Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آپ جناب ،جناب کہنا چھوڑ کر سوالات کا جواب دیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    آپ جناب ،جناب کہنا چھوڑ کر سوالات کا جواب دیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    سپریم کورٹ میں خاتون سے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالات کے جواب نہ دینے پر وکیل پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جناب ،جناب کہنا چھوڑ کر سوالات کا جواب دیں، ہم کون ہیں؟ بادشاہ سلامت؟ درخواست ضمانت چلانے کے لئے عدالت کو جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے،تین بار پوچھ چکے ہیں کہ چالان کہاں ہیں، وکیل خاتون نے کہا کہ ٹرائل میں اب تک کچھ ثابت نہیں ہوا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا قانون میں لکھا ہے کہ کیس کا چالان جمع نہیں ہوتا؟ ایسے تو کہیں نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،درخواستگزار حسینہ بی بی نے ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کی تھی

    کوٹی ڈکیت گینگ کے 2 خطرناک ملزمان گرفتار

    بزدار کے لاہور میں طالبہ کے ساتھ دست درازی،ویڈیو سامنے آ گئی

    مسجد کے اندر بچے کیساتھ بدفعلی کی کوشش کرنیوالا قاری گرفتار

    خواتین گروہ کے ہاتھوں درجنوں افراد کے لُٹنے کا انکشاف

  • سینیٹ اجلاس، ارکان کا فوجی عدالتوں کے حق میں منظور قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس، ارکان کا فوجی عدالتوں کے حق میں منظور قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس کی کاروائی شروع کرنے کے ساتھ ہی تمام ایوان میں موجود سینیٹرز نے شدید احتجاج شروع کردیا اور کہاکہ کل سینیٹ نے قرارداد پاس کی ہے جو کہ رولز کی خلاف ورزی کرہے پاس کی گئی ہے اس پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اس کے بعد کارروائی جائی جائے ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ 15منٹ میں ایجنڈا مکمل ہوجائے گا اس کے بعد بات کرنے کی اجازت دوں گا ۔اسی احتجاج کے دوران ایک سینیٹر نے کورم کی نشاندہی کردی ۔

    سینیٹر سعدیہ عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل سینیٹ نے قرارداد پاس کی جب صرف 12 ارکان ایوان میں موجود تھے، ایجنڈا میں جو چیز شامل نہیں تھی اسے پیش کیا گیا ،یہ قرارداد جمہورئت کی نفی ہے، جمہوریت پر شب خون مارا گیا ،ایوان نے قواعدوضوابط سے ہٹ کر جو کام کیا ہم اسے سپورٹ نہیں کرتے ،ایوان کو استعمال کرکے ایسے قرارداد پاس کرائی گیی جو جمہوریت کی نفی ہے ،کیا ایوان کل یہ قرارداد لے آے گا کہ ملک میں مارشل لاءگا دیا جائے تو کیا مارشل لاء لگا دیا جائے گا،یہ طریقہ کار نفی کرتا ہے پارلیمانی روایت کی،موجودہ حالات میں ایسی قرارداد سے جمہوریت مضبوط ہو ،یہ قرارداد واپس لیں،یہ قرارداد اس ایوان کی عکاس نہیں ہے

    سینیٹر رضا ربانی، طاہر بزنجو، تاج حیدر ، سینیٹر مشتاق نےبھی نشتوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا،سینیٹر رضا ربانی اور مشتا ق نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں، مرزا آفریدی نے کہا کہ سینیٹ ایجنڈا مکمل کرکے میں آپ کو بات کرنے کی اجازت دیتا ہوں،سینیٹر سیف اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا ریپ کیا ، ایوان کو تباہ کر دیا ہے

    سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر مشتاق احمد سمیت ارکان نے قراداد سے متعلق بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان میں شورشرابا ہوا،ن لیگ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے گزشتہ روز منظور ہونے والی قرارداد پر بات کرنے کے لیے وقت کا مطالبہ کیا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نےپہلے ایجنڈے کی کارروائی مکمل کرنے پر اصرارکیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ڈائس سامنے آکر احتجاج کیا،ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی گئی ،سینیٹ میں کورم پورا نہ نکلا،سینیٹ کا اجلاس جمعہ ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا

    واضح رہے کہ کل جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور ہوئی تو اس وقت ایوان میں 15 سینیٹرز موجود تھے، 9 سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں اور تین نے قرارداد کی مخالفت کی, تین خاموش رہے۔ آج سینیٹ اجلاس شروع ہوا تو پی ٹی آئی، ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی اور جماعت اسلامی نے قرارداد منظوری کے عمل پر اعتراض کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس ہی ملتوی کردیا۔

    گزشتہ روز سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ٹی ایل پی نے  فنڈنگ کے ذرائع نہیں بتائے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    ٹی ایل پی نے فنڈنگ کے ذرائع نہیں بتائے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں تحریک لبیک بارے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی، سکروٹنی کمیٹی میں ڈی جی لاء کی سربراہی میں ڈی جی پولیٹیکل فنانس اور ڈپٹی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس شریک تھے،سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تحریک لبیک پاکستان نے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں،ٹی ایل پی بارے رپورٹ میں نقائص،تضادات اور خامیاں پائی گئیں،ٹی ایل پی کو اپنے بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کا بھی کہا گیا، رپورٹ کے مطابق ٹی ایل پی نے پندرہ لاکھ 86ہزار 324 روپے کی فنڈنگ کے زرائع نہیں بتائے،الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ٹی ایل پی نے فنڈز میں بے قاعدگی نہیں کی یہ بذات خود تضاد ہے، الیکشن کمیشن نے اس رقم جو ٹی ایل پی ٹی کے مجموعی فنڈز کا تیس فیصد بنتا ہے بارے کہا یہ مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے،ٹی ایل پی معاملات کی اسکروٹنی کے لیے الیکشن کمیشن کی درخواست پر اسے ایک اور موقع فراہم کیا جاتا ہے

    عدالت نے ٹی ایل پی کے اکاؤنٹس بارے درخواست نمٹا دی، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ فیض آباد دھرنا کے محرکات جاننے کیلئے کمیشن دیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا وفاقی حکومت نے فیض آباد فیصلہ قبول کیا ہے، ابصار عالم نے سنگین الزامات لگائے،وفاقی حکومت کمشین تشکیل دیکر نوٹیفکیشن پیش کرے،کیس کی سماعت 15 نومبر کو ہوگی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کر سکتا ہے نہ ہی عدالت،سپریم کورٹ

    پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کر سکتا ہے نہ ہی عدالت،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بلوچستان میں مردم شماری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس اعجازالاحسن کی براہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ بلوچستان کی آبادی 2017کی مردم شماری کے مطابق کتنی تھی؟کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہاکہ بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال تھی 2017میں مردم شماری نہیں ہوئی موجودہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی سوا کروڑ ہے ہمارے حساب سے بلوچستان کی اصل آبادی اس وقت 2کروڑ سے زیادہ ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کامران مرتضیٰ سے استفسار کیا کہ آپ کے اس حساب کی بنیاد کیا ہے؟وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہاکہ ادارہ شماریات کے اعدادوشمار پر انحصار کررہا ہوں ادارہ شماریات نے سی سی آئی میں اچانک بلوچستان کی آبادی کا ایک عدد رکھ دیا جو اصل نہیں.

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سی سی آئی کے فیصلے کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دیکھ سکتا ہے عدالت نہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ چیلنج نہیں کیا .انفرادی درخواستیں سننے سے تو پنڈورا باکس کھل جائے گا.مشترکہ مفادات کونسل خصوصی آئینی باڈی ہے جس میں پالیسی معاملات طے ہوتے ہیں.پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کر سکتا ہے نہ ہی عدالت،کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہاکہ میں صوبے کے شہری کی حیثیت سے غلط مردم شماری کو چیلنج کرنے کا حقدار ہوں،آبادی کے مطابق بلوچستان کی 10نشستیں قومی اسمبلی میں بڑھنی چاہئے،

    کیس کی سماعت کے بعدسپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے کہاکہ مردم شماری کا معاملہ کس آئینی شق یا قانون کے تحت مشترکہ مفادات کونسل میں جاتا ہے ؟مردم شماری سے متعلق قانونی معاملات پر عدالت کی معاونت کی جائے،عدالت نے قانونی سوالات پر معاونت کیلئے وکیل کامران مرتضیٰ کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا،عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے بیٹے حسن کامران نے دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ افراد کم کر دیئے گئے،مردم شماری کے حتمی مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 21 اعشاریہ سات ملین تھی،ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج میں بلوچستان کی آبادی 14 اعشاریہ نواسی ملین بتائی،ادارہ شماریات کے آفیشل اکاؤنٹس سے متضاد بیانات جاری کیے گئے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،مشترکہ مفادات کونسل کیخلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہماری درخواست خارج کی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ہماری درخواست سے بالکل الگ ہے،درخواست میں وفاق،ادارہ شماریات،نادرا اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے  سابق جج شوکت عزیز صدیقی پھر پہنچے سپریم کورٹ

    اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے سابق جج شوکت عزیز صدیقی پھر پہنچے سپریم کورٹ

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ اکتوبر2018 سے میرا مقدمہ زیرالتوا ہے، میرے کیس کی آخری سماعت 12جون 2022 کو ہوئی تھی، اس کیس سے میرے بنیادی انسانی حقوق جڑے ہوئے ہیں رواں عدالتی ہفتے میں میرا کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اور بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ برطرفی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے

    اسلام آباد سے عدالتی کاروائی کو کور کرنے والے صحافی ثاقب بشیر جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر کہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کے حاضر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے میں تو سپریم جوڈیشنل کونسل نے دس بارہ دن لگائے تھے اب سپریم کورٹ ان کے کیس کا فیصلہ 2018 سے اب تک 6 سال میں بھی نہیں کر سکی دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ میں جلد سماعت کی درخواست جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دی وہ نظر انداز ہو گئی اب آج پھر جلد سماعت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اب انتظار کریں کب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر کرم پڑتی ہے یقینا ان کو زیادہ انداز ہو گا کہ ایسی صورت حال میں متاثرہ جج کو کن حالات کا سامنا رہتا ہے

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں،میاں داؤد ایڈوکیٹ

    جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں،میاں داؤد ایڈوکیٹ

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن ریفرنس کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات پر شکایت کنندہ میاں دائود ایڈووکیٹ کا ردعمل سامنے آیا ہے

    میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے تسلیم کر لیا کہ انکے پاس کرپشن الزامات کا کوئی جواب نہیں،جسٹس مظاہر نقوی صاف صاف بتائیں کہ کینٹ اور گلبرگ کی جائیدادوں کیلئے ناجائز پیسہ کہاں سے آیا، اگر جسٹس نقوی نے چوری نہیں کی تو رسیدیں دکھانے میں کیا حرج ہے؟ پراپرٹی ڈیلر نے جسٹس نقوی کی صاحبزادی کے بینک اکائونٹ میں 10 ہزار پائونڈ کیوں بھجوائے، جسٹس نقوی کی ناجائز دولت میں زیادہ اضافہ جنرل مشرف کی سزائے موت ختم کرنے کے بعد ہوا، جنرل مشرف کی سزا ختم کرنے کے عوض جسٹس نقوی اور انکے خاندان کو نوازا گیا، جسٹس مظاہر نقوی اخلاقی ہمت دکھائیں اور اپنے خلاف کارروائی کی کھلی عدالت میں سماعت کی استدعا کریں، جسٹس نقوی ریفرنس کی کھلی عدالت میں سماعت ہوگی تو عوام کو سچے اور جھوٹے کا پتہ چل جائیگا،

    میاں دائود ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جسٹس نقوی شکایت کے ساتھ ریکارڈ کا عدم فراہمی کے بارے میں بھی جھوٹ بول رہے ہیں، شکایات کے ساتھ تمام مصدقہ ثبوت منسلک کئے گئے ہیں،جسٹس نقوی پیشہ ور ملزم کی طرح سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، آئین کا آرٹیکل209 اور رولز سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایات پر کارروائی کیلئے لامحدود اختیارات دیتے ہیں، آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایات کے ساتھ منسلک ثبوتوں کی کسی بھی ادارے سے تصدیق کرانے کا اختیار دیتا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل تاخیر حربوں میں استعمال ہونے کی بجائے متعلقہ اداروں سے ریکارڈ کی تصدیق کرا لے،

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اعتراضات اٹھا دئیے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے اعتراضات سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرا دیئے گئے، جسٹس مظاہر نقوی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق کی کونسل میں شمولیت پر اعتراض کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے جسٹس نعیم اختر افغان پر بھی اعتراض کیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے ریفرنس اور شواہد کی نقول بھی مانگ لیں،

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جس انداز سے میرے خلاف کارروائی شروع کی گئی اِس سے میرے بنیادی قانونی حقوق سلب کئے گئے، انصاف کے صحیح تقاضے پورے کرنے کیلئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو میرے خلاف کیس نہیں سننا چاہئیے۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرا دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ممبران میرے بارے میں جانبدار ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کا حصہ ہیں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے ممبران کو میرے خلاف جوڈیشل کمیشن کا حصہ نہیں ہونا چاہیے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم افغان کو میرے خلاف کونسل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے جانبدار سپریم جوڈیشل کونسل کا جاری کردہ اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جانبدار ہے جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا سپریم جوڈیشل کونسل اکثریت سے صرف حتمی رائے صدر مملکت کو بھجوا سکتی ہے جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی صرف اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو رولزبنانے کی اجازت ہی نہیں دیتا، چیف جسٹس اور جسٹس سردار طارق جوڈیشل کونسل رولزکوپہلے ہی غیر آئینی کہہ چکے ہیں، شوکاز نوٹس میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے کی دونوں ججز نے کوئی وجہ نہیں بتائی شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں بحث ہوئی نہ کسی سے معلومات لی گئیں جسٹس سردار طارق کے کیس میں کونسل نے شکایت کنندہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور شواہد مانگے میرے کیس میں شکایت کنندہ کو بلایا نہ ہی مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا جو موقع جسٹس سردارطارق کوکونسل کی جانب سے دیا گیا وہ مجھے نہیں ملا، میرے خلاف کارروائی سیاسی ایما پر ہو رہی ہے، میرے خلاف کارروائی غیر قانونی اور نامناسب ہے

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • سپریم کورٹ،پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا سے متعلق مختلف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    پاکستان بار کونسل کی جانب سے عابد ساقی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا ہے کہ تمام وکلاء موجود ہیں،بینچ کے بارے میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں،وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں بینچز تبدیل کرنے کے حق میں نہیں،اس بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ کو شامل کرنے کی ایک وجہ ہے،جسٹس منصور علی شاہ ماضی میں کیس سننے والے بینچ کا حصہ تھے،اس کیس میں کچھ اپیلیں 2019 اور کچھ 2020 کی ہیں،2019سے اب تک کیس مقرر کیوں نہیں ہوا ؟کیا کسی وکیل نے التوا کی درخواست دی تھی،وکلا نےعدالت میں کہا کہ ہم میں سے کسی نے التوا کی درخواست نہیں کی کیس ویسے ہی نہیں لگایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کو پہلی مرتبہ سن رہے ہیں اس لیے ایک ایک نکتہ سمجھ کر آگے بڑھیں گے،

    سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کو ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لیا
    سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل دیئے گئے،سابق صدر پرویز مشرف سنگین غداری کیس،سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا کیخلاف پرویز مشرف کی اپیل پر اعتراضات ختم کر دیئے عدالت نے پرویز مشرف اپیل کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتراضات ہم نے ختم کر دیئے اب نمبر لگ جائے گا۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں جنرل ر پرویز مشرف کی نمائندگی کر رہا ہوں،پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سنائی گئی سزا کیخلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں آسکتی ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم کے بعد خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ متفقہ نہیں تھا،جنرل ر پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں آپ کی درخواست کو نمبر کیوں نہیں لگا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا کہ سزا یافتہ کے سرنڈر کیے بغیر اپیل دائر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ نے ان چیمبر سماعت میں اپیل اعتراضات کے ساتھ کھلی عدالت میں مقرر کرنے کا حکم دیا،پرویز مشرف کی سزا کا فیصلہ اس لیے چیلنج کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی،میرا موقف تھا کہ ایک شخص کا ٹرائل اور سزا عدم موجودگی میں ہوسکتی ہے تو اپیل کیوں نہیں،میں کہتا رہا کہ پرویز مشرف کی غیر حاضری بدنیتی نہیں،مشرف سزا کے بعد ملک سے نہیں بھاگے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ چمبر اپیل میں جج اپیل مسترد کرتا ہے یا منظور، تیسرا آپشن یہ ہے کہ جج اپیل کو اوپن کورٹ میں مقرر کردے، اپیل اوپن کورٹ میں کیوں مقرر نہ ہوئی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب شاید نہ دے سکوں،میں مشرف کے ساتھ اس طرح رابطہ میں نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم جب اپنا احتساب نہیں کریں گے تو دوسروں کا کیسے کریں گے،چیمبر اپیل میں جب آرڈر ہوگیا تھا تو اس اپیل کو مقرر ہونا چاہئے تھا، سلمان صفدر نےبے نظیر بھٹو احتساب کمشنر کیس کا حوالہ دیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے اپیل کا سنا جانا بنیادی حق ہے،چیمبر میں بھی استدعا کی تھی کہ معاملہ عدالت میں مقرر کیا جائے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیمبر سماعت کے بعد اپیل کب مقرر ہوئی تھی؟ وکیل نے کہا کہ چیمبر سماعت کے بعد آج اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوئی ہے، اپیلیں اتنی تاخیر سے سماعت کیلئے کیوں مقرر ہوئیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت کی غلطی ہے تو بتائیں آپ سینئر وکیل ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل تو عدالت نے جلد بازی میں کیا تھا لیکن اپیل سننے میں عدالتوں کو جلدی نہیں تھی،جب تک پرویز مشرف سے رابطے میں تھا وہ اپیل مقرر کرانا چاہتے تھے،پرویز مشرف کے اہل خانہ سے تین دن قبل رابطہ ہوا اور وہ اپیل سماعت کیلئے منظور نہ ہونے پر غم و غصے میں ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیمبر میں جج کا موقف تھا کہ لارجر بینچ اپیلوں پر سماعت کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کی وفات کب ہوئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے پاس ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں، فروری 2023 میں مشرف کا انتقال ہوا،2022 کے بعد سے پرویز مشرف بول چال کے قابل نہیں تھے،اس کے بعد سے میں ان سے ہدایت لینے کیلئے رابطہ میں نہیں رہ سکا،سلمان صفدر نے مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایات لینے کی مہلت مانگ لی،کہا پرویز مشرف کی فیملی میں اپیل مقرر نہ ہونے پر ناراضگی پائی جاتی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی ہم پرویز مشرف کی مرکزی اپیل نہیں متفرق درخواست کی بات کر رہے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ متفرق درخواست میں مرکزی اپیل مقرر کرنے کی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل فکس کرنے کی متفرق درخواست پر کسی کو اعتراض تو نہیں، کسی فریق کی جانب سے اپیل فکس کرنے پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پرویز مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایات لے لیں کیا وہ اپیل کی پیروی کریں گے،عدالت نے پرویزمشرف کے وکیل کو آئندہ سماعت پر اسلام آباد آنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متفرق درخواست کی حد تک بات ختم ہے تو آگے بڑھیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے والے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر معاونت نہیں کروں گا، میں اپنا کیس صرف سزا کے خلاف اپیل تک رکھوں گا،

    مشرف کیس پر سپریم کورٹ نے متفرق درخواستوں پر اپیلیں منظور کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ اپیل پر رجسٹرار نے اعتراض لگایا تھا،وکیل نے بتایا کہ اعتراض کے خلاف اپیل جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں مقرر ہوئی،وکیل نے بتایا کہ چیمبر سے جج نے کیس لارجر بینچ میں لگانے کا کہا،وکیل نے بتایا اس کے بعد کیس مقرر نہیں ہوا اور مشرف کی وفات ہو گئی،مشرف کے وکیل نے کہا کہ آئین پاکستان بھی اپیل کا حق دینے کی بات کرتا ہے،کیس میں تمام فریقین سے پوچھا گیا کہ مشرف کی اپیل کو مقرر کرنے پر کسی کو اعتراض تو نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا،افسوس ناک ہے کہ چیمبر میں جج کے حکم کے باوجود اپیل آج تک مقرر نہیں ہوئی،کیس مقرر نہ ہونے پر پرویز مشرف یا ان کے وکیل ذمہ دار نہیں،عدالت کے کنڈکٹ کی وجہ سے سزا یافتہ مجرم کا بھی اپیل کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے، عدالت نے سلمان صفدر کو پرویز مشرف کے اہل خانہ سے اپیل کی پیروی پر ہدایات لینے کا حکم دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ شفاف ٹرائل کا بنیادی حق آئین ہر شہری کو دیتا ہے،پرویز مشرف کی اپیل زیرالتوا ہونے کے دوران انتقال کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف کے اہلخانہ پاکستان میں ہیں؟وکیل نے کہا کہ میرا خیال ہے سابق صدر کی بیوہ ملک میں موجود ہیں،عدالت نے پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کی حد تک آج کی عدالتی کاروائی نمٹا دی

    حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام ہی غیرقانونی قرار دیدیا تھا، سپریم کورٹ نے سابق صدر کیخلاف خصوصی عدالت کو جلد ٹرائل مکمل کرنے کو حکم دیا تھا،لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کی اپیلوں پر نمبر کیوں نہیں لگا؟ رشید رضوی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فریق نہ ہونے کی وجہ سے درخواستوں کو نمبر الاٹ نہیں ہوا تھا، عدالت نے توفیق آصف، پاکستان بار، سندھ ہائی کورٹ بار کی اپیلوں کو نمبر لگانے کی ہدایت کر دی،حافظ عبدالرحمان انصاری کی اپیل پر بھی رجسٹرار آفس کو نمبر الاٹ کرکے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی، حامد خان نے کہا کہ خصوصی عدالت اسلام آباد میں قائم ہوئی یہاں ہی فیصلہ ہوا تھا، لاہور ہائی کورٹ کا اسلام آباد کی عدالت کیخلاف دائرہ اختیار نہیں بنتا تھا، سپریم کورٹ یکم اپریل2019 میں خصوصی عدالت کے حوالے سے احکامات دے چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شاید یکم اپریل کی تاریخ کی وجہ سے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا، کیا آپ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالتی فیصلہ مانتے ہیں؟ حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرآئینی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا خصوصی عدالت کے حوالے سے ماضی میں کوئی مثال ملتی ہے؟ حامد خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ آئین شکنی پر کسی کو ٹرائل ہوا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسکی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کے اہلخانہ، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف سے متعلقہ اپیلوں پر مزید سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    زمین ملکیت کیس، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا ہے اس طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، سالہا سال تک لوگوں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، سارے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے، آہستہ آہستہ تمام معاملات کو بہتر کریں گے، 14 سال تک اس کیس کو طوالت دی گئی، درخواست گزار طویل عرصے تک زمین پر قابض رہا من گھڑت درخواستوں کے ذریعے عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتا ہے

    عدالت نے کیس کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی کر دیا، درخواست گزار جاوید حمید نے زمین ملکیت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    ملک بھر کے شہداکے لواحقین فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئےشہدا فورم بنالیا پیر کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا اعلان کر دیا، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے استحکام اور انسداد دہشت کردی کے لیے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں سپریم کورٹ شہدا کا خون رائیگاں نہ جانے دے اپنے فیصلےپر نظرثانی کرے

    انور زیب کا کہنا تھا کہ شہدا فورم کا مطالبہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو سپریم کورٹ ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر دوبارہ بحال کیا جائے، نوابزادہ جمال رئیسانی کا کہنا ہے کہ شہدا کے فرزند اور بھائی کی حیثیت سے آپ سے بات کر رہا ہوں،ہم آج یہاں اپنے شہدا کےلیے جمع ہوئے ہیں،ہم نے جو قربانیاں دیں وہ اس ملک کی سلامتی کے لیے دیں، خدارا ملٹری کورٹس کو بحال کیا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے شہدا کے لواحقین کو رنج کا سامنا کرنا پڑ رہا، شہدا نے اس ملک کےلیے قربانیاں دیں،

    شہداء کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے،کارگل وار میں 400 شہدا کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہم اپنے شہدا کا خون کبھی رائگاں نہیں ہونے دیں گے،محمد جمشید کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کوسانحہ قرار دیا جائے تو کم نہ ہوگا،2013 میں میرے والد نے بلوچستان میں بم دھماکے میں اپنی جان دی،اس شہید نے اپنے ملک سے جو وفا کرنی تھی وہ وہ کر گئے،اس قوم نے اس شہید سے جو وفا کرنی ہے وہ نظر نہیں آ رہی، اس ملک کی ملٹری کورٹس کو ختم کرنے کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سول کورٹ کی اتنی اتھارٹی نہیں کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات کی جانچ کر سکےآپ کی زندگی سے کوئی چلا جائے تو آپ کو اس دکھ کا اندازہ ہوگا،

    میر فرید رئیسانی نے کہا کہ قاضی فائز عیسی صاحب کیا آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں ایک جج نے دہشت گرد کو سزا دی، جیسے ہی جج عدالت سے نکلا اس پر حملہ کر دیا گیا،چیف صاحب خدارا شہدا کی فیملیز کی طرف دیکھاجائے، میانوالی اور پسنی میں ہمارے لوگوں پر حملہ ہوچکا، میں اپنے شہدا کا لہو کن کے ہاتھوں پر تلاش کروں،12 ربیع الاول کے جلوس کے شرکاء کو شہید کر دیا گیا، 21 ڈی سیکشن کو بحال کیا جائے تاکہ کلبھوشن کی طرح کوئی اور دہشتگردی نہ کرے،کلبوشن نے یہاں لسانیت کی بنیاد پر دہشتگردی کروائی،سول کورٹس اتنی طاقتور نہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلے کر سکیں،اگر ہم اپنے ملک کے لیے اپنے والدین کو قربان کر سکتے ہیں تو دوہری شہریت کیا چیز ہے،

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں