Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ،سابق وزیراعظم نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    عمران خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں سپیشل کورٹ کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے میں ناکامی پر زور دیا گیا ہے، ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا، سپیشل کورٹ نے قانون کے مطابق دستاویزات کی فراہمی اور چارج فریم کرنے کے درمیان 7 روز کی مہلت دی، ایک سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا، ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین بشمول درخواست گزار، جج اور وکلا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے،ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی،کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے، چارج فریم کرنے کی کاروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا جائے،سپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے،درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ : پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے عید گاہ پر سیکرٹریٹ کی تعمیر پر محکمہ اوقاف اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کردیا، وکیل نے لہا کہ پندرھویں صدی کی مسجد اور عید گاہ ہے۔ صوبائی حکومت وہاں سیکرٹریٹ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسجد نہیں عید گاہ کی زمین ہے۔ عید گاہ کی زمین تو اوپن ہوتی ہے۔زمین کی ملکیت کس کی ہے، ؟ وکیل نے کہا کہ زمین مسلم کمیونٹی کی ملکیت ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ مسلم کمیونٹی کسی این جی او کا نام ہے؟ زمین کسی کو ملکیت تو ہوگی۔ جو دستاویز آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق یہ وقف کی زمین ہے۔ وکیل نے کہا کہ پشاور مرکزی عید گاہ پر وزیر اعلی سمیت نامور شخصیات عید نماز ادا کرتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ سیکرٹریٹ تعمیر کا سائیٹ پلان کدھر ہے۔جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اگر عید گاہ مسجد کیساتھ مولوی صاحب کی کوارٹر تعمیر ہو اس پر آپکو اعتراض ہوگا۔وکیل نے کہا کہ مولوی کے کوارٹر پہلے سے تعمیر شدہ ہے ۔عدالت نے محکمہ اوقاف صوبائی حکومت کو نوٹس کردیا،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • پولیس کے مخبر اپنے ہی اہلکاروں کی مخبری کرتے کہ کون کہاں رات گزارتا ہے؟چیف جسٹس

    پولیس کے مخبر اپنے ہی اہلکاروں کی مخبری کرتے کہ کون کہاں رات گزارتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب پولیس کانسٹیبل کی برطرفی کا کیس کی سماعت ہوئی

    پنجاب پولیس کو اپنے ہی کانسٹیبل کی مخبری مہنگی پڑ گئی،عدالت نے کانسٹیبل محمد اسلم کی برطرفی کیلئے آئی جی پنجاب کی درخواست خارج کر دی،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ کانسٹیبل محمد اسلم ایک خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات میں ملوث پایا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاتون تو کہتی ہے کہ کانسٹیبل اس کا شوہر ہے،یہ کام پنجاب پولیس کا ہی ہو سکتا ہے،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ خاتون طوائف ہے اور پولیس نے مخبری پر کانسٹیبل کا پیچھا کر کے ریڈ کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب پولیس کے مخبر اپنے ہی اہلکاروں کی مخبری کرتے ہیں کہ کون کہاں رات گزارتا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نجی گھر میں بغیر وارنٹ کے پولیس ریڈ کیسے کر سکتی ہے؟پولیس غیر قانونی ریڈ کر کے اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کر رہی ہے،کیا پولیس کے غیر قانونی اقدام کی سپریم کورٹ توثیق کرے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کے پیچھے کھڑے پولیس اہلکار کون ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر کی سرزنش کی اور کہا کہ کیا بہاولنگر میں آج کرائم ریٹ صفر ہے جو ایس پی خود اٹھ کر ایک معمولی کیس کیلئے سپریم کورٹ آگئے؟ ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر کی اس کیس میں کیا ذاتی دلچسپی ہے؟ بہاولنگر اسلام آباد سے کتنی مسافت پر ہے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ بہاولنگر اسلام آباد سے 700 کلومیٹر دور ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پولیس افسران اپنے ذاتی خرچ پر آئے ہیں یا سرکار سے ٹی اے ڈی اے لیں گے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پولیس افسران کے مطابق انہیں ہدایات ہیں کہ سپریم کورٹ عدالت نمبر ایک میں خود افسران پیش ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسران تو ایسے آئے جیسے یہ اتنا بڑا کیس ہے کہ اس سے تو پاکستان کی دیواریں ہل جائیں گی،

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،لاہور ہائیکورٹ نے کانسٹیبل محمد اسلم کی برطرفی ختم کر دی تھی،آئی جی پنجاب کی جانب سے برطرفی کیلئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ تمام بینچز پر برتری لے گیا

    سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ تمام بینچز پر برتری لے گیا

    سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ سپریم کورٹ میں تمام بینچز پر برتری لے گیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ 2 نے 18 ستمبر سے 20 اکتوبر تک 600 مقدمات کا فیصلہ کیا، بینچ 2 کے مقابلہ میں سپریم کورٹ کے چار بینچز نے 819 کیسز کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے تمام بینچز نے 18 ستمبر سے 20 اکتوبر تک 1419 مقدمات کا فیصلہ کیا،جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ 2 نے 18 ستمبر کے ہفتہ میں 88 کیسز کا فیصلہ کیا، بینچ 2 نے 25 ستمبر کے ہفتہ میں 126 مقدمات کا فیصلہ کیا، بینچ 2 نے دو اکتوبر کے ہفتہ میں 105 کیسز نمٹائے، 9 اکتوبر کو بینچ 2 نے 81 مقدمات کو نمٹایا،19 اکتوبر کو بینچ 2 نے 200 مقدمات کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہفتے میں کتنے کیسز سنتی ہے اس ضمن میں ہر ہفتے آگاہ کیا جائے گا،

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • نیب ترامیم کیس،عمران خان وکیل سے ہدایات لینا چاہیں تو موقع دیں،سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس،عمران خان وکیل سے ہدایات لینا چاہیں تو موقع دیں،سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں عدالت نے کہا ہے کہ عمران خان اس کیس میں وکیل کو ہدایات دینا چاہیں یا مشاورت کرنا چاہیں تو جیل سپرنٹینڈنٹ انتظامات کریں

    سپریم کورٹ نے نیب نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت اور دیگر کی اپیلوں کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 31 اکتوبر کو سماعت کی تھی

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹس کو ٹرائل جاری رکھنے لیکن فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ کی تفصیلی وجوہات جاری ہونے کے بعد اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے –

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا،کور کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں انتخابی عمل کے آغاز پر سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں ، انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے ،انتخابی نشان ”بلّے“ کی فوری فراہمی سمیت زیر التوا معاملات پر بلا تاخیر فیصلے کیے جائیں۔

    اعلامیے میں کہا گہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے ، اللہ کی رضا سے چیئرمین پی ٹی آئی بطور منتخب وزیراعظم ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ۔

    عرب مانیٹری فنڈ اور سٹیٹ بینک کے مابین ترسیلات زر میں سہولت کیلئے مفاہمتی یادداشت …

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 8 فروری 2024 کو ملک میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس میں صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کو عام انتخابات سے متعلق دستاویز پر دستخط کے بعد سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

  • پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت سے متعلق اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت سے متعلق اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے آئین شکنی پر سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کی اپیل اور سزائے موت دینے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے کے خلاف بار کونسل کی دائر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ دونوں اپیلوں کی سماعت کرے گا عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے۔

    پرویز مشرف کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مرحوم وقار سیٹھ، سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد فضل کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے 2014میں دائر مقدمہ چلانے کے بعد اکثریتی رائے سے17دسمبر 2019 کو سزائے موت دی تھی جس کے خلاف پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

    تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں بینچ نے اس خصوصی عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں وکلا کی جانب سے داخل کی گئیں تھیں جو 2019سے سپریم کورٹ میں زیر التوا رہیں اور 5 سال بعد پہلی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔

    پرویز مشرف رواں سال علالت کے باعث بیرون ملک انتقال کر گئے تھے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

  • سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
    سپریم کورٹ نے42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نےمحکمہ مال میانوالی کو متاثرہ بہنوں کو حصہ دینے کا حکم دے دیا.عدالت نے کہا کہ کلاسیکل مثال ہے کہ ریونیو افسران کیوجہ سے کیس التواء میں پڑے رہتے ہیں،

    عدالت نے جائیداد نہ دینے والے پر10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا،سپریم کورٹ نے کہاکہ ہرجانہ نہ دینے پر اسی مالیت کی جائیداد دی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھائی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دو بہنوں کا حصہ مار لیا،بہنیں کتنی شریف ہیں،کیا وہ شادی شدہ ہیں؟ بھائی نے اٹارنی کے ذریعے بیٹے کو ساری جائیداد دے دی،قانون ،دین ،اخلاق اور سماج سب کیس میں آپکے خلاف ہیں،ماتحت عدالت نے اگر بہن کو حصہ نہیں دیا تو یہ عدالت دے گی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے بیٹے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 42سال سے آپ نے دھوکہ دے رکھا ہے،قانون یا عدالتوں کو تو آپ مانتے نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپکے خلاف فیصلہ دیا آپ نظرثانی کے لیے آگئے،کیوں نہ مثالی جرمانہ عائد کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب بہت مضبوط پیغام بھیجیں گے،ایسا فیصلہ کریں گے کہ آئندہ بہنوں کے جائیداد میں حق مارنے جیسے مقدمات عدالت نہ آئیں،وکیل درخواست گزار نے معاملہ نظر انداز کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایبسلوٹلی ناٹ معاملہ نظر اندا ز نہیں ہوسکتا،پاور آف اٹارنی سے بیٹے کو جائیداد منتقلی درست نہیں،بہنوں کو ہتھکنڈوں کے ذریعے سے جائیداد سے محروم کیا گیا،عدالتی کارروائی کے ذریعے سالہا سال اس سے فوائد لیے جاتے ہیں

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم