Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلات فراہم کریں ،خیبر پختونخوا اور سندھ میں پالیسی تو ہے لیکن عملی اقدامات بھی اٹھاٸیں،تمام صوبے موسمی تبدیلی کیلٸے عملی اقدامات اٹھا کر رپورٹ 15 جولاٸی تک جمع کرواٸیں،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں موسمی تبدیلی کیلٸے اقدامات کر رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں وہ بتاٸیں جو عملی اقدامات اٹھاٸے ہیں، زبانی جمع تفریق کے بجائے تحریری رپورٹ دیں،ہم نے تمام چیف سیکٹریز کو بلایا تھا بلوچستان سے کون آیا ہے،عدالت میں بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی طبیعت خراب ہے اس لیے نہیں آٸے،سندھ سے چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی کیلٸے مکمل پالیسی بناٸی گٸی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کیا موسمی تبدیلی کے حوالے سے بجٹ بھی رکھا گیا ہے ؟ میرے پاس مکمل پلان کیساتھ آٸیں، چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی سے بچاٶ والے 2 ملین گھر بنائے جاٸیں گے،اب تک 1.5 لاکھ گھر بن گٸے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں بھی موسمی تبدیلی کیلٸے بجٹ نہیں رکھا گیا،

    خیبر پختونخواکے چیف سیکرٹری بھی عدالت میں پیش ہوئےاور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کیلٸے فنڈز رکھے گئے ہیں،موسمیاتی تبدیلی کیلٸے خیبرپختونخوا حکومت اقدامات کر رہی ہے،عدالت نے سماعت پندرہ جولائی تک ملتوی کردی

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی،وکیل الیکشن کمیشن سکندر مہمند نے کہا کہ کوشش کروں گا آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کر لوں،پی ٹی آئی کے پارٹی ٹکٹ پر بیرسٹر گوہر کے بطور چیئرمین دستخط ہیں،ٹکٹ جاری کرتے وقت تحریک انصاف کی کوئی قانونی تنظیم نہیں تھی،پارٹی تنظیم انٹرا پارٹی انتخابات درست نہ کرانے کی وجہ سے وجود نہیں رکھتی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ 22 دسمبر کو جاری شدہ ہیں، انٹراپارٹی انتخابات کیس کا فیصلہ 13 جنوری کا ہے تب تک بیرسٹر گوہر چیئرمین تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات 23 دسمبر کو کالعدم قرار دیدیے تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 26 دسمبر کو معطل ہوچکا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اصل چیز پارٹی ٹکٹ ہے جو نہ ہونے پر امیدوار آزاد تصور ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس معاملے پر میں اور آپ ایک پیج پر ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پیچ پھاڑ دیں مجھے ایک پیج پر نہیں رہنا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے جاری کردہ پارٹی ٹکٹس کی قانونی حیثیت نہیں،حامد رضاء نے 13 جنوری پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا،حامد رضاء کے کاغذات نامزدگی اور سرٹیفیکٹ میں تضاد ہے

    حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن
    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین تھے اور ہیں،صاحبزادہ حامد رضا خود کو پارٹی ٹکٹ جاری کر سکتے تھے،صاحبزادہ حامد رضا نے خود کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا، حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں لکھا کہ ان کا تعلق سنی اتحاد کونسل سے ہے جس کا پی ٹی آئی سے اتحاد ہے، حامد رضا نے پی ٹی آئی کا پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے حامد رضا کے کاغذات منظور کر لئے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے بیان حلفی میں ڈیکلریشن پی ٹی آئی نظریاتی کا جمع کرایا تھا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ حامد رضا کو آزاد امیدوار قرار دینے سے پہلے کیا ان سے وضاحت مانگی گئی تھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے درخواست دے کر شٹل کاک کا انتخابی نشان مانگا تھا، ریکارڈ میں پارٹی ٹکٹ نظریاتی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد کاغذات نامزدگی میں تضاد پر کوئی نوٹس کیا گیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسر سکروٹنی میں صرف امیدوار کی اہلیت دیکھتا ہے انتخابی نشان کا معاملہ نہیں،حامد رضا خود کو سنی اتحاد کونسل کا امیدوار قرار نہیں دینا چاہتے تھے، حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،چودہ جنوری سے سات فروری تک تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کروا سکتی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات ہوتے بھی تو کیا فرق پڑنا تھا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان مل جاتا اور وہ انتخابات کیلئے اہل ہوجاتی،

    آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس صورتحال میں تو انتخابی شیڈول ہی ڈسٹرب ہوجاتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اتنی خاص رعایت کس قانون کے تحت ملنی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کا معاملہ کئی سال سے الیکشن کمیشن میں زیرالتواء تھا، الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی انتخابات تو ہوچکے تھے معاملہ ان کی قانونی حیثیت کا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے،

    گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس سوال کا جواب دے چکا ہوں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا نہ ان کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ باپ پارٹی کو نشستیں دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا،باپ پارٹی کو نشستیں دینے کے معاملے پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تھی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک معاملے پر دو مختلف موقف کیسے لے سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باپ پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا تھا؟ کیا ایسی کوئی پابندی ہے کہ کسی بھی اسمبلی میں نشست ہو تو مخصوص سیٹیں مل سکتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ آئین و قانون کے مطابق آٹھ فروری کو پانچ عام انتخابات ہوئے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر اسمبلی کیلئے الگ عام انتخابات ہوتے ہیں، الٰیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک وکیل نے ایک کیس میں کچھ موقف اپنایا شام کو کچھ اور، مختلف موقف کا سوال ہونے پر وکیل نے کہا میں اب زیادہ سمجھدار ہوگیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے اپنے نوٹ میں کچھ معلومات مانگی تھیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کا نوٹ میں نہیں پڑھ سکا،

    الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،بیرسٹر گوہر
    عدالت نے بیرسٹر گوہر کو روسٹرم پر بلا لیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ سے پوچھا تھا کہ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا یا نہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بطور پارٹی امیدوار اور آزاد امیدوار بھی کاغذات جمع کرائے تھے، الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،عدالتی فیصلہ رات گیارہ بجے آیا ہمیں آزاد امیدوار شام چار بجے ہی قرار دیدیا گیا تھا،ایک امیدوار ایک حلقہ کیلئے چار کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتا ہے، پارٹی ٹکٹ کے کئی خواہشمند ہوتے ہیں جسے ٹکٹ ملے وہی امیدوار تصور ہوتا ہے، الیکشن کمیشن نے عدالت سے کاغذات نامزدگی چھپائے ہیں،

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا لئے
    معاون وکیل نے کہا کہ فاروق نائیک عدالت نہیں پہنچ سکے، پیپلزپارٹی کے وکیل اور شہزاد شوکت نے مخدوم علی خان کے دلائل اپنا لئے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی ف الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا رہی ہے، اقلیتوں کی پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے مس پرنٹ ہوا تھا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی، اقلیتوں کے حوالے سے الگ سیکشن موجود ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے درست کام کیا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تو مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس میں کچھ اور کہہ رہے تھے اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کررہے تھے۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے کے ساتھ ہیں،مسلم لیگ ن کے بیرسٹر حارث عظمت نے تحریری دلائل جمع کرا دیے.جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ امیدواروں کو آزاد قرار دینا غلط تھا تو پارٹی شمولیت کا 3 دن کا وقت دوبارہ شروع ہوگا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا۔

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک دوسرے کو جواب دیا،جسٹس منیب اختر الیکشن کمیشن کو ملبہ کسی اور جگہ گرانے کی بجائے پھر اس نقطہ پر لے آئے جس وجہ سے بلا چھینا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ذمہ داری لینے کا کہہ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بری الذمہ ہوگئے،جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو "نامناسب” کہا تو چیف جسٹس معاملہ عمران خان پر لے گئے

    الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟چیف جسٹس
    وکیل الیکشن کمیشن نے بار بار 13 جنوری بلے سے متعلق کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے، لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور بلا چھین لیا،

    سپریم کورٹ ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کتنا وقت لیں گے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے 45 منٹ درکار ہوں گے، سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا ۔

    عدالت نے مولوی اقبال حیدر کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے الیکشن نہیں لڑا تو آپ ہمارے لئے کوئی نہیں ہیں،اپنا کیس چلانا ہو تو کالا کوٹ نہیں پہن سکتے،

    مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، چیف جسٹس
    پنجاب اور بلوچستان حکومت نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بھی اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی نوٹس پر بطور ایڈووکیٹ جنرل دلائل دوں گا، متفرق درخواست میں تحریری دلائل جمع کروا چکا ہوں،الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ سے مطمئن نہیں ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کے پی کے میں انتخابات درست نہیں ہوئے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ فیصل صدیقی کے دلائل سے اتفاق کرتا ہوں، گزشتہ انتخابات میں کے پی کے میں باپ پارٹی نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا،باپ پارٹی کے پاس کے پی میں کوئی جنرل نشست نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی میں تین افراد نے شمولیت اختیار کی تھی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ آزاد کی شمولیت پر الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کو مخصوص نشست دی تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی کی بلوچستان میں حکومت تھی، قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی بھی تھے، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کیلئے باقاعدہ نیا شیڈیول جاری کیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے اور اب مختلف موقف اپنایا ہے، الیکشن کمیشن آج کہتا ہے گزشتہ انتخابات میں کیا گیا ان کا فیصلہ غلط تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کے پی حکومت نے اس وقت یہ فیصلہ چیلنج کیا تھا؟ اگر چیلنج نہیں کیا تھا تو بات ختم،پی ٹی آئی کے2018 میں بھی پارٹی انتخابات نہیں ہوئے تھے، پی ٹی آئی کو 2018 میں انتخابی نشان کیسے ملا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر جائیں گے تو چیئرمین سینٹ کا انتخاب بھی کھل جائے گا،مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ باپ پارٹی نے کے پی اسمبلی کیلئے کوئی فہرست جمع نہیں کرائی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو فارمولہ الیکشن کمیشن نے پہلے اپنایا تھا اب کیوں نہیں اپنایا جا رہا،ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے دلائل مکمل ہو گئے

    اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،اٹارنی جنرل
    ‏سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں،مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی سے ہی مل سکتی ہیں، خواتین کو پہلی مرتبہ سینیٹ میں بھی بڑی تعداد میں نمائندگی 2002 میں ملی، سال 1990 سے 1997 تک خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کر دی گئی تھیں،17ویں ترمیم میں خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی گئیں،اسمبلیوں کی نشستیں جنرل انتخابات اور پھر مخصوص نشستوں سے مکمل کی جاتی ہیں، اسمبلیوں میں نشستوں کو مکمل کرنا ضروری ہے،آئین کا مقصد خواتین، غیر مسلمانوں کو نمائندگی دینا ہے،اگر اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،

    جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے،جسٹس شاہد وحید کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ بات آپ کس بنیاد پر کر رہے ہیں، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کچھ کہتا ہے اور 94 کچھ لیکن آپ کی کوشش ہے کہ ہم 95 سے ہو کر 94 کو پڑھیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں 2002 سے یہی فارمولا استعمال ہو رہا ہے ؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سال 2002 میں الیکشن ایکٹ 2017 نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا،

    آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سارا تنازع شروع ہی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنے پر ہوا،اس نکتے پر بعد میں جواب دوں گا،اصل نکتہ یہ ہے کہ کوئی مخصوص نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے بعد پہلا انتخاب 2018 میں ہوا تھا،آپ 2002 کی مثال دے رہے ہیں جو بہت پرانی بات ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا تعین ہوا لیکن انہیں دی نہیں گئیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے بغیر آزاد امیدوا مخصوص نشستیں نہیں مانگ سکتے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر سنی اتحاد والے ارکان آزاد ہیں تو ان کی مخصوص نشستوں کا تعین کیوں کیا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،آزاد امیدوار مقررہ وقت میں کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ بن سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے حساب سے انگریزی میں لکھی بات بہت آسان ہے،اتنے دن ہوگئے آرٹیکل 51 کی تشریح کرتے ہوئے ہم مفروضوں پر کیوں چل رہے ہیں، اپنی سوچ اور نظریہ آئین پر مسلط نہیں کیا جا سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مشکلات آپ کے بنائے ہوئے رولز پیدا کر رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کاش میرا دماغ چیف جسٹس جیسا ہوتا تو پڑھتے ہی سمجھ جاتا، اتنی کتابیں اسی لئے پڑھ رہے ہیں کہ سمجھ آ جائے، کمزور ججز کو بھی ساتھ لیکر چلیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ ایسا لکھنا چاہیے کہ میٹرک کا طالبعلم بھی سمجھ جائے،آئین اور قانون ججز اور وکلاء نہیں عوام کیلئے ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں جس کا جو حق ہے اس کو ملنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر حق کی بات ہے تو اس کا مطلب ہے آپ آدھا فیصلہ کر چکے، حق کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے آئین کو دیکھنا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فارمولا تو الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، جس کو الیکشن کمیشن چاہے آزادامیدوار بنا دے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آزاد امیدواروں نے چیلنج کیا؟ کیا ہمارے سامنے کوئی آزاد امیدوار آیا؟

    الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات طلب
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی سوال بڑی سیاسی جماعت کو غلط تشریح کرکے انتخابات سے باہر کرنا ہے، نشستوں کی تقسیم بعد کی چیز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن سے مانگا کیا جا رہا ہے، عدالت نے الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے آزاد امیدواروں کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت سے پہلے اور بعد نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات بھی طلب کر لیں.

    عدالت نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل 1:30 بجے تک سماعت کرینگے کیونکہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل دلائل مکمل کر لونگا، مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل 1:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کی رائے نہیں رکھتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کی رائے نہیں رکھتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کے کیس سے متعلق رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے

    جسٹس اطہرمن اللہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط میں کہا ہے کہ ” تاثر دیا گیا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز میری شکایت پر کیا گیا، نہ توہین عدالت کی کارروائی چلانے کیلئے کوئی شکایت دی نہ ہی کوئی رائے، 2017 سے مجھے تضحیک آمیز مہم کا سامنا ہے،میرے خلاف جس قدر تضحیک آمیز اور جھوٹی مہم چلائی جائے کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کی رائے نہیں رکھتا”۔ ،توہین عدالت کے معاملے پر میرا موقف میرے عدالتی فیصلوں سے واضح ہے،میرے خلاف انتہائی منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے مگر میں توہین عدالت کاروائی کے حق میں نہیں،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو پریس کانفرنس کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا، دونوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی جس پر عدالت نے نوٹس واپس لے لیا تھا،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے،  جسٹس اطہر من اللہ

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس، جسٹس اطہر من اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ لکھ دیا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ بڑی جماعت کو سُپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نااہل کیا، بادی النظر میں فیصلہ کسی کو نااہل قرار دینے کیلئے نہیں تھا، عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے نکالا گیا، ووٹر کو بنیادی حق سے محروم کیا گیا، وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل کے بعد ووٹرز کی اہمیت اور حقوق پر اثرات سے متعلق سوالات اٹھ گئے، انتخابی عمل کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات جڑے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت سپریم کورٹ فیصلےکی تشریح کی بنیاد پر نااہل ہوئی، بادی النظر میں سپریم کورٹ فیصلے کی تشریح غلط ہوئی، سپریم کورٹ فیصلے کا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنا نہیں تھا۔

    الیکشن کمیشن تحریری بیان دے کہ کیا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قانونی عمل تھا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ انتخابات سے قبل، دوران اور بعد میں کیا کیا شکایات تھیں؟ الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے۔یہ مخصوص نشستوں کا کیس صرف نشستوں کا نہیں، یہ اصل اسٹیک ہولڈرز یعنی ووٹرز کے بنیادی آئینی حقوق کا کیس ہے،الیکشن کمیشن مطمئن کرے کہ عام انتخابات میں سب کو یکساں مواقع دے کر اپنی آئینی ذمے داری پوری کی، ‏مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ اکیلے میں محض تکنیکی نقطے نکال کر نہیں کیا جاسکتا، مخصوص نشستوں کا فیصلہ 8 فروری کے انتخابات کے تناظر میں کیا جاسکتا ہے، الیکشن کمیشن تحریری بیان دے کہ کیا پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قانونی عمل تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا سپریم کورٹ فیصلے پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت دی، الیکشن کمیشن کے فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں اور واضح ہیں،بادی النظر میں صورتحال غیر معمولی تھی، نااہل ہونے والی سیاسی جماعت کے امیدوار اپنی حیثیت رکھنا چاہتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد حیثیت دینے کا فیصلہ آر اوز پر ڈالنے کی کوشش کی، وکیل کے دلائل نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں، الیکشن کمیشن کی غلط تشریح کا اثر سیاسی جماعت، ووٹرز اور مخصوص نشستوں سے محروم رکھنے پر پڑا، گورننس، پالیسیاں، قانون سازی اور عوام کا اعتماد کا انحصار انتخابی عمل پر ہوتا ہے

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

     

  • انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،چیف جسٹس

    انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین صرف مخصوص نشستوں پر نہیں براہ راست منتخب ہو کر بھی آ سکتی ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ،قرآن کریم کا پہلا لفظ اقرا ہے جو مرد اور عورت کی تقسیم نہیں کرتا ،قومی اسمبلی میں براہ راست کے علاوہ خواتین کیلئے 18 فیصد مخصوص نشستیں ہیں،بدقسمتی سے غیرت کے نام پرقتل ہوتے رہے ہیں ، یہ درحقیقت غیرت کے نام پرنہیں تکبرسے قتل ہوتے ہیں،اسلام میں خواتین کو اتنا تحفظ حاصل ہے جتنا مغرب میں نہیں،اسلام نے خواتین کو بہت حقوق دیے ہیں، ہمارے ہاں خواتین کو مسماۃ بلایا جاتا ہے، اسلام میں کسی کے نام کو بگاڑنے سے منع کرنے کے احکامات ہیں ہم اپنا مثبت کلچر بھول گئے ہیں، ہمارے ملک میں خواتین کو وراثت کا حق نہ ملنا ایک اہم مسئلہ ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنے ساتھ ہر سیاسی تقریب میں اپنی بہن کو ساتھ لے کر جاتے تھے، آئین کے آرٹیکل 25 کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کے لیے اقدام اٹھانے چاہئیں، میں آئین پاکستان سے کچھ مثبت چیزیں بتانا چاہتا ہوں، ہم دیگر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں مگر اپنی تاریخ بھول گئے ہیں، آئین ملازمت کے مقامات پر خواتین کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، خواتین تعلیم کےشعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں،خواتین کو ملکی ترقی کے لیے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مرد حضرات بھی شکایات کر رہے ہیں کہ خواتین کے لیےکوٹہ سسٹم ہوتا ہے، ایوان میں مجموعی طور پر خواتین کی نمائندگی کی شرح 22فیصد ہے، زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے لیے اقدامات کیے جائیں، اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر آنے والی کئی خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کامزید کہنا تھا کہ کسی خاتون پر جھوٹی تہمت لگانے پر اسلام اور ہمارے قانون میں قذف کی حد مقرر ہے، اسلام میں خواتین کی کردار کشی قابل سزا جرم ہے، اسلام میں قذف کی سزا 80 کوڑے مارنا ہے، آج تک نہیں سنا کہ کسی کو قذف پر کوڑے مارے گئے ہوں، اسلام میں زنا ثابت کرنے کے لیے 4 گواہان کی شرط لازم ہے، چارگواہان کی شرط پوری کیے بغیر عورت کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے،غیرت کے نام پرقتل کی اصطلاح غلط استعمال کی جاتی ہے، اصل معنی تکبر کی بنیاد پر قتل ہے، اسلام میں تکبر کی سخت ممانعت ہے، آئین میں لکھا ہے خواتین کی نمائندگی ہر شعبے میں ہوگی، آرٹیکل 25 بھی مساوی سلوک کی بات کرتا ہے، قانون شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت ثبوت کا سارا بوجھ پراسکیوشن پر ہوتا ہے، مجھے کچھ غلط فہمیاں دور کرنی ہیں۔

    عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ

    عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججزکوجوڈیشل آفیسرکہنا مناسب نہیں سمجھتا،

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 34 کہتا ہے خواتین تمام معاملات میں مکمل حصہ لیں، 50فیصد آبادی میں صرف 16فیصد خواتین عدلیہ میں خدمات انجام دے رہی ہیں،عدلیہ میں خواتین کی تعیناتیوں میں قوانین کوبہتربنانا ہوگا ،عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی ،عدلیہ میں عالمی بینچ مارک کودیکھتے ہوئے ججز کی کمی ہے ،پروموشنز کے لیے میرٹ کو معیار بنانا ہوگا ،ججز کی ایسوسی ایشن بھی ہونی چاہیے ،یہ عین جمہوری ہے،ایسوسی ایشن بنا کرہم عدلیہ کو درپیش بہت سے مسائل حل کرسکتے ہیں،ہمیں جوڈیشل سروس ایکٹ کی ضرورت ہے ،عدلیہ میں بنائی جانے والی پالیسیزمیں خواتین کی شمولیت ہونی چاہیے،یہ ناانصافی ہو گی کہ صرف مرد حضرات عدلیہ کی پالیسی بنائیں ، سوال یہ ہے کہ عدلیہ میں خواتین کی اتنی کمی کیوں ہے؟

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت کا فیصلہ نیب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، نیب نے عمران خان کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    چیئرمین نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، کیس مقرر ہونے کے بعد فیصلہ ہونے تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اختیارات استعمال کیے، اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کی طرح گواہان کے بیانات نہیں لے سکتی، عدالتِ عالیہ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،

    نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں القادر ٹرسٹ کے لیے پیسے منتقلی کے حوالے سے تفصیلات تحریر کی گئی ہیں،درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ضمانت منظوری کے طریقہ کار پر 9 سوالات اٹھائے گئے ہیں ،کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف ریفرنس کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پر بنایا گیا تھا،عمران خان کے خلاف ریفرنس آئین اور نیب آرڈیننس کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گواہان کا بیان ناقابلِ اعتماد قرار دیا جو دراصل اختیار ٹرائل کورٹ کا ہے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنایاتھا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی تھی،،عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

  • معافی ملنے پر فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے باہر سجدہ ریز،ویڈیو وائرل

    معافی ملنے پر فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے باہر سجدہ ریز،ویڈیو وائرل

    سینیٹر فیصل واوڈا کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا تو فیصل واوڈا سپریم کورٹ سے باہرنکلتے ہی سجدہ ریز ہو گئے

    فیصل واوڈا توہین عدالت کا نوٹس واپس ہونے پر سجدہ شکر بجا لائے،فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ سے نکلتے ہی سپریم کورٹ کے احاطہ میں سجدہ کیا،فیصل واوڈا سجدہ شکر ادا کرنے کےبعد میڈیا سے بات کیے بغیر سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے.

    قبل ازیں فیصل واوڈا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، توہین عدالت از خود نوٹس میں فیصل واوڈا نے غیر مشروط معافی مانگی جو عدالت نے قبول کر لی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا، سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سینیٹرفیصل واوڈااور مصطفی کمال ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،بیرسٹرفروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ مصطفیٰ کمال نےغیرمشروط معافی مانگی اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کرچکے ہیں،فیصل واوڈا عدالت پیش ہوئے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل نہیں آئے؟کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے، فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کلائنٹس کہاں ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26 چینل کی جانب سے میں ہوں،چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کسی کلائنٹ نے ابھی تک کوئی جواب جمع نہیں کروایا،آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تمام چینلز کے نمائندگان عدالت میں موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا چکا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جواب پر دستخط وکیل کے ہیں چینلز کے نہیں،توہین عدالت کیس میں دستخط چینلز کے ہونا لازمی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شوکاز نوٹس ہوتا تو جواب چینلز کے دستخط سے جمع ہوتا،میڈیا اداروں کو شوکاز نوٹسز نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ میڈیا اداروں کو شوکاز کروانا چاہتے ہیں ؟جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کم از کم میڈیا اداروں کے کسی ذمہ دار افسر کا دستخط شدہ جواب جمع ہونا چاہیے تھا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ کہاں سے کر رہے ہیں؟ پیمرا سے یا کسی بین الاقوامی کنونشن سے دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق اور سچ میں فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ میں آج آپ سے نئی بات سیکھوں گا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کہاں آپ کو کچھ بھی سکھا سکتا ہوں،سچ کا تناظر وسیع ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے کھڑے ہیں یہ حقیقت ہے یا سچ؟بال کی کھال اتارنے جیسی بات کر رہے ہیں، صدیقی صاحب وکیل نے اپنے کلائنٹ کا مفاد دیکھنا ہوتاہے،

    کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آئین پسند نہیں؟ میں سمجھا آپ آئین سے بات کا آغاز کریں گے،کوئی کسی کو چور ڈاکو کہے اور میڈیا کہے ہم نے صرف رپورٹنگ کی ہے کیا یہ درست ہے؟کیا ایسے آزاد میڈیا کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں؟ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے دو الگ الگ چیزیں ہیں،گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، کیا آئین میں صحافت کی کچھ حدود ہیں یا نہیں، ایک وکیل دوسرے کو جھوٹا اور چور کہے تو میڈیا بغیر تصدیق چلا دیتا ہے، کیا توہین آمیز مواد چلانا توہین عدالت نہیں،کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں، ایسا بھی نہیں ہوا کہ ایک بار غلط بات آنے پر پریس کانفرنس کوکاٹ دیا ہو، اب فریڈم آف ایکسپریشن کے تحت بتائیں اس پریس کانفرنس سے کتنے پیسے کمائے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کلائنٹس سے ہدایات لے لیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایک ایک سے بلا کر پوچھ لیتے ہیں،

    ڈائریکٹر نیوز جیوٹی وی رانا جوادروسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کتنی بار وہ پریس کانفرنس چلائی کتنے پیسے بنائے؟رانا جواد نے کہا کہ گیارہ بارہ بلیٹن میں وہ پریس کانفرنس چلی،پیسوں کا نہیں پتہ میں صرف ایڈیٹوریل دیکھتا ہوں فنانس نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریس کانفرنس کرنے والے کہہ رہے ہیں ان سے غلطی ہو گئی،آپ مگر کہہ رہے ہیں کہ آپ کا فرض ہے یہ دکھائیں گے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی شخص آکر کہہ دے میں عوام کا نمائندہ ہوں آپ اسے نشر کریں گے؟

    آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھرسختی سے پیش آئیں گے،چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فریڈم آف پریس کی وضاحت 200سال سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 200سال سے کیوں؟ 1400سال سے کیوں شروع نہیں کرتے،آپ کو 1400سال پسند نہیں؟ 200سال کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں کہ تب امریکا آزاد ہوا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں 200 سال کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ ماڈرن آئین کی ابتدا تب ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے آغاز ہو رہا ہے آئین کا،اس میں کہاں ماڈرن ایج کا ذکر ہے؟ آپ نے بطور ٹی وی چینلز ان کی گفتگو پھیلائی آپ ان پر تہمت اب لگا رہے ہیں توہین کی خود کہتے ہیں کچھ نہیں کیا،باہر کے ممالک میں تو پریس کانفرنس لائیو نہیں دکھائی جاتی، وہاں پریس کانفرنس سن لی جاتی ہے پھر کچھ چیزیں کاٹ لیتے ہیں، اب آپ امریکا کی مثال نہیں دیں گے، آپ نے خود مان لیا توہین ہوئی ہے پھر آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں، یہ تو اب آپ کے اعتراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا اعتبار ہے آپ جو بھی فیصلہ کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں سرٹیفکیٹ نہ دیں، کیا یہ آئینی دلیل ہے کہ آپ پر پورا اعتبار ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ چینلز کے دستخط سے جواب دیں تو دے دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھر آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں تو خود توہین عدالت کی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، ایک ساتھی جج نے کمرہ عدالت میں بات کر دی تھی اس لیے کارروائی شروع کرنا پڑی، ٹی وی چینلز کی جانب سے آپ کا جواب جارحانہ ہے، آپ جواب میں پریس کانفرنس کو توہین کہہ کر اسے نشر کرنا اپنا حق بھی کہہ رہے ہیں، یہ فساد فی الارض کی بات ہے اور اب ہمارا فرض ہے کہ کچھ کریں،

    فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے، چیف جسٹس
    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ عام لوگوں کے ذہن پر میڈیا کا بہت اثر ہوتا ہے، آپ نے پریس کانفرنس چلائی پھر بار بار ٹکرز چلے،ہ ٹی وی چینلز پر ان لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے جنہیں قانون کا کچھ علم نہیں ہوتا،تبصرے لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے سولہ سو فیصلے لکھ چکے ہیں،اگر کوئی میکنزم نہیں ہے تو بنا لیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو چاہتے ہیں تماشا بنے ورنہ آپ کا کام کیسے چلے گا، عدالتی معاون حافظ عرفات کی جانب سے غیبت، بدگمانی اور فاسق کی خبر کی ممانعت میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی شوق نہیں کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں،کیا کریں مگر معاشرہ تباہ ہو رہا ہے،میڈیا کی آزادی سے متعلق ہم بہت محتاط ہیں، کورٹ رپورٹنگ کرنے والے معاشرے میں ایک کام کر رہے ہیں جا کر بتاتے ہیں یہ ہو رہا ہے،اب وہ فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے،

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    سپریم کورٹ، ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری،،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نےتمام میڈیا چینلز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، عدالت نے ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کا موقف درست ہے تو ڈٹ کر کھڑے رہیں،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ میڈیا چینلز کے وکیل نے کہا لائیو پریس کانفرنس دکھانا انکا حق اور ڈیوٹی ہے،توہین عدالت کا قانون واضح ہے،تمام میڈیا چینلز کے جوابات ایک جیسے ہیں،26 چینلز نے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا،میڈیا چینلز نے جواب پر دستخط نہیں کیے، ٹی وی چینلز شوکاز نوٹس پر دستخط شدہ جواب جمع کرائیں،ٹی وی چینلز براڈ کاسٹ سے پیسہ کماتے ہیں،ٹی وی چینلز جواب کیساتھ اشتہارات سے کمائی گئی رقم کا ریکارڈ جمع کرائیں،جوابات پر ٹی وی چینلز کے مالکان اور چیف ایگزیکٹو کے دستخط ہونے چاہیں،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • انتخابی نشان بلے  کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    تحریک انصاف کےانتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے
    سپریم کورٹ میں درخواست درخواست شہری انجینئر قاضی محمد سلیم نے 184(3) کے تحت دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں چیف جسٹس پاکستان اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں تحریک انصاف کو بلے کا نشان اور مخصوص نشستیں دینے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں انتخابی نشان کے بغیر حصہ لیا، اب انتخابی نشان واپس کیا جائے، انتخابی نشان بلے کی واپسی کے بعد آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت بھی دی جائے، پی ٹی آئی کو متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت مخصوص نشستیں فراہم کی جائیں، تحریک انصاف نے عام انتخابات میں دیگر تمام جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ 84 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گ

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی تھی، سپریم کورٹ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار وں آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لیا تھا،

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے اس سے قبل بھی ایک درخواست دائر ہو چکی ہے،