Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

    سربراہ آئینی بینچ کی رجسٹرار اور انتظامی افسران سے میٹنگ ہوئی

    جسٹس امین الدین کے چیمبر میں ہوئی میٹنگ کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ کے مطابق میٹنگ میں جسٹس امین الدین کو زیرالتوا آئینی مقدمات پر بریفنگ دی گئی،سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کردی،مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ سربراہ آئینی بنچ 2سینئر ججز سے مل کر کریں گے،3رکنی ججز کمیٹی کم از کم 5ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے گی،کمیٹی کے ایک رکن جج بیرون ملک ہیں،وطن واپسی پر کمیٹی کا اجلاس ہوگا،

    سپریم کورٹ میں سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اجلاس میں آئینی بینچ کی ورکنگ اور طریقہ کار پر غور کیا گیا۔اجلاس میں 184(1) ،184(3) ، 186 اور انسانی حقوق کے مقدمات پر بحث ہوئی،اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سربراہ آئینی بینچ نے مقدمات کی درجہ بندی کی ہدایت کر دی اور مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ 6 نومبر کا اجلاس کمیٹی ممبر جسٹس جمال خان مندوخیل کی عدم دستیابی پر ملتوی کیا گیا تھا، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر کی کمیٹی آئینی بینچ بنائے گی، آئندہ اجلاس بعد میں شیڈول کیا جائے گا، اجلاس میں رجسٹرار سلیم خان، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس شریک ہوئے

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • بار بار سوال سامنے آتا  کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ،جسٹس منصور علی شاہ

    بار بار سوال سامنے آتا کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کا تذکرہ کیا گیا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس آئینی بینچ سنے گا، ہم ریگولر بینچ میں کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کوئی آئینی بینچ نہیں تو یہ جو غیرآئینی بینچ بیٹھا ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا کیا ہم غیر آئینی ہیں؟مطلب جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھتا تب تک آئینی کیسزنہیں سنے جائیں گے،ہم اس کیس کو سن بھی لیں تو کوئی ہمیں پوچھ نہیں سکتا، بار بار سوال سامنے آتا ہے کہ کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ، اگر ہم کیس کا فیصلہ کر بھی دیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ ہمیں کون روکنے والا ہے؟ نظرِ ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، آئینی کیسز ریگولر بینچ نہیں سن سکتا، وکلاء کی طرف سے بھی کوئی معاونت نہیں آ رہی،

    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ابھی ہم یہ کیس سن سکتے ہیں یا نہیں؟،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ تھوڑا وقت دیں تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی جس میں ابھی وقت لگے گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی کہ کیا کیس آئینی بینچ سنے گا یا ریگولر بینچ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم آپ کی گزارش پر کوئی نکتہ نظر نہیں دے سکتے، کیس کو ملتوی کر دیتے ہیں، ہم صرف گپ شپ لگا رہے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

  • سپریم کورٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں مقدمات کی تعداد  کم

    سپریم کورٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں مقدمات کی تعداد کم

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی گزشتہ ایک ہفتے میں دائر کیسز اور نمٹانے کی تفصیلات جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت عظمیٰ میں ایک ہفتے کے دوران 302 کیسز دائر کیے گئے جبکہ 679 کیسز نمٹائے گئے ہیں۔
    سپریم کورٹ نے کیسز سے متعلق 5 نومبر تک کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کی ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں 377 سے زائد کیسز نمٹائے جبکہ 5 نومبر کو 38 کیس دائر ہوئے اور 220 کیسز نمٹائے گئے۔سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر 59 ہزار 435 ہوگئی، اس سے قبل زیر التوا کیسز کی تعداد 59 ہزار 782 تھی۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں سوموار 11نومبر سے شروع ہونیوالے پانچ روزہ عدالتی ہفتہ کیلئے تھوڑے بہت ردو بدل کیساتھ مجموعی طور پر چھ بنچ تشکیل دے دیئے گئے ہیں ۔

    عوام کو 115پارکوں کا تحفہ ، کھیل کے میدانوں کو آباد کیا، ،جماعت اسلامی کراچی

    صدر مملکت نے سروس ٹریبونل کے ممبران کی تقرری کردی

    کچے کے علاقے میں لُنڈ گینگ کے سرغنہ شاہد لُنڈ کی ہلاکت – مکمل کہانی

  • سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز خط پر کوڈ اف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا،جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے،کوڈ اف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،آئیندہ اجلاس میں کوڈ اف کنڈکٹ ترمیم پر غور کیا جائے گا،

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوپہر 1 بجے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عامر فاروق، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کونسل نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بحث کی۔ اس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز بنانے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کا معاملہ بھی شامل تھا۔ کونسل نے رجسٹرار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل کے رولز بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کا مسودہ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ چیئرمین کو 3 ماہ کے لیے کونسل کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک قابل فرد کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ یہ فرد کونسل کے اجلاسوں کی نگرانی کرے گا اور اصول سازی کے عمل کو مضبوط کرے گا۔

    سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8) کے تحت ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر بھی غور کیا اور اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا۔ کونسل نے اس معاملے پر مشاورت کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف اداروں کے سربراہان پر اس ضابطہ اخلاق کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔اس کے علاوہ، کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف دائر کردہ دس شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ کونسل نے شکایت کنندگان سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ ہونے پر ان شکایات کو مسترد کر دیا۔کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقدمات کا بروقت فیصلہ کیا جا سکے اور بیک لاگ کو ختم کیا جا سکے۔ غیر سنجیدہ شکایات کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ کیلئے جج کی نامزدگی پر اتفاق نہ ہوسکا
    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ کی تشکیل کے سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر غور کیا گیاسندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی کی پیش کردہ تجویز کی توثیق کی گئی،سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ معزز جج صاحبان آئینی بنچوں کے ججوں کے لیے نامزد کیا گیا،سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے،جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا،

    دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ پر تجاویز آئی ہیں، فیصلہ ہوا آئندہ اجلاس تک سندھ ہائی کورٹ ججز آئینی مقدمات سن سکتے ہیں، ہائی کورٹ میں ابھی 12 ججوں کی آسامیاں بھی خالی ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے تھوڑی دیر کے لیے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی، پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین اہلیہ کی بیماری کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 25 نومبر تک موخر کیا گیا ہے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    اسلام آباد،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں بی این پی سربراہ اختر مینگل فہمیدہ مرزا، محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے،دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لیے جس طرح ووٹ مینج کیے گئے اس کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے، آئینی ترمیم کی شق 7، 14، 17 اور 21 کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، جوڈیشل کمیشن، خصوصی پارلیمانی کمیٹی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور الیکشن کمیشن کے افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرنے کے موقع پر محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات چیت بھی کی،محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو پورے ملک نے دیکھا کس طرح پاس کیا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے،فہمیدہ مرزا اور اختر مینگل بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں، پارلیمنٹ میں عوامی رائے کا مذاق اڑایا گیا، نہ اس پر کوئی بحث ہوئی اورنہ کوئی طریقہ کار فالو کیا گیا، کے پی کی سینیٹ میں نمائندگی نہیں تھی، مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میں اور محسن داوڑ 26 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آج دوسری اور مجموعی طور پر آٹھویں درخواست دائر کی گئی ہے،چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ

    سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ

    سپریم کورٹ ججز کی مراعات میں بڑا اضافہ کر دیا گیا،

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججز کے ہاؤس رینٹ اور جوڈیشل الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، سپریم کورٹ کے ججز کا ہاؤس رینٹ 68 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔اسی طرح، ججز کا جوڈیشل الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔قائم مقام صدر کی منظوری کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    نوٹفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز (چھوٹی، پنشن اور مراعات) آرڈر 1997 میں مزید ترمیم کی گئی ہے، چونکہ سپریم کورٹ کے ججز ( پنشن اور مراعات) آرڈر، 1997 (پی او نمبر 2 آف 1997) میں مزید ترمیم کرنا مناسب ہے لہذا، سپریم کورٹ سے متعلق، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے پانچویں شیڈول کے ذریعے عطا کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کو درج ذیل حکم جاری کرنے پر خوشی ہوئی ہے:

    اس حکم کو سپریم کورٹ کے ججز (، پنشن اور مراعات) کہا جائے گا ،یہ ایک ساتھ نافذ ہو جائے گا اور اسے جولائی 2024 کے پہلے دن اور اس سے نافذ سمجھا جائے گا۔ پیراگراف 20 میں ترمیم، 1997 کے P.O.No.2. سپریم کورٹ کے ججز ( پنشن اور مراعات) آرڈر، 1997 (P.O. No.2 of 1997) میں، اس کے بعد پیراگراف 20 میں مذکورہ حکم کے طور پر حوالہ دیا گیا، ذیلی پیراگراف (2) میں الفاظ "اڑسٹھ ہزار” کے لیے "تین لاکھ پچاس ہزار” کے الفاظ استعمال کیے جائیں گے۔ پیراگراف 22 کی ترمیم، 1997 کے P.O.No.2.- مذکورہ آرڈر میں، پیراگراف 22 میں، الفاظ "چار لاکھ اٹھائیس ہزار چالیس” کے لیے، الفاظ "ایک ملین ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار ایک سو تریسٹھ” کو تبدیل کیا جائے گا۔

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیر التوا کیسز پر تشویش کا اظہار

    انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کا چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں اجلاس ہوا،جس کا سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کر دیا ،اجلاس میں انصاف کی جلد فراہمی کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ،اجلاس میں عدالتی نظام کے موجودہ وسائل اور مواقع کا جائزہ لیا گیا،مجوزہ عدالتی اصلاحات کے تحت کمزور طبقوں کے مقدمات کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا،

    انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی ججوں کا ایک اہم اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس کی صدارت عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ان مقدمات میں انصاف کی تیز فراہمی کے لیے اہم اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ ججز، جسٹس جمال خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، اے ٹی سی عدالتوں کے مانیٹرنگ ججز اور صوبوں و آئی سی ٹی کے پراسیکیوٹر جنرلز بھی موجود تھے۔ اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بھی اہم شرکت کی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے مقصد کی وضاحت کی، جس کا مقصد اے ٹی سی کیسز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ انہوں نے تمام ججز پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر جانبداری سے فیصلے کریں۔

    اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 2,273 اے ٹی سی مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں سے 1,372 مقدمات صرف سندھ میں زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان مقدمات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور انصاف کی فوری فراہمی کے لیے اضافی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انسداد دہشت گردی عدالتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیل سے بات کی گئی جن میں گواہوں کے تحفظ کے لیے مناسب سیکیورٹی فراہم کرنا، گواہوں کی آن لائن پیشی کو ممکن بنانا، اور فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز (FSL) کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اضافی اے ٹی سی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سندھ اور بلوچستان میں فارنزک سائنٹفک لیبارٹریز ے قیام اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اے ٹی سی ججوں کی تربیت کے لیے غیر ملکی مواقع فراہم کرنے کی تجویز بھی دی۔ چیف جسٹس یحییٰٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر متعلقہ حکام کو اس معاملے پر فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اے ٹی سی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ مقدمات کی بروقت اور منصفانہ سماعت ممکن ہو سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومتیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدالتی اصلاحات کو حتمی شکل دینے سے قبل عوامی مباحثہ کرایا جائے گا،

    یہ ایک بہت اہم قدم ہے جس سے پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف عوام کا اعتماد کم کرتی ہے بلکہ معیشت اور سماج پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عدالتیں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں۔ اس طرح کے منصوبے عوامی سطح پر تبادلہ خیال کے ذریعے انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، لیکن اس میں تمام اداروں اور افراد کی مشاورت اور تعاون ضروری ہوگا۔

  • آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آئینی بینچ کے ججز سپریم کورٹ کے ججز ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عدلیہ کی باپ کی طرح ہے،آئینی بینچ کے سربراہ سپریم کورٹ کے جج ہیں،سپریم کورٹ کے تمام ججز کی پاور ایک جیسی ہوتی ہے،چیف جسٹس کے پاس ایڈمنسٹریٹو پاور زیادہ ہوتی ہے ہم سب کو چیف جسٹس کی عزت کرنی چاہیے ۔ججز کی پاور برابر ہوتی ہے، چیف جسٹس کی سب کو عزت کرنی چاہئے،آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس پاکستان کی حیثیت میں کمی نہیں آئی

    واضح رہے کہ جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا گیا ہے، سات رکنی آئینی بینچ کی تشکیل دو روز قبل کی گئی تھی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی،

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین  خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    اسلام آباد،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا
    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر شبلی فراز، شیخ آفتاب ، عمر ایوب ، روشن خورشید بروچہ اور پاکستان بار کونسل کا نامزد ممبر اختر حسین بھی اجلاس میں شریک تھے

    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں آئینی بینچ کا فیصلہ 7 اور 5 کے تناسب سے آیا، جسٹس یحییٰ آفریدی، منصور علی شاہ، منیب اختر، عمر ایوب اور شبلی فراز نے مخالفت کی،آئینی بینچ کا قیام، جسٹس امین الدین خان سربراہ ہوں گے، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان ممبر ہوں گے۔آئینی بینچ میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے دو دو، خیبر پختون خوا سے ایک جج شامل کیا گیا ہے

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بڑے اچھے ماحول میں ہوا۔جوڈیشل میں یہ تجویز بھی آئی کہ تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچز کیلئے نامزد کیا جائے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں قائم
    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی بنچز کمیٹی میں جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچ) ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچز) شامل ہیں،

    سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری
    جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ ہونگے۔سپریم کورٹ،جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جسسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس محمد علی مظہر آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس حسن رضوی آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں،چاروں صوبوں کی نمائیندگی سے بینچ کے ججز کی دو ماہ کیلئے منظوری دی گئی ،آئینی بینچ کے ججز کی منظوری سات ،پانچ کے تناسب سے کی گئی ،،چیف جسٹس یحیی آفریدی نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو اجلاس میں خیر مقدم کیا۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو نامزدگیوں پر مبارکباد پیش کی۔کمیشن کے رکن عمر ایوب نے اجلاس کورم کم ہونے کی نشاندہی کی۔جوڈیشل کمیشن ارکان نے ووٹنگ سے عمر ایوب کے کورم کے اعتراض کو مسترد کیا ،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیشن ارکان نے چیئرمین کمیشن کو سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق فیصلہ کے اختیارات دیئے۔

  • چیف جسٹس کے بغیر  جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    چیف جسٹس کے بغیر جسٹس منیب اختر چمبر میں میٹنگ،منٹس منظر عام پر

    جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر کی پریکٹس پروسیجر کمیٹی میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آگئے

    دستاویز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بغیر ججز میٹنگ جسٹس منیب اختر چمبر میں ہوئی، چیف جسٹس آفریدی نے مطلع کرنے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا،معاملہ فوری نوعیت کا ہونے کیوجہ سے جسٹس منیب اختر چمبر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا،ججز کمیٹی اجلاس میں 26 آئینی کیخلاف درخواستیں 4 نومبر کو لگانے کا فیصلہ ہوا، 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ سماعت کریگا، کمیٹی نے درخواستوں پر اکثریت سے سماعت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بینچ کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا تھا،سپریم کورٹ کے 2 سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کو مشترکہ خط لکھا خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر کو آپ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس بلانے کی درخواست کی، اجلاس میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کو مقرر کرنے پر غور کرنا تھا، 4 نومبر کو آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا فیصلے سے متعلق رجسڑار آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس پر عمل درآمد لازمی ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے فل کورٹ سماعت کی کازلسٹ جاری نہیں ہوئی، کمیٹی اجلاس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے، جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔