Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • فیض آباد دھرنا کمیشن، خواجہ آصف نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن، خواجہ آصف نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے

    خواجہ آصف نے پیشی کے دوران فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے سوالات کے جواب دیئے، پیشی کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ "آج فیض آباد دھرنا کمیشن میں پیش ہوا، بیان نامکمل رہا انشاءاللہ جلد مکمل ہو جاۓ گا۔۔ میری ناچیز ر اۓ ہے کہ کمیشن کی کاروائی اوپن ہو میڈیا کوریج ہو۔ عوام کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ملک کے ساتھ 75سال کیا کھلواڑ ہواھے۔ وطن عزیز میں جتنے کمیشن بنے انکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انکے نتائج بھی عوام کے سامنے نہیں آۓ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کا سامنا کریں اور کفارہ ادا کریں”

    واضح ہے کہ کمیشن نےسابق وزیراعظم شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے طلب کر رکھا ہے، انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 جنوری کوسپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے

    لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید نے بھی فیض آباد دھرنا کمیشن کو بیان رکارڈ کرادیا ہے،فیض حمید نے کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض حمید نے جواب میں کہا حکومت کی ہدایت پر تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کیے ،فیض حمید نے حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے، فیض حمید کے لئے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا تھا، فیض حمید نے تمام سوالوں کے جواب جمع کروا دیئے ہیں، فیض حمید نے حکومت کیخلاف سازش کے الزام کا انکار کیا اور کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذاکرات حکومت کے کہنے پر کئے تھے، اسوقت شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، احسن اقبال وزیر داخلہ تھے، کابینہ اجلاس میں مشترکہ ہدایت کے بعد دھرنے والوں سے فیض حمید نے مذاکرات کئے تھے

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

  • بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں،کیس کی سماعت کل صبح ہو گی

    قبل ازیں الیکشن کمیشن کی بلے کے نشان کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کر دیا تھا سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اپیل واپس کر دی تھی،،رجسٹرار آفس نے اپیل کیساتھ منسلک دستاویزات پڑھے جانے کے قابل ہونے کا اعتراض عائد کیا،

    تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے کی بحالی کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی، تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا، الیکشن کمیشن کا یہ اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے،توہینِ عدالت کی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر، سیکریٹری اور اراکینِ الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں ،بلے کا انتخابی نشان، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا تھاالیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا ،اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبران اورسپیشل سیکرٹر نے شرکت کی

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی پارٹی انتخابات اور بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہو گیا، فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے،الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی بلے انتخابی نشان کی حقدار ہے،

    تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ تحریک انصاف کی لیگل ٹیم نے پشاور ہائیکورٹ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی درخواست نمٹا دی گئی

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات میں تاخیر کا معاملہ ،تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سید ظفر علی شاہ کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ 8 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے بعد موجودہ درخواست غیر موثر ہوچکی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو انتخابات کی تاریخ آچکی ہے ہم کیسے آپکی درخواست سنیں،انتخابات سے متعلق تمام مقدمات ترجیجی بنیادوں پر سن رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ظفر علی شاہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ انتخابات نہیں چاہتے،ظفر علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ میں انتخابات چاہتا ہوں مگر جو لوگ تاخیر کے ذمہ دار ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،میں نے 22 مارچ 2023 کا انتخابات نہ کرانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا،پنجاب اور کے پی میں انتخابات نہ کرانے والوں کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی کیخلاف کاروائی کی درخواست ہی نہیں تو کیسے حکم دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست وقت پر مقرر نہ ہونے کا ذمہ دار ادارہ ہوسکتا ہے میں نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو مختصر حکمنامہ سنایا تھا، مختصر حکم نامے میں سپریم کورٹ نے سویلین کا فوجی عدالتوں ٹرائل روکتے ہوئے ان کے مقدمات عام عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا،پانچ رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کر رہے تھے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی بنچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 125 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلہ بنچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941 کے ایک جملے سے کی ، لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہورزمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے، برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے، تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا ایک سیکشن 1967 میں اس وقت شامل ہوا جب ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، ایف بی علی کیس میں جب سزائیں دی گئیں اس وقت ملک میں عبوری آئین تھا، 9 اور 10 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، شہدا کے مجسموں کو نقصان پہنچا گیا، کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا، اعلیٰ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملوث ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا، سب کی ایک ہی متحد آواز تھی کہ ایسے واقعات پر قانون حرکت میں آنا چاہیے ، اس کے بعد مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہونا شروع ہوئیں، فوجی حکام نے متعلقہ دہشت گردی کی عدالتوں سے رجوع کر متعلقہ ملزمان کی حوالگی مانگی، نتیجے میں 103 ملزمان کو فوجی عدالتوں کی حراست میں دیا گیا،

    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اہم وضاحت کر دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات کے تحت ایسے سزا یافتہ افراد جو تمام اپیلوں کا حق استعمال کر چکے ان کے کیسز پر اثر نہیں پڑے گا،

    13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینےکا فیصلہ معطل کیا تھا

    9 مئی،ملزمان کیخلاف فوجداری قوانین کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے،جسٹس یحییٰ آفریدی
    سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی ایکٹ کی شقوں کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا 20 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا،اختلافی نوٹ میں کہا کہ تقریباً 50 برس قبل ایف بی علی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 5 ججز نے دیا،یہ عدالت اصول طے کر چکی ہے کہ ایک بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے عدالتی بینچز تبدیل نہیں کرسکتے ،5 ججوں کا عدالتی فیصلہ 5 جج ختم نہیں کرسکتے، میری دانست میں 21ویں آئینی ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد اس کیس کو 9 رکنی بینچ سنتا تو مناسب ہوتا،سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ پر ایف بی علی کیس کا اطلاق ہوتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ میں آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی ٹو کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ انکا عمل کسی بیرون ملک کی ایماء پر سازش کے تحت تھا، ایف بی علی کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا کہ سیکشن 2(1) ڈی ٹو دفاع پاکستان سے متعلقہ ہے، 9 اور 10 مئی میں ملوث ملزمان کے خلاف فوجداری قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے کہ کس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ملوث ملزمان نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایسا کیا،9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 2892 مرد و خواتین گرفتار ہوئے،103 مرد ملزمان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا،اس کیس کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کو سننا چاہئے تھا،

    آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک
    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا معاملہ، جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ سامنے آ گیا، جسٹس عائشہ ملک نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کیلئے ضروری ہے وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر نہ ہو،آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، 9 مئی کے گرفتار 103 ملزمان پر آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں،آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہ ہونے کے باوجود ملزمان کو عسکری حکام کی حوالگی کی درخواستیں دی گئیں، متعلقہ مجسٹریٹ کو ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بامعانی فیصلہ دینا چاہئے تھا،اٹارنی جنرل نے ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے،جمہوریت اور آزادی کی خاطربہتر ہوتا اٹارنی جنرل ان ممالک کی مثال دیتے جہاں ایسا نہیں ہوتا،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا 9 مئی کے ملزمان عام شہری ہیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی 9 مئی کے بیشتر ملزمان بری ہو جائیں گے،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر تھی اور ان کے خلاف آج 11 جنوری کو دن 1 بجے سماعت ہونا تھی اب استعفی کے بعد کاروائی نہیں ہو سکے گی۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیر سماعت ہے جس سلسلے میں انہوں نے کونسل کو اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا جس میں کہا گیا ہےکہ میرے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں، میں نے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیئے،

    غلطی سے غلط تاریخ لکھ دی، استعفیٰ منظور کیا جائے، جسٹس مظاہر نقوی کا صدر مملکت کو مراسلہ
    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفے پر غلط تاریخ درج ہونے پر ان کے سیکرٹری نے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ بھیج دیا جس میں کہا گیا کہ تاریخ غلطی سے غلط لکھی گئی، استعفیٰ منظور کیا جائے،جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے استعفے پر تاریخ کی جگہ 2024 کی جگہ 10 جنوری 2023 لکھا تھا،تا ہم اب جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے سیکرٹری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ روانہ کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ غلطی سے 2023 لکھی گئی، استعفے پر غیردانستہ طورپر 2024 کے بجائے 2023 لکھا گیا،تاریخ 2024 تصور کرتے ہوئے استعفیٰ منظور کیا جائے

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی میں بڑی غلطی سامنے آگئی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی پر سال 2023 لکھا ہوا ہے،استعفیٰ پر تاریخ دس جنوری 2023 لکھی ہوئی ہے جبکہ تاریخ 10 جنوری 2024 لکھی ہونی چاہئے تھے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے سٹاف کا ٹائپ کردہ استعفی سائن کیا،بطور جج انہوں نے اپنے استعفی کا متن بھی نہ پڑھا بلکہ ویسے ہی دستخط کر دیئے،استعفیٰ کی کاپی صدر مملکت اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی ہے،استعفی پر تاریخ درست نہیں ہے، جہاں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے دستخط ہیں وہاں بھی تاریخ کا اندارج نہیں ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ اعتراف جرم قوم کی جیت،سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، میاں داؤد ایڈوکیٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والے وکیل میاں داؤد ایڈوکیٹ کا ردعمل سامنے آیاہے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ کرپٹ ترین جج جسٹس مظاہر نقوی کا استعفی پوری قوم اور پاکستان کے وکلاء کی جیت ہے تاہم ابھی منزل باقی ہے۔ جسٹس نقوی کا استعفی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کرپٹ جج جب رنگ ہاتھوں پکڑا جائے تو استعفی دے کر گھر چلاجائے اور عوام کے پیسوں پر پنشن لیکر عیاشی کرتا رہے،پہلی بار ہوا کہ سپریم کورٹ کے جج کا احتساب ہوا، ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی آگے بڑھی، میری شکایت کو متنازعہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن ٹھوس شواہد تھے، جسٹس مظاہر نقوی کے پاس دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا، مظاہر نقوی کا استعفیٰ ان کا اعتراف جرم ہے،ہم اس استعفیٰ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،انکی پنشن بند ہونی چاہئے، ریفرنسز چلنے چاہئے لوٹی ہوئی دولت برآمد ہونی چاہئے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ "استعفیٰ کی منظوری کافی نہیں ہو گی۔ اثاثوں کی چھان بین سیاستدان کیطرح جج صاحب اور انکی آل اولاد سب کی ہونے چاہئیے ۔ ترازو پکڑنے والے ہاتھ کا حساب آخرت میں تو اللہ کی صوابدید ہے۔ مگر دنیا میں نہیں کرینگے تو ہم سب برابر کے گناہ گار ہونگے”

    قبل ازیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ،جسٹس مظاہر نقوی نے خود پر عائد الزامات کی تردید کر دی، جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کیخلاف معلومات لے سکتی ہے کسی کی شکایت پر کارروائی نہیں کر سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں، رولز کے مطابق کونسل کو معلومات فراہم کرنے والے کا کارروائی میں کوئی کردار نہیں ہوتا،

    میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،جسٹس مظاہر نقوی
    جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطور پراسیکیوٹر تعیناتی پر بھی اعتراض کر دیا اور کہا کہ کونسل میں ایک شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل بھی ہے،اٹارنی جنرل شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں،بار کونسلز کی شکایات سیاسی اور پی ڈی ایم حکومت کی ایماء پر دائر کی گئی ہیں، پاکستان بار کی 21فروری کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،شہباز شریف سے ملاقات کے روز ہی پاکستان بار کونسل نے شکایت دائر کرنے کی قرارداد منظور کی،شوکاز کا جواب جمع کرانے سے پہلے ہی گواہان کو طلب کرنے کا حکم خلاف قانون ہے، یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مجھ سے کوئی بھی شخص باآسانی رجوع کر سکتا ہے، غلام محمود ڈوگر کیس خود اپنے سامنے مقرر کر ہی نہیں سکتا تھا یہ انتظامی معاملہ ہے، غلام محمود ڈوگر کیس میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا تھا، لاہور کینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ ہے، ایس ٹی جونز پارک میں واقع گھر کی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا، اختیارات کا ناجائز استعمال کیا نہ ہی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا،گوجرانوالہ میں خریدا گیا پلاٹ جج بننے سے پہلے کا ہے اور اثاثوں میں ظاہر ہے، زاہد رفیق نامی شخص کو کوئی ریلیف دیا نہ ہی انکے بزنس سے کوئی تعلق ہے،میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،دونوں بیٹے وکیل اور 2017 سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں،جسٹس فائز عیسی کیس میں طے شدہ اصول ہے کہ بچوں کے معاملے پر جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کر سکتی، پارک روڈ اسلام آباد کے پلاٹ کی ادائیگی اپنے سیلری اکائونٹ سے کی تھی،الائیڈ پلازہ گجرا نوالہ سے کسی صورت کوئی تعلق نہیں ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    سپریم کورٹ،انتخابی نشان بلے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست ہوئی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چئیرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر روسٹرم پر آگئے اور بیرسٹر گوہر علی خان نےکہا کہ انتخابی نشان بلے کی درخواست واپس لیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں درخواست گزار کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں، حامد خان نے عدالت میں کہا کہ ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کھڑےنہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟ حامد خان نے کہا نہیں میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی آکریہ دعویٰ کر دے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں لی تھی توپھر؟ علی ظفرکہاں ہیں، انہیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟ حامد خان نے کہا نہیں، علی ظفر کو اعتراض نہیں، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہیں.سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے کسی وکیل نے درخواست واپس لینے پراعتراض نہیں کیا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا آج فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی امیدوار پارٹی ٹکٹ لے سکیں گے، تاخیر ہوئی تو چاہے فیصلہ ان کے حق میں ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا فیصلے میں تاخیر سے تحریک انصاف انتخابی نشان سے محروم ہو جائے گی، آج ہماری سپریم کورٹ میں درخواست لگی ہوئی تھی لیکن ہمارا مرکزی کیس پشاور ہائیکورٹ میں بھی لگا ہوا ہے آج 11 بجے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ سے آرڈر آجائے گا، اس لیے ہم نے سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی بارے فیصلہ آیا تو جاتی امراء میں قائد ن لیگ کو مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلے سے متعلق بتایا گیا،مریم نواز نے نواز شریف کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا، نواز شریف نے عدالت سے نااہلی ختم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ مجھے نااہل کرکے پاکستان کی ترقی کا سفر روکا گیا تھا،پاکستان کو آگے لیجانے کے لیےماضی کی غلطیاں درست کرنا ہوں گی،

    اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔شہباز شریف
    مسلم لیگ ن کے صدر، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ من پسند تشریح کے ذریعے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔میں دل کی گہرائیوں سے اپنے بھائی اور قائد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائد نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے پختہ عزم کی راہ میں اب کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ انشاء اللہ ہم سب مل کر بھرپور انداز میں نواز شریف کی انتخابی مہم چلائیں گے اگر نواز شریف کو دوبارہ موقع ملا تو ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے شروع ہو گا۔

    خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہا،بلاول
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہوئےتو5 سال کیلئےہوں گے،ہمیں سیاسی انتقام کی روایت نہیں ڈالنی چاہی،آنےوالی حکومت کا مقصدمخالف کوجیل میں ڈالنا ہو گا توملک نہیں چلےگا،آج نوازشریف کا فائدہ ہےتوکل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ہوگا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کوجمہوری طریقے سےختم کیاگیا،ہمارےدور میں ایک سیاسی قیدی بھی نہیں تھا،ہر کوئی سمجھتا ہےیہ لاڈلہ ہو مگر یہ چیزیں وقتی ہوتی ہیں ،اسٹیبلشمنٹ نےبھی کہاہے ہم مداخلت نہیں کریں گے ،وکلا بتائیں گےنوازشریف اہل ہیں یا نہیں،علم ہے نواز شریف کواندازہ ہےوہ چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نوازشریف وزیراعظم بنیں گے توایک مسکراہٹ تو کردیتے،خواہش تھی آئندہ الیکشن ماضی کےانتخابات سے بہتر ہوتے مگرہم ناکام رہے،2013کےالیکشن میں کاغذات نامزدگی زیادہ ترمسترد ہوئےتھے،اس مرتبہ الیکشن سے پہلے جو ہو رہا ہے ماضی میں نہیں ہوتا رہا،حیران ہوں مسلم لیگ ن نےابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کی،نوازشریف کی واپسی پرجلسہ ہوئےتین ماہ ہوگئےہیں،ن لیگ والےعوام کےپاس جاتےاوراپنی کارکردگی بتاتے،خود کوچوتھی مرتبہ وزیراعظم کہنےوالا گھرسےنہیں نکل رہاسینیٹ میں ن لیگ کے پاس قیادت ہے، انتخابات ملتوی کی قرارداد کیسے آئی، ہاؤس آف دی لیڈر کی مرضی کے بغیر قرارداد کیسے پیش کی جا سکتی ہے، سمجھتا ہوں بی بی کی شہادت کے وقت بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونا چاہیئے تھا، بی بی کی شہادت کے وقت ہمیں اعتماد میں لے کر انتخابات ملتوی کیے گئے،پیپلز پارٹی اپنے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے،پی ڈی ایم میں شاید سب جماعتوں کی ایسی نیت نہیں تھی،ہم نے خارجہ سطح پر پاکستان کے مسائل کم کرنے کی بھرپور کوشش کی، خارجہ سطح پر ہم مسائل کم کرنے میں کامیاب رہے،پی ڈی ایم حکومت میں معاشی مسائل کم نہیں ہوئے، پی ڈی ایم جیسی نئی حکومت ہی بنانی ہے تو ہم اس میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہمارے پاس ملک بھر میں نمائندگی ہے،امیدوار بھی کامیاب ہوں گے، آصف زرداری کی جو نیت تھی اس کے مطابق اتحاد کامیاب نہیں رہا،کوئی بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے، اس میں غلط کیا ہے،نواز شریف کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کیخلاف تاثر دیا گیا اس کا اثر تو ہوتا ہے

    سپریم کورٹ کا فیصلہ درست،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران کو بھی ہو گا، اعتزاز احسن
    سپریم کورٹ کے فیصلے پر ممتاز قانوندان اعتزاز احسن نے ردعمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ بالکل درست ہے ،نااہلی والے فیصلے کا فائدہ عمران خان کو بھی ہوگا،پارٹی کو تحلیل کرنے کا حق سپریم کورٹ کے پاس ہے الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ، بانی پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں،بلے کے نشان کے بغیر انتخابات کالعدم ہوں گے ،بلے کے نشان کا کیس پی ٹی آئی کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، پارٹی کا نشان واپس لینے سے لوگوں کے ووٹ کا حق چھینا گیا ،جن سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا انہیں ڈی سیٹ کرناچاہیے، عمران خان نے جو آرٹیکل لکھا ہے وہ عمران خان ہی جانے اور اکانومسٹ والے جانیں،جب تک آپ کا بنیادی کنسیپٹ سارے معاملے کا درست نہ ہو، پہلی اینٹ ٹیڑھی لگا دی تو عمارت ٹیڑھی ہی جائے گی ہم 75 سال سے الیکشن لڑ رہے ہیں، سو سال سے ووٹ ڈال رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشان ووٹر کے لئے ضروری ہے.

    تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہے، اس فیصلے نے تاحیات نااہلی کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،الحمدللہ آج قائد نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے تاحیات نااہلی کی عدالتی ناانصافی کا سیاہ باب آخرکار ختم ہوا،

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی من چاہی تشریح کی گئی،پاکستان اور عوام کو مہنگائی، معاشی تباہی اور بین الاقوامی رسوائی کی دلدل میں دھکیلا گیا،ایک لاڈلے کو "صادق اور امین” کا جعلی سرٹیفکیٹ دینے کےلئے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی سازش کی گئی،آج کا فیصلہ ثاقب نثار نے جن اختیارات کو استعمال کیا ان کے خلاف ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے فیصلوں اور ریکارڈ کو ٹھیک کرنا اچھا اقدام ہے، پارلیمان نے قانون پاس کیا جس کے مطابق نااہلہ 5 سال سے زیادہ نہیں.

    صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نےسپریم کورٹ کے فیصلے پرردعمل دیا ہے،عبدالعلیم خان نے میاں نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کو مبارکباد دی اور کہا کہ بحیثیت پارٹی صدر جہانگیر خان ترین کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ،فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی اس فقیدالمثال فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے،آئی پی پی کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی فتح سب کو مبارک ہو، سیاسی رہنماؤں پر بطور امیدوار نااہلی کی قدغن لگانا غیر جمہوری عمل تھا، سیاسی نمائندوں کا پارلیمنٹ کے فلور تک پہنچنا ان کا بنیادی جمہوری حق ہے، جہانگیر خان ترین عوام کے قائد ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی قیادت بحال ہوئی ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ 184 تھری اور ہائی کورٹ 199 کے تحت آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلیئریشن نہیں دے سکتیں، قانون میں نہیں درج کہ کون سی عدالت آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلہ نہیں دیا،صحافی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ الیکشن ٹریبونلز اب کس قانون پر انحصار کریں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے منصور عثمان اعوان نے کہا کہ یہ تو کورٹ کو دیکھنا ہے ان کےسامنے اگر 62 ون ایف کی اپیلیں کون سی ہیں،

    نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے پر ن لیگی کارکنان کا جشن
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی، نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے پر مسلم لیگ ن کے متوالوں نے جشن منایا،مسلم لیگ ن کے رہنما میاں عمران جاوید، بی بی وڈیری اور رانا راشد منہاس کی جانب سے مٹھائی تقسیم کی گئی ،میاں عمران جاوید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےتاریخی فیصلے کےبعدمیاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کی گھناؤنی سازش دم توڑ گئی ،آئندہ عام انتخابات میں 8 فروری کو عوام بھی نواز شریف کے حق میں اپنا فیصلہ سنائے گی، تمام لیگی کارکنوں کی جانب سے اپنے قائد نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے 6 اور 1 کے تناسب سے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں تاحیات نااہلی ختم کردی، عدالت عظمیٰ کے بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے کیس کا فیصلہ سنادیا،سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا تحریری مختصر حکمنامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل باسٹھ ون ایف خود سے نفاذ نہیں ہوتا،باسٹھ ون ایف کے کوئی قانون وضاحت نہیں کرتا ،فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ شامل ہے،کسی بھی رکن اسمبلی کی ناہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہنے تک رہے گی،فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

     نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    اسلام آباد: عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی رپورٹ جمع کرواٸی ہے، اس رپورٹ میں کوئی خامیاں ہیں تو عدالت کو بتائیں۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پڑھی ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ رپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہےرپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ یہاں کھڑے ہو کر الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو مسترد نہیں کرسکتے، لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس کو کہا کہ میں آپ کی توجہ آپ کے ہی آرڈر کی طرف دلانا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنے آرڈر کا پتا ہے آپ کیوں توجہ دلا رہے ہیں؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل پی ٹی آئی کو کہا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے 1195 لوگوں نے کاغذات جمع کروائے، ہمارے سامنے چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس ہیں۔

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ آپ ان رپورٹس کو جھٹلا رہے ہیں تو جواب میں تحریری طور پر کچھ لانا ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی فرنٹ لائن امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور نہیں ہوئے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ اپنے جواب میں خود کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونلز نے آپ کو ریلیف دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کیا یہ چاہتی ہے کہ 100 فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہوجائیں؟ جو چاہتے ہیں وہ بتا دیں یہ قانون کی عدالت ہے زبانی تقریر سے نہیں چل سکتی۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ مجھے لگ رہا ہے آپ انتخابات کا التوا چاہتے ہیں، ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تا کہ کر دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نا روئیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب،اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں-

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کی شرح 76.18 فیصد ہے، آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونل نے آپ کے امیدواروں کی اپیلیں بھی منظور کی ہیں، رپورٹ کے مطابق تو زیادہ تر کاغذات نامزدگی منظور ہی ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے اس پر لطیف کھوسہ کو کہا کہ پھر آپ چاہتے کیا ہیں؟ پھر کہہ دیں کہ آپ کے سو فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہونے چاہیے، یہ کورٹ آف لا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کا خط دیکھیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا الیکشن سیل ہے تو آپ کے پاس امیدواروں کے اعداد وشمارکیوں نہیں؟
    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تاکہ کردیں، جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نہ سنائیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟ یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب، اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ اور طرف چلے گئے ہیں، آپ نے جس آرڈر کے خلاف درخواست دائر کی ہے اس پر رپورٹ آگئی ہے، ہم خود آج سارا کچھ لائیو دکھا رہے ہیں، رپورٹ اتنی موٹی آگئی ہے اس میں دکھائیں کیا غلط ہے، چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ لفاظی نہ کریں حقائق بتائیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یا تو آپ کہہ دیں کہ ہم الیکشن کمیشن کے سارے اختیارات اپنے پاس رکھ لیں ؟ یا پھر آئینی ادارے کو ختم کر دیں؟عدالت آپکے صرف اصل تحفظات سنے گی، آپ نے کیا منشی منشی لگا رکھی ہے؟ چسپریم کورٹ میں منشی کا کوئی رول نہیں، سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے، یہ منشی لوگ جو چیمبر میں گھس رہے ہیں بالکل غلط کام ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے-

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے کاغذات بھی مسترد ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آر اوز کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی کے کاغذات مسترد نہ کریں، کوئی جینوئن چیزبتا دیں جسے ہم دیکھ لیتے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ دفعہ 144 لگا کر ہمارے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت نہیں سپریم کورٹ ہیں، دفعہ 144 اور ایم پی او سب کیلئے ہوگا صرف پی ٹی آئی کیلئے نہیں، ہمارے سامنے نہ دفعہ 144 نہ ہی ایم پی او کو چیلنج کیا گیا ہے،مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں‘، اور ان سے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی کو الیکشن چاہئیں؟

    جس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا، ’100 فیصد الیکشن چاہیں‘، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہاں یا نہ میں بتائیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کروانا ہے، یہ آپ کے بنائے ہوئے ادارے ہی ہیں، پارلیمان نے ہی بنائیں ہیں یہ ادارے، ان اداروں کی قدر کریں، اگر ان کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق غلط ہیں توتردید کریں۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور جماعت کے رہنما پر ایم پی او نہیں لگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق پیپلز پارٹی، ن لیگ سمیت سب جماعتیں آپ کے خلاف سازش کر رہی ہیں؟

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پوری حکومت ہمارے خلاف تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو پی ڈی ایم کی حکومت ہی نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری بلے کے نشان کی واپسی کیلئے درخواست مقرر ہی نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کا ایم پی او سے کیا تعلق ہے؟ الیکشن کمیشن مقدمات بھگتے یا انتخابات کرائے؟، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر جو کہ ڈی سی ہیں وہی ایم پی او جاری کر رہے ہیں، روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہورہے ہیں، کیا ہم انتخابات نہ لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نہ کریں، اس کے بعد چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کی بلے کے نشان والی درخواست کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت سے سوال کیا کہ روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہو رہے ہیں کیا ہم انتخابات نا لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نا کریں-

    سپریم کورٹ نے بلے کے نشان کیس میں حامد خان کو بلا لیا،دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ استدعا ہے کہ آج ہی کیس سماعت کے لیے مقرر کر کے سنا جائے،کل پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہے بلے کے نشان سے متعلق، آج کسی بھی وقت کیس کو سماعت کر کے سن لیں-

    چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ حامد خان کہاں ہیں؟ بلائیں ان کو، اگر آپ اٹھ کر کمرہ عدالت آنے کی زحمت نہیں کریں گے تو ہم کیا کریں؟ سب سے زیادہ درخواستیں پی ٹی آئی کی آ رہی ہیں اور سنی بھی جا رہی ہیں، کیس بھی لگوانا ہے اور اٹھ کر عدالت بھی نہیں آنا-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے منشی سے سپریم کورٹ میں دستاویزات چھینی گئیں،اس واقعہ کا آپکو بھی علم ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اس واقعہ کا کوئی علم نہیں ہے،یہ منشی کیا ہوتا ہے وکیل یا ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے،منشی کو تو چیمبرز جانے کی اجازت ہی نہیں ہے،آپ کے کسی منشی کی درخواست میں نہیں سنوں گا-

    جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کے سامنے بھی منشی والا معاملہ اٹھایا تھا،لطیف کھوسہ یہ کاغذ چھیننے کا کیا معاملہ ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ججز یہاں موجود نہیں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں سنیں گے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمارا نہیں ، کسی سے کاغذات چھینے جارہے جو بھی ہورہا وہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا ہے ہم نے واضح کیا تھا کہ انتحابات کی تاریخ صدر اور الیکشن کمیشن کا کام ہے،الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق معاملات عدالت کیوں سنے،ہمارے سامنے کچھ دائر ہوگا تو ہم اسے دیکھیں گے،اگر ساری دنیا دیکھ رہی اور ہمیں بھی دیکھنا چاہئیے تو یہ بات غلط ہے،کوئی درخواست آئے گی شکایت آئے گی تو ہم سنیں گے-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کا پلان ہے عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی باتیں نہ کریں ہمارے سامنے اس وقت عمران خان کی کوئی درخواست نہیں-

    پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت پہنچ گئے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پیر تک ملتوی کر تے ہوئے پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا-

  • بلا بحالی  کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

    بلا بحالی کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے کے واپسی کا معاملہ، سپریم کورٹ کا بلے کے نشان کے کیس کو 10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر بلایا اور حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی درخواست کل مقرر کر دیں؟ –

    وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر دیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج نو ممبر بنچ بھی ہے اور ایک خصوصی بنچ بھی ہے، حامد خان نے کہا کہ ہماری ترجیح آج ہے نہیں تو پھر پرسوں لگا دیں ، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ فیصلے کے خلاف آئے یا 184 تھری کی درخواست ہے؟ حامد خان نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف 185 تھری میں سپریم کورٹ آئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بس پھر معاملہ ججز کمیٹی کے پاس نہیں جانا تو پرسوں کیس مقرر ہو گیا-

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی وکلا نے سپریم کورٹ رجسٹرار سے بلے کے نشان کی بحالی کے لیے آج ہی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وکلا نے بلے کے نشان کی بحالی کے لیے دائر درخواست کے حوالے سے سپریم کورٹ رجسٹرار سے ملاقات کی ہے جس میں آج ہی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے،سپریم کورٹ رجسٹرار آفس درخواست کو پہلے ہی C.P7/2024 نمبر لگا چکا ہے،پی ٹی آئی وکلا میں بیرسٹر گوہر اورحامد خان شامل ہیں، جنہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کہا کہ یہ اہم نوعیت کا مقدمہ ہے، اس فوری طور پر سماعت کی جائے۔

    پاک اور سعودیہ نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ،ایک ٹینک تباہ،متعدد ہلاکتیں