Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتہ نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی

    سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتہ نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاپتا افراد کیس سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا –

    باغی ٹی وی : حکمنامہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، تحریری حکمنامے میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے وفاقی حکومت سے کسی کو لاپتا نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی، تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت تحریری یقین دہانی جمع کرائے کسی کو لاپتا نہیں کیا جائے گا، کسی بھی شہری کو قانون کے برعکس نہیں اٹھایا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بلوچ مظاہرین کے پرامن احتجاج پر پولیس کو ناروا سلوک سے روک دیا اور تحریری حکم نامے میں کہا کہ پُرامن احتجاج سب کا حق ہے، کسی بھی شہری کو قانون کے برعکس گرفتار نہیں کیا جائے،عدالت پر امن مظاہرین پر کسی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دیتی،نوٹس میں لایا گیا کہ عدالتی چھٹیوں میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا۔

    بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے ایک روز قبل فساد ،کئی پولنگ بوتھ اور ٹرین …

    پاکستان سُپر لیگ 9 کا شیڈول جاری

    اداکاراؤں کو جسم دکھانے والے لباس نہیں پہننے چاہئیں،اداکار بلال

  • بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    بلے کا نشان کیس جلد فیصلہ کیا جائے، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں جلد سماعت کے لیے ایک اور درخواست دائر کردی

    بیرسٹر گوہر علی اور نیاز اللہ نیازی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،درخواست میں سپریم کورٹ سے سوموار کو کیس کی سماعت کرنے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ دن بہت کم ہیں، انتخابی نشان سے متعلق جلد فیصلہ کیا جائے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 8 جنوری بروز پیر شام کو ٹکٹ کا اعلان کرے گی،بانی چیئرمین عمران خان سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر مشاورت مکمل ہوگئی ہے،الیکشن کا ہر صورت انعقاد ہونا چاہئے،14 سینیٹرز کی موجودگی میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ انتخابات کا 8 فروری کو انعقاد پتھر پر لکیر ہے، بلے پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہو گا، منظور ہو گا.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے

    انتخابی نشان اور اڈیالا کا مہمان دونوں ملکی سیاست سے آوٹ 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • عام انتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    عام انتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    عام انتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش کر دی گئی

    بروقت انتخابات کی قرارداد جماعت اسلامی کے سینٹر مشتاق احمد نے جمع کرائی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ انتخابات کا انعقاد دستوری تقاضہ ہے، دستور کے مطابق انتخابات مقررہ وقت پر کرائے جائیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آچکا ہے کہ انتخابات 8فروری کو ہوں گے،امن وامان اور خراب موسم کی صورتحال کو بنیاد بنا کرنا انتخابات کےالتواء کی قراردا غیردستوری اور غیر جمہوری ہے،سینیٹ آف پاکستان کو ماورائے آئین کسی اقدام کاکوئی اختیار نہیں،سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں 8فروری کو صاف وشفاف انتخابات کرائے جائیں،تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دیاجائے، انتخابات کے التواء سے متعلق پاس کردہ قرارداد کو کالعدم قرار دیاجائے،

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن پتھر پر لکیر سمجھیں،امید ہے الیکشن آٹھ فروری کو ہی ہوں گے،سینٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کے حوالے سے پاس ہونے والی قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ،سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ،پاکستان پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    تحریری جواب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں جمع کروایا،تحریری جواب میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تفصیلات شامل ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی یو ایس بی اور سی ڈی بھی جمع کروا دی گئی ،تحریری جواب میں انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروائی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ 8 جنوری کو ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کرے گا,9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

  • براہ راست  سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    براہ راست سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس بنا تو پتہ چلا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا چیئرمین بھی ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بورڈ کے اراکین میں تمام اہم شخصیات شامل ہیں،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی مضبوط بورڈ کے تحت کام کررہی ہے،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، اکیڈمی میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات ہیں، جوڈیشل اکیڈمی مختلف علاقوں ، صوبوں سے آئے ججز کو اکٹھے کرنے کا ذریعہ ہے،ہم نے اپنے کورٹ اسٹاف کو پہلے کبھی اہمیت نہیں دی،یہ پہلی بار ہے کہ کورٹ اسٹاف کو بھی جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت دینگے،اکیڈمی میں مختلف مراحل کے تحت تربیت فراہم کی جارہی ہے،جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنی تعیناتی کے بعد اکیڈمی میں بنیادی تبدیلیاں کیں ، ملک بھر میں 3200 ججز اہم فرائض انجام دے رہے ہیں،ججز اکیڈمی آکر اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں،ہائیکورٹس کے چیف جسٹس بھی اکیڈمیز میں عملہ کی تربیت کا اہتمام کریں،اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر اطمینان محسوس کررہا ہوں،سول ججز تربیت یافتہ ہونگے تو اعلیٰ عدلیہ پر کیسز کا دباؤ کم ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں پہلا چیف جسٹس ہوں جس نے کیسز کی لائیو کوریج کو مُتعارف کروایا۔ بطور چیف جسٹس پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کو براہ راست نشر کیا،سماعت براہ راست سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا،یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا،ٹیکنالوجی قلم کی طرح اہم ذریعہ ہے،یہ علم کے لیے اہم ذریعہ ہے،قانون کے طالبعلم براہ راست کیسز کی سماعت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،عام لوگوں میں یہ اعتماد بحال کروانا ضروری ہے کہ انصاف ہو رہا ہے ،انصاف کا بہتر نظام مقدمات کا دباؤ کم کرے گا،براہ راست نشریات کی کچھ ڈاون سائیڈز بھی ہیں، گھر جاتا ہوں تو بیگم کہتی ہیں آپ ٹھیک سے نہیں بیٹھے تھے،انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے میں یہ جملہ روز اپنے ذہن میں رکھتے عدالت آتا ہوں،بطور وکیل اپنے خلاف فیصلے آنے پر کبھی برا نہیں منایا تھا،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    قاضی کا کھڑاک،الیکشن 8 فروری کو،عدت میں بدعت،جنرل فیض حاضر ہو

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا،بابر اعوان

    پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا،بابر اعوان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے لوگوں سے کبھی اپنے ادارے اسطرح خوفزدہ ہوئے ہیں ،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف چارج شیٹ آئی ہے،پہلا الیکشن ہے جس میں بہن بیٹی کے آنچل کو کھینچا گیا، امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے،جو آج کوکا ڈھونڈنے گیا ہے پہلا دوائی ڈھونڈنے گیا ہوا تھا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینی چاہیے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے نام تصویر اس کے امیدواران پر پابندی لگا دی گئی ہے،ہماری خواتین کو الیکشن نہیں لڑنے دیا جارہا، پانچ فیصد خواتین کو نمائندگی دینا ہر جماعت کا حق ہے، یہ دھاندلی نہیں میگا دھاندلہ ہورہا ہے،سپریم کورٹ سے ہمیں امید ہے کہ ہمارا انتخابی نشان بلا واپس دلائے گی،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن تو سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف فریق بن چکا ہے، اب یہ تحریک انصاف نہیں بلکہ تحریک پاکستان ہے ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی مجھے کہیں گے تو میں الیکشن لڑوں گا، ٹکٹوں کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کررہے ہیں، ٹکٹوں کے حوالے سے تحریک انصاف کا ہوم ورک تقریبا مکمل ہو چکا ہے،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    انتخابی نشان بلے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    تحریک انصاف کی قیادت میں ایک بار پھر لڑائی، وکلا تقسیم ہو گئے

  • تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بینچ کا حصہ ہیں،عدالتی کاروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے، ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آچکا ہو، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا،کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی،کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

    ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں،ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں،آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں،کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے، اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے،اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے،کیا سزا تاحیات ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے،آئین کو آسان کریں،آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں،اگر کوئی سونا چند گرام لکھوایا تو کیا ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہونگے؟
    مدت پانچ سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاون کرسکتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232تین کو اسطرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا پانچ سال ہوگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں، اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا زکر نہیں ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی،

    پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں آپکا کیا خیال ہے ، جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وہاں ڈکلیریشن نہیں تھا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پارلیمنٹ نے نا اہلی کی مدت طے کرائی تو یہ سوال تو اکیڈمک سوال ہوا کہ نا اہلی کی مدت کیا ہو گی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو کالعدم قرار دیں تو سزا کتنی ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5 سال ہو گی ، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا گیا تھا؟ ریکارڈ منگوا لیں , جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 232 دو عدالتی معاون کے مطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے ، سیکشن 232 تین چیلنج ہی نہیں ، امریکہ میں قانون کالعدم ہو تو کانگرس نیا قانون بنا لیتی ہے، امریکی کانگرس اپنی عدالت کو قائل کرتی ہے کہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، سربراہ پی ٹی آئی کو نا اہل نہیں کیا گیا ،شکیل اعوان، خواجہ آصف، شیخ رشید کیسز دیکھیں تو تا حیات نا اہلی کا فیصلہ لکھنے والے جج آہستہ آہستہ مؤقف بدلتے رہے ،

    نواز شریف کا نام لینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لیں،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی فیس نہ ملی ہو
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایسی کوئی مثال ہے سمیع اللہ بلوچ کے بعد کیس کو تا حیات نا اہل کیا گیا ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ڈکلیریشن کو ختم کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ثناء اللہ بلوچ کے لیے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں کچھ کہا گیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لینا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تنخواہ لینے کا سہارا لے کر نا اہلی کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بات نا کریں جو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی اسے فیس نہ ملی ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک ہر شخص کی صادق اور امین ہوگا، ایک دو غلطیوں سے کسی کو بے ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر کوئی غلطی ہو بھی تو پانچ سال کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایسا کوئی ڈیکلریشن آج تک نہیں آیا کہ کوئی صادق اور امین نہ ہو، جرائم پیشہ افراد کو ایماندار اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، نااہلی کا ڈیکلریشن شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتیں،

    تاحیات نااہلی کیس، وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز، اٹارنی جنرل کے دلائل
    دوبارہ وقفے کے بعد سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے 2015 کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا، سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لا کے سوال کا جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگر یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ آف لاء سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پر سوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہو گا،عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے،عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کر چکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کر دیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا،سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے ابھی ہم نے پہلی رکاوٹ ہی عبور نہیں کی، ڈیکلیریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا یہ ہم کیسے طے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے طے کر دی ہے پانچ سال کی مدت، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے صرف نااہلی کی مدت کا تعین کیا ہے،نااہلی کی ڈکلئیریشن اور طریقہ کار کا تعین ابھی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور صاحب اس کا جواب یہ دیں کہ پارلیمنٹ آئندہ یہ بھی طے کر لے گی،عدالتیں قانون نہیں بناتیں، عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتا ہے کہ قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں، آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،جس کو چاہیں نااہل کردیں ،صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں، مبشر حسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا، آج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے

    تاحیات نااہلی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خوش آمدید،کب سے انتظار کر رہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں،تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی، جسٹس مندوخیل نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم تو آج کل دیر ہی کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائیگا،ممکنہ طور پر آج فیصلہ نہیں سنایا جائیگا،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    تحریک انصاف کے رہنما ،شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی پی ٹی آئی وکلا اور مقدمات میں جو کمنٹ ہیں وہ انصاف کے مطابق نہیں،

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کاغذات جو مسترد ہوئے،وہ سپریم کورٹ کو نظر نہیں آ رہا، ملک بھر میں تجویز کنندہ اغوا ہو رہے ہیں اور چیف جسٹس صاحب سمجھ آ رہے ہیں کہ ملک میں امن ہے، پہلی بار تحریک انصاف چیف جسٹس کے اس کنڈکٹ کو انتہائی نامناسب سمجھتی ہے،اگر ہمیں کوئی انصاف نہیں دے سکتا تو ہماری توہین نہ کی جائے، ہمارا مذاق نہ اڑایا جائے،سپریم کورٹ کو علم ہے کہ ہر دور میں لوگ اغوا ہوئے، سپریم کورٹ عوام کے حق کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ہمارے دور میں جو ریفرنس چیف جسٹس کے خلاف دائر کیا گیا تھا، شاید چیف جسٹس دل سے اسے نکال نہیں سکے، اس وجہ سے انکے کمنٹس آتے ہیں، نواز شریف کی نااہلی ختم کرنے پر بینچ بن گیا، عمران خان کے لئے نہیں، انصاف کا تقاضا ہوتا کہ عمران خان کے لئے بھی بینچ بن جاتا، ہمارے مقدمات تاخیر کا شکار ہیں، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہوتے ہوئے ہمیں انصاف نہیں ملنے والا،پورا نظام ہمارے خلاف لگا ہوا ہے،ایسے میں عدل سے وابستہ اداروں سے ہماری تضحیک، کیسوں‌کا نظر انداز ہونا، یہ کسی جج کے کنڈکٹ کے شایان شان نہیں.ہماری تضحیک کرنے سے باز آ‌جائیں، کوئی حق نہیں کہ ہمیں نشانہ ستم بنائیں، عمران خان نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے،عمیر نیازی کو جونوٹس بھیجا گیا وہ دیکھ لیں، آر او کو کٹہرے میں کرنے کی بجائے عمیر نیازی کو نوٹس بھیجا گیا، الیکشن کمیشن ،آئی جی سےباز پرس نہیں کی گئی، تجویز، تائید کنندہ اغوا ہو رہے ہیں،یہ کیسی لیول پلینگ فیلڈ ہے،

    جےیو آئی شیرانی کے ساتھ سیٹ جسٹمنٹ ہو گی،شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت کا کہناتھا کہ عمران خان نے جے یو آئی شیرانی کے ساتھ الائنس کی منظوری دے دی ہے، دو رکنی کمیٹی بنا دی ہے، جو الائنس پر کام کرے گی، جے یو آئی شیرانی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی، عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ میں جو ہمارے مقدمات ہیں، انکی سماعت کے لئے پٹیشن دائر ہونی چاہئے،ہم نے قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننے پر خیر مقدم کیا تھا لیکن اب سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں کر رہے بلکہ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں،توہین کوئی برداشت نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ سے ہمیں انتظامی طور پر کوئی ریلیف نہیں ملا،

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،چیف جسٹس برہم

    بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ میں نکاح نامہ میں درج رقم نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاملہ سپریم کورٹ لانے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ ایسے کیسز کیوں سپریم کورٹ دائر کرتے ہیں؟عدالت آپکو بھاری جرمانہ کرے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے درخواست گزار کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسا کیا تو پاکستان بار کونسل کو آپکا کیس بھیجیں گے،نکاح نامہ اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں، عدالت میں ڈرامہ نا کریں ، یہ کیسا مذاق ہے؟بیوی آپکی، بچہ آپکا ، پیسے آپ نہیں دینگے اور بوجھ جج پر،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نکاح نامے میں درج ہے کہ شوہر نے گھر بنانے کیلئے بیوی کو 15لاکھ دینے ہیں،پانچ مرلہ گھر تیار کر کے بیوی کو دیدے، کیا آپ بیوی کے مرنے کے بعد اسے گھربنا کر دینگے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شادی سے پہلے عدالت آکر پوچھ لیا کریں یا پھر شادی نا کیا کریں،

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،مظفر گڑھ کے رہاٸشی سجاد حسین نے اہلیہ کے دعوے کیخلاف سپریم کورٹ رجوع کیا تھا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    حق مہر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

     اگر 30 روز میں حق مہر ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے.

  • بلے کا انتخابی نشان، آخری کوشش، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    بلے کا انتخابی نشان، آخری کوشش، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے

    تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، تحریک انصاف نے اپیل کو کل سماعت کے لئے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے

    اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ٹکٹ تقسیم کرنا ہے،کوشش ہے بلے کا نشان مل جائے، بیرسٹر گوہر
    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ چند اہم درخواستوں پر دستخط کرنے آیا ہوں،بلے کے انتخابی نشان کے لئے آج درخواست جمع کروا رہے ہیں،سپریم کورٹ سے درخواست کریں گے ہمیں سنا جائے، الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں لکھا تھا یہ اہم ترین معاملہ ہے،ہماری بھی یہی استدعا ہے اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ہے ٹکٹ تقسیم کرنا ہے، کوشش ہے جلد سے جلد یہ کیس لگے، اللہ کرے بلے کا نشان ملے ہمیں امید ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے

    پرویز خٹک سمیت کسی کو بھی انتخابی نشان بلے کی پیشکش نہیں کی گئی

    انتخابی نشان اور اڈیالا کا مہمان دونوں ملکی سیاست سے آوٹ