Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے خط26 آئینی ترمیم درخواستوں پر سماعت کیلئے تحریر کیا اور کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیں۔چیف جسٹس چیف جسٹس آفریدی رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کیلئے لگانے کا حکم دیں،خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے، اس کے فیصلے میں کسی واضح معیار اور طریقہ کار کا فقدان ہے۔ ججز کی تقرری کا عمل صرف "ایگزیکٹو کی ووٹنگ طاقت” کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جو کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کمیشن کو دی گئی ہے۔ ا ان تقرریوں کا کوئی معقول جواز نہیں ہے اور کمیشن کی میٹنگز کے منٹس عوام کے سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید کہا کہ کمیشن کا اصل مقصد آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری ہے، جو کہ عوامی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ تاہم، ان تقرریوں کے متعلق میٹنگز کے منٹس کو عوام کے ساتھ شیئر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے معلومات تک رسائی کی آزادی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے فیصلوں کے بارے میں معلومات کا شائع نہ کرنا عوام میں مشکوک اندازوں کو جنم دیتا ہے اور عدلیہ کی اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کا یقین نہیں ہوتا۔ شفاف طریقے سے تقرریوں کی اطلاعات دینا عدلیہ کی ساکھ کو بہتر بنانے اور ججز کو اپنے فیصلوں میں آزادی اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جو کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو اجلاس طلب کیا جائے تاکہ 26ویں آئینی ترمیم پر زیر التوا درخواستوں کی سماعت کی جا سکے۔ انہوں نے مزید درخواست کی کہ پاکستان کے نئے عدالتی کمیشن کا اجلاس اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک وہ درخواستیں فل کورٹ کے سامنے نہیں آ جاتیں، اور کمیشن اپنے طریقہ کار کے اصول آئین کے آرٹیکل 175 اے (4) کے تحت وضع نہیں کرتا۔عدالتی کمیشن کے فیصلوں کی شفافیت اور معلومات تک رسائی کا حق ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔”

    خط میں کہا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی تھی،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دو درجن سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں منظور بھی ہو سکتی ہیں اور مسترد بھی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست منظور ہوتی ہیں تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقت ختم ہو جائے گی ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی،

  • عدالت  اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے کر پی آئی اے نجکاری کا کیس نمٹا دیا

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری کیس کی سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنلز بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع کیا تھا، نجکاری کے عمل سے پی آئی اے میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں،پی آئی اے نجکاری کا عمل کمیشن دوبارہ کرنے جا رہا ہے، پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی بھی ختم ہو گئی ہے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ دوبارہ نجکاری کے عمل میں اب شائد ریٹ زیادہ ملے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی آئی اے نجکاری کر کے حکومت کہیں سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجکاری پر اعتماد میں لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب کیطرف سے جسٹس منصور علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ محتسب کیطرف سے جسٹس منصور کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا،وفاقی محتسب نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے،وفاقی محتسب نے اپنی متفرق درخواست بھی واپس لے لی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ کیس تو ایسا لگتا ہے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹسز کیے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ، ججز کی تعیناتی ،کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کا معاملہ،ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کیس سماعت کے لیے نیا بینچ بنے گا.

    ججز کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کمیشن کے دو ممبران بینچ کا حصہ ہیں وہ کیسے کیس سن سکتے ہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے اعتراض لگا کر واپس کیا تو کیا آپ دوبارہ جوڈیشل کمیشن گئے،جوڈیشل کمیشن ایک نام تجویز کرتا ہے تو وہ پارلیمانی کمیٹی جاتا ہے، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ سماعت کی

    دوسری جانب پاکستان تحریک نے سپریم کورٹ آئینی بنچ میں الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 کیخلاف درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کی غرض سے واپس لے لی، ریٹائرڈ ججز کی الیکشن ٹریبونل کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ٹیک اپ کر لیا ہے اسلیے پی ٹی آئی نے فی الحال آئینی بنچ سے درخواست واپس لےلی۔بیرسٹر گوہر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست واپس لے لی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، ہم یہ اعتراضات دور کر کے دوبارہ درخواست دائر کریں گے،

  • آئینی بینچ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سے معذرت

    آئینی بینچ کے سربراہ کی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سے معذرت

    اسلام آباد: آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور ممبر جسٹس جمال مندوخیل نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تعیناتی کیس کی سماعت سننے سے معذرت کرلی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں6 رکنی بنچ نے مختلف مقدمات کی سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سنیارٹی بنیادی حق نہیں اس سے ہٹ کر چیف جسٹس تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کمیشن کے دو رکن یہ مقدمہ نہیں سن سکتے،بینچ نے دوسرے بینچ میں کیس لگانے کا حکم دے دیا۔

    آڈیولیکس کمیشن کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا حالیہ امن وامان کی صورتحال کے باعث معاملہ کابینہ میں پیش نہیں ہوسکا، اب آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بینچ نے جیلوں میں قیدیوں کو یکساں سہولیات کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

    سپریم کورٹ نے بجلی کمپنی کے ساتھ حکومتی معاہدوں کیخلاف درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کردیئے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا ہم معاہدوں کو ختم کر سکتے ہیں؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ عوامی مفاد کا مقدمہ ہے ہم مداخلت کرسکتے ہیں، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے اسٹون کرشنگ کیس میں رپورٹ جمع کرائی، عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی رپورٹ وکلا کو فراہمی کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

  • سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    سپریم کورٹ نے ہزاروں مقدمات نمٹا دیئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک نمٹائے گئے مقدمات کی رپورٹ جاری کر دی۔

    اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں چار ہزار 372 مقدمات نمٹا دیئے، ایک ماہ کے دوران 1853 نئے مقدمات دائر ہوئے۔سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس اور ساتھی ججز نے انتھک کوشش کی جس سے زیر التوا مقدمات نمٹانے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل ریفارمز چیف جسٹس کے ایجنڈے میں ترجیح پر ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیس پینڈنگ پر ہیں جن کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے.

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

  • سپریم کورٹ میں  موسم سرما  کی تعطیلات کا شیڈول جاری

    سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری

    اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان میں سردیوں کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا گیا،چیف جسٹس یحیی آفریدی کی منظوری سے رجسٹرار آفس نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی:نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں 18 سے 31 دسمبر تک موسمِ سرما کی تعطیلات ہوں گی،موسمِ سرما کی تعطیلات کے دوران سپریم کورٹ میں دفاتر کھلے رہیں گے، اہم نوعیت کے مقدمات کمیٹی کی منظوری سے دستیاب بینچز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیے جاسکیں گے۔

  • میڈیا   زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    میڈیا زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ، آئینی بینچ، بچوں کے اغواء کا معاملہ،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ کوئٹہ بچے کے اغواء سے متعلق ایک خفیہ پیش رفت رپورٹ جائزہ کیلئے آئی ہے،استدعا ہے کہ آئینی بینچ چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لے،بچے کی بازیابی کیلئے مشترکہ جے آئی ٹی قائم کرنے پر پیش رفت ہو رہی ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر التوا ہے، یہ تاثر نہ لیا جائے کہ آئینی بنچ نے ازخود نوٹس لیا ہے،

    آئینی بنچ نے چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا،وکیل بلوچستان حکومت نے کہا کہ استدعا ہے کہ کوئٹہ میں جاری دھرنا ختم کروایا جائے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ لوکل انتظامیہ کا کام ہے، ہمارا نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بچے کی زندگی کو محفوظ بنانا ہے، وکیل بلوچستان حکومت نےکہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ٹھیک ہے ہائیکورٹ چلے جائیںوفاق سے اگر کوئی معاونت درکار ہو فراہم کرے،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے بچے کے والد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف سے تعاون ہوگا، ہم سب آپ کیلئے پریشان ہیں، بچے کے والد نے کہا کہ مجھے میرا بچہ چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئی جی صاحب نے ساری تفصیلات چیمبر میں بتا دی ہے یہ آرام سے نہیں بیٹھے،کئی باتیں بتائیں جو آپ کو نہیں بتا سکتے تحقیقات خراب ہوں گی،ہائیکورٹ نظر رکھے ہم رپورٹ سے کافی حد تک مطمئن ہیں، بچے کا پولیس سے تعاون چاہیے یہ آئی جی بتائیں گے،میڈیا اس کیس کی زیادہ تشہیر نہ کرے بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،ہم نے سپریم کورٹ میں بچے کا معاملہ نمٹایا نہیں ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائیں، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہاکہ دھرنا ختم کریں یہ ہماری درخواست ہے، دھرنے سے معاملہ حل ہوتا تو ہم بھی بیٹھنے کیلئے تیار ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ دھرنا این جی اوز نے دیا ہوگا اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، آپ دباؤ نہ ڈالیں مسئلہ حل کرنے کی طرف جائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جتنا دباؤ ہوگا بچے کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے،

    احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسند کھل کر بول پڑے،سب بتا دیا

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ، پانامہ تحقیقات،جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں جماعت اسلامی نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر نیب سے رجوع کرنے کی حامی بھرلی

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے پانامہ اسکینڈل معاملہ پر جماعت اسلامی کی درخواست نمٹا دی،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پانامہ میں مخصوص کیس میں جے آئی ٹی بنائی گئی۔علم نہیں پانامہ اسکینڈل کے باقی مقدمات کدھر گئے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ یہی ہمارا موقف ہے باقی کیسز کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کو اس سلسلے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کسی معلومات پر بھی ایکشن لے سکتا ہے،جماعت اسلامی کی درخواست نیب کیلئے انفارمیشن ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب کا اختیار ترامیم کے بعد کم ہوگیا ہے۔نیب نئی ترامیم کے مطابق ہی معاملہ کو دیکھ سکتا ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ نیب ہماری درخواست پر پانامہ کی تحقیقات کرے۔پانامہ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی مثال موجود ہے۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کس کیس میں کیا ہوا عدالت کا کنسرن نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جے آئی ٹی پانامہ اسکینڈل کس قانون کے تحت بنائی گئی تھی۔کیا نیب قانون میں جے آئی ٹی کی گنجائش ہے۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ پانامہ اسکینڈل میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب سے داد رسی نہ ہوتو سپریم کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ جائیے گا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ آئینی بینچ نے گلگت بلتستان اعلی عدلیہ تقرری کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی،عدالت نے کیس کی سماعت درخواست گزار وکیل مخدوم علی خان کی درخواست پر کیس ملتوی کیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حالات کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آسکا۔گلگت بلتستان عدلیہ میں تقرریوں کا معاملہ اہم ہے۔ویڈیو لنک سے دلائل دینا مشکل ہوگا،عدالت کوئی آئندہ ہفتہ کی تاریخ دے دے،میں اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آکر دلائل دونگا۔

    سپریم کورٹ کا تلور شکار کیخلاف کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں تلور شکار کیخلاف کیس سن چکا ہوں ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تلور شکار کا تصور مارخور کے آفیشل شکار کیطرح ہے۔مارخور کے شکار کو ٹرافی ہنٹنگ کانام دیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تلور کے شکار اور آئیبیکس ٹرافی ہنٹنگ میں فرق ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو تلور تو ہجرت کرنے والے پرندے ہوتے ہیں۔

    سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین بحالی کی درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کردیا،سپریم کورٹ نے درخواست پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،آئینی بینچ نے اسٹوڈنٹس یونین پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کر دیئے،سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا،جسٹس امین الدین خان پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    بشریٰ بی بی ریڈ زون روانہ،وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • سپریم کورٹ،بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ،بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بھونگ انٹرچینج کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے از خود نوٹس کو نمٹا دیا

    عدالت میں بھونگ انٹرچینج تعمیر کے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، رئیس منیر کے وکیل نے بتایا کہ بھونگ میں ہندو مندر جلائے جانے پر یہ از خود نوٹس لیا گیا تھا، کیس کی سماعت کے دوران بھونگ ایریا تک رسائی کا ایشو سامنے آیا، بھونگ تک رسائی کے لیے پولیس اور انٹرچینج کے معاملات اٹھے تھے، رئیس منیر کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے رسائی کے لیے بھونگ انٹرچینج کی تعمیر کا حکم دیا تھا، زمین کے کچھ حصے کی ایکوزیشن رہتی ہے جو ڈی سی نے کرنی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پھر پنجاب حکومت سے پوچھ لیتے ہیں،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ بھونگ میں ایس پی آفس بنا دیا گیا ہے، انٹرچینج کی تعمیر کے لیے فنڈز وفاقی حکومت نے دینے ہیں،این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھونگ انٹر چینج کا کنڑیکٹ دیا جا چکا ہے، بھونگ انٹرچینج کے لیے فنڈز بھی مختص ہو چُکے ہیں،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر فنڈز مختص ہو چُکے ہیں تو پھر بات ختم، اس کو جلد مکمل کریں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کہاں انٹرچینج بننا ہے کہاں نہیں، یہ پالیسی میکر نے فیصلہ کرنا ہے،رئیس ابراہیم کے وکیل نے کہا کہ ہمیں رئیس منیر کی جانب سے زمین دینے پر اعتراض ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے رئیس ابراہیم کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ رئیس ابراہیم کے وکیل نے اس سوال کا جواب دیا کہ میری درخواست کو ابھی نمبر نہیں لگا،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر نمبر نہیں لگا تو پھر آپ رہنے دیں،سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب حکومت اور این ایچ اے کے بیانات کے تناظر میں از خود نوٹس نمٹا دیا گیا

    اتنی منشیات بارڈرز کے ذریعے سپلائی نہیں ہوتی جتنی جیلوں میں سپلائی ہو رہی ہے،جسٹس مسرت ہلالی
    دوسری جانب تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی سے متعلق کیس میں پر اے این ایف اور تمام صوبوں سے تحریری جواب طلب کر لیا،تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے خلاف درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ بتائیں منشیات کی روک تھام کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اے این ایف کے مخبری کے نظام کے تحت جاسوسی کا نظام قائم کریں، سب سے زیادہ منشیات جیلوں میں سپلائی ہوتی ہے، اتنی منشیات بارڈرز کے ذریعے سپلائی نہیں ہوتی جتنی جیلوں میں سپلائی ہو رہی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق رپورٹ میں لکھا گیا وہاں صرف ہیروئن کا استعمال ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیاہیروئن پی کرختم کردی گئی ہے، پتہ نہیں رپورٹ میں کونسی ہیروئن کا ذکرکیا گیا ہے، بلوچستان کی رپورٹ پر مجھے خوشی بھی ہے اور حیرت بھی، کالجز میں بھی منشیات فروخت ہو رہی ہیں،منشیات سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تو خیبرپختوا ہے، صوبہ خیبرپختونخوا خاموش کیوں ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اصل معاملہ ہی خیبرپختونخوا اوربلوچستان کا ہے۔آئینی بینچ نے اے این ایف اور تمام صوبوں سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ تحریری جواب میں تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے سدباب کے لیے مکمل میکانزم فراہم کیا جائے،سپریم کورٹ نے سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

  • سپریم کورٹ،صحافیوں کو جاری نوٹسز بارے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،صحافیوں کو جاری نوٹسز بارے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ ، صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے صحافیوں کو جاری نوٹسز اور تحقیقات سے متعلق ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے افسران کے دستخطوں کے ساتھ رپورٹ جمع کروائی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صرف زبانی کہنے سے مقدمہ ختم نہیں ہوگا ، وکیل پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ مقدمہ میں ابھی ایشوز موجود ہیں، 60کے قریب صحافیوں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے،عدالت نے کہا کہ پیکا ایکٹ سے متعلق مقدمہ ہائیکورٹ میں بھی تھا ؟ اس کا کیابنا ؟وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کے سیکشن کو ختم کردیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا ہائی کورٹ فیصلےکے خلاف کوئی اپیل زیر التواہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر نہیں کی گئی،صحافیوں کو جاری کردہ نوٹسز بھی ختم ہو چکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نےایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف کہہ دینے سے ایشو ختم نہیں ہوتا ،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صحافیوں کو بھی اپنا کوڈآف کنڈکٹ بنانا ہوگا ، وی لاگ کریں لیکن بات شائستگی سے کریں ،صحافیوں کا پرسنل ہونا نامناسب رویہ ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایف آئی اے 161 کے نوٹسز کیسے جاری کرسکتا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی صرف انکوائری تھی اس لیے صحافیوں کو بلایا گیا ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 161 نوٹسز تو مقدمہ درج ہونے کے بعد ہوسکتے ہیں یہ نوٹسز تو قانون کے خلاف ہیں ،

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب