Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    عمران خان کے چیف جسٹس پاکستان کے نام خط پر سپریم کورٹ کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا ادراک ہے،چیف جسٹس فائز کسی کو نہ دباو میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے۔ چیف جسٹس فائزعیسی اللہ کے فضل سے اور اپنے حلف کے مطابق فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے۔یکم دسمبر کو 84 صفحات کی درخواست موصول ہوئی جو زرد رنگ کی پیپر بک میں ہے۔دستاویز تیار کرنے والے وکیل کا نام اور رابطہ کی تفصیلات نہیں دی گئی۔لفافے کے مطابق دستاویز انتظار حسین پنجھوتہ نے کورئیئر کی تھی۔دستاویز بظاہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔اس جماعت کی اچھی نمائندگی وکلاء کرتے رہے ہیں۔پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں اس جماعت کے وکلاء فوجی عدالتوں اور انتخابات کیس کو تکمیل تک لے گئے۔یہ امر حیران کن ہے کہ سربمہر لفافہ موصول ہونے سے پہلے ہی دستاویز کس نے میڈیا کو جاری کیا.

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا تھا،خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

  • افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی اور وزرات خارجہ کو نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے، اٹارنی جنرل معاملے پر لارجربینچ تشکیل دینے کے نقطے پر معاونت کریں، درخواست گزار فرحت اللہ بابر نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس غیر قانونی شہریوں کی بے دخلی کا مینڈیٹ نہیں، جن افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چُکے ہیں، افغان شہریوں کے ساتھ حکومت پاکستان غیر انسانی سلوک کر رہی ہے،نگران حکومت پالیسی معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں رکھتی،اس عدالت کے پاس شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کریں؟ درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 4، 9 ،10 اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے جو لوگ یہاں رہ رہے ہیں کیا وہ یہاں ہی رہیں اس پر عدالت کی معاونت کریں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے معاہدے مہاجرین کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے ان معاہدوں کا پابند ہے،عدالت نے مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

    غیر قانونی، غیر ملکیوں کے انخلا پر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف آپریشن کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم 18 ہزار غیر ملکیوں کی فہرست خیبر پختونخوا پولیس کو ارسال کر دی گئی

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • چیف جسٹس کو دی گئی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس کو دی گئی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

    چیف جسٹس کو دی گئی شاہانہ گاڑیاں نیلام کی جائیں گی،چیف جسٹس کے لئے 2020 میں خریدی گئی 61 ملین کی مرسڈیز بینز نیلام کی جائے گی،پنجاب حکومت کی فراہم کی گئی بلٹ پروف لینڈ کروزر بھی نیلام کی جائے گی،گاڑیوں کی نیلامی کیلئے سیکرٹری کابینہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط ارسال کر دیا گیا، خط میں کہا گیا کہ آئینی عہدوں کیلئے لگژری گاڑیاں درآمد کرما مناسب نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے دونوں گاڑیاں استعمال نہیں کیں،گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل رقم پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کی جائے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • پی ٹی آئی کا سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر  چیف جسٹس سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر چیف جسٹس سے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا ہے

    خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

  • جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس چیلنج کر دیئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس چیلنج کر دیئے

    جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    جسٹس مظاہر نقوی کی درخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ میرے خلاف شکایات کو کھلی عدالت میں سنا جائے، جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو دو شو کاز نوٹس جاری کر رکھے ہیں،جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دس شکایات زیر التوا ہیں.

    واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کو27 اکتوبر کے کونسل اجلاس میں بھی شوکازجاری کیاگیا تھا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے تین ممبران کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

  • پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    پرویز مشرف سنگین غداری کیس، خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے,چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف مرحوم کی سنگین غداری کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں،توفیق آصف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر پیش ہوئے اور کہا کہ آخری سماعت کے دوران میں اپنے دلائل مکمل کرہا تھا،میں عدالت میں تحریری دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تحریری دلائل کمرہ عدالت میں پڑھیں گے یا ہم خود پڑھ لیں ؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں میں نے تحریری معروضات جمع کروا دیں ہیں، توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کرلئے

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر کیا؟ کیا کہیں ذکر ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،ایسا نہیں تو پھر خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آن فیلڈ ہی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے جب فیصلہ دیا تو کیا خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کے فیصلے پر کچھ نہیں کہا تو اکیڈمک مشق کی کیا ضرورت تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے پاکستان بار کونسل کے نمائندے کی تیاری نہ ہونے پر ناگواری کا اظہار کیا، مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاونت نہیں مل رہی،لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے جب فل کورٹ تشکیل تجویز کی تو اگلی تاریخ کیسے دی؟فل کورٹ تشکیل دینا نہ دینا تو پھر چیف جسٹس کا اختیار تھا،عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تو ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست غیر موثر ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں درخواست ترمیم کے بعد کی چل رہی تھی،ہائیکورٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے عدالت کی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے سکتی ،خصوصی عدالت ایک ریگولیٹر عدالت تھی ہی نہیں،وہ تو ایک فیصلے کیلئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مشرف بھی سمجھتے تھے کہ لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے بعد بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار ہے،پرویز مشرف نے اسی لیے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان صفدر سے سوال کیا کہ آپ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو جانتے ہیں یا نہیں؟خصوصی عدالت کا فیصلہ تو آج بھی برقرار ہے, ہائیکورٹ کے حکم میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنے کا نہیں کہا گیا,

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم کرنے کی تو استدعا ہی نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا فیصلہ آچکا تھا،سارے فیصلے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کا ذکر نہیں،وکیل نے کہا کہ اسی وجہ سے پرویز مشرف نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے ایک روز کا نوٹس دیا ،کیا ہائیکورٹ میں ایک روز کا نوٹس دیا جاتا ہے، فل کورٹ کی تشکیل کیلئے معاملہ بھجواتے ہوئے تاریخ کیسے دی جا سکتی ہے،ممکن ہے چیف جسٹس فل کورٹ سے متفق ہو یا نہ ہو، خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم ہونی چاہیے تھی، خصوصی عدالت صرف اسی کیس کیلئے بنائی گئی تھی جو فیصلہ سناتے ہی ختم ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متفق تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرا موقف ہے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ فیصلے کو تسلیم کرتے تو پھر یہ اپیل نہ کرتے، پرویز مشرف کے وکیل آج بھی اپیل پر کھڑے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا لاہور ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے اعتراض کیا تھا یا سیم پیج پر تھی،خصوصی عدالت کے فیصلے بارے ہائیکورٹ کو بتانا تو تھا، اگر آئین غصب ہو جائے تو پھر عدالت 1956 تک بھی جا سکتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نےویڈیو لنک پر دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ پاکستان بار کے دلائل اپنانا چاہتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا،رشید رضوی نے کہا کہ مجھے جسٹس اطہر من اللہ کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں، بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،پرویزمشرف کےمارشل لاء کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کاروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کاروائی ہو گی تو فئیر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہدایات کی بات نہ کریں آپ خود ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے بتائیں،کیا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصلہ مانتے ہیں؟ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، فیصلہ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پرویز مشرف کے وکیل کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھینک یو،آپ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا جو راستہ چنا تھا ہم اس سے متفق ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ بھی لاہور ہائیکورٹ میں سیم پیج پر تھے،کیا وفاق نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو نہیں بتایا کہ اب خصوصی عدالت فیصلہ سنا چکی،کیا آپ نے لاہور ہائیکورٹ سے کہا نہیں کہ آپ آگے نہیں چل سکتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سوال کا واضح جواب نہ دے سکے.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے،جس نے مارشل لاء کو راستہ دیا،ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا،کیا ساوتھ افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی؟ قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی،کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں،وکیل آکر بتائیں نہ آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں،جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں،میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے،بتائیں نہ کتنے صحافی مارشل لاء کے حامی کتنے خلاف تھے؟ ہمیں تاریح سے سیکھنا چاہیے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تاریخ پھر یہ ہے کہ جب کوئی مضبوط ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی نہیں بولتا،جب طاقتور کمزور پڑھ جاتا ہے اس کے بعد عاصمہ جیلانی والا فیصلہ آجاتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رشید رضوی صاحب آپ مزید جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ تحریری طور پر معروضات جمع کرائیں سلمان صفدر آپ آج مزید کچھ کہنا چاھیں گے یا پھر اپیل تک محدود رہیں گے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس میں مزید دلائل دینا چاہتا ہوں،جس قانونی نکتے پر عدالتی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر آئندہ سماعت پر دلائل دونگا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو مزید مہلت دے دیتےہیں آپ تیاری کرکے آئیں اس دن آپ کو مزید مہلت نہیں ملے گی۔اس عدالت میں اگر کوئی نہیں آنا چاہتا تو زور زبردستی نہیں کرسکتے۔سلمان صفدر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عدالت پرویزمشرف کے اہل خانہ کو سوچنے کی مزید مہلت دے۔ وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں،پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہوگئے

    لاہور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف توفیق آصف کی اپیل پر وکیل حامد خان نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدالتی معاون نے بھی لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی کی حمایت کی؟وفاق نے بھی کارروائی پر اعتراض نہیں کیا،اس وقت حکومت کس کی تھی؟ وکلا نے جواب دیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب اب ہم آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے،حامد خان صاحب آپ اپنے گھر سے ہوئی غلط بات کو غلط کہنے کھڑے ہیں،حامد خان صاحب اسی لیے آپ کا قد بڑا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سب ایک ہی پیج پر تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیج کیا تھا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگرہم اتنی دیر تک مہلت دیتےہیں تو اس کیس کی محرکات، اثرات پر جتنی بھی قانونی معاونت ہے اس پر تیاری کرکے آئیے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کیس بہت اہم ہے اس میں تشریح کا معاملہ بھی ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ اس میں مئوکلان سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کروں،

    عدالت نے کہا کہ سماعت کے دوران حامد خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ، سندھ بار کونسل کے وکیل رشید رضوی اور دیگر وکلا نے دلائل دیئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جب کارروائی شروع ہوئی اسوقت کی حکومت بھی کارروائی نہیں چاہتی تھی،اس وقت کی حکومت کو بھی اس عدالت نے کارروائی کی طرف مائل کیا،سنگین غداری کیس جب شروع ہوا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کے باوجود انہوں نے 12 اکتوبر کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا؟چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایک شخص ہی حکومت چلارہا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سب سول حکومتیں ایک ہی پیج پر تھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت کو برملا الفاظ میں پرویز مشرف کو جواز دینے والے فیصلے کی مزمت کیوں نہیں کرنی چاہیے،حامد خان کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے ،کہامیں صرف سزا کے خلاف اپیل پر فوکس کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو آئندہ سماعت پر سنیں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ٹرائل چلا کر سزا سنائی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا پرویز مشرف کے ورثا سے رابطہ ہوا،سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی،میری استدعا ہے پرویز مشرف کی فیملی کو وقت دیا جائے انہوں نے 4 سال یہ اپیل مقرر ہونے کا انتظار کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سزا برقرار رہتی ہے تو پرویز مشرف کی پینشن اور مراعات پر بھی اثر پڑے گا،اس سوال پر بھی آئندہ سماعت پر معاونت کریں،ہم سزا بھی برقرار رکھیں اور سب کو پینشن اور مراعات بھی ملتی رہیں یہ نہیں ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے وفاق کا موقف تو سنا نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کنفیوز لگ رہے ہیں انہیں شاید وہ سیم پیج مل نہیں رہا،تاریخ میں نہیں جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کب تک کہیں گے تاریخ میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اب ان باتوں پر جانا ہے کہ کس نے کیا کیا،
    آج ہم ملک کی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسمبلیوں کو معطل کیا، ان ججز کو کیا کہیں گے جنہوں نے اس سارے عمل کو قانون جواز بنایا،بارہ اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا،کارروائی صرف تین نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی؟ تین نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہوگی تو فیئر ٹرائل کا سوال اٹھے گا، اس عدالت کے ججز نے اپنے کاز کیلئے فیصلے دیئے، کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا؟ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے تھا، تین نومبر پر کاروائی ہوئی لیکن 12 اکتوبر پر نہیں، ہمیں سچ بولنا چاہیے جو حقیقت ہے،جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا،اسمبلیاں توڑیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افریقہ اور جرمنی نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا، جزا سزا تو اللہ دے گا، کم از کم تسلیم تو کریں کیا صحیح تھا کیا غلط، اسکولوں میں بھی آئین پڑھایا جانا چاہیے،انگلینڈ میں اب موومنٹ آ رہی ہے کہ غلطیوں کو مانیں، جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا اصول درست نہیں ہو سکتا،جنہوں نے بھی ڈکٹیٹر کے فیصلوں کو تسلیم کیا ان کا بتائیں،قانون کے توڑنے کو درست نہیں کہا جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائی لارڈ نے درست کہا قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ تھے جو مضبوط رہے، آپ کو آئندہ تاریخ کب کی چاہیے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سردی کی چھٹیوں کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھواتے ہوئے کہا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ انہیں مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کی تھی،وکیل کے مطابق پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار کی ہدایت نہیں کی،پرویزمشرف کے وکیل نے چھٹیوں کے بعد تاریخ مانگی،پرویزمشرف کے وکیل اس دوران مرحوم جنرل کی فیملی سے رابطے کی کوشش کریں گیے،پرویز مشرف کے وکیل سے عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟کیا سزا برقرار رہنے پر مشرف کی فیملی کو مراعات دینی چاہیں یا نہیں؟

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • صدر عارف علوی‌ کو  عہدے سے ہٹانے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست

    صدر عارف علوی‌ کو عہدے سے ہٹانے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست

    صدر عارف علوی‌ کو کام سے روکنے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ صدر عارف علوی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ عارف علوی نے صدر مملکت کے عہدے کی تضحیک کی۔ صدر پوری قوم کا ہوتا ہے ناکہ صرف ایک سیاسی جماعت کا ہوتاہے۔عارف علوی نے اپنے صدراتی دفتر کو تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ عارف علوی صدر کے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوۓ غیر آئینی اقدام کے بھی مرتکب ہوۓ ہیں۔صدر نے اپنی آئینی ذمہ داری سے بھی پہلو تہی برتی ہے۔ عام انتخابات کی تاریخ دینا صدر کا کام تھا لیکن انہوں نے تاریخ نہیں دی۔ صدر غیر قانونی طور پر اسمبلی کی تحلیل کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔صدر آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت آئین پر عملداری کو یقینی نہیں بنایا۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عارف علوی کو بطور صدر کام کرنے سے روکا جائے۔ صدر کیخلاف آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔صدر کے خلاف درخواست آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت غلام مرتضیٰ نے دائر کی ،صدر اور وزارت قانون کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب نگران وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائرکی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیراعظم اپنی مدت پوری کر چکے، انہیں عہدے سے ہٹایا جائے،

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • جبری گمشدگیوں کی درخواست پر اعتراض،اعتزاز احسن نے  چیمبر اپیل دائر کردی

    جبری گمشدگیوں کی درخواست پر اعتراض،اعتزاز احسن نے چیمبر اپیل دائر کردی

    سپریم کورٹ، ملک میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ،درخواست گزار اعتزاز احسن نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کردی
    اپیل میں کہا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کوئی درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ رولز میں رجسٹرار کو درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے تعین کا کوئی اختیار نہیں،سپریم کورٹ رولز 1980 کے تحت کسی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا اختیار عدالت کو ہے، اس کیس کو نہ سنا گیا تو یہ پیغام جائے گا کہ لوگوں کا لاپتہ ہونا مفاد عامہ کا معاملہ نہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات میں جس عدالتی فیصلے کا سہارا لیا وہ غیر متعلقہ ہے،لوگوں کو لاپتہ کرنے کا مقصد اختلافی آواز کو خاموش کرانا یا دبانا ہے، رجسٹرار آفس کے آٹھ نومبر کے اعتراضات کالعدم قرار دیئے جائیں،جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس کیس کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا،درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

  • انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر نہ ہی الیکشن کمیشن نے ذمہ داری نبھائی، جسٹس اطہرمن اللہ

    انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر نہ ہی الیکشن کمیشن نے ذمہ داری نبھائی، جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ ،عام انتخابات کا معاملہ،جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ میں کہا کہ پاکستانی ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا بنیادی حقوق کے منافی ہے، آئین و قانون کے بر خلاف نگران حکومتوں کے زریعے امور چلائے جا رہے ہیں، مقررہ وقت میں انتخابات آئینی تقاضا ہے، انتخابات نہ کروا کر عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی،12 کروڑ 56 لاکھ 26 ہزار 390 رجسٹرڈ ووٹرز کو انکے حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا، انتخابات میں تاخیر کو روکنے کیلئے مستقبل میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد عام انتخابات 7 نومبر تک ہونا آئینی تقاضہ ہے، انتخابات کی تاریخ دینا آرٹیکل 48 شق پانچ کے تحت صدر مملکت کا ہی اختیار ہے، یہ یقینی بنانا صدر مملکت کی ذمہ داری تھی کہ پاکستان کی عوام اپنے ووٹ کے حق سے 90 دن سے زیادہ محروم نا رہیں، الیکشن کمیشن اور صدر مملکت نے 8 فروری کی تاریخ دے کر خود کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا، نوے روز میں انتخابات نا کرنے کی آئینی اور عوامی حقوق کی خلاف ورزی اتنی سنگین ہے کہ اس کا کوئی علاج ممکن نہیں، اگر صدر مملکت یا گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا تھا، الیکشن کمیشن کو آئین بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا،صدر مملکت اور گورنرز کو اپنے منصب کے مطابق نیوٹرل رہنا چاہئے، الیکشن کمیشن صدر یا گورنرز کے ایکشن نا لینے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، انتخابات میں 90 دن سے اوپر ایک بھی دن کی تاخیر سنگین آئینی خلاف ورزی ہے،آئینی خلاف ورزی اب ہو چکی اور اس کو مزید ہونے سے روکا بھی نہیں جا سکتا، انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر نہ ہی الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری نبھائی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ آئین میں انتخابات میں تاخیر پر کوئی بھی شہری اگر عدالت سے رجوع کرے تو اس کی داد رسی ہونی چاہیے۔الیکشن کمیشن نے انتخابات صاف شفاف نا کرائے تو اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو گا، ملک کے ساڑھے 12 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بِیش قیمت آئینی حق سے محروم رکھے جانے کے اذیت ناک اقدام کے ازالے کیلئے چارہ جوئی کر کے مستقبل کیلئے اس اقدام کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں

  • سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ ،بحریہ ٹاؤن عدم ادائیگی کا معاملہ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا فیصلہ لکھوایا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاون کے وکیل نے بتایا انہیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں سولہ ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ملنا تھی، اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا،بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460ارب روپیے ادا کرنا تھے،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق جو زمین دی گئی اس پر ہائی پاور بجلی کی تاریں گیس پائپ لائنز، نالے اور کئی گوٹھ ہیں،سندھ حکومت نے لندن سے سپریم کورٹ کو موصول رقم پر بھی دعویٰ کردیا اور کہا کہ برطانیہ سے آئی رقم بھی سندھ حکومت کو دی جائے،سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کا تین ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ ہے۔ بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی روک دی،بحریہ ٹاؤن نے اضافی زمین پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔متعلقہ حکام کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔سرکاری حکام نے عوام اور صوبے کے مفاد کو سرینڈر کیا۔سرکاری حکام نے اپنے آفس کا غلط استعمال کیا۔سرکاری حکام کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل یقین دہانی کروائی کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے متفق ہیں یہ رقم سپریم کورٹ اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی درخواستیں مسترد کر دیں،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ کل 65ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاقی حکومت کو ملیں گے،بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو ملیں گے،سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب سات سال میں ادا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم برقرار رکھا، ترمیم کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی.

    بحریہ ٹاؤن کیس کے دوران 190ملین پاؤنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے خارج کر دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب پہلے ہی اس کیس کی انکوائری کر رہا ہے، عدالت کی آبزرویشن نیب تحقیقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ سے آئے 190 ملین پاؤنڈ ملک ریاض کے نہیں عوام کے ہیں،عوام کا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا تعلق صرف 460 ارب روپے کی ادائیگی سے ہے،سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ جانے اور عدالت جانے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ درخواست گزار نے معلومات دینی ہیں تو نیب کو دے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ نے ملک ریاض کا ویزا منسوخ کرکے داخلے پر پابندی عائد کی، برطانیہ نے 140 ملین پاؤنڈ اور نو بنک اکاؤنٹ منجمند کیے،منجمند کیے گئے اثاثوں میں پچاس ملین پاؤنڈ کی جائیداد بھی شامل تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رقم جمع کرانے والوں کو نوٹس کر چکے ہیں،درخواست گزار کا حق دعوی نہیں بنتا، درخواست میں سپریم کورٹ کو معزز عدالت لکھا ہوا ہے،یہ معزز عدالت نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج جج ہوتا ہے جج صاحب نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ساتھی جج لگتا ہے مجھے چھیڑ رہے ہیں،

    قبل ازیں سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ کی احکامات کی روشنی میں کمشنر کراچی کی سربراہی میں 10 رکنی سروے ٹیم نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے،مشرق بنک کے وکیل راشد انور روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے خط کے مطابق لندن کے ویسٹ منسٹر عدالت کے مجسٹریٹ نے اکاؤنٹ فریزنگ آرڈر کالعدم قرار دیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اکاونٹ ہولڈر کون ہے؟ وکیل مشرق بینک نے کہا کہ اکاونٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک، ملک ریاض کی بہو ہیں، اکاؤنٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک نے رقم نیشنل کرائم ایجنسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود سے پاکستان بھجوائی تھی،مبشرہ علی ملک نے مشرق بنک لندن برانچ سے 19 ملین سے پاونڈز سے زائد رقم سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں منتقل کرائی،وکیل راشد نور نے کہا کہ مبشرہ علی ملک نے 6 نومبر 2019 کو 19 ملین پاونڈ سے زائد رقم برطانیہ سے پاکستان بھجوائی، تفصیلات حاصل ہونے پر عدالت نے مشرق بنک کی حد تک معاملہ نمٹا دیا،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ مشرق بنک کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی،متفرق درخواست 18 اکتوبر کے عدالتی حکمنامے کی روشنی میں دائر ہوئی، مشرق بنک کے وکیل نے عدالت کو بتایا لندن کے مجسٹریٹ کے حکم کی روشنی میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے اکاؤنٹ بحال کیا،اکاؤنٹ بحالی کے بعد بنک نے 190ملین پاؤنڈ کی رقم مبشرہ علی ریاض کے اکاؤنٹ میں آئی، مبشرہ علی ریاض کے زریعے رقم رجسٹرار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی، مشرق بنک کے وکیل نے کہا بھیجی گئی 190ملین پاؤنڈ کی رقم بینک کا کوئی دعویٰ نہیں ہے،مشرق بنک کی مزید نمائندگی درکار نہیں ہے، عدالت نے مشرق بنک کو نوٹس دینے کی حد معاملہ نمٹا دیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پڑھ کر سنا دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سرکاری زمین کی بات کر رہے ہیں یا اس میں بحریہ ٹاؤن کی نجی زمین بھی شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نجی زمین بحریہ ٹاؤن کے پاس موجود بھی ہے یا نہیں،جو اضافی زمین ہے اس پر ڈپٹی کمشنر سے پوچھیں اس کی ملکیت کس کی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر آپ ریاست کے افسر ہیں سیدھا جواب دیں،ڈپٹی کمشنر صاحب صاف بتائیں کتنی زمین سرکاری ہے اور کتنی پرائیویٹ ، ڈی سی ملیر نے عدالت میں کہا کہ 1775 ایکڑ زمین سرکاری ہے جبکہ 37.2 ایکڑ نجی زمین اضافی زمین میں شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین پر کوئی نشان لگے ہوئے ہیں کہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ ڈی سی ملیر نے کہا کہ باؤنڈری وال زمین پر موجود ہے،

    سروے آف پاکستان کے حکام عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں تکنیکی طور پر بتائیں سروےکیسے کرتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ہم گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم سے سروے کرتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سروے ریکارڈ سے مطمئن ہیں؟ حکام نے کہا کہ جی ہم اس سروے سے مطمئن ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو مسئلہ ہی نہیں ہے، نیشنل پارک پر قبضہ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شہریوں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین صاحب سروے کہہ رہا نیشنل پارک کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں اس سروے رپورٹ کا تقابلی جائزہ لوں گا،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو روسٹرم پر بلا لیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کے سامنے ایک غلط الزام لگایا تھا،آپ نے کہا کم زمین ملی لیکن آپ کے پاس تو زیادہ زمین نکلی ،آپ درخواست لائے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ کے پاس زیادہ زمین ہونے کی اس سروے رپورٹ کو کس بنیاد پر مسترد کریں،آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ آپ کو کم زمین ملی،چیف جسٹس نے وکیل بحریہ ٹاؤن کی سرزنش کر دی

    وکیل بحریہ ٹاؤن نےمیمو گیٹ کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں سیاسی تقریر نہ کریں،ہم آپ سے بحث کرنے نہیں بیٹھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے شواہد فائل کرنے دیں گے تو کچھ کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین چار سال گزر گئے ہیں آپ کب فائل کریں گے، آپ اپنی جو درخواست لائے تھے اسے اب آگے چلائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اجازت دیں تو میں آپ کا آٹھ نومبر کا آرڈر پڑھوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو مرضی پڑھیں،اب اگر آپ نے جازت دیں کے الفاظ استعمال کیے تو میں جرمانہ کروں گا،ہم تھک گئے ہیں یہ الفاظ سن سن کر،ہم سن رہے ہیں آپ سنائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے اس سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی کم زمین دینے کی درخواست خارج کر دینگے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سنے بغیر درخواست کیسے خارج کی جا سکتی ہے؟رپورٹ پر اعتراض کرنا ہر فریق کا حق اور قانونی طریقہ ہے، میمو کمیشن رپورٹ پر بھی اعتراضات جمع ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی تقریر باہر جا کر کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ یہ سیاسی تقریر نہیں قانونی بات ہے،وکیل سلمان بٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ بول لیں پھر جواب دوں گا، آپ کا احترام کرتا ہوں اس لئے درمیان میں نہیں بولوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ احترام چھوڑیں قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں،

    وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عدالتی آڈرکے مطابق سرے 16 ہزار 8 سو ایکڑ کا ہونا تھا وہ ملی یا نہیں،رپورٹ کے مطابق وہ سروے تو کیا ہی نہیں گیا،میرا حق ہے مجھے سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیا جائے، میں نے ابھی رپورٹ پڑھی بھی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہم نے یہاں رپورٹ پڑھی آپ کہہ رہے ہیں ابھی نہیں پڑھی، آپ خود اس کیس میں عدالت آئے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ نے کوئی چیز فائل نہیں کی ہم نے اس پر سروے کروا لیا،اعلی سطح کی ٹیم نے وہ سروے کیا آپ اسکا حصہ تھے،دس حکومتی افسران نے رپورٹ پر دستحط کئے کیا ساری دنیا آپ کے خلاف ہے؟ آپ بس ہر چیز پر اعتراض کررہے ہیں،عدالت آپ کو کوئی اضافی وقت نہیں دے گی، بات ختم،کئی سالوں سے عملدرآمد کیس مقرر نہیں ہوا تو آپ نے جلد سماعت کی درخواست کیوں نہیں دائر کی؟ بحریہ ٹاون کو اس کیس کے مقرر ہونے میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ کئی ایسے کیسز جانتا ہوں جہاں سو سو جلد سماعت کی درخواستیں دائر ہوئیں لیکن مقرر نہیں ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ روز جلد سماعت کی درخواست کرتے تو بوجھ عدالت پر ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ حکومتی اداروں نے وقت لگا کر سروے کیا،آپ اس مشق کا حصہ تھے آپ نے تب اعتراض کیوں نہیں کیا؟اب ایک چیز آپ کے خلاف آگئی تو آپ اس پر اعتراض کررہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ایک رپورٹ آگئی ہے مجھے اس پر جواب کا وقت دیں صرف یہ گزارش ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں عدالت آپکو مزید وقت نہیں دے گی۔وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ آپ میرا فئیر ٹرائل کے تحت حاصل کیا ایک حق پھر ختم کردیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضروری نہیں ہم اپ کی ہر بات سے اتفاق کریں۔وکیل نے کہا کہ میں نے چالیس سال وکالت میں ایسا واقع نہیں دیکھا،ایک رپورٹ آئی ہو اس پر اعتراضات داخل کرنے کا وقت بھی نہ دیا جائے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اعتراض بھی صرف اس پر کررہے ہیں کہ آپ نے نجی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔آپ کے پاس دستاویزات ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاونٹس میں آئے پیسے مزید رکھے نہیں جا سکتے، اگر کوئی بھی فریق سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئی رقم کا دعوی نہیں کرتا تو حکومت پاکستان کو ٹرانسفر کر دیں گے، پیسہ سرکار کے پاس جائے تو سرکار جانے اور بحریہ ٹاون جانے، سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی مد میں آئے پیسے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنے اکاونٹ میں یوں پیسے رکھنا غیر آئینی عمل ہے.وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یہ پیسہ زمین مالکان کو جانا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مثال ہے جس کا آپ برا نہ منائیے گا، ایک ڈاکا پڑتا ہے اور ڈاکو پیسے بحریہ ٹاون کی جگہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ڈال دیتا ہے،کیا سپریم کورٹ ڈاکے کے پیسے رکھ کر شریک جرم بن سکتی ہے؟ جو پیسے مشرق بنک کے ذریعے آئے وہ تو ضبط شدہ رقم تھی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ابھی تک کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کی نہیں کر رہے ایک مفروضے کی بات کر رہے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن ے کہا کہ برطانیہ سے وہ رقم ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے لیے آئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ رقم آپ کی نہیں تھی وہ ضبط ہوئی تھی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ نہیں میں وہ آرڈرز پڑھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہوا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےوکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ باتوں کو بار بار مت دہرائیں،آپ کسی چیز سے رنجیدہ ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں،آپ سینئر وکیل ہیں پیچھے بیٹھے جونیئر وکلا نے بھی آپ سے سیکھنا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں آپ جس فیصلے پر عملدرآمد کروا رہے ہیں وہ درست نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم عملدرآمد نہیں کروا رہے آپ خود اس معاہدہ میں شامل ہوئے تھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس رضامندی سے ہوئے معاہدہ کو ختم کر دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے ایک لفظ کو بھی نہیں بدل سکتے،وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے وہ کسی بھی فیصلے کو واپس کرسکتی ہے، وکیل بحریہ ٹاون نے دوہزار پندرہ کے فیصلے کا حوالہ دیاجس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ نظرثانی کے دائرہ اختیار میں ہوسکتا ہے،وکیل نے کہا کہ کہیں کسی کےساتھ زیادتی ہورہی ہو تو عدالت خود فیصلہ واپس لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی،آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے،پوری بات سن لیں،آپکے پاس کوئی شواہد نہیں کہ آپکے ساتھ زیادتی ہوئی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں نے دستاویز لگا رکھے کہ معاہدے کے مطابق زمین ہمیں نہیں ملی،

    دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان بٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ آہستہ آواز میں بات کریں تو جواب دوں گا، مجھے یہ گوارا نہیں کہ عدالت سمیت کوئی بھی مجھ پر چلائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں چلانے پر مجبور کر رہے ہیں، ہم چلا نہیں رہے تحمل سے سوال پوچھ رہے ہیں، سینئر وکلاء کا یہ رویہ ہے تو وکالت کے شعبہ پر ترس آ رہا، جج پر انگلی اٹھانا آسان اور اپنی غلطی تسلیم کرنا سب سے مشکل کام ہے، بحریہ ٹاؤن نے کم زمین ملنے کا دعویٰ 2019 میں کیا تھا،درخواست کےساتھ جو شواہد دکھا رہے ہیں وہ 2022 کے ہیں،جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب نے کارروائی شروع کی تو بحریہ ٹائون 460ارب روپے پر آمادہ ہوا، بحریہ ٹائون نے 460 ارب پر رضامندی کچھ سوچ سمجھ کر ہی دی ہوگی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سرکار کے منظور کردہ نقشوں سے ثابت کر رہا ہوں کہ پوری زمین نہیں ملی، معاہدے کے تحت 16896 ایکڑ کا قبضہ ملنا تھا لیکن 11547 ایکڑ زمین ملی، انصاف کا تقاضا ہے کہ سروے رپورٹ پر موقف سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی باتیں باہر میڈیا پر جا کر کریں، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میڈیا پر کبھی بولا نہ ہی کبھی میڈیا کیلئے عدالت میں بات کرتا ہوں، مناسب ہوگا کہ آج مزید سماعت نہ کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت آج ہی مکمل کرینگے، اتنے عرصے بعد درخواستیں مقرر ہوئی ہیں تو کیس چلائیں،وکالت کے دوران سندھ میں مقدمہ مقرر ہونے پر ہی ہم بہت خوش ہوتے تھے، مقدمہ کا فیصلہ جو بھی ہو وہ بعد کی بات ہوتی تھی،مجھے قانون کے شعبے سے وابستہ ہوئے 41 سال ہو گئے ہیں،کچھ عزت دیں ،آپ ایسے ہی جاری رکھیں گے تو نتائج کیلیے بھی تیار رہیں،آپ کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کے آوٹ منظوری کا خط کب جاری کیا؟ وہ خط جاری نہیں کر رہے تھے تو آپ انہیں لکھ دیتے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ 16 ہزار ایکڑ زمین سے متعلق دوبارہ آرڈر کردیں اس کا جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اور کوئی آرڈر نہیں دیں گے،آج ہی کیس مکمل کریں گے،ہم رات تک بیٹھے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں مزید کھڑا نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپکو کرسی دے دیتے ہیں،بیٹھ کر دلائل دے دیں،چیف جسٹس نے عدالتی اسٹاف کو وکیل سلمان اسلم بٹ کو کرسی دینے کی ہدایت دی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کرسی کی آفر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی کرسی نہیں چاہیے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ یہاں قانون کی بات کریں،باقی باتیں کرنی ہیں تو باہر میڈیا پر جاکر کریں،سلمان صاحب پلیز دلائل دیں کیوں اس کو پیچیدہ بنارہے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کیا جارہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بات سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق نہیں وہ ہم نہیں سنیں گے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ نہیں سننا چاہتے تو میں بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں بے شک، وہ زمانے گئے جب کیس اپنی مرضی سے چلایا جاتا تھا،آپ کہتے ہیں کسی اور کو زمین مفت دے دی تو آپ کو بھی حکومت مفت دے،آپ کو زمین مفت نہ ملی تو کیا یہ آپ سے غیر منصفانہ ہو گیا،وکیل نے کہا کہ درخواست ہے کہ باہر سے آئی رقم پر نیب تحقیقات کر رہا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جس معاملے پر نیب تحقیقات کر رہا ہے تو مناسب ہو گا اس پر ہم بات نہ کریں،وکیل نے کہا کہ بس میری بھی یہ ہی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج آپ ایک سچ بول دیں کہ حکومت سندھ بہت کمزور ہے،کرپٹ عناصر مضبوط ،کرسیوں پر لوگ صرف مال بنانے بیٹھے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 16 ہزار ایکڑ سے زیادہ جس زمین پر تجاوز کیا گیا وہ آپ واپس لے لیتے،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم قانون کیمطابق کارروائی کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سندھ میں ایک مختار کار بھی حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکیا ہم اپنے بچوں کو یہ معاشرہ دینا چاہتے ہیں ،سندھ حکومت شاید لوگوں کی خدمت نہیں کرنا چاہتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ریاست الیٹ کی خدمت کیلئے ہیں،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے نمائندے کو روسٹرم پر بلا لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب کوئی پلاٹ خریدے تو اسے کیا دیتے ہیں،نمائندہ بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ الاٹمنٹ دیتے ہیں اور مکمل ادائیگی پر قبضہ بھی دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیگل ایڈوائزر پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کسی چیز کی تنخواہ لیتے ہیں،؟ دنیا میں حکومتوں کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔یہاں حکومت کا مقصد شاید افسران کو امیر بنانا ہے، ایک شیخص پلاٹ خریدے اسے کاغذ کا ایک ٹکڑا ملتا ہے،کل کوئی دوسرا کہہ دے یہ پلاٹ میرا ہے سندھ حکومت اسے کیا تحفظ دے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے لیگل ایڈوائیزر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہہمارے لیگل جسٹس سسٹم کی ریٹنگ 130 نمبر پر درست ہی ہوئی ہے،ہمارے ملک میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیا جاتا،بڑے آدمی کا گھر ریگولرائز ہوجاتا ہے عام آدمی کی جھونپڑی گرا دی جاتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی ڈویلپر ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ دو سو لوگوں کو دے کر نکل جائے تو کیا تحفظ ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہاکہ بحریہ ٹاون الاٹمنٹ کا ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتا ہے جس کا ریکارڈ بھی بحریہ کے پاس ہی ہوتا ہے،کئی لوگ پلازے پہلے بیچ دیتے ہیں،اور زمین پھر الاٹمنٹ سے حاصل پیسے سے بعد میں خرید رہے ہوتے ہیں،ججز مشاورت کیلئے کمرہ عدالت سے اٹھ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ تحریر کریں گے

    بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو