Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت کا فیصلہ نیب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، نیب نے عمران خان کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    چیئرمین نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، کیس مقرر ہونے کے بعد فیصلہ ہونے تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اختیارات استعمال کیے، اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کی طرح گواہان کے بیانات نہیں لے سکتی، عدالتِ عالیہ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،

    نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں القادر ٹرسٹ کے لیے پیسے منتقلی کے حوالے سے تفصیلات تحریر کی گئی ہیں،درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ضمانت منظوری کے طریقہ کار پر 9 سوالات اٹھائے گئے ہیں ،کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف ریفرنس کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پر بنایا گیا تھا،عمران خان کے خلاف ریفرنس آئین اور نیب آرڈیننس کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گواہان کا بیان ناقابلِ اعتماد قرار دیا جو دراصل اختیار ٹرائل کورٹ کا ہے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنایاتھا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی تھی،،عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

  • معافی ملنے پر فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے باہر سجدہ ریز،ویڈیو وائرل

    معافی ملنے پر فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے باہر سجدہ ریز،ویڈیو وائرل

    سینیٹر فیصل واوڈا کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا تو فیصل واوڈا سپریم کورٹ سے باہرنکلتے ہی سجدہ ریز ہو گئے

    فیصل واوڈا توہین عدالت کا نوٹس واپس ہونے پر سجدہ شکر بجا لائے،فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ سے نکلتے ہی سپریم کورٹ کے احاطہ میں سجدہ کیا،فیصل واوڈا سجدہ شکر ادا کرنے کےبعد میڈیا سے بات کیے بغیر سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے.

    قبل ازیں فیصل واوڈا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، توہین عدالت از خود نوٹس میں فیصل واوڈا نے غیر مشروط معافی مانگی جو عدالت نے قبول کر لی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا، سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سینیٹرفیصل واوڈااور مصطفی کمال ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،بیرسٹرفروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ مصطفیٰ کمال نےغیرمشروط معافی مانگی اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کرچکے ہیں،فیصل واوڈا عدالت پیش ہوئے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل نہیں آئے؟کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے، فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کلائنٹس کہاں ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26 چینل کی جانب سے میں ہوں،چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کسی کلائنٹ نے ابھی تک کوئی جواب جمع نہیں کروایا،آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تمام چینلز کے نمائندگان عدالت میں موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا چکا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جواب پر دستخط وکیل کے ہیں چینلز کے نہیں،توہین عدالت کیس میں دستخط چینلز کے ہونا لازمی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شوکاز نوٹس ہوتا تو جواب چینلز کے دستخط سے جمع ہوتا،میڈیا اداروں کو شوکاز نوٹسز نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ میڈیا اداروں کو شوکاز کروانا چاہتے ہیں ؟جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کم از کم میڈیا اداروں کے کسی ذمہ دار افسر کا دستخط شدہ جواب جمع ہونا چاہیے تھا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ کہاں سے کر رہے ہیں؟ پیمرا سے یا کسی بین الاقوامی کنونشن سے دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق اور سچ میں فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ میں آج آپ سے نئی بات سیکھوں گا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کہاں آپ کو کچھ بھی سکھا سکتا ہوں،سچ کا تناظر وسیع ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے کھڑے ہیں یہ حقیقت ہے یا سچ؟بال کی کھال اتارنے جیسی بات کر رہے ہیں، صدیقی صاحب وکیل نے اپنے کلائنٹ کا مفاد دیکھنا ہوتاہے،

    کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آئین پسند نہیں؟ میں سمجھا آپ آئین سے بات کا آغاز کریں گے،کوئی کسی کو چور ڈاکو کہے اور میڈیا کہے ہم نے صرف رپورٹنگ کی ہے کیا یہ درست ہے؟کیا ایسے آزاد میڈیا کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں؟ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے دو الگ الگ چیزیں ہیں،گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، کیا آئین میں صحافت کی کچھ حدود ہیں یا نہیں، ایک وکیل دوسرے کو جھوٹا اور چور کہے تو میڈیا بغیر تصدیق چلا دیتا ہے، کیا توہین آمیز مواد چلانا توہین عدالت نہیں،کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں، ایسا بھی نہیں ہوا کہ ایک بار غلط بات آنے پر پریس کانفرنس کوکاٹ دیا ہو، اب فریڈم آف ایکسپریشن کے تحت بتائیں اس پریس کانفرنس سے کتنے پیسے کمائے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کلائنٹس سے ہدایات لے لیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایک ایک سے بلا کر پوچھ لیتے ہیں،

    ڈائریکٹر نیوز جیوٹی وی رانا جوادروسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کتنی بار وہ پریس کانفرنس چلائی کتنے پیسے بنائے؟رانا جواد نے کہا کہ گیارہ بارہ بلیٹن میں وہ پریس کانفرنس چلی،پیسوں کا نہیں پتہ میں صرف ایڈیٹوریل دیکھتا ہوں فنانس نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریس کانفرنس کرنے والے کہہ رہے ہیں ان سے غلطی ہو گئی،آپ مگر کہہ رہے ہیں کہ آپ کا فرض ہے یہ دکھائیں گے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی شخص آکر کہہ دے میں عوام کا نمائندہ ہوں آپ اسے نشر کریں گے؟

    آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھرسختی سے پیش آئیں گے،چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فریڈم آف پریس کی وضاحت 200سال سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 200سال سے کیوں؟ 1400سال سے کیوں شروع نہیں کرتے،آپ کو 1400سال پسند نہیں؟ 200سال کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں کہ تب امریکا آزاد ہوا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں 200 سال کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ ماڈرن آئین کی ابتدا تب ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے آغاز ہو رہا ہے آئین کا،اس میں کہاں ماڈرن ایج کا ذکر ہے؟ آپ نے بطور ٹی وی چینلز ان کی گفتگو پھیلائی آپ ان پر تہمت اب لگا رہے ہیں توہین کی خود کہتے ہیں کچھ نہیں کیا،باہر کے ممالک میں تو پریس کانفرنس لائیو نہیں دکھائی جاتی، وہاں پریس کانفرنس سن لی جاتی ہے پھر کچھ چیزیں کاٹ لیتے ہیں، اب آپ امریکا کی مثال نہیں دیں گے، آپ نے خود مان لیا توہین ہوئی ہے پھر آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں، یہ تو اب آپ کے اعتراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا اعتبار ہے آپ جو بھی فیصلہ کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں سرٹیفکیٹ نہ دیں، کیا یہ آئینی دلیل ہے کہ آپ پر پورا اعتبار ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ چینلز کے دستخط سے جواب دیں تو دے دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھر آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں تو خود توہین عدالت کی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، ایک ساتھی جج نے کمرہ عدالت میں بات کر دی تھی اس لیے کارروائی شروع کرنا پڑی، ٹی وی چینلز کی جانب سے آپ کا جواب جارحانہ ہے، آپ جواب میں پریس کانفرنس کو توہین کہہ کر اسے نشر کرنا اپنا حق بھی کہہ رہے ہیں، یہ فساد فی الارض کی بات ہے اور اب ہمارا فرض ہے کہ کچھ کریں،

    فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے، چیف جسٹس
    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ عام لوگوں کے ذہن پر میڈیا کا بہت اثر ہوتا ہے، آپ نے پریس کانفرنس چلائی پھر بار بار ٹکرز چلے،ہ ٹی وی چینلز پر ان لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے جنہیں قانون کا کچھ علم نہیں ہوتا،تبصرے لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے سولہ سو فیصلے لکھ چکے ہیں،اگر کوئی میکنزم نہیں ہے تو بنا لیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو چاہتے ہیں تماشا بنے ورنہ آپ کا کام کیسے چلے گا، عدالتی معاون حافظ عرفات کی جانب سے غیبت، بدگمانی اور فاسق کی خبر کی ممانعت میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی شوق نہیں کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں،کیا کریں مگر معاشرہ تباہ ہو رہا ہے،میڈیا کی آزادی سے متعلق ہم بہت محتاط ہیں، کورٹ رپورٹنگ کرنے والے معاشرے میں ایک کام کر رہے ہیں جا کر بتاتے ہیں یہ ہو رہا ہے،اب وہ فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے،

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    سپریم کورٹ، ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری،،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نےتمام میڈیا چینلز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، عدالت نے ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کا موقف درست ہے تو ڈٹ کر کھڑے رہیں،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ میڈیا چینلز کے وکیل نے کہا لائیو پریس کانفرنس دکھانا انکا حق اور ڈیوٹی ہے،توہین عدالت کا قانون واضح ہے،تمام میڈیا چینلز کے جوابات ایک جیسے ہیں،26 چینلز نے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا،میڈیا چینلز نے جواب پر دستخط نہیں کیے، ٹی وی چینلز شوکاز نوٹس پر دستخط شدہ جواب جمع کرائیں،ٹی وی چینلز براڈ کاسٹ سے پیسہ کماتے ہیں،ٹی وی چینلز جواب کیساتھ اشتہارات سے کمائی گئی رقم کا ریکارڈ جمع کرائیں،جوابات پر ٹی وی چینلز کے مالکان اور چیف ایگزیکٹو کے دستخط ہونے چاہیں،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • انتخابی نشان بلے  کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    تحریک انصاف کےانتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے
    سپریم کورٹ میں درخواست درخواست شہری انجینئر قاضی محمد سلیم نے 184(3) کے تحت دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں چیف جسٹس پاکستان اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، دائر درخواست میں تحریک انصاف کو بلے کا نشان اور مخصوص نشستیں دینے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں انتخابی نشان کے بغیر حصہ لیا، اب انتخابی نشان واپس کیا جائے، انتخابی نشان بلے کی واپسی کے بعد آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت بھی دی جائے، پی ٹی آئی کو متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت مخصوص نشستیں فراہم کی جائیں، تحریک انصاف نے عام انتخابات میں دیگر تمام جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ 84 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گ

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی تھی، سپریم کورٹ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کے تمام امیدوار وں آزاد حیثیت سے عام انتخابات 2024ء میں حصہ لیا تھا،

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے اس سے قبل بھی ایک درخواست دائر ہو چکی ہے،

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے،کیس سے متعلق حتمی پیپر بک جمع کرا دیے ہیں،الیکشن کمیشن سے کہاہے کہ 81 آزادامیدواروں کے کاغذات نامزدگی مجھے دیں ،تحریک انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو فراہم کردوں گا،حامدرضا نے کاغذات نامزدگی میں کہا میرا تعلق سنی اتحاد اور اتحاد تحریک انصاف سے ہے،حامدرضا کے دستاویزات میں کہا تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں،تحریک انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں،حامدرضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیاگیا،حامدرضا نے بطور آزادامیدوار انتخابات میں حصہ لیا،

    حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟جسٹس منیب اختر کا استفسار
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والے دستاویزات میں تو حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑنا چاہ رہا ہوں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا کہ حامدرضا خود کو آزادامیدوار نہ کہیں، تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامدرضا نے جمع نہیں کروایا،حامدرضا نے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف کا دیاہے،حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں،وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامدرضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی،

    جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 12جنوری کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ کےبعدایک پارٹی کےسرٹیفکیٹ جمع کرانے کےبعد کیا دوسری پارٹی کاسرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کےپاس امیدوارکے کاغذات نامزدگی کےساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے،پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے، ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرےگا نا؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے،اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزادامیدوار ہوتاہے،

    دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟جسٹس نعیم اختر افغان
    حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کے مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیاجائے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دےلیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کردیاہو؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کررہا،جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جارہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جارہا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے شروع سے خود کو پی ٹی آئی کا ڈکلیئر کیا کاغذات نامزدگی بھی واپس نہیں لیے ،اس کو آزاد کیسے تصور کیا گیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے، چیف جسٹس قاض فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن آگے بڑھتے ہیں،

    کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟چیف جسٹس
    امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بیان حلفی دیکر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار پارٹی وابستگی اور ٹکٹ جمع کرائے تو کیا اسے آزاد ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ جن 81 امیدواروں کی فہرست آپ نے دی ہے اس میں 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی، 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار الیکشن کے حوالے سے کتنے غیر سنجیدہ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی اور ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہر کیے،انتخابی نشان الگ چیز ہے ان امیدواروں کو پی ٹی آئی کا کیوں تصور نہ کیا جائے، امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نے انکی حیثیت پارٹی سے آزاد تبدیل کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی طور پر پر پارٹی وابستگی واپس لی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی تھی تو امیدوار پارٹی ٹکٹ کہاں سے لاتے؟امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے، سکندر مہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تضادات کے باوجود امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کو نشان نہیں ملے گا،الیکشن کمیشن نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائےگا نا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آزادامیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا،

    سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، جسٹس منیب اختر
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہورہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملےگا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کردیں،سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا،22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا نگران حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟کیا کسی نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگران حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

    سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو،چیف جسٹس
    امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرواتے، دنیا بھر کی باتیں کررہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں، فوکس کریں اور ختم کریں اس معاملے کو، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ایک آئینی ادارہ تسلیم کرتے ہیں ، امیدوار کو آزاد تصور کیسے کیا جائے جب امیدوار نے سرٹیفیکیٹ واپس نہیں لیا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوار تو کہہ رہا کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں،امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزاد امیدوار ہوں، وہ تو کہہ رہا کہ سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھا تو عدالت کو دکھانے کا توکوئی جواز نہیں،

    آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟جسٹس جمال مندوخیل
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے پانچ جج ہمارے فیصلے کو برقرار رکھ چکے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ کے پانچ ججوں کے فیصلے کے پابند نہیں،ہم نے جو اصل مسئلہ ہے اسے دیکھنا ہے، سوال یہ ہے الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈس فرنچائز کیسے کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا انتخابی نشان نہیں ہو گا تو پی ٹی آئی جماعت نہیں ہو گی؟ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتاوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے ، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلئیر کر دیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا جواب یہی ہے نا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بنچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا، انتخابی نشان والے فیصلے کیخلاف نظر ثانی زیر التوا ہے،یہ بات درست نہیں ہے، ہم نے تشریح صیحح کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کرکے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ 80 سے زائد امیدواروں کو، چھ امیدواروں نے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا لیکن چھ کو بھی الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار قرار دےدیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مجھے بتائیں کاغذات نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جارہا،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے, وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزادامیدوار خود کو ظاہرکیا، آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے،دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزادامیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزادامیدوار نے خود کو امیدوار ظاہرنہیں کیا، الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزادامیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا،

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتاہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا نہیں ضروری، الیکشن کمیشن کے عدالت کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں تضاد ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا جس میں امیدوار اپنا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟

    ڈی جی لاء نے روسٹرم پر مخصوص نشستوں کے حصول سے متعلق سنی اتحادکونسل کامنشور پڑھا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا منشور پڑھ کر انہیں مخصوص نشستیں دیتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا منشور عدالت کے سامنے لایاجائے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا دیکھوں یا ایک پارٹی کا منشور دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے منشور کو نظر انداز کیوں کروں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کسی اور پارٹی کا منشور نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں، میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کررہاہوں،

    الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل سکندر بشیر کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز پڑھے گئے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جینتی پڑےگی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی،آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں، فل کورٹ میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیگر فریقین کے وکلاء کو بھی ایسے ہی ٹریٹ کیا گیا جیسے آپ کو کیاگیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف اور سنی اتحاد نےکوئی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، سنی اتحاد نے نہیں دی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کردیاتھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات پڑیں گے؟الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کتنا وقت لگےگا؟ ایک دو منٹ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو کوشش کررہے کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے گیارہ بجے؟ تحریک انصاف کی لسٹ آج فراہم کردیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی لسٹ دےدوں گا،سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن بھی فراہم کردیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے،صرف عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ درخواست دائر کر دی ہے،

    ‏مخصوص نشستوں کا کیس یکم جولائی بروز سوموار تک ملتوی کر دیا گیا،‏فل کورٹ بینچ مخصوص نشستوں پر سماعت آج بھی مکمل نہ کر سکا

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،فیصل واوڈا نےسپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

    میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا،فیصل واوڈا نےسپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    سیینٹر فیصل واوڈا نے عدالت میں شوکاز کا نیا جواب جمع کرایا جس میں غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا گیا ہےکہ خود کو سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے، میری پریس کانفرنس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا تو غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، میری پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں تھا۔

    فیصل واوڈا نے مؤقف اپنایا کہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتا ہوں، 5 جون کی عدالتی کارروائی کے بعد مذہبی اسکالرز سے ملاقات کی، مذہبی اسکالرز سے پوچھا کہ ایک سینیٹر کا کردار کیا ہونا چاہیے، مجھے رائے دی گئی کہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہیں چاہے یہ بات آپ کے اقرباء کیخلاف ہی کیوں نہ ہو۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    فیصل وواڈا کے جواب میں قرآن و احادیث کے حوالہ جات بھی دیے گئے اور کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صدق دل سے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، قرآن پاک کی تلاوت کے بعد انتہائی متاثر ہوا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تجویز دی کہ معاملہ انا کا نہیں، احساس ہوگیا ہے کہ معاشرے میں عدلیہ کی اچھی ساکھ برقرار رکھنا ضروری ہے لہٰذا سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ توہین عدالت میں جاری کردہ شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

    بنوں : صوبائی وزیر کے اسکواڈ کی گاڑی پر بم حملہ، 3 راہ گیر زخمی

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات پوچھے، ابھی دلائل دوں یا جواب الجواب میں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چھوٹے دلائل ہیں تو ابھی دےدیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں چیئرمین کی سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر ہوتی، سنی اتحاد کونسل کا نشان نہ ملنے پر چیئرمین نے بطور آزادامیدوار انتخابات لڑے، جمیعت علمائے ف میں بھی اقلیتیوں کو ممبر شپ نہیں دی جاتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے ہوا میں بات کی، ایسے بیان نہیں دے سکتے، آپ دستاویزات دیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دستاویزات بھی دوں گا، الیکشن کمیشن بھی کنفرم کردےگا، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا کاغذات نامزدگی کیساتھ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا گیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے حامد رضا کو روکا جا رہا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کہہ رہے حامدرضانے سنی اتحاد کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیاگیا، سنی اتحاد کا نشان گھوڑاہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامدرضا کو گھوڑے کا نشان کیوں نہیں ملا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے زبردستی آزاد امیدوار کا نشان الاٹ کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صدیقی صاحب اگر آپ نے کاغذات فائل کئے ہونگے تو سوالات نہیں پوچھنے پڑتے، کاغذات کے بغیر آپ کو بات نہیں کرنے دیں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ الیکشن کمیشن سے مانگا گیا تھا،

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کے کاغذات نامزدگی پیش کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ حامد رضا کے کاغذات نامزدگی کی کاپیاں کروا کر تمام ججز کو دیں،

    سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ جسٹس منصور علی شاہ
    مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا، مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن پروگرام الیکشن ایکٹ کے تحت جاری کیاگیا، کاغذات نامزدگی تاریخ سے قبل جمع کروانا ضروری ہوتا، تاریخ میں توسیع بھی کی گئی،24 دسمبر تک مخصوص نشستوں کی لسٹ کی تاریخ جاری کی گئی،الیکشن کمیشن کنفرم کرےگا، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن کب جاری ہوا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس سوال کا جواب الیکشن کمیشن بہتر دے سکتا ہے، سپریم کورٹ نے حکم امتناع دیا تو اضافی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی رکنیت معطل ہوگئی،انتخابات سے پہلے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے والے ہی بعد میں دعویٰ کر سکتے ہیں،الیکشن ایکٹ سیکشن 206 کے مطابق سیاسی جماعتوں کو شفاف طریقہ کار سے نشستوں کے لیے لسٹ دینی ہوتی، سنی اتحاد کی طرف سے کسی امیدوار نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سے خواتین کی لسٹ موجود نہیں اور جمع نہیں کرائی گئی،جمع کروائی گئی لسٹ تبدیل نہیں کی جاسکتی، الیکشن کمیشن کنفرم کردےگا،پانچ رکنی پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے دونوں کیسز میں سنی اتحاد کے خلاف فیصلہ دیا، سنی اتحاد نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ آزادامیدوار شامل ہوئے ہیں

    حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا،جسٹس عائشہ ملک
    وکیل مخدوم علی خان نے الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز کا حوالہ دیااور کہا کہ مخصوص نشستیں حاصل کی گئی جنرل سیٹوں پر انحصار کرتی ہیں،آزادامیدوار تین دنوں کے اندر کسی جماعت میں شامل ہوں تو مخصوص نشستوں کے لیے گنا جائےگا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں حامد رضا نے سنی اتحاد کونسل سے وابستگی ظاہر کی، اگر یہ بات درست ہوئی تو یہ سنی اتحاد کونسل کی پارلیمان میں جنرل نشست ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وابستگی کیلئے پارٹی ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فی الوقت صاحبزادہ حامد رضا کا خط ریکارڈ پر موجود ہے کہ انکے نشان پر کوئی الیکشن نہیں لڑا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان کا پارٹی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے سے تعلق نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ حامد رضا کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے کیوں روکا گیا، الیکشن کمیشن اس معاملے کی تصدیق کرے تو کیس نیا رخ اختیار کر سکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان موجود تھا لیکن کسی نے اس پر الیکشن نہیں لڑا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اپیلوں میں یہ نکتہ بھی نہیں اٹھایا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جو نکات اپیلوں میں اٹھائے گئے ہیں انہی تک محدود رہیں گے، ججز کا کام کسی فریق کا کیس بنانا یا بگاڑنا نہیں ہوتا،

    اپنے موقف پر قائم ہوں پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل

    جسٹس عرفا ن سعادت نے کہا کہ تحریک انصاف اور تحریک انصاف نظریاتی میں کیا فرق ہے،کبھی تحریک انصاف ہوجاتی ہے کبھی تحریک انصاف نظریاتی ان میں فرق بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف نظرثانی سیاسی جماعت ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابی نشان بلے باز ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا تحریک انصاف نے ایسا کیوں کیا؟ اپنی پارٹی میں رہنا چاہیے تھا، سنی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم نے تو نہیں کہا کہ سنی اتحاد میں شامل ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انتخابات کو سپریم کورٹ میں دیکھا جارہا، الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد کیسے ظاہرکیا؟ کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ الیکشن کے حوالے سے بات کررہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے موقف پر قائم ہوں کہ پارٹی وابستگی ظاہر کرکے جماعت تبدیل کرنے والا نااہل تصور ہوگا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سارا معاملہ شروع ہی سیاسی جماعت کے امیدواروں کو آزاد قرار دینے سے ہوا، کیسے ممکن ہے کہ اس بنیادی سوال کو چھوڑ دیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل اپنا کیس جیتے یا ہارے، دوسری جماعتوں کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر ہی مل سکتی ہیں،متناسب نمائندگی کے اصول سے ہٹ کر نشستیں نہیں دی جا سکتیں، اضافی نشستیں لینے والے بتائیں کہ ان کا موقف کیا ہے؟ دیگر جماعتوں کو چھوڑیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہمیں آئین دوبارہ لکھنا شروع کر دینا چاہیے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین میں پہلے سے درج متناسب نمائندگی کا فارمولہ سمجھائیں! فارمولا کیا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سنی اتحاد نے انتخابات میں حصہ لیا نا مخصوص نشستوں کی لسٹ فراہم کی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسے کیا متناسب سیٹیں دیگر سیاسی جماعتوں کو مل جائیں گی؟فرض کریں سنی اتحاد کو نہیں ملتیں مخصوص نشستیں لیکن آپ کو کیسے ملنی چاہیے ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں فرضی سوالات کے جوابات نہیں دوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر کوئی ممبر استعفیٰ دےدے یا انتقال کرجائے تو ایسا تو نہیں پارلیمنٹ کام کرنا چھوڑ دےگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی جج ریٹائر ہوجائے تو سپریم کورٹ کام کرنا تھوڑی چھوڑ دےگی؟ اگر کوئی ممبر نہیں یا نشست خالی ہے تو ضمنی انتخابات ہو جائیں گے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی انتخابات میں پارلیمنٹ مکمل کرنے کیلئے مخصوص نشستیں دی گئیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسا کیس کبھی نہیں آیا کہ کسی پارٹی نے انتخابات لڑے نہیں اور مخصوص نشستیں مانگ رہی ہو،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی رہ سکتی ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آمر آئے سب ساتھ مل جاتے ہیں منسٹر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں،جب جمہوریت آئے چھریاں نکال کر آجاتے ہیں،اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں،آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے،

    سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈکٹیٹر کے اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں،میں نے مشرف دور میں وکالت چھوڑ دی تھی،ڈکٹیٹر کے وقت منسٹر بھی بن جائیں پھر اصول کی بات کریں؟ تاریخ کی بات کر رہے ہیں تو مکمل تاریخ کی بات کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتہائی احترام سے کہہ رہا ہوں آج آئین کی پاسداری نہیں ہو رہی، ہم آج ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ہوں گے،ہم بطور سپریم کورٹ آنکھیں بند نہیں کر سکتے،ہم نے بطور سپریم کورٹ سر ریت میں دبا لئے ہیں، لاپتہ افراد کے کیسز ہیں، بنیادی حقوق کی پامالیاں ہیں، یہ سب سیاسی مقدمات نہیں انسانی حقوق کا معاملہ ہے،ہم سب ماضی کی بات کرتے ہیں آج کی کیوں نہیں؟ہمیں کسی دن تو کہنا ہو گا بس بہت ہو گیا، میری نظر میں آج بھی سب سے اہم درخواست اس عدالت میں 8 فروری الیکشن میں دھاندلی کی ہے،

    سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاریخ بہترین استاد ہے ورنہ بار بار غلطیاں کی جاتی ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں کبھی نہیں کہوں گا کہ میں نے غلطیاں نہیں کیں، سنی اتحاد نے جس طرح کیس کو عدالت میں پیش کیا ویسے ہی اسے دیکھنا چاہیے، سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ جمع نہیں کروائی، سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا ہوتیں،جو سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہیں ان پر مخصوص نشستوں کی لسٹ مہیا کرنا لازم نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ انتخابات کو سیکرٹ بیلٹ کے تحت ہونا چاہئے سیکرٹ بیلٹ کہاں ہے؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ووٹرز کو معلوم ہوتا ہے کہ ووٹ دینے والی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ کیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم ججز اور الیکشن کمیشن بھی آئین کی پاسداری کا حلف لیتا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی نہیں کہتاکہ ووٹرز سے ان کا حق چھین لیا جائےگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا،اقلیتوں اور خواتین کو نمائندگی دینا اصل مقصد ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آئین میں الیکشن میں منتخب ہونے کا لفظ لکھا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ صدر اور سینٹ انتخابات کیلئے الگ الیکٹوریٹ دیا ہوتا ہے،کیس میں لگ رہا جیسے انتخابات ہوہی نہیں رہے لیکن آپ کہہ رہے کہ الیکشن ہورہا ہے،آپ مجھے دکھا دیں کہ کوئی الیکشن ہورہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسی باتوں میں پھنس گئے تو دیگر کو سن نہیں پائیں گے آج کیس مکمل کرنا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی جماعت اگر خواتین یا اقلیتی نشستوں کے لیے لسٹ نہیں دیتی تو کیا پارلیمنٹ میں سیٹ خالی رکھی جائےگی، انتخابات میں سیاسی جماعت ہی صرف سیٹ جیٹ سکتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سیاسی جماعت کون ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ دینے والی سیاسی جماعت کہلاتی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یعنی جو لسٹ نہیں دیتی اسے سیاسی جماعت نہیں کہیں گے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت سیٹیں جیتے تو انتخابات میں جیت کا معلوم ہوتا ہے،جیتنے والی سیاسی جماعتوں میں آزاد امیدوار شامل ہوتے ہیں،جس سیاسی جماعت کے پاس سیٹ ہی نہیں اس میں آزاد امیدوار شامل نہیں ہوسکتے، جس سیاسی جماعت کی مخصوص نشستوں کی لسٹ ہی نہیں تو الیکٹوریٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے منشور میں اقلیتی خانہ شامل نہیں تو اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی جائےگی،اگر خواتین یا اقلیتوں کی لسٹ نہیں دی گئی تو اثرات تو ہوں گے،اگر پرائز بانڈ خریدا ہی نہیں تو پرائز بانڈ نکل کیسے آئے گا خریدنا تو ضروری ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کے حقوق کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی،ہمیں درخواستگزاروں نے بتایا کہ اہم درخواستیں زیرالتوا ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ درخواستیں کیوں زیرالتوا ہیں اس کا جواب عدالت دے وکیل تو نہیں دے سکتا،اگر سیاسی جماعت نے انتخابات سے قبل لسٹ نہیں دی اور بعد میں دے تو مزید غیر جمہوری ہوگا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں آزاد امیدواروں نے دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت سیٹیں زیادہ جیتیں،مسئلہ یہ ہے کہ کس حساب سے سیٹیں بانٹی جائینگی،قومی اسمبلی میں ن لیگ کو 17 اور بعد میں مزید 10 مخصوص نشستیں دی گئیں، آپ کہہ رہے اگرسنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت رہتی تو 17 سیٹیں ہوتیں، اب جب نہیں تو 27 سیٹیں ن لیگ کی ہوگئیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو طریقہ کار سے سیٹیں تقسیم گئی ہیں،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آزادامیدوار نے ایسی سیاسی جماعت شامل ہونا ہوتا جس نے کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صرف یہی ضروری ہے کہ سیٹیں زیادہ ہوں یا انتخابات میں خواتین، اقلیتوں کی نمائندگی پر بات کرنا ضروری ہے، اقلیتی، خواتین کسی سیاسی جماعت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کی نمائندگی کو محفوظ کرنا ہے،تاریخ پر بات کرنی چاہیے اور تاریخ سے سیکھنا چاہیے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر دو سیاسی جماعت ہیں تو انہی پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے انتخابات کا رزلٹ آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا، دو سیاسی جماعتیں ہیں تو کیا انہیں پر مخصوص نشستیں بانٹ دی جائیں گی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مخصوص نشستیں بانٹنے کا طریقہ ہر انتخابات میں تبدیل ہوتا رہتاہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میں سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھنے کا نہیں کہہ رہا، آئین کہہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی لسٹ دیکھیں،

    ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جسٹس اطہرمن اللہ
    حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،وکیل مخدوم علی خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ اقلیتی بھی آپ کی سیاسی جماعت میں اکر بیٹھیں، اگر سیاسی حریف نہیں پسند تو سسٹم کی خوبصورتی ہے کہ دونوں حریف ساتھ بیٹھیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اقلیتی، خواتین کو ضرور پارلیمنٹ میں نمائندگی ملنی چاہیے،ماضی کے انتخابات میں ن لیگ ، پیپلزپارٹی کہیں نہ کہیں متاثرہ رہی لیکن سپریم کورٹ مدد کے لیے سامنے نہیں آئی، جیسا 2018 میں ہوا اب بھی ویسا ہی ہورہاہے، متاثرہ ایک ہی سیاسی جماعت رہی، ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، ابھی تو ہم موجودہ درخواستوں پر کرلیں گے بات لیکن مستقبل میں ایسا وقت ضرور آئےگا جب سپریم کورٹ دوبارہ افسوس کرےگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے نا لسٹ دی اور نا ہی انتخابات میں حصہ لیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2 فروری 2024 والا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کی غلط تشریح پر ہے، کیا ہمیں الیکشن کمیشن کے غلط تشریح پر مبنی فیصلہ نہیں دیکھنا چاہیے یا نظر انداز کردینا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر ایک سیاسی جماعت ہے جو بہت مشہور ہے لیکن انتخابات سے بایئکاٹ کرلیتی ہے، کیا عوام کی سپورٹ کے باوجود بائیکاٹ کرنے والی پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں گی؟ مخصوص نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا شیڈول ایک اہم دستاویز ہوتا جس میں مخصوص اور جنرل سیٹیں شامل ہوتی ہیں،جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کے لیے ایک تاریخ دی جاتی،مخصوص نشستوں کابھی نوٹیفکیشن ہوتاہے، فارم 33 جنرل اور مخصوص نشستوں کے لیے ہوتاہے،ریٹرننگ افسران مخصوص، جنرل نشستوں کے فارم 33 کی اسکروٹنی کرتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن فیصلہ کرےگا کہ امیدوار کی کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارم66 مخصوص نشستوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی لسٹ ہوتی،
    جنرل اور مخصوص نشستوں کی لسٹ کا طریقہ کار بلکل ایک طرح کا ہے،کاغذات نامزدگی پہلی اسٹیج ہوتی ہے، خواتین، اقلیتوں کی سیٹوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی جنرل نشستوں کی ہے،خواتین کی مخصوص نشست وزیراعظم کے لیے بھی امیدوار ہوسکتا،

    انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈکلیئر کر دیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کیسے کی ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب انتحابی نشان واپس ہوگیا تو پی ٹی آئی نے وقت پر نئے انتخابی نشان کیلئے درخواست نہیں دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتحابی نشان واپس ہونے سے ایک جماعت کو انتخابات لڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق بلے کے نشان کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا نہیں ہے معذرت اگر ایسا سمجھا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو کم از کم پڑھ لیں فیصلہ نہیں بلکہ یہ قانون ہے،آج انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے تو کل ہو سکتے ہیں، میں حیران تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرا رہی،الیکشن کمیشن کے وکیل سوالات نوٹ کر کے آخر میں جواب دیں،ہزاروں کیسز پڑے ہیں اس ایک ہی کیس کو تو نہیں سنیں گے،تین بجے تک سماعت میں وقفہ کرتے ہیں،آج ہم ججز کا کھانا ہے وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے،لگتا ہے آج یہ کیس لمبا چلے گا ڈنر یہیں ہوگا،کیس کی سماعت میں تین بجے تک وقفہ کر دیا گیا

    سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیئے،جسٹس یحیی آفریدی کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل کی جسٹس اطہر من اللہ سے تلخ کلامی ہوئی،متعدد بار روکنے کے باوجود سکندر بشیر بولتے رہے۔جسٹس عائشہ ملک بھی الیکشن کمیشن کے وکیل کے رویئے پر برہم ہو گئیں ،ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ جواب دینے کا غیر مناسب طریقہ ہے۔

    پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پریس کانفرنس ہوتی رہیں،پورے پاکستان نے دیکھا،الیکشن کمیشن نےانکوائری کی کیوں یہ ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں اسکاجواب نہیں دوں گا،مائی لارڈ میں نے پریس کانفرنس دیکھی ہی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یعنی آپ کامطلب ہےکہ الیکشن کمیشن کسی بےقاعدگی کی ذمہ داری لینےکو تیارنہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات سے قبل اور بعد کی جمع ہونے والی شکایت بھی دے دیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صاحبزادہ حامد رضا کو قانون کے مطابق ان کی پارٹی کا نشان کیوں نہیں دیا؟آپ نے اسے شٹل کا ک کا نشان کیوں دیا.یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی کہ پارٹی کو انکا نشان نہیں دیا گیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد نے کبھی مخصوص نشستوں سے متعلق اپنی لسٹ دی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ نہیں دی،صوبائی، قومی میں اقلیتی، خواتین کی الگ الگ لسٹیں بنتیں، کُل 13 لسٹیں بنتیں ہیں، سنی اتحاد نے ایک بھی نہیں دی،

    بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز پر برہم ہو گئے،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب میں سپریم کورٹ فیصلے پر کسی کو ریمارکس نہیں دینے دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بلے کے نشان پر فیصلے سے کنفیوژ کررہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہرمن اللہ کو روک دیا، اور کہا کہ بلے کے نشان پر نہیں، سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا تھا، انٹرا پارٹی الیکشن اور بلے کے نشان کا فیصلہ کہنے میں فرق ہے، ایک طرف ریویو کررہے اور دوسری طرف تبصرہ کررہے، کسی اور بینچ کا فیصلے پر ریمارکس دینا درست نہیں ، آگے چلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کوئی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھا رہا،کیا الیکشن کمیشن نے بتایاکہ اگر بلا نہیں ہوگا تو تمام امیدوار ایک نشان پر انتخابات کیسے لڑیں گے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تھا اس کے اثرات ہوسکتے تھے، جمہوریت کی ضرور بات کرنی ہے لیکن انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروانا، ہمارا کام یہ دیکھنا نہیں کہ کون کس کو منتخب کرتا ہے، 91 پوسٹس تھیں تحریک انصاف کے سب عہدیدار بلامقابلہ منتخب ہوئے، بطور وزیراعظم الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ انٹراپارٹی انتخابات کیلئے ایک سال دے دیں، اب تو شاید وہ الیکشن کمیشن کے دشمن ہوگئے، مجھے نہیں سمجھ آتی کیوں اپنی سیاسی جماعت میں انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرواتے کیا یہی جمہوریت ہے؟

    الیکشن کمیشن کے وکیل ریکارڈ صیحح طرح سے سپریم کورٹ میں پیش کرنے میں ناکام ہو گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے میرے خیال سے الیکشن کمیشن کو آج ریکارڈ دے دینا چاہئے تھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 6 بجے دفتر پہنچا،جسٹس منصور علی شاہ ریکارڈ ڈھونڈتے رہے،سُنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی مدد کو آگئے، ریکارڈ پیش کرنا چاہا تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا شکریہ،الیکشن کمیشن وکیل صیحح طرح سے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر معذرت کرتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن صفحے بدلتے رہے، مدد لیتے رہے،ججز ایک دوسرے کے صفحے دیکھتے رہے اور پوچھتے رہے، کنفیوژن ہوگئی

    سُپریم کورٹ میں سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کی صبح 11:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • سپریم کورٹ، تین ججز کی حلف برداری کی تقریب

    سپریم کورٹ، تین ججز کی حلف برداری کی تقریب

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی

    جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن نے بطور جج سپریم کورٹ حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے حلف لیا، اس موقع پر ججز، وکلا او ر میڈیا موجود تھا، سابق چیف جسٹس افتخار چودھری بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 3 ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا،نوٹیفکیشن میں جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کی بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی،صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 177 کے تحت ان تعیناتیوں کی منظوری دی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 196 کے تحت جسٹس شجاعت علی خان قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مقرر کر دیے گئے،جسٹس شجاعت علی خان مستقل چیف جسٹس کی تقرری تک قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ رہیں گے،جسٹس محمد شفیع صدیقی کو قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مقرر کیا گیا ہے۔

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • صدر مملکت  کی سپریم کورٹ  میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری

    صدر مملکت کی سپریم کورٹ میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری

    اسلام آباد: صدر مملکت نے سپریم کورٹ میں تین ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی،جوڈیشل کمیشن نے تینوں ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت نے جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے تینوں ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے تینوں ججز کی تقرری کی سفارش کی تھی۔

    بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 419 میگاواٹ تک پہنچ گیا

    پاکستان کرکٹ اور سایہ کارپوریشن کی ہائی جیکنگ

    دوسری جانب صدر پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد شفیع صدیقی کو سندھ ہائیکورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی جوڈیشل کمیشن پاکستان کی منظوری تک بطور قائم مقام چیف جسٹس فرائض ادا کریں گے جسٹس شفیع صدیقی کو جسٹس عقیل احمد عباسی کے سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کے بعد قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔
    sindh hcsindh hc
    جوڈیشل کمیشن پاکستان اپنے اگلے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کا ریگولر چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دے گا،جسٹس محمد شفیع صدیقی آج قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے۔

    جولائی میں متوقع بارشوں کی شدت اور ممکنہ اثرات کے حوالے سے جامع …

  • اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    ‏اڈیالہ جیل میں گرفتار، سابق وزیراعظم عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں، عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے،عمران خان نے اپنی نااہلی کے خلاف زیر التواء اپیل کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار سابق وزیراعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہے،درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کرنے کے بعد پارٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کی کاروائی جاری ہے، الیکشن کمیشن کے احکامات کے خلاف اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التواء ہیں، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس کی وجہ سے ہائیکورٹس میں کاروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی، ان مقدمات کی وجہ سے درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی، ممبر اسمبلی منتخب نہیں ہو پا رہا، زیر التواء اپیل کی وجہ سے درخواست ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا، بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی