Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے ججز اور اہلخانہ کی تلاشی پرجاری تنازع ،سپریم کورٹ کا بیان سامنے آگیا

    سپریم کورٹ کے ججز اور اہلخانہ کی تلاشی پرجاری تنازع ،سپریم کورٹ کا بیان سامنے آگیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز سمیت اُن کے اہل خانہ کی تلاشی کے حوالے سے جاری تنازع پر سیکریٹری ایوی ایشن اور ڈی جی ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کو خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے پبلک ریلیشن آفیسر کی جانب سے لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کے اہل خانہ کی ہوائی اڈوں پر تلاشی سے استشنی دینے سے متعلق سول ایوی ایشن کے 12 اکتوبر کا خط ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان اور اہلیہ کی ترکی روانگی کے فوری بعد یہ خط میڈیا کے سامنے لایا گیا باڈی سرچ سے استشنی کا قانون سپریم کورٹ نے نہیں بنایا، نہ ہی ایسا کوئی استشنی مانگا گیا اور نہ ہی دیا گیا، 66 روز کے بعد دلچسپ ٹائمنگ کے ساتھ یہ خط عوام کے سامنے لایا گیا، چیف جسٹس پاکستان کی اہلیہ نے اے ایس ایف کو تلاشی دی ، اے ایس ایف کی خاتون افسر نے مخصوص کمرے میں سرینا عیسی کی تلاشی لی، تلاشی دینے کی اسلام آباد ایئر پورٹ پر لگے کیمرے اسکی تصدیق کر سکیں گے۔

    لڑکے نے لڑکی کو گولی مار کر خودکشی کرلی

    خط کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے ایئر پورٹ پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کرنے کی پیشکش سے انکار کیا جسٹس قاضی فائز عیسی نے وی آئی پیز کے لیے ایئر پورٹ پر لگژری لیموزین کے استعمال سے بھی انکار کیا، سپریم کورٹ نے سیکرٹری ایوی ایشن کو خط لکھ کر نشاندہی کی تھی کہ سابق ججز اور بیگمات کو ائیر پورٹ پر جسمانی تلاشی سے استثنی ہے حاضر سروس ججز کی بیگمات کی تلاشی لی جاتی ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ کے خط کی وضاحت کی بجائے ڈی جی اے ایس ایف نے حاضر سروس ججز کی بیگمات کو بھی استثنیٰ دے دیا۔

    پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • عام انتخابات میں تاخیر،سپریم کورٹ نے تمام دروازے بند کر دیئے

    عام انتخابات میں تاخیر،سپریم کورٹ نے تمام دروازے بند کر دیئے

    سپریم کورٹ نے عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے تمام دروازے بند کردیئے
    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کوئٹہ کی دو صوبائی نشستوں پر حلقہ بندیوں کیخلاف اپیل پر فیصلہ دیا،بلوچستان ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کی تھی.

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو اختیار قانون نے الیکشن کمیشن کو دیا اسے ہائیکورٹ کیسے استعمال کر سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں سے متعلق تمام مقدمہ بازی غیر موثر ہو چکی،کسی انفرادی فرد کو ریلیف دینے کیلئے پورے انتخابی عمل کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، ہمیں اس حوالے سے لکیر کھینچ کر حد مقرر کرنی ہے جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی سارے کیوں چاہتے ہیں الیکشن لمبا ہو،الیکشن ہونے دیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر اس درخواست پر فیصلہ دیا تو سپریم کورٹ میں درخواستوں کا سیلاب امڈ آئے گا، جب الیکشن شیڈول جاری ہو جائے تو سب کچھ رک جاتا ہے،الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات شفاف ہوں،

    بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان کی دو صوبائی نشستوں شیرانی اور ژوب میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کر دی تھی الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے گی،چیئرمین تحریک انصاف

    سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے گی،چیئرمین تحریک انصاف

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا پی ٹی آئی پر سختیاں ضرور کی جارہی ہیں۔ہماری پٹیشن میں درخواست تھی کہ ریٹرننگ افسران کو عدلیہ سے لیا جائے،سپریم کورٹ ہی بتا سکتی ہے انہیں کیوں لگا ہم جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں، ہم تو سپریم کورٹ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچایا جائے، انشاء اللہ سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے گی، بوگس کیسز کے ذریعے جسمانی ریمانڈ لینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ سب کچھ سیاسی انتقام کیلئے کیا جارہا ہے جیل ٹرائل ہوہی نہیں سکتا، ایسے ٹرائل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،

  • عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس سردار طارق مسعود اور منصور علی شاہ کا حصہ تھے،الیکشن کمیشن کے وکیل روسٹرم پر موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ کیا جلدی تھی اس وقت سب کو آنا پڑا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کے عمیر نیازی نے آر او کے فیصلے کو چیلنج کیا، الیکشن شیڈول جاری کرنے میں وقت بہت کم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تو 8 فروری کو الیکشن کرانے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوشش ہے کہ الیکشن کروا دیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کوشش کیوں آپ نے کرانے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری فلائیٹ میس ہوئی کیسے مداوا کریں گے،بحرکیف کوئی بات نہیں ہم عدالت میں کیس لگا کر سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ عمیر نیازی کی درخواست انفرادی ہے یا پارٹی کی جانب سے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ ہائیکورٹ میں آر اوز اور ڈی آراوز کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا،تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جس پر اسٹے ملا ،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی فہرست حکومت دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست گزار کیا چاہتے ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں، درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی اب ہی کیوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیرالتواء مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل افیسر فراہم کرنے کے خط کا جواب ہی نہیں دیا ،ہماری پہلی ترجیح تھی کہ عدالتوں سے سٹاف لیا جائے لیکن ہائی کورٹس نے انکار کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کرانا چاہتے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جواب نہیں دیا، پشاور ہائی کورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں، الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی آخر چاہتے کیا تھے؟ہائیکورٹ اپنی ہی عدالت کی خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا،عمیر نیازی کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا کیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت فئیر الیکشن کرائے جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات فئیر نہیں ہو سکتے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 50 اور 51 چیلنج کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا افسران اپائنٹ کرنے کا حق کالعدم قرار دیا جائے،پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کچھ تھکے ہوئے ہیں، اسٹیپ بائے اسٹیپ بتائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ کس نے دیا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی نے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب لارجر بینچ کو ہیڈ کون کررہا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی مائی لارڈ وہی آنر ایبل جج،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ایک جج جب معاملہ لارجر بنچ کے لئے بھیج رہا ہےپھر ساتھ آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی آر اوز سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی! سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں پک اینڈ چوز تو نہیں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو، نو ، یہ پوسٹڈ ہیں، ہم نے پک اینڈ چوز نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ پورے پاکستان کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کردیتا ہے ؟لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کا مقصد بظاہر الیکشن نہ کرانے کےلئے تھا،ہم بہت کلیئر ہیں، ہم نے آپ سے کہا تھا ہم آپ کا کام کرائینگے، میں حیران ہوں عدلیہ سے ایسے آرڈر پاس ہو رہے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ بتائیں آپ نے ٹریننگ کیوں روکی، نوٹیفکیشن معطل ہوا، ٹریننگ تو نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ریٹرننگ افسران لئے تھے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک بھر میں کتنے ڈی آر اوز اور آر اوز تھے؟ جو ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کے ہیں وہ تو چیلنج ہی نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمشن افسران اور ڈپٹی کمشنرز بھی انتخابات نہ کرائیں تو کون کرائے گا؟ تمام ڈی آر اوز متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز ہیں،اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کرانا ہی مقصد نظر آتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کئے گئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر خان نیازی کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کل بلوچستان میں پٹیشن چلی جائے، وہاں پنجاب کے لوگ پٹیشن دیتے ہیں، سندھ والے خیبرپختونخوا میں جا کر پٹیشن دیتے ہیں، یہ بہت حیران کن ہو گا، ایسے تو کوئی کل کو آ کر کہے کہ کہ عدلیہ پر اعتماد نہیں تو پھر کیا کریں گے،عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج الیکشن شیڈول جاری ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل کا موقف سنا گیا تھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاونت کیلئے نوٹس تھا لیکن ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں اٹارنی جنرل کا ذکر ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سماعت سے قبل مجھ سے ہدایات لی تھیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر پورے ملک میں حکم جاری کردیا، سپریم کورٹ نے انتخابات کا حکم دیا ہائیکورٹ نے کیسے مداخلت کی؟ درخواست گزار نے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کا مسئلہ یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرز نے ہمارے خلاف ایم پی اوز کے آرڈر کئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے،ہائی کورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کیخلاف رٹ جاری کی ہے؟ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟کیوں نہ عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہوجائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست دی گئی ہے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست نہیں دی گئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ریٹرننگ افسر جانبدار ہو تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد افسر اکیلے عمیر نیازی کیخلاف جانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں،الیکشن شیڈول کب جاری کریں گے؟ کہاں ہے شیڈول ؟ کچھ تو بنایا ہوگا؟ ابھی تک جاری کیوں نہیں ہوا؟ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹریننگ کےبعد انتخابات کا شیڈول جاری کریں گے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ پہلے ٹریننگ کرینگے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رات کو ٹریننگ کروا دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں، یا تو بتائیں یا سب کو بلالیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپکو کو ڈی آر اوز اور آراوز کی ضرورت تو آگے جا کر ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ نے پتہ نہیں شیڈول کیوں روک دیا؟ٹریننگ بلاوجہ کیوں روکی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن بھی انتخابات نہیں چاہتا؟ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز کی معطلی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟ عدالتیں نوٹیفکیشن معطل کریں تو متعلقہ ادارہ معطلی کا نوٹیفیکیشن نہیں جاری کرتا، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ افسران کو الیکشن کمیشن نے حکم دینا ہوتا ہے،

    سپریم کورٹ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا 13 دسمبر کا حکمنامہ غیر قانونی قرار دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی،سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا، درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیرآئینی قرار دینے کی استدعا تھی، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی، تمام فریقین آٹھ فروری کی تاریخ پر متفق تھے،وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، الیکشن کمیشن کے مطابق ہائی کورٹ آرڈر کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،وکیل کے مطابق ہائی کورٹ حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈیول جاری کرنا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ انتخابات سے آج تک کسی نے یہ شقیں چیلنج نہیں کیں،سجیل سواتی کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے، وکیل کے مطابق کیس لارجر بنچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفیکیشن معطل کیا گیا،

    پی ٹی آئی کی وکیل مشعل یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئیَں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم حکم نامہ لکھو رہے ہیں مداخلت نہ کریں، آپ کون ہیں کیا آپ وکیل ہیں؟جا کر اپنی نشست پر بیٹھیں،آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشعل یوسفزئی سپریم کورٹ وکیل نہیں ان کا بولنا نہیں بنتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دوبارہ مداخلت کی تو توہین عدالت کا نوٹس دینگے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا،ہائی کورٹ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ افسران نے ملک بھر میں خدمات انجام دینی ہیں، ہائی کورٹ نے اپنے علاقائی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا،عدالت نے استفسار کیا کسی ریٹرننگ افسر کیخلاف درخواست آئی تھی؟ الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی،عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا،بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟سپریم کورٹ نے عمیر نیازی کو نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا،اور کہا کہ لاہور ہائی کورٹ مزید کاروائی نہ کرے،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے،

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کو فوری انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابات کا شڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج باقر نجفی نے مس کنڈکٹ کیا. آئندہ کوئی بھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کرے, الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذ مے داریاں جاری رکھے،

    عمیر نیازی کو نوٹس جاری، الیکشن کمیشن آج ہی شیڈول جاری کرے،لاہور ہائیکورٹ درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کریگی،سپریم کورٹ

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن تین رکنی بنچ کا حصہ نہیں بنے،جسٹس اعجاز الاحسن کی کچھ اور مصروفیت تھی، جسٹس منصور علی شاہ کو سینئر جج ہونے پر گھر سے بلایا ہے،یہ وقت شفافیت اور احتساب کا ہے،جو بنچ یہ مقدمہ سن رہا ہے اس کی منظوری جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی دی،اب میں اکیلے بنچ تشکیل نہیں دے سکتا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات ختم ہونے کے بعد،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے اپیل میں لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی کورٹ روم نمبر ایک میں عملہ پہنچا،سپریم کورٹ کے بند دفاتر بھی کھول دیے گئے تھے، درخواست وصول کرنے والا عملہ بھی پہنچ چکا ہے،،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی، سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،اس موقع پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 8فروری کو انتخابات سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، درخواست تیار کرلی ہے،کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کردیں گے،جسٹس منصور علی شاہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے کمرہِ عدالت نمبر ون میں تین کرسیاں لگا دی گئی ہیں،

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئےہیں، صحافی بھی کوریج کے لئے سپریم کورٹ میں موجود ہیں، اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں اور خلائی مخلوق کی بڑی تعداد کس بے چینی کا اظہار کررہی ہے؟”

    گزشتہ روز خبریں سامنے آئی تھیں کہ الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائے گا جسکی الیکشن کمیشن نے فوراً سختی سے تردید کر دی۔اور کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ نہیں کیا ،تا ہم آج الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سےیوٹرن لیا اور آج سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی

    الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے، الیکشن کمیشن پولنگ ڈے سے 54 روز قبل انتخابی شیڈول جاری کرنے کا پابندہے، اگر آٹھ فروری کو پولنگ ہو گی تو اس حساب سے الیکشن کمیشن کو کل ہر حال میں انتخابی شیڈول جاری کرنا پڑے گا،انتخابی شیڈول کے مطابق 17 دسمبر پہلا دن اور 8 فروری 54واں دن بنتا ہے، اگر کل الیکشن شیڈول جاری نہ ہو سکا تو الیکشن لیٹ ہو سکتے ہیں،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ ، خواجہ سعد رفیق نے حلقہ بندیوں کے حوالہ سے بھی درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ بندیاں ن لیگ کی درخواست پر کالعدم قرار دی ہیں، آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کوہاٹ کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے ہیں، ایسے میں ان حلقوں میں حلقہ بندیوں کا فیصلہ بھی الیکشن کمیشن کو کرنا ہے، جب تک حلقہ بندیوں کا فیصلہ نہیٰں ہو گا الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں؟

    آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا ،مظہر عباس
    سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے مسئلے چل رہے ہیں ، الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ،لوگ گرفتار ہو رہے ،پی ٹی آئی کو اس وقت الیکشن سوٹ نہیں کرتے ، اب اگر الیکشن وقت پر ہوتے ہیں پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو سوٹ کرتے ہیں، پی ٹی آئی مشکلات کی وجہ سے ابھی الیکشن کی ریس میں نہیں ہے،الیکشن لیٹ ہو گاتو سوال تو ہو گا، آئینی سوال ہو گا، آپکا سینیٹ مارچ میں آدھا خالی ہو رہا ہے، یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے،تحریک انصاف کے لئے امیدوار تلاش کرنا پھر پولنگ ایجنٹ ہر بوتھ کے لئے مسئلہ بن چکا ہے، آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا کیونکہ چیف جسٹس نے واضح کہا تھا کہ کوئی ابہام پیدا نہ کیا جائے، اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا ہے

    کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد آئینی ادارہ ہے ۔ملک میں الیکشن کروانا صرف الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے ۔کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔ملکی حالات اور آئین کا تقاضا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔ مسلم لیگ (ن) انتخابات مقررہ وقت پر ہونے کی مکمل حمایت کرتی ہے

    الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحال لاہور ہائیکورٹ کے حکمنامے کی نقل ہی مل سکی ہے، الیکشن کمیشن کے رجوع کے باوجود لاہور ہائیکورٹ نے تاحال حکمنامہ کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی،

  • سپریم کورٹ، زمین کے بدلے معاوضہ دینے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ، زمین کے بدلے معاوضہ دینے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ میں پرائیویٹ زمین پر سکول بنانے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی خود سے آپکی زمین پر کیسے سکول بنا سکتا ہے؟ آپ نے سرکار سے کہا ہوگا تبھی آپکی زمین پر سکول بنا ہوگا، لوگ تحفہ میں اپنی زمین دیکر وہاں درسگاہیں بنواتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہماری زمین پر بنا اجازت سکول بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سکول بنانے کی منظوری 1994ہوئی تو درخواست 20سال بعد کیوں دائر کی؟آپکا پورا خاندان گاوں میں رہا اور کسی نے آکرسکول بنانے والوں سے نہیں پوچھا،
    تعلیمی درسگاہ بنا کر آپ نے ثواب کا کام کیا ہے، آپ اتنا ثواب کو پیسوں میں تبدیل کرکے کیوں خراب کرنا چاہتے ہیں؟ سکول بنانا صدقہ جاریہ ہے، آخرت میں اسکا ثواب ملتا رہے گا،

    سپریم کورٹ نے نعمت اللہ کی زمین کے بدلے معاوضہ دینے کی درخواست خارج کر دی ،تعلیمی درسگاہ ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقہ لاکھرا میں بنائی گئی تھی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی.

  • شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بینچ کا حصہ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ، یوٹیوب پر براہ راست نشر کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا،سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزمات درست ہیں، کیا وہ جنرل جن کو آپ فریق بنانا چاہتے ہیں وہ خود 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟اگر شوکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے،جس کی یہ جنرل سہولت کاری کر رہے تھے وہ کون تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں،یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے،

    شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون تھا؟ جس کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے سہولت کاری کی،آپ سہولت کاروں کو فریق بنا رہے ہیں، اصل بنیفشری تو کوئی اور ہے،آپ نے درخواست میں اصل بنیفشری کا ذکر ہی نہیں کیا، آپ نے لوگوں کی پیٹھ پیچھےالزامات لگائے،جن پر الزامات لگائے گٸے وہ کسی اور کیلئے سہولت کاری کر رہے تھے، سہولت کاری کرکے کسی کو تو فائدہ پہنچایا گیا،آئین پاکستان کی پاسداری نہ کرکے وہ اس جال میں خود پھنس رہے ہیں،سہولت کاروں کو فریق بنا لیا ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کیوں نہیں بنایا؟ وکیل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فائدہ کس نے لیا ایسی کوئی بات تقریر میں نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کی درخواست میں عدالت کا اختیار شروع ہوچکا ہے،فوجی افسر کسی کو فائدہ دے رہے تو وہ بھی اس جال میں پھنسے گا، وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج شاید مرضی کے نتائج لینا چاہتی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوار جیتے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج نے اپنے امیداواروں کو جیپ کا نشان دلوایا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کبھی تو ملک میں سچ کی جان جانا ہی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ستر سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ستر سال سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوج ایک آزاد ادارہ ہے یا کسی کے ماتحت ہے؟ فوج کو چلاتا کون ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج حکومت کے ماتحت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت فرد نہیں ہے، جو شخص فوج کو چلاتا ہے اس کا بتائیں،جب آپ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم آئین کے مطابق چلیں گے، یہ آسان راستہ نہیں ہے،شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،سپریم کورٹ کو کسی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کندھے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی ایک سائیڈ کی طرف داری نہیں کریں گے،وکیل بار کونسل صلاح الدین نے کہا کہ سابق جج نے اپنے تحریری جواب میں جن لوگوں کا نام لیا ہم انکو فریق بنا رہے،شوکت عزیز صدیقی نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی اور کو فائدہ دینے کی بات نہیں کی،مفروضے پر ہم کسی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی کا نام نہیں لے سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بھی مفروضے ہیں،

    نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار ایسوسی ایشن کے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کا بھی نام لکھ دیں تو اسے نوٹس کر دیں،کیا شوکت صدیقی بیرسٹر صلاح الدین کا نام لکھ دیں تو آپ کو بھی نوٹس کر دیں؟ کیا ہمارے کندھے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟ وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم پر دباو ڈال کر نواز شریف کو نکالا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سے فائدہ کس کا ہوا؟ کیا سندھ بار یا اسلام آباد بار کو فائدہ دینے کے لیے یہ ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ ہم نے انکوائری کی درخواست کی تا کہ حقائق سامنے آئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ اگر سندھ بار شوکت صدیقی کی ہمدردی میں آئی کہ ان کو پنشن مل سکے تو یہ 184 تھری کا دائرہ کار نہیں بنتا، ہمیں نا بتائیں کہ انکوائری کریں یا یہ کریں، آپ معاونت کریں جو کرنا ہے ہم کریں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ مسئلہ یہ کہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا الزام ہے، ہمارے بندے کو استعمال کر کے کیوں کہا گیا کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے باہر نا آئے؟ وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ الزام فیض حمید پر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بار کونسلز کیوں اس کیس میں آئیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم تحقیق چاہتے ہیں کہ کیا واقعی شوکت صدیقی کی برطرفی عمران خان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم طریقے سے چلیں گے، شوکت صدیقی کو پنشن تو سرکار ویسے بھی دے دے گی، شوکت صدیقی 62 سال سے اوپر ہو چکے واپس بحال تو نہیں ہو سکتے،سسٹم میں شفافیت لا رہے ہیں 10 سال پرانے کیسز مقرر کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر مسئلہ صرف پنشن کا ہے تو سرکار سے پوچھ لیتے ہیں آپ کو دے دیں گے، اگر پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہاں لوگ آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، آلے کے طور پر استعمال کون کرتا ہے؟ ماضی میں جو ہوتا رہا وہ سب ٹھیک کرنا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لینے سے روکا جب کہ اس ملک کی حقیقت یہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہمارے منہ میں الفاظ نا ڈالیں، یہ آئینی عدالت ہے یہاں آئینی زبان استعمال کریں،ہمارا موقف واضح ہے کہ کہاں سیاسی دائرہ اختیار ختم اور عدالتی دائرہ شروع ہوتا ہے،آپ کا کیس کب سے مقرر نہیں ہوا یہ الزام ہمارے سامنے کھڑے ہو کر لگائیں ہم معذرت کریں گے، الیکشن کی تاریخ سے متعلق سیاسی جماعت آئی تو 12 روز میں ہم نے فیصلہ کیا،ملک میں کب اتنی جلدی کیس کا فیصلہ ہوا ہے؟ ہم نے آئینی اداروں کو حکم دیا کہ انتخابات کرانے کی زمہ داری پوری کریں، مسئلہ یہ ہے کوئی ادارہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر میں فیض آباد دھرنے کو سپانسرڈ قرار دیا گیا ہے،فیض آباد دھرنا سپانسر کس نے کیا تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے خود دھرنا کیس کا فیصلہ دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو چھوڑیں جو شوکت صدیقی نے لکھا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی سے کس قسم کا حکم چاہتے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ بریگیڈیئر فیصل مروت نے بول ٹی وی کو آئی ایس آئی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے شعیب شیخ کی بریت کا کہا، بریگیڈئیر عرفان رامے نے بھی بول کے حوالے سے بات کی تھی، ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کو پچاس لاکھ رشوت دیکر شعیب شیخ کو بری کروایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ وہ ناراض ہیں، اس سنی سنائی بات پر قمر جاوید باجوہ کو کیوں نوٹس کر دیں ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے زیادہ نام فیض حمید کا لیا ہے،قمر باجوہ سے متعلق گفتگو تو سنی سنائی ہے، قمر باجوہ نے شوکت عزیز صدیقی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وہ بنچ بنایا تھا جو فیض حمید چاہتے تھے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا، فیض حمید چاہتے تھے الیکشن 2018 سے پہلے نوازشریف کی ضمانت نہ ہو، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نوازشریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نوازشریف بری ہوگئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنرل باجوہ سے تو کڑی نہیں جڑ رہی،آپ کہتے ہیں کہ فیض حمید جنرل باجوہ کے کہنے پر آئے، جنرل قمر جاوید باجوہ پر تو براہ راست الزام ہی نہیں،آج کل تو لوگ کسی کا نام استعمال کر لیتے ہیں،رامے بھی اس کیس سے غیر متعلقہ ہیں،زیادہ تر فیض باجوہ کی بات کی ہے آپ نے۔ آپ نے جن کے نام دئیے ہیں ان کا کیا کردار تھا یہ ثبوت کے ساتھ دیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جتنے جذبات تھے پانچ سال میں ٹھنڈے ہوگئے،

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری کر دیا، بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،تین افراد جنہیں شوکت عزیز صدیقی نے فریقین بنایا تھا ان کا براہ راست تعلق نہیں، جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، طاہر وفائی، بریگئیڈیئر فیصل مروت کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،کیس کی سماعت چھٹیوں کی تعطیلات کے بعد ہوگی،در خواست گزاروں کی ایڈریسز کے ترمیمی درخواستیں ایک ہفتے میں دائر کی جائیں، ترمیمی درخواستیں آنے کے بعد سپریم کورٹ آفس نوٹس جاری کرے گا، کیس کی آئندہ حتمی تاریخ ججز کی دستیابی کے بعد طے کریں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی،درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • مونس الہیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ مقدمہ،ایف آئی اے سے مزید ریکارڈ طلب

    مونس الہیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ مقدمہ،ایف آئی اے سے مزید ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ، مونس الٰہی کیخلاف منی لانڈرنگ مقدمہ کالعدم قرار دینے کےخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے مزید ریکارڈ طلب کر لیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مونس الٰہی سمیت گیارہ ملزمان پر جعلی اکائونٹنس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت تفصیلی ہے، نیب سمیت کئی ادارے ان اکائونٹس کی تحقیقات کر چکے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ایک ہی معاملے کی بار بار تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کر رہا تھا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ جن اکائونٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں وہ کب کے ہیں؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ اکائونٹنس 2007 میں بنے کچھ 2010 سے 2014 تک،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ نیب نے 2020 میں تحقیقات ختم کیں احتساب عدالت نے اس کی توثیق کی، کیسے ممکن ہے نیب نے اس معاملے کا جائزہ ہی نہ لیا ہو، ڈپٹی اٹارنی جنرلنے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ سے منی لانڈرنگ کا معاملہ سامنے آیا،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ شوگر کمیشن تو چینی کی قیمت کے حوالے سے تھا،جس رحیم یار خان مل کا کیس بنا رہے ہیں اسکی تو کمیشن نے تحقیقات کی ہی نہیں، ابھی تک ایف آئی اے واضح نہیں کر سکا کہ کہانی شروع کہاں سے ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون 2010 میں بنا، اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا؟ آپکے بقول مقدمہ کی بنیاد ہی 2007 کا اکائونٹ ہے، نیب ریفرنس کی تفصیلات اور ریکارڈ پیش کریں پھر فیصلہ کرینگے مونس الٰہی کو نوٹس جاری کرنا ہے یا نہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مقدمہ ختم کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہائی کورٹ کو مقدمہ پہلی سماعت پر ہی ختم کرنے آئینی اختیار حاصل ہے،سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی.

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    مونس الہی کی منجمد ہونے والی جائیداد اور بینک اکاونٹس کی تفصیلات 

  • سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    الیکشن کمیشن نے میڈیا چینلوں پر چلنے والی خبر کی سختی سے تردید کی ہے

    ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خبر میں الیکشن کمیشن کے ذرائع کے حوالے سےسپریم کورٹ جانے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ خبر بے بنیاد ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان ایسی مبہم خبروں کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان، شفاف انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے، اس حوالے سے تمام اہداف کو بروقت مکمل کیا جا رہا ہے۔

    قبل ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق کہا گیا تھا کہ ڈی آر اوز اور آر اوز کا نوٹیفیکیشن لاہور ہائیکورٹ سے معطل ہونے کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے کل سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا-نجی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال سپریم کورٹ کے سامنے رکھی جائے گی، سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کل رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کا امکان ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن کے ہمراہ ڈی جی لا بھی سپریم کورٹ جائیں گے-ذرائع کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ کو تحریری اور زبانی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا، چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی سفارش کی تھی، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں کسی بھی رکاوٹ سے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی-

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن پاکستان کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا یا تھا عدالت نے پنجاب میں انتخابات ایگزیکٹو سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی تھی-

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کرانے پر قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں اگر بڑی جماعتیں انتخابی نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہو گا۔ الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فیئر الیکشن کرانے ہیں اور شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں،موجودہ صورتحال میں عام انتخابات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے جس سے جمہوریت کا مستقبل کمزور ہو سکتا ہے، درخواست میں قومی ایشو سے متعلق نشاندہی کی گئی لہٰذا لارجر بینچ کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوائی جاتی ہے۔

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

  • بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک کی مہلت

    جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک کی مہلت

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کی استدعا منظور کرلی

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کمرہ عدالت پہنچ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی زیر صدارت اجلاس کمرہ عدالت نمبر 1 میں ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم دیکھ لیتے کوئی شکایات میں وزن ہے یا نہیں،ہوسکتا ہے ساری شکایات بے بنیاد ہوں مگر آپ جواب دیں گے تو پتا چلے گا،آپ شوکاز کا جواب نہیں دینا چاہتے کہہ دیں نہیں دینا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ صرف بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی تک جواب کیوں نہیں دیا،میں نے آپ کو دو خطوط لکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کو خط آپ کو خط لگا رکھی ہے؟کیا ہر ایک خط پر ایک چیف جسٹس لاہور ایک کوئٹہ سے آئے؟لاہور اور کوئٹہ سے سفر کر کے آنے کا ٹیکس عوام دے رہی ہے،جو درخواست کرنی ہے سپریم جوڈیشل کونسل سے کریں مجھ سے نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں اگر یہ تاثر گیا کہ میں آپ کو انفرادی طور پر کہہ رہا ہوں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نےا جسٹس مظاہر نقوی کو جواب دینے کیلئے وقت دینے کا فیصلہ کر لیا،چیئرمین جوڈیشل کونسل نے کہا کہ تفصیلی جواب دینے کیلئے وقت دے دیتے ہیں،اپنے ساتھی جج کیخلاف کاروائی کرنا بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ ساتھی جج کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال و جواب کریں،اپنے ساتھی ممبران سے مشاورت کے بعد واپس آتے ہیں،پاکستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مزید وقت دینے کی مخالفت کر دی، کونسل نے حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ مزید وقت دینے سے آپ کی کیا حق تلفی ہوگی؟آپ کے گواہان کون ہیں؟حسن رضا پاشا نے کہا کہ گواہان میں آڈیو لیکس والے افراد ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آڈیو لیکس میں دیکھنا ہوگا کہ آڈیوز درست ہیں یا نہیں،آج کل تو کوئی بھی آڈیوز توڑ مروڑ کر بنا دیتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی نقوی کیخلاف ریفرنس،سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی 11 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو جواب جمع کرانے کیلئے یکم جنوری تک مہلت دے دی اور کہا کہ یکم جنوری 2024 کے بعد کوئی مہلت نہیں دی جائے گی،اٹارنی جنرل سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کنڈکٹ کرنے کیلئے پراسیکیوٹر مقرر کر دیئے گئے ،خواجہ حارث نے اٹارنی جنرل پر اعتراض کیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل پاکستان بار کے چیئرمین ہیں جو ہمارے خلاف شکایت گزار ہے، سپریم جوڈیشل کونسل نے خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کردیا

    قبل ازیں جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرنے کا مطالبہ کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے خلاف کارروائی کے حوالہ سے جوڈیشل کونسل کو خط لکھا ہے، جس میں کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کھلی سماعت کا حق تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ میری درخواست ہے کہ میرے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی کھلی سماعت کی جائے، پاکستان کا آئین مجھے کھلی سماعت کا حق دیتا ہے، میں نے جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے ہیں، کونسل کے ان کیمرا اجلاس کی وجہ سے میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، کونسل کارروائی کی وجہ سے مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، شفاف ٹرائل کا تقاضہ ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے،

    خط میں استدعا کی گئی ہے کہ جب تک میری درخواستوں پر فیصلہ نہیں آتا تب تک جوڈیشل کونسل کی کارروائی روک دی جائے، میری جوڈیشل کونسل کے سامنے متعدد درخواستیں زیرِ التواء ہیں، 13 نومبر کو میں نے نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، میری دونوں درخواستیں 15 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں.

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 دسمبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا ہے اجلاس جمعرات کو ججز بلاک کانفرنس روم میں ڈھائی بجے ہوگا، سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے پانچوں ممبران کو نوٹس بھیج دیا ہے۔