Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہوا تھا جو آئین میں نہیں لکھا ہوا وہ عدالت کیسے پڑھے،اس نقطے پر سپریم کورٹ 2018کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، عدالت نے تمام امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کیساتھ بیان حلفی مانگا قانون میں بیان حلفی نہیں تھا عدالتی حکم پر لیا گیا،بیان حلفی کے بغیر کاغذات نامزدگی عدالت نے نامکمل قرار دیئے تھے، عدالتی حکم پر کاغذات نامزدگی سے نکالی گئی معلومات لی گی،عدالت نے فیصلے میں کہا انتحابی عمل میں شفافیت کے لیے بیان حلفی لیے گیے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو لگتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی قسم کی کمی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو الگ نہیں پڑھا جاسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں انتخابات کی ساکھ اور تقدس کی بات کی گئی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے جماعتیں ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں،کوئی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو مستعفی ہوسکتا ہے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا تاحیات نااہل ہونا چاہیے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو 62 ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟ کیا کسی فورم پر رشوت لینا ثابت کیا جانا ضروری نہیں، رشوت لینا ثابت ہونے پر 62 ون ایف لگ سکتا ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے قانونی بددیانتی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوگا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ منحرف رکن اگر کسی کا اعتماد توڑ رہا ہے تو خیانت کس کے ساتھ ہوگی ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے پہلے خیانت حلقے کی عوام کے ساتھ ہو گی ،ووٹر اپنا ووٹ ڈال کر واپس نہیں لے سکتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ جس سمت میں تیر چلائے وہ کہیں اور چلا جائے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مستعفی ہونے پر کوئی سزا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی مستعفی نہیں ہورہا یہی تو مسئلہ ہے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کسی سیاسی بندے کا ذکر نہ کریں ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس ہے اسی تک رہیں ،کیا 63 اے کے نتیجے میں سیٹ خالی ہونا کافی نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف از خود مشکوک عمل ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں ،آرٹیکل 63 اے میں لکھا ہے کہ رکنیت ختم ہو جائے گی،آپ نااہلی کی مدت کا تعین کروانا چاہتے ہیں ؟ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے، آرٹیکل 63 میں نااہلی دو سے 5 سال تک ہے ،قرض واپس کرنے پر نااہلی اسی وقت ختم ہو جاتی ہے،

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کمالیہ کی تقریر میں کیا کہا کہ ججز کو ساتھ ملایا جارہا ہے؟ کیا آپ نے وزیراعظم کی بات کا نوٹس لیا ہے؟ عدالتی سوالات کو کس طرح لیا جاتا ہے اسکو بھی دیکھیں سوشل میڈیا اور ٹی وی پر سنا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کو علم ہونا چاہیے کہ زیر التوا مقدمات پر بات نہ کریں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوالات کے ذریعے کیس سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،عدالت تقاریر اور بیانات سے متاثر نہیں ہوتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ تقاریر سنتا نہیں اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتا. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی کارروائی سے متعلق احتیاط کرنا چاہیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم کو اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد نہیں تو انکے نمائندوں کو کیسے ہو گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو بیانات اور تقاریر سے متاثر ہونا بھی نہیں چاہیے وزیر اعظم کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا الیکشن سے پہلے کا ہے الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو کردیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ ڈکلیئریشن دے تو الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں، قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تو کیا چاہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ آئے گا تو دیکھا جائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ طریقہ کار سے متعلق کوئی سوال ریفرنس میں نہیں پوچھا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین کس بنا پر ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے آج آپکے دلائل مکمل ہو جائیں گے،اصل نقطہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج شاید مزید وقت درکار ہو،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ مستقبل کے لیے ریفرنس لائے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں کیا ہورہا ہے عدالتی کارروائی پر فرق نہیں پڑنا چاہیے، نااہلی کی مدت کے حوالے سے آرٹیکل 63 اےنیوٹرل ہے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑتا سکتا ہے، 10سے15 اراکین منحرف ہو جائیں تو یہ سسٹم کا مذاق بنانے والی بات ہے، پندرہ لوگ حکومت بدل کر دوبارہ الیکشن لڑیں تو میوزیکل چیئر چلتی رہے گی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سسٹم کو بچانے کے لیے ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے،مطمئن کریں کہ منحرف ہونے سے سسٹم کو خطرہ ہو گا اور سنگین جرم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حلقے میں الیکشن کا کتنا خرچہ آتا ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل95 مشترکہ حکومت کی بات کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے لیڈر کے خلاف عدم اعتماد کر سکتی ہے پارٹی خود عدم اعتماد کرے تو کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی،پارلیمانی پارٹی وزیراعظم تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے تو پارٹی سربراہ بادشاہ نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اصل نکتہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں، پارلیمانی پارٹی آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی سفارش کرے تو کیا پارٹی سربراہ روک سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی سربراہ من پسند افراد کو ڈکلیریشن نہیں دے سکتا، یہ سیاسی فیصلہ ہے جو پارٹی سربراہ نے کرنا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اصل معاملہ سیاسی نظام کے استحکام کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت حکومت اپوزیشن کی مدد سے آئی ہے،جب تک ایوان خوش ہے کام چلتا رہتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی وزیراعظم کو ووٹ نہ دے اور عدم اعتماد بھی ناکام ہو جائے تووہ کام کرتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اچھا نظام ہے لیکن بعض چیزیں بہت پیچیدہ ہیں،جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا تمام جماعتیں آرٹیکل 63اے پر تاحیات نااہلی چاہتی ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سے قبل کوئی ریفرنڈم نہیں کرایا گیا،اپنے پرائے تو سب ہی تاحیات نااہلی چاہتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو نااہلی کی مدت کا فیصلہ کرنے دیں ،جسٹس جمال خان نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنا کام کر چکی اب عدالت نے تشریح کرنی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی جماعت کے اراکین مستعفی ہو جائیں تو بھی اکثریت ختم ہو جائے گی،ایسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا، اٹارنی جنرل نے کہا ہککہ عوام اپنی رائے کا اظہار صرف ووٹ سے کرسکتی ہے،عدالت عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے تشریح کرے، جسٹس جمال نے کہا کہ منحرف رکن سے لوگ ناراض ہوں گئے تو ووٹ نہیں دیں گے،اسلام میں طلاق جائز ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرد کو چار اور عورت کو ایک شادی کی اجازت ہے،مناسب ہو گا طلاق اور شادی پر نہ جایا جائے آئین نے جرم کرنے والے اراکین کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑنا ہوتا تو پانچ سال کی نااہلی شامل نہ ہوتی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ایک ندی ہے جسے بے وفائیاں آلودہ کرتی ہیں،بے وفائی اور منحرف ہونے کا مثبت مطلب کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے 63 اے شامل کیا گیا،چوری کے کام کی رسید نہیں ہوتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلانا جرم نہیں لیکن اووراسپیڈنگ پر چالان ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ممکن ہے انحراف کرنا غلط کے خلاف ہی ہو، کسی سے غلط کو غلط کہنے کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی پارلیمانی نظام کے لیے اہم ترین کیس ہے،دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک سے دو سماعتیں مزید درکار ہوں گی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کو بینچ لاہور میں ہو گا، رمضان شروع ہونے والا ہے ایک بجے سماعت ممکن نہیں ہو گی کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں دوسرے وکلا کو وقت دینا لازمی ہے عدالت اپنے تحریری دلائل سے استفادہ کرے گی، کل ایک گھنٹہ آپ اور ایک گھنٹہ دوسرے فریقین کو سنیں گے، علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دوں گا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دوسرے وکلا کا موقف سن کر ذہن مزید کھلے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخدوم علی خان اور رضا ربانی کے دلائل سننا چاہیں گے ابھی تک ہوا میں گھوڑے چل رہے ہیں،پارلیمنٹ نے آج تک آرٹیکل 63 اے کی نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی؟اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا ،جمہوریت آئین کا بہترین ڈھانچہ ہے،جمہوریت کے لیے کیا اچھا ہے یہ سوچ کر دلائل دیں، وقت کی کمی ہے کوشش کریں دلائل مختصر ہی رکھیں،

    ن لیگی وکیل نے کہا کہ لازمی نہیں کہ جمہوریت آلودہ کرنے والے اپوزیشن سے ہی نکلیں ، جسٹس جمال نے کہا کہ جمہوریت لوگوں سے اور لوگوں کے لیے ہوتی ہے، دیکھنا ہے حکومت بچانی ہے یا پارٹی،عوام کا فائدہ کس میں ہے یہ بھی مدنظر رکھیں گے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

  • سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کوکل تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پولیس نے آپ کےموقف پر عمل نہیں کیا،ہمارے حکم میں تھا کہ سندھ کا موقف سنا جائے،اب اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو آپ مل بیٹھیں اور حل نکالیں،ہم اس معاملے میں مزید نہیں پڑیں گے،جس دن واقعہ ہوا دوسرے دن سماعت کی ، معمول کے مطابق ایسا نہیں کرتے آپ متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور جو ریمیڈی ہے وہ استعمال کریں،

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کیس میں دہشتگردی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا جو قانون کے مطابق کرسکتے تھے وہ کیا ہے،کیس میں کچھ لوگوں کو گرفتار کیا اور اب وہ ضمانت کرا چکے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرانی گرفتاریوں کی بات کررہے ہیں ،ایف آئی آر میں بچگانہ دفعات لگائی گئیں،اس وقت کیا پیش رفت ہے وہ بتائیں؟ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ آئی جی کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جائیں اور ان ذمہ داروں کو گرفتار کریں سیشن کورٹ سے سندھ حکومت رجوع کر سکتی ہے،مناسب ہوگا متعلقہ فورم ہی اسکا فیصلہ کرے جو دفعات لگائی گئی ہیں ان پر ایکشن لیں بچگانہ دفعات پر حملہ آوروں نے ضمانتیں کروا لیں کیا کوئی قابل ضمانت دفعات لگائی ہیں،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ایک دفع ناقابل ضمانت ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ناقابل ضمانت دفعات پر گرفتاریاں کیوں نہیں ہوئیں؟ آئی جی کو کہیں کہ اپنا کام کریں ، یہ ہمارا کام نہیں کہ ہدایات دیں کل اس معاملے پر جامع رپورٹ دیں،

    چند روز قبل تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی اور کارکنوں نے اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس پر دھاوا بولا تھا جس کے نتیجے میں سندھ ہاؤس کا مرکزی دورازہ بھی ٹوٹ گیا تھا سپریم کورٹ نے بھی سندھ ہاؤس پر حملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد پولیس کو انکوائری کا حکم دیا تھا اور اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

  • اپوزیشن کی ریڈ زون تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی ہے،سپیشل برانچ کی رپورٹ میں دعویٰ

    اپوزیشن کی ریڈ زون تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی ہے،سپیشل برانچ کی رپورٹ میں دعویٰ

    اپوزیشن کی ریڈ زون تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی ہے،سپیشل برانچ کی رپورٹ میں دعویٰ

    سری نگرہائی وے پرجے یوآئی کا ممکنہ دھرنا، اسلام آبادہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ انتظامیہ این اوسی کی خلاف ورزی پرسختی سے نمٹے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پرحکم جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں،سیاسی جماعتیں اوررہنماقانون پرعمل درآمدکےپابندہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا تحریر کردہ فیصلہ 4 صفحات پر مشتمل ہے

    قبل ازیں تحریک عدم اعتماد سے پہلے سیاسی جماعتوں کے جلسے روکنے سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے رپورٹ جمع کرا دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ جے یو آئی نے سری نگر ہائی وے بلاک نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی یقین دہانی کے باوجود جے یو آئی سرینگر ہائی وے اور سروس روڈ بند کرنا چاہتی ہے،سری نگر ہائی وے اور سروس روڈ بند کرنے پر جے یو آئی کوشوکاز نوٹس جاری ہوچکاشوکاز نوٹس پر جے یو آئی سیکریٹری نے سری نگر ہائی وے بند نہ کرنے کا خط لکھا ہے، اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق ریڈ زون تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،مرکزی شاہراہیں بند کرنے اور ریڈ زون داخلے سے عوام کے جان و مال کو خطرہ ہے،این او سی کی خلاف ورزی سے اسلام آباد امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے،عدالتی حکم پرسری نگر ہائی وے سمیت تمام سروس روڈز کھلی رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیاگیا،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی سپریم کورٹ میں شاہراہیں بند نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی،

    دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کے باعث وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون کو مکمل سِیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یقینی بنایا جائے گا کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم ورکرزکا آمنا سامنا نہ ہو جبکہ سیاسی جماعتوں کو کوئی سڑک بند نہیں کرنے دی جائے گی، ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہوں گے، ریڈ زون تک کسی کو بھی نہیں جانے دیا جائے گا

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے آبائی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے،جے یوآئی مارچ کے شرکاجنوبی وزیرستان، درازندہ، ٹانک انٹر چینج پر جمع ہونگے مولانا فضل الرحمان عبد الخیل سے قافلہ کی صورت میں مارچ میں شریک ہونگے

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    اللہ نے یہ اجازت نہیں دی اچھے برے کی جنگ ہوتوآپ کہیں میں نیوٹرل ہوں،،وزیراعظم

    وفاقی دارالحکومت میں جلسوں کا موسم،سیکورٹی سخت،ٹریفک پلان بھی جاری

    تحریک انصاف کا جلسہ،قافلوں کی آمد جاری،تاریخی جلسہ ہو گا،اسد عمر

    https://login.baaghitv.com/mehngsi-mulkso-mstvh-mrhngsi-kksptsn-dsy-nsjstsk-ks-smrvh-hsy-msrysm/

  • کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے دوسرے روز دلائل شروع کر دیئے گئے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں،مخصوص نشستوں والے ارکان نے عوام سے ووٹ نہیں لیا ہوتا ہے، مخصوص نشستوں والے ارکان بھی سندھ ہاؤس میں موجود تھے،مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پر ملتی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزا ہے، اعتماد توڑنے والے کو خائن کہا جاتا ہے،آپکے مطابق پارٹی کو ووٹ نہ دینے والے خیانت کرتے ہیں؟کیا کوئی رکن بھی ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ممبر شپ فارم میں رکن ڈکلیئریشن دیتا ہے کہ ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ اگر پارٹی ممبر شپ میں ایسی یقین دہانی ہے تو خلاف ورزی خیانت ہو گی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے،اگر وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبر ساتھ دینے کا پابند ہے؟کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک سرٹیفکیٹ ہے جس پر انتحابی نشان ملتا ہے وزیراعظم اور رکن اسمبلی کے حلف میں فرق ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر انتحابی نشان پر مہر لگاتے ہیں کسی کے نام پر نہیں، پارٹی کے نشان پر الیکشن لڑنے والے جماعتی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ برصغیر میں بڑے لیڈرز کے نام سے سیاسی جماعتی آج بھی قائم ہیں، مسلم لیگ اور کانگریس بڑے لیڈرز کی جماعتیں ہیں،پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوتے ہیں،اراکین اسمبلی ربڑ ا سٹمپ نہیں ہوتے، پارٹی فیصلے سے متفق نہ ہوں تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے، پارٹی اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کیخلاف جایا جائے،رضا ربانی نے پارٹی ڈسپلن کے تحت فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا،یقین ہے رضا ربانی نے نااہلی کے ڈر سے ووٹ نہیں دیا ہوگا،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا جماعت کے ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو آئین اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق دیتا ہے،کیا خیالات کے اظہار پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اراکین اسمبلی صرف 4مواقع پر آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے،بطور ایڈووکیٹ جنرل سندھ ہاؤس میں رہتا تھا، سندھ ہاؤس میں ایسی کوئی ڈیوائس نہیں تھی جو ضمیر جگائے ،حکومتی جماعت کے لوگوں کا سندھ ہاؤس میں جاتے ہی ضمیر جاگ گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے خلاف کوئی فیصلہ کریں تو کیا رکن مخالفت نہیں کر سکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کے خلاف کام ہونے پر رکن خود کو پارٹی سے الگ کر سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیاکہ پارٹی سے اختلاف کرنے والا شخص کیا دوبارہ مینڈیٹ لے سکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بتانا ہوگا کہ رکن تاحیات نااہل کب ہوگا؟ 62ون ایف کوالی فکیشن کی بات کرتا ہے ،62ون ایف میں نااہلی کی بات نہیں کی گئی، ذاتی مفاد کیلئے اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانا بے وفائی ہے،پارٹی کے اندر جمہوریت ہوتو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت نہیں رہتی، آرٹیکل63 اے کی خوبصورتی ہے کہ اسے استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مناسب نہ ہوتا کہ صدر پارلیمانی جماعتوں کوبلا کر مشورہ کرتے،کیا عدالت سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرنا مناسب نہیں ہوتا؟ پارلیمانی جماعتوں سے ملکر آئین میں ترمیم ہو سکتی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ غلام اسحاق اسی طرح سب کو بلایا کرتے تھے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ابھی تو کسی نے انحراف کیا ہی نہیں آپ ریفرنس لے آئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم کو ہونے سے روکنا مقصد ہے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ جرم ہونے سے پہلے سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون واضح کرنے کیلئے عدالت آئے ہیں،جرم ہو تو سزا دینے کے لیے قانون واضح ہونا چاہیے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا اس سپریم کورٹ کا کام ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حسبہ بل کے ڈرافٹ پر ہی حکومت عدالت آگئی تھی،حسبہ بل ریفرنس میں بھی قانون نہ بننے کا اعتراض آیا تھا ،سپریم کورٹ نے بل کی منظوری نہ ہونے کا اعتراض مسترد کر دیا تھا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 63 اے کے تحت اعتراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا عدالت ریفرنس میں جوڈیشل اختیارات استعمال کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے اٹھارہویں ترمیم پر ہونے والے پارلیمانی بحث عدالت میں پیش کردی. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خالی جگہ عدالت نے پر کرنی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62ون ایف میں بھی خالی جگہ موجود ہے،عدالت نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کر دی،

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ لوٹوں کو سپورٹ کرنے والا آخری شخص ہوں گا،پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف الیکشن کمیشن کا فورم موجود ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کی بھوک مٹانے کے لیے چوری کرنا بھی جرم ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کوئی چوری کرنے والے کا ساتھ جائے تو کیا ہو گا؟ صدر مملکت کو ایسا مسئلہ کیا ہے؟ جو رائے مانگ رہے ہیں، صدر کے سامنے ایسا کونسا مواد ہے جس پر سوال پوچھے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے، جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا عدالت آئین میں کسی فل ا سٹاپ کا بھی اضافہ کر سکتی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل62اور63میں براہ راست تعلق ثابت کروں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے کسی آرٹیکل کو الگ سے نہیں پڑھا جاسکتا،آرٹیکل62اور63 کو ملا کر پڑھا جاتا ہے، پارلیمانی بحث میں ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا گیا ہے،

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گزشتہ روزعدالت نے جلسوں کے بارے میں یقین دہانی لی،ایک پارٹی اجازت کی خلاف ورزی کرکے کشمیر ہائی وے بلاک کررہی ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مجھے کچھ دیر پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اس کو بیٹھ کر حل کریں گے

    جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے، تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے،ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 بناتے وقت کس چیز کا خوف تھا؟ پارلیمنٹ نے آئین میں ڈی سیٹ سے زیادہ کچھ نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل62ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی بھی پارلیمنٹ نے نہیں کی،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر تمام جماعتیں متفق ہیں تو آئین میں ترمیم کر لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین ازخود نہیں بلکہ عدالتوں کے ذریعے بولتا ہے ،آئین کی درست تشریح عدالت ہی کرسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے بھی آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی شامل کی جاسکتی تھی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر ووٹ شمار نہ ہو تو دوسری کشتی میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اے آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دفعہ 302 بھی قتل سے نہیں روکتی لیکن جیل جانا پڑتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ قتل تو 302 کی سزا کے باوجود بھی ہو رہے ہیں، آرٹیکل 63 اے کے تحت رکن اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے؟رکن پارٹی ڈائریکشن کی خلاف ورزی کرے گا تو آئینی نتائج بھگتے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت آج تک کوئی نااہل نہیں ہوا،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر پیسے لینا ثابت کرنا ضروری نہیں، آئندہ سماعت پر دو گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں گا، اٹارنی جنرل نے پیر 2بجے تک دلائل مکمل کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

  • عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا ججز کو تنخواہ دار ملازم کہنا انتہائی نامناسب ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا فل بینچ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جس کو کوئی مسئلہ ہے میرے پاس آئے میرے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں،بینچ تشکیل دینا اور کیس لگانا یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے،عدلیہ اور ججز پر انگلیاں اٹھانا بند کریں، ججز پر الزامات لگانا بند کر دیں،جس بندے پر اعتراض ہے اس کا نام لیں بینچ تشکیل دینا اور کیس لگانا چیف جسٹس کا اختیار ہے،عام طور پر سخت الفاظ استعمال نہیں کرتا،ججز رولز کمیٹی میں میرے برابر جج نے طریقہ کار پر اتفاق رائے کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی تعیناتی بہترین افسران میں سے کی گئی ہے رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور وہ انتظامی کام بھی کرنا جانتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟ کونسا مقدمہ مقرر ہونا ہے اور جس بنچ میں مقرر کرنا ہے یہ فیصلہ میں کرتا ہوں کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا بنچ تشکیل دینے کا اختیار ہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے احسن بھون کس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ بیس سال سے بینچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں ؟ رجسٹرار کی تعیناتی چیف جسٹس کرتے ہیں ججز تقرری کیلئے سب سے اہم ان کی دیانتداری، اہلیت، اور قابلیت ہے،جج کا تحمل اور اس کی ہر قسم کے اندرونی یا بیرونی دباو سے آزادی اہم ہے، اگر آکر مجھ سے بات نہیں کر سکتے تو آپ محض اخباروں کی زینت بننا چاہتے ہیں،احسن بھون کو کون سی عدالتی پریکٹس پر اعتراض ہے؟میرے دروازے احسن بھون کےلیے رات 9 بجے بھی کھلے ہیں ہماری تقرری غیرجانبدار ہوتی ہے،ہم بنا کسی دباؤ کام کرنے والے لوگ ہیں،میرے رجسٹرار کو گالیاں دینا بند کریں،میرے رجسٹرار کا 20 سالہ تعلیمی تجربہ ہے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم لوگ تو برادری کی بات باہر نہیں کرتے گھر کی بات گھر تک رہنی چاہیے، بینچز کی تشکیل پر اعتراض کرنے والے بتائیں کہ 15 سے 20 سال کیسے بینچ تشکیل دیئے گئے؟ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ملک بھر کے وکلا کا نمائندہ ہوتا ہے، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عہدے اور منصب کا خیال رکھیں، رجسٹرار سپریم کورٹ جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسے ادا کرنی ہے، چند روز بعد چلا جاؤں گا،حق اور سچ کے مطابق ذمہ داری ادا کرنے کا موقع دیا جائے

    جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں خاتون جج عائشہ اے ملک کی تقرری تاریخی اقدام ہے،7دہائی یہ سمجھنے میں لگ گئیں کہ صنف اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کیلئے رکاوٹ نہیں میری اہلیہ اور پورے خاندان نے ہر اچھے برے وقت میں ساتھ نبھایا،ججز،اٹارنی جنرل اور بار نمائندگان کا اچھے الفاظ میں یاد کرنے پرمشکور ہوں

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خط سے تاثر ملتا ہے کہ اعلی عدلیہ میں تقسیم کا عنصر موجود ہے امید ہے چیف جسٹس پاکستان عدلیہ کی تقسیم کا عنصر ختم کریں گے احسن بھون نے حضرت علیؓ کا ایک قول پڑھا "چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر تم کڑہتے ہو یہی گھر بسانے کی باتیں ہوتی ہیں” کمرہ عدالت میں بیٹھے اکثر لوگوں کی طرح چیف جسٹس بھی مسکرا دیے !

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

  • اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر سماعت کر رہا ہے خیبرپختونخوا اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرلزعدالت میں موجود ہیں سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آئےانہوں نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے بیٹھ جائیں-

    عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کو نوٹسز کیے تھے وہ آج موجود ہیں؟ صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹسز جاری کریں؟-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہے تو صوبوں کو نوٹس جاری کرسکتی ہے صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کا حصہ ہیں جس پر عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی صدارتی ریفرنس پر نوٹسز جاری کردیئے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی جے یو آئی نے کشمیر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست کی ہےکشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے،کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں قانون کسی کو ووٹنگ سے 48 گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے-

    سماعت کے دوران جے یو آئی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے جے یو آئی وکیل سے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی آبزرویشن پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نےستفسار کیا کہ جے یو آئی کا جلسہ تو عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہے؟

    عدالت نے سندھ ہاوس کے معاملے پر آرڈر لکھوانا شروع کردیا-

    ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی پیش رفت پر مطمئن ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بار کی درخواست کو یہ عدالت اب صرف سندھ ہاوس پر حملے تک محدود رکھے گی،سندھ حکومت کو اگر کوئی مسئلہ ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے-

    جسٹس مظہر عالم نے سندھ ہاؤس پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے حکم دیا کہ تمام جماعتیں جمہوری اقدار کی پاسداری کریں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا سا تھ ہی اٹارنی جنرل کی جانب سے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں جس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال 1992کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی، آرٹیکل 63 اےکے تحت اراکین پارٹی ہدایات کے پابند ہیں وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد پر ارکان پارٹی پالیسی پر ہی چل سکتے ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے؟ جواب میں اٹاعنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، نااہلی کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح ہے آرٹیکل 63،62 اے کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا عدالت پارلیمانی نظام کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دے چکی عام شہری اور رکن اسمبلی کےووٹ میں فرق بتانا چا رہے ہیں

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ریفرنس میں بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا، جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ عام شہری اور اراکین اسمبلی کے ووٹ کیلئے قوانین الگ الگ ہیں سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیاد ہیں عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی آبزرویشن دی عدالت نے کہا مسلم لیگ بطور جماعت کام نہ کرتی تو پاکستان نہ بنتا عدالت نے کہا مسلم لیگ کے ارکان آزادانہ الیکشن لڑتے تو پاکستان نہ بن پاتا-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی-

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں دی گی آبزرویشن بہت اہمیت کی حامل ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ ایوان میں اجتماعی حثیت میں سامنے آتا ہے سیاسی جماعتیں عوام کے لیے ایوان میں قانون سازی کرتی ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق اراکین اسمبلی کو ہے نہ کہ پارٹی اراکین کو جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ چار مواقع پر اراکین اسمبلی کے لیے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے ارٹیکل 63اے لایا گیا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی میں بات نہ سنی جا رہی ہو تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹکٹ لیتے وقت امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کب آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟زیادہ تر جمہوری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے؟ اب پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چیئر ہی چلتی رہے گی-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے،ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال پر نہیں جاوں گا، یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑنا چاہیے-

    جسٹس جمال مندو خیل نے سوال کیا کہ کیا فلور کراسنگ کی اجازت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے؟ کیا آپ پارٹی لیڈر کو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین نے پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے،پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کے لیے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے؟ اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں-

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا- اٹارنی جنرل نے کہا یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کیساتھ مل جائیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا بلوچستان میں دونوں گروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیئں عدالت نے آرٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ اور کتنا وقت لینگے؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ میں مزید 3 گھنٹے دلائل دوں گا-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کل ہمارے ایک جج ریٹائر ہو رہے ہیں کیا پیر تک سماعت ملتوی کریں؟سب مشورہ دیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا؟

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے مغرب کےبعض ممالک میں فلورکراسنگ کی اجازت ہے-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرمعاشرے کے اپنے ناسورہوتے ہیں انہوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں کےاندربحث ہوتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ بحث کیاہوگی کہ سندھ ہاؤس میں بیٹھ کرپارٹی پرتنقید ہورہی ہے کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیے؟ کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں؟-

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے،اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کے خلاف ڈالے بغیر آرٹیکل 63 اے قابل عمل نہیں ہو گا –

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈکلیئریشن پر کیا انکوائری کرے گا؟ کیا الیکشن کمیشن تعین کرے گا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں؟ –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا-

    عدالت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کل ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی-

  • سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ،ریڈ زون کو سیل کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ،ریڈ زون کو سیل کردیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پرریڈ زون کو سیل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق سرینا چوک، نادرا، ڈی چوک اور میریٹ چوک سے تمام راستے بند کردیئے گئے۔پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے سیکرٹریٹ اور سپریم کورٹ جانے کیلئے صرف مارگلہ روڈ والا راستہ کھلا ہے-

    سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے پولیس کی واٹرکینن بھی سپریم کورٹ کے قریب پہنچا دی گئی ہے، ریڈزون کے داخلی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    واضح رہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس اور سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت آج ہوگی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ دن ایک بجے سماعت کرے گا، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر بنچ کا حصہ ہوں گے-

    صدارتی ریفرنس پر عدالت نے وفاقی حکومت سمیت اپوزیشن جماعتوں کو نوٹس جاری کر رکھا ہے، گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا کو تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیا تھا عدالت نے واضح کیا تھا کہ صدارتی ریفرنس کیوجہ سے پارلیمنٹ کی کاروائی تاخیر کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے تھے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سے نہیں روکا جاسکتا۔

    اپوزیشن اپنے بچھائے ہوئے جال میں پھنس چکی ہے،شیخ رشید

    عدالت نے قرار دیا کہ صدارتی ریفرنس پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد فیصلہ کیا جائے گا، جسٹس قاضی فائز عیسی لارجر بنچ میں سینئر ججز کو شامل نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب عدالت عظمیٰ،سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا ہے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا،عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں، جے یو آئی نے موقف اختیارکیا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔

    کورونا وبا: پاکستان میں دوسرے روز بھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،مثبت کیسز کی شرح 0.69 فیصد

  • پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی ،سابق صدر آصف علی زرادری اور تحریک انصاف نے صدارتی ریفرنس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی :مسلم لیگ ن کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اور 95 واضح ہے، ہر رکن کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور ہر رکن اسمبلی کا کاسٹ کیا گیا ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو گا۔

    مسلم لیگ ن کے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس قبل از وقت اور غیر ضروری مشق ہے، سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے، آئینی ترمیم کا نہیں۔

    تحریک انصاف کی جانب سے جواب سینیٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ میں جمع کرایا تحریک انصاف نے نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب یں کہا کہ جواب ووٹ اجتماعی ہے-

    تحریک انصاف نے جواب میں کہا کہ ممبر پارٹی سے ہٹ کر ووٹ نہیں دے سکتا، اکیلا ووٹ شمار میں نہیں کیاجائے گا، اگر کوئی منحرف ہو جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب جمع کرادیا، جواب سینیٹر فاروق نائیک کے زریعے جمع کرایا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس آر ٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اگر اس صدارتی ریفرنس کے تحت فیصلہ یا رائے دی گئی تواپیل کا حق بھی متاثر ہوگا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے جواب میں کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، یہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں، واپس کیا جائے۔ رکن اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے 63 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔

    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی صدارتی ریفرنس پر جواب جمع کرادیا انہوں نے جواب لطیف کھوسا کے زریعے جمع کرایا گیا۔

    قبل ازیں عدالت عظمیٰ،سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا یا تھا-

    سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا،عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں-

    سپریم کورٹ بارنے اپنے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 63 کے تحت کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے پہلے نہیں روکا جاسکتا آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خودمختار ہے آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں، جے یو آئی نے موقف اختیارکیا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔

    دوسری جانب جے یو آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا گیا کہ تحریک انصاف میں پارٹی الیکشن نہیں ہوئے جماعت سلیکٹڈ عہدیدار چلا رہے ہیں، سلیکٹڈ عہدیدار آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں کر سکتے۔

    سپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، لازمی نہیں کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی ریفرنس پر رائے دی جائے۔ سپریم کورٹ نے پہلے رائے دی تو الیکشن کمیشن کا فورم غیر موثر ہو جائے گا۔ آرٹیکل 63 اے پہلے ہی غیر جمہوری ہے آزاد جیت کر پارٹی میں شامل ہونے والوں کی نشست بھی پارٹی کی پابند ہو جاتی ہے ریفرنس سے لگتا ہے صدر وزیراعظم اور سپیکر ہمیشہ صادق اور امین ہیں اور رہیں گے۔

    جے یو آئی نے جواب جمع کرایا کہ پارٹی کیخلاف ووٹ پر تاحیات نااہلی کمزور جمہوریت کو مزید کم تر کرے گی صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرے سے باہر ہے، صدارتی ریفرنس پارلیمنٹ کی بالا دستی کو ختم کرنے کے مترادف ہے، صدارتی ریفرنس بغیر رائے دیئے واپس کردیا جائے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری نے سپریم کورٹ بار کے جواب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وکیل وکلا تنظیموں کےاس کردار سےنالاں ہیں وکلا تنظیموں کا کام سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا نہیں اپنی آزادانہ حیثیت برقراررکھنا ہے،سپریم کورٹ بار کا جواب پڑھ کر لگتا ہے بار باڈی ن لیگ کے ماتحت ہے-

    خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے بار کونسل اور سیاسی جماعتوں سے بھی جواب طلب کیا تھا-

  • صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط
    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا معاملہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اتنے اہم کیس کیلئے بینچ کی تشکیل سے پہلے کسی سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی،لارجر بینچ میں سینئر ججوں کو شامل نہیں کیا گیابینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پرچوتھے،8ویں اور 13ویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا،جہاں اہم قانونی اور آئینی سوالات ہوں وہاں سینئر ججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار تقرری پر بھی اعتراض کیا، اور کہا کہ میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے،یہ خط لکھنے سے پہلے 2بار سوچا ،سپریم کورٹ نے بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ جس پر پوری قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جج کا حلف کہتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی میں ذاتی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھے گا، کہاوت ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظربھی آئے، کہاوت کا ذکر ججز کے ضابطہ اخلاق میں پانچویں نمبر میں بھی درج ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق بینچ کی تشکیل کا اختیار شفاف مبنی بر انصاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ جناب چیف جسٹس کئی مرتبہ آپ کو تحریری طور پر مطلع کر چکا ہوں، ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے درآمد کرکے رجسٹرار تعینات کیا گیا عام تاثرہے کہ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہو میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا ،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے اور وقت کی بھی تنگی ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں،تحریری دلائل جمع ہونے سے زبانی دلائل جلد مکمل ہو سکیں گے،عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے،اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کو ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی مناسب جگہ کے تعین کی تجویز خوش آئند ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں کے وکلاکی ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرانے کی ہدایت کی

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا،عدالت کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ریڈ زون کی سخت سیکیورٹی سے آگاہ کیا گیا،صدارتی ریفرنس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے،حکومت کی اتحادی جماعتیں فریق بننا چاہیں تو بن سکتی ہیں،بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گاریڈ زون سے باہر جلسے کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں،کیس جلد نمٹانے کیلئے تمام فریقین تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں،سپریم کورٹ بار کی جلسے روکنے سے متعلق درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت 24 مارچ کو ہوگی

    صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہییں،24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی

     

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

  • قومی احتساب بیورو و دیگر  کو نوٹس جاری کر نے کا حکم

    قومی احتساب بیورو و دیگر کو نوٹس جاری کر نے کا حکم

    کراچی :قومی احتساب بیورو و دیگر کو نوٹس جاری کر نے کا حکم،اطلاعات کےمطابق محفوظ النبی خان کی نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے قومی احتساب بیورو سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں‌

    جسٹس مقبول باقر، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بیئچ نے سماعت کی عدالت نے 12 مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت آئندہ سنوائی تک موخر کردی۔

    درخواست میں لائنز ایریا کے تین بڑے کمرشل پلاٹوں پر نیب کی جانب سے پلی بارگین کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کلفٹن میں پانی کا بحران اور ٹینکرز مافیا کی جانب سے پانی پیسوں پر فروخت کرنے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں پہنچ گیا

    آج تک آپ نے واٹر ہائیڈرنٹس کیوں نہیں بنائے ؟ عدالت کا وکیل کینٹونمنٹ بورڈ کلفٹن سے مکالمہ ،اس موقعر جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ پرائیویٹ لوگ بنا سکتے ہیں تو آپ لوگ کیوں نہیں بناتے۔ جسٹس سید حسن اظھر رضوی نے کہا کہ آپ لوگ شہریوں پر پورا بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    جسٹس سید حسن اظھر رضوی نے مزید کہاکہ سمندر میں سارا گندا پانی پھینک رہے ہیں۔کیٹونمنٹ کلفٹن بورڈ کو پانی کے چارجز وصول کرنے کو اختیار نہیں ہے۔ منظور کالونی میں واٹر ہائیڈرنٹس پکڑے گئے۔ جسٹس سید حسن اظھر رضوی نے کہا کہ پانی تو دستیاب ہے لیکن چوری ہورہا ہے۔

    دوسری طرف وکیل کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے کہا کہ پانی چوری کرنے سے متعلق شکایت کر چکے ہیں۔ 9 ایم جی ڈی سے 4 ایم جی ڈی پانی مل رہا ہے، وکیل کا کہنا تھا یہ لیکن دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں کی کیا پلاننگ ہے، شہریوں کو کیسے پانی دو گے؟ عدالت نے آئندہ سماعت پر کینٹونمنٹ بورڈ کلفٹن سے رپورٹ طلب کرلی