Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کا چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں اجلاس ہوا،جس کا سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کر دیا ،اجلاس میں انصاف کی جلد فراہمی کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ،اجلاس میں عدالتی نظام کے موجودہ وسائل اور مواقع کا جائزہ لیا گیا،مجوزہ عدالتی اصلاحات کے تحت کمزور طبقوں کے مقدمات کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا،

    انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی ججوں کا ایک اہم اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس کی صدارت عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ان مقدمات میں انصاف کی تیز فراہمی کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ ججز، جسٹس جمال خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، اے ٹی سی عدالتوں کے مانیٹرنگ ججز اور صوبوں و آئی سی ٹی کے پراسیکیوٹر جنرلز بھی موجود تھے۔ اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بھی اہم شرکت کی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے مقصد کی وضاحت کی، جس کا مقصد اے ٹی سی کیسز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ انہوں نے تمام ججز پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر جانبداری سے فیصلے کریں۔

    اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 2,273 اے ٹی سی مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں سے 1,372 مقدمات صرف سندھ میں زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان مقدمات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور انصاف کی فوری فراہمی کے لیے اضافی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انسداد دہشت گردی عدالتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیل سے بات کی گئی جن میں گواہوں کے تحفظ کے لیے مناسب سیکیورٹی فراہم کرنا، گواہوں کی آن لائن پیشی کو ممکن بنانا، اور فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز (FSL) کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اضافی اے ٹی سی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سندھ اور بلوچستان میں فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز ے قیام اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اے ٹی سی ججوں کی تربیت کے لیے غیر ملکی مواقع فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔ چیف جسٹس یحییٰٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر متعلقہ حکام کو اس معاملے پر فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اے ٹی سی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ مقدمات کی بروقت اور منصفانہ سماعت ممکن ہو سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومتیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدالتی اصلاحات کو حتمی شکل دینے سے قبل عوامی مباحثہ کرایا جائے گا،

    یہ ایک بہت اہم قدم ہے جس سے پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف عوام کا اعتماد کم کرتی ہے بلکہ معیشت اور سماج پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عدالتیں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں۔ اس طرح کے منصوبے عوامی سطح پر تبادلہ خیال کے ذریعے انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، لیکن اس میں تمام اداروں اور افراد کی مشاورت اور تعاون ضروری ہوگا۔

  • آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آئینی بینچ کے ججز سپریم کورٹ کے ججز ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عدلیہ کی باپ کی طرح ہے،آئینی بینچ کے سربراہ سپریم کورٹ کے جج ہیں،سپریم کورٹ کے تمام ججز کی پاور ایک جیسی ہوتی ہے،چیف جسٹس کے پاس ایڈمنسٹریٹو پاور زیادہ ہوتی ہے ہم سب کو چیف جسٹس کی عزت کرنی چاہیے ۔ججز کی پاور برابر ہوتی ہے، چیف جسٹس کی سب کو عزت کرنی چاہئے،آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس پاکستان کی حیثیت میں کمی نہیں آئی

    واضح رہے کہ جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا گیا ہے، سات رکنی آئینی بینچ کی تشکیل دو روز قبل کی گئی تھی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی،

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین  خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    اسلام آباد،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا
    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر شبلی فراز، شیخ آفتاب ، عمر ایوب ، روشن خورشید بروچہ اور پاکستان بار کونسل کا نامزد ممبر اختر حسین بھی اجلاس میں شریک تھے

    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں آئینی بینچ کا فیصلہ 7 اور 5 کے تناسب سے آیا، جسٹس یحییٰ آفریدی، منصور علی شاہ، منیب اختر، عمر ایوب اور شبلی فراز نے مخالفت کی،آئینی بینچ کا قیام، جسٹس امین الدین خان سربراہ ہوں گے، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان ممبر ہوں گے۔آئینی بینچ میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے دو دو، خیبر پختون خوا سے ایک جج شامل کیا گیا ہے

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بڑے اچھے ماحول میں ہوا۔جوڈیشل میں یہ تجویز بھی آئی کہ تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچز کیلئے نامزد کیا جائے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں قائم
    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی بنچز کمیٹی میں جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچ) ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچز) شامل ہیں،

    سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری
    جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ ہونگے۔سپریم کورٹ،جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جسسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس محمد علی مظہر آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس حسن رضوی آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں،چاروں صوبوں کی نمائیندگی سے بینچ کے ججز کی دو ماہ کیلئے منظوری دی گئی ،آئینی بینچ کے ججز کی منظوری سات ،پانچ کے تناسب سے کی گئی ،،چیف جسٹس یحیی آفریدی نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو اجلاس میں خیر مقدم کیا۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو نامزدگیوں پر مبارکباد پیش کی۔کمیشن کے رکن عمر ایوب نے اجلاس کورم کم ہونے کی نشاندہی کی۔جوڈیشل کمیشن ارکان نے ووٹنگ سے عمر ایوب کے کورم کے اعتراض کو مسترد کیا ،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیشن ارکان نے چیئرمین کمیشن کو سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق فیصلہ کے اختیارات دیئے۔

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر  نے  چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔

    سینئر ججز کی جانب سے خط میں مطالبہ کیا گیا کہ 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو رواں ہفتے لازمی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، رجسٹرار سپریم کورٹ کمیٹی کے 31 اکتوبر کے فیصلے کو ویب سائٹ پر جاری کرے۔

    واضح رہے کہ 2 سینئر ترین ججوں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 31 اکتوبر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت کام کرنے والی کمیٹی کا فوری اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا تاہم اس کے باوجود چیف جسٹس نے اجلاس نہیں بلایا، جس پر دو ارکان جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے جسٹس منیب اختر کے چیمبر میں اجلاس کیا۔

    کمیٹی کے دونوں ارکان نے اکثریت سے فیصلہ کیا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں 4 نومبر کو فل کورٹ میں سماعت کیلئے لگائی جائیں، تاہم آئینی درخواستوں کو لگانے کیلئے کوئی کاز لسٹ جاری نہیں کی گئی تاہم جسٹس منصورشاہ اور جسٹس منیب دونوں نے گذشتہ روز چیف جسٹس آفریدی کو ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے فیصلے کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آئینی پٹیشن کو طے نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا تھا، آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آٖف پاکستان، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل کمیٹی کیس مقرر کرے گی، اس سے قبل چیف جسٹس اور 2 سینئر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتا تھاسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمیٹی میں سینئر جج جسٹس منیب اختر کو ہٹا کر جسٹس امین الدین خان کو شامل کر لیا تھا۔

    بعد ازاں، 23 ستمبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد نئی تشکیل کردہ ججز کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو خط لکھ دیا تھاجسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ آرڈیننس کے اجرا کے چند گھنٹوں میں وجوہات بتائے بغیر نئی کمیٹی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوسرے اور تیسرے نمبر کے سینئر ترین جج کو کمیٹی کے لیے کیوں نہیں چنا؟۔

  • جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا

    جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کا اہم اجلاس آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگااجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین شرکت کریں گے۔

    اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین بھی اجلاس میں شریک ہوں گے،اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ (ن) کے شیخ آفتاب احمد، پی ٹی آئی کے عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے جبکہ اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شریک ہوں گی۔

    ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بات ہوگی جبکہ سپریم کورٹ میں آئینی بینچوں کی تشکیل کے لیے ججز کی نامزدگی پر بھی غور کیا جائے گا۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق جسٹس امین الدین خان کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا جائے گاسپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کو دینے کی تجویز دی جائے گی.

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے تقرر کے موقع پر پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ کے جن 2 سینئر ترین ججوں کے نام مسترد کر کے تیسرے سینئر جج کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کیا۔ان دونوں سینئر ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے ناموں پر حکومت آئینی بینچ کی سربراہی کے لئے بھی غور نہیں کرے گی،حکومت چوتھے سینئر جج جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنانے کی سفارش کرے گی.

    چیف جسٹس یحیی آفریدی اجلاس کے دوران اپنی رائے دیں گے۔جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ مقرر کئے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے پانچویں سینئر جج جسٹس جمال مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیاجائے گا.

    ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کمیشن مکمل ہونے کے بعدآج ہی تین سے چھ ماہ کی مدت کیلئے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں نو سے گیارہ رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیئے جائیں گے، آئینی بنچ سپریم کورٹ میں اس وقت موجود تمام اپیلیں اور نظر ثانی درخواستیں سنے گا،تین سے چھ ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے چیئرمین سینیٹ اور پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد جے سی پی کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کے نام بھجوائے گئے تھے جس کے بعد چیف جسٹس نے آج اجلاس طلب کیا تھا۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے جبکہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا، کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

    آئینی بینچز کی تشکیل کے بعد آئینی بینچ کا سب سے سینئر جج جوڈیشل کمیشن کا رکن بن جائے گا، اگر آئینی بینچ کا سینئر ترین جج پہلے سے کمیشن کا ممبر ہوا تو اس کے بعد کا سینئر جج رکن بن جائے گا، یوں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں جوڈیشل کمیشن 13 ارکان پر مشتمل ہو جائے گا۔

  • قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی ،عدالتی نظام میں بہتری کیلئے حکومت کے شانداراصلاحاتی فیصلے

    قومی سلامتی اور عدالتی نظام میں بہتری: حکومت کے اصلاحاتی فیصلے قابلِ تحسین

    حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے سروسز چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ایک دانشمندانہ قدم ہے جو قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ کسی بھی سروسز چیف کو اپنی پالیسیوں کے موثر نفاذ اور پچھلی حکمت عملیوں کے نتائج کو جانچنے کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ 3 سال کی مختصر مدت میں اہم پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھانا مشکل ہے۔ خاص طور پر خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ سروسز چیف کی مدت طویل ہو، تاکہ ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

    اسی طرح، سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کو 17 سے بڑھا کر 34 کرنے کا اقدام بھی قابلِ تحسین ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں کیسز کی بھرمار ہے، اور ججز کی کم تعداد کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ ججز کی تعداد میں اضافہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا، اور عام شہریوں کے لیے فوری انصاف کا حصول ممکن بنائے گا۔

    یہ دونوں اقدامات نہ صرف ملکی استحکام بلکہ عوامی فلاح اور قانونی نظام کی مضبوطی کے لیے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان اقدامات سے پاکستان کی سیکیورٹی اور عدالتی نظام میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، اور ملکی ترقی کی راہ ہموار ہوگی

    آرمی ایکٹ بل، مختلف ممالک میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا دورانیہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

  • پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم

    پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم

    پٹاخوں پر پابندی پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ برہم ہو گئی

    سپریم کورٹ نے پٹاخوں پر پابندی کی خلاف ورزی پر نئی دہلی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کر لیا ،فصلوں کو آگ لگانے پر پنجاب اور ہریانہ حکومت سے بھی جواب طلب کر لیا گیا، بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ پٹاخوں سے آلودگی پر قابو نہیں پایا جاتا ،افراتفری کی صورتحال پیدا ہوتی ہے،مستقبل میں ناکامی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، نئی دہلی حکومت پٹاخوں پر مستقل پابندی لگانے پر غور کرے،دیوالی کے اگلے روز نئی دہلی میں آلودگی میں اضافہ ہوا

    سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی،دوران سماعت حکومت کی جانب سے جمع شدہ رپورٹ پر عدالت نے کہا کہ اس بار آلودگی بڑھ گئی ہے،ہم دہلی حکومت کو آلودگی سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدام کے بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں،بھارتی سریم کورٹ نے کہا کہ دہلی پولیس کمشنر کو پٹاخوں پر پابندی کے حوالہ سے اقدام پر حلف نامہ دینا ہو گا، کہ اگلے سال ایسا نہیں ہو گا، پنجاب و ہریانہ ریاستوں کے ذریعہ پرالی جلانے سے متعلق پچھلے 10 دنوں کی تفصیلات کے بارے میں بھی حلف نامہ داخل کروانا ہو گا

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

  • سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ نے سوئی نادرن کے زائد بلنگ کیس کو نمٹا دیا ہے

    سوئی نادرن گیس کے زائد بلنگ سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ اس کیس کی نظرثانی تو ابھی زیرِ التوا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب یہ کیس آئینی بینچ میں جائے گا، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ” سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں، کچھ مقدمات ہمارے پاس بھی رہنے دیں”،اس کیس میں کوئی آئینی یا قانونی سوال موجود نہیں ہے، زیرِ التوا نظرثانی کیس میں درخواست گزار سوال اٹھا سکتے ہیں۔

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا

    چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 5 نومبرکو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 5 نومبر کو دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کریں گے، 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا،اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بات ہوگی، سپریم کورٹ میں آئینی بینچوں کے لیے ججوں کی نامزدگی پر بھی غور کیا جائےگا۔

    اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین شرکت کریں گے، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین، پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، ن لیگ کے شیخ آفتاب احمد، تحریک انصاف کے عمرایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے، اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شرکت کریں گی۔

    پنجاب پولیس میں اربوں روپے کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

    بم کی دھمکیوں کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز سے ملی بارودی گولی