Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تاحیات نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں کتنی درخواستیں ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں( جو کہ 5 سال ہے) اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا موقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے،

    میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی،وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ درخواست گزار ثناء اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کی موقف کی تائید کردی،صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قتل اور ملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 میں فرق کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ممبران کی اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 62 کی وہ ذیلی شقیں مشکل پیدا کرتی ہیں جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہیں، کسی کے کردار کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟کیا اٹارنی جنرل اچھے کردار کے مالک ہیں؟ اس سوال کا جواب نا دیجیے گا صرف مثال کے لیے پوچھ رہا ہوں، اٹارنی جنرل کے اسپورٹرز کہیں گے آپ اعلی کردار جبکہ مخالفین بدترین کردار کا مالک کہیں گے، اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھرایا نہیں جا سکتا،ہم تو گنہگار ہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں، آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیریشن اپنی جگہ قائم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہو چکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی،جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا، عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اسلیے نااہلی کم ہے،عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، ایک مسلمان "صادق” اور "امین” کے لفظ آخری نبی کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا،اگر میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے جاوں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا،کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ڈی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اچھے کردار کا مالک ہو اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی نا کرے تو اہل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے؟اگر اچھے کردار والا اصراف نہیں کرسکتا تو پھر وضو کے وقت پانی ضائع کرنے والا بھی نااہل ہے،الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے،ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں،صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا،بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر فوجداری مقدمات میں عدالت کسی شخص کو جھوٹا قرار دے کہ اس نے عدالت کو گمراہ کیا ہے، کیا اس پر آرٹیکل 62 1 ایف لگے گا؟کل وہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا کہ کوئی اعتراض کردے گا تمہیں عدالت نے جھوٹا قرار دیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت صاحب سول کیسز کے ماہر ہیں ان سے رائے لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ شہزاد شوکت صاحب آپ قانون کی حمایت کرہے ہیں یا مخالفت ، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ میں قانون کی حمایت کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کرہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،وکیل درخواست گزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تاحیات نااہلی کے حق میں ہیں یا مخالفت میں ؟ عثمان کریم نے کہا کہ میں تاحیات نااہلی کے تب تک حق میں ہوں جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،

    مسٹر مخدوم علی خان، آپ روسٹرم پر آ جائیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ میں موجودہ کیس میں جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا ، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی جنرل ضیاء الحق نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں ، کیا ضیا الحق کا اپنا کردار اچھا تھا ؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں،جس شخص نے حلف اٹھانے کے بعد آئین توڑا وہ اعلی کردار کا مالک کیسے ہوسکتا؟ایک ڈکٹیٹر نے آرڈیننس کے تحت 1985 میں آئین میں شقیں ڈال دی،ان شقوں کے تحت تو قائد اعظم کو بھی تاحیات نااہل کیا جاسکتا تھا،مخدوم صاحب کیا آپ کسی ایسے فریق کو جانتے ہیں جو تاحیات نا اہلی کا حامی ہو؟شعیب شاہین کہاں گئے شاید ان کے پاس کوئی پوائنٹ ہو،

    عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں،ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے ،بڑے بڑے علما روز آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں ،وکیل درخواستگزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کررہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کیخلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ایک شخص کو کرپشن کے مقدمے میں جیل ہو گئی اور وہ سزا مکمل کر کے پانچ سال بعد الیکشن کے لیے اہل ہو گیا مگر کسی کو عدالت نے کرپٹ قرار دیا مگر جیل نہ ہوئی تو وہ عمر بھر کے لیے نااہل ہو گیا؟

    تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت پرسوں 4 جنوری تک ملتوی کر دی گئی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہوگی یہ تاثر نہ دیا جائے کہ تاحیات نااہلی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کیلئے ہو رہی،کوئی سیاسی جماعت یا انفرادی شخص کی بات نہیں ہم صرف آئینی و قانونی حیثیت دیکھ رہے ہیں

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں  چیف جسٹس

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں کوہاٹ پی کے 91 ریٹرننگ افسران معطل کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں ،جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں ،ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا،پشاور ہائی کورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کنیسل کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائیکورٹ میں ریٹرنگ افسر تبدیلی کی پٹیشن فائل کرنے والے پٹشنر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں نوٹس کئے بغیر ہی اپوائٹمنٹ کنسیل کر دی،پشاور ہائی کورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ،سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن کو سنے بغیر کیسے عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے، کیا آپ چاہتے ہیں پورا الیکشن ہی رک جائے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا؟ بلاوجہ کی درخواستیں کیوں دائر کی جا رہی ہیں،ابھی آرڈر کر دیتے ہیں ریٹرننگ آفیسرز سکروٹنی جاری رکھے، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظورکر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی تھی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی،کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا

    سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کیس میں تاحیات نا اہلی سے متعلق نوٹس پر بینچ تشکیل دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی7رکنی لارجر بینچ کے سربراہ ہوں گے ،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں،کیس پر سماعت کل ہوگی

    گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ نااہلی کی مدت کے سوال والے کیسز جنوری کے آغاز پر مقرر کئے جائیں، کیس کے زیرِ التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم 5 رکنی بنچ ضروری ہے فریقین کے وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے۔

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پانامہ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی فرم سے لی جانے والی ممکنہ تنخواہ ظاہر کرنے میں ناکامی پر آرٹیکل ون ایف کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کیلئے نااہل قرار دیا تھا نواز شریف کی اس نااہلی کو تاحال ختم نہیں کیا گیا ہے۔

  • فیض آباد دھرنا کیس ،شہباز شریف کی طلبی ہو گئی

    فیض آباد دھرنا کیس ،شہباز شریف کی طلبی ہو گئی

    فیض آباد دھرنا کیس ،سابق وزیراعظم شہباز شریف کو انکوائری کمیشن نے تحقیقات کے لئے طلب کر لیا

    انکوائری کمیشن نے شہباز شریف کو 3 جنوری کو طلب کیا ہے،نجی ٹی وی جیو کےمطابق شہباز شریف کو سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے طلب کیا گیا ہے،انکوائری کمیشن شہباز شریف سے بیان قلمبند کرے گا، انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ 22 جنوری کو سپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے

    اس سے قبل سابق وزیر داخلہ احسن اقبال , فواد حسن فواد اور اس وقت کے ایس ایس پی اسلام آباد بھی اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے بعد کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے,شاہد خاقان عباسی اس وقت وزیراعظم تھے جب فیض آباد دھرنا ہوا تھا، وہ اگست 2017 سے 31 مئی 2018 تک وزیراعظم رہے ،راولپنڈی میں فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا گیا تھااور وہ پیش ہو گئے تھے،

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل  اختر علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا، جن میں سابق آئی جی طاہر عالم اور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ خوشحال خان بھی شامل ہیں

  • لیول پلیئنگ فیلڈ ،تحریک انصاف کے وکیل چیف جسٹس کے سامنے پیش

    لیول پلیئنگ فیلڈ ،تحریک انصاف کے وکیل چیف جسٹس کے سامنے پیش

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے،سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ درخواست پر 3 جنوری کو سماعت کرے گا

    تحریک انصاف کے وکیل انتظار حسین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہماری لیول پلئینگ فیلیڈ میں توہین عدالت کی درخواست تین جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کر ہی دی ہے

    سپریم کورٹ،پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا معاملہ،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش ہو گئے

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں،لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کیلئے توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقفہ کے بعد آجائیں آپکو سن لیتے ہیں،

    پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم وقفے کے بعد کمرہ عدالت سے غائب ہو گئی،بینچ وکلاء کی عدم موجودگی کے باعث اٹھ کر چلا گیا،بعد میں‌پی ٹی آئی وکلاء کی رجسٹرار سے ملاقات ہوئی،ایڈوکیٹ شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ ہماری رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے، رجسٹرار نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہائی کرا دی ہے،آج یا کل ہماری درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو جائیگی،ہماری عدلیہ واحد امید ہے، عدلیہ نے مثبت کردار ادا نہ کیا تو ذمہ داری عدلیہ پر ہی آئے گی،نو مئی کو الیکشن ہو جاتے تو یہ حال نہ ہوتا، سپریم کورٹ کے فیصلوں‌پر عمل ہونا چاہئے تھا، اب آٹھ فروری کا حکم ہے تو صاف شفاف الیکشن ہو،ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی، جمعرات جمعہ کو سپریم کورٹ کی چھٹی ہو گئی، اب ہم یہ استدعا کرنا چاہتے ہیں کہ آج یا کل اس درخواست کو سنیں، جس طرح کی صورتحال ہے اس میں پھر الیکشن نہ کروائیں،سیدھا وزیراعظم بنا دیں، تماشے بند کریں، ہمیں عدلیہ سے امید اسلئے کہ کاغذوں میں آئین موجود ہے،میں پی ٹی آئی کا ترجمان ہوں، ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچیں، متعصب جج دیکھ لیں، لیکن ہماری طرف سے کوئی گفتگو نہیں کی گئی، پی ڈی ایم کی پچھلے ہفتے کی گفتگو دیکھ لیں انہوں نے کیاکہا، ہمارا عدلیہ کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

  • کاغذات نامزدگی مسترد ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    کاغذات نامزدگی مسترد ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    پی ٹی آئی نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نےاسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آئین کسی کو بھی الیکشن لڑنے سے نہیں روکتا،یہاں لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، 300 سے زائد کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں، ہم ان ہتھکنڈوں کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں، ہر حال میں ہر قیمت پر پاکستان تحریک انصاف الیکشن لڑے گی، یہی ہماری سٹریٹجی تھی کہ ہر حلقے سے اپنا امیدوار کھڑا کیا جائے، ہائی کورٹ نے اجازت دے دی ہے عمران خان خود ٹکٹ جاری کریں گے، امید ہے سپریم کورٹ اف پاکستان سے ہمیں انصاف ملے گا،

    واضح رہے کہ عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج سے اپیلیں سنی جائیں گی، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • ریٹرننگ افسر کی معطلی،الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ میں چیلنج

    ریٹرننگ افسر کی معطلی،الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ: کوہاٹ سے ریٹرنگ افسر عرفان اللہ کی بطور ریٹرنگ آفیسر معطلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کر دی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : 24 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں اپیل کا حق دینے کا سیکشن 5 کالعدم قرار دیا جاتا ہے، آرٹیکل 184 تین کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دینا آئینی ترمیم سے ممکن ہے اپیل کا حق دینا بلا شبہ ایک مثبت اقدام ہے، اگر پارلیمنٹ 184 تین کے کیسز میں اپیل دینا چاہتی ہے تو آئینی ترمیم کا درست راستہ اپنائے، سادہ قانون سازی سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا سیکشن 5 پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے پر سماعت،فیصلہ محفوظ

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ اٹارنی جنرل اور ایکٹ کے حامی تمام وکلاء پارلیمنٹ کی مداخلت کا دفاع کرنے میں ناکام رہے، پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں میں اپیل کا حق دے کر ایک نیا دائرہ اختیار متعارف کرایا پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار میں اپیل شامل نہیں کر سکتا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل گئے

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی پریکٹس اینڈ پروسیجر کا سیکشن 5 کالعدم قرار دینے والے 6 ججز میں شامل تھے۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام باد: سپریم کورٹ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا تحریر کردہ 22 صفحات پر مشتمل پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحریری فیصلے میں کہا کہ آئین پارلیمنٹ کو پریکٹس اینڈ پروسیجر سے متعلق قانون سازی کا مکمل اختیار دیتا ہے، آرٹیکل 184/3 کے فیصلےکے خلاف اپیل کا حق دینے کی قانونی شق پر 6 ججز نے اختلاف کیا، 6 کے مقابلے میں 9 کی اکثریت سے قانون بننے کے بعد اپیل کا حق آئینی قرار دیا جاتا ہے، اپیل کا اطلاق ماضی کے کیسز پر دینے والی شق کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اپیل کا حق ماضی سے دینےکی قانونی شق کی مخالفت 8 ججز نے کی۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، اس ایکٹ سے کسی طرح کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے اور ایکٹ انصاف تک رسائی اور بنیادی حقوق کو یقینی بناتا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں،اداروں کےدرمیان باہمی احترام کےآئینی تقاضے ہیں،باہمی احترام کا تقاضا ہےکہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی رائےکو اپنی رائے سے تبدیل نہ کرے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی نہیں ہے، اس سے شفافیت اور انصاف تک رسائی میں مدد ملےگی، چیف جسٹس اور 2 سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی سے عدلیہ زیادہ بااختیار ہوگی-

    پیپلزپارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو بچاسکتی ہے،بلاول بھٹو

    فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے8 جون کو کہا کہ کیس جولائی میں سماعت کیلئے مقرر ہو گا، جولائی اور اگست دو ماہ تک کیس سماعت کیلئے مقرر ہی نہ ہو سکا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف دائر کی گئی درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا، سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بنچ نے کیس سنا لیکن رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا معاملہ زیر غور ہی نہیں لایا گیا، آئین پاکستان نے چیف جسٹس پاکستان کو فرد واحد کی حیثیت سے یہ حق نہیں دیا کہ وہ اکیلے فیصلہ کرے آئین کے تحت سپریم کورٹ کو سات اختیارات دیئے گئے ہیں، شفاف ٹرائل کے اصول کے تحت عدالتیں آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے کی پابند ہیں، ہر جج حلف کے تحت قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔

    انٹر بینک میں ڈالر مزید سستا

    فیصلے میں کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دنیا بھر کے قوانین کے ساتھ شرعی تقاضہ بھی ہے، درخواست گزاروں کے دیگر نکات پر غور کرنا اکیڈمک بحث ہوگی جس میں عدالت کو نہیں پڑنا چاہیے پریکٹس اینڈ پروسیجر کےقانون بننے سےپہلے ہی عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا جب کہ آئین سپریم کورٹ کو لامحدود اختیارات نہیں دیتا، آئین چیف جسٹس پاکستان کو اکیلے ہی فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیتا، چیف جسٹس کا ماسٹر آف روسٹرز ہونا آئین میں کہیں نہیں لکھا، جمہوریت کی بنیاد پر قائم آئین میں ماسٹر کا لفظ تضحیک آمیز ہے، ماسٹر کا لفظ غلامی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہےجو آئین اور شرعی اصولوں کےخلاف ہےشرعی اصول بھی ایک سے زائد افراد کےدرمیان معاملے میں مشاورت لازمی قرار دیتے ہیں۔ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنا دراصل دوسروں کو اہمیت نہ دینے کے مترادف ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافہ

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے سے ملک اور عوام کو ہمیشہ نقصان ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ دیگر عدالتوں پر لاگو ہوتا ہے مگر خود سپریم کورٹ پر نہیں، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کو چھوٹے بینچز کے فیصلوں پر فوقیت دی جاتی ہے، آئینی روایات کو قانون کی طرز پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

  • سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی درخواست کے مقرر کرنے کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی اپیل کو چھٹیوں میں مقرر کرنے کی استدعا مسترد کر دی

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ چھٹیوں میں تین رکنی بینچ دستیاب نہیں، چھٹیوں کے بعد تین رکنی بینچ اس کیس کو سنے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے،ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف درخواست تین رکنی بینچ سن سکتا ہے ،توہین عدالت کی درخواست شاید کل لگ جائے،توہین عدالت کی درخواست آئی ہے اس کو مقرر کرنے سے متعلق چیمبر میں جا کر فیصلہ کریں گے

    قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے کیس کی سماعت کے لیے تحریک انصاف کے وکلاء قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کی عدالت پہنچ گئے،تحریک انصاف کے سینئر وائس صدر لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی ہیں،عمران خان کے خلاف فیصلہ معطلی کی استدعا کی گئی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے میں بھی توہین عدالت دائر کر رکھی ہے، قائمقام چیف جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دونوں درخواستوں کی آفس سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر میرے اسٹاف سے فائل چھینی گئی اور دھمکایا گیا،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ معاملہ ایڈمنسٹریٹو سائڈ پر دیکھا جائے گا، اس میں کوئی آئینی ایشو نہیں جو عدالت میں لگایا جائے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو انصاف سے رسائی سے انکار ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر بروقت کیس جمع ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکر رکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی