Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کا ججز کو تنخواہ دار ملازم کہنا انتہائی نامناسب ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا فل بینچ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جس کو کوئی مسئلہ ہے میرے پاس آئے میرے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں،بینچ تشکیل دینا اور کیس لگانا یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے،عدلیہ اور ججز پر انگلیاں اٹھانا بند کریں، ججز پر الزامات لگانا بند کر دیں،جس بندے پر اعتراض ہے اس کا نام لیں بینچ تشکیل دینا اور کیس لگانا چیف جسٹس کا اختیار ہے،عام طور پر سخت الفاظ استعمال نہیں کرتا،ججز رولز کمیٹی میں میرے برابر جج نے طریقہ کار پر اتفاق رائے کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی تعیناتی بہترین افسران میں سے کی گئی ہے رجسٹرار کو قانون کا بھی علم ہے اور وہ انتظامی کام بھی کرنا جانتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں انتظامی کام بھی میں کروں؟ کونسا مقدمہ مقرر ہونا ہے اور جس بنچ میں مقرر کرنا ہے یہ فیصلہ میں کرتا ہوں کسی جج کو بغیر ثبوت کے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا بنچ تشکیل دینے کا اختیار ہمیشہ سے چیف جسٹس کا رہا ہے احسن بھون کس روایت کی بات کر رہے ہیں؟ بیس سال سے بینچز چیف جسٹس ہی بناتے ہیں بلاوجہ اعتراضات کیوں کیے جاتے ہیں ؟ رجسٹرار کی تعیناتی چیف جسٹس کرتے ہیں ججز تقرری کیلئے سب سے اہم ان کی دیانتداری، اہلیت، اور قابلیت ہے،جج کا تحمل اور اس کی ہر قسم کے اندرونی یا بیرونی دباو سے آزادی اہم ہے، اگر آکر مجھ سے بات نہیں کر سکتے تو آپ محض اخباروں کی زینت بننا چاہتے ہیں،احسن بھون کو کون سی عدالتی پریکٹس پر اعتراض ہے؟میرے دروازے احسن بھون کےلیے رات 9 بجے بھی کھلے ہیں ہماری تقرری غیرجانبدار ہوتی ہے،ہم بنا کسی دباؤ کام کرنے والے لوگ ہیں،میرے رجسٹرار کو گالیاں دینا بند کریں،میرے رجسٹرار کا 20 سالہ تعلیمی تجربہ ہے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں فیصلوں پر تنقید کریں ججز کی ذات پر نہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم لوگ تو برادری کی بات باہر نہیں کرتے گھر کی بات گھر تک رہنی چاہیے، بینچز کی تشکیل پر اعتراض کرنے والے بتائیں کہ 15 سے 20 سال کیسے بینچ تشکیل دیئے گئے؟ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ملک بھر کے وکلا کا نمائندہ ہوتا ہے، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عہدے اور منصب کا خیال رکھیں، رجسٹرار سپریم کورٹ جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسے ادا کرنی ہے، چند روز بعد چلا جاؤں گا،حق اور سچ کے مطابق ذمہ داری ادا کرنے کا موقع دیا جائے

    جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں خاتون جج عائشہ اے ملک کی تقرری تاریخی اقدام ہے،7دہائی یہ سمجھنے میں لگ گئیں کہ صنف اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کیلئے رکاوٹ نہیں میری اہلیہ اور پورے خاندان نے ہر اچھے برے وقت میں ساتھ نبھایا،ججز،اٹارنی جنرل اور بار نمائندگان کا اچھے الفاظ میں یاد کرنے پرمشکور ہوں

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خط سے تاثر ملتا ہے کہ اعلی عدلیہ میں تقسیم کا عنصر موجود ہے امید ہے چیف جسٹس پاکستان عدلیہ کی تقسیم کا عنصر ختم کریں گے احسن بھون نے حضرت علیؓ کا ایک قول پڑھا "چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر تم کڑہتے ہو یہی گھر بسانے کی باتیں ہوتی ہیں” کمرہ عدالت میں بیٹھے اکثر لوگوں کی طرح چیف جسٹس بھی مسکرا دیے !

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

  • اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    اگرحکومت کے پاس جواب ہےتوعدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ عدالت اٹارنی جنرل کے سوال پر برہم

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر سماعت کر رہا ہے خیبرپختونخوا اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرلزعدالت میں موجود ہیں سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آئےانہوں نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے بیٹھ جائیں-

    عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعتوں کو نوٹسز کیے تھے وہ آج موجود ہیں؟ صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹسز جاری کریں؟-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہے تو صوبوں کو نوٹس جاری کرسکتی ہے صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کا حصہ ہیں جس پر عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی صدارتی ریفرنس پر نوٹسز جاری کردیئے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی جے یو آئی نے کشمیر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست کی ہےکشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے،کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں قانون کسی کو ووٹنگ سے 48 گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے-

    سماعت کے دوران جے یو آئی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا ،چیف جسٹس عمر عطابندیال نے جے یو آئی وکیل سے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی آبزرویشن پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نےستفسار کیا کہ جے یو آئی کا جلسہ تو عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہے؟

    عدالت نے سندھ ہاوس کے معاملے پر آرڈر لکھوانا شروع کردیا-

    ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی پیش رفت پر مطمئن ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بار کی درخواست کو یہ عدالت اب صرف سندھ ہاوس پر حملے تک محدود رکھے گی،سندھ حکومت کو اگر کوئی مسئلہ ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے-

    جسٹس مظہر عالم نے سندھ ہاؤس پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے-

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے حکم دیا کہ تمام جماعتیں جمہوری اقدار کی پاسداری کریں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا سا تھ ہی اٹارنی جنرل کی جانب سے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں جس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال 1992کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی، آرٹیکل 63 اےکے تحت اراکین پارٹی ہدایات کے پابند ہیں وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد پر ارکان پارٹی پالیسی پر ہی چل سکتے ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے؟ جواب میں اٹاعنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، نااہلی کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح ہے آرٹیکل 63،62 اے کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا عدالت پارلیمانی نظام کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دے چکی عام شہری اور رکن اسمبلی کےووٹ میں فرق بتانا چا رہے ہیں

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سینیٹ الیکشن ریفرنس میں بھی یہ معاملہ سامنے آیا تھا، جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ عام شہری اور اراکین اسمبلی کے ووٹ کیلئے قوانین الگ الگ ہیں سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیاد ہیں عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی آبزرویشن دی عدالت نے کہا مسلم لیگ بطور جماعت کام نہ کرتی تو پاکستان نہ بنتا عدالت نے کہا مسلم لیگ کے ارکان آزادانہ الیکشن لڑتے تو پاکستان نہ بن پاتا-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی-

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں دی گی آبزرویشن بہت اہمیت کی حامل ہے-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ ایوان میں اجتماعی حثیت میں سامنے آتا ہے سیاسی جماعتیں عوام کے لیے ایوان میں قانون سازی کرتی ہیں-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق اراکین اسمبلی کو ہے نہ کہ پارٹی اراکین کو جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ چار مواقع پر اراکین اسمبلی کے لیے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے ارٹیکل 63اے لایا گیا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی میں بات نہ سنی جا رہی ہو تو مستعفی ہوا جا سکتا ہے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹکٹ لیتے وقت امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کب آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟زیادہ تر جمہوری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے؟ اب پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چیئر ہی چلتی رہے گی-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے،ہارس ٹریڈنگ روکنے کے سوال پر نہیں جاوں گا، یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑنا چاہیے-

    جسٹس جمال مندو خیل نے سوال کیا کہ کیا فلور کراسنگ کی اجازت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے؟ کیا آپ پارٹی لیڈر کو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین نے پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے،پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کے لیے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے-

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے؟ اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں-

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا- اٹارنی جنرل نے کہا یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کیساتھ مل جائیں-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا بلوچستان میں دونوں گروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے –

    چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیئں عدالت نے آرٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ اور کتنا وقت لینگے؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ میں مزید 3 گھنٹے دلائل دوں گا-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ کل ہمارے ایک جج ریٹائر ہو رہے ہیں کیا پیر تک سماعت ملتوی کریں؟سب مشورہ دیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا؟

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے مغرب کےبعض ممالک میں فلورکراسنگ کی اجازت ہے-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہرمعاشرے کے اپنے ناسورہوتے ہیں انہوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا سیاسی جماعتوں کےاندربحث ہوتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ بحث کیاہوگی کہ سندھ ہاؤس میں بیٹھ کرپارٹی پرتنقید ہورہی ہے کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیے؟ کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں؟-

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے،اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے؟ اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں-

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کے خلاف ڈالے بغیر آرٹیکل 63 اے قابل عمل نہیں ہو گا –

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈکلیئریشن پر کیا انکوائری کرے گا؟ کیا الیکشن کمیشن تعین کرے گا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں؟ –

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا-

    عدالت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح کےلیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کل ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی-

  • سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ،ریڈ زون کو سیل کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ،ریڈ زون کو سیل کردیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پرریڈ زون کو سیل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق سرینا چوک، نادرا، ڈی چوک اور میریٹ چوک سے تمام راستے بند کردیئے گئے۔پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے سیکرٹریٹ اور سپریم کورٹ جانے کیلئے صرف مارگلہ روڈ والا راستہ کھلا ہے-

    سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے پولیس کی واٹرکینن بھی سپریم کورٹ کے قریب پہنچا دی گئی ہے، ریڈزون کے داخلی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    واضح رہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس اور سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت آج ہوگی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ دن ایک بجے سماعت کرے گا، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم ،سٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منیب اختر بنچ کا حصہ ہوں گے-

    صدارتی ریفرنس پر عدالت نے وفاقی حکومت سمیت اپوزیشن جماعتوں کو نوٹس جاری کر رکھا ہے، گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا کو تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیا تھا عدالت نے واضح کیا تھا کہ صدارتی ریفرنس کیوجہ سے پارلیمنٹ کی کاروائی تاخیر کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے تھے کہ کسی بھی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سے نہیں روکا جاسکتا۔

    اپوزیشن اپنے بچھائے ہوئے جال میں پھنس چکی ہے،شیخ رشید

    عدالت نے قرار دیا کہ صدارتی ریفرنس پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد فیصلہ کیا جائے گا، جسٹس قاضی فائز عیسی لارجر بنچ میں سینئر ججز کو شامل نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

    دوسری جانب عدالت عظمیٰ،سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا ہے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا،عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں، جے یو آئی نے موقف اختیارکیا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔

    کورونا وبا: پاکستان میں دوسرے روز بھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،مثبت کیسز کی شرح 0.69 فیصد

  • پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی ،سابق صدر آصف علی زرادری اور تحریک انصاف نے صدارتی ریفرنس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی :مسلم لیگ ن کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اور 95 واضح ہے، ہر رکن کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور ہر رکن اسمبلی کا کاسٹ کیا گیا ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو گا۔

    مسلم لیگ ن کے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس قبل از وقت اور غیر ضروری مشق ہے، سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے، آئینی ترمیم کا نہیں۔

    تحریک انصاف کی جانب سے جواب سینیٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ میں جمع کرایا تحریک انصاف نے نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب یں کہا کہ جواب ووٹ اجتماعی ہے-

    تحریک انصاف نے جواب میں کہا کہ ممبر پارٹی سے ہٹ کر ووٹ نہیں دے سکتا، اکیلا ووٹ شمار میں نہیں کیاجائے گا، اگر کوئی منحرف ہو جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب جمع کرادیا، جواب سینیٹر فاروق نائیک کے زریعے جمع کرایا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس آر ٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اگر اس صدارتی ریفرنس کے تحت فیصلہ یا رائے دی گئی تواپیل کا حق بھی متاثر ہوگا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے جواب میں کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، یہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں، واپس کیا جائے۔ رکن اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے 63 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔

    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی صدارتی ریفرنس پر جواب جمع کرادیا انہوں نے جواب لطیف کھوسا کے زریعے جمع کرایا گیا۔

    قبل ازیں عدالت عظمیٰ،سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا یا تھا-

    سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا،عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں-

    سپریم کورٹ بارنے اپنے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 63 کے تحت کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے پہلے نہیں روکا جاسکتا آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خودمختار ہے آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں، جے یو آئی نے موقف اختیارکیا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔

    دوسری جانب جے یو آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا گیا کہ تحریک انصاف میں پارٹی الیکشن نہیں ہوئے جماعت سلیکٹڈ عہدیدار چلا رہے ہیں، سلیکٹڈ عہدیدار آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں کر سکتے۔

    سپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، لازمی نہیں کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی ریفرنس پر رائے دی جائے۔ سپریم کورٹ نے پہلے رائے دی تو الیکشن کمیشن کا فورم غیر موثر ہو جائے گا۔ آرٹیکل 63 اے پہلے ہی غیر جمہوری ہے آزاد جیت کر پارٹی میں شامل ہونے والوں کی نشست بھی پارٹی کی پابند ہو جاتی ہے ریفرنس سے لگتا ہے صدر وزیراعظم اور سپیکر ہمیشہ صادق اور امین ہیں اور رہیں گے۔

    جے یو آئی نے جواب جمع کرایا کہ پارٹی کیخلاف ووٹ پر تاحیات نااہلی کمزور جمہوریت کو مزید کم تر کرے گی صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرے سے باہر ہے، صدارتی ریفرنس پارلیمنٹ کی بالا دستی کو ختم کرنے کے مترادف ہے، صدارتی ریفرنس بغیر رائے دیئے واپس کردیا جائے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری نے سپریم کورٹ بار کے جواب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وکیل وکلا تنظیموں کےاس کردار سےنالاں ہیں وکلا تنظیموں کا کام سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا نہیں اپنی آزادانہ حیثیت برقراررکھنا ہے،سپریم کورٹ بار کا جواب پڑھ کر لگتا ہے بار باڈی ن لیگ کے ماتحت ہے-

    خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے بار کونسل اور سیاسی جماعتوں سے بھی جواب طلب کیا تھا-

  • صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط
    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا معاملہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اتنے اہم کیس کیلئے بینچ کی تشکیل سے پہلے کسی سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی،لارجر بینچ میں سینئر ججوں کو شامل نہیں کیا گیابینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پرچوتھے،8ویں اور 13ویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا،جہاں اہم قانونی اور آئینی سوالات ہوں وہاں سینئر ججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار تقرری پر بھی اعتراض کیا، اور کہا کہ میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے،یہ خط لکھنے سے پہلے 2بار سوچا ،سپریم کورٹ نے بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ یہ ایک ایسا معاملہ جس پر پوری قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جج کا حلف کہتا ہے وہ اپنے فرائض منصبی میں ذاتی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھے گا، کہاوت ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظربھی آئے، کہاوت کا ذکر ججز کے ضابطہ اخلاق میں پانچویں نمبر میں بھی درج ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق بینچ کی تشکیل کا اختیار شفاف مبنی بر انصاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنے خط میں مزید لکھا کہ جناب چیف جسٹس کئی مرتبہ آپ کو تحریری طور پر مطلع کر چکا ہوں، ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے درآمد کرکے رجسٹرار تعینات کیا گیا عام تاثرہے کہ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہو میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا ،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے اور وقت کی بھی تنگی ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں،تحریری دلائل جمع ہونے سے زبانی دلائل جلد مکمل ہو سکیں گے،عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے،اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کو ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی مناسب جگہ کے تعین کی تجویز خوش آئند ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں کے وکلاکی ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرانے کی ہدایت کی

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا،عدالت کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ریڈ زون کی سخت سیکیورٹی سے آگاہ کیا گیا،صدارتی ریفرنس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے،حکومت کی اتحادی جماعتیں فریق بننا چاہیں تو بن سکتی ہیں،بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گاریڈ زون سے باہر جلسے کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں،کیس جلد نمٹانے کیلئے تمام فریقین تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں،سپریم کورٹ بار کی جلسے روکنے سے متعلق درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت 24 مارچ کو ہوگی

    صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہییں،24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی

     

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

  • قومی احتساب بیورو و دیگر  کو نوٹس جاری کر نے کا حکم

    قومی احتساب بیورو و دیگر کو نوٹس جاری کر نے کا حکم

    کراچی :قومی احتساب بیورو و دیگر کو نوٹس جاری کر نے کا حکم،اطلاعات کےمطابق محفوظ النبی خان کی نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے قومی احتساب بیورو سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں‌

    جسٹس مقبول باقر، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بیئچ نے سماعت کی عدالت نے 12 مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت آئندہ سنوائی تک موخر کردی۔

    درخواست میں لائنز ایریا کے تین بڑے کمرشل پلاٹوں پر نیب کی جانب سے پلی بارگین کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کلفٹن میں پانی کا بحران اور ٹینکرز مافیا کی جانب سے پانی پیسوں پر فروخت کرنے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں پہنچ گیا

    آج تک آپ نے واٹر ہائیڈرنٹس کیوں نہیں بنائے ؟ عدالت کا وکیل کینٹونمنٹ بورڈ کلفٹن سے مکالمہ ،اس موقعر جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ پرائیویٹ لوگ بنا سکتے ہیں تو آپ لوگ کیوں نہیں بناتے۔ جسٹس سید حسن اظھر رضوی نے کہا کہ آپ لوگ شہریوں پر پورا بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    جسٹس سید حسن اظھر رضوی نے مزید کہاکہ سمندر میں سارا گندا پانی پھینک رہے ہیں۔کیٹونمنٹ کلفٹن بورڈ کو پانی کے چارجز وصول کرنے کو اختیار نہیں ہے۔ منظور کالونی میں واٹر ہائیڈرنٹس پکڑے گئے۔ جسٹس سید حسن اظھر رضوی نے کہا کہ پانی تو دستیاب ہے لیکن چوری ہورہا ہے۔

    دوسری طرف وکیل کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے کہا کہ پانی چوری کرنے سے متعلق شکایت کر چکے ہیں۔ 9 ایم جی ڈی سے 4 ایم جی ڈی پانی مل رہا ہے، وکیل کا کہنا تھا یہ لیکن دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں کی کیا پلاننگ ہے، شہریوں کو کیسے پانی دو گے؟ عدالت نے آئندہ سماعت پر کینٹونمنٹ بورڈ کلفٹن سے رپورٹ طلب کرلی

  • جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری

    جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ، سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سماعت اہم ہے اور وقت کی بھی تنگی ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرائیں،تحریری دلائل جمع ہونے سے زبانی دلائل جلد مکمل ہو سکیں گے،عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے،اٹارنی جنرل نے سیاسی جماعتوں کو ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کی تجویز دی ہے، انتظامیہ سے ملکر جلسوں کی مناسب جگہ کے تعین کی تجویز خوش آئند ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی جماعتوں کے وکلاکی ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرانے کی ہدایت کی

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں مزید کہا کہ آئی جی اسلام آباد نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ ہاوس جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا،عدالت کو تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ریڈ زون کی سخت سیکیورٹی سے آگاہ کیا گیا،صدارتی ریفرنس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے،حکومت کی اتحادی جماعتیں فریق بننا چاہیں تو بن سکتی ہیں،بہتر ہوگا پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گاریڈ زون سے باہر جلسے کرنے کیلئے اٹارنی جنرل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں،کیس جلد نمٹانے کیلئے تمام فریقین تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں،سپریم کورٹ بار کی جلسے روکنے سے متعلق درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت 24 مارچ کو ہوگی

    صدارتی ریفرنس پر سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہییں،24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت ہو گی

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

  • کوئی بھی ڈی چوک نہیں آ سکتا،جلسے کہیں اور کریں، بڑا حکم آ گیا

    کوئی بھی ڈی چوک نہیں آ سکتا،جلسے کہیں اور کریں، بڑا حکم آ گیا

    کوئی بھی ڈی چوک نہیں آ سکتا،جلسے کہیں اور کریں، بڑا حکم آ گیا
    اسلام آباد انتظامیہ نے وزیراعظم عمران خان اور متحدہ اپوزیشن کو ریڈزون میں جلسہ کرنے سے روک دیا

    انتظامیہ کا حکومت کو پریڈ گراونڈ اور اپوزیشن کو ایچ نائن میں جلسہ کرنے کا آپشن دے دیا ،وفاقی دارالحکومت میں حکومتی ، اپوزیشن کے جلسوں کا معاملہ ،ضلعی انتظامیہ نے ڈی چوک پر جلسے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومتی جلسے کی پریڈ گراؤنڈ میں اجازت کا امکان ہے، اپوزیشن کو ایف نائن میں جلسے کی اجازت کا امکان ہے،

    تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو ڈی چوک پر 27 مارچ کے جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی جب کہ اپوزیشن نے بھی اسی جگہ جلسے کی درخواست دے رکھی تھی۔

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے حکومت اور پی ڈیم ایم پر مشتمل اپوزیشن کو آگاہ کردیا ہے کہ ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے ایک ساتھ جلسہ کرنے کی صورت میں تصادم کا خطرہ ہے اور سیکیورٹی کے مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ضلعی انتظامیہ نے حکومت اور اپوزیشن کو ڈی چوک پر جلسہ کی اجازت نہ دیتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ حکومت پریڈ گراؤنڈ کی پارکنگ میں اپنا جلسہ کرے جبکہ اپوزیشن کو میٹرو اسٹیشن کے قریب گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دنوں فریقین کو کہا ہے کہ جلسہ کا مقام تبدیل کرکے دوبارہ درخواست دیں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی

    سپریم کورٹ نے بھی حکومت اور اپوزیشن کو ریڈ زون میں جلسہ کرنے سے منع کر دیا ساتھ ہی آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم , عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو صدارتی ریفرنس میں نوٹس بھی جاری کر دیئے ٫ لارجر بنچ کیس کی سماعت 24 مارچ کو کریگا

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا تھا کہ کوئی بھی رکن پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے جائے تو اسے روکا نہیں جائے گا عدم اعتماد کے دن عوام کا ریڈ زون میں داخلہ ممکن نہیں ہوسکے گا انتظامیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے تمام ارکان اسمبلی کو بحفاظت اجلاس میں پہنچایا جائے گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جھتے سے گزر کر آنا جانا نہیں ہو سکتا، یہ ہم نہیں ہونے دیں گے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ڈی چوک سے جتنا دور حکومت رہے گی اتنا ہی ہم بھی رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی احتجاج اور جلسے ہوں ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے ہوں، ایک جماعت جہاں جلسہ کر رہی ہو وہاں دوسری کو اجازت نہیں ہوگی، فریقین کے جلسوں کی ٹائمنگ الگ ہو تاکہ تصادم نہ ہوسکے،ریفرنس پر حکومتی اتحادیوں کو نوٹس نہیں کر رہے،تمام جماعتیں تحریری طور پر اپنا موقف دینگی کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا کوئی سوال ریفرنس میں نہیں اٹھایا گیا، موجودہ حالات میں حکومت کا موقف بہت بہتر نظر آ رہا ہے،تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں،کوشش کریں ڈی چوک پر جلسہ نہ ہو،اکھٹے بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں،لوگوں کو لاکر کسی ووٹ ڈالنے والے کو روکنے کی اجازت نہیں دینگے،اسپیکر پر کوئی اعتراض ہو تو پارلیمنٹ میں اٹھائیں اسپیکر بھی آئین کا حصہ ہے،اٹارنی جنرل نے یقین دلایا ہے کہ حکومت پرامن انداز میں احتجاج کرے گی،صدارتی ریفرنس میں سوالات اٹھائیں گے وکلا کی معاونت کو سراہا جائے گا،اگر حکومتی اتحادی اپنی نمائندگی چاہتے ہوں تو گزارشات دے دیں، کوشش کریں گے کہ جلد ریفرنس پر اپنا فیصلہ دیں،صدارتی ریفرنس کیوجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی تاخیر کا شکار نہیں ہوگی

    ن لیگی وکیل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو حکم دیں کہ وہ معاملہ پر ثالثی کرے،ہمارا خدشہ ہے کہ انتظامیہ کے اوپر دباو ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا رہے گی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر بریف دلائل دوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا لہجہ بھی ایڈوائزری ہے، ہم کتنی مٹھاس سے بات کر رہے،سیاست میں تکبر نہیں ہوتا،اگر ہم سب آپس میں افہام و تفہیم سے رہیں تو جمہوریت چل سکتی ہےاگر کسی جماعت پر شبہ ہے تو اگلی سماعت پر بتا دیں

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

  • کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ
    سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی سپریم کورٹ بار کی درخواست پرسماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت ابھی تک اسمبلی کارروائی میں مداخلت پرقائل نہیں ہوئی، عدالت صرف چاہتی ہے کسی کے ووٹ کاحق متاثرنہ ہو،

    اپوزیشن لیڈرشہبازشریف، بلاول بھٹو اورمولانا فضل الرحمان عدالت میں موجود ہیں خواجہ سعد رفیق سردار اختر مینگل شیریں رحمان مریم اورنگزیب رانا ثناء اللہ یوسف رضا گیلانی فیصل کریم کنڈی حافظ حمد اللہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ،

    عدالت نے ماسک کے بغیر آنے والوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے باہر گیلری میں کیس سننے کا انتظام کررہے ہیں،کچھ لوگوں کو اوپر گیلری میں بھجوا دیں،عدالت میں جو اس وقت صورتحال ہے،اس میں کام نہیں ہوسکتا،کمرہ عدالت سے رش ختم کیا جائے، عدالت میں موجود سب لوگ صحت کا خیال رکھیں اخبارات میں ہے کہ سیاسی جماعتوں نے 25 مارچ کو احتجاج کرنا ہے، ہم کسی قسم کی مداخلت نہیں کرینگے،

    فاروق ایچ نائیک نے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا نوٹس عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ سپیکر نے آئین شکنی کی ہے،سپیکر قومی اسمبلی آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کے مرتکب ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ جن پرآرٹیکل 6 لگا ہے پہلے ان پرعمل کروا لیں چیف جسٹس آرٹیکل 6 سے متعلق فاروق نائیک کی بات پرمسکرا دیئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام نکات اسپیکرکے سامنے اٹھائے جا سکتے ہیں، یہ اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے بہتر ہوگا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندرلڑی جائے عدالت نے دیکھنا ہے کسی کے حقوق متاثرنہ ہوں،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رول 37 کی خلاف ورزی صرف بے ضابطگی نہیں ہوگی، آرٹیکل 17 سیاسی جماعتیں بنانے کے حوالے سے ہے

    وکیل سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اسپیکرنے 25 مارچ کو اجلاس طلب کرنے کا کہا ہے،آرٹیکل 95 کے تحت 14دن میں اجلاس بلانا لازم ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی ایونٹ کی وجہ سے کوئی ووٹ ڈالنے سے محروم نہ ہو،ووٹ ڈالنا ارکان کا آئینی حق ہے، بار اگر زیادہ تفصیلات میں گئی تو جسٹس منیب اختر کی آبزرویشن رکاوٹ بنے گی سوال یہی ہے کہ ذاتی چوائس پارٹی موقف سے مختلف ہو سکتی ہے یا نہیں؟

    وکیل سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہیے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی کس شق کے تحت رکن اسمبلی آزادی سے ووٹ ڈال سکتا ہے، وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 91 کے تحت ارکان اسپیکر اور دیگر عہدیداروں کا انتحاب کرتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کا کیس آئین کی کس شق کے تحت ہے یہ تو بتا دیں،سپریم کورٹ میں وکیل بار کی جانب سے آرٹیکل 66 کا حوالہ دیا گیا،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 66 کے تحت ووٹ کا حق کیسے مل گیا؟ آرٹیکل 66 تو پارلیمانی کارروائی کو تحفظ دیتا ہے، آرٹیکل 63 اے کے تحت تو رکن کے ووٹ کا کیس عدالت جاسکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار کے وکیل کا اس عمل سے کیا تعلق ہے ؟ بار ایسوسی ایشن عوامی حقوق کی بات کرے جسٹس منیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہونی چاہیے؟ وکیل سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد بھی عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کے تحت سب سے مرکزی ادارہ ہے،پارلیمنٹ کا کام آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں،آرٹیکل 63 اے پارٹیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،عوامی مفاد میں کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،عوام کا کاروبار زندگی بھی کسی وجہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے۔ کسی ایم این اے کے ذاتی ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں

    عوام کو اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ کو وفاقی حکومت کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ کویقین دہانی کروائی اور کہا کہ حلف دے کر کہتا ہوں عدم اعتماد والے دن پارلیمنٹ کے باہر ہجوم نہیں ہوگا کسی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا۔ آئین کی کوئی شق کسی منحرف رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکتی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی کو بھی ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جا سکتا لیکن جب کوئی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرے گا تو ان پر قانون کا اطلاق ہو گا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے وکیل تیاری کیساتھ نہیں آئے،بار کو سندھ ہاؤس پر بات کرتے ہوئے خوف کیوں آرہا ہے؟ بار کو عدم اعتماد کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں،بار کے وکیل کو سن چکے ہیں اب آئی جی اسلام آباد کو سنیں گے، چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ کیا دفعہ 144 لگ گئی ہے؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے،ریڈ زون کے اطراف تک دفعہ 144 کا دائرہ بڑھا دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق 5بجکر 45 منٹ پر 35 سے 40 مظاہرین سندھ ہاوس پہنچے ،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مظاہرین جھتے کی صورت میں نہیں آئے تھے دو اراکین اسمبلی سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا گیا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کوئی رکن اجلاس میں نہ آنا چاہیے تو زبردستی نہیں لایا جائے گا پارٹی سربراہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے ،عدالت نے کہا کہ کوئی جماعت اجلاس میں مداخلت سے روکے اور اسکا ممبر اسمبلی چلا جائے تو کیا ہو گا ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کو روکا نہیں جاسکتا،اس نقطے پر حکومت سے ہدایات کی بھی ضرورت نہیں، پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے پر آرٹیکل 63 اے کی کارروائی ہو گی،حکمران جماعت پر ہارس ٹریڈنگ کا کوئی الزام نہیں،بطور اٹارنی جنرل کسی اپوزیشن جماعت پر بھی الزام نہیں لگاؤں گا،بینظیر بھٹو نے عدم اعتماد پر اراکین کو زبردستی لانے کا حکم دیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکتا تھا، کوئی بھی سرکاری افسر غیر قانونی حکم ماننے کا پابند نہیں، یقین دہانی کروتا ہوں کہ پارلیمانی کارروائی آئین کے مطابق ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏سندھ ہاؤس میں واقعہ پر اٹارنی جنرل کا موقف خوش آئند ہے،تمام سیاسی جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں، توقع ہے حکومت بھی سندھ ہاؤس واقعے کی مذمت کرے گی ،سیاسی جماعتوں کے وکلا ریفرنس پڑھ کر تیاری کریں، صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بینچ کرے گا،بعض غیر ذمہ دارسیاست میں آکر ایسی کوئی حرکت کرسکتے ہیں،یہ سیاسی مسئلہ بھی ہے اس میں انا نہیں ہونی چاہیے،اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنا ہے،یہ محض قانونی مسئلہ نہیں،اگر لوگوں کو خدشات ہیں کہ تصادم ہو سکتا ہے،جہاں الیکشن ہوتا ہے وہاں ہم رک جاتے ہیں، مواد دیکھا دیں تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوئی تو ضابطہ اخلاق بنا لیں گے،

    سپریم کورٹ کے باہرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی بات نہیں کریں گے امید ہے فیصلے آئین کے مطابق ہوں گے پارلیمنٹ کو عدالتی دہلیز پر نہیں لائے، ہم سیاسی اور قانونی جدوجہد کررہے ہیں۔

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار سپریم کورٹ آیا ہوں، سپریم کورٹ بھی ہمارا ادارہ ہے، میری نظر میں یہ حکومت ناجائز ہے ،قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمی فیصلہ کرے گی،ہمارے وکلا نے بڑی محنت سے درخواست تیار کی ہے۔

    سپریم کورٹ جانے سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منسٹرز انکلیو میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سےملاقات کی تھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر امیر حیدر خان ہوتی اور اختر مینگل سمیت دیگر اپوزیشن قیادت بھی موجود تھی، جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    سندھ ہاؤس پر حملے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
    ‘آئی جی اسلام آباد نے سندھ ہاوس حملے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے

    رپورٹ میں کہا گیاکہ سندھ ہاوس واقعہ افسوسناک تھا،احتجاجی مظاہر ے میں گیٹ کو نقصان پہنچایا گیا 10پولیس اہلکاروں کیخلاف ایکشن لیا گیا،ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا سندھ ہاوس کے باہر 2 اراکین اسمبلی بھی موجود تھے ان سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ملزمان کے خلاف دفعات قابل ضمانت تھیں اس لیے انہیں شخصی ضمانت پر رہا کیا گیا، ملزمان کیخلاف چالان ٹرائل کورٹ میں جمع ،سندھ ہاوس اور ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت کر دی پولیس کے اعلی ٰافسران سندھ ہاوس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے ہفتہ کو آئی جی اسلام آباد سے سندھ ہاوس پر حملے کی رپورٹ طلب کی تھی

    سپریم کورٹ بار کی ریڈ زون میں جلسے روکنے کی درخواست پر سماعت آج ہوگی پیپلز پارٹی نے جواب تیارکرلیا ، فاروق نائیک عدالت میں پیش ہونگے پیپلز پارٹی کی جانب سے دوران سماعت جواب عدالت میں جمع کرانے کا امکان ہے جے یو آئی کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضیٰ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے ،

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف سمیت اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان آج سپریم کورٹ پیش ہوں گے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو ،سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان بھی پیش ہونگے،

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی