Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں کیسز کی سماعت

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کیسز کی سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ نے کورٹ روم نمبر 3 میں کیسز کی سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی کنونشن سنٹر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا.عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب اس معاملہ پر شائد واجبات بعد میں ادا کر دیئے گئے تھے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سوموٹو کیس میں سابق وزیر اعظم کو بھی نوٹس کیا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کنونشن سنٹر کو ادارہ کی پالیسی کے مطابق چلائیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے واجبات ادائیگی کی معلومات لے لینے دیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ معلومات لیں ہمیں کچھ دیر میں بتادیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا.

    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس،رپورٹ طلب
    غیر ملکی بنک اکاؤنٹس چھپانے اور لوٹی رقم ریکوری کیس کی سماعت ہوئی،آئینی بینچ نے التواء درخواست پر کاروائی دو ہفتوں کےلئے ملتوی کردی،عدالت نے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو غیر ملکی خفیہ بنک اکاؤنٹس پر رپورٹ طلب کرلی،دوران سماعت وکیل حافظ احسان نے دلائل پیش کیے کہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم ہوچکی ہے، قانونی پراسس کے تحت خفیہ اکاؤنٹس اور ریکوری پر کارروائی چل رہی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ایجنسیوں کو رپورٹ کے احکامات جاری ہوئے،ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ ایف بی آر اور ایف آئی اے کا ہے، ایجنسیوں کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیس کو ختم کرنا ہے تو رپورٹ دے دیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ایف آئی اے اور ایف بی آر سے غیرملکی خفیہ بینک اکاؤنٹس اور لوٹی گئی رقم کی واپسی پر متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی اور التوا کی درخواست پر 2 ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کردی۔

    سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بینچ میں چلے گا،جسٹس امین الدین
    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے انسداد دہشت گردی کیس پر ازخود نوٹس کیس درخواست گزار کی استدعا پر نمٹا دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ہے، فرق صرف یہ ہے اب ازخود نوٹس آئینی بنچ میں چلے گا، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بینکنگ آرڈیننس کے تحت اپیل کے معاملے پر کیس نمٹا دیا،آئینی بینچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی سروس اسٹرکچر سے متعلق کیس کی سماعت بھی ملتوی کردی اور لیڈی ہیلتھ ورکرز سے متعلق تمام مقدمات یکجا کر کے فریقین کو نوٹس جاری کردیے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ نے الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق کیس کو غیر مؤثر ہونے کے سبب نمٹا دیا۔

    سپریم کورٹ میں سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی توہین عدالت کیس میں وکیل کو جواب کے لیے مہلت دے دی گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سابق وفاقی محتسب یاسمین عباسی پیش نہیں ہوئیں، اگر کوئی فورم اختیار کیے بغیر کارروائی کرے تو ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں پر یاسمین عباسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوتی رہیں، معاملہ ابھی تو غیر مؤثر نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، ہم کیوں سابق وفاقی محتسب کی طرف جا رہے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا وفاقی محتسب کی کارروائی ہائیکورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے، یاسمین عباسی کو نوٹس کر کے کارروائی سے آگاہ کیا جائے، حکمِ امتناع کے بعد محتسب کی کارروائی توہینِ عدالت تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ توہینِ عدالت کا نوٹس چیئرمین پرسن وفاقی محتسب کو جاری کیا گیا، یاسمین عباسی اب وفاقی محتسب نہیں رہیں، موجودہ وفاقی محتسب کو نوٹس کردیں، وہ آکر بتا دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ جج کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے اس کا کیا ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کے جج اور وفاقی محتسب دونوں نے ایک دوسرے کو توہینِ عدالت نوٹسز جاری کیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیئرمین محتسب آ کر بتادیں گے وہ معاملہ چلانا چاہتے یا واپس لینا چاہتے ہیں،عدالت نے وکیل وفاقی محتسب کو معاملے پر ہدایات لےکر جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

  • آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ کیسز نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی آئینی بینچ میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر بھی 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں۔

    آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف دے دیا، قاضی فائز عیسی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی، وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کوئی بھی شخص براہ راست چیف جسٹس تعینات نہیں ہوسکتا، پہلے بطور جج تعیناتی ہوتی ہے پھر چیف جسٹس بنایا جاتا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے قاضی فائز عیسی کی تعیناتی کی سمری بھی نہیں بھیجی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظرثانی میں دوبارہ اصل کیس نہیں کھول سکتے،عدالتی فیصلوں کیخلاف یہ کوئی اپیلیٹ بنچ نہیں ہے،

    آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی
    علاوہ ازیں ایک دوسرے کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں،جسٹس نسیم حسن شاہ کو خط آیا تھا کہ اسلام آباد کو صنعتی زون بنایا جا رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، گاڑیوں کا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہے، کیا دھویں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی۔

    مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم، ماربل فیکٹری کام کر رہی ، سوات کےخوبصورت مقامات آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاہور شہر ایک سائڈ سے واہگہ بارڈر دوسری جانب سے شیخوپورہ تک پھیل گیا ہے،زرعی زمینوں پر ڈی ایچ اے اور دیگر سوسائیٹیز بنائی جا رہی ہیں،جو علاقہ زلزلے کی زد میں نہیں آتے وہاں ہائی رائز عمارتیں بنائی جائیں، آنے والی نسلوں کےساتھ ہم کیا سلوک کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث کھیت کھلیان ختم ہو رہے، کاشت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، قدرت نے زرخیز زمین دی ہے لیکن سب اسے ختم کرنے پر تلے ہوئے، آپ اپنی نسلوں کے لیے کیا کر کے جا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پنجاب کی حالت دیکھیں سب کے سامنے ہے، اسلام آباد میں بھی چند روز قبل ایسے ہی حالات تھے،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ انوائرمنٹ پروٹیکشن اٹھارٹی اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟ 1993ء سے معاملہ چل رہا ہے، اب ختم کرنا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پورے ملک کو ماحولیات کے سنجیدہ مسئلے کا سامنا ہے، پیٹرول میں کچھ ایسا ملایا جاتا ہے جو آلودگی کا سبب بناتا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم اور ماربل فیکٹری کام کر رہی ہیں، سوات میں چند ایسے خوبصورت مقامات ہیں جو آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،آئینی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    بے بنیاد مقدمہ بازی،آئینی بینچ نے درخواست گزاروں کو کیا جرمانہ
    آئینی بینچ نے بےبنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزاروں کو آج مجموعی طور پر 60 ہزار روپے کے جرمانے عائد کردیے،غیر ملکی خواتین ، مردوں سے پاکستانیوں کی شادیوں پر پابندی کی درخواست خارج کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا،درخواست گزار محمود اختر نقوی ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت کیسے کسی کو منع کرے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جو درخواست گزار کی استدعا ہے کیا ایسا ممکن ہے ؟کیا کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی سے روکا جاسکتا ہے؟ اگر روکنے کا قانون موجود ہے تو وہ بتادیں ؟ عدالت نے درخواست 20 ہزارروپے جرمانے کے ساتھ خارج کردی،
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ایسی درخواستوں کو اجازت دی تو یہ درخواست بھی آجائے گی شادیوں سے روکا جائے،

    پی ڈی ایم دور حکومت میں قانون سازی کیخلاف درخواست بھی 20 ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج ہوئی،آئینی بنچ نے غیر ملکی جائیدادوں کیخلاف کیس میں درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 60 ہزار مقدمات ایسے ہی مقدمات کے سبب زیر التوا ہیں،

    سپریم کورٹ نے غیر ملکی اثاثوں ،بینک اکاؤنٹس کیخلاف درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ معاملہ پر قانون سازی کیلئے درخواست گزار اپنے حلقہ کے منتخب نمائندہ سے رجوع کرے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،الیکشن کمیشن غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں پر قانون سازی کیسے کر سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بات نہیں کی گئی،درخواست گزار نے کہا کہ غیرملکی اثاثوں بینک اکاؤنٹس پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ معاملے پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،کن لوگوں کے غیر ملکی اثاثے یا بینک اکاؤنٹس ہیں کسی کا نام نہیں لکھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا نہیں کہہ سکتے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون سازی کیلئے درخواست گزار حلقہ کے نمائندےسے رجوع کریں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ سے غیرموثر درخواستیں خارج کرنے کا سلسلہ جاری ہے،آئینی بینچ نے 2024 کے عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی، درخواست گزار وسیم سجاد نے موسم کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی،عدالت نے الیکشن شیڈول کیخلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے.جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ درخواست گزار وسیم سجاد سپریم کورٹ وکیل نہیں ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس درخواست پر ڈبل جرمانہ ہونا چاہیے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ الیکشن فروری کی بجائے مئی میں کروائے جائیں،

  • سپریم کورٹ سے نومئی کے ملزم کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ سے نومئی کے ملزم کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ ، نو مئی توڑ پھوڑ کیس میں پی ٹی آئی امتیاز شیخ کی عبوری ضمانت منظور کرلی گئی

    سپریم کورٹ نے دو لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ عدالت نے ضمانت درخواست پرحکومت کو نوٹس جاری کر دیا،جسٹس جمال مندوخیل سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ایم پی اے شیخ امتیاز احمد کو گرفتار کرنے سے روک دیا، عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے درخواست ضمانت خارج کی یا ٹرائل کا ہی فیصلہ سنا دیا؟ ضمانت کے فیصلے میں اس طرح شواہد کو زیربحث نہیں لایا جاتا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میرے مؤکل کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں، ضمنی رپورٹ میں کئی ماہ بعد شیخ امتیاز احمد کا نام ملزمان میں شامل کیا گیا،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ضمنی کی کاپی آپ نے ریکارڈ کا حصہ کیوں نہیں بنائی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ضمنی کی نقل کل ملی ہے پولیس دے ہی نہیں رہی تھی، ایک دوسرے ملزم کے جمع شدہ چالان سے ضمنی کی نقل نکالی ہے۔

    جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تو کئی کئی ماہ تک وکیل اور سائل غائب ہوجائیں تو نہیں ملتے، کھوسہ صاحب آپ کو ضمنی ان حالات میں کس نے دینی تھی؟ جسٹس مسرت ہلالی نے دلائل دیے کہ نومئی،یہ بہت بڑا واقعہ ہے سوچ کر ہی دل کو کچھ ہوتا ہے۔

    لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس میں پہلے ہی ضمانت ہوچکی ہے، یہ کوئی اور کیس ڈال دیا گیا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ نے اہم ترین دستاویز ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائیں، آپ لوگ اپنے مقدمات سیاسی نہیں پروفیشنل انداز میں چلایا کریں، غلطیاں آپ لوگوں کی اپنی ہوتی ہیں اور الزام عدالتوں کو دیتے ہیں، سپریم کورٹ سے چند منٹ میں ہی آپ لوگوں کو ریلیف مل گیا ہے۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں تو تازہ ہوا سپریم کورٹ یا پشاور ہائی کورٹ سے ہی ملتی ہے، جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ کچہری سے سپریم کورٹ تک ہر جگہ خوف خدا رکھنے والے ججز موجود ہیں،عدالت نے درخواست ضمانت نو مئی کے دیگر مقدمات کیساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچز میں مقدمات کی سماعت 14 نومبر سے

    سپریم کورٹ، آئینی بینچز میں مقدمات کی سماعت 14 نومبر سے

    سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں آئینی مقدمات اور بینچز کی تشکیل کے معاملے پر آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں آئینی بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچز 14 نومبر سے سماعت کا آغاز کریں گے، آئینی بینچ کی ججز کمیٹی کی میٹنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی، کمیٹی میٹنگ جسٹس جمال مندوخیل کی چین سے واپس آنے کے بعد بلائی گئی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے ٹیلیفون پر کمیٹی میٹنگ میں شرکت کی، کمیٹی میں پہلے آنے والی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا اور ہر درخواست کو اس کی باری پر لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

  • سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ کی رجسٹرار اور انتظامی افسران سے میٹنگ ہوئی

    جسٹس امین الدین کے چیمبر میں ہوئی میٹنگ کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ کے مطابق میٹنگ میں جسٹس امین الدین کو زیرالتوا آئینی مقدمات پر بریفنگ دی گئی،سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کردی،مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ سربراہ آئینی بنچ 2سینئر ججز سے مل کر کریں گے،3رکنی ججز کمیٹی کم از کم 5ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے گی،کمیٹی کے ایک رکن جج بیرون ملک ہیں،وطن واپسی پر کمیٹی کا اجلاس ہوگا،

    سپریم کورٹ میں سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اجلاس میں آئینی بینچ کی ورکنگ اور طریقہ کار پر غور کیا گیا۔اجلاس میں 184(1) ،184(3) ، 186 اور انسانی حقوق کے مقدمات پر بحث ہوئی،اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اور مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ 6 نومبر کا اجلاس کمیٹی ممبر جسٹس جمال خان مندوخیل کی عدم دستیابی پر ملتوی کیا گیا تھا، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر کی کمیٹی آئینی بینچ بنائے گی، آئندہ اجلاس بعد میں شیڈول کیا جائے گا، اجلاس میں رجسٹرار سلیم خان، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس شریک ہوئے

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • بار بار سوال سامنے آتا  کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ،جسٹس منصور علی شاہ

    بار بار سوال سامنے آتا کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کا تذکرہ کیا گیا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس آئینی بینچ سنے گا، ہم ریگولر بینچ میں کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کوئی آئینی بینچ نہیں تو یہ جو غیرآئینی بینچ بیٹھا ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا کیا ہم غیر آئینی ہیں؟مطلب جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھتا تب تک آئینی کیسزنہیں سنے جائیں گے،ہم اس کیس کو سن بھی لیں تو کوئی ہمیں پوچھ نہیں سکتا، بار بار سوال سامنے آتا ہے کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ، اگر ہم کیس کا فیصلہ کر بھی دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ ہمیں کون روکنے والا ہے؟ نظرِ ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، آئینی کیسز ریگولر بینچ نہیں سن سکتا، وکلاء کی طرف سے بھی کوئی معاونت نہیں آ رہی،

    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ابھی ہم یہ کیس سن سکتے ہیں یا نہیں؟،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ تھوڑا وقت دیں تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی جس میں ابھی وقت لگے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی کہ کیا کیس آئینی بینچ سنے گا یا ریگولر بینچ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم آپ کی گزارش پر کوئی نکتہ نظر نہیں دے سکتے، کیس کو ملتوی کر دیتے ہیں، ہم صرف گپ شپ لگا رہے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • سپریم کورٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں مقدمات کی تعداد  کم

    سپریم کورٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں مقدمات کی تعداد کم

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی گزشتہ ایک ہفتے میں دائر کیسز اور نمٹانے کی تفصیلات جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت عظمیٰ میں ایک ہفتے کے دوران 302 کیسز دائر کیے گئے جبکہ 679 کیسز نمٹائے گئے ہیں۔
    سپریم کورٹ نے کیسز سے متعلق 5 نومبر تک کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کی ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں 377 سے زائد کیسز نمٹائے جبکہ 5 نومبر کو 38 کیس دائر ہوئے اور 220 کیسز نمٹائے گئے۔سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر 59 ہزار 435 ہوگئی، اس سے قبل زیر التوا کیسز کی تعداد 59 ہزار 782 تھی۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں سوموار 11نومبر سے شروع ہونیوالے پانچ روزہ عدالتی ہفتہ کیلئے تھوڑے بہت ردو بدل کیساتھ مجموعی طور پر چھ بنچ تشکیل دے دیئے گئے ہیں ۔

    عوام کو 115پارکوں کا تحفہ ، کھیل کے میدانوں کو آباد کیا، ،جماعت اسلامی کراچی

    صدر مملکت نے سروس ٹریبونل کے ممبران کی تقرری کردی

    کچے کے علاقے میں لُنڈ گینگ کے سرغنہ شاہد لُنڈ کی ہلاکت – مکمل کہانی

  • سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز خط پر کوڈ اف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا،جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے،کوڈ اف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،آئیندہ اجلاس میں کوڈ اف کنڈکٹ ترمیم پر غور کیا جائے گا،

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوپہر 1 بجے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عامر فاروق، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کونسل نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بحث کی۔ اس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز بنانے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کا معاملہ بھی شامل تھا۔ کونسل نے رجسٹرار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل کے رولز بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کا مسودہ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ چیئرمین کو 3 ماہ کے لیے کونسل کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک قابل فرد کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ یہ فرد کونسل کے اجلاسوں کی نگرانی کرے گا اور اصول سازی کے عمل کو مضبوط کرے گا۔

    سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8) کے تحت ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر بھی غور کیا اور اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا۔ کونسل نے اس معاملے پر مشاورت کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف اداروں کے سربراہان پر اس ضابطہ اخلاق کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔اس کے علاوہ، کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف دائر کردہ دس شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ کونسل نے شکایت کنندگان سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ ہونے پر ان شکایات کو مسترد کر دیا۔کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقدمات کا بروقت فیصلہ کیا جا سکے اور بیک لاگ کو ختم کیا جا سکے۔ غیر سنجیدہ شکایات کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ کیلئے جج کی نامزدگی پر اتفاق نہ ہوسکا
    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ کی تشکیل کے سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر غور کیا گیاسندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی کی پیش کردہ تجویز کی توثیق کی گئی،سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ معزز جج صاحبان آئینی بنچوں کے ججوں کے لیے نامزد کیا گیا،سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے،جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا،

    دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ پر تجاویز آئی ہیں، فیصلہ ہوا آئندہ اجلاس تک سندھ ہائی کورٹ ججز آئینی مقدمات سن سکتے ہیں، ہائی کورٹ میں ابھی 12 ججوں کی آسامیاں بھی خالی ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے تھوڑی دیر کے لیے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی، پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین اہلیہ کی بیماری کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 25 نومبر تک موخر کیا گیا ہے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    اسلام آباد،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں بی این پی سربراہ اختر مینگل فہمیدہ مرزا، محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے،دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لیے جس طرح ووٹ مینج کیے گئے اس کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے، آئینی ترمیم کی شق 7، 14، 17 اور 21 کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، جوڈیشل کمیشن، خصوصی پارلیمانی کمیٹی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور الیکشن کمیشن کے افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرنے کے موقع پر محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات چیت بھی کی،محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو پورے ملک نے دیکھا کس طرح پاس کیا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے،فہمیدہ مرزا اور اختر مینگل بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں، پارلیمنٹ میں عوامی رائے کا مذاق اڑایا گیا، نہ اس پر کوئی بحث ہوئی اورنہ کوئی طریقہ کار فالو کیا گیا، کے پی کی سینیٹ میں نمائندگی نہیں تھی، مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میں اور محسن داوڑ 26 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آج دوسری اور مجموعی طور پر آٹھویں درخواست دائر کی گئی ہے،چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ

    سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ

    سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ کر دیا گیا،

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز کے ہاؤس رینٹ اور جوڈیشل الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، سپریم کورٹ کے ججز کا ہاؤس رینٹ 68 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔اسی طرح، ججز کا جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔قائم مقام صدر کی منظوری کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    نوٹفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز (چھوٹی، پنشن اور مراعات) آرڈر 1997 میں مزید ترمیم کی گئی ہے، چونکہ سپریم کورٹ کے ججز ( پنشن اور مراعات) آرڈر، 1997 (پی او نمبر 2 آف 1997) میں مزید ترمیم کرنا مناسب ہے لہذا، سپریم کورٹ سے متعلق، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے پانچویں شیڈول کے ذریعے عطا کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کو درج ذیل حکم جاری کرنے پر خوشی ہوئی ہے:

    اس حکم کو سپریم کورٹ کے ججز (، پنشن اور مراعات) کہا جائے گا ،یہ ایک ساتھ نافذ ہو جائے گا اور اسے جولائی 2024 کے پہلے دن اور اس سے نافذ سمجھا جائے گا۔ پیراگراف 20 میں ترمیم، 1997 کے P.O.No.2. سپریم کورٹ کے ججز ( پنشن اور مراعات) آرڈر، 1997 (P.O. No.2 of 1997) میں، اس کے بعد پیراگراف 20 میں مذکورہ حکم کے طور پر حوالہ دیا گیا، ذیلی پیراگراف (2) میں الفاظ "اڑسٹھ ہزار” کے لیے "تین لاکھ پچاس ہزار” کے الفاظ استعمال کیے جائیں گے۔ پیراگراف 22 کی ترمیم، 1997 کے P.O.No.2.- مذکورہ آرڈر میں، پیراگراف 22 میں، الفاظ "چار لاکھ اٹھائیس ہزار چالیس” کے لیے، الفاظ "ایک ملین ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار ایک سو تریسٹھ” کو تبدیل کیا جائے گا۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی