Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،سپریم کورٹ

    ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،ڈی سی اسلام آباد کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا حکم جاری کیا تھا؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ شہریار آفریدی کی نظربندی کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کہاں ہوئی یہ بتائیں، ابھی تو کوئی کارروائی ہوئی ہی نہیں تو اپیل کس لئے کر دی؟ ہوسکتا ہے ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی بات سے اتفاق کر لے، وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد نے توہین عدالت نہیں کی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ سمجھتی ہے توہین عدالت ہوئی ہے تو کارروائی سے کیسے روکیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائی کورٹ کو روکا تو کسی کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ اگر سزا دے تو اپیل سن سکتے ہیں، ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد پر فردجرم عائد ہوچکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یا تو ہائی کورٹ کا حکم نامہ چیلنج کریں تو دیکھا جا سکتا ہے توہین عدالت کی کارروائی نہیں دیکھیں گے، وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد سپریم کورٹ فرد جرم عائد کرنے سے کیسے روک سکتی ہے؟ ایسا دروازہ کھولا تو ہر قتل کا کیس بھی فرد جرم عائد کرنے سے پہلے سپریم کورٹ آجائے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضوان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانونی بات کر رہے ہیں یا بھیک مانگ رہے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا اختیار ختم کر دیں؟وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی گئی

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • ایک تیسرے جج کا استعفی بھی آنے والا ہے،سوشل میڈیا پر دعویٰ

    ایک تیسرے جج کا استعفی بھی آنے والا ہے،سوشل میڈیا پر دعویٰ

    اسلام آباد: جسٹس مظاہر نقوی کے فوراً بعد جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفی سامنے آنے کے بعد کئی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ ان دو جج صاحبان کے بعد ایک تیسرے جج کا استعفی بھی آنے والا ہے ۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس منیب اختر کو بعض حلقے ہم خیال جج قرار دیتے ہیں جو سابقہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے قریب رہے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفے کے فوراً بعد اسلام آباد کے کئی رپورٹرز اور سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ایک اور استعفیٰ آنے والا ہے اور وہ جسٹس منیب اختر ہوں گے۔
    https://x.com/ZahidGishkori/status/1745449171807830336?s=20
    https://x.com/sami_ravian/status/1745452259583078525?s=20
    https://x.com/raheemgz/status/1745473313621918193?s=20
    https://x.com/AdnanAwan18/status/1745492464373522847?s=20
    https://x.com/UmerOrakzai1/status/1745451185786728644?s=20
    https://x.com/hassanchohdary5/status/1745449698973122574?s=20
    https://x.com/ImSharar/status/1745451616382468588?s=20
    https://x.com/_NaveedAlam/status/1745450978961420307?s=20

    3 بار والا وزیراعظم اپنا اور خاندان کا احتساب کروا سکتا ہے تو یہ جج …

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا ہےجسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو ارسال کیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اکتوبر میں چیف جسٹس آف پاکستان بننا تھا، جسٹس اعجازالاحسن نے آج سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی،جسٹس اعجاز الا حسن کا استعفیٰ ایوان صدر کو موصول ہو گیا،جسٹس اعجاز الا حسن کا استعفیٰ کل صدر مملکت کو پیش کیا جائے گا ، صدر مملکت آرٹیکل 179 کے تحت جج کا استعفیٰ منظور یا مسترد کرسکتے ہیں-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا

    قبل ازیں مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفی دیا تھا ,صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں انکے خلاف ریفرنس زیر سماعت ہے، آج بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کئے ہیں.

    میاں داود ایڈوکیٹ نے بھی سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی،درخواست میں استدعا کی گئی کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ دوسرے سینئر جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جائے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایت سننے والی کونسل سے الگ ہونا چاہیے-

    سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

  • 3 بار والا وزیراعظم اپنا اور خاندان کا احتساب کروا سکتا ہے تو یہ جج کیوں نہیں،مریم اورنگزیب

    3 بار والا وزیراعظم اپنا اور خاندان کا احتساب کروا سکتا ہے تو یہ جج کیوں نہیں،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 3 بار والا وزیراعظم اپنا اور خاندان کا احتساب کروا سکتا ہے تو یہ جج کیوں نہیں، اعجاز الحسن اور مظاہر علی نقوی نے سہولت کاری کرکے ملک کو برباد کیا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ ن پارلیمانی بورڈ کے انٹرویوز کے بعد ٹکٹوں کا فیصلہ کیا ہے، لاہور کی ٹکٹیں بھی جلد جاری ہو جائیں گے، ہر پارٹی انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق کررہی ہے ، جو شخص آر ٹی ایس بیٹھنے کا عادی ہوجائے، 9 مئی کے حملے کرے، یہ زیادتی نہیں ہے بلکہ الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلہ تھا، آپ نے دھاندلی کرکے انٹرا پارٹی الیکشن کروائے تھے، کیا ہر غنڈے کو یہ حق ہونا چاہیئے کہ عدالت پر چڑھ دوڑے۔

    سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج نوازشریف کے خلاف سازش کرنے والا بینچ اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے اس عوام کے خلاف سازش کے سب کردار بےنقاب ہورہے ہیں پوچھتے ہیں مہنگائی کیوں ہوئی؟ یہ اعجاز الاحسن اور مظاہر علی نقوی اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ججز استعفی دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے ساتھ جو ظلم کیا وہ بند ہو جائے گا، ان ججز کا احتساب ہونا چاہیئے، جج ہو یا کوئی اور ادارے کا نمائندہ ان کا احتساب ہونا چاہیئے، مظاہر علی نقوی صاحب آپ کھڑے ہوجائیں اور کہیں کہ میرا احتساب کریں،آپ متنازع فیصلے دیں , آپکی کرپشن کے کیسز نکل آئیں , ریفرنسز بن جائیں , آپ پر مقدمات کی تحقیقات ہورہی ہوں , آپ استعفیٰ دے دیں گے اب استعفیٰ دینے سے بات نہیں بنے گی اب احتساب ہوگا-

    انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں، ابھی اعجازالاحسن صاحب اور مظاہر علی نقوی صاحب نے استعفیٰ دیا ہے۔ کیوں دیا ہے استعفیٰ؟ استعفیٰ دیکر آپ سمجھتے ہیں کہ اپنے دامن پہ لگے کالے دھبے صاف کرسکتے ہیں جب 3 بار والا وزیراعظم اپنا اور خاندان کا احتساب کروا سکتے ہیں تو یہ جج کیوں نہیں، اعجاز الحسن اور مظاہر علی نقوی ملک کی اس بربادی کے ذمہ دار ہیں، ان جیسے لوگوں نے سہولت کاری کرکے ملک کو برباد کیا۔

    ڈریپ کی جانب سے کھانسی کے شربت میں زہریلے مادے کا ا لرٹ جاری

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ اختیار اور طاقتیں اللہ کی امانت ہوتی ہیں، ان کے استعفے ثابت کررہے ہیں کہ نواز شریف سرخرو ہو رہا ہے، یہ لوگ نواز شریف سے احتساب مانگتے تھے آج اب اپنا بھی حساب دیں، چوتھی بار نواز شریف عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم بنے جارہا ہے۔

    سابق وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ آپ سب لوگ استعفے دے کر بدنام ہورہے ہیں، آپ لوگوں نے متنازع فیصلے دیے تھے، اعجاز الحسن نے مانیٹرنگ جج بن کر ہیرے تلاش کیے تھے وہ کہاں ہے؟ مظاہر علی نقوی کے خلاف جو ریفرنس دائر ہے وہ ابھی واپس نہیں ہوا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے سول فراڈ کیس کی سماعت کرنے والے جج کو بم حملے کی …

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق تمام جماعتوں نے انٹرا پارٹی الیکشن کروانا لازم ہے، آپ کے فیصلے تاریخ کا حصہ تو بن سکتی ہے مگر سچ نہیں ہوسکتے ہیں، ہمیں بلے کے نشان سے مسئلہ نہیں ہے، جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن ہونے چاہیئے، ان تمام مسئلوں کی وجہ عمران خان ہے۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    کونسل کے ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،جسٹس امیرحسین بھٹی، جسٹس نعیم افغان بلوچ اور جسٹس سردار طارق مسعود شریک ہوئے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کوئی وکیل اجلاس میں پیش نہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں بیٹھنا نہیں چاہتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفیٰ کا متن پڑھ کر سنایا، متن میں کہا گیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے استعفیٰ منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ استعفیٰ سے متعلق آئین کا آرٹیکل 179کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے اجلاس میں آرٹیکل 179بھی پڑھ کر سنایا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ آرٹیکل 209کو بھی استعفیٰ کے تناظر میں پڑھیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کوئی جج مستعفی ہو جائے تو کونسل رولز کے مطابق اس کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کونسل کی کارروائی میں مختصر وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے ایک ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں، ان کے بعد سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں، ہم جسٹس منصور سے انکی دستیابی کا پوچھ لیتے ہیں، اگر وہ دستیاب ہوئے تو کونسل کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

    وقفے کے بعد چیئرمین جوڈیشل کونسل کی سربراہی میں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو جسٹس منصور علی شاہ بطور ممبر کونسل اجلاس میں شریک ہوگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب معاونت کریں کیا معاملہ ختم ہوگیا،یہ استعفی کونسل کارروائی کے آغاز میں نہیں دیا گیا، کونسل کی جانب سے شوکاز جاری کرنے کے بعد استعفی دیا گیا،ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں اور جج نے دباؤ پر استعفیٰ دیا ہو،جج کی جانب سے دباؤ پر استعفی دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا،یقینی طور پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی،استعفی دینا جج کا ذاتی فیصلہ ہے، ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے، جج کی برطرفی کا سوال اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے، ابھی تک کونسل نے صدر مملکت کو صرف رپورٹ بھیجی تھی اگر الزامات ثابت ہوجاتے تو کونسل صدر مملکت کو جج کی برطرفی کیلئے لکھتی.

    ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے،ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟اپنی تباہ شدہ ساکھ کی سرجری کیسے کریں گے؟کیا آئین کی دستاویز صرف ججز یا بیوروکریسی کیلئے ہے؟آئین پاکستان عوام کیلئے ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی اعتماد کا شفافیت سے براہ راست تعلق ہے، کونسل کے سامنے سوال یہ ہے کہ جج کے استعفی کا کاروائی پر اثر کیا ہوگا،جج کو ہٹانے کا طریقہ کار رولز آف پروسجر 2005 میں درج ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثاقب نثار کے معاملے میں تو کاروائی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اب ہو چکی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جس کا سامنا سپریم جوڈیشل کونسل کر رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل رائے نہیں دے سکتی، اگر کونسل میں سے جج کا کوئی دوست کاروائی کے آخری دن بتا دے کہ برطرف کرنے لگے اور وہ استعفی دے جائے تو کیا ہوگا؟اٹارنی جنرل کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کاروائی کے دوران جج کا استعفی دے جانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہاں اپنی خدمت کیلئے نہیں بیٹھے،ہم یہاں اپنی آئینی زمہ داری ادا کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،اگر ایک چیز سب سیکھ لیں تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت عظمٰی سمیت ادارے عوام کو جوابدہ ہیں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جج پر الزام لگے اور استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں اور تمام مراعات لیتے رہیں ؟ نہ کوئی احتساب نہ کوئی جوابدہی ؟ یہ ادارے کی عزت کا سوال بھی ہے، صرف استعفی دینے سے کیا معاملہ ختم ہوگیا لوگوں کا حق ہے کہ وہ جائیں سچ کیا ہے؟ اگر مظاہر نقوی کے وکلاء نے وقت مانگا تو شکایت گزاروں کو سنا جائے گا،جسٹس ر مظاہر نقوی کل خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہو سکتے ہیں،جسٹس مظاہر نقوی کو استفعی کے باوجود بھی حق دفاع بھی دے دیا گیا، جسٹس (ر) سید مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • فیض آباد دھرنا کمیشن، خواجہ آصف نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن، خواجہ آصف نے بیان ریکارڈ کروا دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے

    خواجہ آصف نے پیشی کے دوران فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے سوالات کے جواب دیئے، پیشی کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ "آج فیض آباد دھرنا کمیشن میں پیش ہوا، بیان نامکمل رہا انشاءاللہ جلد مکمل ہو جاۓ گا۔۔ میری ناچیز ر اۓ ہے کہ کمیشن کی کاروائی اوپن ہو میڈیا کوریج ہو۔ عوام کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ملک کے ساتھ 75سال کیا کھلواڑ ہواھے۔ وطن عزیز میں جتنے کمیشن بنے انکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انکے نتائج بھی عوام کے سامنے نہیں آۓ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کا سامنا کریں اور کفارہ ادا کریں”

    واضح ہے کہ کمیشن نےسابق وزیراعظم شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے طلب کر رکھا ہے، انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 جنوری کوسپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے

    لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید نے بھی فیض آباد دھرنا کمیشن کو بیان رکارڈ کرادیا ہے،فیض حمید نے کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق فیض حمید نے جواب میں کہا حکومت کی ہدایت پر تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کیے ،فیض حمید نے حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے، فیض حمید کے لئے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا تھا، فیض حمید نے تمام سوالوں کے جواب جمع کروا دیئے ہیں، فیض حمید نے حکومت کیخلاف سازش کے الزام کا انکار کیا اور کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذاکرات حکومت کے کہنے پر کئے تھے، اسوقت شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، احسن اقبال وزیر داخلہ تھے، کابینہ اجلاس میں مشترکہ ہدایت کے بعد دھرنے والوں سے فیض حمید نے مذاکرات کئے تھے

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

  • بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں،کیس کی سماعت کل صبح ہو گی

    قبل ازیں الیکشن کمیشن کی بلے کے نشان کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کر دیا تھا سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اپیل واپس کر دی تھی،،رجسٹرار آفس نے اپیل کیساتھ منسلک دستاویزات پڑھے جانے کے قابل ہونے کا اعتراض عائد کیا،

    تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے کی بحالی کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی، تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا، الیکشن کمیشن کا یہ اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے،توہینِ عدالت کی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر، سیکریٹری اور اراکینِ الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں ،بلے کا انتخابی نشان، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا تھاالیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا ،اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبران اورسپیشل سیکرٹر نے شرکت کی

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی پارٹی انتخابات اور بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہو گیا، فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے،الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی بلے انتخابی نشان کی حقدار ہے،

    تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ تحریک انصاف کی لیگل ٹیم نے پشاور ہائیکورٹ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی درخواست نمٹا دی گئی

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات میں تاخیر کا معاملہ ،تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سید ظفر علی شاہ کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ 8 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے بعد موجودہ درخواست غیر موثر ہوچکی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو انتخابات کی تاریخ آچکی ہے ہم کیسے آپکی درخواست سنیں،انتخابات سے متعلق تمام مقدمات ترجیجی بنیادوں پر سن رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ظفر علی شاہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ انتخابات نہیں چاہتے،ظفر علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ میں انتخابات چاہتا ہوں مگر جو لوگ تاخیر کے ذمہ دار ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،میں نے 22 مارچ 2023 کا انتخابات نہ کرانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا،پنجاب اور کے پی میں انتخابات نہ کرانے والوں کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی کیخلاف کاروائی کی درخواست ہی نہیں تو کیسے حکم دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست وقت پر مقرر نہ ہونے کا ذمہ دار ادارہ ہوسکتا ہے میں نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو مختصر حکمنامہ سنایا تھا، مختصر حکم نامے میں سپریم کورٹ نے سویلین کا فوجی عدالتوں ٹرائل روکتے ہوئے ان کے مقدمات عام عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا،پانچ رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کر رہے تھے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی بنچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 125 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلہ بنچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941 کے ایک جملے سے کی ، لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہورزمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے، برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے، تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا ایک سیکشن 1967 میں اس وقت شامل ہوا جب ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، ایف بی علی کیس میں جب سزائیں دی گئیں اس وقت ملک میں عبوری آئین تھا، 9 اور 10 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، شہدا کے مجسموں کو نقصان پہنچا گیا، کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا، اعلیٰ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملوث ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا، سب کی ایک ہی متحد آواز تھی کہ ایسے واقعات پر قانون حرکت میں آنا چاہیے ، اس کے بعد مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہونا شروع ہوئیں، فوجی حکام نے متعلقہ دہشت گردی کی عدالتوں سے رجوع کر متعلقہ ملزمان کی حوالگی مانگی، نتیجے میں 103 ملزمان کو فوجی عدالتوں کی حراست میں دیا گیا،

    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اہم وضاحت کر دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات کے تحت ایسے سزا یافتہ افراد جو تمام اپیلوں کا حق استعمال کر چکے ان کے کیسز پر اثر نہیں پڑے گا،

    13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینےکا فیصلہ معطل کیا تھا

    9 مئی،ملزمان کیخلاف فوجداری قوانین کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے،جسٹس یحییٰ آفریدی
    سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی ایکٹ کی شقوں کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا 20 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا،اختلافی نوٹ میں کہا کہ تقریباً 50 برس قبل ایف بی علی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 5 ججز نے دیا،یہ عدالت اصول طے کر چکی ہے کہ ایک بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے عدالتی بینچز تبدیل نہیں کرسکتے ،5 ججوں کا عدالتی فیصلہ 5 جج ختم نہیں کرسکتے، میری دانست میں 21ویں آئینی ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد اس کیس کو 9 رکنی بینچ سنتا تو مناسب ہوتا،سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ پر ایف بی علی کیس کا اطلاق ہوتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ میں آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی ٹو کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ انکا عمل کسی بیرون ملک کی ایماء پر سازش کے تحت تھا، ایف بی علی کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا کہ سیکشن 2(1) ڈی ٹو دفاع پاکستان سے متعلقہ ہے، 9 اور 10 مئی میں ملوث ملزمان کے خلاف فوجداری قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے کہ کس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ملوث ملزمان نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایسا کیا،9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 2892 مرد و خواتین گرفتار ہوئے،103 مرد ملزمان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا،اس کیس کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کو سننا چاہئے تھا،

    آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک
    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا معاملہ، جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ سامنے آ گیا، جسٹس عائشہ ملک نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کیلئے ضروری ہے وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر نہ ہو،آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، 9 مئی کے گرفتار 103 ملزمان پر آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں،آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہ ہونے کے باوجود ملزمان کو عسکری حکام کی حوالگی کی درخواستیں دی گئیں، متعلقہ مجسٹریٹ کو ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بامعانی فیصلہ دینا چاہئے تھا،اٹارنی جنرل نے ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے،جمہوریت اور آزادی کی خاطربہتر ہوتا اٹارنی جنرل ان ممالک کی مثال دیتے جہاں ایسا نہیں ہوتا،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا 9 مئی کے ملزمان عام شہری ہیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی 9 مئی کے بیشتر ملزمان بری ہو جائیں گے،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر تھی اور ان کے خلاف آج 11 جنوری کو دن 1 بجے سماعت ہونا تھی اب استعفی کے بعد کاروائی نہیں ہو سکے گی۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیر سماعت ہے جس سلسلے میں انہوں نے کونسل کو اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا جس میں کہا گیا ہےکہ میرے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں، میں نے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیئے،

    غلطی سے غلط تاریخ لکھ دی، استعفیٰ منظور کیا جائے، جسٹس مظاہر نقوی کا صدر مملکت کو مراسلہ
    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفے پر غلط تاریخ درج ہونے پر ان کے سیکرٹری نے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ بھیج دیا جس میں کہا گیا کہ تاریخ غلطی سے غلط لکھی گئی، استعفیٰ منظور کیا جائے،جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے استعفے پر تاریخ کی جگہ 2024 کی جگہ 10 جنوری 2023 لکھا تھا،تا ہم اب جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے سیکرٹری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ روانہ کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ غلطی سے 2023 لکھی گئی، استعفے پر غیردانستہ طورپر 2024 کے بجائے 2023 لکھا گیا،تاریخ 2024 تصور کرتے ہوئے استعفیٰ منظور کیا جائے

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی میں بڑی غلطی سامنے آگئی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی پر سال 2023 لکھا ہوا ہے،استعفیٰ پر تاریخ دس جنوری 2023 لکھی ہوئی ہے جبکہ تاریخ 10 جنوری 2024 لکھی ہونی چاہئے تھے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے سٹاف کا ٹائپ کردہ استعفی سائن کیا،بطور جج انہوں نے اپنے استعفی کا متن بھی نہ پڑھا بلکہ ویسے ہی دستخط کر دیئے،استعفیٰ کی کاپی صدر مملکت اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی ہے،استعفی پر تاریخ درست نہیں ہے، جہاں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے دستخط ہیں وہاں بھی تاریخ کا اندارج نہیں ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ اعتراف جرم قوم کی جیت،سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، میاں داؤد ایڈوکیٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والے وکیل میاں داؤد ایڈوکیٹ کا ردعمل سامنے آیاہے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ کرپٹ ترین جج جسٹس مظاہر نقوی کا استعفی پوری قوم اور پاکستان کے وکلاء کی جیت ہے تاہم ابھی منزل باقی ہے۔ جسٹس نقوی کا استعفی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کرپٹ جج جب رنگ ہاتھوں پکڑا جائے تو استعفی دے کر گھر چلاجائے اور عوام کے پیسوں پر پنشن لیکر عیاشی کرتا رہے،پہلی بار ہوا کہ سپریم کورٹ کے جج کا احتساب ہوا، ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی آگے بڑھی، میری شکایت کو متنازعہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن ٹھوس شواہد تھے، جسٹس مظاہر نقوی کے پاس دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا، مظاہر نقوی کا استعفیٰ ان کا اعتراف جرم ہے،ہم اس استعفیٰ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،انکی پنشن بند ہونی چاہئے، ریفرنسز چلنے چاہئے لوٹی ہوئی دولت برآمد ہونی چاہئے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ "استعفیٰ کی منظوری کافی نہیں ہو گی۔ اثاثوں کی چھان بین سیاستدان کیطرح جج صاحب اور انکی آل اولاد سب کی ہونے چاہئیے ۔ ترازو پکڑنے والے ہاتھ کا حساب آخرت میں تو اللہ کی صوابدید ہے۔ مگر دنیا میں نہیں کرینگے تو ہم سب برابر کے گناہ گار ہونگے”

    قبل ازیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ،جسٹس مظاہر نقوی نے خود پر عائد الزامات کی تردید کر دی، جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کیخلاف معلومات لے سکتی ہے کسی کی شکایت پر کارروائی نہیں کر سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں، رولز کے مطابق کونسل کو معلومات فراہم کرنے والے کا کارروائی میں کوئی کردار نہیں ہوتا،

    میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،جسٹس مظاہر نقوی
    جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطور پراسیکیوٹر تعیناتی پر بھی اعتراض کر دیا اور کہا کہ کونسل میں ایک شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل بھی ہے،اٹارنی جنرل شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں،بار کونسلز کی شکایات سیاسی اور پی ڈی ایم حکومت کی ایماء پر دائر کی گئی ہیں، پاکستان بار کی 21فروری کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،شہباز شریف سے ملاقات کے روز ہی پاکستان بار کونسل نے شکایت دائر کرنے کی قرارداد منظور کی،شوکاز کا جواب جمع کرانے سے پہلے ہی گواہان کو طلب کرنے کا حکم خلاف قانون ہے، یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مجھ سے کوئی بھی شخص باآسانی رجوع کر سکتا ہے، غلام محمود ڈوگر کیس خود اپنے سامنے مقرر کر ہی نہیں سکتا تھا یہ انتظامی معاملہ ہے، غلام محمود ڈوگر کیس میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا تھا، لاہور کینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ ہے، ایس ٹی جونز پارک میں واقع گھر کی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا، اختیارات کا ناجائز استعمال کیا نہ ہی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا،گوجرانوالہ میں خریدا گیا پلاٹ جج بننے سے پہلے کا ہے اور اثاثوں میں ظاہر ہے، زاہد رفیق نامی شخص کو کوئی ریلیف دیا نہ ہی انکے بزنس سے کوئی تعلق ہے،میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،دونوں بیٹے وکیل اور 2017 سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں،جسٹس فائز عیسی کیس میں طے شدہ اصول ہے کہ بچوں کے معاملے پر جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کر سکتی، پارک روڈ اسلام آباد کے پلاٹ کی ادائیگی اپنے سیلری اکائونٹ سے کی تھی،الائیڈ پلازہ گجرا نوالہ سے کسی صورت کوئی تعلق نہیں ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟