Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست دائر کر دی گئی
    درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،
    سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    قبل ازیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ سے برطرفی کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تبدیلی پر وضاحت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست پر گزشتہ سماعت کب ہوئی تھی؟ حامد خان نے کہا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج کل ہر کوئی فون اٹھا کر صحافی بنا ہوا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا،پہلے اس بینچ میں کون کون سے ججز تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس سنا،بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظہر عالم میاں ، اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہم اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہتے،باقی ججز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ،میں نے بنچ سے کسی کو نہیں ہٹایا، بینچوں کی تشکیل اتفاق رائے یا جمہوری انداز میں ہو رہی ہے، موبائل ہاتھ میں اٹھا کر ہر کوئی صحافی نہیں بن جاتا،صحافی کا بڑا رتبہ ہے،حامد خان نے کہا کہ آج کل جمہوریت کا زمانہ ہے، اس وقت جمہوریت مشکل حالات میں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکی معاونت درکار رہے گی، جمہوریت چلتی رہے گی, آپ نے اسے آگے لے کر چلنا ہے، آج کل فون پکڑ کر صحافی بن جاتے ہیں اور یوٹیوب چینل جاتا ہے، جبکہ صحافی کا رتبہ بہت اونچا ہوتا ہے،اِس کیس کو نئے سرے سے سننا ہو گا،

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس میں بنچ تبدیل ہو گیا ہے، اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجازالاحسن بنچ میں تھے،جسٹس مظہر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی بنچ میں شامل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں بنچ بدل چکا ہے اور اب نئے سرے سے دلائل شروع کرنا ہوں گے،آج کل ہر کوئی موبائل پکڑ کر یوٹیوب پر ویڈیو بنا کر سمجھتا ہے کہ وہ صحافی ہے،اس بنچ کو بنانے کا فیصلہ ججز کمیٹی نے کیا،کوشش یہی ہوتی ہے کہ ججز کمیٹی اتفاق رائے سے فیصلے کرے لیکن فطری طور پر یہ ممکن نہیں،شوکت صدیقی کیس میں نیا بنچ بنانا کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ کو اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض تو نہیں ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آج کل ویسے بھی اعتراض کا زمانہ ہے،

    دوران سماعت ایڈووکیٹ حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر کا متن پڑھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسوقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کون تھے،حامد خان نے کہا کہ اس وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی تھے، شوکت عزیز صدیقی پر 4 ریفرنسز بنائے گئے، ایک ریفرنس یہ بنایا کہ سرکاری رہائش گاہ پر شوکت عزیز صدیقی نے زائد اخراجات کیے،ہم نے کونسل میں درخواست دی کہ ججز کی سرکاری رہائش گاہوں پر ہونے ولے اخراجات کی مکمل تفصیل دیں، کونسل نے جواب دیا جو مانگ رہے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے، ایک ریفرنس 2017 کے دھرنے کی بنیاد پر بنایا گیا، جس میں شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ریمارکس دئیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں عدالتی ریمارکس پر ریفرنس بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت صدیقی کے خلاف شکایات کنندگان کون تھے، حامد خان نے کہا کہ رہائش گاہ پر زائد اخراجات کے شکایت کنندہ سی ڈی اے ملازم انور گوپانگ تھے،ایک ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم اور ایک سابق ایم این اے جمشید دستی نے بھیجا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ جمشید دستی کس سیاسی جماعت کا حصہ تھے؟ حامد خان نے کہا کہ مجھے کنفرم نہیں لیکن شاید آزاد حیثیت میں ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کہ رہے ہیں جمشید دستی مکمل آزاد نہیں تھے، حامد خان نے کہا کہ راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر پر جوڈیشیل کونسل نے خود نوٹس لیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جوڈیشیل کونسل کو کیسے ہتا چلا کہ کسی جج نے تقریر کی ہے؟حامد خان نے کہا کہ ایجینسیوں نے شکایت کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر بتائیں وہاں کیا لکھا ہوا ہے،حامد خان نے کہا کہ ریکارڈ میں 22 جولائی 2018 کا رجسٹرار کا ایک نوٹ موجود ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن دو شخصیات پر الزام لگا رہے ہیں ان کو فریق تو بنائیں، ہم مفروضوں پر کیس نہیں سنیں گے، یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں آپ جو بات یہاں کر رہے ہیں اخباروں کی زینت بنے گی، موبائل اٹھا کر صحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا فیصلہ آچکا ہے،
    سپریم کورٹ میں اب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت بنچز تشکیل دیئے جاتے ہیں،ادارے نہیں بولتے ادارے میں بیٹھی شخصیات ہی بولتی ہیں، میرا ایک اصول ہے کہ جس پر الزام لگاو اس کو بھی سنو ممکن ہے وہ الزامات تسلیم کر لے،کورٹ میں صحافی بیٹھے ہیں اور کل اس شخص کا نام اخبارات کی زینت بن جائے گا، ہم کسی کو کچھ لکھنے سے تو نہیں روک سکتے، آپ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں اسے فریق بنانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے فریق بنانے پر کوئی اعتراض نہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں کیا اس نے کسی فورم پر آپ کو جواب دیا؟کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شخص کو نوٹس کیا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن ادارے برے نہیں ہوتے لوگ برے ہوتے ہیں،ہم شخصیات کو برا نہیں کہتے، اداروں کو برا بھلا بولتے ہیں، اداروں کو لوگ چلاتے ہیں،ملک میں تباہی کی وجہ لوگ شخصیات کی بجائے اداروں کوبدنام کرتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں،حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے کا جوڈیشل کونسل نے موقع نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو آپ کے پاس موقع ہے اب کیوں نہیں فریق بنا رہے؟ کسی کی پیٹھ پیچھے الزام نہیں لگانے دینگے، اس اعتبار سے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے، حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فریق بنا کر ہم پر احسان نہ کریں، اداروں پر الزام نہیں لگانے دینگے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے الزام ہائی کورٹ چیف جسٹس پر لگایا تھا، جسٹس انور کانسی کو بھی فریق نہیں بنایا گیا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فیض حمید کو کسی اور درخواست گزار نے فریق بنایا ہے؟وکیل بار کونسل نے کہا کہ فیض حمید کو نہیں آئی ایس آئی کو فریق بنایا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انور کانسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرایا تھا، حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کروایا تو سماعت کا موقع ہی نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اوپن کورٹ میں ریفرنسز کی سماعت کا حکم دیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف ابتدائی سماعت کی تھی باضابطہ انکوائری ابھی ہونی تھی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر کا متن بیان حلفی پر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں دیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ ہمیں بھی سن لیں،ہم آپ کو کسی کو فریق بنانے پر مجبور نہیں کریں گے ،ہر شعبے میں اچھی اور بری شخصیات ہوتی ہیں، وکلاء میں بھی اچھے اور برے ہیں،

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ کر لیا،سپریم کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کل 10:30 تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے جن پر الزام لگایا اس کو فریق بنائیں ورنہ دوسرے نکتے پر دلائل دیں،کل ہوسکتا ہے جس کو فریق بنائیں ان کو عدالت نوٹس جاری کرے،اگر فریق بنانے کی درخواست آج دائر کرتے ہیں تو کل نوٹس جاری کر دینگے، حامد خان نے آج ہی فیض حمید اور انور کانسی کو فریق بنانے کی درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرا دی ،حامد خان نے کہا کہ جن پر الزام لگایا ہے انہیں فریق بنانے کی درخواست کل تک دائر کر دینگے،عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس،سپریم کورٹ نے ٹرائل غیر آئینی قرار دینے پر حکم امتناع دے دیا،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا،سپریم کورٹ کے6رکنی بینچ نےملٹری کورٹس سے متعلق فیصلہ مشروط طورپرمعطل کیا،سپریم کورٹ نےملٹری کورٹس سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا ،سپریم کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ 1-5 سے سنایا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ فوجی عدالتیں ٹرائل شروع کر سکتی ہیں تاہم حتمی فیصلہ اپیل سے مشروط ہو گا،جسٹس مسرت ہلالی نے انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے سے اختلاف کیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراضات پر بنچ سے الگ ہونے سے انکار کردیا ، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وکلا جسٹس جواد ایس خواجہ کا فیصلہ پڑھ لیں، یہ جج کی مرضی ہے کہ بنچ کا حصہ رہے یا سننے سے معذرت کرے، جواد ایس خواجہ کا اپنا فیصلہ ہے کہ کیس سننے سے انکار کا فیصلہ جج کی صوابدید ہے ،میں خود کو بینچ سے الگ نہیں کرتا معذرت،

    دوران سماعت سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں، خواجہ حارث وزارت دفاع کی جانب سے روسٹرم پر آگئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کا آغاز کر دیا ،فریقین کے وکلاء کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی،شہداء فاونڈیشن کے وکیل شمائل بٹ نے اپیل پر دلائل کا آغاز کر دیا.

    سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا،وکیل وزارت دفاع
    جسٹس میاں محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ ملٹری کورٹس میں ہونے والے ٹرائل کو یقینی فئیر ٹرائل کیسے بنائیں گے؟ وکیل وزرات دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، آرمی ایکٹ میں سویلین پر دائرہ اختیار پہلے ہی محدود تھا، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ابھی ہمارے سامنے تفصیلی فیصلہ نہیں آیا،کیا تفصیلی فیصلہ دیکھے بغیر ہم فیصلہ دے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا تفصیلی فیصلے کا انتظار نہ کر لیں؟ وکیل خواجہ حارث نےکہا کہ پھر میری درخواست ہو گی کہ ملٹری کسٹڈی میں جو لوگ ہیں ان کا ٹرائل چلنے دیں، ہر سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو رہا، صرف ان سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ
    فیصلے کی وجوہات آنے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مناسب ہوگا تفصیلی فیصلے کا انتطار کر لیں، جسٹس سردار طارق نے کہا کہ دیکھنا ہوگا ان نکات پر فیصلے میں کیا رائے دی گئی ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہے تو عدالتی حکم معطل کرنا ہوگا، فوج کی تحویل میں 104 افراد سات ماہ سے ہیں،ملزمان کیلئے مناسب ہوگا کہ ان کا ٹرائل مکمل ہوجائے، کچھ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی تھی کچھ پر ہونا تھی،بہت سے ملزمان شاید بری ہو جائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنہیں سزا ہوئی وہ بھی3سال سے زیادہ نہیں ہوگی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ سزا 3سال سے کم ہوگی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ کم سزا میں ملزمان کی حراست کا دورانیہ بھی سزا کا حصہ ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جو بری ہونے والے ہیں انہیں ضمانت کیوں نہیں دے رہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جن ججز نے ملٹری کورٹس فیصلہ دیا وہ بھی اسی سپریم کورٹ کے جج ہیں،ٹرائل کالعدم قرار دینے والا تفصیلی فیصلہ آیا نہیں تو ٹرائل دوبارہ کیسے چلے گا،سویلینز کے ٹرائل کیخلاف فیصلے پر حکم امتناع دینے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل روکنے سے متعلق کچھ دیر تک اپنا فیصلہ سنائیں گے،فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کریں گے،حکمنامے میں 23 اکتوبر کا فیصلہ معطل کرنے یا نہ کرنے کا بتائیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کو زیادہ سنگین سزاؤں والی دفعات سے بھی چارج کیا جا سکتا تھا،سنگین دفعات اس لیے نہیں لگائیں کہ بے شک وہ گمراہ تھے مگر ہمارے شہری ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس فیصلے کی ایک جزو کو معطل کیا جائے تو اٹارنی جنرل کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم فیصل صدیقی سے متفق نہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم غیر آئینی ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جو کرنل صاحب یا میجر صاحب بیٹھ کر کیس سنتے ہیں کیا وہ ضمانت دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کو آئین میں تحفظ دیا گیا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ایک تو بنیادی حقوق پتہ نہیں ہمیں کہان لیکر جائیں گے، ملٹری ٹرائل غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ معطل کیا جائیگا یا نہیں؟سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟جسٹس سردار طارق مسعود
    سپریم کورٹ مین گزشتہ روز 23 فوجیوں کی شہادت کا تذکرہ بھی ہوا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کل جو 23 بچے شہید ہوئے ان پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کیسے ہو گا؟ جو فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں ان کا تو اب ٹرائل نہیں ہو سکے گا کیونکہ قانون کالعدم ہو چکا، جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟ سیکشن 2 ون ڈی کالعدم ہونے کے بعد دہشتگردوں کا ٹرائل کہاں ہو گا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت موقع دے تو اس معاملے پر سیر حاصل دلائل دیں گے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کالعدم کرنے کی استدعا،وفاقی حکومت کی اپیل

    فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کالعدم کرنے کی استدعا،وفاقی حکومت کی اپیل

    اسلام آباد: سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ،وفاقی حکومت نے بھی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل کر دی

    اپیل میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کو کالعدم کرنے کی استدعا کر دی، وفاقی حکومت نے اپیل میں اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم کو معطل کرنے کی بھی استدعا کی، اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی اور سیکشن 59(4) کو چیلنج کیا گیا تھا ، کیس میں اصل تنازع سپریم کورٹ کے فیصلے میں حقائق اور آرٹیکل 199 کے تحت دستیاب فورم کو مد نظر نہ رکھنا ہے ،سویلین کی تعریف میں تمام شہری آتے ہیں چاہے وہ دہشت گرد ہوں یا دشمن،سپریم کورٹ کی جانب سے 2(1) ڈی اور 59(4) کو کالعدم کرنے سے نان یونیفارم شہریوں کے حوالے سے قانون ختم ہو گیا، وفاقی حکومت کو تمام درخواستوں میں فریق بنایا گیا تھا ،

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بنچ ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا، جسٹس امین الدین خان،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی بینچ کا حصہ ہیں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا اور 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی ٹو کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں، تحریری فیصلے میں آرمی ایکٹ کی سیکشن 59 (4) بھی کالعدم قرار دے دی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ فوج کی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کے ٹرائل آرمی کورٹس میں نہیں ہوں گے، 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تمام ملزمان کے ٹرائل متعلقہ فوجداری عدالتوں میں ہوں گے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ہونے والے کسی ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی خصوصی عدالتوں میں ٹرائل بارے میں فیصلہ پر تمام ججز متفق ہیں، آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا فیصلہ محفوظ ہے۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • تاحیات نااہلی  کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

    تاحیات نااہلی کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ، اراکین اسمبلی کی تاحیات نااہلی کا معاملہ،عدالت عظمیٰ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے انتخابی عذرداری سے متعلق کیس میں نوٹس لیتے ہوئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجوایا تھا،عدالت نے کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2008 کے عام انتخابات میں الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن تھی، کچھ امیدواروں نے جعلی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انہیں نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، درخواست گزار کو تاحیات نااہلی کے ساتھ دو سال کی سزا سنائی گئی،دو سال سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں زیر التوا ہے، درخواست گزار کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی سزا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تا حیات نااہلی ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 232 (2) کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے، درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم 26 جون 2023 کو کی گئی، جب الیکشن ایکٹ سیکشن 232(2) کو چیلنج کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو وکلا کی جانب سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا، تمام وکلا نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232(2) سے غیر ضروری کنفیوژن پیدا ہوگی، فریقین کے وکلا نے کہا کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے،غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھے گا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت آئین کی تشریح کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ ہونا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وفاقی قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کا معاملہ ہے جو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے،الیکشن کمیشن،اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انگریزی اور اردو کے بڑے اخبارات میں بھی نوٹس شائع کیے جائیں، عدالت نے آئینی و قانونی نکات پر تحریری جواب طلب کر لیے،ان اپیلوں اور ان میں اٹھائے گئے سوالات کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، درخواستوں کو آئندہ سال جنوری 2024 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • افغان باشندوں کی بے دخلی،کیس لارجر بینچ بنانے کیلیے ججز کمیٹی کو بھیج دیا گیا

    افغان باشندوں کی بے دخلی،کیس لارجر بینچ بنانے کیلیے ججز کمیٹی کو بھیج دیا گیا

    سپریم کورٹ میں افغان باشندوں کی بے دخلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے افغان باشندوں کی بے دخلی کے خلاف درخواستوں کو لارجر بنچ بنانے کے لیے ججز کمیٹی کو بھیج دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ افغان باشندوں کی بے دخلی سے متعلق درخواستوں میں نگران حکومت کے آرٹیکل 224 کے تحت اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے، افغان باشندوں کی بےدخلی کیس میں آرٹیکل 9، 10، 24 سمیت بنیادی حقوق کی تشریح درکار ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت آئینی تشریح کا معاملہ لارجر بنچ سن سکتا ہے، کیس کو لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے ججز کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ نے اپنے جوابات جمع کرا دیے، درخواست گزاروں نے اپنی درخواستوں میں افغان باشندوں سے متعلق کہا حقیقت اس کے برعکس ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ حکومت تو صرف ان لوگوں کو واپس بھیج رہی ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بےدخلی کے لیے قانونی دستاویزات نا بھی ہوں تب بھی بنیادی حقوق کو مدنظر رکھنا لازم ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ غیر ملکیوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں تب بھی ان کو انسانی حقوق کے تحت ملک میں رہنے دیا جائے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ قانون اور آئین پاکستان کے مطابق سلوک ہونا چاہیے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق تو غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پہلے جیل ہونی چاہیے،کیا یہ چاہتے ہیں کہ ان غیر ملکیوں کو پہلے جیل ہو پھر بے دخل کیا جائے؟ حکومت کے مطابق 90 فیصد غیر قانونی مقیم غیر ملکی رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں،کیا پاکستان میں کوئی جاسوس آ کر بیٹھ جائے اور دو سال بعد کہے کہ اسے گرفتار نا کیا جائے تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کلبھوشن جادیو کا کیس ہو چکا اور غیر ملکیوں سے متعلق پاکستان بین الاقوامی قوانین کا رکن ملک ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ کیس آئینی تشریح کا ہے اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد لارجر بنچ کو سننا چاہیے، درخواست گزاروں نے نگران حکومت اور اپیکس کمیٹی کے اختیار کو چیلنج کیا ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا حکومت بھی یہی سمجھتی ہے کہ یہ کیس لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے واپس کمیٹی کو جانا چاہئے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کیس کو لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے کمیٹی کو بھجوایا جائے،وکیل عمر گیلانینے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ افغان شہریوں کی واپسی ہو رہی ہے تو کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

  • آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کیس کو آگے لے کر چلنا ہے، آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستاں کے عوام جانتے ہیں کہ شہید بھٹو کا قاتل کون ہے،تاریخ کو درست کرکے جرم میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنا ہے۔2018 میں درخواست دی تھی کیس کو فوری سن کر فیصلہ دیا جائے، چیف جسٹس کا مشکور ہوں کہ کیس مقرر ہوا ، ججز کے سامنے اپنی رائے رکھیں گے ، آج بھی ایسی قوتیں ہیں جو چاہتی ہیں کہ عوام کو تاریخی نا انصافی نہ ملے ،ہمیں شہید بھٹو ریفرنس پر انصاف چاہئیے،صدر پاکستان نے جو ریفرنس میں سوالات اٹھائے ہیں انکا جواب چاہیئے،وہ فیصلہ ہونا چاہیئے کہ اسطرح کے کاموں کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہونا چاہیئے۔یہ کیس عدلیہ کیلئے امتحان کے ساتھ موقع بھی ہے،قوم کو بتایا جائے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو بے قصور تھے،ججز کے سامنے اپنی رائے رکھیں گے،ہمیں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے لیے انصاف چاہیے،شہید بھٹو نے مسلم امہ کو اکٹھا کیا،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا،ہمیں قائد عوام ،بینظیر بھٹو ، مرتضیٰ بھٹو اورشاہنواز واپس نہیں مل سکتے ،ہم امید رکھتے ہیں کہ چیف جسٹس ہمیں انصاف دیں گے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر آپ کے سامنے نہیں پر مجھے انصاف چاہیے،ذوالفقار علی بھٹو نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا،ذوالفقار علی بھٹو کا قاتل کون ہے قائد عوام جانتے ہیں،قائد عوام نے فلسطین کے معاملے پر مسلم امہ کی کانفرنس بلائی،جو لوگ جرم میں ملوث تھے انہیں بے نقاب کرنا ہے،سب جانتے ہیں راو انوار کس کا کھلونا ہے،چیف جسٹس نے واضح کہہ دیا کہ فروری8کو الیکشن ہوں گے،پرانے سیاستدانوں نےپرانی سیاست ہی کرتے رہنا ہے،

    شکر کریں یہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا،آصف زرداری
    دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ شکر کریں ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا ہے،صحافی نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ کیا انصاف کی توقع ہے؟ جس کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف کی توقع ہے، کیوں نہیں ہے، مجھے عدالت سے انصاف کی امید ہے،آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیس اتنی دیر سے کیوں لگایا گیا؟ جس پر آصف زرداری نے جواب میں کہا کہ اس سے سوال نکالتے رہیں کیوں جلدی آئے دیر سے کیوں آئے، شکر کریں یہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • بھٹو تو واپس نہیں آئے گا امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا،فیصل کریم کنڈی

    بھٹو تو واپس نہیں آئے گا امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا،فیصل کریم کنڈی

    پیپلز پارٹی کے رہنما، فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ شخص جس نے ملک کو آئین دیا، اس کے ریفرنس پر تیرہ سال بعد سماعت ہو رہی ہے،

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان کے مشکور ہیں،بنچ میں بیٹھے چیف جسٹس نے کہہ دیا تھا کہ ہم سے زبردستی فیصلہ کروایا گیا،ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا،پوری قوم، پیپلزپارٹی اور جیالوں کی دل جوئی ہو گی، بھٹو اسلامی لیڈر اور قوم کا لیڈر تھا، آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے،پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم کے عدالتی قتل کے ریفرنس کی سماعت ہے، سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں یہ سماعت لائیو دکھائی جائے گی،ہمیں امید ہے آج انصاف ملے گا، اور قوم دیکھے گی بھٹو کے عدالتی قتل کا سچ قوم کے سامنے آئے گا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ،بھٹو ریفرنس کی کاروائی براہ راست دکھائی جائے گی،ریفرنس کی کاروائی ویب سائیٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست دکھائی جائے گی، سپریم کورٹ میں آج سماعت ہو گی،گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کاروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا

    بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خط میں جسٹس اعجاز الاحسن نے سویلینز کے فوجی عدالتوں کے ٹرائل کیلئے تشکیل بینچ پر اعتراض کیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس مظاہراکبر نقوی کی درخواست کیلئے تشکیل بینچ پر بھی اعتراض کیا،خط میں لکھا گیا ہے کہ 7دسمبر کو 4 بجے چیف جسٹس پاکستان کے آفس میں اجلاس ہوا اجلاس کا ایجنڈامجھے متعدد مرتبہ رابطوں کے بعد دیا گیا ،فوجی عدالتوں کے ٹرائل کے مقد مے میں مجھے بتایا گیا 7 رکنی بینچ تشکیل دیا جائے گا پسند نہ پسند کے تاثر سے بچنے کیلئے میرا موقف تھا تمام سینئرز کو بینچ میں شامل کیا جائے، چیف جسٹس نے میری تجویز کو ججز کی آمادگی کے ساتھ مشروط کردیا۔

    گیس مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    خط میں لکھا گیا کہ اسی اصول پر جلد سماعت کی درخواستوں پر بھی اتفاق کیا گیا،کمیٹی کی جانب سے 2مقدمات کی منظوری نہیں دی گئی تھی ان 2 خصوصی بینچز کی تشکیل کو کمیٹی میں رکھا جاتا تو میں اپنی رائے دیتا ،کمیٹی اجلاس میں 7رکنی بینچ پر اتفاق کی بجائے6رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا سینئر ججز کے بینچ میں شامل نہ ہونے کے حوالے سے میں مکمل اندھیرے میں ہوں ۔3رکنی خصوصی بینچ کی تشکیل میں بھی سینیارٹی کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

    گوادر میں پیٹرول ڈپو میں آتشزدگی،2 افراد جاں بحق 3 زخمی

    خط میں لکھا کہ عدالتی وقار اور شفافیت کے مد نظر سینارٹی کے اصول کو مد نظر رکھنے پر اتفاق کیا۔یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ ججز کا موقف لینے کے بعد کمیٹی ممبران کو آگاہ کیا جائے گا،2مرتبہ کالز کرنے کے بعد بتایا گیا کہ فائل چیف جسٹس کے چیمبر میں منظوری کیلئے گئی ہےانتظار کرنے کے باجود 6:30 پرکال کرنے پر بتایا گیا کہ رجسٹرار صاحبہ جا چکی ہیں، چوتھی اور پانچویں کمیٹی اجلاس کے منٹس نہ تو بھجوائے گئے نہ دستخط لئے گئے،ان منٹس کو بغیر میری منظوری سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیا گیا۔

    نگران وزیراعظم نے نئے ویزا نظام کا افتتاح کر دیا

  • تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے ،تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا،کیس کی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی، سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا،موجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیاجائے،سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا

    کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس 2018 کے انتخابات سے متعلق ہے،اب نئے انتخابات سر پر ہیں تو یہ قابل سماعت معاملہ کیسے ہے؟وکیل درخواست گزار ثاقب جیلانی نے کہا کہ موجودہ کیس کا اثر آئندہ انتخابات پر بھی ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ وکیل درخؤاست گزار نے کہا میر بادشاہ قیصرانی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا، ہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو لڑنے کی اجازت دے دی, میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے کو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں،نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قتل کے جرم میں سیاست دان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین جرم کی سزا بھی پانچ سال نااہلی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر ختم کر سکتی ہے، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کیں، جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا، الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے،انتخابات سر پر ہیں، ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا اطلاق موجودہ انتخابات پر ہوگا، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 کی شمولیت کے بعد تاحیات نااہلی سے متعلق تمام فیصلے غیر موثر ہو گئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امام قیصرانی 2007 کے انتخابات میں گریجویشن کی جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے، 2018 کے عام انتخابات میں میر بادشاہ قیصرانی نے میٹرک کی بنیاد پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہائیکورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت میر بادشاہ قیصرانی تاحیات نااہل ہیں اور انتخابات نہیں لڑ سکتے تھے،سپریم کورٹ نے فیصلہ میں نا کہا تو نااہلی کے باوجود آئیندہ انتخابات لڑیں گے، میر بادشاہ قیصرانی کی سزا کے خلاف اپیل ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم دے کہ اپیل پر فیصلہ کرے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم نہیں دے سکتی،ہم ہائیکورٹ پر مانیٹرنگ جج نہیں بیٹھے ہوئے، ہم ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل کے معاملے پر نہیں آئینی معاملے پر فیصلہ کریں گے، آرٹیکل 63 ون جی میں پاکستان کی تباہی کرنے والے کی نااہلی پانچ سال ہے، آرٹیکل 63 ون ایچ میں اخلاقی جرائم پر نااہلی تین سال ہے،لوگ شادی کے وقت جن شرائط پر رشتہ دیتے ہیں وہ پوری نہ ہوں تو شادی ختم تو نہیں ہوتی،یہ مثال صرف سمجھانے کی غرض سے دی ہے،امین تو صرف ہم ایک ہی شخصیت کو کہتے ہیں باقی کوئی اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتا،ہر شخص ہر وقت سچ تو نہیں بولتا،اصل نااہلی تو آرٹیکل 63 میں ہے،پاکستان کی تباہی کرنے والے کو دوبارہ سیاست میں آنا ہی نہیں چاہیئے مگر اسکی نااہلی بھی پانچ سال ہے،آئین کی زبان کو دیکھنا ہوتا ہے ہر چیز آئین میں واضح درج نہیں،جو آئین میں واضح نہیں اس کی سپریم کورٹ تشریح کر سکتی ہے وضاحت نہیں،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے نااہلی کی مدت کا معاملہ نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی دونوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،پارلیمنٹ کی قانون سازی چلے گی یا سپریم کورٹ کا فیصلہ اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھنا ہے،ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے دوسری جانب قانون،ریٹرننگ افسر کس پر انحصار کرے گا؟انتخابات آگئے ہیں مگر کسی کو پتا نہیں کہ وہ الیکشن لڑے گا یا نہیں.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کی تاحیات نااہلی سے متعلق رائے کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی یہ رائے ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالا ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق تین اپیلیں آئیں،سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ 2008 اور 2018 کے انتخابات سے متعلق تھا، درخواست گزار کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کے ساتھ 2 سال کی سزا بھی ہوئی،درخواست گزار کی نااہلی کی سزا کیخلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے،سپریم کورٹ صرف نااہلی کے سوال کو دیکھے گی، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق میر بادشاہ قیصرانی کی نااہلی تاحیات ہے، جبکہ نااہلی کی مدت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 میں 5 سال کی گئی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق سیکشن 232 سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے سے بالا ہوگا، جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون میں تاحیات نااہلی کی تشریح کرچکی، وکلا کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو چیلنج نہیں کیا گیا، آئندہ انتخابات میں اس معاملے سے ریٹرننگ افسران کو کنفیوژن ہوگیریٹرننگ افسر الیکشن ایکٹ پر انحصار کرے یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ ابہام جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں ، یہ بھی خدشہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل اور عدالتیں غیر ضروری مقدمہ بازی میں پھنس جائیں گی،ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے اور لارجر بینچ کے سامنے مقرر ہونا چاہیے ،نااہلی سے متعلق معاملہ بنچ کی تشکیل کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے، اٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو معاونت کیلئے نوٹس کیا جاتا ہے، نااہلی سے متعلق معاملے پر معاونت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس کیا جاتا ہے،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں اس وقت بے یقینی کی صورتحال ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے یہ بے یقینی والی بات دوبارہ نہیں کرنی، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونگے، غیر یقینی کی بات کرنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا، موجودہ کیس کو الیکشن کمیشن سمیت کوئی انتخابات میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کرے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے،الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا، سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد اس آئینی تشریح پرکم سے کم پانچ ججز کا بنچ بننا چاہیے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس ہارنے یا جیتنے سے بہتر عدالت کی معاونت کرنا ہوتا ہے،آپ کے توسط سے یہ کنفیوژن دور ہوجائے گی،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • کیا مردہ شخص خود بتائے گا گولی کس نے ماری؟ دوبارہ پوسٹمارٹم کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    کیا مردہ شخص خود بتائے گا گولی کس نے ماری؟ دوبارہ پوسٹمارٹم کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے ملزمان کی جانب سے مقتول کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کی درخواست مسترد کردی

    ملزمان کی جانب سے پوسٹ مارٹم کی درخواست دینے پر عدالت برہم ہو گئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کی کیا ضرورت ہے؟ وکیل ملزمان نے کہا کہ تین ملزمان ہیں گولی کس نے ماری تعین کیلئے پوسٹ مارٹم ضروری ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مردہ شخص خود بتائے گا گولی کس نے ماری،پہلے قتل کرو اور پھر پوسٹ مارٹم کے نام پر میت کی بے حرمتی کرو،پوسٹ مارٹم قتل کی وجہ جاننے کیلئے ہوتا ہے،مقتول گولی لگنے سے جانبحق ہوا اب دوبارہ پوسٹ مارٹم ضروری نہیں،کیوں نہ آپ کو جرمانہ عائد کیا جائے،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ انسٹاگرام پر تو موجود تھیں لیکن اب وہ ٹویٹر اکائونٹ پر بھی آگئی 

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج