Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • میڈیا   زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    میڈیا زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ، بچوں کے اغواء کا معاملہ،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ کوئٹہ بچے کے اغواء سے متعلق ایک خفیہ پیش رفت رپورٹ جائزہ کیلئے آئی ہے،استدعا ہے کہ آئینی بینچ چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لے،بچے کی بازیابی کیلئے مشترکہ جے آئی ٹی قائم کرنے پر پیش رفت ہو رہی ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر التوا ہے، یہ تاثر نہ لیا جائے کہ آئینی بنچ نے ازخود نوٹس لیا ہے،

    آئینی بنچ نے چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا،وکیل بلوچستان حکومت نے کہا کہ استدعا ہے کہ کوئٹہ میں جاری دھرنا ختم کروایا جائے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ لوکل انتظامیہ کا کام ہے، ہمارا نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بچے کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے، وکیل بلوچستان حکومت نےکہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ٹھیک ہے ہائیکورٹ چلے جائیںوفاق سے اگر کوئی معاونت درکار ہو فراہم کرے،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے بچے کے والد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف سے تعاون ہوگا، ہم سب آپ کیلئے پریشان ہیں، بچے کے والد نے کہا کہ مجھے میرا بچہ چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئی جی صاحب نے ساری تفصیلات چیمبر میں بتا دی ہے یہ آرام سے نہیں بیٹھے،کئی باتیں بتائیں جو آپ کو نہیں بتا سکتے تحقیقات خراب ہوں گی،ہائیکورٹ نظر رکھے ہم رپورٹ سے کافی حد تک مطمئن ہیں، بچے کا پولیس سے تعاون چاہیے یہ آئی جی بتائیں گے،میڈیا اس کیس کی زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،ہم نے سپریم کورٹ میں بچے کا معاملہ نمٹایا نہیں ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائیں، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہاکہ دھرنا ختم کریں یہ ہماری درخواست ہے، دھرنے سے معاملہ حل ہوتا تو ہم بھی بیٹھنے کیلئے تیار ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ دھرنا این جی اوز نے دیا ہوگا اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، آپ دباؤ نہ ڈالیں مسئلہ حل کرنے کی طرف جائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جتنا دباؤ ہوگا بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،

    احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسند کھل کر بول پڑے،سب بتا دیا

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں جماعت اسلامی نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر نیب سے رجوع کرنے کی حامی بھرلی

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پانامہ میں مخصوص کیس میں جے آئی ٹی بنائی گئی۔علم نہیں پانامہ اسکینڈل کے باقی مقدمات کدھر گئے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ یہی ہمارا موقف ہے باقی کیسز کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کو اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کسی معلومات پر بھی ایکشن لے سکتا ہے،جماعت اسلامی کی درخواست نیب کیلئے انفارمیشن ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب کا اختیار ترامیم کے بعد کم ہوگیا ہے۔نیب نئی ترامیم کے مطابق ہی معاملہ کو دیکھ سکتا ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ نیب ہماری درخواست پر پانامہ کی تحقیقات کرے۔پانامہ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی مثال موجود ہے۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کس کیس میں کیا ہوا عدالت کا کنسرن نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جے آئی ٹی پانامہ اسکینڈل کس قانون کے تحت بنائی گئی تھی۔کیا نیب قانون میں جے آئی ٹی کی گنجائش ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ پانامہ اسکینڈل میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب سے داد رسی نہ ہوتو سپریم کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ جائیے گا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ آئینی بینچ نے گلگت بلتستان اعلی عدلیہ تقرری کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی،عدالت نے کیس کی سماعت درخواست گزار وکیل مخدوم علی خان کی درخواست پر کیس ملتوی کیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حالات کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آسکا۔گلگت بلتستان عدلیہ میں تقرریوں کا معاملہ اہم ہے۔ویڈیو لنک سے دلائل دینا مشکل ہوگا،عدالت کوئی آئندہ ہفتہ کی تاریخ دے دے،میں اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آکر دلائل دونگا۔

    سپریم کورٹ کا تلور شکار کیخلاف کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں تلور شکار کیخلاف کیس سن چکا ہوں ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تلور شکار کا تصور مارخور کے آفیشل شکار کیطرح ہے۔مارخور کے شکار کو ٹرافی ہنٹنگ کانام دیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تلور کے شکار اور آئیبیکس ٹرافی ہنٹنگ میں فرق ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو تلور تو ہجرت کرنے والے پرندے ہوتے ہیں۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین بحالی کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کردیا،سپریم کورٹ نے درخواست پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیئے،سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا،جسٹس امین الدین خان پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • سپریم کورٹ،بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ،بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے از خود نوٹس کو نمٹا دیا

    عدالت میں بھونگ انٹرچینج تعمیر کے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، رئیس منیر کے وکیل نے بتایا کہ بھونگ میں ہندو مندر جلائے جانے پر یہ از خود نوٹس لیا گیا تھا، کیس کی سماعت کے دوران بھونگ ایریا تک رسائی کا ایشو سامنے آیا، بھونگ تک رسائی کے لیے پولیس اور انٹرچینج کے معاملات اٹھے تھے، رئیس منیر کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے رسائی کے لیے بھونگ انٹرچینج کی تعمیر کا حکم دیا تھا، زمین کے کچھ حصے کی ایکوزیشن رہتی ہے جو ڈی سی نے کرنی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پھر پنجاب حکومت سے پوچھ لیتے ہیں،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ بھونگ میں ایس پی آفس بنا دیا گیا ہے، انٹرچینج کی تعمیر کے لیے فنڈز وفاقی حکومت نے دینے ہیں،این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھونگ انٹر چینج کا کنڑیکٹ دیا جا چکا ہے، بھونگ انٹرچینج کے لیے فنڈز بھی مختص ہو چُکے ہیں،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر فنڈز مختص ہو چُکے ہیں تو پھر بات ختم، اس کو جلد مکمل کریں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کہاں انٹرچینج بننا ہے کہاں نہیں، یہ پالیسی میکر نے فیصلہ کرنا ہے،رئیس ابراہیم کے وکیل نے کہا کہ ہمیں رئیس منیر کی جانب سے زمین دینے پر اعتراض ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے رئیس ابراہیم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ رئیس ابراہیم کے وکیل نے اس سوال کا جواب دیا کہ میری درخواست کو ابھی نمبر نہیں لگا،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نمبر نہیں لگا تو پھر آپ رہنے دیں،سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب حکومت اور این ایچ اے کے بیانات کے تناظر میں از خود نوٹس نمٹا دیا گیا

    اتنی منشیات بارڈرز کے ذریعے سپلائی نہیں ہوتی جتنی جیلوں میں سپلائی ہو رہی ہے،جسٹس مسرت ہلالی
    دوسری جانب تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی سے متعلق کیس میں پر اے این ایف اور تمام صوبوں سے تحریری جواب طلب کر لیا،تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے خلاف درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ بتائیں منشیات کی روک تھام کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اے این ایف کے مخبری کے نظام کے تحت جاسوسی کا نظام قائم کریں، سب سے زیادہ منشیات جیلوں میں سپلائی ہوتی ہے، اتنی منشیات بارڈرز کے ذریعے سپلائی نہیں ہوتی جتنی جیلوں میں سپلائی ہو رہی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق رپورٹ میں لکھا گیا وہاں صرف ہیروئن کا استعمال ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیاہیروئن پی کرختم کردی گئی ہے، پتہ نہیں رپورٹ میں کونسی ہیروئن کا ذکرکیا گیا ہے، بلوچستان کی رپورٹ پر مجھے خوشی بھی ہے اور حیرت بھی، کالجز میں بھی منشیات فروخت ہو رہی ہیں،منشیات سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تو خیبرپختوا ہے، صوبہ خیبرپختونخوا خاموش کیوں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اصل معاملہ ہی خیبرپختونخوا اوربلوچستان کا ہے۔آئینی بینچ نے اے این ایف اور تمام صوبوں سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ تحریری جواب میں تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے سدباب کے لیے مکمل میکانزم فراہم کیا جائے،سپریم کورٹ نے سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

  • سپریم کورٹ،صحافیوں کو جاری نوٹسز بارے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو جاری نوٹسز بارے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ ، صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے صحافیوں کو جاری نوٹسز اور تحقیقات سے متعلق ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے افسران کے دستخطوں کے ساتھ رپورٹ جمع کروائی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صرف زبانی کہنے سے مقدمہ ختم نہیں ہوگا ، وکیل پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ مقدمہ میں ابھی ایشوز موجود ہیں، 60کے قریب صحافیوں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے،عدالت نے کہا کہ پیکا ایکٹ سے متعلق مقدمہ ہائیکورٹ میں بھی تھا ؟ اس کا کیابنا ؟وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کے سیکشن کو ختم کردیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا ہائی کورٹ فیصلےکے خلاف کوئی اپیل زیر التواہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر نہیں کی گئی،صحافیوں کو جاری کردہ نوٹسز بھی ختم ہو چکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نےایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف کہہ دینے سے ایشو ختم نہیں ہوتا ،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صحافیوں کو بھی اپنا کوڈآف کنڈکٹ بنانا ہوگا ، وی لاگ کریں لیکن بات شائستگی سے کریں ،صحافیوں کا پرسنل ہونا نامناسب رویہ ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایف آئی اے 161 کے نوٹسز کیسے جاری کرسکتا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی صرف انکوائری تھی اس لیے صحافیوں کو بلایا گیا ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 161 نوٹسز تو مقدمہ درج ہونے کے بعد ہوسکتے ہیں یہ نوٹسز تو قانون کے خلاف ہیں ،

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ نے اکتوبر 2005 زلزلہ متاثرین کیس میں حکومتوں سے پراگرس رپورٹ طلب کرلیں

    عدالت نے کہا کہ بتایا جائے متاثرین آباد کاری اور منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ 2005 کا زلزلہ آئے 19 سال تو گزر چکے ہیں۔اتنے عرصہ بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو چکے ہونگے۔بتایا جائے حکام نے متاثرین کی بحالی کیلئے ابتک کیا کام کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ زلزلہ کے بعد گھروں کی تعمیر کیلئے جنگلات زمین کیوں الاٹ کی گئی۔زلزلہ سے جہاں گھر گر گئے وہیں دوبارہ تعمیر کر دیتے۔حکومت تعمیرات کے چکر میں پڑنے کی بجائے متاثرین کو رقم دے دیتی۔متاثرین کو رقم ملتی وہ ابتک اپنے گھر خود بنا چکے ہوتے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی تباہیاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔نشت گفتن برخاستن سے زیادہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں کچھ نہیں ہوا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی وفاق اور صوبے کے تعاون سے ہونی تھی۔قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے لیکن لڑ تو سکتے ہیں۔ محکموں کی بیڈ گورننس اور عدم تعاون سے متاثرین مشکلات جھیل رہے ہیں۔بیڈ گورننس کی وجہ سے معاملات عدالتوں میں آتے ہیں۔محکمے اپنا کام کرے تو عدالتوں میں کیسز نہ آئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ زلزلہ سے کتنے لوگ متاثر ہوئے۔متاثرین کیلئے ابتک کتنے گھر بنائے گئے۔وفاقی اور صوبائی حکومت کی زلزلہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کی پرفارمنس کیا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ متاثرین کیلئے کتنے فنڈز آئے۔متاثرین کئے فنڈز میں کتنا کہاں پر خرچ ہوا۔عدالتی سوالات پر جامع رپورٹ دی جائے۔جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی

    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق درخواست آئینی بینچ نے نمٹا دی
    ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ججز کی ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہائیکورٹ کا کام ہے ،درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں تبدیل ہوئے ،ہر چیف جسٹس نے ججز کو ٹرانسفر کیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ داود صاحب کیا ہائیکورٹ آزاد ہے یا نہیں،درخواست گزار نے کہا کہ ہائیکورٹ آزاد ہے لیکن پالیسی کیلئے ہدایات ضروری ہےجسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد ہے تو انکو اپنا کام کرنے دیں،ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی ہونے سے متفق ہوں لیکن یہ ہمارا کام نہیں ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ ایک سال میں تین چیف جسٹس آے تو تین مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہوئی ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ ہر چیف جسٹس کا اپنا اختیار ہوتا ہے،ہر جج بڑے شہر میں بیٹھنے کی خواہش رکھتا ہے،آپ کیوں انتظامی کاموں کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،درخواست پڑھی تو اخیال آیا یہ میاں داود کی ہوگی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ دادو صاحب آج ہم آپکی بات نہیں مان رہے،درخواست گزار نے کہا کہ پھر عدالت اجازت دے کہ ہائیکورٹ جا سکوں،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد ہر نمٹا دی

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ ہٹانےپر پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ کے سامنے حمزہ شہباز کو وزیر اعلی سے ہٹانے کا معاملے پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز نظر ثانی پر پرویز الہی کو نوٹس جاری کردیا،آئینی بینچ نے ایڈیںشنل اٹارنی جنرل و دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے نظر ثانی پر سماعت کی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن پر وفاقی حکومت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لے کر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس امین الدین ک سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے آڈیوز لیک کمیشن کیس کی سماعت کی۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کیا آڈیو لیک کمیشن لائیو ایشو ہے، کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کمیشن کے ایک اور رکن سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت سے ہدایات کے لیے مہلت دے دیں، معلوم کرنے دیں کیا حکومت نیا کمیشن بنانا چاہتی ہے، آڈیو لیک کے معاملے پر قانونی نقطہ تو موجود ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نیا کمیشن بنتا ہے تو یہ مقدمہ تو غیر مؤثر ہو جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کوئٹہ میں بچے کے اغواء کا نوٹس لے لیا۔عدالت نے کوئٹہ سے اغواء بچے کی بازیابی پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ میں چھ دن سے ایک اغوا بچہ نہیں ڈھونڈا جا رہا۔ایک بچہ کے اغوا پر پورا صوبہ بند ہے حکومت کو فکر نہیں۔یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟

    سپریم کورٹ،مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج
    مراد علی شاہ نا اہلی کیس،سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیخلاف نا اہلی کی درخواست خارج کر دی ،عدالت نے عدم پیروی پر نا اہلی کی درخواست خارج کی،محمود اختر نقوی نے نا اہلی کی درخواست دائر کی تھی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    ٹریفک حادثات میں اموات کے خلاف درخواست،سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا
    سپریم کورٹ،ملک کی مرکزی شاہراوں پر ہیوی ٹریفک کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، درخواست گزار عباس آفریدی نے کہا کہ روزانہ 70 لوگ ٹریفک حادثات میں مرتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ لوگ لٹک لٹک کر کیوں سفر کرتے ہیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے این ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کردیا،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی،جی ٹی روڈز پر اوور لوڈڈ ٹرکس کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی

    ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت قرار
    سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا،عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی جوابات جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست پر سماعت کی ،میاں دائود ایڈووکیٹ ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے پیش ہوئے، جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا اہم معاملہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ صرف لاہور ہائیکورٹ کی بات کر رہے ہیں، باقی ہائیکورٹس میں شاید ایسا نہ ہوا ہو، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں نے بطور حوالہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام نوٹیفکشنز ساتھ لگائے ہیں،اعلی عدلیہ کے چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عدلیہ کی ساکھ مجروح کر دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چلیں اس مسئلے کو دیکھتے ہیں، میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اب ہم اس مسئلے کو دیکھیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر رکھی تھی،درخواست میں پانچ ہائیکورٹس کے رجسٹرارز، چاروں صوبوں او روفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیاکہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان صوابدیدای اختیارات کا غیرآئینی استعمال کر تے ہیں،ہائیکورٹس کے اکثر چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری خزانہ بادشاہوں کی طرح لٹا تے ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اختیارات کے ناجائز استعمال بدترین مثالیں قائم کیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بہترین کارکردگی کے نام پر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے افسروں اور اہلکاروں میں 6 جولائی2021 سے دو ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،عدالتی تاریخ میں آج تک کسی چیف جسٹس کے سٹاف کو اڑھائی برس کی مدت پر مشتمل ایڈوانس انکریمنٹ دینے کی مثال نہیں ملتی، سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل دیگر سینکڑوں ملازمین کو غیرقانونی طور پر ایڈوانس انکریمنٹ دیئے گئے،ایڈوانس انکریمنٹ تبادلہ شدہ رجسٹرار ہائیکورٹ اور دو ماہ قبل تعینات ہونیوالے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھی دیئے گئےسابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریڈر اور انکی اہلیہ سینئر سول جج کو 4 سال کی تعلیمی چھٹی بمعہ تنخواہ دینے کی منظوری دی گئی،سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے دیگر متعدد ملازمین کو بھی بغیر کسی قانونی جواز اور اختیار کے چھ چھ ماہ، ایک ایک سال کی چھٹیوں کی منظوری دی،ریڈر اور انکی اہلیہ کی تعلیمی چھٹی کیلئے کسی یونیورسٹی کا ریکارڈ اور قانون تقاضہ فائل کے ریکارڈ پر موجود نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 50 سے زائد ملازمین کی سزائیں ایک دستخط سے ختم کرنے کے درجنوں نوٹیفکیشنز ایک ہی دن جاری کئے گئے، صوابدیدی اختیارات کے تحت سزائیں ختم کرنا قانون تحت قائم سروس ٹربیونلز کو غیرفعال کرنے کے مترادف ہے، لاہور ہائیکورٹ کے دو ڈپٹی رجسٹرار شہباز انور اور شہباز اشرف کی سزائیں ختم کے انہیں بھی ایڈوانس انکریمنٹس دیئے گئے،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کو سزائیں ختم کرانے کیلئے خود ہی اپنا نیا انکوائری افسر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی، ایڈوانس انکریمنٹس کے علاوہ دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی سزائیں ختم کر کےانہیں ترقیاں بھی دیدی گئیں،اب لاہور ہائیکورٹ کا کوئی نیا افسر دونوں ڈپٹی رجسٹرار کی فائلوں کی انکوائری کا ذمہ اٹھانے کو تیار نہیں ،دونوں ڈپٹی رجسٹرارز کی فائلیں ایک برانچ سے دوسری برانچ گھوم رہی ہیں، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے زیادہ تر نوٹیفکیشنز ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل 6مارچ کو جاری کئے گئے، ہائیکورٹس کے ملازمین کے ساتھ اقربا پروری کا سلوک کرکے عدلیہ کو بدنام کیا گیا، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوبائی اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی ریٹائرمنٹ سے 1 ماہ قبل جاری کئے گئے تمام نوٹیفکشنز کا عدالتی جائزہ لیا جائے،لاہور ہائیکورٹس کے افسران کو دی گئی ایڈوانس انکریمنٹس غیرقانونی قرار دے کر واپس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے،

  • سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    سپریم کورٹ،ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس،اپیل منظور

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی اپیل منظور کرلی،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دوبارہ معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا تھا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا
    ججز پلاٹس کیس: جسٹس عائشہ ملک نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا لکھا کہ پلاٹس کی اُس الاٹمنٹ کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کیا، جو اُس کے سامنے تھا ہی نہیں، عدالتوں کا اپنا دائرہ اختیار بڑھانا قبول نہیں.
    ایف 14 اور ایف 15 میں بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے پلاٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیدیا،جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق اس نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا جو ہائیکورٹ میں چیلنج ہی نہیں تھی،22 نومبر 2022 کو پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی اس دن عدالت کے سامنے آئی جس دن فیصلہ محفوظ کیا گیا،پلاٹس کی نظرثانی شدہ پالیسی پر نہ دلائل دیے گئے نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا زکر کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو کہا وہ کیس اس کے سامنے تھا ہی نہیںججز کے پلاٹس کی اس الاٹمنٹ کو بھی ہائی کورٹ نے معطل کیا جو اس کے سامنے تھا ہی نہیں، یہ آئینی طور پر ناقابل قبول ہے کہ عدالتیں اپنے دائرۂ اختیار کو وسعت دیں، نہ تو آئین اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔توفیق آصف کیس میں اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی ہی نہ گئی ہو، ہائی کورٹ خود سے کسی پالیسی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دے سکتی، اسلام ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ،آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شخص کو شنوائی کا حق دینا آئینی تقاضا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا فیصلہ دینے سے قبل تمام فریقین کو سننا چاہیے تھا،ہائی کورٹ کسی معاملے کو اس وقت سن سکتی جب اس سامنے کوئی فریق ہو،

    جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی، عدنان سید کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل بحال کی جاتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ اپیل پر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد 90 دن میں فیصلہ کرے، پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے،سپریم کورٹ میں آئے وہ فریقین جو اسلام آباد میں فریق نہیں تھے وہ بھی عدالت عالیہ میں فریق بن سکتے ہیں،ہماری عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ کیس کا فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی، ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ایف 12، جی 12، ایف 14 اور 15 کی اسکیم غیرقانونی اورمفاد عامہ کیخلاف ہے، ریاست کی زمین اشرافیہ کیلیے نہیں، صرف عوامی مفاد کیلئے ہے، جج، بیورکریٹس، پبلک آفس ہولڈرز مفاد عامہ کیخلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے جج اور بیوروکریٹس اصل اسٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کیلئے ہیں،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی آئین کیخلاف کوئی اسکیم نہیں بنا سکتی،

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

  • ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس مسرت ہلالی

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نمٹا دی،

    لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کے حوالے سے جسٹس فرخ عرفان خان کی درخواست پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار کے وکیل حامد خان سے دریافت کیا کہ آیا وہ یہ کیس چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں، 4 ججز کے حوالے سے ایشو تھا یہاں تو ججز ریٹائر بھی ہوچکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 5 لوگوں نے ایک ساتھ حلف اٹھایا تو عمر کے حساب سے سینیارٹی طے ہوگی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو اکیڈمک ایکسرسائز کرنے کا کہہ رہے ہیں۔دوران سماعت وکیل حامد خان نے موقف اپنایا کہ تھا کہ ججز کا نوٹیفکیشن ساتھ ہونے کے بعد اگر حلف ایک دن تاخیر سے بھی لیں تو سینیارٹی برابر ہی ہوگی،جسٹس فرخ عرفان نے امریکا میں ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کو آگاہ کر کے حلف ایک دن بعد اٹھایا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج جب تک حلف نہیں اٹھاتا تب تک وہ جج نہیں ہوسکتا ،جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان سے استفسار کیا کہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست دی ہے، فیصلے میں غلطی کیا ہے وہ بتائیں، اگر کوئی شخص نوٹیفکیشن کے ایک ماہ تک حلف نہیں لیتا اور بعد میں وہ انکار کر دے تو کیا ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بہتر ہے اس معاملے کو اوپن رکھیں کسی اور کیس میں طے کر لیں گے۔عدالت نے نظر ثانی درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مستقبل میں کسی اور مقدمے میں سینیارٹی کے اصول کا معاملہ طے کریں گے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ میری جانب سے درخواست بروقت دائر کی گئی تھی، اب نظر ثانی کیس زیر التواء ہے، چاہتا ہوں کہ کسی مقدمے میں اس معاملے کو دیکھا جائے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہم سے غیر آئینی کام کیوں کروانا چاہتے ہیں، امیدواران کی مرضی ہے سیاسی جماعت میں شامل ہوں یا نہ ہوں،سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ مولوی اقبال صاحب آپ پھر اسی طرف جا رہے ہیں جس وجہ سے پابندی لگی تھی،عدالت نے درخواست پر رجسڑار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

    اعلیٰ عدالتی فورمز پر ٹرائل مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم طے کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون سمیت کئی قوانین میں ٹائم لائن موجود ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ٹائم لائن کے لیے پارلیمنٹ سے جاکر قانون سازی کروا لیں،درخواست گزار حسن رضا نے کہا کہ ٹرائل مکمل ہوتے ہوتے 20 سے 40 سال لگ جاتے ہیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ایسی عمومی باتیں نہ کریں اور الزام نہ لگائیں، سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے لیکن پیش رفت ہو رہی ہے، آپ کی درخواست نیشنل جوڈیشل پالیسی سے متعلق ہے، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست پر کسی کو ہدایت نہیں جاری کریں گے، جہاں اصلاحات ہو رہی ہیں وہاں جاکر شمولیت اختیار کریں، یہ ہمارا کام نہیں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین اور قانون کے تابع ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہماری طرف سے بھی سخت ردعمل آیا تو مایوسی پھیلے گی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ عدالتی ریفارمز کے لیے لاء اینڈ جسٹس کمیشن موجود ہے، وہاں رجوع کریں۔ عدالت نے دلائل کے بعد درخواست خارج کر دی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • سپریم کورٹ، آرمی چیف کی توسیع کے خلاف درخواست خارج

    سپریم کورٹ، آرمی چیف کی توسیع کے خلاف درخواست خارج

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ میں مقدمات کی سماعت ہوئی

    آرمی چیف کی توسیع کیخلاف درخواست سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے عدم پیروی پر خارج کردی۔رجسٹرار آفس کے درخواست پر نا قابل سماعت کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فیصلہ کیا۔

    بول نیوز کیخلاف تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس عائشہ ملک نے تنخواہوں سے متعلق از خود نوٹس کیس سننے سے انکار کردیا،عدالت نے کہا کہ بول نیوز ملازمین تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے نیا آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ معزز جج صاحبہ نے از خود نوٹس سننے سے انکار کیا ہے۔آج عدالتی کاروائی کو ملتوی کر رہے ہیں،تنخواہوں کا کیس نئے آئینی بینچ میں سماعت کیلئے لگے گا۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اعلی عدلیہ ججز کی پارلیمنٹ میں تقریروں کیخلاف درخواست خارج کر دی، عدالت نے درخواست گزار محمد اختر نقوی کی عدم پیروی پر درخواست خارج کی،آئینی بینچ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے،جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ، ایک وقوعہ پر دو مقدمے، درخواست خارج
    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں ایک وقوعہ پر 2ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل درخواستگزار وسیم احمد خان کی سرزنش کردی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ایسے کیسز کی وجہ سے زیرالتوا مقدمات کی تعداد60ہزار ہو چکی ہے،ہمیں 60ہزار زیرالتوا مقدمات بار بار یاد کرائے جاتے ہیں،کیوں نہ آپ کی درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کریں،آپ تو وکیل ہیں آپ بھی ایسے کیسز عدالتوں میں دائر کریں گے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ صغران بی بی کیس میں عدالت فیصلے دے چکی ہے،دوسر ی ایف آئی آر کے اخراج کیلئے ہائیکورٹ کیوں نہیں گئے؟سپریم کورٹ آئینی بنچ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

  • سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں سماعت،درخواست گزار کو جرمانہ

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں سماعت،درخواست گزار کو جرمانہ

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ نے الیکشن میں 50 فیصد سے زائد ووٹ والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست خارج کردی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انتخابات میں 50 فیصد سے زائد ووٹ والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس آئینی شق کے تحت امیدوار کو الیکشن میں 50 فیصد ووٹ لازمی قرار دیا جائے، الیکشن میں ڈالے ووٹوں پر کامیاب امیدوار کا فیصلہ ہوتا ہے، ووٹرز ووٹ ڈالنے نہ جائے تو ان کا کیا ہوسکتا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بتایا جائے درخواست گزار کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، آئین کے کن آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہو رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر نیا قانون بنوانا ہے تو سپریم کورٹ کے پاس اختیار نہیں،جسٹس عائشہ کے استفسار پر درخواست گزار محمد اکرم نے عدالت میں کہا کہ سارے بنیادی حقوق اس درخواست میں اٹھائے سوال سے جڑے ہیں، ہماری زندگی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زندگی کا فیصلہ تو پارلیمنٹ نہیں کرتی،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام لوگوں کو ووٹ کا حق ہے، پولنگ کے دن لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں ووٹ ڈالنے نہیں جاتے، ووٹرز ووٹ نہ ڈالیں تو یہ ووٹرز کی کمزوری ہے۔

    جرمانہ کم از کم 100 ارب کریں تاکہ ملک کا قرضہ کم ہو، وکیل ،آپ کی اتنی حیثیت نہیں، جسٹس امین الدین
    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فروری 2024 کے الیکشن میں ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر درخواست گزار محمد اکرم نے جواب دیا کہ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر آئین کی توہین کررہے ہیں،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بے بنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزار پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا، درخواست گزار نے عدالت سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ جرمانہ کم از کم 100 ارب کریں تاکہ ملک کا قرضہ کم ہو، آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 100ارب کا جرمانہ دینے کی آپ کی حیثیت نہیں،آئینی بینچ نے درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

    آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل نمٹا دی گئی
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7رکنی آئینی بینچ نے آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا پابند بنانے سے متعلق اپیل پر سماعت کی، درخواست گزار مولوی اقبال حیدر ویڈیو لنک کے زریعے پیش ہوئے ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کو عدالتی احاطے میں اجازت دی، یہ آپ کے کے لیے کافی ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ یہ معاملہ طے ہوچکا ہے، میری درخواست غیرمؤثر ہوچکی ہے ،بعدازاں آئینی بینچ نے درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    علاوہ ازیں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ نے انکم لیوی ٹیکس ایکٹ 2013 کے خلاف 1178 مقدمات کی سماعت کی۔دوران سماعت ایف بی آر کے وکیل نے بتایا کہ مقدمے کے بہت سے فریقین کو نوٹسز نہیں موصل ہوسکے، مقدمے میں لاہور اور کراچی 2 ہائیکورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا، 400 لوگوں کے ایڈریسز شاید درست نہیں،آئینی بینچ نے نوٹسز کی تعمیل بذریعہ اخبار اشتہار کروانے کا حکم دے دیا،وکیل نے کہا کہ مقدمے میں اپیلوں کے قابل سماعت ہونے کا بھی ایشو شامل ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اس ایشو کوسنیں گے، کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی ،عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کردی ،کیس کی سماعت سات رکنی آئینی بینچ نے کی،درخواست گزار محمود اختر نقوی عدالت پیش نہ ہوئے، عدالت نے درخواست گزار کو آج طلب کر رکھا تھا ، تاہم عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کر دی،

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی