Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کر سکتا ہے نہ ہی عدالت،سپریم کورٹ

    پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کر سکتا ہے نہ ہی عدالت،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بلوچستان میں مردم شماری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس اعجازالاحسن کی براہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ بلوچستان کی آبادی 2017کی مردم شماری کے مطابق کتنی تھی؟کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہاکہ بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال تھی 2017میں مردم شماری نہیں ہوئی موجودہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی سوا کروڑ ہے ہمارے حساب سے بلوچستان کی اصل آبادی اس وقت 2کروڑ سے زیادہ ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کامران مرتضیٰ سے استفسار کیا کہ آپ کے اس حساب کی بنیاد کیا ہے؟وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہاکہ ادارہ شماریات کے اعدادوشمار پر انحصار کررہا ہوں ادارہ شماریات نے سی سی آئی میں اچانک بلوچستان کی آبادی کا ایک عدد رکھ دیا جو اصل نہیں.

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سی سی آئی کے فیصلے کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دیکھ سکتا ہے عدالت نہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ چیلنج نہیں کیا .انفرادی درخواستیں سننے سے تو پنڈورا باکس کھل جائے گا.مشترکہ مفادات کونسل خصوصی آئینی باڈی ہے جس میں پالیسی معاملات طے ہوتے ہیں.پالیسی معاملات میں مداخلت کوئی فرد کر سکتا ہے نہ ہی عدالت،کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہاکہ میں صوبے کے شہری کی حیثیت سے غلط مردم شماری کو چیلنج کرنے کا حقدار ہوں،آبادی کے مطابق بلوچستان کی 10نشستیں قومی اسمبلی میں بڑھنی چاہئے،

    کیس کی سماعت کے بعدسپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے کہاکہ مردم شماری کا معاملہ کس آئینی شق یا قانون کے تحت مشترکہ مفادات کونسل میں جاتا ہے ؟مردم شماری سے متعلق قانونی معاملات پر عدالت کی معاونت کی جائے،عدالت نے قانونی سوالات پر معاونت کیلئے وکیل کامران مرتضیٰ کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا،عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے بیٹے حسن کامران نے دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ افراد کم کر دیئے گئے،مردم شماری کے حتمی مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 21 اعشاریہ سات ملین تھی،ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج میں بلوچستان کی آبادی 14 اعشاریہ نواسی ملین بتائی،ادارہ شماریات کے آفیشل اکاؤنٹس سے متضاد بیانات جاری کیے گئے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،مشترکہ مفادات کونسل کیخلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہماری درخواست خارج کی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ہماری درخواست سے بالکل الگ ہے،درخواست میں وفاق،ادارہ شماریات،نادرا اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے  سابق جج شوکت عزیز صدیقی پھر پہنچے سپریم کورٹ

    اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے سابق جج شوکت عزیز صدیقی پھر پہنچے سپریم کورٹ

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ اکتوبر2018 سے میرا مقدمہ زیرالتوا ہے، میرے کیس کی آخری سماعت 12جون 2022 کو ہوئی تھی، اس کیس سے میرے بنیادی انسانی حقوق جڑے ہوئے ہیں رواں عدالتی ہفتے میں میرا کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اور بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ برطرفی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے

    اسلام آباد سے عدالتی کاروائی کو کور کرنے والے صحافی ثاقب بشیر جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر کہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کے حاضر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے میں تو سپریم جوڈیشنل کونسل نے دس بارہ دن لگائے تھے اب سپریم کورٹ ان کے کیس کا فیصلہ 2018 سے اب تک 6 سال میں بھی نہیں کر سکی دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ میں جلد سماعت کی درخواست جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دی وہ نظر انداز ہو گئی اب آج پھر جلد سماعت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اب انتظار کریں کب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر کرم پڑتی ہے یقینا ان کو زیادہ انداز ہو گا کہ ایسی صورت حال میں متاثرہ جج کو کن حالات کا سامنا رہتا ہے

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں،میاں داؤد ایڈوکیٹ

    جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں،میاں داؤد ایڈوکیٹ

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن ریفرنس کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات پر شکایت کنندہ میاں دائود ایڈووکیٹ کا ردعمل سامنے آیا ہے

    میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات دراصل اعتراف جرم ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے تسلیم کر لیا کہ انکے پاس کرپشن الزامات کا کوئی جواب نہیں،جسٹس مظاہر نقوی صاف صاف بتائیں کہ کینٹ اور گلبرگ کی جائیدادوں کیلئے ناجائز پیسہ کہاں سے آیا، اگر جسٹس نقوی نے چوری نہیں کی تو رسیدیں دکھانے میں کیا حرج ہے؟ پراپرٹی ڈیلر نے جسٹس نقوی کی صاحبزادی کے بینک اکائونٹ میں 10 ہزار پائونڈ کیوں بھجوائے، جسٹس نقوی کی ناجائز دولت میں زیادہ اضافہ جنرل مشرف کی سزائے موت ختم کرنے کے بعد ہوا، جنرل مشرف کی سزا ختم کرنے کے عوض جسٹس نقوی اور انکے خاندان کو نوازا گیا، جسٹس مظاہر نقوی اخلاقی ہمت دکھائیں اور اپنے خلاف کارروائی کی کھلی عدالت میں سماعت کی استدعا کریں، جسٹس نقوی ریفرنس کی کھلی عدالت میں سماعت ہوگی تو عوام کو سچے اور جھوٹے کا پتہ چل جائیگا،

    میاں دائود ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جسٹس نقوی شکایت کے ساتھ ریکارڈ کا عدم فراہمی کے بارے میں بھی جھوٹ بول رہے ہیں، شکایات کے ساتھ تمام مصدقہ ثبوت منسلک کئے گئے ہیں،جسٹس نقوی پیشہ ور ملزم کی طرح سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، آئین کا آرٹیکل209 اور رولز سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایات پر کارروائی کیلئے لامحدود اختیارات دیتے ہیں، آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایات کے ساتھ منسلک ثبوتوں کی کسی بھی ادارے سے تصدیق کرانے کا اختیار دیتا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل تاخیر حربوں میں استعمال ہونے کی بجائے متعلقہ اداروں سے ریکارڈ کی تصدیق کرا لے،

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اعتراضات اٹھا دئیے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے اعتراضات سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرا دیئے گئے، جسٹس مظاہر نقوی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق کی کونسل میں شمولیت پر اعتراض کر دیا،جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے جسٹس نعیم اختر افغان پر بھی اعتراض کیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے ریفرنس اور شواہد کی نقول بھی مانگ لیں،

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جس انداز سے میرے خلاف کارروائی شروع کی گئی اِس سے میرے بنیادی قانونی حقوق سلب کئے گئے، انصاف کے صحیح تقاضے پورے کرنے کیلئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو میرے خلاف کیس نہیں سننا چاہئیے۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرا دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ممبران میرے بارے میں جانبدار ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کا حصہ ہیں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے ممبران کو میرے خلاف جوڈیشل کمیشن کا حصہ نہیں ہونا چاہیے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے اور چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم افغان کو میرے خلاف کونسل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے جانبدار سپریم جوڈیشل کونسل کا جاری کردہ اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جانبدار ہے جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا سپریم جوڈیشل کونسل اکثریت سے صرف حتمی رائے صدر مملکت کو بھجوا سکتی ہے جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی صرف اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے آئین سپریم جوڈیشل کونسل کو رولزبنانے کی اجازت ہی نہیں دیتا، چیف جسٹس اور جسٹس سردار طارق جوڈیشل کونسل رولزکوپہلے ہی غیر آئینی کہہ چکے ہیں، شوکاز نوٹس میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے کی دونوں ججز نے کوئی وجہ نہیں بتائی شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں بحث ہوئی نہ کسی سے معلومات لی گئیں جسٹس سردار طارق کے کیس میں کونسل نے شکایت کنندہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور شواہد مانگے میرے کیس میں شکایت کنندہ کو بلایا نہ ہی مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا جو موقع جسٹس سردارطارق کوکونسل کی جانب سے دیا گیا وہ مجھے نہیں ملا، میرے خلاف کارروائی سیاسی ایما پر ہو رہی ہے، میرے خلاف کارروائی غیر قانونی اور نامناسب ہے

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہرنقوی کو شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس مبینہ آڈیو لیک پر جاری کیاگیا.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • سپریم کورٹ،پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا سے متعلق مختلف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    پاکستان بار کونسل کی جانب سے عابد ساقی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا ہے کہ تمام وکلاء موجود ہیں،بینچ کے بارے میں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں،وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں بینچز تبدیل کرنے کے حق میں نہیں،اس بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ کو شامل کرنے کی ایک وجہ ہے،جسٹس منصور علی شاہ ماضی میں کیس سننے والے بینچ کا حصہ تھے،اس کیس میں کچھ اپیلیں 2019 اور کچھ 2020 کی ہیں،2019سے اب تک کیس مقرر کیوں نہیں ہوا ؟کیا کسی وکیل نے التوا کی درخواست دی تھی،وکلا نےعدالت میں کہا کہ ہم میں سے کسی نے التوا کی درخواست نہیں کی کیس ویسے ہی نہیں لگایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کو پہلی مرتبہ سن رہے ہیں اس لیے ایک ایک نکتہ سمجھ کر آگے بڑھیں گے،

    سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کو ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لیا
    سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے دلائل دیئے گئے،سابق صدر پرویز مشرف سنگین غداری کیس،سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا کیخلاف پرویز مشرف کی اپیل پر اعتراضات ختم کر دیئے عدالت نے پرویز مشرف اپیل کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتراضات ہم نے ختم کر دیئے اب نمبر لگ جائے گا۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں جنرل ر پرویز مشرف کی نمائندگی کر رہا ہوں،پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سنائی گئی سزا کیخلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں آسکتی ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم کے بعد خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ متفقہ نہیں تھا،جنرل ر پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں آپ کی درخواست کو نمبر کیوں نہیں لگا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا کہ سزا یافتہ کے سرنڈر کیے بغیر اپیل دائر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ نے ان چیمبر سماعت میں اپیل اعتراضات کے ساتھ کھلی عدالت میں مقرر کرنے کا حکم دیا،پرویز مشرف کی سزا کا فیصلہ اس لیے چیلنج کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی،میرا موقف تھا کہ ایک شخص کا ٹرائل اور سزا عدم موجودگی میں ہوسکتی ہے تو اپیل کیوں نہیں،میں کہتا رہا کہ پرویز مشرف کی غیر حاضری بدنیتی نہیں،مشرف سزا کے بعد ملک سے نہیں بھاگے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ چمبر اپیل میں جج اپیل مسترد کرتا ہے یا منظور، تیسرا آپشن یہ ہے کہ جج اپیل کو اوپن کورٹ میں مقرر کردے، اپیل اوپن کورٹ میں کیوں مقرر نہ ہوئی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس سوال کا جواب شاید نہ دے سکوں،میں مشرف کے ساتھ اس طرح رابطہ میں نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم جب اپنا احتساب نہیں کریں گے تو دوسروں کا کیسے کریں گے،چیمبر اپیل میں جب آرڈر ہوگیا تھا تو اس اپیل کو مقرر ہونا چاہئے تھا، سلمان صفدر نےبے نظیر بھٹو احتساب کمشنر کیس کا حوالہ دیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے اپیل کا سنا جانا بنیادی حق ہے،چیمبر میں بھی استدعا کی تھی کہ معاملہ عدالت میں مقرر کیا جائے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیمبر سماعت کے بعد اپیل کب مقرر ہوئی تھی؟ وکیل نے کہا کہ چیمبر سماعت کے بعد آج اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوئی ہے، اپیلیں اتنی تاخیر سے سماعت کیلئے کیوں مقرر ہوئیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت کی غلطی ہے تو بتائیں آپ سینئر وکیل ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل تو عدالت نے جلد بازی میں کیا تھا لیکن اپیل سننے میں عدالتوں کو جلدی نہیں تھی،جب تک پرویز مشرف سے رابطے میں تھا وہ اپیل مقرر کرانا چاہتے تھے،پرویز مشرف کے اہل خانہ سے تین دن قبل رابطہ ہوا اور وہ اپیل سماعت کیلئے منظور نہ ہونے پر غم و غصے میں ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیمبر میں جج کا موقف تھا کہ لارجر بینچ اپیلوں پر سماعت کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کی وفات کب ہوئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے پاس ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نہیں، فروری 2023 میں مشرف کا انتقال ہوا،2022 کے بعد سے پرویز مشرف بول چال کے قابل نہیں تھے،اس کے بعد سے میں ان سے ہدایت لینے کیلئے رابطہ میں نہیں رہ سکا،سلمان صفدر نے مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایات لینے کی مہلت مانگ لی،کہا پرویز مشرف کی فیملی میں اپیل مقرر نہ ہونے پر ناراضگی پائی جاتی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی ہم پرویز مشرف کی مرکزی اپیل نہیں متفرق درخواست کی بات کر رہے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ متفرق درخواست میں مرکزی اپیل مقرر کرنے کی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل فکس کرنے کی متفرق درخواست پر کسی کو اعتراض تو نہیں، کسی فریق کی جانب سے اپیل فکس کرنے پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پرویز مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایات لے لیں کیا وہ اپیل کی پیروی کریں گے،عدالت نے پرویزمشرف کے وکیل کو آئندہ سماعت پر اسلام آباد آنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متفرق درخواست کی حد تک بات ختم ہے تو آگے بڑھیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے والے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر معاونت نہیں کروں گا، میں اپنا کیس صرف سزا کے خلاف اپیل تک رکھوں گا،

    مشرف کیس پر سپریم کورٹ نے متفرق درخواستوں پر اپیلیں منظور کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ اپیل پر رجسٹرار نے اعتراض لگایا تھا،وکیل نے بتایا کہ اعتراض کے خلاف اپیل جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں مقرر ہوئی،وکیل نے بتایا کہ چیمبر سے جج نے کیس لارجر بینچ میں لگانے کا کہا،وکیل نے بتایا اس کے بعد کیس مقرر نہیں ہوا اور مشرف کی وفات ہو گئی،مشرف کے وکیل نے کہا کہ آئین پاکستان بھی اپیل کا حق دینے کی بات کرتا ہے،کیس میں تمام فریقین سے پوچھا گیا کہ مشرف کی اپیل کو مقرر کرنے پر کسی کو اعتراض تو نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا،افسوس ناک ہے کہ چیمبر میں جج کے حکم کے باوجود اپیل آج تک مقرر نہیں ہوئی،کیس مقرر نہ ہونے پر پرویز مشرف یا ان کے وکیل ذمہ دار نہیں،عدالت کے کنڈکٹ کی وجہ سے سزا یافتہ مجرم کا بھی اپیل کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے، عدالت نے سلمان صفدر کو پرویز مشرف کے اہل خانہ سے اپیل کی پیروی پر ہدایات لینے کا حکم دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ شفاف ٹرائل کا بنیادی حق آئین ہر شہری کو دیتا ہے،پرویز مشرف کی اپیل زیرالتوا ہونے کے دوران انتقال کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف کے اہلخانہ پاکستان میں ہیں؟وکیل نے کہا کہ میرا خیال ہے سابق صدر کی بیوہ ملک میں موجود ہیں،عدالت نے پرویز مشرف کی سزا کیخلاف اپیل کی حد تک آج کی عدالتی کاروائی نمٹا دی

    حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام ہی غیرقانونی قرار دیدیا تھا، سپریم کورٹ نے سابق صدر کیخلاف خصوصی عدالت کو جلد ٹرائل مکمل کرنے کو حکم دیا تھا،لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کی اپیلوں پر نمبر کیوں نہیں لگا؟ رشید رضوی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فریق نہ ہونے کی وجہ سے درخواستوں کو نمبر الاٹ نہیں ہوا تھا، عدالت نے توفیق آصف، پاکستان بار، سندھ ہائی کورٹ بار کی اپیلوں کو نمبر لگانے کی ہدایت کر دی،حافظ عبدالرحمان انصاری کی اپیل پر بھی رجسٹرار آفس کو نمبر الاٹ کرکے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی، حامد خان نے کہا کہ خصوصی عدالت اسلام آباد میں قائم ہوئی یہاں ہی فیصلہ ہوا تھا، لاہور ہائی کورٹ کا اسلام آباد کی عدالت کیخلاف دائرہ اختیار نہیں بنتا تھا، سپریم کورٹ یکم اپریل2019 میں خصوصی عدالت کے حوالے سے احکامات دے چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شاید یکم اپریل کی تاریخ کی وجہ سے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا، کیا آپ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالتی فیصلہ مانتے ہیں؟ حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرآئینی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا خصوصی عدالت کے حوالے سے ماضی میں کوئی مثال ملتی ہے؟ حامد خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ آئین شکنی پر کسی کو ٹرائل ہوا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسکی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کے اہلخانہ، وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف سے متعلقہ اپیلوں پر مزید سماعت 21 نومبر تک ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

  • مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا،چیف جسٹس

    زمین ملکیت کیس، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل پر سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا ہے اس طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، سالہا سال تک لوگوں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، سارے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے، آہستہ آہستہ تمام معاملات کو بہتر کریں گے، 14 سال تک اس کیس کو طوالت دی گئی، درخواست گزار طویل عرصے تک زمین پر قابض رہا من گھڑت درخواستوں کے ذریعے عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتا ہے

    عدالت نے کیس کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی کر دیا، درخواست گزار جاوید حمید نے زمین ملکیت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    ملک بھر کے شہداکے لواحقین فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئےشہدا فورم بنالیا پیر کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا اعلان کر دیا، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے استحکام اور انسداد دہشت کردی کے لیے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں سپریم کورٹ شہدا کا خون رائیگاں نہ جانے دے اپنے فیصلےپر نظرثانی کرے

    انور زیب کا کہنا تھا کہ شہدا فورم کا مطالبہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو سپریم کورٹ ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر دوبارہ بحال کیا جائے، نوابزادہ جمال رئیسانی کا کہنا ہے کہ شہدا کے فرزند اور بھائی کی حیثیت سے آپ سے بات کر رہا ہوں،ہم آج یہاں اپنے شہدا کےلیے جمع ہوئے ہیں،ہم نے جو قربانیاں دیں وہ اس ملک کی سلامتی کے لیے دیں، خدارا ملٹری کورٹس کو بحال کیا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے شہدا کے لواحقین کو رنج کا سامنا کرنا پڑ رہا، شہدا نے اس ملک کےلیے قربانیاں دیں،

    شہداء کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے،کارگل وار میں 400 شہدا کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہم اپنے شہدا کا خون کبھی رائگاں نہیں ہونے دیں گے،محمد جمشید کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کوسانحہ قرار دیا جائے تو کم نہ ہوگا،2013 میں میرے والد نے بلوچستان میں بم دھماکے میں اپنی جان دی،اس شہید نے اپنے ملک سے جو وفا کرنی تھی وہ وہ کر گئے،اس قوم نے اس شہید سے جو وفا کرنی ہے وہ نظر نہیں آ رہی، اس ملک کی ملٹری کورٹس کو ختم کرنے کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سول کورٹ کی اتنی اتھارٹی نہیں کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات کی جانچ کر سکےآپ کی زندگی سے کوئی چلا جائے تو آپ کو اس دکھ کا اندازہ ہوگا،

    میر فرید رئیسانی نے کہا کہ قاضی فائز عیسی صاحب کیا آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں ایک جج نے دہشت گرد کو سزا دی، جیسے ہی جج عدالت سے نکلا اس پر حملہ کر دیا گیا،چیف صاحب خدارا شہدا کی فیملیز کی طرف دیکھاجائے، میانوالی اور پسنی میں ہمارے لوگوں پر حملہ ہوچکا، میں اپنے شہدا کا لہو کن کے ہاتھوں پر تلاش کروں،12 ربیع الاول کے جلوس کے شرکاء کو شہید کر دیا گیا، 21 ڈی سیکشن کو بحال کیا جائے تاکہ کلبھوشن کی طرح کوئی اور دہشتگردی نہ کرے،کلبوشن نے یہاں لسانیت کی بنیاد پر دہشتگردی کروائی،سول کورٹس اتنی طاقتور نہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلے کر سکیں،اگر ہم اپنے ملک کے لیے اپنے والدین کو قربان کر سکتے ہیں تو دوہری شہریت کیا چیز ہے،

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ،سابق وزیراعظم نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    عمران خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں سپیشل کورٹ کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے میں ناکامی پر زور دیا گیا ہے، ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا، سپیشل کورٹ نے قانون کے مطابق دستاویزات کی فراہمی اور چارج فریم کرنے کے درمیان 7 روز کی مہلت دی، ایک سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا، ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین بشمول درخواست گزار، جج اور وکلا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے،ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی،کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے، چارج فریم کرنے کی کاروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا جائے،سپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم کی تفصیلات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو فوری طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کو نوٹسز جاری ہوئے وہ کہاں ہیں،ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے اور بیوی کے وکیل کون ہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں صرف ملک ریاض کی نمائندگی کر رہا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پہلے معلوم کر لیں کیونکہ ایک ہی خاندان کے سب افراد ہیں،ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور بعد میں کوئی اعتراض آجائے،چیف جسٹس پاکستان نے ملک ریاض کے وکیل کو اپنے موکل سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور انکے حقوق متاثر ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہر صورت ہونا ہے،ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے، گارنٹی دینے والوں کیخلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہوگئی ہے،رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹاؤن نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا، ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں،اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے،کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟ وکیل ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے کہا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آؤٹ پلان کی منظوری دی تھی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹاؤن کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں،

    مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ بینک کو نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی، وکیل مشرق بینک نے کہا کہ بینک کو تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنزہوتی ہیں اس لئےفی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کابحریہ ٹاون کراچی سےمتعلق فیصلہ حتمی ہوچکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہوگا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالاتر ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا قانون سے بالاتر ہے؟وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو،جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاون کراچی کا پراجیکٹ ختم ہو جائے، 2019 سے فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں آج بحریہ ٹاون کا نقشہ دکھا رہے ہیں، کسی نے بحریہ ٹاون کے سر پر بندوق رکھی تھی کہ فیصلے کو تسلیم کرو؟جو آپ کر رہے ہیں یہ بالی وڈ یا لالی وڈ میں قابل قبول ہوگا آئینی عدالت میں نہیں، یہ اچھا ہے کہ معاہدے کے تحت پیسے نہیں دینے تو بہانے بناو، آپ فیصلے کے تحت ہوئے معاہدے کے مطابق رقم ادا کریں گے؟ ہاں یا ناں؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اگر زمین کی قیمت کا تخمینہ دوبارہ لگا لیا جائے تو میں ادائیگی کرنے کو تیار ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیصلے پر عمل نہیں کرنا، فیصلے پر عمل نہ کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے،فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے نیب بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف کاروائی کرے گا، بحریہ ٹاون کا معاہدہ دکھا دیں، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا معاہدہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آج میں نے دو چیزیں سیکھ لیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر انداز ہو سکتا ہے اور فیصلہ معاہدہ ہوتا ہے، یہ بتا دیں کہ عدالت کس قانون کے تحت اپنے ہی فیصلے پر عملدرآمد کرانے بیٹھی ہے؟ وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت ہی فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے اور دائرہ اختیار کے تقدس کو پامال نہ کریں،چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا بحریہ کو جو زمین ملی اسکا آڈٹ ہوا،چار سال تک کیس کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد کا فورم کیا ہے،معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائیکورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ایسے دلائل نہ دیں پھر،

    بحریہ ٹاؤن کے وکیل نےیوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے ابھی توہین عدالت کی کاروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے دلائل سے تو آپ اپنے ہی موکل کیخلاف جا رہے ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے،

    سپریم کورٹ نےسندھ حکومت کو بحریہ ٹاون کراچی کے زیر قبضہ زمین کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے وہاں سے منافع کما رہا ہے،جکیا ایف بی آر نے بحریہ ٹاون کا آڈٹ کیا ہے؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بحریہ ٹاون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خبر آپ بنوا چکے ہیں اب قانون کی بات کریں،بحریہ ٹاون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، بحریہ ٹاون اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اسکی اپنی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹاون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی،
    بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے، نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو رقم بیرون ملک سے آئی وہ بحریہ کے کھاتے میں کیسے ایڈجسٹ کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ بیرون ملک سے آئی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے یا ایم ڈی اے کو؟ وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے دی ہے تو رقم بھی انہیں ملنی چاہیے، پیسے کس کو ملنے چاہئیں یہ بحریہ ٹاون کا ایشو نہیں ہے،
    رقم ان متاثرین کو ملنی چاہیے جنہوں نے بحریہ کو ادائیگی کی اور رقم نہیں ملی،

    وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ میرے موکل نے 55 لاکھ روپے ادا کیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے،وکیل متاثرہ شہری نے کہا کہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ہیں تو کسی اور فورم پر کیسے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بحریہ کراچی کا منصوبہ بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے،بحریہ ٹاون چالیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کر چکا ہے، اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کر دی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سندھ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ این سی اے سے آنے والے190 ملین پائونڈ حکومت کو ملنے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیرون ملک سے سپریم کورٹ اکاونٹ میں 44 ملین ڈالرز اور 136 ملین پائونڈز آئے ہیں،سپریم کورٹ کو رقم یو اے ای، لندن اور ورجن آئی لینڈ سے آئی ہے،عدالت آئندہ سماعت پر رقم اپنے پاس نہ رکھنے کے حوالے سے حکم جاری کرے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیسے تعین ہوا ہے کہ برطانیہ والے 190 ملین پاونڈز ہی سپریم کورٹ کو ملے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ مشرق بینک کے وکیل کے مطابق رقم بھیجنے والی تفصیل ڈیٹا ملنے پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے،مشرق بینک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے،بحریہ ٹاون اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے، عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے کو زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاون کا نمائندہ بھی سروے ٹیم کے ہمراہ ہوگا،سروے میں سرکاری زمین پر بحریہ ٹاون کے قبضے کے الزمات کا بھی جائزہ لیا جائے،

    بحریہ ٹائون کے زیر قبضہ زمین کتنی ہے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی شواہد کیساتھ رپورٹ پیش کرے عدالت نے سندھ حکومت، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن نمائندہ کیساتھ زمین کا سروے کرانے کا حکم دے دیا،

    سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے،درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات