Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکردی

    تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

  • حلقہ بندیوں پر اعتراضات ،الیکشن کمیشن کا  عام انتخابات کے بعد سماعت کا فیصلہ

    حلقہ بندیوں پر اعتراضات ،الیکشن کمیشن کا عام انتخابات کے بعد سماعت کا فیصلہ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر اعتراضات پر عام انتخابات کے بعد سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حالیہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا، جس کے مطابق حلقہ بندیوں پر اعتراضات عام انتخابات کے نتائج مرتب کرنے کے بعد سننے کا فیصلہ کیا گیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات عام انتخابات کے نتائج مرتب کرنے کے بعد سنیں جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق سپریم کورٹ نے شیڈول اجراء کے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراضات کو سننا انتخابی پروگرام کو متاثر کرنے کے مساوی قرار دیا ہے۔

    ٹھٹھہ: عام انتخابات 2024ء کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل جاری

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن سمیت مختلف جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض کیا تھا کیونکہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے آئندہ برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں تاخیر سے منع کرتے کہا تھا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونےکے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 8 فروری 2024 کو ملک بھر میں عام انتخابات کرانےکا اعلان کر رکھا ہے جس کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے اور اب کاغذات نامزدگی وصول کیے جارہے ہیں۔

    عوام چار سال میں مہنگائی کا ظلم ڈھانے والوں کا سیاسی طور پر صفایا کردیں …

  • توشہ خانہ کیس، سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر

    توشہ خانہ کیس، سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کا معاملہ،بانی پی ٹی آئی کی اپیل واپس کر دی گئی،سپریم کورٹ دفتر نے بانی تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراض عائد کردیا، اعتراض میں کہا گیا کہ اپیل کیساتھ لف کیے گئے دستاویزات نا مکمل ہیں، تمام متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ اپیل چھ جنوری تک دائر کی جا سکتی ہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،
    سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا سیشن کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی ،بانی پی ٹی آئی کے پاس سزا ختم کرانے کا آپشن ختم ہوگیا ، بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کی پانچ سال کیلئے نااہلی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن برقرار رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا.

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عدالتوں کا احترام  مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،ملک احمد خان

    عدالتوں کا احترام مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،ملک احمد خان

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف حلقہ این اے 132 قصور سے الیکشن لڑیں گے ،یہ حلقہ ملک رشید احمد خان کا ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا احترام ہے مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سائفر کیس کا فیصلہ دیا،عدالتی فیصلہ صرف ضمانت تک رہتا ہے تب بھی سوال اٹھتا ہے،بطور سیاسی کارکن فیصلے کے بعد میرے کچھ سوالات ہیں،جب سائفر کیس پر ججمنٹ سنی تو چند سوالات ذہن میں آئے،کل مجھے تشویش ہوئی جس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں،قاسم سوری نے ڈپٹی اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر سربمہر لفافہ لہرایا، سربمہر لفافہ لہرانے کے بعد کہا یہ چیف جسٹس کے پاس بھیج رہا ہوں، سائفر کو بنیاد بناکر پی ٹی آئی حکومت نے سیاست کی،پی ٹی آئی کو بند لفافوں کے ساتھ بڑی رغبت ہے، پی ٹی آئی بند لفافوں میں کرپشن کرتی آئی ہے، بندلفافے میں چاہے 190 ملین پاؤنڈ ہو یا بند لفافے سے اسمبلی توڑ دیں،

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جس کے حق میں فیصلہ ہو وہی لاڈلہ ہوتا ہے،اعظم خان پر ایک آڈیو لیک پر کیس چل رہا ہے، سائفر پر کابینہ کی ایک مختصر میٹنگ کی گئی تھی،پی ٹی آئی دور میں صدر نے فوری طور پر اسمبلی تحلیل کردی، عدالت نے کہا معاملے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، ملک میں آئین صرف آمر نہیں توڑتے،سائفر کا معاملہ اٹھا کر جلسوں میں تقاریر کی گئیں، جب سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا؟اگر ایک شخص نے جرم کیا ہے اور اس جرم کی تفصیلات ابھی تفتیش طلب ہیں اور اس میں شواہد ریکارڈ کرنے کیلیے اس شخص کی ضرورت پڑسکتی ہے تو پھر قانون پہ عملدرآمد کو یقینی بنانا سب سے ضروری ہے۔سانحہ 9 مئی بھی ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا , 9 مئی سے چند روز پہلے لاہور , پنڈی , پشاور میں عمران نیازی اپنے ایکٹیوسٹ کے ساتھ حمایت چیف جسٹس ریلی نکالتے ہیں۔کینٹ میں حمایت چیف جسٹس ریلی کا کیا تعلق بنتا ہے؟ آج اگر میاں نوازشریف کے خلاف بنائے مقدمات جو یکسر جھوٹے اور بنیاد ہیں وہ ختم ہورہے ییں تو شور ہوتا ہے۔6 سال گزر جانے کے بعد اگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے جاتے تو ایک دن انہیں ختم تو ہونا ہی ہے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • پی ٹی آئی کی درخواست،سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو تمام شکایات فوری حل کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی کی درخواست،سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو تمام شکایات فوری حل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی لیول پلئنگ فیلڈ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ انتخابی پروگرام میں خلل ڈالے بغیر الیکشن کمیشن شکایات دور کرے، ایمانداری سے منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں، انتخابات جمہوری اصولوں کے مطابق کرائے جائیں جو اثر و رسوخ اور جبر سے پاک ہوں، الیکشن کمیشن یقینی بنائے تمام جماعتوں کو انتخابی عمل میں مساوی موقع ملے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی لیول پلئینگ فیلڈ کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم دے دیا،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام آئی جیزکو اس حوالےسے آگاہ کردینا چاہئے، پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ وکلاء کو بھی ریٹرننگ افسران کے دفتر سے گرفتار کیا جا رہا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف ایک سیاسی جماعت کو سنگل آؤٹ کیوں کیا ہوا ہے،کیا باقی سیاسی جماعتوں کے انتخابات کو بھی اسی طرح دیکھاجاتا ہے،اٹارنی جنرل صاحب انتخابات کے دنوں میں یہ پکڑ دھکڑ مناسب نہیں،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کاغذات نامزدگی چھیننے کی کوئی درخوست نہیں ملی، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کل چار درخواستیں میں دے کر آیا ہوں،

    ایک طرف الیکشن دوسری الیکشن کمیشن کی اڈیالہ جیل میں سماعتیں ، سپریم کورٹ برہم ہو گئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے الیکشن کمیشن حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف الیکشن ہو رہا ہے آپ اڈیالہ جیل میں جا کر سماعتیں کر رہے ہیں ، یہ آپ کا کنڈکٹ ہے آپ نے الیکشن کرانے ہیں ، کوئی آپ پر اعتماد نہیں کرتا تو اس کی وجوہات ہیں سب کے سامنے چیزیں ہورہی ہیں آپ کا کنڈکٹ ثابت کر رہا ہے کہ کوئی لیول پلینگ فیلڈ نہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے آپ نے شکایات کا ازالہ کرنا ہے ، جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن حکام کو ہدایت کی کہ لیول پلینگ فیلڈ یقینی بنائیں ،جو نامزدگی فارمز جمع نہیں کرانے دئیے جا رہے ان شکایات پر آپ نے کیا کیا ، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عثمان ڈار کی والدہ کے ساتھ جو ہوا سب نے دیکھا ، نگران حکومت کیا کر رہی ہے ؟

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کئی رہنما اشتہاری ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ
    جو اشتہاری ہیں وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں،متعلقہ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانتیں بھی لے رہے ہیں پھر بھی گرفتار کیا جا رہا، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن شیڈیول جاری ہوچکا اب بھی ایم پی او کے آرڈر جاری ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی امیدواروں کو کاغذات نہ دیے جا رہے ہیں نہ جمع کرانے دیتے ہیں، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایم پی او کے آرڈر کیوں نہیں رکوا رہا؟ابھی حکم نامہ لکھ کر بھجواتے ہیں تمام شکایات کا جائزہ لیکر حل کریں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کاغذات وصول نہیں کرتے تو الیکشن کمیشن کو جمع کرانے کی اجازت دی جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو شکایات ہیں تو الیکشن کمیشن کام نہیں کر رہا ،ایک سیاسی جماعت کو کیوں الگ ڈیل کیا جا رہا ہے؟ سب کیساتھ یکساں سلوک ہی لیول پلیئنگ فیلڈ ہے،

    عدالت نے تحریک انصاف رہنمائوں کو تین بجے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی ہدایت کر دی ،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن تمام شکایات سن کر ازالہ کرے، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل نے تعاون کی یقین دہانی کروا دی،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تمام آئی جیز کو کہیں کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو تنگ نہ کیا جائے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ وکلاء کو بھی ریٹرننگ افسران کے دفتر سے گرفتار کیا جا رہا ہے،

    تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سےمتعلق درخواست سپریم کورٹ نے نمٹا دی،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ شامل تھے،

    قبل ازیں لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست ،سپریم کورٹ نے درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا،تحریک انصاف کے وکیل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے نہیں دیے جارہے، پی ٹی آئی نے درخواست جمع کرائی ہے، قائمقام چیف جسٹس‌نے استفسار کیا کہ اگرآپ کا امیدوار اشتہاری ہو تو کیا ہوگا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو درخواست دی ہے؟ وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بھی آ گاہ کر دیا ہے، ہماری درخواست سماعت کیلئے مقرر کی جائے، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق نے کہا کہ آپ کی درخواست رجسٹرارآفس ابھی مقررکردیتا ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی تھی، درخواست میں وفاق، الیکشن کمیشن اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے جا رہے ہیں، تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ اور شفاف انتخابات کیلئے فریقین کو ہدایات جاری کرے، فریقین کو تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

  • سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کردیا
    سپریم کورٹ کی جانب سے4 صفحات پر مشتمل ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 5صفحات پر مشتمل علیحدہ نوٹ بھی لکھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کا فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے دوسرے ملک کے فائدے کیلئے سائفر کو پبلک کیا ایسے شواہد نہیں، فیصلے میں دی گئی آبزویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو ٹرائل کورٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5(3) بی کے جرم کا ارتکاب ہونے کے شواہد نہیں ،ملزمان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جرم کے ارتکاب کیلئے مزید انکوائری کے حوالے سے مناسب شواہد ہیں،مزید تحقیقات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر سکتی ہے،

    عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    سائفر کیس کی ضمانت کے مقدمے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ لکھا اور کہا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں، سوال کیا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلی عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے، عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،پورا ٹرائل دستاویزی شواہد پر منحصر ہے،ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا،

    قبل ازیں سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سائفر کیس، سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کر لی،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی گئی،عدالت نے دس دس لاکھ ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ صرف عمران کا نہیں عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وہ ابھی سزا یافتہ نہیں صرف ملزم ہیں، کیا آپ 2018 کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟عمران خان پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں، انتخابات 8 فروری کو ہیں، جو جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے،کیا حکومت 1970 اور 77 والے حالات چاہتی ہے،عمران کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں، عدالت نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیمرا ٹرائل کیخلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فرد جرم کیخلاف ہے،

    قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا، وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیرموثر ہوچکی ہے،نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں،حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہوگا آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا نہ ہو آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہوجائے،شام چھ بجے تک ٹرائل چلتا ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمارے کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا تو آپکو اعتراض ہے،فرد جرم والی درخواست غیرموثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں،وکیل سلمان صفدر نےکہا کہ حامد خان درخواست میں ترمیم کر چکے ہیں اب اسے نئی درخواست کے طور پر لیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ درخواست بھی ہائیکورٹ سے پہلے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری شکایت کنندہ ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں طلبی پر 7 ماہ حکمِ امتناع دیے رکھا، 7 ماہ ایف آئی اے خاموش رہا، توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہوتے ہی گرفتار کر لیا، عمران خان کو اسلام آباد میں گرفتار کرنے کی 40 مرتبہ کوشش کی گئی، ملک بھر کے دیگر مقدمات اسلام آباد کے 40 کیسز سے الگ ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آڈیو لیک کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ 28 مارچ 2022ء کو بنی گالہ میں ہوئے اجلاس میں سائفر کے غلط استعمال کی سازش ہوئی، سابق وزیرِ اعظم پر سائفر کی کاپی تحویل میں لے کر واپس نہ کرنے کا بھی الزام ہے، ایک الزام پورے سائفر سسٹم کی سیکیورٹی رسک پر ڈالنے کا بھی ہے، اسد عمر اور اعظم خان کے کردار کا تعین تفتیش میں ہونا تھا، ایف آئی آر میں 4 ملزمان نامزد ہیں لیکن ٹرائل صرف 2 کا ہو رہا ہے، اعظم خان پر میٹنگ منٹس اور اس کے مندرجات توڑ مروڑ کر تحریر کرنے کا الزام ہے، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں کردار کے تعین کے باوجود اعظم خان کو گرفتار کیا گیا نہ اسد عمر کو، اعظم خان ملزم کے بجائے سائفر کیس کے مقدمے کے اندراج کے اگلے دن گواہ بن گئے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسے معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تھی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتی ہے کیونکہ اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے، سائفر وزارتِ خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سیکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا، وزارتِ خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، سابق وزیرِ اعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ نے بطور وزیرِ داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کر کے سابق وزیرِاعظم پر لاگو کیا گیا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ افواجِ پاکستان سےمتعلق ہے جو ملکی دفاع سے جڑا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائفر کا مقدمہ بنا ہے،سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیرِ اعظم کے پاس تھے ہی نہیں،

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ سائفرکا حکومت کو بتاتی ہےتاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں، ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،وکیل نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئرنہیں ہو سکتیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں، سابق وزیرِ اعظم کے خلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اسے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارتِ خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکریٹری موصول ہوا تھا، جس میٹنگ میں سائفر سازش کی منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28 مارچ 2022ء کو ہوئی، چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27 مارچ 2022ء کو ہوا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل سائفر تو وزارتِ خارجہ میں ہے، وہ باہر گیا ہے تو یہ دفترِ خارجہ کا جرم ہے، سائفر کو عوام میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ وزیرِ اعظم کو سازش کا بتا دیا ہے، حلف کا پابند ہوں، اس بیان کے بعد شاہ محمود قریشی 125 دن سے جیل میں ہیں، وکیل سلمان صفدر نے پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ 2022ء کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ دی اور کہا کہ شاہ محمود نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے سامنے نہیں رکھ سکتا،

    دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وزیرِ خارجہ خود سمجھدار تھے، سمجھتے تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں،وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بتا نہیں سکتا اور عمران خان کو پھنسا دیا، وزیرِ خارجہ نے عمران خان کو پھنسا دیا کہ آپ جانیں اور وہ جانیں، شاہ محمود خود بچ گئے اور عمران خان کو کہا کہ سائفر پڑھ دو، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے بھی پبلک سے کچھ شیئرنہیں کیا تھا، اگر سائفر پبلک ہو ہی چکا ہے تو پھر سائفر ٹرائل اِن کیمرا کیوں چاہیے پراسیکیوشن کو؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر پراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کو زیرِ حراست رکھنا ضروری ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے جلسے میں کہا تھا کہ میرے پاس یہ خط سازش کا ثبوت ہے، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہو گا؟

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ہدایت کی کہ اعظم خان کا بیان پڑھ دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان 2 ماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا، اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لیے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے، تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیرِ اعظم کے خلاف بیان دے دیا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حساس معاملہ ہے اور ہم کوئی آبزرویشنز دینا نہیں چاہتے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ سیاسی دلائل نہ دیں، آپ کو معلوم ہی ہے کہ سیاسی دلائل پر کیسے فیصلے آیا کرتے ہیں

    ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ قائمقام چیف جسٹس
    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ اگر سائفر گم گیا تھا تو سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں شہباز شریف نے کیوں نہیں بتایا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے حساس دستاویزات پر مبنی ہدایت نامہ پڑھا ہے؟ تفتیشی رپورٹ میں کیا لکھا ہے کہ سائفر کب تک واپس کرنا لازمی ہے؟ نہ پراسیکیوٹر کو سمجھ آ رہی ہے نہ تفتیشی افسر کو تو انکوائری میں کیا سامنے آیا ہے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا گواہان کے بیانات حلف پر ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ گواہی حلف پر ہوتی ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق گواہ اعظم خان کا بیان حلف پر نہیں ہے،کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ اعظم خان نے واپس آنے کے ایک ماہ بعد بیان دیا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ رضوان عباسی نے کہا کہ اعظم خان کے مطابق پی ٹی آئی کا ان پر دبائو تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عباسی صاحب ایسی بات نہ کریں جو ریکارڈ پر نہ ہو،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ شہباز شریف نے کس دستاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیا تھا؟ رضوان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سائفر پیش ہوا تھا، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اصل سائفر پیش ہوا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ رضوا ن عباسی نے کہا کہ ڈی کوڈ کرنے کے بعد والی کاپی سلامتی کمیٹی میں پیش ہوئی تھی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بنیادی مقصد ملکی سیکیورٹی کا تحفظ ہے، سائفر ڈسکلوز بھی ہوا تو کسی غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیرملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے، انتخابات 8 فروری کو ہیں اور جو شخص جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟ نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنمائوں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟سابق وزیراعظم کے جیل کے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت عمران خان نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں،

    آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،وکیل عمران خان
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چار گھنٹے تک سماعت جاری رہی، سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، سائفر کیس میں ایف آئی اے نے بلاجواز گرفتاری کر رکھی ہے، سائفر کیس حقیقی معنوں میں آج صفر ہو چکا ہے، سابق وزیر خارجہ کو بلاوجہ 125 دن تک جیل میں رکھا گیا،شاہ محمود قریشی اس آرڈر کے بعد رہائی کے حقدار ہیں،آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،

    شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتقام پر مبنی کیس تھا، سپریم کورٹ نے آج شاہ محمود قریشی کو ضمانت دی ہے، آج ہمیں خوشی ہوئی کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور میرے والد کو ضمانت ملی، قید تنہائی میں میرے والد نے چار ماہ گزارے ہیں،

    عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں رہیں گے،سائفر کیس کے فیصلے کے بعد صحافی کا دعویٰ
    سپریم کورٹ سے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظوری کے بعد صحافی حسن ایوب نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں ہی رہینگے جبکہ دوسری جانب راوی بھی چین ہی چین لکھتا رہے گا ۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے،سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست

    انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے،سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخواست میں وفاق، الیکشن کمیشن اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھینے جا رہے ہیں، تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کا مساوی حق دیا جائے

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ اور شفاف انتخابات کیلئے فریقین کو ہدایات جاری کرے، فریقین کو تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہراساں کرنے سے بھی روکا جائے

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • انتخابات وقت پر ہونا ہی فعال جمہوریت کی نشانی ہے،سپریم کورٹ

    انتخابات وقت پر ہونا ہی فعال جمہوریت کی نشانی ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حلقہ بندیوں سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے حکم نامہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہےکہ حلقہ بندیوں کے تنازعات سے زیادہ ضروری انتخابات کا انعقاد ہےاور انتخابات جمہوریت کا بنیادی جزو ہیں،ایک جج کا کردارگارڈین کا ہوتا ہے،جج جمہوریت اور آئین کامحافظ ہوتا ے، الیکشن شیڈول آنےکے بعد انتخابی عمل اور جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کیاجاسکتا، جمہوریت کی بنیاد عوام کی ترقی ہے جو شفاف انتخا بات سے حاصل ہوسکتی ہے-

    عالمی بینک کی پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

    حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ،انتخابات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جس کے بغیر جمہوری حکومت کا قیام ممکن نہیں، انتخابات وقت پر ہونا ہی فعال جمہوریت کی نشانی ہے، انتخابات سے ہی عوامی اعتماد حاصل ہوسکتا ہے، انتخابات کی تاریخ آجانےکے بعد انتخابی تنازعات کا فوری حل ضروری ہے انتخابات اور اس سے جڑے تنازعات میں تاخیر سے سسٹم اور جمہوریت پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے، انتخابات میں تاخیر سے سیاسی تناؤ اور سیاسی ماحول بھی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔

    سارہ انعام کیس، شاہنواز امیر نے سزائے موت کیخلاف اپیل کر دی

  • تااحیات نااہلی کا معاملہ،سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    تااحیات نااہلی کا معاملہ،سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس سات رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کریں گے،سپریم کورٹ 2 جنوری 2024 کو تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کرے گی۔

    گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں کہا تھا کہ نااہلی کی مدت کے سوال والے کیسز جنوری کے آغاز پر مقرر کئے جائیں، کیس کے زیرِ التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم 5 رکنی بنچ ضروری ہے فریقین کے وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے۔

    عمران خان سائفر کیس،درخواستگزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت،سماعت ملتوی

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پانامہ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اپنے بیٹے کی فرم سے لی جانے والی ممکنہ تنخواہ ظاہر کرنے میں ناکامی پر آرٹیکل ون ایف کے تحت کوئی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کیلئے نااہل قرار دیا تھا نواز شریف کی اس نااہلی کو تاحال ختم نہیں کیا گیا ہے۔

    امریکا :بحیرہ احمر کی حفاظت کیلئے 12 سے زائد اتحادیوں کے ساتھ نئی فوج تشکیل

  • سپریم کورٹ ، انتخابات میں تاخیر  کی ایک اور درخواست مسترد

    سپریم کورٹ ، انتخابات میں تاخیر کی ایک اور درخواست مسترد

    سپریم کورٹ نے انتخابات میں تاخیر کرنے کی ایک اور درخواست مسترد کردی

    درخواست میں انتخابی حلقہ بندی پر اعتراضات اٹھاے گئے تھے،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کی تاریخ آنے سے ملک میں تھوڑا استحکام آیا ہے،کیا آپ ملک میں استحکام نہیں چاہتے؟ عام انتخابات کی تاریخ آنا کوئی معمولی بات نہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انتخابی حلقہ بندی کے حوالے سے غلط فیصلہ کیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن پروگرام جاری ہو چکا اب کچھ نہیں ہو سکتا، انفرادی درخواستوں پر فیصلہ دینے لگ گئے تو الیکشن عمل متاثر ہوگا،ایسی درخواستوں پر عام انتخابات کیلئے 8فروری کی تاریخ کو ڈسٹرب نہیں کرینگے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ انتخابات وقت پر نہیں چاہتے تو عدالت میں بیان دیں،الیکشن کو کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دینگے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، کسی کو الیکشن تاخیر کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دینگے،

    سپریم کورٹ نے بلوچستان کے حلقہ پی بی 12میں حلقہ بندی سے متعلق نظرثانی درخواست خارج کر دی ، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد انتخابی حلقہ بندیاں تبدیل نہیں ہوسکتی ، درخواستگزار امیر خان نے بلوچستان ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ رجوع کیا تھا ،قاٸم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،