Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

    حکومت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کردیا تھا،آج حکومت نے سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے،ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ہائیکورٹ کو سائفر کیس میں اپیل سننے کا اختیار ہی نہیں،یہ اصول طے شدہ ہے کہ جب پارلیمنٹ قانون میں کوئی بات نہ لکھے تو عدالتی فیصلے کے ذریعے اس میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا سائفر ٹرائل کے دوران عدم تعاون کا رویہ رہا،ریکارڈ سے ثابت ہے کہ دونوں ملزمان نے ٹرائل کے دوران 65 متفرق درخواستیں دائر کیں،متعدد بار ملزمان کی استدعا پر سماعتیں ملتوی ہوتی رہیں، سائفر کیس میں گواہان پیش ہوئے لیکن ملزمان کے وکلاء نے ان پر جرح نہیں کی،ملزمان کے وکلاء کو سرکاری خرچ پر وکیل مہیا کیا گیا ، یہ اصول طے شدہ ہے کہ کسی ٹرائل میں قانونی تقاضے پورے نا ہوں تو معاملہ دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیجا جاتا ہے، سائفر کیس میں استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش کیے، استغاثہ نے سائفر کیس میں دستاویزی اور فارنزک ثبوت پیش کیے،جنہیں ٹرائل کے جھٹلایا نہیں گیا، اسلام ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کو مدنظر نہیں رکھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 جون کے سائفر کیس میں بریت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،

    ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے سے قبل ہی سائفر کیس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب ترمیم کیس میں عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سائفر کیس کی سپریم کورٹ میں اپیل سے متعلق عندیہ دے رکھا تھا۔

    واضح رہے کہ 3 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کر دیا تھا.اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا،

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے کتنی سزا سنائی تھی؟
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی اور سائفر کس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمو د قریشی کو سزا سنائی تھی، سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

  • ججز کی تعیناتی، میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط

    ججز کی تعیناتی، میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی تعیناتیوں کا معاملہ ، جوڈیشل کمیشن ممبران کو خط،7جون کے اجلاس کے میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط لکھ دیا گیا

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو خط ارسال کر دیا،خط کی کاپی سنیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ سمیت تمام ممبران جوڈیشل کمیشن کو بھجوائی گئی ہے. خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے 7 جون کو تین ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش کی ہے،جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کیلئے آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز بھی زیر غور آئی ہے، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی وجہ سے عوام الناس میں ابہام اور ہیجان پیدا ہو چکا ہے،جوڈیشل کمیشن کی تجویز کی وجہ سے پنجاب کا پورا نظام عدل ایک ہیجان میں مبتلا ہے، یہ ہیجان صرف اس وجہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری نہیں کئے گئے،یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی کیا کارروائی ہوئی؟ ججز کی نامزدگی کیسے ہوئی؟ بتایا جائے کہ جوڈیشل کمیشن میں کیا نئے اصول پنائے گئے جو ماضی میں آئوٹ آف ٹرن ججز کی تعیناتیوں کیلئے نہیں اپنائے گئے تھے،آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مجوزہ تعیناتی آئین کے کس آرٹیکل، کونسے قانون کے تحت کی جا رہی ہے؟بادی النظرمیں آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تعیناتی ادارے کی تباہی کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگی، اگر جوڈیشل کمیشن نے غلط فیصلہ کرنا ہی ہے تو غلط فیصلے کو اچھا کر کے کر لیا جائے جیسے ماضی میں کیا گیا، جوڈیشل کمیشن کے پاس مجوزہ غلط فیصلے کو اچھا کر کے کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ ججز کی فہرست میں بہترین آپشنز موجود ہیں، مجوزہ غلط فیصلے کو اچھا کر کے کرنے سے کم از کم آئندہ چار سال عدلیہ میں اصلاحات کے پروگرام میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ہوگی،ماضی میں عدلیہ بالخصوص لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ تجربات سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، سپریم کورٹ مختاراحمد علی کیس میں سپریم کورٹ کی بابت معلومات کو بھی مفاد عامہ کے تحت آئینی حق قرار دے چکی ہے،آئین کے آرٹیکل 19اے، معلومات تک رسائی کے قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میٹنگ منٹس پبلک کئے جائیں،جوڈیشل کمیشن اگر اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری نہیں کرتا تو سپریم کورٹ سے آئینی درخواست میں رجوع کرینگے،

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • سپریم کورٹ کامونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کامونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت کی، سی ڈی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی جو عدالت نے مسترد کر دی عدالت نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارک میں قائم ریسٹورنٹس 3ماہ میں مکمل ختم کیے جائیں۔نیشنل پارک سے باہر کہیں بھی لیز مقصود ہو تو متاثرہ ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے،نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ ہمیں بتائیں کب تک ریسٹورنٹ منتقل کرسکتے ہیں ؟ آپ رضاکارانہ طورپرمنتقل نہیں کریں گے تو ہم سیل کرنے کا حکم دے دیں گے۔وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہمیں چار ماہ کا وقت دیدیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 3ماہ کا وقت دے رہے ہیں ، ہمارامقصد نیشنل پارک کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ نیشنل پارک کے علاوہ قائم دیگرتمام ریسٹورنٹس کوجاری غیرضروری نوٹس ختم کرتے ہیں،ہمارے کیس کا فوکس صرف نیشنل پارک کی حد تک ہے۔

    مالک مونال ریسٹورنٹ لقمان افضل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری میں اس فیصلے سے مثبت تاثر نہیں جائیگا، لوگ کہیں گے پاکستان میں سرمایہ کاروں کےساتھ یہ سلوک ہوتا ہے۔جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین و قانون کو دیکھ کر نیشنل پارک کا تحفظ یقینی بنانا ہے، پوری دنیا میں دیکھ لیں کہیں بھی نیشنل پارک میں ریسٹورنٹ موجود نہیں۔لقمان افضل نے کہا کہ پوری دنیا کے نیشنل پارکس میں ریسٹورنٹ موجود ہیں ، ڈیٹا منگوا کر دیکھ لیں، اس ریسٹورنٹ سے تربیت یافتہ 400 تک لوگ سالانہ بیرون ممالک روزگارکیلئے جاتے ہیں۔

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • سپریم کورٹ میں ججزکی تقرری،جوڈیشل کمیشن نے3 ناموں کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ میں ججزکی تقرری،جوڈیشل کمیشن نے3 ناموں کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی خالی نشستوں پر تقرری کے حوالہ سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی کو سپریم کورٹ تعینات کرنے کی سفارش کی گئی، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال کو بھی سپریم کورٹ لانے کی سفارش کی گئی ، جوڈیشل کمیشن نے حتمی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا .

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کا فیصلہ پانچ ممبران کی اکثریت سے ہوا.جسٹس ملک شہزاد احمد کی سپریم کورٹ تقرری کی جوڈیشل کمیشن کے چار ممبران نے مخالفت کی،ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کی مخالفت کی،جسٹس منیب اختر جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس منظور ملک نے بھی مخالفت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تقرری کی حمایت کی.اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور نمائندہ پاکستان بار اختر حسین نے بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام کی حمایت کی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی اور جسٹس شاہد بلال کے ناموں کی سفارش متفقہ طور پر کی گئی

  • سپریم کورٹ، قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار جاری کرنیکا حکم

    سپریم کورٹ، قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار جاری کرنیکا حکم

    سپریم کورٹ: قاسم سوری کی الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    قاسم سوری سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ایک مرتبہ پھر پیش نہ ہوئے،سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی طلبی کے اشتہار جاری کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے طلبی کا نوٹس قاسم سوری کے گھر کے باہر بھی چسپاں کرنے کا حکم دے دیا.عدالت نے حکم امتناع پر ڈپٹی اسپیکر رہنے اور تحریک عدم اعتماد کیخلاف رولنگ دینے پر قاسم سوری کو طلب کر رکھا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    عدالت نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق قاسم سوری کے بھائی نے نوٹس وصولی سے انکار کیا،قاسم سوری جان بوجھ کر سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہو رہے،سابق ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے نوٹس وصولی سے اجتناب بدقسمتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سوری سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ خود ٹی وی کی شخصیت ہیں اور نہیں دیکھتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ ٹویٹر سے واقف ہیں؟ وکیل نعیم بخاری نے جواب دیا کہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ خود کو بوڑھا کیوں سمجھ رہے ہیں جوان اور اپ ٹو ڈیٹ رہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایک پروگرام میں آپ نے کہا تھا دوست بوڑھا نہیں ہونے دیتے،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میرا قاسم سوری سے کوئی رابطہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت جولائی میں رکھیں گے،عدالتی حکم میں آئندہ تاریخ مقرر کر دینگے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    قاسم سوری کو دو بار پہلے بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، آج بھی عدالت پیش نہ ہوئے نومئی کےو اقعات کے بعد سے قاسم سوری پہلے روپوش تھے اب اطلاعات کے بعد قاسم سوری برطانیہ میں ہیں.

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    سپریم کورٹ . نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو گئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سی گرین کلر کا لباس زیب تن کر رکھا ہے.جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں

    ‏اپیل کنندہ زہیر صدیقی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کرا دیں، کیا آپ فیصلہ سپورٹ کر رہے ہیں؟ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل اپنا رہے ہیں؟وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا مؤقف وہی ہے لیکن دلائل میرے اپنے ہیں۔

    درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو نیب قانون کو کیوں تبدیل نہیں کیا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا نا کہ نیب قانون کو , نیب ترامیم اس لیے کی گئیں کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف سیاست دانوں کو نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں رکھا گیا یہ سمجھ سے بالاتر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بتائیں کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں،نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب ترامیم کیس، نیب کی کاروائی کے لیے عوام کا اختیار کتنا ہے میری سمجھ کے مطابق تو کوئی بھی شہری شکایت درج کر سکتا ہے،یہ اختیار نیب کا ہے پتہ کرے کرپشن ہوئی یا نہیں؟

    آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ سمیت جن اداروں اور شخصیات پر نیب قانون لاگو نہیں ہوتا اس حوالے سے ترمیم نہیں کی گئی، پارلیمنٹ موجود تھی قانون سازی کر سکتے تھے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 1999 سے 2018 تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہیں، تمام عرصے میں کسی سیاسی جماعت نے نیب قوانین میں ایسی ترمیم نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں عدالت میں فریق نہیں،نیب ترامیم پی ٹی آئی نے چیلنج کی، انہی سے پوچھیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چیلنج کی گئی نیب ترامیم مخصوص تناظر میں کی گئیں تھی، کرپشن عوام کے بنیادی حقوق متاثر کرتی ہے، عوام کا پیسہ لوٹا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب قوانین کا اطلاق پبلک آفس ہولڈر پر ہوتا ہے، پبلک آفس ہولڈرز صرف سیاستدان نہیں ہوتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ نیب ارڈیننس کب آیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ 1999 میں آیا تھا,چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نام لیں نا وہ کس کا دور تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مشرف کا دور تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے، پرویز مشرف نے تو کہا تھا نیب کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں کو سسٹم سے نکالنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست میں بھی کچھ ایسا ہی تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری درخواست میں کسی سیاستدان کا نام نہیں لکھا گیا، بظاہر بانی پی ٹی آئی کی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ، کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے ، کیا آپ 90 دنوں میں نیب ریمانڈ سے مطمئن ہیں ، کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کی کارروائی حامی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل دوں گا کہ اقلیتی رائے درست نہ تھی

    خواجہ حارث نے کہا کہ دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ جو دلائل دینا چاہتے ہیں وہ دیں ،باقی نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت درکار ہو گا،خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت لوں گا،

    سپریم کورٹ،وفاقی حکومت کی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید
    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، عمران خان راہداری میں چہل قدمی کر سکتے ہیں، عمران خان کو ورزش کی بھی اجازت ہے

    شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا.چیف جسٹس
    خواجہ حارث نے کہا عمران خان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کس نے دائر کی تھی؟خواجہ حارث نے جواب دیا ہائیکورٹ میں درخواست ہائیکورٹ بار نے دائر کی تھی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہمارے پاس ہائیکورٹ کا ریکارڈ آگیا ہے وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے، شعیب شاہین صاحب نے حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ حامد خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم درخواست جون 2022 میں دائر کر چکے تھے، ہائیکورٹ میں درخواست جولائی میں دائر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس لگنے سے پہلے ہائیکورٹ معاملہ پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرچکی تھی،آپ سپریم کورٹ میں پہلی سماعت پر کہہ سکتے تھے کہ اب ہائیکورٹ میں کیس شروع ہو چکا ہے، ہائیکورٹ بار کے صدر سپریم کورٹ کو آکر کہہ سکتے تھے کیس ہائیکورٹ میں چلنے دیں یا میری درخواست بھی یہاں منگوا لیں، شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا،

    کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں،چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اگر غلط ہوں تو عدالت میں آکر نشاندہی کریں، اپنی سیاست اور آئینی معاملات کو علیحدہ علیحدہ رکھیں، اس رویے کی وجہ سے ہمارے نظام انصاف کی درجہ بندی نچلی سطح پر ہے،کیمرے پر تو سب تنقید کرتے ہیں، کھلی عدالت میں کوئی بات نہیں کرتا، کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں، باہر بات کرنا تو آسان ہے،انصاف نا صرف ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، دنیا کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر اسی وجہ سے گراوٹ کا شکار ہے،اس طرح کے حکم امتناع سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، میری رائے ہے کہ قانون معطل نہیں ہوسکتا ،نیب ترامیم اتنا خطرناک تھا تو اسے معطل کردیتے، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا،

    سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھی گئی جب عمران خان کے وکیل نیب ترامیم کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا آپکے موکل اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں لائی گئی؟جب چیف جسٹس پاکستان نے یہ سوال پوچھا اس وقت علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود تھیں

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے ذریعے اٹارنی جنرل کو نوٹس ہوا تھا، اٹارنی جنرل نے کیوں کوشش نہیں کی کہ کیس دوبارہ لگے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بنا تو میں نے عدالت میں بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا، اس وقت بحث چل رہی تھی کہ اختیار میرا ہے یا کسی اور کا ہے، باہر جا کر بڑے شیر بنتے ہیں لیکن سامنے آکر اس پر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے تھے، بتائیں اس کیس کا کیا بنا؟خواجہ حارث نے کہا کہ طاقتور اداروں کی موجودگی کے باوجود اس کیس میں کچھ ثابت نہ ہو سکا، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا خواجہ صاحب بتا دیں کون کونسی ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا، آپ نے سیکشن 9 فائیو اے میں ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سیکشن 14 کے حذف کرنے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ترامیم کالعدم ہو جاتی ہیں تو نقصان بانی پی ٹی آئی کو اپنے کیس میں ہو سکتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نیب قوانین کو بھگت رہے ہیں مگر چاہتے ہیں یہ کرپشن کے خلاف برقرار رہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب کے ادارے میں لوگ خود کرپشن کریں کون دیکھے گا ،اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کہ ادارے پر ادارہ تو نہیں بٹھایا جا سکتا ، چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی پر تو آپ کو بھروسہ کرنا ہوگا ۔

    سپریم کورٹ،وقفے کے بعد سماعت،عمران خان ویڈیو لنک پر سکرین سے غائب
    سپریم کورٹ میں سماعت کا وقفہ ہوا، دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کی ویڈیو لنک پر تصویر نہیں آ رہی تھی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ٹیکنیکل اسٹاف کو اپنے پاس بلا کر وجہ دریافت کی،عدالتی عملے نے بتایا عمران خان کمرہ عدالت میں ہونے والی گفتگو سن سکتے ہیں مگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے جس کے باعث انکی ویڈیو نہیں آ رہی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فون کر کے پتہ کریں اور مسئلہ حل کریں .

    کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک لسٹ جمع کرائی تھی،
    لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں اس وقت کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں، آپ چاہتے ہیں اثاثوں کی سیکشن سے کرپشن کی شرط نکال دیں صرف آمدن اور اثاثوں میں فرق ہونا کافی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وزیراعظم سے نہیں پوچھے گا یہ گھر کہاں سے لیا وہ کہے بھائی نے تحفہ دیا تو کیا ہوگا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے میں اس کے بھائی سے پوچھا جائے گا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس طرح تو یہ گھومتا رہے گا, جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ بانی پی ٹی آئی کو بھی ڈرکونین قوانین سے ایکسپوز کر رہے ہیں،اگر کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایسے میں وکیل کے خلاف بھی کاروائی ہو سکتی ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو پوری فیملی کو پتہ ہوتا ہے ہمارے سربراہ کی آمدن کتنی ہے اور خرچہ کتنا کر رہا ہے کیا ایسے میں تمام فیملی کے خلاف کارروائی ہوگی، میں وکیلوں کو تھوڑا ریسکیو کر رہا ہوں، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار نہیں تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسفند یارولی کیس میں سپریم کورٹ نیب کی تمام شقوں کا جائزہ لے چکی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر پی سی او نہ ہوتا تو شاید تب پورا نیب قوانین اڑا دیا جاتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا برطانیہ میں نیب جیسا ادارہ ہے؟ نیب پر آپ کو اتنا اعتماد کیوں ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے،دوسرے خلیفہ سے ان کی چادر کا سوال پوچھا گیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے خلیفہ سے جس نے پوچھا تھا وہ عام آدمی تھا،عام آدمی حکمرانوں سے آج بھی پوچھ سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عام آدمی تو بیچارہ کمزور ہوتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت، ووٹر کی طاقت کو کمزور کیوں کہہ رہے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایمنسٹی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی.وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے فوجداری پہلو ختم نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتی.وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھاہے،رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتاہے،بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی یا رضاکارانہ رقم واپس ہوئی؟460ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کر دیےتھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب کی 2023 کی ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں،سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے موکل کو فائدہ ہو، خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے کہ کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا،وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی پروٹیکشن آف اکنامکس ایکٹ کے تحت ہوتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا،ایک بات پر تو قوم کیلئے سب ساتھ بیٹھ جائیں،جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی نے منع نہیں کیاکہ نیب قوانین کو سخت یا نرم نہ کریں،کل کو پارلیمنٹ نیب قوانین کو سخت بھی کرسکتی ہے، ترامیم ختم کریں اور کل پارلیمنٹ نیب قانون ہی ختم کردےتوکیا ہوگا؟1999میں مارشل لاء نہ ہوتاتو نیب قانون کا وجود بھی نہ ہوتا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 سے پہلے احتساب ایکٹ موجود تھا، احتساب ایکٹ کا مقصد بھی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ہی تھا،

    خواجہ حارث نے جعلی اکاونٹس کیس کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جعلی اکاونٹس کیس کی اپیل ہمارے پاس آئے، کسی کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، کیس پر بات نہ کریں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر مملکت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی لیکن کوئی نہیں بیٹھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائنڈ نا کیجئے گا آپ کو نیب پر بہت اعتماد ہے،کیا اب نیب ٹھیک ہوگیا ہے ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں اب ٹھیک نہیں ہے نیب پہلے ٹھیک تھا،

    میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، عمران خان
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟کیا آپ کیس سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں، کیس سے متعلق ہی بات کیجئے گا، آپ جیل میں اپنے حالات سے متعلق گفتگو کرنے لگ جاتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ، مجھے تکلیف ہوئی کہا گیا کہ میں غیر ذمہ دار سا کریکٹر ہوں اس لئے لائیو نشر نہیں کیا جائے گا "، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کرتی، آپ نظر ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں” .آپ اپنے کیس پر رہیں،عمران خان نے کہا کہ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتاہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا،مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفےکی قیمت کم لگائی، پونے دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی،میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے.نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتےہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے یا نہیں؟عمران خان نے کہا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کرسکتے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر اسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں .

    نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے.عمران خان
    جسٹس اطہرمن اللہ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیاہے،عمران خان آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہےگا؟ عمران خان نے کہا کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جیل میں جا کر تو مزید میچورٹی آئی ہے، عمران خان نے کہا کہ ستائیس سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا،غریب ملکوں کے سات ہزار ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، اس کو روکنا ہوگا،میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ایسے ہی برقرار رہے گی ،عمران خان نے کہا کہ نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے ، جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کرا دیا،عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں ہی ہوں ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا .حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتاہے،نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا.دبئی لیکس میں بھی نام آچکے، پیسے ملک سے باہر جارہے ،

    جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں.جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں”.عمران خان نے کہا کہ میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں ہوں ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ "حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں،جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں”، عمران خان نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیاگیا، مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا،

    ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں،عمران خان نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہواہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ بھی ہوگیاتو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا،ہم آپ کی طرف دیکھ رہے، آپ ہماری طرف دیکھ رہے،ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روک دیا اور کہا کہ سائفرکیس میں شائد اپیل ہمارے سامنے آئے.

    خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں.چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ بتانا چاہتاہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے، شرح نمو چھ عشاریہ دو پر تھی، حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی، پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتاتھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں ،عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے ایمنسٹی دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کردیا اور کہا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں ، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں ، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے ، ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق نائک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں .

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خان صاحب آپ سارا دن بہت تحمل سے بیٹھے،نیب نے ریکوڈک کیس میں 10 ارب ڈالر کی ریکوری کیسے لکھ دی، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری ان ڈائریکٹ ریکوری تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی غلط دستاویز دائر کرنے پر اپ کو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، کدھر ہیں پراسیکیوٹر جنرل کیسے یہ غلط دستاویز پیش کیں، نیب کے یہ والے پراسیکیوٹر آئندہ اس عدالت میں نہ آئیں، چیف جسٹس ریکوڈک ریکوری کا کریڈٹ لینے پر نیب پر برہم ہو گئے. کہا کہ اپ سپریم کورٹ کو مذاق نہ سمجھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو ایسی رپورٹ لکھتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہو گئے،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر آج کے کیس کی کارروائی مکمل ہو گئی،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا.سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ہفتے میں کوئی فریق اگر کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہے تو کروا دے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا.حکمنامہ میں کہا گیا کہ نیب کا 10 ارب ڈالر ریکوری کا کریڈٹ لینا سرپرائزنگ تھا.اداروں کی جانب سے ایسی غلط دستاویزات جمع نہیں ہونی چاہیے، چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل خود ریکوری اور بجٹ کی اصل رپورٹ پیش کریں، نیب کا گزشتہ 10 سال کا سالانہ بجٹ بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق، وفاقی حکومت اس کیس میں اپیل دائر کر سکتی تھی،نیب کا آج جمع کرویا گیا جواب مسترد کرتے ہیں،

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • روف حسن ججز کو ٹاوٹ اندھا بہرہ کہہ رہے ہیں،میں تو ایسا کچھ سوچ نہیں سکتا،مصطفیٰ کمال

    روف حسن ججز کو ٹاوٹ اندھا بہرہ کہہ رہے ہیں،میں تو ایسا کچھ سوچ نہیں سکتا،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی، سید مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری پریس کانفرنس میں کوئی توہین عدالت نہیں تھی،عدالت میں موقف پیش کیاکہ اگر کوئی بات تھی تومعافی مانگتے ہیں، سپریم کورٹ سے غیرمشروط معافی مانگی ہے،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سودی نظام سے پاکستان میں خوشحالی نہیں آئےگی،شرعی عدالت کے فیصلے کیخلاف 16 بینچز نے اسٹے لے لیا ہے، سپریم کورٹ نے قرآن کی بات کی جو بہت اچھی بات تھی، قائداعظم نے اسٹیٹ بینک کی بنیاد رکھتے ہوئے مغرب کے معاشی نظام کو مسترد کردیا تھا۔بیرسٹر فروغ نسیم سے پوچھا گیا کیا آپ پریس کانفرنس میں کوئی توہین دیکھی ہے؟بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا پریس کانفرنس میں ایسی کوئی بات نہیں،آج سپریم کورٹ کا ماحول بہت اچھا تھا،قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ سود اللہ سے جنگ ہے۔ یہی بات میں نے اسمبلی میں کی، جس معاشرے کا نطام ہی سود پر ہو ،فنانس منسٹر کہتے ہیں خوشحالی آنے والی ہے،میں منسٹر کی بات مانوں یا اللہ کی،سود کے حوالے سے درخواستیں دو سال سے پینڈنگ پڑی ہیں،بھٹو مولوی نہیں تھا اس کے باوجود آئین میں لکھا جلد سود کا خاتمہ کریں گے،پی ٹی آئی کے روف حسن ججز کو ٹاوٹ اندھا بہرہ کہہ رہے ہیں،میں تو ایسا کچھ سوچ نہیں سکتا زبان پر نہیں لاسکتا،ہم سود کی وجہ سے اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں مبتلا ہیں،میں نے اسی بات پر پریس کانفرنس کی،جہاں ججز کے حقوق معتبر ہیں وہی یہ معاملہ بھی ہے، پاکستان نیا اسلامی معاشی نظام متعارف کروائے گا،بھٹو نے آئین میں لکھا جلد سود ختم کریں گے وہ مولوی بھی نہیں تھے،ہم نے عدالت میں کہا اگر پریس کانفرنس میں آپکو کوئی ایسی بات لگتی ہے یا استحقاق مجروح ہوا ہے تو ہم معافی مانگتے ہیں،ہم نے چوتھا پوائنٹ لکھا ہے کہ سود کے حوالے سے اپیلیں سماعت کے لئےمقرر کی جائیں۔

  • بانی پی ٹی آئی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    بانی پی ٹی آئی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس ،کیس کی کاروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ کیس کی کاروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے،بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے براہ راست نشر کرنا ضروری ہے،نیب ترامیم کیس کی 31 اکتوبر 2023 اور رواں سال 14 مئی کی سماعت براہ راست نشر ہوئی،بانی پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں،صرف بانی پی ٹی آئی کی پیشی پر براہ راست نشریات روکنا عدالتی کارروائی کو مشکوک بنا سکتا ہے ، بانی پی ٹی آئی کی پیشی پر براہ راست نشریات روکنا عوام کا اعتماد ختم کرنے کی وجہ بن سکتا ہے،

    عمران خان عام قیدی نہیں، کئی ملین پیروکار، حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جب پھانسی دی گئی وہ عام قیدی نہیں تھے، بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی عام قیدی نہیں تھے، سابق وزرا اعظم کیخلاف نیب اختیار کا غلط استعمال کرتا رہا،سابق وزرا اعظم کو عوامی نمائندہ ہونے پر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ہراساں کیا گیا،بانی پی ٹی آئی بھی عام قیدی نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کے کئی ملین پیروکار ہیں، حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں،ایس او پیز کا نہ بنا ہونا کیس براہ راست نشر کرنے میں رکاوٹ نہیں، عدالت ریاست کے جبری نظام کے وجود کے تصور کو نظر انداز نہیں کر سکتی، عدالتیں اور ججز واضح حقائق کو نظر انداز کر کے اپنا سر ریت میں نہیں دبا سکتے،نیب کو سیاسی انجینئرنگ، مخالفین کو ہراساں کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے استعمال کیا گیا، ناقدین اور سیاسی مخالفین کی من مانی گرفتاریاں اور تذلیل کی گئی، تقریباً تمام سابق وزرائے اعظم نیب کا نشانہ بنے۔

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فاٸزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،بنچ میں جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان شامل ہیں،سپریم کورٹ طلبی پر فیصل واڈا، کمال مصطفی عدالت پیش ہو گئے،مصطفی کمال کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم اور فیصل واوڈا روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے غیر مشروط معافی کی درخواست مصطفے کمال کی جانب سے دائر کی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ درخواست پڑھیں، فروغ نسیم نے مصطفی کمال کا معافی کی درخواست پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے درخواست میں ربا کا ذکر کیا ہے اس کا کیا مطلب؟ ربا والا کیس کا فیصلہ ہو نہیں چکا؟ فروغ نسیم نے کہا کہ ربا والا کیس اس وقت وفاقی شریعت عدالت میں زیر التوا ہے اس پیرائے میں میرے مؤکل نے بات کی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ربا والے معاملے پر دوسرے جج کی تعیناتی کا مسئلہ حل ہوجائے گا، نئے جج کی تعیناتی اس لئے کی جارہی ہے کہ ایک عالم جج فوت ہوچکے ہیں

    ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی عزت کرنی چاہئے، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس اتفاقی تھی یا فیصل واوڈا سے متاثر ہوئے؟ اس پر وکیل فروغ نسیم نے کہا، پریس کانفرنس اتفاقی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیوں آپ لوگ فیصل واوڈا سے متاثر نہیں ہیں ، کیا آپ اب بھی سینیٹر ہیں ، فروغ نسیم نے کہا کہ نہیں اب میں سینیٹر نہیں ہوں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ بطور کورٹ آفسر بتائیں کہ آپ کے موکل کے توہینِ عدالت کی ہے یا نہیں ؟ وکیل مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین عدالت نہیں ہے،

    مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کا بے حد احترام کرتے ہیں،پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے مگر ہم نے کچھ نہیں کہا،پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ آئینی باڈی ہے ،اگر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ہیں؟قوم کو ایک ایسی پارلیمنٹ اور عدلیہ چاہیے جس کی عوام میں عزت ہو ، میرا خیال ہے یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے توہین عدالت کا نوٹس لیا ہے ، فیصل واوڈا سینیٹ میں ہیں وہاں تو اور بھی سلجھے ہوئے لوگ ہونے چاہئیں ، جب ارکان پارلیمنٹ ہوتے ہوئے عدلیہ پر ایسا حملہ کیا جائے تو یہ ایک آئینی ادارے کا دوسرے ادارے پر حملہ ہوتا ہے،اگر مصطفیٰ کمال سمجھتےہیں کہ انہوں نےتوہین عدالت نہیں کی تو پھر معافی قبول نہیں کریں گے،اپ ڈرائنگ روم میں بات کرتےتو الگ بات تھی، اگر پارلیمنٹ میں بات کرتےتوکچھ تحفظ حاصل ہوتا، آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ معافی کی گنجائش اسلام میں قتل پر بھی ہے مگر اعتراف جرم لازم ہےآپ نے پریس کلب میں جا کر تو معافی نہیں مانگی،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ایسا کرنے پر بھی تیار ہیں مصطفیٰ کمال کی معافی مانگنے کی وجہ یہ ہے وہ عدلیہ کی عزت کرنا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی ججز کے کنڈکٹ کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ، میں دونوں ملزمان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ ارکان پارلیمنٹ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالتوں میں زیر التوا مقدمات پر بات ہو تو وہ توہین عدالت نہیں وہ ایک فیئر کمنٹ ہے،ہم آپ کے مؤکل کی تقریر سنتے ہیں اور اس میں کوئی توہین والا عنصر نکل آئے تو کیا کریں؟ فروغ نسیم نے کہا کہ سر اس میں ایک آدھ جملہ ہوسکتا ہے اس لئے عدالت سے معافی کے طلبگار ہیں

    جسٹس عرفان سعادت نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے کہے ہوئے الفاظ پر شرمندہ ہیں ؟ فروغ نسیم نے کہا کہ جی بلکل ، ہم نے یہ بات اپنے جواب میں لکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کی دوہری شہریت پر کوئی پابندی نہیں،فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی کمال نے ججز کی دوہری شہریت پر کوئی بات نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں لکھاہے کہ پارلیمنٹ میں کسی جج کے حوالے سے بات نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی ممبر کرتا ہے تو پھر کیا ہونا چاہیئے۔ ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے،میں دونوں شخصیات کے بارے میں کہوں گا وہ پارلیمنٹرینز ہیں بات کرنے سے پہلے سوچیں، پارلیمنیٹیرنز نے خود پارلیمنٹ کے ممبرز پر دوہری شہریت کی پابندی لگائی ہے،

    کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے سامنے دوہری شہریت کا معاملہ نہیں توہین عدالت کا کیس ہے، آئین پاکستان دیکھیں، کتنے خوبصورت الفاظ سے شروع ہوتاہے، جو لوگ گالم گلوج کرتے کہان سے اثر لیتےہیں، کیا ایسا دینی فرائض میں ہے؟ ہمیں کسی کو توہین کا نوٹس دینے کا شوق نہیں، امام نے فرمایا تھا کسی سے اختلاف ایسے کریں کہ اس کے سر پر چڑیا بیٹھی ہو تو بھی نہ اڑے، کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟ اختلاف رائے کے بھی قواعد ہیں، اسلام سے دور ہوکر ہر بندا گالم گلوچ پر اترا ہوا ہے، فیصلوں پر جتنی مرضی تنقید کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدلیہ اور پارلیمان کو لوگوں نے لڑنے کیلئے نہیں بنایا، آپ کو کوئی جج بے ایمان لگتا ہے تو ریفرنس دائر کردیں

    34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین کا مذہب میں کیا اسٹیٹس ہے، فیصل واوڈا کے وکیل سے پوچھ لیتے ہیں،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے اس بارے میں قرآن پاک کی آیات یاد نہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہب میں ڈیسنسی کا خیال رکھا جائے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ اس حوالے سے احادیث موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو قرآن پاک سے سمجھاتے ہیں، سورہ الحجرات میں ایسی آیات ہیں،ہر روز گالم گلوچ سنتے ہیں،ٹی وی والے سب چلادیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فریڈم آف اسپیچ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیمرا کی رپورٹ ہے 34منٹ کی پریس کانفرنس ٹی وی چینلز نے چلائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب ان ٹی وی والوں کو نوٹس دیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں سب کو نوٹس دینے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیمرا نے ایک رول بنایا ہے کہ کورٹ کارروائی ریکارڈ اور رپورٹ نہیں ہوگی ،کیا ایسا کوئی آرڈر پیمرا نے ارڈر جاری کیا ہے ؟اگر کوئی توہین عدالت کے الفاظ ہوں تو اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے، ایک طرف پوری پریس کانفرنس دکھائی گئی اس پر پیمر انے نوٹس نہیں لیا لیکن کورٹ کی رپورٹنگ اور ریکارڈنگ سے روک دیا،کیا ایسا معیارہے،، ادارے ایسے چلتے ہیں ،پیمرا کے نوٹیفیکیشن کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا،اس کا پرنٹ لے لیں، کیا ٹی وی چینلز کے اندر کوئی معیار ہے؟ 34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو معافی بھی 34 منٹ چلانی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب ان کی جیبوں پر جرمانے کی مد میں بات آئے گی تو پتہ چل جائے گا؟ پیمرا نے عدالتی سماعتوں کو نشر نہ کرنے کا عجیب قانون بنایا؟ عجیب قانون ہے کیا یہ آئین کے خلاف ہے؟

    مجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں ،فیصل واوڈا کے وکیل کی بڑی شرعی شکل ہے،فیصل واوڈا کے وکیل وکیل معیزاحمد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اللہ کرے ہمارے اعمال بھی شرعی ہو جائیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں علم ہی نہ ہو کہ قرآن میں اس بارے کیا ہے تو کیا کریں ،ٹی وی والے سب سے زیادہ گالم گلوج کو ترویج دیتے ہیں ، ایسی گالم گلوچ کسی اور ملک میں بھی ہوتی ہے ،مجھے جتنی گالیاں پڑی ہیں شاید کسی کو نہ پڑی ہوں ،کبھی اپنی ذات پر نوٹس نہیں لیا ، آپ نے عدلیہ پر بات کی اس لیے نوٹس لیامجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے ،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ میرے موکل پیمرا سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنی نہیں آپ کو سننا ہے ، آپ وکیل ہیں ، فیصل واوڈا اس پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے ، کیا آپ نے کوئی قانون بدلنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ، ہم نے کبھی کہا فلاں سینیٹر نے اتنے دن اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی ،

    باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں بیٹھے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی لوگ بیٹھے ہیں بڑی بڑی ٹویٹس کر جاتے ہیں ، جو کرنا ہے کریں بس جھوٹ تو نہ بولیں ،صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی ، باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کا وکالت نامہ ختم ہوچکا ہے جو موکل بات کرنا چاہے ہیں؟ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا ا سکرپٹ موجود ہے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ ٹرانسکرپشن میں لکھا ہے کہ پریس کانفرنس میں 2ہائیکورٹ کے ججز کا نام لیا گیا، کیا وہ پریس کانفرنس ججز سے متعلق ہی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدلیہ سے متعلق پریس کانفرنس کی، وہ بار کونسل یا بار ایسو سی ایشن ہیں؟کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ یہ کام کرے وہ کام کرے ؟یہاں تو جھوٹ پر لوگوں کو ڈالرز ملتے ہیں ، ایک ویڈیو کو زیادہ دیکھا جاتاہے ،ہر بات سورس کے ذریعے کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی سورس نہیں ہوتا، صحافیوں کا کیس ہم نے اٹھایا ان کے سارے کیسز سن رہے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ میں مشورہ کرکے بتاتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ہم مزید وقت دے سکتے ہیں، فیصل واوڈا روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ روسٹرم پر بات کرنا چاہتا ہوں ،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں، وہ نہ ہوتے تو بات کرسکتے تھے

    کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پیمرا کورٹ رپورٹنگ سے متعلق جو ہدایات ہیں وہ درست نہیں ،پیمرا کو چاہیے کہ وہ ایک چیک کا نظام رکھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ہمیں کام کے لیے بٹھایا گیا،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ شام کو ٹاک شوز میں باتیں ہوتی ہیں اس کو بھی دیکھنا ہےچیف جسٹس نے کہا کہ کیا پھر چینلز کو نوٹس جاری کیے جائیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چینلز سے پوچھیں کہ ان کی ایڈیٹوریل پالیسی کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ آپ بے شک فیصلوں پر تنقید کریں لیکن بہتر طریقے سے کریں،کیا ایک جملے میں10 بار توہین ہورہی ہے تو پھر کیا وہ ایک توہین ہوگی؟کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال توہین عدالت کیس کی سماعت28جون تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے؟ کبھی ہم نے یہ کہا کہ فلاں کو پارلیمنٹ نے توسیع کیوں دے دی. آپ نے کس حیثیت میں پریس کانفرنس کی تھی ، آپ بار کونسل کے جج ہیں کیا ؟سپریم کورٹ نے فیصل واوڈ اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس دکھانےوالے تمام چینلز کو نوٹس جاری کر دیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،  سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

  • سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر براہ راست سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس کی سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرٹیکل 17اور63اے میں سیاسی اور پارلیمانی پارٹی کاذکر ہے،سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی . چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیاسی اور پارلیمانی جماعت کے لیے آئین میں کیاتشریح ہے؟آپ 8 فروری سے پہلے کیا تھے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 8فروری سے پہلے ہم سیاسی جماعت تھے،آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ہم پارلیمانی جماعت بن گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہو سکتے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا عدالت کے سامنے موجود معاملے سے تعلق نہیں،سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان ایک تفریق ہے،

    آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آئین اس تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی 63 اے آرٹیکل موجود ہے، سنی اتحاد کونسل دونوں سیاسی اور پارلیمنٹری پارٹی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں سربراہ کے حوالے سے ابھی بتا دیتاہوں لیکن عدالت میں یہ بات اہم نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو اپنے سربراہ کا نام ہی نہیں معلوم، آپ درخواستگزار ہیں، پارلیمنٹری سربراہ کا کوئی الیکشن ہوتاہے؟ معلوم کیسے ہوتا پارلیمنٹری سربراہ کون ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹری سربراہ کا مقدمہ سے تعلق نہیں اس لیے اس حوالے سے تیاری نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے آپ کے سوالات سے پولیٹیکل لفظ ہذف کردیا ہے،

    الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟جسٹس منیب اختر
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سیاسی جماعت ہونے کے بغیر پارلیمانی پارٹی ہو؟ جو بھی پارٹی اسمبلی میں ہوگی تو پارلیمانی پارٹی ہوگی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارلیمان میں فیصلے پارلیمانی پارٹی کرتی ہے اسکے فیصلے ماننے کے سب پابند ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی قانونی طور پر پارٹی سربراہ کی بات ماننے کی پابند نہیں ہوتی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے پارلیمانی پارٹی کا نہیں، آرٹیکل 51 اور مخصوص نشستیں حلف اٹھانے سے پہلے کا معاملہ ہے،ارکان حلف لیں گے تو پارلیمانی پارٹی وجود میں آئے گی، پارلیمانی پارٹی کا ذکر اس موقع پر کرنا غیرمتعلقہ ہے، مناسب ہوگا کہ سیاسی جماعت اور کیس پر ہی فوکس کریں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزاد امیدوار وہ ہوتا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہو، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں کوئی خود کو پارٹی امیدوار ظاہر کرے اور ٹکٹ جمع کرائے تو جماعت کا امیدوار تصور ہوگا، آزاد امیدوار وہی ہوگا جو بیان حلفی دے گا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، سنی اتحاد میں شامل ہونے والوں نے خود کو کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی امیدوار ظاہر کیا، کاغذات بطور پی ٹی آئی امیدوار منظور ہوئے اور لوگ منتخب ہوگئے، الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟ انتخابی نشان ایک ہو یا نہ ہو وہ الگ بحث ہے لیکن امیدوار پارٹی کے ہی تصور ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل سے میں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس حساب سے تو سنی اتحاد میں پی ٹی آئی کے کامیاب لوگ شامل ہوئے،پارٹی میں تو صرف آزاد امیدوار ہی شامل ہو سکتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کس بنیاد پر امیدواروں کو آزاد قرار دیا تھا؟الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو خود آزاد تسلیم کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا اس سارے تنازع کی وجہ بنا، سپریم کورٹ نے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، انتخابی نشان کا مسئلہ خود الیکشن کمیشن کا اپنا کھڑا کیا ہوا تھا،الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو آزاد قرار دیکر اپنے کھڑے کیے گئے مسئلے کا حل نکالا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے پر سیاسی جماعت کو نشان نہیں ملا،کیا کسی امیدوار نے بلے کے نشان کیلئے رجوع کیا تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو درخواست دی گئی مسترد ہونے پر آرڈر چیلنج بھی کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابی نشان صرف سیاسی جماعت کی سہولت کیلئے ہے، انتخابی نشان کے بغیر بھی سیاسی جماعت بطور پارٹی الیکشن لڑ سکتی ہے،

    جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا، قانونی غلطیوں کی پوری سیریز ہے جس کا آغاز یہاں سے ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے خود کو پی ٹی آئی امیدوار قرار دینے کیلئے رجوع کیا تھا، الیکشن کمیشن نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست مسترد کر دی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہر امیدوار اگر بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی امیدوار ہوتا تو یہ سپریم کورٹ فیصلے کی خلاف ورزی ہوتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جو انتخابی نشان سیاسی جماعت کیلئے مختص ہو وہ کسی اور امیدوار کو نہیں مل سکتا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بلے باز بھی کسی سیاسی جماعت کا نشان تھا جو پی ٹی آئی لینا چاہتی تھی،بلے باز والی جماعت کیساتھ کیا ہوا تھا؟ وکیل نے کہا کہ بلے باز والی جماعت کیساتھ انضمام ختم کر دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے میں لکھا ہے کہ بلے کا نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہوسکتا؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں ایسا کچھ نہیں لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو ایسا کہنے کی ضرورت تھی؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ نشان کسی اور کو نہیں مل سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس انتخابی نشان کا نہیں انٹرا پارٹی انتخابات کا تھا، عدالت نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر کہا تھا کوئی ایشو ہوا تو رجوع کر سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہت مضبوط توجیہات ہیش کی جا رہی ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے کے بعد بلے کے نشان کو ختم کیا گیا تھا یا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جسٹس منیب کے مطابق بلے کے نشان ختم ہونے کے باجود امیدواروں نے پی ٹی آئی امیدواروں کے طور پر الیکشن لڑا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سر یہ ہی ہم کرنا چاہتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے ختم کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کرنا چاہتے تھے کیا مطلب، ؟ وکیل نے کہا کہ میں سنی اتحاد کونسل کے ہر ممبر کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل اختلاف آسکتا ہے وہ کہیں ہمارے ممبرز ہیں یہ کہیں ہمارے،

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحادکونسل نے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، الیکشن کمیشن نے درخواست مستردکرتے ہوئےکہا سنی اتحاد کونسل نےانتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اس میں کوئی تنازع نہیں کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات نہیں لڑے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تنازع کی بات کیوں کررہے ہیں، بس کہیں الیکشن نہیں لڑا،جو امیدوار ہمارےسامنے نہیں جن کی آپ نمائندگی کررہے ہیں وہ تو سب تحریک انصاف کے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار تو آپ کو چھوڑ رہے ہیں، آپ کی پارٹی میں نہیں آرہے، تحریک انصاف کے امیدوارتوپھرآزاد نہ ہوئے۔

    ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،چیف جسٹس
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑسکتے تھے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے امیدواروں کوکس بنیاد پرانتخابی نشان دیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابی نشان دیا اور بطور آزاد امیدوار شناخت دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتے سارے مسئلے حل ہو جاتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل اسٹیک ہولڈر ووٹر ہے جو ہمارے سامنے نہیں، پی ٹی آئی مسلسل شکایت کر رہی تھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں مل رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ شکایت ہمارے سامنے نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں، ہمیں دیکھنا ہے ووٹرز کے حقوق کا تحفظ کیسے ہو سکتا تھا، ایک جماعت مسلسل شفاف موقع نہ ملنے کا کہہ رہی تھی اور یہ پہلی بار نہیں تھا،

    دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایوان کو نشستوں کی مقرر کردہ تعداد سے کم رکھا جا سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایوان کی مختص تمام نشستیں پوری ہونا لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ
    متناسب نمائندگی کے نام پر ڈراماٹائز کرنے کی ضرورت نہیں،مخصوص نشستوں پر تو پارٹی سربراہ کی صوابدید ہے چاہے دوستوں کو نواز دے،مخصوص نشستوں میں ووٹرز کا کوئی کردار نہیں ہوتا یہ پارٹی سربراہ مقرر کرتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق لسٹ سیاسی جماعت نے دینی ہوتی سربراہ نے نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا حوالہ دیا اور کہا کہ بظاہر پی ٹی آئی امیدواروں نے پارٹی تبدیل کی، پارٹی تبدیل کرنے پر آرٹیکل 63 اے والا فیصلہ موجود ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی سے متعلق ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دلائل آگے بڑھائیں ورنہ آپس میں ہی تنقید ہوتی رہے گی،

    عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی انتخابات ہوتے تو فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کا ہوتا،جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پوری جمہوریت کی بات کریں، عوام کو جماعت میں شامل کرتے ہیں تو ارکان کا حق ہے کہ وہ الیکشن لڑیں،عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،آپ نے اس بات کو چھیڑا ہے تو پوری بات کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس کیس پر نظرثانی زیرالتواء ہے کیا سب کچھ یہاں ہی کہنا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم سب سچ بولنا شروع کریں تو سچ بہت کڑوا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں حاصل کی گئی سیٹوں پر ملتی ہیں ووٹوں پر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی میں شمولیت کیلئے جماعت کا اسمبلی میں ہونا لازمی نہیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسمبلی میں حاصل کی گئی سیٹوں پر الاٹ ہوتی ہیں، قانون میں نشستیں حاصل کرنے کا ذکر ہے جیتنے کا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایوان میں زیادہ آزاد امیدوار ہوں اور دو سیاسی جماعتیں ہوں تو کیا ہو گا؟ کیا ساری مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں کو جائیں گی؟ یاان جماعتوں کو صرف اپنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی؟پہلے اس تنازعے کو حل کریں اس کا کیا جواب ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حقیقی آزاد امیدوار ہوں تو ان کے تو مزے ہو جائیں گے، حقیقی آزاد امیدواروں کو تو دیگر سیاسی جماعتیں لے لیتی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر یہ 77 لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے پھر مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا؟

    کیس کی سماعت 24جون کو ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 24اور 25کو پورے دو دن کیس کی سماعت کرینگے، ان دو دنوں میں کوئی اور کیسز نہ لگائے جائیں،

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل