Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ نے اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے پراگرس رپورٹ طلب کرلیں

    عدالت نے کہا کہ بتایا جائے متاثرین آباد کاری اور منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ آئے 19 سال تو گزر چکے ہیں۔اتنے عرصہ بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو چکے ہونگے۔بتایا جائے حکام نے متاثرین کی بحالی کیلئے ابتک کیا کام کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ زلزلہ کے بعد گھروں کی تعمیر کیلئے جنگلات زمین کیوں الاٹ کی گئی۔زلزلہ سے جہاں گھر گر گئے وہیں دوبارہ تعمیر کر دیتے۔حکومت تعمیرات کے چکر میں پڑنے کی بجائے متاثرین کو رقم دے دیتی۔متاثرین کو رقم ملتی وہ ابتک اپنے گھر خود بنا چکے ہوتے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی تباہیاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔نشت گفتن برخاستن سے زیادہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کچھ نہیں ہوا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی وفاق اور صوبے کے تعاون سے ہونی تھی۔قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے لیکن لڑ تو سکتے ہیں۔ محکموں کی بیڈ گورننس اور عدم تعاون سے متاثرین مشکلات جھیل رہے ہیں۔بیڈ گورننس کی وجہ سے معاملات عدالتوں میں آتے ہیں۔محکمے اپنا کام کرے تو عدالتوں میں کیسز نہ آئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ زلزلہ سے کتنے لوگ متاثر ہوئے۔متاثرین کیلئے ابتک کتنے گھر بنائے گئے۔وفاقی اور صوبائی حکومت کی زلزلہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کی پرفارمنس کیا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ متاثرین کیلئے کتنے فنڈز آئے۔متاثرین کئے فنڈز میں کتنا کہاں پر خرچ ہوا۔عدالتی سوالات پر جامع رپورٹ دی جائے۔جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی

    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق درخواست آئینی بینچ نے نمٹا دی
    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہائیکورٹ کا کام ہے ،درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں تبدیل ہوئے ،ہر چیف جسٹس نے ججز کو ٹرانسفر کیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ داود صاحب کیا ہائیکورٹ آزاد ہے یا نہیں،درخواست گزار نے کہا کہ ہائیکورٹ آزاد ہے لیکن پالیسی کیلئے ہدایات ضروری ہےجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد ہے تو انکو اپنا کام کرنے دیں،ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہونے سے متفق ہوں لیکن یہ ہمارا کام نہیں ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس آے تو تین مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہوئی ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہر چیف جسٹس کا اپنا اختیار ہوتا ہے،ہر جج بڑے شہر میں بیٹھنے کی خواہش رکھتا ہے،آپ کیوں انتظامی کاموں کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،درخواست پڑھی تو اخیال آیا یہ میاں داود کی ہوگی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ دادو صاحب آج ہم آپکی بات نہیں مان رہے،درخواست گزار نے کہا کہ پھر عدالت اجازت دے کہ ہائیکورٹ جا سکوں،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد ہر نمٹا دی

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ کے سامنے حمزہ شہباز کو وزیر اعلی سے ہٹانے کا معاملے پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز نظر ثانی پر پرویز الہی کو نوٹس جاری کردیا،آئینی بینچ نے ایڈیںشنل اٹارنی جنرل و دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے نظر ثانی پر سماعت کی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن پر وفاقی حکومت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لے کر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس امین الدین ک سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن کیس کی سماعت کی۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آڈیو لیک کمیشن لائیو ایشو ہے، کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے ایک اور رکن سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات کے لیے مہلت دے دیں، معلوم کرنے دیں کیا حکومت نیا کمیشن بنانا چاہتی ہے، آڈیو لیک کے معاملے پر قانونی نقطہ تو موجود ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر مؤثر ہو جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغواء کا نوٹس لے لیا۔عدالت نے کوئٹہ سے اغواء بچے کی بازیابی پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ میں چھ دن سے ایک اغوا بچہ نہیں ڈھونڈا جا رہا۔ایک بچہ کے اغوا پر پورا صوبہ بند ہے حکومت کو فکر نہیں۔یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟

    سپریم کورٹ،مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج
    مراد علی شاہ نا اہلی کیس،سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج کر دی ،عدالت نے عدم پیروی پر نا اہلی کی درخواست خارج کی،محمود اختر نقوی نے نا اہلی کی درخواست دائر کی تھی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ٹریفک حادثات میں اموات کے خلاف درخواست،سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا
    سپریم کورٹ،ملک کی مرکزی شاہراوں پر ہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، درخواست گزار عباس آفریدی نے کہا کہ روزانہ 70 لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لوگ لٹک لٹک کر کیوں سفر کرتے ہیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے این ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کردیا،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی،جی ٹی روڈز پر اوور لوڈڈ ٹرکس کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی

    ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت قرار
    سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا،عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی جوابات جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر سماعت کی ،میاں دائود ایڈووکیٹ ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے پیش ہوئے، جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا اہم معاملہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ صرف لاہور ہائیکورٹ کی بات کر رہے ہیں، باقی ہائیکورٹس میں شاید ایسا نہ ہوا ہو، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں نے بطور حوالہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام نوٹیفکشنز ساتھ لگائے ہیں،اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عدلیہ کی ساکھ مجروح کر دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چلیں اس مسئلے کو دیکھتے ہیں، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اب ہم اس مسئلے کو دیکھیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر رکھی تھی،درخواست میں پانچ ہائیکورٹس کے رجسٹرارز، چاروں صوبوں او روفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیاکہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان صوابدیدای اختیارات کا غیرآئینی استعمال کر تے ہیں،ہائیکورٹس کے اکثر چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری خزانہ بادشاہوں کی طرح لٹا تے ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اختیارات کے ناجائز استعمال بدترین مثالیں قائم کیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بہترین کارکردگی کے نام پر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے افسروں اور اہلکاروں میں 6 جولائی2021 سے دو ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،عدالتی تاریخ میں آج تک کسی چیف جسٹس کے سٹاف کو اڑھائی برس کی مدت پر مشتمل ایڈوانس انکریمنٹ دینے کی مثال نہیں ملتی، سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل دیگر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی طور پر ایڈوانس انکریمنٹ دیئے گئے،ایڈوانس انکریمنٹ تبادلہ شدہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور دو ماہ قبل تعینات ہونیوالے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھی دیئے گئےسابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریڈر اور انکی اہلیہ سینئر سول جج کو 4 سال کی تعلیمی چھٹی بمعہ تنخواہ دینے کی منظوری دی گئی،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیگر متعدد ملازمین کو بھی بغیر کسی قانونی جواز اور اختیار کے چھ چھ ماہ، ایک ایک سال کی چھٹیوں کی منظوری دی،ریڈر اور انکی اہلیہ کی تعلیمی چھٹی کیلئے کسی یونیورسٹی کا ریکارڈ اور قانون تقاضہ فائل کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 50 سے زائد ملازمین کی سزائیں ایک دستخط سے ختم کرنے کے درجنوں نوٹیفکیشنز ایک ہی دن جاری کئے گئے، صوابدیدی اختیارات کے تحت سزائیں ختم کرنا قانون تحت قائم سروس ٹربیونلز کو غیرفعال کرنے کے مترادف ہے، لاہور ہائیکورٹ کے دو ڈپٹی رجسٹرار شہباز انور اور شہباز اشرف کی سزائیں ختم کے انہیں بھی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کو سزائیں ختم کرانے کیلئے خود ہی اپنا نیا انکوائری افسر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، ایڈوانس انکریمنٹس کے علاوہ دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی سزائیں ختم کر کےانہیں ترقیاں بھی دیدی گئیں،اب لاہور ہائیکورٹ کا کوئی نیا افسر دونوں ڈپٹی رجسٹرار کی فائلوں کی انکوائری کا ذمہ اٹھانے کو تیار نہیں ،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی فائلیں ایک برانچ سے دوسری برانچ گھوم رہی ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے زیادہ تر نوٹیفکیشنز ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل 6مارچ کو جاری کئے گئے، ہائیکورٹس کے ملازمین کے ساتھ اقربا پروری کا سلوک کرکے عدلیہ کو بدنام کیا گیا، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوبائی اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ریٹائرمنٹ سے 1 ماہ قبل جاری کئے گئے تمام نوٹیفکشنز کا عدالتی جائزہ لیا جائے،لاہور ہائیکورٹس کے افسران کو دی گئی ایڈوانس انکریمنٹس غیرقانونی قرار دے کر واپس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے،

  • سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرلی،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دوبارہ معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا
    ججز پلاٹس کیس: جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا لکھا کہ پلاٹس کی اُس الاٹمنٹ کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کیا، جو اُس کے سامنے تھا ہی نہیں، عدالتوں کا اپنا دائرہ اختیار بڑھانا قبول نہیں.
    ایف 14 اور ایف 15 میں بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پلاٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیدیا،جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق اس نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا جو ہائیکورٹ میں چیلنج ہی نہیں تھی،22 نومبر 2022 کو پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی اس دن عدالت کے سامنے آئی جس دن فیصلہ محفوظ کیا گیا،پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی پر نہ دلائل دیے گئے نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا زکر کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو کہا وہ کیس اس کے سامنے تھا ہی نہیںججز کے پلاٹس کی اس الاٹمنٹ کو بھی ہائی کورٹ نے معطل کیا جو اس کے سامنے تھا ہی نہیں، یہ آئینی طور پر ناقابل قبول ہے کہ عدالتیں اپنے دائرۂ اختیار کو وسعت دیں، نہ تو آئین اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔توفیق آصف کیس میں اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی ہی نہ گئی ہو، ہائی کورٹ خود سے کسی پالیسی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، اسلام ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ،آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شخص کو شنوائی کا حق دینا آئینی تقاضا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے سے قبل تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا،ہائی کورٹ کسی معاملے کو اس وقت سن سکتی جب اس سامنے کوئی فریق ہو،

    جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، عدنان سید کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل بحال کی جاتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل پر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد 90 دن میں فیصلہ کرے، پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے،سپریم کورٹ میں آئے وہ فریقین جو اسلام آباد میں فریق نہیں تھے وہ بھی عدالت عالیہ میں فریق بن سکتے ہیں،ہماری عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کا فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی، ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف 12، جی 12، ایف 14 اور 15 کی اسکیم غیرقانونی اورمفاد عامہ کیخلاف ہے، ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں، صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، جج، بیورکریٹس، پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کیخلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلئے ہیں،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی آئین کیخلاف کوئی اسکیم نہیں بنا سکتی،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نمٹا دی،

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی درخواست پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار کے وکیل حامد خان سے دریافت کیا کہ آیا وہ یہ کیس چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں، 4 ججز کے حوالے سے ایشو تھا یہاں تو ججز ریٹائر بھی ہوچکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 5 لوگوں نے ایک ساتھ حلف اٹھایا تو عمر کے حساب سے سینیارٹی طے ہوگی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو اکیڈمک ایکسرسائز کرنے کا کہہ رہے ہیں۔دوران سماعت وکیل حامد خان نے موقف اپنایا کہ تھا کہ ججز کا نوٹیفکیشن ساتھ ہونے کے بعد اگر حلف ایک دن تاخیر سے بھی لیں تو سینیارٹی برابر ہی ہوگی،جسٹس فرخ عرفان نے امریکا میں ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کو آگاہ کر کے حلف ایک دن بعد اٹھایا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج جب تک حلف نہیں اٹھاتا تب تک وہ جج نہیں ہوسکتا ،جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان سے استفسار کیا کہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست دی ہے، فیصلے میں غلطی کیا ہے وہ بتائیں، اگر کوئی شخص نوٹیفکیشن کے ایک ماہ تک حلف نہیں لیتا اور بعد میں وہ انکار کر دے تو کیا ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بہتر ہے اس معاملے کو اوپن رکھیں کسی اور کیس میں طے کر لیں گے۔عدالت نے نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں سینیارٹی کے اصول کا معاملہ طے کریں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ میری جانب سے درخواست بروقت دائر کی گئی تھی، اب نظر ثانی کیس زیر التواء ہے، چاہتا ہوں کہ کسی مقدمے میں اس معاملے کو دیکھا جائے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہم سے غیر آئینی کام کیوں کروانا چاہتے ہیں، امیدواران کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں،سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مولوی اقبال صاحب آپ پھر اسی طرف جا رہے ہیں جس وجہ سے پابندی لگی تھی،عدالت نے درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

    اعلیٰ عدالتی فورمز پر ٹرائل مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم طے کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون سمیت کئی قوانین میں ٹائم لائن موجود ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ٹائم لائن کے لیے پارلیمنٹ سے جاکر قانون سازی کروا لیں،درخواست گزار حسن رضا نے کہا کہ ٹرائل مکمل ہوتے ہوتے 20 سے 40 سال لگ جاتے ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ایسی عمومی باتیں نہ کریں اور الزام نہ لگائیں، سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے لیکن پیش رفت ہو رہی ہے، آپ کی درخواست نیشنل جوڈیشل پالیسی سے متعلق ہے، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست پر کسی کو ہدایت نہیں جاری کریں گے، جہاں اصلاحات ہو رہی ہیں وہاں جاکر شمولیت اختیار کریں، یہ ہمارا کام نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین اور قانون کے تابع ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ عدالتی ریفارمز کے لیے لاء اینڈ جسٹس کمیشن موجود ہے، وہاں رجوع کریں۔ عدالت نے دلائل کے بعد درخواست خارج کر دی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • سپریم کورٹ، آرمی چیف کی توسیع کے خلاف درخواست خارج

    سپریم کورٹ، آرمی چیف کی توسیع کے خلاف درخواست خارج

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    آرمی چیف کی توسیع کیخلاف درخواست سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے عدم پیروی پر خارج کردی۔رجسٹرار آفس کے درخواست پر نا قابل سماعت کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فیصلہ کیا۔

    بول نیوز کیخلاف تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس عائشہ ملک نے تنخواہوں سے متعلق از خود نوٹس کیس سننے سے انکار کردیا،عدالت نے کہا کہ بول نیوز ملازمین تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے نیا آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ معزز جج صاحبہ نے از خود نوٹس سننے سے انکار کیا ہے۔آج عدالتی کاروائی کو ملتوی کر رہے ہیں،تنخواہوں کا کیس نئے آئینی بینچ میں سماعت کیلئے لگے گا۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اعلی عدلیہ ججز کی پارلیمنٹ میں تقریروں کیخلاف درخواست خارج کر دی، عدالت نے درخواست گزار محمد اختر نقوی کی عدم پیروی پر درخواست خارج کی،آئینی بینچ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ، ایک وقوعہ پر دو مقدمے، درخواست خارج
    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں ایک وقوعہ پر 2ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل درخواستگزار وسیم احمد خان کی سرزنش کردی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ایسے کیسز کی وجہ سے زیرالتوا مقدمات کی تعداد60ہزار ہو چکی ہے،ہمیں 60ہزار زیرالتوا مقدمات بار بار یاد کرائے جاتے ہیں،کیوں نہ آپ کی درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کریں،آپ تو وکیل ہیں آپ بھی ایسے کیسز عدالتوں میں دائر کریں گے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ صغران بی بی کیس میں عدالت فیصلے دے چکی ہے،دوسر ی ایف آئی آر کے اخراج کیلئے ہائیکورٹ کیوں نہیں گئے؟سپریم کورٹ آئینی بنچ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

  • سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں سماعت،درخواست گزار کو جرمانہ

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں سماعت،درخواست گزار کو جرمانہ

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ نے الیکشن میں 50 فیصد سے زائد ووٹ والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست خارج کردی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انتخابات میں 50 فیصد سے زائد ووٹ والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کے تحت امیدوار کو الیکشن میں 50 فیصد ووٹ لازمی قرار دیا جائے، الیکشن میں ڈالے ووٹوں پر کامیاب امیدوار کا فیصلہ ہوتا ہے، ووٹرز ووٹ ڈالنے نہ جائے تو ان کا کیا ہوسکتا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بتایا جائے درخواست گزار کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، آئین کے کن آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہو رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر نیا قانون بنوانا ہے تو سپریم کورٹ کے پاس اختیار نہیں،جسٹس عائشہ کے استفسار پر درخواست گزار محمد اکرم نے عدالت میں کہا کہ سارے بنیادی حقوق اس درخواست میں اٹھائے سوال سے جڑے ہیں، ہماری زندگی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زندگی کا فیصلہ تو پارلیمنٹ نہیں کرتی،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام لوگوں کو ووٹ کا حق ہے، پولنگ کے دن لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں ووٹ ڈالنے نہیں جاتے، ووٹرز ووٹ نہ ڈالیں تو یہ ووٹرز کی کمزوری ہے۔

    جرمانہ کم از کم 100 ارب کریں تاکہ ملک کا قرضہ کم ہو، وکیل ،آپ کی اتنی حیثیت نہیں، جسٹس امین الدین
    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فروری 2024 کے الیکشن میں ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر درخواست گزار محمد اکرم نے جواب دیا کہ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر آئین کی توہین کررہے ہیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بے بنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزار پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا، درخواست گزار نے عدالت سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ جرمانہ کم از کم 100 ارب کریں تاکہ ملک کا قرضہ کم ہو، آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 100ارب کا جرمانہ دینے کی آپ کی حیثیت نہیں،آئینی بینچ نے درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

    آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل نمٹا دی گئی
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7رکنی آئینی بینچ نے آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل پر سماعت کی، درخواست گزار مولوی اقبال حیدر ویڈیو لنک کے زریعے پیش ہوئے ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کو عدالتی احاطے میں اجازت دی، یہ آپ کے کے لیے کافی ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ یہ معاملہ طے ہوچکا ہے، میری درخواست غیرمؤثر ہوچکی ہے ،بعدازاں آئینی بینچ نے درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    علاوہ ازیں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انکم لیوی ٹیکس ایکٹ 2013 کے خلاف 1178 مقدمات کی سماعت کی۔دوران سماعت ایف بی آر کے وکیل نے بتایا کہ مقدمے کے بہت سے فریقین کو نوٹسز نہیں موصل ہوسکے، مقدمے میں لاہور اور کراچی 2 ہائیکورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا، 400 لوگوں کے ایڈریسز شاید درست نہیں،آئینی بینچ نے نوٹسز کی تعمیل بذریعہ اخبار اشتہار کروانے کا حکم دے دیا،وکیل نے کہا کہ مقدمے میں اپیلوں کے قابل سماعت ہونے کا بھی ایشو شامل ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اس ایشو کوسنیں گے، کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی ،عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کردی ،کیس کی سماعت سات رکنی آئینی بینچ نے کی،درخواست گزار محمود اختر نقوی عدالت پیش نہ ہوئے، عدالت نے درخواست گزار کو آج طلب کر رکھا تھا ، تاہم عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کر دی،

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کیسز کی سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ نے کورٹ روم نمبر 3 میں کیسز کی سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی کنونشن سنٹر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا.عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس معاملہ پر شائد واجبات بعد میں ادا کر دیئے گئے تھے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سوموٹو کیس میں سابق وزیر اعظم کو بھی نوٹس کیا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کنونشن سنٹر کو ادارہ کی پالیسی کے مطابق چلائیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے واجبات ادائیگی کی معلومات لے لینے دیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ معلومات لیں ہمیں کچھ دیر میں بتادیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا.

    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس،رپورٹ طلب
    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس کی سماعت ہوئی،آئینی بینچ نے التواء درخواست پر کاروائی دو ہفتوں کےلئے ملتوی کردی،عدالت نے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو غیر ملکی خفیہ بنک اکاؤنٹس پر رپورٹ طلب کرلی،دوران سماعت وکیل حافظ احسان نے دلائل پیش کیے کہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم ہوچکی ہے، قانونی پراسس کے تحت خفیہ اکاؤنٹس اور ریکوری پر کارروائی چل رہی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ایجنسیوں کو رپورٹ کے احکامات جاری ہوئے،ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ ایف بی آر اور ایف آئی اے کا ہے، ایجنسیوں کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیس کو ختم کرنا ہے تو رپورٹ دے دیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے غیرملکی خفیہ بینک اکاؤنٹس اور لوٹی گئی رقم کی واپسی پر متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی اور التوا کی درخواست پر 2 ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کردی۔

    سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بینچ میں چلے گا،جسٹس امین الدین
    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے انسداد دہشت گردی کیس پر ازخود نوٹس کیس درخواست گزار کی استدعا پر نمٹا دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ہے، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بنچ میں چلے گا، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بینکنگ آرڈیننس کے تحت اپیل کے معاملے پر کیس نمٹا دیا،آئینی بینچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سروس اسٹرکچر سے متعلق کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے متعلق تمام مقدمات یکجا کر کے فریقین کو نوٹس جاری کردیے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ نے الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق کیس کو غیر مؤثر ہونے کے سبب نمٹا دیا۔

    سپریم کورٹ میں سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی توہین عدالت کیس میں وکیل کو جواب کے لیے مہلت دے دی گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی پیش نہیں ہوئیں، اگر کوئی فورم اختیار کیے بغیر کارروائی کرے تو ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں پر یاسمین عباسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوتی رہیں، معاملہ ابھی تو غیر مؤثر نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، ہم کیوں سابق وفاقی محتسب کی طرف جا رہے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا وفاقی محتسب کی کارروائی ہائیکورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، یاسمین عباسی کو نوٹس کر کے کارروائی سے آگاہ کیا جائے، حکمِ امتناع کے بعد محتسب کی کارروائی توہینِ عدالت تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ توہینِ عدالت کا نوٹس چیئرمین پرسن وفاقی محتسب کو جاری کیا گیا، یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، موجودہ وفاقی محتسب کو نوٹس کردیں، وہ آکر بتا دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے اس کا کیا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کے جج اور وفاقی محتسب دونوں نے ایک دوسرے کو توہینِ عدالت نوٹسز جاری کیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیئرمین محتسب آ کر بتادیں گے وہ معاملہ چلانا چاہتے یا واپس لینا چاہتے ہیں،عدالت نے وکیل وفاقی محتسب کو معاملے پر ہدایات لےکر جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

  • آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ کیسز نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی آئینی بینچ میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر بھی 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں۔

    آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف دے دیا، قاضی فائز عیسی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی، وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کوئی بھی شخص براہ راست چیف جسٹس تعینات نہیں ہوسکتا، پہلے بطور جج تعیناتی ہوتی ہے پھر چیف جسٹس بنایا جاتا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے قاضی فائز عیسی کی تعیناتی کی سمری بھی نہیں بھیجی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظرثانی میں دوبارہ اصل کیس نہیں کھول سکتے،عدالتی فیصلوں کیخلاف یہ کوئی اپیلیٹ بنچ نہیں ہے،

    آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی
    علاوہ ازیں ایک دوسرے کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں،جسٹس نسیم حسن شاہ کو خط آیا تھا کہ اسلام آباد کو صنعتی زون بنایا جا رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، گاڑیوں کا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہے، کیا دھویں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی۔

    مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم، ماربل فیکٹری کام کر رہی ، سوات کےخوبصورت مقامات آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاہور شہر ایک سائڈ سے واہگہ بارڈر دوسری جانب سے شیخوپورہ تک پھیل گیا ہے،زرعی زمینوں پر ڈی ایچ اے اور دیگر سوسائیٹیز بنائی جا رہی ہیں،جو علاقہ زلزلے کی زد میں نہیں آتے وہاں ہائی رائز عمارتیں بنائی جائیں، آنے والی نسلوں کےساتھ ہم کیا سلوک کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث کھیت کھلیان ختم ہو رہے، کاشت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، قدرت نے زرخیز زمین دی ہے لیکن سب اسے ختم کرنے پر تلے ہوئے، آپ اپنی نسلوں کے لیے کیا کر کے جا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پنجاب کی حالت دیکھیں سب کے سامنے ہے، اسلام آباد میں بھی چند روز قبل ایسے ہی حالات تھے،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ انوائرمنٹ پروٹیکشن اٹھارٹی اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟ 1993ء سے معاملہ چل رہا ہے، اب ختم کرنا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پورے ملک کو ماحولیات کے سنجیدہ مسئلے کا سامنا ہے، پیٹرول میں کچھ ایسا ملایا جاتا ہے جو آلودگی کا سبب بناتا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم اور ماربل فیکٹری کام کر رہی ہیں، سوات میں چند ایسے خوبصورت مقامات ہیں جو آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،آئینی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    بے بنیاد مقدمہ بازی،آئینی بینچ نے درخواست گزاروں کو کیا جرمانہ
    آئینی بینچ نے بےبنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزاروں کو آج مجموعی طور پر 60 ہزار روپے کے جرمانے عائد کردیے،غیر ملکی خواتین ، مردوں سے پاکستانیوں کی شادیوں پر پابندی کی درخواست خارج کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا،درخواست گزار محمود اختر نقوی ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت کیسے کسی کو منع کرے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جو درخواست گزار کی استدعا ہے کیا ایسا ممکن ہے ؟کیا کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی سے روکا جاسکتا ہے؟ اگر روکنے کا قانون موجود ہے تو وہ بتادیں ؟ عدالت نے درخواست 20 ہزارروپے جرمانے کے ساتھ خارج کردی،
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ایسی درخواستوں کو اجازت دی تو یہ درخواست بھی آجائے گی شادیوں سے روکا جائے،

    پی ڈی ایم دور حکومت میں قانون سازی کیخلاف درخواست بھی 20 ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج ہوئی،آئینی بنچ نے غیر ملکی جائیدادوں کیخلاف کیس میں درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 60 ہزار مقدمات ایسے ہی مقدمات کے سبب زیر التوا ہیں،

    سپریم کورٹ نے غیر ملکی اثاثوں ،بینک اکاؤنٹس کیخلاف درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ معاملہ پر قانون سازی کیلئے درخواست گزار اپنے حلقہ کے منتخب نمائندہ سے رجوع کرے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،الیکشن کمیشن غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں پر قانون سازی کیسے کر سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بات نہیں کی گئی،درخواست گزار نے کہا کہ غیرملکی اثاثوں بینک اکاؤنٹس پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ معاملے پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،کن لوگوں کے غیر ملکی اثاثے یا بینک اکاؤنٹس ہیں کسی کا نام نہیں لکھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا نہیں کہہ سکتے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون سازی کیلئے درخواست گزار حلقہ کے نمائندےسے رجوع کریں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ سے غیرموثر درخواستیں خارج کرنے کا سلسلہ جاری ہے،آئینی بینچ نے 2024 کے عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی، درخواست گزار وسیم سجاد نے موسم کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی،عدالت نے الیکشن شیڈول کیخلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے.جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ درخواست گزار وسیم سجاد سپریم کورٹ وکیل نہیں ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس درخواست پر ڈبل جرمانہ ہونا چاہیے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ الیکشن فروری کی بجائے مئی میں کروائے جائیں،

  • سپریم کورٹ سے نومئی کے ملزم کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ سے نومئی کے ملزم کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ ، نو مئی توڑ پھوڑ کیس میں پی ٹی آئی امتیاز شیخ کی عبوری ضمانت منظور کرلی گئی

    سپریم کورٹ نے دو لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ عدالت نے ضمانت درخواست پرحکومت کو نوٹس جاری کر دیا،جسٹس جمال مندوخیل سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ایم پی اے شیخ امتیاز احمد کو گرفتار کرنے سے روک دیا، عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے درخواست ضمانت خارج کی یا ٹرائل کا ہی فیصلہ سنا دیا؟ ضمانت کے فیصلے میں اس طرح شواہد کو زیربحث نہیں لایا جاتا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میرے مؤکل کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں، ضمنی رپورٹ میں کئی ماہ بعد شیخ امتیاز احمد کا نام ملزمان میں شامل کیا گیا،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ضمنی کی کاپی آپ نے ریکارڈ کا حصہ کیوں نہیں بنائی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ضمنی کی نقل کل ملی ہے پولیس دے ہی نہیں رہی تھی، ایک دوسرے ملزم کے جمع شدہ چالان سے ضمنی کی نقل نکالی ہے۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تو کئی کئی ماہ تک وکیل اور سائل غائب ہوجائیں تو نہیں ملتے، کھوسہ صاحب آپ کو ضمنی ان حالات میں کس نے دینی تھی؟ جسٹس مسرت ہلالی نے دلائل دیے کہ نومئی،یہ بہت بڑا واقعہ ہے سوچ کر ہی دل کو کچھ ہوتا ہے۔

    لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس میں پہلے ہی ضمانت ہوچکی ہے، یہ کوئی اور کیس ڈال دیا گیا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ نے اہم ترین دستاویز ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائیں، آپ لوگ اپنے مقدمات سیاسی نہیں پروفیشنل انداز میں چلایا کریں، غلطیاں آپ لوگوں کی اپنی ہوتی ہیں اور الزام عدالتوں کو دیتے ہیں، سپریم کورٹ سے چند منٹ میں ہی آپ لوگوں کو ریلیف مل گیا ہے۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں تو تازہ ہوا سپریم کورٹ یا پشاور ہائی کورٹ سے ہی ملتی ہے، جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ کچہری سے سپریم کورٹ تک ہر جگہ خوف خدا رکھنے والے ججز موجود ہیں،عدالت نے درخواست ضمانت نو مئی کے دیگر مقدمات کیساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچز میں مقدمات کی سماعت 14 نومبر سے

    سپریم کورٹ، آئینی بینچز میں مقدمات کی سماعت 14 نومبر سے

    سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں آئینی مقدمات اور بینچز کی تشکیل کے معاملے پر آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں آئینی بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچز 14 نومبر سے سماعت کا آغاز کریں گے، آئینی بینچ کی ججز کمیٹی کی میٹنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی، کمیٹی میٹنگ جسٹس جمال مندوخیل کی چین سے واپس آنے کے بعد بلائی گئی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے ٹیلیفون پر کمیٹی میٹنگ میں شرکت کی، کمیٹی میں پہلے آنے والی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا اور ہر درخواست کو اس کی باری پر لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان