس میں 31مارچ کا جو حکم جاری ہوا وہ اہم ہے،عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا،جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،الیکشن کیلئے تیار ہیں، سارا مسئلہ جلدی الیکشن کا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں ،ہم آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے،ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ساری جماعتوں کے وکلا یہاں موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں سب کو سنیں گے، آپ ہمیں کیس سمجھائیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو بتائیں،اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے،قومی اسمبلی میں جو کل ہوا ہے اُسکا آئینی جائزہ لینا ہوگا۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے وکیل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے 10 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے،عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی جب ریکوزیشن قوائد کے مطابق جمع ہو تو 14دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہے اسپیکر نے تیرہویں دن اجلاس بلایا ،20 تاریخ تک بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس 14 دنوں میں بلایا جانا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 28 مارچ کو ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے دعا کے بعد اجلاس ملتوی کیا گیا،جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں،کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو ؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈر آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں؟کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے،50 ارکان کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہوتو کیا تحریک پیش ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی نے قرارداد کی اجازت دے کر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چھوڑیں یہ سب، اور مقدمے کے حقائق کی طرف آئیں،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی ضابطہ کارروائی میں یہ درج ہے کہ سپیکر کوئی بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے اب آپ یہ بتائیں کہ اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی ،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے. فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا؟ فاروق نائیک نے کہا کہ ہم تو صرف بٹن دبا سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟

    پیپلزپارٹی وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سوال کیا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟ اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا، 27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے،31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں

    وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی 31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک کی سازش سے آگاہ کیا تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟ رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں،جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے، فاروق ایچ نائک نے کہا کہ ممبر کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی صرف ووٹنگ ہوتی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 3اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ 198ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق نائک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا،اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نکتے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں؟ اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں .آپ کہتے ہیں کہ ایک بار موشن ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا نہیں جاسکتا، آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا یہ موقف یہی ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہوگی،پارلیمان کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جہاں اسپیکر قرارداد کی ویلیڈیٹی کو دیکھ سکتا ہے ؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ صرف آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی پر۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یعنی آپکے مطابق اسپیکر کے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں تھا کہ وہ قرارداد کو ختم کرتے اور انکا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں درخواست گزاروں سے زیادہ جلدی میں ہے ہم اس فیصلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی، اپوزیشن کو آج ہی فیصلے کا انتظار مگر ان کی وکیل نے عدالتی سوالات پر جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی ،فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج ہو سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ اپنے اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں،فاروق نائک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو مطمئن کر سکتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،کوئی عدالتی فیصلہ بتائیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل میں ہمارے لیے مسائل پیدا کریگا رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا،تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں آج ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کل 12بجے تک ملتوی کر دی گئی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے،فاروق نائک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کو توڑ چکے ہیں اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اگر اپنے دلائل تحریری کے طور پر دیتے تو 2 گھنٹے میں سارے وکلا کو سن لیتے،ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ عدالت کے سامنے رکھیں گے، جو بھی عدالتی فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف سپریم کورٹ پہنچ گئے ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھیں، پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے

    سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے، عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وکلاء کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا صدر مملکت، سیکریٹری دفاع و داخلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل سے ازخود نوٹس میں معاونت طلب کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر گذشتہ روز کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز
    اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں تو تختہ دار پر لٹکا دیں پرعدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ دن ملکی تاریخ میں سیاہ دن تھا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا گزشتہ دن تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر لکھا جائے گا عمران خان اور حواریوں نےآئین کی واضح خلاف ورزی کی ،24 مارچ کو اسپیکر نےعدم اعتماد کی تحریک کو جمع کیا اگر اعتراض تھا تو اسے اپنے دفتر میں ہی مسترد کرتے،تحریک کو ہر صورت ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا تھا عمران نیازی کی فسطائی سوچ غالب آئی اور ڈپٹی اسپیکر کو استعمال کیا گیا ،عمران خان اور ٹولے نے گزشتہ روز آئین شکنی کی 24مارچ کو اسپیکر نے عدم اعتماد کو ایجنڈا میں شامل کیا اگر آرٹیکل 5 کے زمرہ میں کوئی چیز آرہی توایجنڈا میں کیوں شامل کیا،24مارچ کو تحریک جمع کراتے وقت اعتراض کیوں نہیں اٹھایا،عمران خان اور ٹولے نے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو مسخ کردیا عمران نیازی ،صدراورڈپٹی اسپیکر ماورائے عدالت اقدام اٹھاچکے تھے،عدالت عظمٰی نے کہا کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے،ماورائے آئین اقدام تو وزیراعظم، صدراوراسپیکر اٹھا چکے تھے،چند روز پہلے اٹارنی جنرل نے کہا تھا ووٹرز کو جانے دیں گے،ٹی وی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ہوگی،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 16مارچ کو امریکا میں سفیر اسدخان نے ڈونلڈ لو کی دعوت کی،دھمکی کے بعد 16مارچ کو دعوت کیوں دی گئی اورشکریہ کیوں ادا کیا گیا ،اگر 7 مارچ کو کوئی میٹنگ ہوئی تو 16 مارچ کی دعوت کا شکریہ کس بات کا؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو ہوا غیر آئینی ہوا 1973 آئین کی بنیاد سیاسی جماعتوں نے رکھا عدم اعتماد جمہوری اور آئینی طریقہ تھا حکومت سے نجات ملنے پر کارکن خوش ہیں ،ہم سب نے ملکر 3ماہ حکومت کا جینا حرام کردیا،ہم جیسی جماعتیں آئین کا دفا ع چاہتی ہیں،ہمیں آئین کوتوڑےجانےپرزیادہ تشویش ہے، وزیراعظم کواندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے عمران خان نے دباو میں آکر سیاسی خود کشی کرلی،وزیراعظم خود اگر استعفیٰ دیتے تو آئینی ہوتا،اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر نے عمران خان کی انا کو سنبھالا حکومت گئی تو وزیراعظم جشن منا رہے ہیں،ذوالفقارعلی بھٹو کو آج تک انصاف نہیں مل سکا،یہ قائدِ عوام کی عظمت کا ثبوت ہے کہ ان کے بدترین مخالفوں کو بھی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیئے ان کے نام کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے یہ قائدِ عوام تھے، جنہوں نے تختہ دار پر چڑھ کر دنیا کو ایک پیغام دیا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کا تحفظ یقینی بنائے،معاملے پر فل بینچ تشکیل دیا جائے اور جلد فیصلہ سنایا جائے،عدم اعتماد تحریک کا عمل مکمل ہونا چاہیے عدالت کا فیصلہ طے کرے گا کہ کیا آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ؟ اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، تو سزا دیں عدم اعتماد کا سلسلہ تو مکمل ہونے دیں جمہوریت چلنے دیں،عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی اگر ہمیں سزا دینی ہے دے دیں تختہ دار پر لٹکانا ہے لٹکا دیں پر عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں یہ پاکستان کے آئین کا معاملہ ہے ہم نے ثابت کیا کہ اپنے ووٹوں سے عمران خان کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان اپنے ووٹوں کی طاقت سے ہم آپ کو الیکشن میں بھی شکست دیں گے،

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے197 افراد کو غدار کہا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ کو اس کا حق واپس نہیں دیا جاتا تو پھر یہ فیصلہ گلی گلی میں ہوگا کہ کون غدارہےاورکون وفادار ہے سپریم کورٹ پارلیمان کو اس کا حق واپس کرے پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ کون غدار ہے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھرافرا تفری پید اہو گی اور گلی گلی میں فیصلہ ہوگا کہ کون غدارہے اورکون وفادارکل ڈپٹی سپیکر نے جس طرح آئین کو توڑا اس نے آئین کی کئی شقیں معطل کرنے کی کوشش کیں

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے شکست سے بچنے کے لیے سیاسی خود کشی کرلی عمران خان بیانیہ بنا چکے ہیں کہ انکے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے، سازش ہورہی ہے تو ایک کمیشن بنائیں اور سچ ثابت کریں ،میں آپکے ساتھ ہوں،اگرعمران خان جھوٹ سڑکوں پر لیکر آئیں گے تو ہم اپنا سچ لیکرآئیں گے الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں جیتیں وہ عمران خان نے ہم سے چھینی تھیں ہم نے عمرا ن خان سے حکومت چھین لی ہے،

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نےآئین سے کھلواڑ کیا ،عمران خان خط کو عدالت میں پیش کریں جاننا چاہتےہیں کون سی سازش عمران خان کے خلاف ہورہی ہے،

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

  • ملک کی سیاسی صورت حال پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    ملک کی سیاسی صورت حال پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ملک کی سیاسی صورت حال پر از خود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ اس حوالے سے کیسا بنچ تشکیل دے گی اور اس میں کون سے ججز شامل ہوں گے ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے

    ترجمان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک میں حالیہ سیاسی صورت حال پر نوٹس لے لیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    دوسری جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما بھی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

  • پیپلز پارٹی کے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت میں داخل ہو گئے

    پیپلز پارٹی کے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت میں داخل ہو گئے

    مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کچھ دیر میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی جائے گی-

    باغی ٹی وی : مریم اورنگزیب نے کہا کہ زاہد حامد،اعظم تارڑ،فاروق نائیک اور کامران مرتضیٰ پٹیشن تیار کررہے ہیں، کچھ دیر میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی جائے گی-

    عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    ذرائع کا کا کہنا ہے کہ عدالتی عملہ سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گیا ہے ذرائع کے مطابق مصطفیٰ نواز کھوکر نے کہا ہے کہ سینیٹر فاروق نائیک اور رضا ربانی پٹیشن تیار کر رہے ہیں ہم ساڑھے3 بجے سپریم کورٹ پہنچیں گے-

    دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ امید ہے سپریم کورٹ غیر آئینی قدم کالعدم قرار دے گی-

    سابق صدر آصف علی زرادری کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی کام ہوا ہے،عدالت اس اقدام کو اٹھا کر پھینک دے گی،وستوں کی خواہش تھی ان کے سوچ پر چلنا پڑتا ہے ،دیکھتے ہیں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے،ہم الیکشن اور ہر صورت حال کے لیے مکمل تیار ہیں-

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنیٹرینز کی طرف سے درخواست تیارکرلی گئی درخواست کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی درخواست نیئر بخاری کی توسط سے دائر کی جائے گی-

    اپوزیشن کو بڑا جھٹکا عدم اعتماد کی تحریک مسترد

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دی گئی رولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے،اسپیکر او رڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد تحریک پر دوبارہ ووٹنگ کی ہدایت کی جائے-

    درخواست کے متن میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کا اقدام آئین کے مختلف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے علاوہ ازیں درخواست میں کہا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لئے آج ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی جائے-

    ادھر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی آئینی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ پہنچ گئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے بلایا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے اپنےگھر پر بلایا ہے کیونکہ اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کورٹ کو تالے لگے ہوئے ہیں تاہم اب اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کے تالے کھول دیے گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور عدالتی عملہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے وکلاءبھی پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ میں داخل ہو گئے ہیں۔ وکیل شہباز کھوسہ سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست دائر کریں گے ۔

    دوسری جانب شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جائیں یا کسی اورعدالت ، سپریم کورٹ اسپیکرکےخلاف فیصلہ نہیں دے گی، میری معلومات کے مطابق ریاستی ادارے بھی انتخابات چاہتے ہیں غیر ملکی مداخلت پر پاکستان کی سالمیت کا سوال پیدا ہو جائے تو سب متحد ہیں،لڑائی گلی محلے تک پہنچ چکی ہے۔

    نئے الیکشن کے لیے آصف زرداری کے سوا سب تیار ہے،جب تک سپریم کورٹ کا کیس ہوگا، انتخابات کےدن آچکےہوں گے وزیراعظم نے کوئی سرپرائزنہیں دیا،میں تواشاروں میں سمجھارہا تھا، لیکن آپ لوگوں کوسمجھ نہیں آئی، اب عمران خان کودوتہائی کی اکثریت دلانی ہے۔

    صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی

  • حکومت کو سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    حکومت کو سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    حکومت کو سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ،خط کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد کر دیا گیا

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات لگا کر واپس کر دی ،رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست بنیادی انسانی حقوق سے متعلق نہیں،آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست پر سماعت نہیں ہوسکتی درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا،

    دھمکی آمیز خط کی تحقیقات ،رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف چیمبر اپیل دائر کر دی گئی،اور استدعا کی گئی کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    قبل ازیں وزیر اعظم کو لکھے گئے خط کی تحقیقات کیلئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی ،درخواست نعیم الحسن ایڈووکیٹ کی جانب سے کی گئی ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی کمیشن بنا کر میمو گیٹ کی طرز پر لیٹر گیٹ کی تحقیقات کرائی جائیں کمیشن قائم کر کے روزانہ کی بنیاد پرسماعت کی جائے، تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے وزیر اعظم کو ہٹانے کیلئے بین الاقوامی سازش کی گئی ،سازش کرنے والے غداری کے زمرے میں آتے ہیں، مختلف ٹی وی اینکرز نے تحریک عدم اعتماد کا پہلے ہی بتا دیا تھالندن میں نواز شریف سے خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جہاں سازش تیار کی گئی

    درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بھی خط پر اپنا بھرپور ردعمل دے چکی ہے،خط کی تحقیقات کے لیے میمو گیٹ سکینڈل کی طرز پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اعلی عدلیہ کے ججز پر مشتمل ہو

    وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لہرائے گئے دھمکی آمیز خط کے حوالہ سے پورے ملک میں باز گشت جاری ہے

    اپوزیشن ا س خط کو جھوٹا قرار دے رہی ہے ، بلاول کا کہنا تھا کہ خط وزیر خارجہ نے خود لکھوایا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن نے شرکت نہیں، وزیراعظم نے گزشتہ روز خطاب کر کے قوم کو پھر اعتماد میں لیا، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں خط کا جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا، بعد ازاں امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، امریکہ نے اس طرح کے کسی بھی خط کی تردید کی ،اب سپریم کورٹ میں اس خط کے حوالہ سے درخواست دائر کر دی گئی

    وزیراعظم کا حکم ہے، آڈیو لیک ہو گئی،سارا منصوبہ سامنے آ گیا

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    غیر ملکی سرمایہ والی اپوزیشن کو کوئی معاف نہیں کرے گا،شیخ رشید

    ن لیگ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کر دیا

    شہباز شریف وزیراعظم بن گیا تو خود کشی کرلوں گا،میانوالی کے ایک شہری کا اعلان

    اپوزیشن کی بڑی کامیابی، بزدار کو واقعی نکال دیا گیا

    پتہ نہیں پرسوں سیاست میں رہوں گا یا نہیں ؟ شیخ رشید

    وزیراعظم عمران خان پرقاتلانہ حملے کا منصوبہ، سیکورٹی بڑھا دی گئی

    این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا

    اپوزیشن اتحاد کا ایک اور وار، اسمبلی میں 172 اراکین موجود،درخواست میں بڑا مطالبہ کر دیا

    نکل جاؤ، منحرف اراکین کو کہاں سے نکال دیا گیا؟

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

  • کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا صدر اسمبلی کارروائی کے بارے میں رائے لے سکتے ہیں؟ کیا عدالتی رائے کی اسمبلی پابند ہے؟ کیا اسپیکر کی ایڈوائس پر صدر نے ریفرنس بھیجا ہے؟ اسمبلی کارروائی کے کسٹوڈین تو اسپیکر ہوتے ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ انکے سوالات کے جواب اٹارنی جنرل ہی دے سکتے ہیں،صدر نے عدالت سے پوچھا ہے ہارس ٹریڈنگ کیسے روکی جاسکتی ہے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال کا جواب رائے نہیں بلکہ آئین سازی کے مترادف ہو گا، صدر نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے کسی طریقہ کار پر رائے نہیں مانگی،ریفرنس میں سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت کا حوالہ دیا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63اے میں واضح ہے کہ پارٹی سے انحراف غیر آئینی ہو گا،آپکی گفتگو سے لگ رہا ہے پارٹی سے انحراف غلط کام نہیں، مخدوم علی خان نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں سکا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک نقطہ نظر تو یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف جمہوریت کا حصہ ہے، دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف جان بوجھ کر دیا گیا دھوکہ ہے، آرٹیکل 63 اے پارٹی سے انحراف کو غلط کہتا ہے، سوال یہ ہے کہ پارٹی سے انحراف کیا اتنا غلط ہے کہ تاحیات نااہلی ہو؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ صدر کے بقول سینیٹ الیکشن میں غلط کام ہوا اور شواہد بھی ہیں، صدر اور وزیراعظم کو ہارس ٹریڈنگ کا علم تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسے کے لین دین کا ذکر تھا، پیسوں کے معاملے میں ثابت کرنا لازمی ہے، آرٹیکل 63اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفروضہ پر بات کررہا ہوں اگر ایک ممبر اپنے ضمیر پر ووٹ دیتا ہے تو وہ ڈی سیٹ ہو گا،صرف 4 شرائط پر عمل کرنے کے بعد ہی آرٹیکل 63اے لگے گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ممبر نے ووٹر کے طور پر ووٹ ڈالتا ہے،اگرچہ سینیٹ الیکشن میں بھی پیسے لے کر ووٹ ڈالنا جرم ہے ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کے مطابق پارٹی سربراہ انحراف کا ڈکلیئریشن دیتا ہے، کہیں نہیں کہا گیا کہ بغیر سنے نااہل ہو گی موقع نہیں دیا جائے گا،، مخدوم علی خان نے کہا کہ میرا کہنا ہے آرٹیکل 63اے کہ نتائج آئین میں دیئے گئے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن کی آبزرویشن سے متفق ہوں کہ انحراف کا کوئی مثبت منفی کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا گیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ صرف اس دفعہ ہارس ٹریڈنگ تو نہیں ہورہی پہلے بھی ہوتی رہی ہے،کیا کیا گیا؟ انحراف کرنے والے واپس اپنی پارٹیوں میں لیے جاتے رہے ہیں ممکن ہے پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والے کو پارٹی معاف کردے،عدالت آئین پر عمل کے لیے ہے،آئین کے آرٹیکل کو موثر ہونا ہے،سسٹم کمزور ہو تو آئین بچانے کے لیے سپریم کورٹ کو آنا پڑتا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ پارٹی سے انحراف لازمی نہیں غیر اخلاقی یا کرپشن کی بنیاد پر ہو، پارٹی سے انحراف اچھے مقصد کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے،تاریخ نے سیا ست کو اک برا لفظ بنا دیا ہے، شوکاز کے جواب میں منحرف رکن پارٹی سربراہ کو جواب دے گا، پارٹی سربراہ مطمئن ہو ں تو شوکاز نوٹس واپس ہو جائے گا، عدالتی جواب شاید سیاسی معاملات کو مطمئن نہ کر سکے،برطانیہ میں اپوزیشن کو بھی خصوصی معاملات میں شامل کیا جاتا ہے،اپوزیشن کو آن بورڈ رکھنے کے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں، صدارتی ریفرنس کی ٹائمنگ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے،صدر نے تحریک عدم اعتماد آنے پر ہی ریفرنس کیوں دائر کیا،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ او آئی سی کی وجہ سے اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا تھا 20مارچ کو اسپیکر نے بذریعہ نوٹیفکیشن 25 مارچ کا اجلاس بلایا ، مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر 8 مارچ کے بعد 14 دن میں اجلاس بلانا ضروری تھا ،عدالت کو صرف حقائق بتا رہا ہوں سیاسی بات نہیں کرونگا ، ججز کو عدالت کے باہر ہونے والے معاملات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے،عدالت سے سوال خلا میں نہیں پوچھے جاتے عدالت نے سوالات پوچھتے وقت اور حالات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق سماعت کا سیاسی معاملے پر اثر پڑ سکتا ہے؟ آپ کہنا چاہتے ہیں ان حالات میں ایڈوائزری اختیار استعمال نہ کیا جائے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئینی سوال کے جواب سے پہلے حالات دیکھا کرے، آپکو سمجھا چاہیے عدالت آئین کی تشریح حالات دیکھ کر نہیں کرتی،عدالتی تشریح کے اثرات حال کیساتھ مستقبل کیلئے بھی ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سینیٹ الیکشن کو ایک سال گزرنے کے بعد صدر سوال نہیں کر سکتے، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آرٹیکل 63اے پر عمل ووٹ ڈالنے سے شروع ہو گا،صدر کو کیسے معلوم ہو کہ حکومتی جماعت کے لوگ منحرف ہورہے ہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب پی ٹی آئی کے وکیل دے سکتے ہیں، ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات مفروضوں اور افواہوں پر مبنی ہیں، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پارٹی سربراہ کس قسم کی ہدایات دے سسکتا ہے؟ ایک پارٹی سربراہ کی ہدایت کی کاپی میرے پاس ہے، جسٹس مظہر عالم نے عمران خان کی پارٹی اراکین کو دی گئی ہدایات کی کاپی مخدوم علی خان کو فراہم کر دی

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس مظہر عالم نے مخدوم علی خان کو ایک دستاویز دی تھی،جاننا چاہتا ہوں کہ یہ دستاویز کیا تھی؟ کیا یہ کوئی پبلک دستاویز تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویز چھوڑیں ہم واپس لیتے ہیں،وقت کم ہے اس معاملے کو چھوڑ دیں، جسٹس جمال خان نے کہا کہ یقینی بنائیں عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کچھ ایسا ویسا نہ ہو،

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

  • وزیراعظم  کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ  پہنچ گیا

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے سپریم کورٹ سے تحقیقات کیلئے درخواست دائر کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وزیراعظم کی جانب سے دکھائے گئے خط کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عوام کو ذہنی تنائو سے نکالنے کیلئے فوری مداخلت کی ضرورت ہے، دھمکی آمیز خط متعلقہ سول اور فوجی قیادت کو بھجوا کر تحقیقات کروائی جائیں،دھمکی آمیز خط اتنہائی حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ کے جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس کےبارے میں تفصیلات نہیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دھمکی آمیز خط ہے، آف دی ریکارڈ دکھا سکتا ہوں، ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھاکہ خط چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں، مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں

     باسط بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے خط کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے

    تیاررہیں، عمران خان کو جو خط آیا وہ میں بتاؤں گی،مریم نواز کا بڑا اعلان

    غریدہ فاروقی وزیراعظم کو بھجوایا گیا خط سامنے لے آئیں

    بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

  • کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ
    آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہعئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے آرٹیکل 63 اے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج آپ سے کوئی سوالات نہیں کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمالیہ میں وزیر اعظم کی تقریر کا حوالا دیا گیا،وزیراعظم سے کمالیہ کی تقریر پر بات کی ہے، وزیر اعظم کا بیان عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،وزیراعطم کا بیان عدالت کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا کہ کمالیہ تقریر میں 1997 سپریم کورٹ حملے کے تناظر میں بات کی گئی تھی، عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے اور یقین ہے،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو کوئی ممبر اپنی رکنیت کا دعویٰ نہیں کرسکت منحرف اراکین کیلئے آئین کہتا ہے کہ وہ ممبرنہیں رہےگا اور سیٹ خالی تصور ہوگی، سیٹ خالی تصور ہونے کا مطلب ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوگا اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ایک ممبرکوڈی سیٹ ہونے کے بعد کس بنیاد پر نا اہل ہونا چاہیے، پارلیمنٹ نااہلی کی مدت 2 یا 5 سال تک مقرر کرسکتی ہے کیا ایک شخص کو تاحیات نااہل کرنے کیلئے انحراف کی بنیاد کافی ہے؟ جب کہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ 62 اے میں ترمیم کرکے نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کررہی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا دنیا کے کسی قانون میں نااہلی انحراف کے بنیاد پر ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی قانون میں تاحیات نااہلی بھی نہیں ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی آئین میں ارٹیکل 62/1F نہیں دیکھا جسٹس جمال خان مندوخیل نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ ڈی سیٹ ہونے کو بڑی سزا نہیں سمجھتے؟ ہمارے ہاں بلوچستان میں تو دوبارہ الیکشن لڑنے پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں. آئین بنانے والوں کی نظر میں ڈی سیٹ ہونا معمولی بات نہیں تھی۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون سی طاقتیں ہوتی ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہوتا ہے جسٹس جمال خان نے کہا کہ ایماندار آدمی کو پارٹی پالیسی کے خلاف رائے دینے پر تلوار کیوں لٹکا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایماندار آدمی انحراف کرنے سے پہلے مستعفی کیوں نہیں ہوتا؟ جسٹس جمال خان نے کہا کہ کسی کو نشست سے مستعفی ہونے پر مجبور نہیں جاسکتا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیاکہ سندھ ہاؤس حملے کا کیا بنا،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں بتایا کہ متعلقہ مجسٹریٹ سے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لیے ہیں، پی ٹی آئی کے دونوں اراکین اسمبلی سمیت تمام ملزمان گرفتار ہوں گے

    منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس بارے اٹارنی جنرل نے بڑا انکشاف کیا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود ۲۰/۲۵ اراکین وفاداری تبدیلی پر تاحیات نااہلی کا قانون نہیں بننے دیتے اس کئیے حکومت سپریم کورٹ سے یہ کام کرانا چاہتی ہے، یہ قانون انکا ڈیتھ وارنٹ ہے۔

    قبل ازیں سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کی گرفتاری کا معاملہ آئی جی اسلام آباد نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ،رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی کا ثبوت نہیں مل سکا،ملزمان سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا،دہشت گردی کے ثبوت ملے تو مزید کارروائی کی جائے گی 16 ملزمان میں سے ایک رائے تنویر کی گرفتاری نہیں ہوسکی، رائے تنویر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،تمام گرفتار ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے ضمانت کرا لی تھی، ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے مجسٹریٹ کو درخواست دی ہے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

  • اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کو دبئی سے وطن واپس لانے کا حکم

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کو دبئی سے وطن واپس لانے کا حکم

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کو دبئی سے وطن واپس لانے کا حکم
    سپریم کورٹ میں اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کا کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو 3 ہفتے میں بچیاں وطن واپس لانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ ٹیم کو دبئی بھجوانے کیلئے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فوری سمری منظور کرائیں، جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ٹیم کیساتھ وزارت داخلہ کے حکام بھی جائیں گے،اتناعرصہ گزر گیا بچیاں واپس کیوں نہیں لائی جاسکیں؟ جس پر وزارت خارجہ حکام نے کہا کہ حکومت بچیوں کو واپس نہیں لا سکتی، درخواست گزار کو خود دبئی جاکر کیس دائر کرنا ہوگا، ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ٹیم دبئی بھجوانے کیلئے سمری وزیراعظم کو بھیجی ہے، عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعظم سے سمری جلد منظور کرا کر ٹیم دبئی بھیجی جائے، کیس کی سماعت 3 ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی

    قبل ازیں صوفیہ مرزا نے اپنی بیٹیوں سے ملاقات کے لئے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی تھی صوفیہ مرزا نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ وزیر اعظم اس سلسلہ میں اپنا کردار کریں جس کے بعد پاکستان کے نامور گلوکار علی ظفر نے بھی صوفیہ مرزا کی حمایت کا اعلان کیا تھا

    صوفیہ مرزا گیارہ سال سے اپنی جڑواں بیٹیوں کی بازیابی کے لئے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہیں عدالت نے بچیوں کو صوفیہ مرزا کے حوالے کرنے کا حکم بھی دیا تھا تاہم ان کے سابق شوہر عمر فاروق بچیوں کو بیرون ملک لے گئے تھے اور ذرائع کے مطابق تاحال وہ ان سے ملنے سے محروم ہیں

    معروف ماڈل و اداکارہ صوفیہ مرزا نے اپنی بچیوں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اداکارہ نے کہا تھا کہ سابق شوہرعمر فاروق سے 10 سال قبل شادی ہوئی اورپھرطلاق ہوگئی، گارڈین عدالت نے جڑواں بچیوں زنیرہ اور زینب کو ماں کے حوالے کرنے کے احکامات دیئے تھے سابق شوہر بچیوں کولے کردبئی فرار ہوگیا تھا ،صوفیہ مرزا نے کہا تھا کہ عدالت نے نومبر 2020 کو درخواست گزار کی بیٹیوں کوبازیاب کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا عدالت نے سابق شوہراوربچیوں کے پاسپورٹ اورشناختی کارڈزبھی بلاک کرنے کا حکم دیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود بیٹیوں کوبازیاب نہ کروانے پرسیکرٹری داخلہ سمیت دیگرفریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اورعدالت انٹرپول کے ذریعے بچیوں کو بازیاب کروا کرماں کے حوالے کرنے کا حکم دے

    ڈائریکٹرایف آئی اے کی صوفیہ مرزا کی بچیوں کی بازیابی کے لیے اقدامات کی یقین دہانی

    اداکارہ صوفیہ مرزا نے دوران سماعت ایسا الزام لگایا کہ عدالت نے کیس سننے سے معذرت کر لی

    سپریم کورٹ نے اداکارہ صوفیہ مرزا کے بچوں کے اغواء کی پیشرفت رپورٹ طلب کر لی-

    صوفیہ مرزا اپنے یوٹیوب چینل پر نئے پروگرام میں اپنی بہن مریم مرزا کے ہمراہ نظر آئیں گی

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے آسان ٹپس بتا دیں،

    صوفیہ مرزا کے چاہنے والوں نے توحد ہی کردی،

    اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں لڑکیوں کا بھی حق ہے کہ انہیں لڑکوں کے برابر حقوق ملیں-

    ے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا 

    صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کا کیس،سپریم کورٹ وزارت خارجہ پر برہم

    صوفیہ مرزا بچے حوالگی کیس، ایف آئی اے کو بچیوں کی واپسی کیلئے ٹیم تشکیل دینے کا حکم