Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • بحریہ ٹاؤن کراچی کیس:بینک نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی کیس:بینک نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں 190 ملین پاؤنڈ ادائیگی سےمتعلق برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور متعلقہ بینک کی دستاویزات سامنے آگئیں جبکہ متعلقہ بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں۔

    باغی ٹی وی : دستاویز کے مطابق ادائیگی ذاتی ہدایات، رضامندی سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی، 190 ملین پاؤنڈملک ریاض کے فیملی ممبر اکاؤنٹ ہولڈر کی تحریری ہدایت پر پاکستان ٹرانسفر ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر نے این سی اے کے کہنے پر نہیں بلکہ خود رقم پاکستان بھجوائی،یہ تاثر درست نہیں کہ رقم حکومت پاکستان کو بھجوائی گئی تھی۔

    این سی اےاور متعلقہ بینک کی دستاویزات برطانیہ کے قوانین کے مطابق ہیں، اس پر قانونی کارروائی کا حق بھی برطانیہ کی متعلقہ عدالتوں کے خصوصی دائرہ اختیار میں ہے،دستاویزات میں برطانیہ کے این سی اے کا 2019 میں لکھا گیا ایک خط بھی شامل ہے خط میں تصدیق کی گئی اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم متعلقہ عدالت نے خود خارج کردیا تھااس سے ثابت ہوتا ہے ایسی کوئی بھی رقم حکومت پاکستان کیلئے ضبط نہیں کی گئی تھی، اس کا مقصد بحریہ ٹاؤن کیلئے استعمال کیا جانا تھا –

    ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ ہو گیا؟

    دوسری جانب ملک ریاض حسین نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سپریم کورٹ میں درخواست دے دی،درخواست میں کہا گیا کہ نیب 190 ملین پاونڈز معاملہ کی تحقیقات کر رہا ہے، سپریم کورٹ ریمارکس یا آبزرویشنز نیب کی تحقیقات متاثر کر سکتی ہے، نیب سپریم کورٹ کی آبزرویشنز کا تحقیقات میں اثر لے سکتا ہےملک ریاض نے درخواست میں استدعا کہ کہ سپریم کورٹ درخواست کا جائزہ لےکر مناسب حکم جاری کرے۔

    امریکا نےسکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی بھارتی سازش ناکام بنادی

    دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش کینیب کی ٹیم عمران خان سے 15 نومبر سے تفتیش کررہی ہے، جیل ذرائع کے مطابق نیب ٹیم کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر مستنصر امام کی سربراہی میں عمران خان سے جیل میں تفتیش کی جیل ذرائع نے بتایاکہ نیب ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی سے تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش کی نیب ٹیم تفتیش کے بعد اڈیالا جیل سے روانہ ہوگئی۔

    پی ٹی آئی کیخلاف دائر انٹراپارٹی کیس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے مملک ریاض کے ضبط کیے گئے 190 ملین پاؤنڈ ایک تصفیے کے تحت حکومت پاکستان کو منتقل کیے تھے عمران خان نے این سی اے کو اجازت دی تھی کہ یہ رقم براہِ راست سپریم کورٹ آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے، سابق وزیراعظم کے اس اقدام کا بظاہرہ فائدہ ملک ریاض کو ہوا ہے کیوں کہ انہیں ایک مقدمہ میں 460 ارب روپے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اس تصفیے کے بدلے میں ملک ریاض سے مالی فوائد حاصل کیے ہیں جن میں القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کا معاملہ سر فہرست ہے۔

  • الیکشن کیا جیتے میرے بیٹے کو 13 کروڑ ٹیکس کا نوٹس بھیج دیا گیا، لطیف کھوسہ

    الیکشن کیا جیتے میرے بیٹے کو 13 کروڑ ٹیکس کا نوٹس بھیج دیا گیا، لطیف کھوسہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپکو ایک ایسی چیز دکھا رہے ہیں جو نئے انداز سے ہراساں کی کوشش کی جارہی ہے

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے شہباز کھوسہ نے ابھی الیکشن جیتا ہے۔ایف بی آر نے نوٹس جاری کیا ہے کہ تیرہ کڑور روپے ٹیکس دیا جائے،الیکشن جیتنے کی خوشی میں ایف بی آر نے یہ انعام بھیجا ہے۔یہ لو لیٹر ایف بی آر نے میرے بیٹے کی جیت کی خوشی میں بھیجا ہے۔ایک سال کا 13 کروڑ ٹیکس وصول کرنے کے لئے سارے بینکوں کو نوٹس بھیجا گیا ہے، کس وکیل کی ایک سال کی آمدنی 13 کروڑ سے زائد ہوتی ہے،چاہے یہ ہمیں اس طرح کا محبت نامہ بھجیں یا چاہے ہمیں لفٹ کی سیر کروائیں ہم آزادی اظہار، آزادی افکار کے حوالہ سے اپنی آرام، آسائش کو قربان کرتے ہیں

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان حربوں سےہم مرعوب نہیں ہوں گے،کوشش ہو رہی ہے کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں لیکن نہیں ہٹیں گے،نوٹس میں سب بینکوں‌کو لکھ دیا گیا کہ 13 کروڑ 65 کروڑ نکال کر ہمیں دے دیں، انکے بینک اکاؤنٹس سے،کبھی میرے گھر پر پھلجھڑیاں برساتے ہیں، کبھی لفٹ کی سیر کرواتے ہیں اور پھر اب لو لیٹر بھیجا گیا،اب جائیدادوں کی ضبطگی کے نوٹس جاری ہوں گے، ہمیں پہلے کوئی نوٹس نہیں آیا اور نہ ہی پہلے کوئی ایسا تقاضا کیا گیا،کھوسہ فیملی ایسے حربوں سے مرعوب نہیں ہو گی.

    نیب کے لوگ اتنے جھوٹے ہیں غلط قانون کی تین تاریخیں پڑوائیں۔

    سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی کو سلو پوائزن دیا جارہا ہے،لطیف کھوسہ

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سپریم کورٹ،سائفر کیس، فردجرم کیخلاف اپیل،عمران خان کے وکیل کو التوا مل گیا

    سپریم کورٹ،سائفر کیس، فردجرم کیخلاف اپیل،عمران خان کے وکیل کو التوا مل گیا

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر فرد جرم کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت سے التوا مانگ لیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینا چاہتا ہوں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تو نیا آرڈر آیا ہے،جس آرڈر کے خلاف آپکی یہ اپیل ہے اسے ہم ابھی بھی سن سکتے ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے ہائیکورٹ کا انٹراکورٹ اپیل کا فیصلے کا جائزہ لینے کا التوا دے دیں، عدالت نے حامد خان کی استدعا منظور کرکے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل تھے

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں جس میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں پہنچ گئے ،سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے اعتراضات پر غور کر رہی ہے۔ جسٹس نقوی بھی ایس جے سی اجلاس میں موجود ہیں۔ خواجہ حارث نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کی نمائندگی کی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کر دی، وکیل خواجہ حارث نے جسٹس مظاہر نقوی کا خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھ دیا. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی آج مکمل نہ ہو سکی. سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کل تین بجے تک ملتوی کر دی گئی

    قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس طارق مسعود کے خلاف شکایت کو خارج کر دیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندہ آمنہ ملک کو بھی نوٹس جاری کیا تھا، اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف جوڈیشل کمیشن میں دائر ہونیوالی شکایت متفقہ طور پر خارج کی گئی جس کے بعد اجلاس میں وقفہ کر دیا گیا

    جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کنندہ میاں‌داؤد ایڈوکیٹ کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا وہ سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں، اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اپنا بیان دیں گے،میاں داؤد ایڈوکیٹ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ثبوت لے کر پہنچے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس سردار طار ق مسعود کیخلاف ریفرنس صدر سول سوسائٹی نیٹ ورک آمنہ ملک کی طرف سے دائر کیا گیا تھا ،ریفرنس میں جسٹس سردار طارق کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کفر والا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن وہ نہیں جہاں ناانصافی ہو،سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے لیے اپنے مالیاتی،ٹیکس معاملات کو قوم اور ریونیو ڈویژن سے چھپانا غیر مناسب بلکہ حیران کن ہے،معلومات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دو کروڑ 46 لاکھ روپے کا دعویٰ کیا، انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت کسی دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس رقم کی تائید نہیں ہوتی،معزز جج قانونی طور پر رقم سے متعلق دستاویزی ثبوت ظاہر کرنے اور فراہم کرنے کا پابند ہے،رقم کس سے اور کیسے حاصل کی گئی یہ بتانا ضروری ہے،رقم کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے بینکنگ چینل، دستاویزات سے ثابت کرنا ضروری ہے، اتنی بڑی رقم کے ثبوت فراہم نہ کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے

    ریفرنس میں جسٹس اخلاق حسین کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے عہدے پر بیٹھے ایک شخص کا سے یہ عمل حیران کن ہے، کوئی بھی ملک کے قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے مزید مواد/ڈیٹا/ثبوت حاصل کر سکتی ہے،پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی نمائندگی کرنے والا شخص جان بوجھ کر مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام کا انتخاب کر رہا ہے،ریفرنس میں ججز کے حلف کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آئین پاکستان ججز سمیت سب کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے،جج کی طرف رقم اکے ذرائع چھپانا عملی طور پر آرٹیکل 4 اور 5(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جسٹس سردار طارق مسعود سنگین مس کنڈڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر بیٹھے جسٹس سردار طارق مسعود نے مالی مجرمانہ ذہنیت دکھائی،اثاثے اور ذرائع چھپانے پر سردار طارق مسعود کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، جسٹس سردار طارق مسعود کو عہدے سے ہٹایا جائے،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 6 سال تک بیوی کو حق مہر نہ دینے پر سپریم کورٹ کا حکم

    6 سال تک بیوی کو حق مہر نہ دینے پر سپریم کورٹ کا حکم

    سپریم کورٹ میں بیوی کو حق مہر کی رقم دینے کے حوالہ سے درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی کتنی بیویاں ہیں جس پر وکیل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزارکی 2 بیویاں ہیں،نکاح نامہ میں لکھا گیا پانچ لاکھ حق مہر چھ برس تک نہ ادا کرنے پر عدالت نے وکیل درخواستگزارکی سرزنش کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حق مہر بیوی کا حق ہے اسے کیوں نہیں دیا آپ کو اب ایک لاکھ ادا کرنے کا حکم جاری کررہے ہیں تاکہ آئندہ ایسے کیسز عدالت میں نہ لائیں،وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں ہو گا جب مرضی آپ کیس واپس لے لیں، 6 سال آپ نے بیوی کو حق نہیں دیا اور اب سپریم کورٹ آ گئے قانون پسند نہیں تو کم از کم اسلام کا ہی احترام کر لیں، اب انصاف ملے گا تو دونوں طرف ملنا چاہیے،عدالت نے بیوی کو حق مہر نہ دینے پر درخواست گزار شوہر کو ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں حق مہر ادا کر کے فیملی کورٹ کو آگاہ کریں اور دستاویزات جمع کروائیں اگر 30 روز میں حق مہر ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے.

    فیسکو ملازم کے سپریم کورٹ میں پنجابی میں دلائل،درخواست مسترد
    دوسری جانب سپریم کورٹ میں فیسکو ملازم کی معطلی کے دوران تنخواہ فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار عبدالرشید نے عدالت میں خود کیس لڑنے کی استدعا کی۔عدالت نے درخواست گزار کو دلائل دینے کی اجازت دی،فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ملازم کے پنجابی زبان میں دلائل دیئے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ پنجاب میں دلائل دینے ہیں؟الیکٹرک سپلائی کمپنی میں عہدہ کیا ہے؟درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ میں بل ڈسٹری بیوٹر ہوں، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے نوکری دی،کس کی سفارش پر نوکری ملی تھی؟ درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ 1990میں انٹرویو دیااور بھرتی ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا انٹرویو بھی پنجابی میں ہوا تھا؟ جس پر درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ جی پنجابی میں انٹرویو ہوا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بل ڈسٹری بیوٹر کو اردو اور انگریزی پڑھنا سمجھنا تو آنا چاہئے آپ کام کیسے کرتے ہیں؟بل پنجابی میں ہوتا ہے کیا؟آپ کو محکمے نے بحال تو کردیا، اب آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟آپ تو اس نوکری کیلئے موزوں ہی نہیں لیکن پھر بھی محکمے نے آپ کو بحال کردیا،جسٹس اطہر من اللہ نےاستفسار کیاکہ کیا آپ انگریزی یا اردو لکھ سکتے ہیں؟ درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ کچھ لکھ سکتا ہوں،سپریم کورٹ نے بعد میں حکمنامہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا،عدالت نے درخواست گزار کی استدعا مسترد کرتے ہوئے خارج کردی.

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • افغان شہریوں کی وطن واپسی کیخلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم

    افغان شہریوں کی وطن واپسی کیخلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے چیمبر اپیل میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کر دیئے

    افغان شہریوں کی وطن واپسی کیخلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا،جسٹس یحیی آفریدی نے ان چیمبر اپیل پر سماعت کی،فرحت اللہ بابر سمیت دیگر نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی روکنے کیلئے درخواست دائر کی تھی،رجسٹرار آفس نے درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی تھی ،رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف چیمبر اپیل دائر کی گئی تھی.

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

    غیر قانونی، غیر ملکیوں کے انخلا پر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف آپریشن کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم 18 ہزار غیر ملکیوں کی فہرست خیبر پختونخوا پولیس کو ارسال کر دی گئی

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج کر دی

    سپریم کورٹ: جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی نے کارروائی کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی، دائر درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے آئندہ کارروائی کیلئے موصول نوٹس بھی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کر دی

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آج ہوگا ،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اجلاس کی صدارت کرینگے .جسٹس سردارطارق مسعود اورجسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف درخواستوں کاجائزہ لیا جائے گا.اجلاس میں جسٹس مظاہرنقوی کے اعتراضات پربھی غورکیا جائےگا،سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کوشوکازنوٹس جاری کررکھا ہے۔کونسل نے جسٹس سردارطارق کیخلاف شکایت کنندگان کوشواہد کے ہمراہ طلب کیا ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن ریفرنس کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات پر شکایت کنندہ میاں دائود ایڈووکیٹ کا ردعمل سامنے آیا ہے,میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے تسلیم کر لیا کہ انکے پاس کرپشن الزامات کا کوئی جواب نہیں،جسٹس مظاہر نقوی صاف صاف بتائیں کہ کینٹ اور گلبرگ کی جائیدادوں کیلئے ناجائز پیسہ کہاں سے آیا، اگر جسٹس نقوی نے چوری نہیں کی تو رسیدیں دکھانے میں کیا حرج ہے؟ پراپرٹی ڈیلر نے جسٹس نقوی کی صاحبزادی کے بینک اکائونٹ میں 10 ہزار پائونڈ کیوں بھجوائے، جسٹس نقوی کی ناجائز دولت میں زیادہ اضافہ جنرل مشرف کی سزائے موت ختم کرنے کے بعد ہوا، جنرل مشرف کی سزا ختم کرنے کے عوض جسٹس نقوی اور انکے خاندان کو نوازا گیا، جسٹس مظاہر نقوی اخلاقی ہمت دکھائیں اور اپنے خلاف کارروائی کی کھلی عدالت میں سماعت کی استدعا کریں، جسٹس نقوی ریفرنس کی کھلی عدالت میں سماعت ہوگی تو عوام کو سچے اور جھوٹے کا پتہ چل جائیگا،

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

  • سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    اسلام آباد: سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے جسمانی ریمانڈ میں خطرات کے پیش نظر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا،جبکہ راولپنڈی اڈیالہ جیل میں چوہدری پرویزالہٰی سے ان کے اہل خانہ اور وکلا نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کے سیشن جج اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کے مقدمے سے ڈسچارج کیا، مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کیا،سیشن جج اور لاہور ہائیکورٹ نے اپیل میں جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ دیا،جسمانی ریمانڈ دینا بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ جسمانی ریمانڈ کے سبب جسمانی و ذہنی تشدد اور زندگی کو خطرہ ہےعدالت سے استدعا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

    لاپتہ افرادکی گمشدگی کا از خود مقدمہ درج کرنے کا حکم

    دوسری جانب راولپنڈی اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی سے ان کے اہل خانہ اور وکلاء نے ملاقات کی، ملاقات میں قانونی امور اور آئندہ انتخابات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا، تحریک انصاف کے صدر نے سیاسی انجیئرنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    اڈیالہ جیل کے ذرائع کے مطابق چوہدری پرویزالہٰی سے ان کے اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی،ملاقات میں قانونی امور مقدمات اور آئندہ انتخابات میں قانونی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا گیا،چوہدری پرویزالہٰی نے انتخابات سے پہلے پنجاب پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے سیاسی انجئیرنگ پرسخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر پولیس اور انتظامیہ کے سیاست میں ملوث ہونے کا نوٹس لیں۔

    آشیانہ ریفرنس،شہباز شریف کو عدالت نے بری کر دیا

    ملاقات کرنے والوں میں رازق الہٰی، عثمان ظہور، قیصرہ الہٰی اور زہرہ بی بی شامل تھے جبکہ وکلاء کی ٹیم میں سردارعبدالرازق خان، شمشاد ملہی اور مختاراحمد رانجھا شامل تھے۔

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی
    ترجمان نگران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے سویلین کی ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیئے کوئی اپیل دائر نہیں کی،یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ سندھ حکومت نے ملٹری کورٹس میں سویلین کی ٹرائل کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل فائل کی ہے

    دو دن قبل سندھ حکومت کی جانب سے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف ایک اپیل سپریم کورٹ میں لائی گئی تھی،تاہم عدالتی وقت ختم ہو گیا تھا اور اپیل دائر نہ سکی تھی، مروجہ طریقہ کار کے مطابق اس درخواست کو اگلے روز خود ہی دائر ہو جانا تھا،جب خبریں سامنے آئیں تو سندھ حکومت خاموش رہی تا ہم آج دو دن بعد سندھ حکومت نے تردید کر دی اور کہا کہ کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی،

    دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں جس میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبرکو فوجی عدالتوں میں سویلینزکا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا، فوجی عدالتوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے، علاوہ ازیں سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی تھی،9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • ارشد شریف قتل کیس،جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست

    ارشد شریف قتل کیس،جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست

    صحافی ارشد شریف قتل کیس ،ارشد شریف کی والدہ نے کیس کی جلد سماعت کیلئے متفرق درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 27 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں کیس سماعت کیلئے مقرر کیاجائے،سپریم کورٹ میں کیس زیر التوا ہونے کے باعث معاملے کی تحقیقات رک چکی ہیں، کیس کی آخری سماعت 13 جون کو ہوئی تھی،جس طرح معاملات چل رہے ہیں فیملی میں مایوسی پائی جاتی ہے سپریم کورٹ میں کیس آخری بار 13 جون کو سنا گیا تھا 27نومبر سے شروع ہفتے میں کیس کو مقرر کیا جائے

    ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،