Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس،جسٹس اعجاز الاحسن کو جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کیلئے درخواست دائر

    جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس،جسٹس اعجاز الاحسن کو جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی کا معاملہ،جسٹس اعجاز الاحسن کو جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی

    میاں داود ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ دوسرے سینئر جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جائے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایت سننے والی کونسل سے الگ ہونا چاہیے،جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن اور مس کنڈکٹ کا ریفرنس جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے،سائل کی شکایت پر جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر نقوی کو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہے،شوکاز نوٹس میں جسٹس مظاہر نقوی سے تین آڈیو لیکس بارے سوال کیا گیا ہے،تینوں آڈیو لیکس مقدمات کی فکسنگ اور غلام محمود ڈوگر کیس سے متعلق ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن اس بنچ کا حصہ تھے جس نے غلام محمود ڈوگر کیس سنا،قانونی اور اصولی طور پر غلام محمود ڈوگر کا مقدمہ سننے والا کوئی جج جوڈیشل کونسل کا ممبر نہیں رہ سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن کا سپریم جوڈیشل کونسل میں ممبر رہنا آئین کے آرٹیکل 10 اے اور 9 کیخلاف ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کا جوڈیشل کونسل کا حصہ رہنا مفادات کے ٹکراو اور شفافیت کے اصول کیخلاف ہے،شکایت کنندہ سمیت عوام کو یہ تاثر ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کونسل میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکیں گے،جسٹس اعجاز الاحسن کا جسٹس نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے دو مرتبہ اختلاف کرنا جانبداری کو مزید مضبوط کرتا ہے،درخواست میں وفاقی حکومت اور سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست کے ساتھ سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کے مقدمے ک آرڈر شیٹ بھی منسلک ہے

    قبل ازیں گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا،جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کوبھی بھجوادی جس میں کہا گیا ہےکہ میں نے2 آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائرکر رکھی ہیں، میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا، آئینی درخواستوں کوجلد مقررکرنے کے لیے متفرق درخواست بھی دائرکی لیکن مقدمہ نہیں لگا،آئینی درخواستیں مقررنہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیخلاف ورزی ہےیہ آئینی درخواستیں 3 رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،سپریم کورٹ

    خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،سپریم کورٹ

    حق مہر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،چھ سال تک حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ جرمانہ اور قانونی چارہ جوئی کی ادائیگی کا حکم دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ حق مہر شرعی تقاضا ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی موجود ہے،حق مہر کی ادائیگی کا وقت نکاح نامہ میں مقرر نہ ہو تو بیوی کسی بھی وقت تقاضا کر سکتی ہے، موجودہ کیس میں بیوی کو حق مہر کے حصول کیلئے مقدمہ دائر کرنا پڑا جو چھ سال بعد سپریم کورٹ پہنچا، عدالتوں نے غیرضروری اپیلیں دائر کرنے پر شوہر کو جرمانہ عائد نہیں کیا،غیرضروری اپیلوں پر جرمانہ کیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، غیرضروری اپیلیں دائر کرنے سے عدالتی نظام مفلوج ہوتا جا رہا ہے،بلاوجہ کی مقدمہ بازی ختم کرنے کیلئے عدالتوں کو جرمانہ کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہیے،تین صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا ،سپریم کورٹ نے خالد پرویز کی اہلیہ ثمینہ کو حق مہر کی ادائیگی کے حکم کیخلاف اپیل خارج کر دی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • عمران خان کی  آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا

    عمران خان کی آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا

    اسلام آباد: سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کردی۔

    باغی ٹی وی: سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراضات کیخلاف اپیل پرجلدسماعت کی استدعا کرتے ہوئے درخواست دائر کی، عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کو آئینی درخواست میں چیلنج کیا تھا، رجسٹرار آفس نے درخواست اعتراضات لگا کرواپس کر دی تھی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ رجسٹرار آفس اعتراضات کے خلاف اپیل دائرکر چکے ہیں، جس پر جلد سماعت کی جائے گی-

    دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت جاری ہے، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں سماعت کر رہے ہیں، سفارتی سائفر گمشدگی کیس کی سماعت کے دوران آج دونوں ملزمان کو کیس کے چالان کی نقول فراہم کی جائیں گی سابق چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی سمیت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان و دیگر کمرہ عدالت میں موجود ہیں، اس کے علاوہ خصوصی عدالت کی جانب سے میڈیا کے چھ نمائندگان کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    کندھ کوٹ میں ٹریفک حادثہ،7 افراد جاں بحق 9 زخمی

    اسٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، 100 انڈیکس 62 ہزار کی سطح عبور کرگیا

    بلاول ،نواز شریف کا مقابلہ نہیں کرسکتے،رہنما مسلم لیگ ن

  • چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    عمران خان کے چیف جسٹس پاکستان کے نام خط پر سپریم کورٹ کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا ادراک ہے،چیف جسٹس فائز کسی کو نہ دباو میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے۔ چیف جسٹس فائزعیسی اللہ کے فضل سے اور اپنے حلف کے مطابق فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے۔یکم دسمبر کو 84 صفحات کی درخواست موصول ہوئی جو زرد رنگ کی پیپر بک میں ہے۔دستاویز تیار کرنے والے وکیل کا نام اور رابطہ کی تفصیلات نہیں دی گئی۔لفافے کے مطابق دستاویز انتظار حسین پنجھوتہ نے کورئیئر کی تھی۔دستاویز بظاہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔اس جماعت کی اچھی نمائندگی وکلاء کرتے رہے ہیں۔پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں اس جماعت کے وکلاء فوجی عدالتوں اور انتخابات کیس کو تکمیل تک لے گئے۔یہ امر حیران کن ہے کہ سربمہر لفافہ موصول ہونے سے پہلے ہی دستاویز کس نے میڈیا کو جاری کیا.

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا تھا،خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

  • افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی اور وزرات خارجہ کو نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے، اٹارنی جنرل معاملے پر لارجربینچ تشکیل دینے کے نقطے پر معاونت کریں، درخواست گزار فرحت اللہ بابر نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس غیر قانونی شہریوں کی بے دخلی کا مینڈیٹ نہیں، جن افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چُکے ہیں، افغان شہریوں کے ساتھ حکومت پاکستان غیر انسانی سلوک کر رہی ہے،نگران حکومت پالیسی معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں رکھتی،اس عدالت کے پاس شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کریں؟ درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 4، 9 ،10 اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے جو لوگ یہاں رہ رہے ہیں کیا وہ یہاں ہی رہیں اس پر عدالت کی معاونت کریں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے معاہدے مہاجرین کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے ان معاہدوں کا پابند ہے،عدالت نے مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

    غیر قانونی، غیر ملکیوں کے انخلا پر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف آپریشن کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم 18 ہزار غیر ملکیوں کی فہرست خیبر پختونخوا پولیس کو ارسال کر دی گئی

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • چیف جسٹس کو دی گئی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس کو دی گئی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    چیف جسٹس کو دی گئی شاہانہ گاڑیاں نیلام کی جائیں گی،چیف جسٹس کے لئے 2020 میں خریدی گئی 61 ملین کی مرسڈیز بینز نیلام کی جائے گی،پنجاب حکومت کی فراہم کی گئی بلٹ پروف لینڈ کروزر بھی نیلام کی جائے گی،گاڑیوں کی نیلامی کیلئے سیکرٹری کابینہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط ارسال کر دیا گیا، خط میں کہا گیا کہ آئینی عہدوں کیلئے لگژری گاڑیاں درآمد کرما مناسب نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے دونوں گاڑیاں استعمال نہیں کیں،گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل رقم پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کی جائے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • پی ٹی آئی کا سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر  چیف جسٹس سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر چیف جسٹس سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا ہے

    خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

  • جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس چیلنج کر دیئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس چیلنج کر دیئے

    جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    جسٹس مظاہر نقوی کی درخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ میرے خلاف شکایات کو کھلی عدالت میں سنا جائے، جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو دو شو کاز نوٹس جاری کر رکھے ہیں،جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دس شکایات زیر التوا ہیں.

    واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کو27 اکتوبر کے کونسل اجلاس میں بھی شوکازجاری کیاگیا تھا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے تین ممبران کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

  • پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف مرحوم کی سنگین غداری کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،توفیق آصف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر پیش ہوئے اور کہا کہ آخری سماعت کے دوران میں اپنے دلائل مکمل کرہا تھا،میں عدالت میں تحریری دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تحریری دلائل کمرہ عدالت میں پڑھیں گے یا ہم خود پڑھ لیں ؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں میں نے تحریری معروضات جمع کروا دیں ہیں، توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کرلئے

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا؟ کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے جب فیصلہ دیا تو کیا خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا تو اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیا، مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاونت نہیں مل رہی،لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے جب فل کورٹ تشکیل تجویز کی تو اگلی تاریخ کیسے دی؟فل کورٹ تشکیل دینا نہ دینا تو پھر چیف جسٹس کا اختیار تھا،عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں درخواست ترمیم کے بعد کی چل رہی تھی،ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی ،خصوصی عدالت ایک ریگولیٹر عدالت تھی ہی نہیں،وہ تو ایک فیصلے کیلئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے،پرویز مشرف نے اسی لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو جانتے ہیں یا نہیں؟خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے, ہائیکورٹ کے حکم میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنے کا نہیں کہا گیا,

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی تو استدعا ہی نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا فیصلہ آچکا تھا،سارے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر نہیں،وکیل نے کہا کہ اسی وجہ سے پرویز مشرف نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایک روز کا نوٹس دیا ،کیا ہائیکورٹ میں ایک روز کا نوٹس دیا جاتا ہے، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ بھجواتے ہوئے تاریخ کیسے دی جا سکتی ہے،ممکن ہے چیف جسٹس فل کورٹ سے متفق ہو یا نہ ہو، خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم ہونی چاہیے تھی، خصوصی عدالت صرف اسی کیس کیلئے بنائی گئی تھی جو فیصلہ سناتے ہی ختم ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متفق تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا موقف ہے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ فیصلے کو تسلیم کرتے تو پھر یہ اپیل نہ کرتے، پرویز مشرف کے وکیل آج بھی اپیل پر کھڑے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا یا سیم پیج پر تھی،خصوصی عدالت کے فیصلے بارے ہائیکورٹ کو بتانا تو تھا، اگر آئین غصب ہو جائے تو پھر عدالت 1956 تک بھی جا سکتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نےویڈیو لنک پر دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان بار کے دلائل اپنانا چاہتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا،رشید رضوی نے کہا کہ مجھے جسٹس اطہر من اللہ کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،پرویزمشرف کےمارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کاروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کاروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہدایات کی بات نہ کریں آپ خود ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے بتائیں،کیا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصلہ مانتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، فیصلہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھینک یو،آپ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جو راستہ چنا تھا ہم اس سے متفق ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ بھی لاہور ہائیکورٹ میں سیم پیج پر تھے،کیا وفاق نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو نہیں بتایا کہ اب خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی،کیا آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا نہیں کہ آپ آگے نہیں چل سکتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سوال کا واضح جواب نہ دے سکے.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے،جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا،ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا،کیا ساوتھ افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟ قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی،کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں،وکیل آکر بتائیں نہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں،میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے،بتائیں نہ کتنے صحافی مارشل لاء کے حامی کتنے خلاف تھے؟ ہمیں تاریح سے سیکھنا چاہیے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تاریخ پھر یہ ہے کہ جب کوئی مضبوط ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی نہیں بولتا،جب طاقتور کمزور پڑھ جاتا ہے اس کے بعد عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب آپ مزید جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں سلمان صفدر آپ آج مزید کچھ کہنا چاھیں گے یا پھر اپیل تک محدود رہیں گے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس میں مزید دلائل دینا چاہتا ہوں،جس قانونی نکتے پر عدالتی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر آئندہ سماعت پر دلائل دونگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو مزید مہلت دے دیتےہیں آپ تیاری کرکے آئیں اس دن آپ کو مزید مہلت نہیں ملے گی۔اس عدالت میں اگر کوئی نہیں آنا چاہتا تو زور زبردستی نہیں کرسکتے۔سلمان صفدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عدالت پرویزمشرف کے اہل خانہ کو سوچنے کی مزید مہلت دے۔ وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں،پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہوگئے

    لاہور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدالتی معاون نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی کی حمایت کی؟وفاق نے بھی کارروائی پر اعتراض نہیں کیا،اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وکلا نے جواب دیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب اب ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے،حامد خان صاحب آپ اپنے گھر سے ہوئی غلط بات کو غلط کہنے کھڑے ہیں،حامد خان صاحب اسی لیے آپ کا قد بڑا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سب ایک ہی پیج پر تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیج کیا تھا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگرہم اتنی دیر تک مہلت دیتےہیں تو اس کیس کی محرکات، اثرات پر جتنی بھی قانونی معاونت ہے اس پر تیاری کرکے آئیے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس میں تشریح کا معاملہ بھی ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ اس میں مئوکلان سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کروں،

    عدالت نے کہا کہ سماعت کے دوران حامد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ، سندھ بار کونسل کے وکیل رشید رضوی اور دیگر وکلا نے دلائل دیئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جب کارروائی شروع ہوئی اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی،اس وقت کی حکومت کو بھی اس عدالت نے کارروائی کی طرف مائل کیا،سنگین غداری کیس جب شروع ہوا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے 12 اکتوبر کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک شخص ہی حکومت چلارہا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سب سول حکومتیں ایک ہی پیج پر تھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو برملا الفاظ میں پرویز مشرف کو جواز دینے والے فیصلے کی مزمت کیوں نہیں کرنی چاہیے،حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے ،کہامیں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ ہوا،سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،میری استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو پرویز مشرف کی پینشن اور مراعات پر بھی اثر پڑے گا،اس سوال پر بھی آئندہ سماعت پر معاونت کریں،ہم سزا بھی برقرار رکھیں اور سب کو پینشن اور مراعات بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وفاق کا موقف تو سنا نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کنفیوز لگ رہے ہیں انہیں شاید وہ سیم پیج مل نہیں رہا،تاریخ میں نہیں جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کب تک کہیں گے تاریخ میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اب ان باتوں پر جانا ہے کہ کس نے کیا کیا،
    آج ہم ملک کی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسمبلیوں کو معطل کیا، ان ججز کو کیا کہیں گے جنہوں نے اس سارے عمل کو قانون جواز بنایا،بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،کارروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہوگی تو فیئر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، اس عدالت کے ججز نے اپنے کاز کیلئے فیصلے دیئے، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے تھا، تین نومبر پر کاروائی ہوئی لیکن 12 اکتوبر پر نہیں، ہمیں سچ بولنا چاہیے جو حقیقت ہے،جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افریقہ اور جرمنی نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، جزا سزا تو اللہ دے گا، کم از کم تسلیم تو کریں کیا صحیح تھا کیا غلط، اسکولوں میں بھی آئین پڑھایا جانا چاہیے،انگلینڈ میں اب موومنٹ آ رہی ہے کہ غلطیوں کو مانیں، جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا اصول درست نہیں ہو سکتا،جنہوں نے بھی ڈکٹیٹر کے فیصلوں کو تسلیم کیا ان کا بتائیں،قانون کے توڑنے کو درست نہیں کہا جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائی لارڈ نے درست کہا قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو مضبوط رہے، آپ کو آئندہ تاریخ کب کی چاہیے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سردی کی چھٹیوں کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ انہیں مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی،وکیل کے مطابق پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،پرویزمشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد تاریخ مانگی،پرویزمشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گیے،پرویز مشرف کے وکیل سے عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟کیا سزا برقرار رہنے پر مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • صدر عارف علوی‌ کو  عہدے سے ہٹانے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست

    صدر عارف علوی‌ کو عہدے سے ہٹانے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست

    صدر عارف علوی‌ کو کام سے روکنے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ صدر عارف علوی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ عارف علوی نے صدر مملکت کے عہدے کی تضحیک کی۔ صدر پوری قوم کا ہوتا ہے ناکہ صرف ایک سیاسی جماعت کا ہوتاہے۔عارف علوی نے اپنے صدراتی دفتر کو تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ عارف علوی صدر کے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوۓ غیر آئینی اقدام کے بھی مرتکب ہوۓ ہیں۔صدر نے اپنی آئینی ذمہ داری سے بھی پہلو تہی برتی ہے۔ عام انتخابات کی تاریخ دینا صدر کا کام تھا لیکن انہوں نے تاریخ نہیں دی۔ صدر غیر قانونی طور پر اسمبلی کی تحلیل کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔صدر آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت آئین پر عملداری کو یقینی نہیں بنایا۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عارف علوی کو بطور صدر کام کرنے سے روکا جائے۔ صدر کیخلاف آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔صدر کے خلاف درخواست آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت غلام مرتضیٰ نے دائر کی ،صدر اور وزارت قانون کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب نگران وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائرکی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیراعظم اپنی مدت پوری کر چکے، انہیں عہدے سے ہٹایا جائے،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے