Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ 12 دسمبر کو ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کی سماعت کرے گا، رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    کراچی: شاپنگ مال میں آگ، رہائشیوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ …

  • گھر گرانے پر مقدمہ کیوں نہیں درج کیا،سپریم کورٹ کا ایس ایچ او پر مقدمے کا حکم

    گھر گرانے پر مقدمہ کیوں نہیں درج کیا،سپریم کورٹ کا ایس ایچ او پر مقدمے کا حکم

    گھر گرانے کا کیس،سپریم کورٹ نے سابق ایس ایچ او میر پور ماتھیلو خالد حسین کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا،

    کیس کی سماعت جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کی،ڈی آئی جی سکھر کے جنوری 2022سے ابتک مقدمہ درج نہ کرنے پر عدالت برہم ہو گئی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ انکوائری رپورٹ کے مطابق قابل دست اندازی پولیس جرم بنتا ہے یا نہیں؟ڈی آئی جی سکھر نے عدالت میں کہاکہ رپورٹ کے مطابق قابل دست اندازی جرم بنتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد بھی پولیس نے انکوائری کیوں نہ کی؟پولیس حکام نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ نے انکوائری آفیسر کا خط کالعدم قرار دے دیا تھا،

    جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ خط کالعدم کیا گیا تھا رپورٹ اپنی جگہ آج بھی برقرار ہے،ڈی آئی جی نے ملزم کو ہائیکورٹ جانے کی مہلت دی،متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہ کریں؟مقدمہ درج کرتے پھر چاہے انکوائری میں جو بھی فیصلہ کرتے،ڈی آئی جی سکھر مقدمہ درج کروانے کے بجائے لیٹر کو دبا کر بیٹھ گیا،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہاکہ فریقین نے رضا مندی سے انکوائری کا حکم لیا تھا،جسٹس آف پیس کے حکم پر ڈی ایس پی لیول کے آفیسر نے انکوائری کی، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوران سماعت پولیس آفیسر نے قابل دست اندازی جرم تسلیم کیا،پولیس 154کے تحت قانون کے مطابق کارروائی کرے.

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

  • فاٹا  میں گھی اور اسٹیل انڈسٹری پر سیلز ٹیکس غیر آئینی قرار دے دیا

    فاٹا میں گھی اور اسٹیل انڈسٹری پر سیلز ٹیکس غیر آئینی قرار دے دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فاٹا پاٹا میں گھی اور اسٹیل انڈسٹری پر سیلز ٹیکس غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لارجر بینچ نے گھی اور اسٹیل مل مالکان کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،فیصلے کے مطابق قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد 30 جون 2024 تک سیلز ٹیکس وصولی غیر آئینی ہے، آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقوں کا انضمام ہوا،قبائلی علاقوں میں انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا-

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کا پی ٹی آئی سے علیحدگی کا …

    یونیورسٹی آف سرگودھا میں اے پی پی اور پولیس تحفظ مرکز کے اشتراک سے …

    کندھ کوٹ: پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین فائرنگ میں شہید ہونے والے ہیڈ محرر …

  • آئینی درخواستیں سماعت کیلئےمقرر کرجائیں ،جسٹس مظاہر نقوی کا چیف جسٹس کو خط

    آئینی درخواستیں سماعت کیلئےمقرر کرجائیں ،جسٹس مظاہر نقوی کا چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنی آئینی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے خط لکھ دیا-

    باغی ٹی وی: جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن کو خط لکھاجس میں کہا گیا کہ بغیر کسی تاخیر کے میری آئینی پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،پہلے بھی خط میں 2 آئینی درخواستوں کو طے کرنے کی درخواست کی تھی، حیران کن ہے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں طے شدہ وقت گزر گیا، کسی بھی درخواست کو نہ تو نمبر دیا گیا نہ ہی عدالت کے سامنے مقرر کیا گیا۔

    جوڈیشل کونسل میں شکایات:جسٹس مظاہر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا

    جسٹس مظاہرنے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت 14 دن کے اندر درخواستوں کی سماعت ذمہ داری ہے، 20 اور 30 نومبر کو اپنے خلاف کارروائی کو چیلنج کرنے والی 2 آئینی درخواستیں دائر کی ،عبوری ریلیف کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں، درخواستوں کے دائر کیے جانے کے باوجود کونسل میرے خلاف کارروائی کر رہی ہے، یہ عمل سپریم کورٹ کے سامنے میری آئینی درخواستوں کو سنگین طور پر متاثر کر رہا ہے۔

    اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

  • سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، ذوالفقار بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر

    ‏سپریم کورٹ آف پاکستان،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عدالتی قتل صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    13 سال بعد سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے ذوالفقار بھٹو قتل ریفرنس پر سماعت ہوگی،ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت لارجر بنچ کرے گا،ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں ہوگی،

    ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں،صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو ہوئی تھی،ذوالفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی،صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں،صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی.

    سابق صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا تھا جس میں کہاگیا تھا کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں جو پھانسی دی گئی کیا وہ آئین اور ملکی اور اسلامی قوانین کے مطابق تھی؟کیا وعدہ معاف گواہ کے بیان پر کسی کو پھانسی دی جاسکتی ہے اور کیا بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کسی عدالت میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، جب ریکارڈ میں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا رویہ جانب دارانہ ہو تو کیا ان حالات میں عدالتی کارروائی کو منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

    2018 میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس میں فریق بننے کی درخواست دائرکی تھی، بلاول کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ اپنے نانا کے عدالتی قتل میں انصاف کے بول بالا کیلئے مجھے فریق بننے کی اجازت دی جائے، بھٹو کا نواسہ ہونے کے ناطے میں اس صدارتی ریفرنس میں براہ راست فریق بن سکتا ہوں،عدالت مجھے بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے ریفرنس میں شریک بننے کی اجازت دے،

  • ٹرائل دو سال تک مکمل نہ ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے،سپریم کورٹ

    ٹرائل دو سال تک مکمل نہ ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں ضمانت سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضابطہ فوجداری قانون کے تحت اگر ٹرائل دو سال تک مکمل نہ ہو تو ملزم ضمانت کا حقدار ہے،ضابطہ فوجداری قانون میں ٹرائل میں تاخیر کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے،جن قانونی وجوہات کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست خارج ہو انہی کو بنیاد بنا کر دوبارہ ضمانت نہیں دی جاسکتی، ضمانت کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی جائے تو اسی گراؤنڈ پر دوبارہ ضمانت کی درخواست نہیں دی جاسکتی، ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت دی جاسکتی ہے،ضمانت کے مقدمے میں فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا ہے،عدالت نے قتل کے ملزم محمد عثمان کی دو لاکھ روپے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا،

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ چیف جسٹس

    ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 کے سیکشن 3 اے کو 2011 میں درست قرار دیا،2013 میں سندھ ہائیکورٹ نے اسی نوٹیفکیشن کو غیر آئینی کیسے قرار دیا،ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے،؟ سندھ ہائیکورٹ نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نظر انداز کر دیا،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈووکیٹ خالد جاوید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی بات کیوں کرہے ہیں،ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی جانب سے التوا کی درخواست دائر کی گئی،فروغ نسیم اپنی التوا کی درخواست میں کہتے ہیں بیمار ہوں ڈیڑھ ماہ بعد سماعت کی جائے،یہ انتہائی نامعقول درخواست ہے،یہ ایک سینئر وکیل کا رویہ ہے،کیس کی سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کر دیا گیا

  • جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس،جسٹس اعجاز الاحسن کو جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کیلئے درخواست دائر

    جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس،جسٹس اعجاز الاحسن کو جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی کا معاملہ،جسٹس اعجاز الاحسن کو جوڈیشل کونسل سے الگ کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی

    میاں داود ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ دوسرے سینئر جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جائے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایت سننے والی کونسل سے الگ ہونا چاہیے،جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن اور مس کنڈکٹ کا ریفرنس جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے،سائل کی شکایت پر جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر نقوی کو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہے،شوکاز نوٹس میں جسٹس مظاہر نقوی سے تین آڈیو لیکس بارے سوال کیا گیا ہے،تینوں آڈیو لیکس مقدمات کی فکسنگ اور غلام محمود ڈوگر کیس سے متعلق ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن اس بنچ کا حصہ تھے جس نے غلام محمود ڈوگر کیس سنا،قانونی اور اصولی طور پر غلام محمود ڈوگر کا مقدمہ سننے والا کوئی جج جوڈیشل کونسل کا ممبر نہیں رہ سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن کا سپریم جوڈیشل کونسل میں ممبر رہنا آئین کے آرٹیکل 10 اے اور 9 کیخلاف ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کا جوڈیشل کونسل کا حصہ رہنا مفادات کے ٹکراو اور شفافیت کے اصول کیخلاف ہے،شکایت کنندہ سمیت عوام کو یہ تاثر ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کونسل میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکیں گے،جسٹس اعجاز الاحسن کا جسٹس نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے دو مرتبہ اختلاف کرنا جانبداری کو مزید مضبوط کرتا ہے،درخواست میں وفاقی حکومت اور سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست کے ساتھ سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کے مقدمے ک آرڈر شیٹ بھی منسلک ہے

    قبل ازیں گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا،جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کوبھی بھجوادی جس میں کہا گیا ہےکہ میں نے2 آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائرکر رکھی ہیں، میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا، آئینی درخواستوں کوجلد مقررکرنے کے لیے متفرق درخواست بھی دائرکی لیکن مقدمہ نہیں لگا،آئینی درخواستیں مقررنہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیخلاف ورزی ہےیہ آئینی درخواستیں 3 رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،سپریم کورٹ

    خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،سپریم کورٹ

    حق مہر کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا،چھ سال تک حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ جرمانہ اور قانونی چارہ جوئی کی ادائیگی کا حکم دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ حق مہر شرعی تقاضا ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی موجود ہے،حق مہر کی ادائیگی کا وقت نکاح نامہ میں مقرر نہ ہو تو بیوی کسی بھی وقت تقاضا کر سکتی ہے، موجودہ کیس میں بیوی کو حق مہر کے حصول کیلئے مقدمہ دائر کرنا پڑا جو چھ سال بعد سپریم کورٹ پہنچا، عدالتوں نے غیرضروری اپیلیں دائر کرنے پر شوہر کو جرمانہ عائد نہیں کیا،غیرضروری اپیلوں پر جرمانہ کیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، غیرضروری اپیلیں دائر کرنے سے عدالتی نظام مفلوج ہوتا جا رہا ہے،بلاوجہ کی مقدمہ بازی ختم کرنے کیلئے عدالتوں کو جرمانہ کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہیے،تین صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا ،سپریم کورٹ نے خالد پرویز کی اہلیہ ثمینہ کو حق مہر کی ادائیگی کے حکم کیخلاف اپیل خارج کر دی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • عمران خان کی  آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا

    عمران خان کی آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا

    اسلام آباد: سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کردی۔

    باغی ٹی وی: سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراضات کیخلاف اپیل پرجلدسماعت کی استدعا کرتے ہوئے درخواست دائر کی، عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کو آئینی درخواست میں چیلنج کیا تھا، رجسٹرار آفس نے درخواست اعتراضات لگا کرواپس کر دی تھی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ رجسٹرار آفس اعتراضات کے خلاف اپیل دائرکر چکے ہیں، جس پر جلد سماعت کی جائے گی-

    دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت جاری ہے، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں سماعت کر رہے ہیں، سفارتی سائفر گمشدگی کیس کی سماعت کے دوران آج دونوں ملزمان کو کیس کے چالان کی نقول فراہم کی جائیں گی سابق چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی سمیت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان و دیگر کمرہ عدالت میں موجود ہیں، اس کے علاوہ خصوصی عدالت کی جانب سے میڈیا کے چھ نمائندگان کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    کندھ کوٹ میں ٹریفک حادثہ،7 افراد جاں بحق 9 زخمی

    اسٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، 100 انڈیکس 62 ہزار کی سطح عبور کرگیا

    بلاول ،نواز شریف کا مقابلہ نہیں کرسکتے،رہنما مسلم لیگ ن