Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    سپریم کورٹ،انتخابی نشان بلے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست ہوئی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چئیرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر روسٹرم پر آگئے اور بیرسٹر گوہر علی خان نےکہا کہ انتخابی نشان بلے کی درخواست واپس لیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں درخواست گزار کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں، حامد خان نے عدالت میں کہا کہ ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کھڑےنہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟ حامد خان نے کہا نہیں میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی آکریہ دعویٰ کر دے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں لی تھی توپھر؟ علی ظفرکہاں ہیں، انہیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟ حامد خان نے کہا نہیں، علی ظفر کو اعتراض نہیں، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہیں.سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے کسی وکیل نے درخواست واپس لینے پراعتراض نہیں کیا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا آج فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی امیدوار پارٹی ٹکٹ لے سکیں گے، تاخیر ہوئی تو چاہے فیصلہ ان کے حق میں ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا فیصلے میں تاخیر سے تحریک انصاف انتخابی نشان سے محروم ہو جائے گی، آج ہماری سپریم کورٹ میں درخواست لگی ہوئی تھی لیکن ہمارا مرکزی کیس پشاور ہائیکورٹ میں بھی لگا ہوا ہے آج 11 بجے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ سے آرڈر آجائے گا، اس لیے ہم نے سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی بارے فیصلہ آیا تو جاتی امراء میں قائد ن لیگ کو مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلے سے متعلق بتایا گیا،مریم نواز نے نواز شریف کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا، نواز شریف نے عدالت سے نااہلی ختم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ مجھے نااہل کرکے پاکستان کی ترقی کا سفر روکا گیا تھا،پاکستان کو آگے لیجانے کے لیےماضی کی غلطیاں درست کرنا ہوں گی،

    اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔شہباز شریف
    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ من پسند تشریح کے ذریعے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے اپنے بھائی اور قائد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائد نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے پختہ عزم کی راہ میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ انشاء اللہ ہم سب مل کر بھرپور انداز میں نواز شریف کی انتخابی مہم چلائیں گے اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔

    خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہا،بلاول
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہوئےتو5 سال کیلئےہوں گے،ہمیں سیاسی انتقام کی روایت نہیں ڈالنی چاہی،آنےوالی حکومت کا مقصدمخالف کوجیل میں ڈالنا ہو گا توملک نہیں چلےگا،آج نوازشریف کا فائدہ ہےتوکل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ہوگا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کوجمہوری طریقے سےختم کیاگیا،ہمارےدور میں ایک سیاسی قیدی بھی نہیں تھا،ہر کوئی سمجھتا ہےیہ لاڈلہ ہو مگر یہ چیزیں وقتی ہوتی ہیں ،اسٹیبلشمنٹ نےبھی کہاہے ہم مداخلت نہیں کریں گے ،وکلا بتائیں گےنوازشریف اہل ہیں یا نہیں،علم ہے نواز شریف کواندازہ ہےوہ چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نوازشریف وزیراعظم بنیں گے توایک مسکراہٹ تو کردیتے،خواہش تھی آئندہ الیکشن ماضی کےانتخابات سے بہتر ہوتے مگرہم ناکام رہے،2013کےالیکشن میں کاغذات نامزدگی زیادہ ترمسترد ہوئےتھے،اس مرتبہ الیکشن سے پہلے جو ہو رہا ہے ماضی میں نہیں ہوتا رہا،حیران ہوں مسلم لیگ ن نےابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کی،نوازشریف کی واپسی پرجلسہ ہوئےتین ماہ ہوگئےہیں،ن لیگ والےعوام کےپاس جاتےاوراپنی کارکردگی بتاتے،خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہاسینیٹ میں ن لیگ کے پاس قیادت ہے، انتخابات ملتوی کی قرارداد کیسے آئی، ہاؤس آف دی لیڈر کی مرضی کے بغیر قرارداد کیسے پیش کی جا سکتی ہے، سمجھتا ہوں بی بی کی شہادت کے وقت بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونا چاہیئے تھا، بی بی کی شہادت کے وقت ہمیں اعتماد میں لے کر انتخابات ملتوی کیے گئے،پیپلز پارٹی اپنے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے،پی ڈی ایم میں شاید سب جماعتوں کی ایسی نیت نہیں تھی،ہم نے خارجہ سطح پر پاکستان کے مسائل کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، خارجہ سطح پر ہم مسائل کم کرنے میں کامیاب رہے،پی ڈی ایم حکومت میں معاشی مسائل کم نہیں ہوئے، پی ڈی ایم جیسی نئی حکومت ہی بنانی ہے تو ہم اس میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہمارے پاس ملک بھر میں نمائندگی ہے،امیدوار بھی کامیاب ہوں گے، آصف زرداری کی جو نیت تھی اس کے مطابق اتحاد کامیاب نہیں رہا،کوئی بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے، اس میں غلط کیا ہے،نواز شریف کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کیخلاف تاثر دیا گیا اس کا اثر تو ہوتا ہے

    سپریم کورٹ کا فیصلہ درست،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران کو بھی ہو گا، اعتزاز احسن
    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ممتاز قانوندان اعتزاز احسن نے ردعمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ بالکل درست ہے ،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران خان کو بھی ہوگا،پارٹی کو تحلیل کرنے کا حق سپریم کورٹ کے پاس ہے الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ، بانی پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں،بلے کے نشان کے بغیر انتخابات کالعدم ہوں گے ،بلے کے نشان کا کیس پی ٹی آئی کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، پارٹی کا نشان واپس لینے سے لوگوں کے ووٹ کا حق چھینا گیا ،جن سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا انہیں ڈی سیٹ کرناچاہیے، عمران خان نے جو آرٹیکل لکھا ہے وہ عمران خان ہی جانے اور اکانومسٹ والے جانیں،جب تک آپ کا بنیادی کنسیپٹ سارے معاملے کا درست نہ ہو، پہلی اینٹ ٹیڑھی لگا دی تو عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی ہم 75 سال سے الیکشن لڑ رہے ہیں، سو سال سے ووٹ ڈال رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشان ووٹر کے لئے ضروری ہے.

    تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہے، اس فیصلے نے تاحیات نااہلی کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،الحمدللہ آج قائد نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی من چاہی تشریح کی گئی،پاکستان اور عوام کو مہنگائی، معاشی تباہی اور بین الاقوامی رسوائی کی دلدل میں دھکیلا گیا،ایک لاڈلے کو "صادق اور امین” کا جعلی سرٹیفکیٹ دینے کےلئے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی سازش کی گئی،آج کا فیصلہ ثاقب نثار نے جن اختیارات کو استعمال کیا ان کے خلاف ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلوں اور ریکارڈ کو ٹھیک کرنا اچھا اقدام ہے، پارلیمان نے قانون پاس کیا جس کے مطابق نااہلہ 5 سال سے زیادہ نہیں.

    صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےسپریم کورٹ کے فیصلے پرردعمل دیا ہے،عبدالعلیم خان نے میاں نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کو مبارکباد دی اور کہا کہ بحیثیت پارٹی صدر جہانگیر خان ترین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی اس فقیدالمثال فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے،آئی پی پی کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی فتح سب کو مبارک ہو، سیاسی رہنماؤں پر بطور امیدوار نااہلی کی قدغن لگانا غیر جمہوری عمل تھا، سیاسی نمائندوں کا پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچنا ان کا بنیادی جمہوری حق ہے، جہانگیر خان ترین عوام کے قائد ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ 184 تھری اور ہائی کورٹ 199 کے تحت آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلیئریشن نہیں دے سکتیں، قانون میں نہیں درج کہ کون سی عدالت آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،صحافی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ الیکشن ٹریبونلز اب کس قانون پر انحصار کریں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے منصور عثمان اعوان نے کہا کہ یہ تو کورٹ کو دیکھنا ہے ان کےسامنے اگر 62 ون ایف کی اپیلیں کون سی ہیں،

    نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے پر ن لیگی کارکنان کا جشن
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی، نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے پر مسلم لیگ ن کے متوالوں نے جشن منایا،مسلم لیگ ن کے رہنما میاں عمران جاوید، بی بی وڈیری اور رانا راشد منہاس کی جانب سے مٹھائی تقسیم کی گئی ،میاں عمران جاوید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےتاریخی فیصلے کےبعدمیاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش دم توڑ گئی ،آئندہ عام انتخابات میں 8 فروری کو عوام بھی نواز شریف کے حق میں اپنا فیصلہ سنائے گی، تمام لیگی کارکنوں کی جانب سے اپنے قائد نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے 6 اور 1 کے تناسب سے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں تاحیات نااہلی ختم کردی، عدالت عظمیٰ کے بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا تحریری مختصر حکمنامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل باسٹھ ون ایف خود سے نفاذ نہیں ہوتا،باسٹھ ون ایف کے کوئی قانون وضاحت نہیں کرتا ،فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ شامل ہے،کسی بھی رکن اسمبلی کی ناہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہنے تک رہے گی،فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

     نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    اسلام آباد: عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی رپورٹ جمع کرواٸی ہے، اس رپورٹ میں کوئی خامیاں ہیں تو عدالت کو بتائیں۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پڑھی ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ رپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہےرپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ یہاں کھڑے ہو کر الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو مسترد نہیں کرسکتے، لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس کو کہا کہ میں آپ کی توجہ آپ کے ہی آرڈر کی طرف دلانا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنے آرڈر کا پتا ہے آپ کیوں توجہ دلا رہے ہیں؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل پی ٹی آئی کو کہا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے 1195 لوگوں نے کاغذات جمع کروائے، ہمارے سامنے چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس ہیں۔

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ آپ ان رپورٹس کو جھٹلا رہے ہیں تو جواب میں تحریری طور پر کچھ لانا ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی فرنٹ لائن امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور نہیں ہوئے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ اپنے جواب میں خود کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونلز نے آپ کو ریلیف دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کیا یہ چاہتی ہے کہ 100 فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہوجائیں؟ جو چاہتے ہیں وہ بتا دیں یہ قانون کی عدالت ہے زبانی تقریر سے نہیں چل سکتی۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ مجھے لگ رہا ہے آپ انتخابات کا التوا چاہتے ہیں، ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تا کہ کر دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نا روئیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب،اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں-

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کی شرح 76.18 فیصد ہے، آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونل نے آپ کے امیدواروں کی اپیلیں بھی منظور کی ہیں، رپورٹ کے مطابق تو زیادہ تر کاغذات نامزدگی منظور ہی ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے اس پر لطیف کھوسہ کو کہا کہ پھر آپ چاہتے کیا ہیں؟ پھر کہہ دیں کہ آپ کے سو فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہونے چاہیے، یہ کورٹ آف لا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کا خط دیکھیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا الیکشن سیل ہے تو آپ کے پاس امیدواروں کے اعداد وشمارکیوں نہیں؟
    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تاکہ کردیں، جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نہ سنائیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟ یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب، اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ اور طرف چلے گئے ہیں، آپ نے جس آرڈر کے خلاف درخواست دائر کی ہے اس پر رپورٹ آگئی ہے، ہم خود آج سارا کچھ لائیو دکھا رہے ہیں، رپورٹ اتنی موٹی آگئی ہے اس میں دکھائیں کیا غلط ہے، چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ لفاظی نہ کریں حقائق بتائیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یا تو آپ کہہ دیں کہ ہم الیکشن کمیشن کے سارے اختیارات اپنے پاس رکھ لیں ؟ یا پھر آئینی ادارے کو ختم کر دیں؟عدالت آپکے صرف اصل تحفظات سنے گی، آپ نے کیا منشی منشی لگا رکھی ہے؟ چسپریم کورٹ میں منشی کا کوئی رول نہیں، سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے، یہ منشی لوگ جو چیمبر میں گھس رہے ہیں بالکل غلط کام ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے-

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے کاغذات بھی مسترد ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آر اوز کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی کے کاغذات مسترد نہ کریں، کوئی جینوئن چیزبتا دیں جسے ہم دیکھ لیتے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ دفعہ 144 لگا کر ہمارے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت نہیں سپریم کورٹ ہیں، دفعہ 144 اور ایم پی او سب کیلئے ہوگا صرف پی ٹی آئی کیلئے نہیں، ہمارے سامنے نہ دفعہ 144 نہ ہی ایم پی او کو چیلنج کیا گیا ہے،مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں‘، اور ان سے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی کو الیکشن چاہئیں؟

    جس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا، ’100 فیصد الیکشن چاہیں‘، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہاں یا نہ میں بتائیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کروانا ہے، یہ آپ کے بنائے ہوئے ادارے ہی ہیں، پارلیمان نے ہی بنائیں ہیں یہ ادارے، ان اداروں کی قدر کریں، اگر ان کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق غلط ہیں توتردید کریں۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور جماعت کے رہنما پر ایم پی او نہیں لگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق پیپلز پارٹی، ن لیگ سمیت سب جماعتیں آپ کے خلاف سازش کر رہی ہیں؟

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پوری حکومت ہمارے خلاف تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو پی ڈی ایم کی حکومت ہی نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری بلے کے نشان کی واپسی کیلئے درخواست مقرر ہی نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کا ایم پی او سے کیا تعلق ہے؟ الیکشن کمیشن مقدمات بھگتے یا انتخابات کرائے؟، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر جو کہ ڈی سی ہیں وہی ایم پی او جاری کر رہے ہیں، روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہورہے ہیں، کیا ہم انتخابات نہ لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نہ کریں، اس کے بعد چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کی بلے کے نشان والی درخواست کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت سے سوال کیا کہ روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہو رہے ہیں کیا ہم انتخابات نا لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نا کریں-

    سپریم کورٹ نے بلے کے نشان کیس میں حامد خان کو بلا لیا،دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ استدعا ہے کہ آج ہی کیس سماعت کے لیے مقرر کر کے سنا جائے،کل پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہے بلے کے نشان سے متعلق، آج کسی بھی وقت کیس کو سماعت کر کے سن لیں-

    چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ حامد خان کہاں ہیں؟ بلائیں ان کو، اگر آپ اٹھ کر کمرہ عدالت آنے کی زحمت نہیں کریں گے تو ہم کیا کریں؟ سب سے زیادہ درخواستیں پی ٹی آئی کی آ رہی ہیں اور سنی بھی جا رہی ہیں، کیس بھی لگوانا ہے اور اٹھ کر عدالت بھی نہیں آنا-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے منشی سے سپریم کورٹ میں دستاویزات چھینی گئیں،اس واقعہ کا آپکو بھی علم ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اس واقعہ کا کوئی علم نہیں ہے،یہ منشی کیا ہوتا ہے وکیل یا ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے،منشی کو تو چیمبرز جانے کی اجازت ہی نہیں ہے،آپ کے کسی منشی کی درخواست میں نہیں سنوں گا-

    جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کے سامنے بھی منشی والا معاملہ اٹھایا تھا،لطیف کھوسہ یہ کاغذ چھیننے کا کیا معاملہ ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ججز یہاں موجود نہیں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں سنیں گے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمارا نہیں ، کسی سے کاغذات چھینے جارہے جو بھی ہورہا وہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا ہے ہم نے واضح کیا تھا کہ انتحابات کی تاریخ صدر اور الیکشن کمیشن کا کام ہے،الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق معاملات عدالت کیوں سنے،ہمارے سامنے کچھ دائر ہوگا تو ہم اسے دیکھیں گے،اگر ساری دنیا دیکھ رہی اور ہمیں بھی دیکھنا چاہئیے تو یہ بات غلط ہے،کوئی درخواست آئے گی شکایت آئے گی تو ہم سنیں گے-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کا پلان ہے عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی باتیں نہ کریں ہمارے سامنے اس وقت عمران خان کی کوئی درخواست نہیں-

    پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت پہنچ گئے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پیر تک ملتوی کر تے ہوئے پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا-

  • بلا بحالی  کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

    بلا بحالی کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے کے واپسی کا معاملہ، سپریم کورٹ کا بلے کے نشان کے کیس کو 10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر بلایا اور حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی درخواست کل مقرر کر دیں؟ –

    وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر دیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج نو ممبر بنچ بھی ہے اور ایک خصوصی بنچ بھی ہے، حامد خان نے کہا کہ ہماری ترجیح آج ہے نہیں تو پھر پرسوں لگا دیں ، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ فیصلے کے خلاف آئے یا 184 تھری کی درخواست ہے؟ حامد خان نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف 185 تھری میں سپریم کورٹ آئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بس پھر معاملہ ججز کمیٹی کے پاس نہیں جانا تو پرسوں کیس مقرر ہو گیا-

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی وکلا نے سپریم کورٹ رجسٹرار سے بلے کے نشان کی بحالی کے لیے آج ہی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وکلا نے بلے کے نشان کی بحالی کے لیے دائر درخواست کے حوالے سے سپریم کورٹ رجسٹرار سے ملاقات کی ہے جس میں آج ہی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے،سپریم کورٹ رجسٹرار آفس درخواست کو پہلے ہی C.P7/2024 نمبر لگا چکا ہے،پی ٹی آئی وکلا میں بیرسٹر گوہر اورحامد خان شامل ہیں، جنہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کہا کہ یہ اہم نوعیت کا مقدمہ ہے، اس فوری طور پر سماعت کی جائے۔

    پاک اور سعودیہ نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ،ایک ٹینک تباہ،متعدد ہلاکتیں

  • سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتہ نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی

    سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتہ نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاپتا افراد کیس سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا –

    باغی ٹی وی : حکمنامہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، تحریری حکمنامے میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتا نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی، تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت تحریری یقین دہانی جمع کرائے کسی کو لاپتا نہیں کیا جائے گا، کسی بھی شہری کو قانون کے برعکس نہیں اٹھایا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بلوچ مظاہرین کے پرامن احتجاج پر پولیس کو ناروا سلوک سے روک دیا اور تحریری حکم نامے میں کہا کہ پُرامن احتجاج سب کا حق ہے، کسی بھی شہری کو قانون کے برعکس گرفتار نہیں کیا جائے،عدالت پر امن مظاہرین پر کسی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دیتی،نوٹس میں لایا گیا کہ عدالتی چھٹیوں میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا۔

    بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے ایک روز قبل فساد ،کئی پولنگ بوتھ اور ٹرین …

    پاکستان سُپر لیگ 9 کا شیڈول جاری

    اداکاراؤں کو جسم دکھانے والے لباس نہیں پہننے چاہئیں،اداکار بلال

  • بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جلد سماعت کے لیے ایک اور درخواست دائر کردی

    بیرسٹر گوہر علی اور نیاز اللہ نیازی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،درخواست میں سپریم کورٹ سے سوموار کو کیس کی سماعت کرنے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ دن بہت کم ہیں، انتخابی نشان سے متعلق جلد فیصلہ کیا جائے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 8 جنوری بروز پیر شام کو ٹکٹ کا اعلان کرے گی،بانی چیئرمین عمران خان سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مشاورت مکمل ہوگئی ہے،الیکشن کا ہر صورت انعقاد ہونا چاہئے،14 سینیٹرز کی موجودگی میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ انتخابات کا 8 فروری کو انعقاد پتھر پر لکیر ہے، بلے پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہو گا، منظور ہو گا.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے

    انتخابی نشان اور اڈیالا کا مہمان دونوں ملکی سیاست سے آوٹ 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • عام انتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    عام انتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    عام انتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش کر دی گئی

    بروقت انتخابات کی قرارداد جماعت اسلامی کے سینٹر مشتاق احمد نے جمع کرائی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ انتخابات کا انعقاد دستوری تقاضہ ہے، دستور کے مطابق انتخابات مقررہ وقت پر کرائے جائیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آچکا ہے کہ انتخابات 8فروری کو ہوں گے،امن وامان اور خراب موسم کی صورتحال کو بنیاد بنا کرنا انتخابات کےالتواء کی قراردا غیردستوری اور غیر جمہوری ہے،سینیٹ آف پاکستان کو ماورائے آئین کسی اقدام کاکوئی اختیار نہیں،سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں 8فروری کو صاف وشفاف انتخابات کرائے جائیں،تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دیاجائے، انتخابات کے التواء سے متعلق پاس کردہ قرارداد کو کالعدم قرار دیاجائے،

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن پتھر پر لکیر سمجھیں،امید ہے الیکشن آٹھ فروری کو ہی ہوں گے،سینٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کے حوالے سے پاس ہونے والی قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ،سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ،پاکستان پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    تحریری جواب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں جمع کروایا،تحریری جواب میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تفصیلات شامل ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی یو ایس بی اور سی ڈی بھی جمع کروا دی گئی ،تحریری جواب میں انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروائی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ 8 جنوری کو ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کرے گا,9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

  • براہ راست  سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    براہ راست سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس بنا تو پتہ چلا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا چیئرمین بھی ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بورڈ کے اراکین میں تمام اہم شخصیات شامل ہیں،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی مضبوط بورڈ کے تحت کام کررہی ہے،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، اکیڈمی میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات ہیں، جوڈیشل اکیڈمی مختلف علاقوں ، صوبوں سے آئے ججز کو اکٹھے کرنے کا ذریعہ ہے،ہم نے اپنے کورٹ اسٹاف کو پہلے کبھی اہمیت نہیں دی،یہ پہلی بار ہے کہ کورٹ اسٹاف کو بھی جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت دینگے،اکیڈمی میں مختلف مراحل کے تحت تربیت فراہم کی جارہی ہے،جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنی تعیناتی کے بعد اکیڈمی میں بنیادی تبدیلیاں کیں ، ملک بھر میں 3200 ججز اہم فرائض انجام دے رہے ہیں،ججز اکیڈمی آکر اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں،ہائیکورٹس کے چیف جسٹس بھی اکیڈمیز میں عملہ کی تربیت کا اہتمام کریں،اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر اطمینان محسوس کررہا ہوں،سول ججز تربیت یافتہ ہونگے تو اعلیٰ عدلیہ پر کیسز کا دباؤ کم ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں پہلا چیف جسٹس ہوں جس نے کیسز کی لائیو کوریج کو مُتعارف کروایا۔ بطور چیف جسٹس پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کو براہ راست نشر کیا،سماعت براہ راست سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا،یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا،ٹیکنالوجی قلم کی طرح اہم ذریعہ ہے،یہ علم کے لیے اہم ذریعہ ہے،قانون کے طالبعلم براہ راست کیسز کی سماعت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،عام لوگوں میں یہ اعتماد بحال کروانا ضروری ہے کہ انصاف ہو رہا ہے ،انصاف کا بہتر نظام مقدمات کا دباؤ کم کرے گا،براہ راست نشریات کی کچھ ڈاون سائیڈز بھی ہیں، گھر جاتا ہوں تو بیگم کہتی ہیں آپ ٹھیک سے نہیں بیٹھے تھے،انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے میں یہ جملہ روز اپنے ذہن میں رکھتے عدالت آتا ہوں،بطور وکیل اپنے خلاف فیصلے آنے پر کبھی برا نہیں منایا تھا،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    قاضی کا کھڑاک،الیکشن 8 فروری کو،عدت میں بدعت،جنرل فیض حاضر ہو

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا،بابر اعوان

    پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا،بابر اعوان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے لوگوں سے کبھی اپنے ادارے اسطرح خوفزدہ ہوئے ہیں ،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف چارج شیٹ آئی ہے،پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا، امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے،جو آج کوکا ڈھونڈنے گیا ہے پہلا دوائی ڈھونڈنے گیا ہوا تھا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینی چاہیے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے نام تصویر اس کے امیدواران پر پابندی لگا دی گئی ہے،ہماری خواتین کو الیکشن نہیں لڑنے دیا جارہا، پانچ فیصد خواتین کو نمائندگی دینا ہر جماعت کا حق ہے، یہ دھاندلی نہیں میگا دھاندلہ ہورہا ہے،سپریم کورٹ سے ہمیں امید ہے کہ ہمارا انتخابی نشان بلا واپس دلائے گی،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن تو سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف فریق بن چکا ہے، اب یہ تحریک انصاف نہیں بلکہ تحریک پاکستان ہے ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی مجھے کہیں گے تو میں الیکشن لڑوں گا، ٹکٹوں کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کررہے ہیں، ٹکٹوں کے حوالے سے تحریک انصاف کا ہوم ورک تقریبا مکمل ہو چکا ہے،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    انتخابی نشان بلے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    تحریک انصاف کی قیادت میں ایک بار پھر لڑائی، وکلا تقسیم ہو گئے