Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیے،اسحاق ڈار

    ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیے،اسحاق ڈار

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ آئین کہتا ہے نوے دن میں الیکشن ہوں، ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیں ، مردم شماری ہوجائے مشترکہ مفادات کونسل منظوری دے تو حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے،نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں، جب بجٹ پیش کیا تو الیکشن کمیشن کیلئے صرف پانچ ارب تھے،الیکشن کمیشن 54ارب مانگ رہا تھا پھر بات چیت سے 46ارب پر اتفاق ہوا ، اس کے باوجود سولہ ارب روپے مزید درکار تھے ، ہم اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے ، پھر قومی اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے مجھے پابند کردیا تھا،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ریکارڈ پر حقائق رکھنے ضروری ہیں.آئین میں نوے دن میں الیکشن ضروری ہیں، ہم بھی چاہتے تھے،آئین بہت کلیئر ہے، ممبر نیشنل اسمبلی اپنے اور دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو بھی ملا ہوں،اپوزیشن لیڈر نے بڑی اہم باتیں ہمارے لئے رکھی ہیں، بالکل صحیح کہتے ہیں کہ نوے روز میں الیکشن ہونے چاہیے،جب ہم یہ سوچتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ نوے روز میں انتخابات کروا دینے چاہئے تھے تو یہ بھی غیر آئینی سوچ ہے، جب مردم شماری کی منظوری ہوجائے تو الیکشن کمیشن کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے،پہلے بجٹ میں مختض رقوم الیکشن 5 بلین تھی الیکشن کمیشن کو 54 ارب درکار تھے، ہم نے46 بلین دینے کا طے کیا،پنجاب اور کے پی کےالیکشن کے لیے اضافی 16 ارب درکار تھے، ایک طرف ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے، میرے پاس بھی کوئی چوائس نہیں تھی،یہ ہاؤس میرے اوپر کوئی قدغن لگاتا ہے تو اسکو فالو کرنا پڑتا ہے،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے منٹس عدالت کو پیش کرنے ہیں ،
    ہم نے منٹس فائل کردیئے ہیں،جواب کے صفحہ دو پر صدر کو لکھا گیا خط ہے،عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے لکھے گئے خط پڑھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں یہ آگسٹ کا لفظ سپریم کورٹ کےلئے کیوں لکھا ہے،آئین میں ایسا کچھ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممبران میں نثار درانی سندھ سے، شاھد جتوئی بلوچستان سے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے جواب میں صدر کے دستخط کہاں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے مجھے خط لکھا ہے، وہ تھوڑی دیر میں میرے پاس آجائیگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے آج آپ کو اتنا وقت دیا ہے ،دیکھیں آپ حکومت کے نمائندے ہیں،صدر نے ابھی تک یہ نہیں لکھا کہ میں راضی ہوں یا کچھ اور، آپ کو صدر کی جانب سے جو بھی دستاویز آئے وہ ہمیں بھجوا دیجئے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے کل کی ملاقات کی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے، ہمیں بہتری کی کوشش کرنی چاہیئے،آپ کے پاس جب صدر کا جواب آئے تو بتائیے گا، ہم اٹھ کر جارہے ہیں پھر واپس آئیں گے، صدر کے جواب آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل پاکستان ایوان صدر سے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت پہنچ گئے،سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط چیف جسٹس کو دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کمرہ عدالت پہنچ گیا،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط سپریم کورٹ میں پیش کردیا،صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کی انتخابات کی تاریخ دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن 8 فرروری کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائیگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس پر کسی کو اعتراض ہے؟ اس پر صدر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں؟ کیا آپ سب خوش ہیں، کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے وکیل سمیت کسی درخواست گزار نے اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملک میں انتخابات چاہتا ہے، سب لوگ بیٹھ جائیں آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا، اس نقطے پر بحث پھر کبھی کریں گے، عدالت نے تحریری حکمنامہ شروع کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا ، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو تحلیل ہوئی ، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت میں اختلاف ہوا، وکیل تحریک انصاف علی ظفر کے مطابق صدر مملکت نے 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت ملک کا اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود ہین؟ ایڈووکیٹ جنرلز روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراضات تو نہیں؟ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، حکمنامہ میں کہا کہ کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں کیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ ملک میں عام انتخابات نہیں ہو رہے، آئین اور قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے،ہر آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیاسپریم کورٹ آگاہ ہے ، صدر اور الیکشن کمیشن کے انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا،یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتحابات ہوں گے ہی نہیں۔ عدالت کو اداروں کا کردار نہیں اپنانا چاہییے،عدالت نے صدر اور ای سی پی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کی جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی،آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔آئین کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں۔حکمنامہ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے، اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا، 15 سال قبل آئین کو پامال کیا گیا، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر یا کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے.حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ،عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،عدالت نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا، صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر، وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھااس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی، اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، چیف جسٹس نے حکمنامہ میں تین نومبر کی ایمرجنسی کا ذکر بھی کر دیا اور کہا کہ آج سے پندرہ سال پہلے آج ہی کے دن آئین پامال ہوا،آئین کی پامالی کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے،غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے، صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں، امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے ،وقت پر ہوجانے چاہئیں،اس پر منیر احمد نامی شخص کو پریشانی ہوسکتی ہے،منیر احمد ایسے شخص ہیں جس کے لئے وکلا پیش ہونا چاہتے ہیں،منیر احمد ایک پُراسرار شخص ہیں، ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،میڈیا پر انتخابات سے متعلق مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،جس اینکر کو بھی انتخابات وقت پر نہ ہونے کا خدشہ ہے وہ ذاتی محفلوں یا اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے،کسی اینکر یا رپورٹر کو اجازت نہیں کہ مائیک پکڑ کر عوام کو گمراہ کرے، میڈیا انتخابات پر اثرانداز ہوا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی،میڈیا کو منفی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،انشاء اللہ انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے آپ نظر رکھیں الیکشن کے حوالے سے کوئی منفی خبر چلائے تو ان کے خلاف ایکشن لیں ،یہ کوئی نہ سوچے کہ انتخابات کی تاریخ عدالت نے دی ہے،ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،لائیٹر نوٹ پر سماعت ختم کررہا ہوں کہ انتخابات بخیر و عافیت سے ہونگے،اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،اُمید ہے تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا،8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی،الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ کیساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی ،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے عدالت کو آگاہ کرے گا ،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عدالت کوگیارہ فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے ،رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی

  • صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر  عام انتخابات 8 فروری  کو کرانے پر متفق

    صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر متفق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔

    سری لنکا کو شکست ،بھارت نےسیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہےعدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائےسپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان نے ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا،ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچے جہاں انہوں نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے ملک میں 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دی۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس گئے اور صدر مملکت کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا بعد ازاں 8 فروری کو انتخابات کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا-

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

  • فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،علی ظفر

    فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،علی ظفر

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی سماعت ہوئی ہے،کوئی کہتا تھا الیکشن ہو گا کوئی کہتا الیکشن نہیں ہو گا یہ ایک پریشانی کا عالم تھا،

    علی ظفرکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا انتخابات 90 روز میں ہی ہونا تھا،الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن شیڈول دے،سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ چیف الیکشن کمیشن آج ہی صدر سے مشاورت کرے،سپریم کورٹ نے واضح احکامات دئیے ہیں کہ کسی نے خلاف ورزی کی تو وہ نتائج کا خود ذمہ ہو گا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے پہ آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ انتخابات کی بات ہے،الیکشن کمیشن نے بھی کہا ہے کہ 11 فروری کو الیکشنز کروانے کے لئے تیار ہیں

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدر سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے

    صدرمملکت سے ملاقات کیلئے چیف الیکشن کمشنر ایوان صدر پہنچ گئے
    الیکشن کمیشن وفد کی صدر مملکت سے عام انتخابات پر مشاورت جاری ہے،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد آج ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا ،

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نےایوان صدر سے رابطہ کیا ہے،ایوان صدر نے ملاقات کا حتمی وقت آج شام پانچ بجے سے دیا ،الیکشن کمیشن نے تین رکنی وفد کے نام ایوان صدر کو دے دیئے ، صدر مملکت عارف علوی سے الیکشن کمیشن کا تین رکنی وفد ملاقات کرے گا

    قبل ازیں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات ہوئی ہے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ صدرِ مملکت کے حوالے کیا ،اٹارنی جنرل نے صدر پاکستان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی درخواست کی ،صدر پاکستان نے الیکشن کمیشن حکام کو ایوان صدر بلانے کی اجازت دے دی

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا،اجلاس کی صدرات چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی،اجلاس میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غور کیا گیا،اجلاس میں صدر مملکت سے ملاقات سے متعلق بھی مشاورت کی گئی.، انتخابی تاریخ سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا،

    قبل ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سپریم کورٹ آمد ہوئی، اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے صدر سے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کا فیصلہ کرلیا؟سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے صدر سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا ہے، بہت جلد الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے گا، اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں گے،

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی

    سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کروانے سے متعلق سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرہا ہے،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو میں دلائل کا آغاز کرنا چاہوں گا،وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ میں اس کیس میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کروں گا،فاروق نائیک وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو اعتراض تو نہیں اگر عدالت فاروق نائیک صاحب کو اس کیس میں سنے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم فاروق ایچ نائیک صاحب کو خوش آمدید کہتے ہیں ،عدالت نے پیپلز پارٹی کو انتخابات کیس میں فریق بننے کی اجازت دے دی

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہاپنی استدعا کو صرف ایک نقطے تک محدود کروں گا،استدعا ہے الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہونے چاہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی 90 دنوں میں انتخابات کی استدعا تو اب غیر موثر ہو چکی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عوام کی رائے جاننے سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے،

    میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتےہوئے کہا کہ اب آپ صرف انتخابات چاہتے ہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ہم انتخابات چاہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا؟ میرا نہیں خیال انتخابات کی کوئی مخالفت کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ مخالفت کریں گے ،چیف جسٹس کے سوال پر اٹارنی جنرل نےانکار میں جواب دیا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 58 اور 224 پڑھا جا سکتا ہے،انتخابات نہیں ہوں گے تو نہ پارلیمنٹ ہوگئی نا قانون بنیں گے،انتخابات کی تاریخ دینا اور شیڈول دینا دو چیزیں ہیں،الیکشن کی تاریخ دینے کا معاملہ آئین میں درج ہے،صدر اسمبلی تحلیل کرے تو 90دن کے اندر کی الیکشن تاریخ دے گا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تاریخ دینے کیلئے صدر کو وزیر اعظم سے مشورہ لینا ضروری ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ضروری نہیں ہے صدر کا اپنا آئینی فریضہ ہے وہ تاریخ دے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا صدر نے الیکشن کی تاریخ دی ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری رائے میں صدر نے تاریخ دیدی ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وہ خط دیکھ سکتے ہیں جس میں صدر نے تاریخ دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر نے تاریخ دینے کا حکم دینا ہے، حکومت نے اسے نوٹیفائی کرنا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدر نے جس خط میں تاریخ دی وہ کہاں ہے، علی ظفر نے صدر کا خط پڑھ کر سنا دیا

    صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسمبلی 9اگست کو تحلیل ہوئی اس پر تو کسی کا اعتراض نہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی کسی کا اعتراض نہیں،وزارت قانون نے رائے دی کہ صدر مملکت تاریخ نہیں دے سکتے،90 دنوں کا شمار کیا جائے تو 7 نومبر کو انتخابات ہونے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صدر مملکت کو الیکشن کمیشن کو خط لکھنے مئں اتنا وقت کیوں لگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا صدر مملکت نے سپریم کورٹ سے رائے لینے کیلئے ہم سے رجوع کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر آپ خط ہمارے سامنے کیوں پڑھ رہے ہیں،صدر کے خط کا متن بھی کافی مبہم ہے،صدر نے جب خود ایسا نہیں کیا تو وہ کسی اور کو یہ مشورہ کیسے دے سکتے ہیں،علی ظفر کیا آپ کہہ رہے ہیں صدر نے اپنا آئینی فریضہ ادا نہیں کیا،9 اگست کو اسمبلی تحلیل ہوئی اور صدر نے ستمبر میں خط لکھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین کی کمانڈ بڑی واضح ہے صدر نے تاریخ دینا تھی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اختلاف کرنے والے بھلے اختلاف کرتے رہیں ،کیا سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کہا کہ صدر تاریخ دیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ صدر مملکت نے تاریخ نہیں دی، اس پہلو کو ایک جانب رکھ کر سپریم کورٹ کو بھی انتخابات کا معاملہ دیکھنا چاہئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ صدر کے خلاف جاکر انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ کیا آئین پاکستان سپریم کورٹ کو تاریخ دینے کا اختیار دیتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا ہم صدر مملکت کو ہدایات دے سکتے ہیں؟اگر صدر مملکت ہدایات پر عمل نہ کریں تو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کس جماعت کی نمائندگی کرہے ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں صدر مملکت نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیڈر انکے بھی لیڈر ہیں ، تو آپ سپریم کورٹ آنے کی بجائے انہیں کال کریں اور الیکشن کی تاریخ لیں،

    صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب یہ عدالت صدر کے خلاف رٹ جاری کر سکتی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 98 بہت واضح ہے اس پر اس عدالت کا کردار کہاں آتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے مطابق تاریخ دینا صدر کا اختیار ہے،پھر آپ بتائیں کہ کیا اس عدالت کو بھی تاریخ دینے کا اختیار ہے،اگر صدر نے بات نہ مانی تو ہم انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے،وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات ممکن نہیں تو صدر کو کہا جائے 54 روز میں انتخابات کا اعلان کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو کون کہے گا آپ نہیں بلکہ ہم تین ججز ہی کہہ سکتے ہیں،جب ہم آرڈر جاری کریں گے تو ذہن میں رکھیں کہ جو تاخیر کا ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف لکھیں گے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ صدر کو انفرادی طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ صدر مملکت کے طور پر دیکھا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر فرد نہیں ادارہ ہے،صدر کو تو تمام طریقہ کار معلوم تھا،صدر کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنی حاصل ہے لیکن آپ بتا دیں کہ انہوں نے تاریخ دی کب؟ صدر مملکت کی گنتی درست تھی کہ اسمبلی تحلیل ہونے سے 89واں دن 6 نومبر ہے، صدر مملکت نے تو تاریخ نہ دے کر خود آئینی خلاف ورزی کی،آئین پاکستان نے ہمیں تاریخ دینے کا اختیار کہاں دیا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مرحلے میں مداخلت کر چکی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت سوال مختلف تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد تو اچھی چیز ہے پرابلم نہیں ہے،آپ کے لیڈر صدر کے بھی لیڈر ہیں،صدر کو فون کر کے کیوں نہیں کہا گیا کہ انتخابات کی تاریخ دیں ،جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کی دلیل تو یہ ہے کہ صدر نے آئین سے انحراف کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں حکومت ،الیکشن کمیشن اور صدر مملکت تینوں ذمہ دار ہیں،اب سوال یہ ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے،انتخابات تو وقت پر ہونے چاہیں،آئین کی خلاف ورزی تو ہوچکی جس نے خلاف ورزی کی نتائج بھگتنا ہونگے،

    آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پر کہا تھا کہ کوئی حل بتائیں ورنہ تو صدر کیخلاف آپ خود برا وقت لانا چاہتے ہیں،تاریخ جہاں سے آئے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بس انتخابات ہونے چاہیں،آپ کہتے کہ صدر نے تاریخ دینی ہے تو پھر ٹھیک ہے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہم لکھ دیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت آئین کی خلاف ورزی کو درگزر کر دے؟ عدالت ایک دن کی تاخیر بھی کیوں درگزر کرے چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو، عدالت کو نظریہ ضرورت کی طرف نہ لیکر جائیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ اس طرح معاملہ چلتا رہا تو انتخابات نہیں ہوسکیں گے،

    درخواست گزار منیر احمد کے وکیل انور منصور خان عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا درخواست گزار کے وکیل کے طور پر اپ نے درخواست لکھی تھی؟ انور منصور خان نے کہا کہ جناب درخواست میں نے نہیں لکھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منیر احمد پر کل ابصار عالم نے ایک کیس میں سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،عدالتی عملے کی جانب بتایا گیا ہے کہ آپ کا وکالت نامہ اس میں موجود نہیں،آپ اگر ان کے وکیل ہیں تو وکالت نامہ جمع کرائیں ہم آپ کا وکالت نامہ قبول کرتے ہیں، انور منصور خان نے کہا کہ مجھ سے وکالت نامہ دستخط کرایا گیا ، کیوں جمع نہیں ہوا، نہیں معلوم ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اظہر صدیق ایڈوکیٹ سمیت سات وکلا ہیں ان میں سے ایک بھی ہمارے سامنےآج موجود نہیں،عملے نے بتایا ہے عزیر چغتائی کو لاہور رجسٹری کی جانب سے سماعت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انور منصور خان آپ اس کیس میں پھنس سکتےہیں، منیر احمد جیسے لوگوں کو بھی فکس کرنا ہوگا،وکیل انور منصور خان نے کہا کہ میں اس کیس میں واک آؤٹ کرتا ہوں،

    آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    وکیل عابد زبیری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ پی ٹی آئی وکیل کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں،وکیل سپریم کورٹ عابد زبیری نے کہا کہ میں علی ظفر سے اتفاق کرتا ہوں مگر میری استدعا الگ ہے،14 مئی کو انتخابات والے فیصلے کو پڑھنا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 14 مئی کو انتخابات والا کیس تو ہمارے سامنے نہیں ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکمنامہ پڑھ رہا ہوں جو ہم سب پر لازم ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی طرف لےجارہے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا انتخابات کا فیصلہ 4 اپریل کا ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر بعد میں آیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جوبھی انتخابات نہیں کروا رہا وہ آئین کومعطل کئے ہوئے ہیں،آئین کومعطل کرنےپرآرٹیکل6بھی لگ سکتاہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ علی ظفر یہ کہہ رہےہیں کہ صدرآئین کی خلاف ورزی کررہے،آج کی تاریخ تک خلاف ورزی موجود نہیں ہے7نومبرسے شروع ہوجائے گی،آپ جو دلائل دے رہے ہیں اس سے تو صدر مملکت پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آئین معطل کرنے کی سزا پر آرٹیکل 6 لگتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے میں ابھی تک آئینی خلاف ورزی نہیں ہوئی،7 نومبر کی تاریخ گزرنے کے بعد آئین کی خلاف ورزی کی بات ہوگی،ہم کوشش کریں گے کہ آج ہی کیس مکمل کر لیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اتنا چاہتے ہیں ناں کہ انتخابات ہوں تو باقی باتیں چھوڑ دیں،ماضی میں جائیں تو آئین اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوچکی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے کہ صدر انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ وہ کام ہم سے کرانا چاھتے ہیں جو ہمارا کام نہیں،یہ کام جن کا ہے وہ کریں،عابد زبیری نے کہا کہ یہ جو کام نہیں کررہے ہیں اس لئے تو ہم اپ کے پاس آئےہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب آپ صدر کے خلاف آرٹیکل 6 invoke کروانا چاہتےہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہوسکتی ہے،صرف اتنا بتا دیں کہ سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے،سپریم کورٹ کیسے انتخابات کی تاریخ بدل سکتی ہے یا 21 ارب دینے کا کیسے کہہ سکتی ہے،
    ہمیں دوسری طرف لیکر نہ جائیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات نہیں ہوئے اس لیے سپریم کورٹ نے احکامات دیئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی نے توہین عدالت کی درخواست کیوں نہیں دی،میرا سوال یہ ہے کہ انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے اور اس کی سزا کیا ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی اور کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ صدر کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کروانا چاہتے ہیں،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ جب آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پنجاب انتخابات کیس کا ہمارے ساتھ لینا دینا ہی نہیں ہے،ہم دوسری درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آخری سماعت پر خود کہا تھا کہ صرف انتخابات کی بات تک محدود رہیں گے،ہمیں پتا ہے آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ ٹوٹ جائے،آپ پہلے یہ بتائیں علی ظفر سے متفق ہیں یا نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں اپنی استدعا پڑھوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں آپ کی استدعا سے نہیں آئین سے مطلب ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ چاہتے ہیں مزید آئین کی خلاف ورزی جاری رہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا، عابدی زبیری نے 14 مئی کے الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب آپ اس جھگڑے میں پڑے ہیں تو پھر بتائیں اس کا کورٹ آرڈر کہاں ہے؟ آپ وہ آرڈر دکھا ہی نہیں سکتے کیونکہ اس کا باضابطہ آرڈر موجود نہیں، عابد زبیری نے کہا کہ میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عابد زبیری صاحب ہم نے نہیں کہا تھا کہ 90 دن میں الیکشن آئین کے تحت ضروری نہیں ہیں،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نائیک صاحب آپ سینئر وکیل ہے آپ پیچھے جاکر بیٹھ گئے آپ کو تو آگے آنا چاہیے تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق لازمی ہونے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معاملہ الیکشن کا ہے۔یہ کام کمیشن کا ہے اگر وہ نہیں کراتا تو پھر شاید یہ معاملہ ہمارے پاس آئے، کیا آپ علی ظفر کے ساتھ متفق ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں علی ظفر سے متفق نہیں ہوں،تاریخ دینے کی زمہ داری صدر کی ہے کمیشن اس کا شیڈول دے گا، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابات آئین کے مطابق وقت ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل میں پیپلز پارٹی نے مردم شماری کی مخالفت کی؟ پیپلز پارٹی نے مخالفت نہیں کی، فاروق نائیک نائیک صاحب چھوڑ دیں آپ کی جماعت سمیت سب ذمہ دار ہیں، پیپلزپارٹی سمیت تمام لوگ انتخابات میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری کو عام انتخابات کراسکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے 11فروری کی تاریخ دے دی،الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے سپریم کورٹ میں عام انتخابات کی تاریخ دیدی وکیل نے کہا کہ چار فروری کو پہلا اتوار ہے اور دوسرا اتوار گیارہ فروری کو ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت اس سارے عمل میں آن بورڈ ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر سے مشاورت نہیں کی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سو چ سمجھ کر سوالوں کے جواب دیں، آپ کا ادارہ ایک آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن آج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرے، الیکشن کمیشن آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، آئین میں واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ صدر دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر مملکت سے مشاورت کر سکتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندی کے بعد 54 دن کا انتخابی شیڈول ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا صدر پاکستان کو تاریخ سے آگاہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق صدر کو بتانےکے پابند نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کی ذمہ داری لے رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن ابھی جا کر صدر سے کیوں نہیں ملاقات کرتا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہدایات لیکر بتا سکتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی جائیں اور پتا کرکے بتائیں، وہ اتنے بڑے ہیں کہ عدالت نہیں آ سکتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب بظاہر آئین کیخلاف ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کسی خط و کتابت میں نہیں جائے گی،

    الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول سے متعلق سپریم کورٹ کا آگاہ کر دیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 29 جنوری کو حلقہ بندیوں سمیت تمام انتظامات مکمل ہو جائیں گے،11 فروی کو ملک بھر میں انتخابات ہوں گے، 3 سے 5 دن حتمی فہرستوں میں لگیں گے،5 دسمبر کو حتمی فہرستیں مکمل ہو جائیں گی، 5 دسمبر سے 54 دن گنیں تو 29 جنوری بنتی ہے،انتخابات میں عوام کی آسانی کیلئے اتوار ڈھونڈ رہے تھے،4 فروی کو پہلا اتوار بنتا ہے جبکہ دوسرا اتوار 11 فروری کر بنتا ہے،ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا کہ 11 فروری والے اتوار کو الیکشن کروائے جائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم جواب کا انتظار کر لیتے ہیں۔صدر مملکت بھی پاکستانی ہے۔صدت مملکت اور الیکشن کمیشن آپس میں بات کریں۔کسی کو اعتراض ہے اگر الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرے۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مرتبہ تاریخ آ جائے۔ حلقہ بندیوں کا عمل بھی ہے ، انتخابات کب ہونا ہے یہ آئینی کھلاڑیوں نے فیصلہ کرنا ہے ، ہم چاہتے ہیں انتخابات ہو جائیں، ہم اہک تنازعہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صدر کیساتھ لازمی ملاقات کرے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کاروائی میں پھر وقفہ کر دیتے ہیں۔سب کو انتخابات چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ترقی کریں،پارلیمنٹ اپنا کام کرے۔صدر مملکت اپنا کام کرے۔الیکشن کمیشن اپنا کام کرے۔ ہم بھی سوچ لیتے ہیں کیا کریں۔ آرڈر جاری کریں یا نہ کریں۔ہم کسی کا کردار نہیں لینگے،ہم چاہتے ہیں جس کی ذمہ داری ہے وہ پوری کریں۔ ہر کسی کو اپنا کام خود کرنا ہوگا ہم دوسروں کا کام نہیں کرینگے۔ ہو سکتا ہے صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی آج ملاقات ہو جائے۔ ہر ملک کو آگے جانا ہوتا ہے مہذب معاشروں میں بات چیت سے فیصلہ ہوتے ہیں

    سپریمُ کورٹ کا حکم ، الیکشن کمیشن میں مشاورت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی قانونی ٹیم اور الیکشن کمیشن حکام سے مشاورت ہوئی، سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غورکیا گیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیاہے کہ صدرمملکت سے مشاورت کی جائیگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ اس سارے عمل میں شامل رہیں ،اس سارے عمل میں کوئی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوگا،آپ اس کو کیسے کرینگے؟ہم اس کیس کو ختم کرنا چاہتےہیں۔ آپ آج مشاورت کرلیں، وکیل نے کہا کہ سر ہم چیک کرتے ہیں کہ صدر کی کیا مصروفیات ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئندہ سماعت تک تاریخ طے کرکے آئیں، اٹارنی جنرل آپ صدر سے ملاقات فکس کرائیں ،ہم سماعت کل تک ملتوی کرتے ہیں، جو بھی ملاقات کا نتیجہ ہوگا وہ آرڈرمیں شامل کرینگے، ہم دونوں آئینی ادراوں کے اختیار کم نہیں کررہے ہیں،ہماری گزشتہ سماعت کا حکم نامہ صدر کو دکھائیں،جو تاریخ دی جایے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ہم امید کرتے ہیں عام انتخابات کی تاریخ طے کی جائیگی،اس بارے میں کل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا،جو بھی طےہوگا اس پر تمام کے دستخط موجود ہونگے۔ایک دفعہ تاریخ کا اعلان ہو جانے پر تصور کیا جائے یہ پتھر پر لکیر ہو گی،تاریخ بدلنے نہیں دیں گے،ہم اسی تاریخ پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنوائیں گے،عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروائیگی ،سماعت کل تک ملتو ی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ الیکشن کمشین کے مطابق 30 نومبر کو حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوگا، پانچ دسمبر کو حلقہ بندیوں کے نتائج شائع ہونگے، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندی شائع ہونے کے بعد انتخابی پروگرام جاری ہوگا،
    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی پروگرام 30 جنوری کو مکمل ہوگا،الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات اتوار کے دن ہوں، انتخابی پروگرام کے بعد پہلا اتوار چار فروری بنتا ہے، عوام کی شرکت کیلئے الیکشن کمیشن چاہتا ہے انتخابات 11 فروری کو ہونگے، الیکشن کمیشن آج صدر سے ملاقات کرکے انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے،صدر اور الیکشن کمیشن کے درمیان جو بھی طے ہو عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، تحریر پر صدر اور الیکشن کمیشن کے دستخط ہونا لازمی ہیں، الیکشن کمشنر اپنے ممبران سے خود مشاورت کرے، آج کے عدالتی حکم پر ابھی دستخط کرینگے،عدالتی حکم کی تصدیق شدہ نقول صدر، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اپنا پروگرام عوام میں لیکر جائیں جسے پسند آئے گا ووٹ دیدیں گے، اعلان کے بعد کوئی درخواست نہیں سنی جائے گی ،انتخابات کی تاریخ پر سب کے دستخط ہوں ۔ فاروق نائیک اور اٹارنی جنرل بھی صدر سے ملنے جاسکتے ہیں

  • جسٹس عرفان سعادت خان سپریم کورٹ کے جج مقرر

    جسٹس عرفان سعادت خان سپریم کورٹ کے جج مقرر

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس عرفان سعادت خان کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے جسٹس سعادت خان کی تقرری کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا،جسٹس عرفان سعادت کی سپریم کورٹ میں بطور جج تقررسے سپریم کورٹ میں کُل ججز کی تعداد 16 ہوگئی، رواں برس 7 جولائی کو جسٹس مسرت ہلالی نے سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کا حلف لیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں ایک جج کی آسامی خالی ہےذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں ایک اور جج کی تعیناتی کیلئے جلد جوڈیشل کمیشن اجلاس طلب کیا جائے گا، جوڈیشل کمیشن اپنے 28ممبران سے ججز تعیناتی معاملے پر تجاوز بھی طلب کرچکا ہے۔

    برطانیہ میں کمسن لڑکیوں کی جنسی زیادتی کے الزام میں 5 ملزمان کو 70 …

    واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اتفاق رائے سے قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس عرفان سعادت کو بطور جج سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی سفارش کی گئی تھی،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عرفان سعادت کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے پر غور کیا گیا تھا، چیف جسٹس نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا تھا کہ جسٹس عرفان سعادت خان مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں، تجربہ کار اور تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور ججوں میں سب سے سینئر جج ہیں جس پر اجلاس میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طور پر ان کی نامزدگی کی منظوری دی، جس کی توثیق وفاقی وزیر قانون نے بھی تحریری طور پر کی تھی آئین کے آرٹیکل 75A کی ذیلی شق (8) ا ور (12) کے تحت جسٹس عرفان سعادت خان کی نامزدگی کو حتمی منظوری کیلئے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا۔

    پاکستان انفارمیشن کمیشن کی کارروائی، ریلوے ملازم کو گریجویٹی فنڈ دلادیا

  • غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

    جنوبی افریقا نے ورلڈکپ میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ قائم کر دیا

    دوسری جانب افغان باشندوں کی واپسی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب ہوگیا، منصوبے کے مطابق افغان باشندوں کے لیے قائم شدہ کیمپس یا ان کی نقل و حرکت کے دوران شر انگیزی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے حکومت کی طرف سے بہترین انتظامات کے سبب اب تک ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد افغان باشندے کسی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر واپس افغانستان جا چکے ہیں جبکہ ملک دشمن قوتیں اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے متحرک ہوچکی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کے لیے قائم شدہ کیمپس کے دوران شر انگیزی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، مذموم عناصر کو ایسی تصاویر اور وڈیوز بنانے کا کہا گیا ہے جس میں سیکیورٹی پرسنل کو افغان باشندوں کے ساتھ زور زبردستی کرتے ہُوئے دکھایا جائے عورتوں اور بچوں کو خاص طور اِن تصاویر اور ویڈیوز میں شامل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ اسے پاکستان کے خلاف اچھی طرح پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

    پیٹرولیم مصنوعات پرعوام کو ریلیف دینے کی بجائے لیوی،ڈیلرز اور کمپنیوں کے منافع میں اضافہ

    ذرائع کے مطابق اسپین بولدک افغانستان میں لاگڑیوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی گئی ہے، چمن اور اسپین بولدک کے علاقے میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں سے انتشار پھیلانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے اِسی گھناؤنے منصوبے کے مطابق جب افغان باشندے افغانستان جانے کے لیے پاکستانی سائیڈ پر کراسنگ پوائنٹس پر ہوں تو ان پر فائرنگ کرادی جائے جس سے فوری انتشار پھیلایا جا سکے۔

    اس مذموم اور گھناؤنے منصوبے کا مقصد ملک دشمن عناصر کی طرف سے انتشار پھیلا کر پُر امن طریقے سے چلنے والے افغان باشندوں کے انخلاء کے عمل کو سبوتاز کر کے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو بڑھانا ہے-

    ژوب میں سیکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن،6 دہشتگرد ہلاک

  • ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی
    اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلاء روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ دیکھ لیں، کیا ابصار عالم یہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ راستے میں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ آپ سے متعلق ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے،آپ سمیت سب کہہ رہے ہیں فیض آباد دھرنا فیصلہ ٹھیک ہے، حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کہا کہ وفاقی حکومت فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل اسی سلسلے کی کڑی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہآپ نے ٹی او آرز اتنے وسیع کر دئے کہ ہر کوئی بری ہو جائے گا،اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر سرکار کو کوئی پرواہ نہیں ،ٹی او آرز میں کہاں لکھا ہے کہ کون سے مخصوص واقعہ کی انکوائری کرنی ہے،ہمارا کام حکم کرنا ہے آپ کا کام اس پر عمل کرانا ہے.جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تب لوگ سبق لیں گے،حکومت سیدھا سیدھا کہہ دے کہ ہم کام نہیں کریں گے،اربوں روپے کا نقصان ہوا لیکن سرکار کو کوئی پرواہ نہیں ،6 فروری 2019 سے آج تک فیض آباد کیس کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا کہ میں جو بھی کروں مجھے کوئی پوچھ نہیں سکتا، جس طرح نظرثانی درخواستیں واپس لی جارہی ہیں لگتا ہے کوئی ادارہ آزاد نہیں،کیا کینیڈا سے آنے والے نے ٹکٹ خود خریدی تھی؟ پاکستان کا اتنا ہی درد ہے تو یہاں آ کر کیوں نہیں رہتے؟ کیا ہماری حکومت نےکینیڈا کی حکومت سے رابطہ کیا ہے؟ کیا ہم کینیڈا میں جا کر انکے پورے ملک کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں؟

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی فیصلے کے بعد ملک آئین پر چل رہا ہے؟کیا آپ گارنٹی دے سکتے ہیں کہ آج ملک آئین کے مطابق چل رہا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے پر آج تک عمل کیوں نہیں کیا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے،

    عدالت نے پیمرا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کے سابق چیئرمین کا بیان حلفی پڑھا ہے؟ پیمرا وکیل نے کہا کہ ابصار عالم کا بیان حلفی مجھے ابھی ملا ہے، عدالت نے سینئر وکیل حافظ ایس اے رحمان پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو بیان حلفی گھر جا کر دیتے؟ عدالت نے ڈی جی آپریشنز پیمرا کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کالا کوٹ کیوں پہنا ہوا ہے؟ کیا آپ وکیل ہیں؟ ڈی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ کالا رنگ روٹین میں پہنا ہے،

    سپریم کورٹ نے چیئرمین پیمرا کو فوری طلب کر لیا ، چیرمین پیمرا کو ابصار عالم کے بیان حلفی کے حوالے سے طلب کیا گیا کیس کی مزید سماعت ساڑھے گیارہ بجے ہوگی.

    فیض آباد دھرنا کیس کی وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی،چئیرمن پیمرا سلیم بیگ روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین ابصار عالم نے ایک بیان حلفی دیا ہے،ہمیں تعجب ہوا،آپ کے وکیل نے کہا کہ وہ بیان حلفی پڑھا ہی نہیں ،چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے عدالت میں کہا کہ ابصار عالم نے جو کہا وہ انہی کے ساتھ ہوا ہو گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ یہ کبھی نہیں ہوا، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے کہا کہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا،ابصار عالم نے جو کچھ کہا مجھے ان حقائق کا علم نہیں، ریکارڈ چیک ہوسکتا ہے مگر جو ابصار عالم کے ساتھ ذاتی طور پر ہوا اس کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے میں کسی کو مارنا، تنگ کرنا نہیں آتا، کوئی ٹی وی چینل لوگوں کو فساد کیلئے اکسائے تو یہ آزادی اظہار نہیں، ایسا نہ ہو کہ ٹی وی چینل کا گلا گھونٹ دیں مگر قانون پر عمل ہونا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سے سوال کیا کہ آپ کو اس فیصلے میں کچھ ہدایات دی گئی تھیں، کیا اُن پر عمل کیا یا آپ انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اوپر سے احکامات آئیں گے تو عمل کرینگے،عدالت نے چیئرمین پیمرا سے تنخواہ کا استفسار کیا جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ میری تنخواہ ساڑھے 4 لاکھ روپے ہے جو حکومت دیتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو تنخواہ حکومت نہیں،عوام دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ سلیم بیگ آپ کا نام فیض آباد دھرنا کیس میں شامل ہے،آپ نے غلط بیانی کیوں کی کہ آپ کی تعیناتی بعد میں ہوئی،کیا آپ کو فیصلہ پسند نہیں تھا،آپ فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے،چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت کتنی ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ 4 سال کی مدت ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ پھر آپ کیسے اب تک بیٹھے ہیں،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اِس وقت آپ کی عمر کیا ہے ؟،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اِس وقت میری عمر 63 سال ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ اِس وقت کیا ہوتا ہے؟،ہم آج تک کی عمر پوچھ رہے ہیں، کل کتنی عمر ہوگی وہ نہیں پوچھ رہے، ہر چیز کو مذاق بنایا ہوا ہے،سکول میں کوئی ایسا جواب دے تو استاد کونے میں کھڑا کر دے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سلیم بیگ سے سوال کیا کہ ابصار عالم نے تو نام لے لئے،آپ میں تو اتنی ہمت نہیں کہ نام لیں،چیئرمین جواب نہ دے سکے۔

    چیف جسٹس کی برہمی پر وکیل پیمرا نے وکلالت نامہ واپس لے لیا،وکیل پیمرا ایس اے رحمان روسٹرم سے ہٹ گئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو درمیان میں زیادہ بولنا ہے تو اپنا کنڈکٹ دیکھ لیں،آپ کا کام ہے اپنے موکل کو بتانا کہ فیصلے پر عمل کریں،آپ نے یہ نہیں کرنا تو الگ ہو جائیں،جسٹس اطہر من اللہ نے ایس اے رحمان کو دوبارہ مخاطب کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل جانے دیں انہیں ،یہ ان کا کنڈکٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زرا سا ہم نے آپ کو دبایا آپ نے کہا ہم عملدرآمد کرینگے،سب نے دائر کی تو آپ نے سوچا ہم بھی کر دیتے ہیں،ہم آپ کو مضبوط کر رہے ہیں،ہم کہہ رہے ہیں بتائیں آپ کے امور میں کون مداخلت کر رہا ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ہماری غلطی تھی نظرثانی درخواست دائر کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی درخواست پر دستخط صرف چیئرمین پیمرا کے ہیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظرثانی دائر کرنے کا فیصلہ چیئرمین کا اپنا تھا، چیئرمین صاحب آپ سے تین حکومتیں بہت خوش تھیں، کس سے ڈرتے ہیں؟ میری اور آپ کی عمر میں کچھ معلوم نہیں موت کب آ جائے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابصار عالم نے پریس کانفرنس کی اور وزیراعظم کو خط لکھ کر بھی حقائق بتائے، حیرت ہے اس وقت کے وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف نے کچھ نہیں کیا، ابصار عالم نے خط وزیراعظم نوازشریف کو لکھا تھا، کرسی سے اترنے کے بعد ہر وزیراعظم کہتا ہے میں مجبور تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلیم بیگ اللہ آپ کو لمبی زندگی دے،مگر جانا ہم نے وہیں ہے،آپ ہمت پکڑیں بتادیں نظرثانی میں جانے کا کس نے کہا تھا،پیمرا میں منظوری ہوئی تو وہ کہاں ہے،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ منظوری تحریری نہیں زبانی تھی،چیف جسٹس نے کہا کہ زبانی فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو بلا لیا اور کہا کہ یہ تو سچ نہیں بول رہے آپ ہی بتا دیں ،نظرثانی کا کس نے کہا تھا، ڈائریکٹر لا پیمرا نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون پڑھیں کیا پیمرا میں زبانی فیصلہ ہو سکتا،ہم آپ کو آج آپ کا قانون پڑھائیں گے،پہلے آپ پر کوئی دبائو نہیں تھا لیکن اب قانون کا دبائو ہوگا، آرڈر لکھوانے سے پہلے پھر پوچھ رہے ہیں کس نے حکم دیا تھا،عدالتیں اس لئے نہیں ہوتیں کہ ان کیساتھ کھیل کھیلا جائے،

    ابصار عالم نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب چیئرمین پیمرا تھا مجھے اُس وقت سٹاف کے ذریعے دھمکی آمیز کال کرائی گئی،کال ریکاڈ بھی ہوئی، وہ کال میں نے نواز شریف اور جنرل باجوہ کو بھی بھیجی،جو کال مجھے کی گئی اُس کا کوئی نمبر نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے وزیراعظم کو 8 مئی 2017 کو خط لکھا کہ میڈیا سے کچھ عناصر دھمکیاں دے رہے ہیں،میڈیا کے اندر کے عناصر کا وزیراعظم کیا کریں؟ ایسا ہی خط چیف جسٹس اور آرمی چیف کو بھی لکھا گیا تھا، ابصار عالم نے کہا کہ خط میں درخواست کی تھی کہ حساس اداروں سے تفتیش کرائیں تاکہ ایسے عناصر اور سپورٹرز کیخلاف کارروائی ہو، کیبل آپریٹرز کے پاس حساس اداروں کے لوگ جاتے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ خط میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم نے آپ کو خط کو جواب دیا؟ابصار عالم نے کہا کہ وزیراعظم نے کوئی جواب نہیں دیا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ میں اتنی ہمت تھی کہ عہدے پر رہتے ہوئے آواز اٹھائی کہ سسٹم کیسے چلتا ہے، ابصار عالم نے کہا کہ سابق میجر جنرل فیض حمید اور انکے عملے نے نجم سیٹھی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،نجم سیٹھی نے جیو پر پروگرام کیا تھا، میں نے پروگرام بند کرنے سے انکار کر دیا،جنرل فیض نے حسین حقانی کے میڈیا بلیک آئوٹ کا بھی کہا جو میں نہیں مانا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہٹانے کی یہی وجہ تھی؟ ابصار عالم نے کہا کہ میں ان کی جیب میں نہیں تھا اس لئے مجھے ہٹایا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کے بعد والے چیئرمین پیمرا کہتے ہیں ان پر کوئی دبائو نہیں تھا،ابصار عالم نے کہا کہ میرے بعد آنے والے چیئرمین پیمر ا خوش قسمت ہیں، میرے دور میں 2 چینلز جن کو نمبروں سے ہٹایا گیا ، عدالتی حکم پر بحال کیا، میرے بعد کیا ہو ااس کے بارے میں علم نہیں،جو ریکارڈڈ کال آرمی چیف اور وزیر اعظم کو بھیجی ، بندے کی نشاندہی نہیں کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیخلاف جو مقدمات ہوئے انکی تفصیل ہمیں دے دیں،آپ صفائی نہ دیں ہم نے پیمرا کو کہا تھا کہ عدالت کے حکم پر عمل کیا جائے، ابصار عالم نے کہا کہ جنرل فیض اور انکے عملے نے تین بار کال کرکے کہا 92 نیوز کو کھولو یا سب کو بند کر دو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کسی کی پیٹھ پیچھے بیان نہیں ہوتا، اگر حکومت کمیشن بنائے تو آپ وہاں پیش ہونگے؟ ابصار عالم نے کہا کہ کلمہ پڑھ کر کہ رہا ہوں پیش ہوکر بیان دوں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جن پر الزام ہے ان کا بھی موقف لیا جائے گا اور شاید جرح بھی ہو،ابصار عالم نے کہا کہ جرح اور بیان دینے کیلئے تیار ہوں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے چیئرمین پیمرا کے خطوط کا جواب نہیں دیا جو سنگین معاملہ ہے، ابصار عالم نے کہا کہ میرے خلاف تین درخواستیں دائر ہوئیں اور ایک منظور ہوگئی،فیض آباد دھرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے میری تعیناتی غیرقانونی قرار دی گئی،سپریم کورٹ سے میری اپیل وکیل کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے خارج ہوئی، اُس وقت مجھے انصاف کی امید نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ امید ختم نہ کریں، آخری وقت تک لڑتے رہیں، اپیل بحالی کی درخواست دی جا سکتی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابصار عالم کے الزامات ہی کافی تھے کہ انکوائری کرائی جاتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا درخواستوں پر جو فیصلے آئے ہیں وہ جواب کا حصہ ہیں؟ ابصار عالم نے کہا کہ نہیں وہ فیصلے اس جواب کا حصہ نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کیا کارروائی ہوئی؟ان فیصلوں پر بات نہ کریں، جب تک دستاویز نہیں لگاتے، ابصار عالم نے کہا کہ عدالتی حکم پر سچ سامنے لایا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت پر کچھ نہ ڈالیں آپ آرام سےگھر بیٹھیں ،جو باتیں آپ کہہ رہے ہیں اس کا ریکارڈ بھی دیں،آپ کہہ رہے اگر بلایا ہوتا تو پیش ہوتا اس سے تو عدالت بری بن رہی ہے،ہم نے آپکو نہیں بلایا آپ خود آئے ہیں،آپ جو دستاویز فائل کرینگے تو اس کو دیکھ کر کارروائی کریں گے جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کے الزامات بہت سنجیدہ ہیں،جب آپ چیئرمین پیمرا تھے تب بھی یہ سب باتیں کرنی چاہیے تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کیخلاف درخواست گزار کون تھا؟ ابصار عالم نے کہا کہ منیر احمد نامی شخص کے حوالے سے سنا کہ وہ ایجنسیوں کا بندہ ہے، اس کے بعد مزید کسی تحقیق کی گنجائش نہیں تھی، چینل 92 نیوز بند کرنے پر جنرل فیض نے مجھے فون کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ وہ کیوں چاہتے تھے کہ 92 نیوز بند نہ ہو؟ ابصار عالم نے کہا کہ چینل 92 نیوز پرتشدد اور نفرت انگیز مواد نشر کر رہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں فوج کا افسر چاہتا تھا کہ پرتشدد کارروائی ہو؟ ابصار عالم نے کہا کہ روتے ہوئے دل کیساتھ کہ رہا ہوں بظاہر ایسا ہی لگتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پیمرا نے دبائو میں آ کر نظرثانی دائر کی ہے؟ کیا اوپر سے حکم آیا یا ٹاس کرنے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا؟ ابصار عالم نے کہا کہ مارچ 2019 میں نظرثانی دائر ہوئی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید تھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ گزشتہ 70 سال سے یہی ہو رہا تھا آج بھی جاری ہے،ابصار عالم نے کہا کہ تجربے کی بنیاد پر کہ رہا ہوں پیمرا کو وزارت اطلاعات یا ایجنسیوں نے نظرثانی کا کہا ہوگا،مجھے علم نہیں کہ زبانی حکم اگر کسی نے دیا تھا تو کون ہوسکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیئرمین پیمرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ انسان کو آزاد کر دیتا ہے،ہمارے سامنے تو آپ سچ بول نہیں رہے کمیشن شاید آپ سے اگلوا لے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے کسی کا خون بھی ہوجائے تو ہم نہیں دیکھیں گے، یہ کام پولیس کا ہے وہ تفتیش کرے، یہاں ہمارے حکم میں پیمر اکو اختیارات استعمال کرنے کا کہا گیا،پیمرا حکام اختیارات استعمال کرنے سے کترا رہے اور کہتے ہیں فیصلے پر نظر ثانی کریں،کیا اپ کو لگتا ہے کہ ہمارا فیصلہ غلط تھا اس پر نظر ثانی کی جائے، کیاآپ بتا سکتے ہیں کہ بطور سینئر صحافی کیا نظر ثانی درست دائر کی گئی اور کیوں دائر کی گئی؟ ابصار عالم نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق یا وزارت اطلاعات ہوگی یا پھر کوئی ایجنسیاں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ نے اس وقت تقریبا سب کچھ بتا دیا تھا کہ کیا ہورہا ہے، لیکن آپ نے ایک ہمت کی اور چیزیں ریکارڈ پر لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیئرمین پیمرا صاحب آپ بتائیں کہ کیا ابصار عالم صحیح کہہ رہے ہیں؟آپ ہماری مدد نہیں کررہے ہیں، کیا اپ کمیشن میں سچ بولیں گے،سلیم بیگ آپ پرانے بیوروکریٹ ہیں کیا اپ کے خلاف درخواست دائر ہوئی ہے؟ چیف جسٹس نے ابصار عالم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جب تعینات ہوئے اس وقت کتنے امیدوار تھے؟ابصار عالم نے کہا کہ اُس وقت 100 امیدوار تھے اور مجھے ایک کمیٹی نے تعینات کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ،ایک وقت میں سب سے بڑا فاشزم والا ملک جرمنی تھا لیکن اب وہ سب سے مہذب ملک ہے، ہمارے یہاں عجیب بات ہے کہ سچ کوئی نہیں بولے گا، بیگ صاحب کیا آپ کے ضمیر کا دروازہ کھٹکا یا نہیں، آپ یہ بتائیں نظرثانی درخواست دائر کرنا کس کا فیصلہ تھا،ابصا ر عالم نے کہا کہ پیمرا کو وزارت یا کسی ایجنسی نے نظرثانی دائر کرنے کا کہا ہوگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سلیم بیگ صاحب بتائیں کس نے کہا تھا نظرثانی دائر کریں،آپ بھی کمیشن کے سامنے جواب دیجئے گا،سچ ہمیشہ سامنے آکر ہی رہتا ہے،چیئرمین پیمرا ہماری مدد نہیں کر رہے نا کچھ بتا نہیں رہے،دھرنے والوں نے تو نہیں کہا تھا کہ نظرثانی دائر کریں ،یا آپ نے بس چلتے پھرتے نظرثانی دائر کر دی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نظام کو ایکسپوز کرنا بہت بڑی بہادری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ترقی یافتہ ملک ماضی سے سیکھتے ہیں،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا حکام کیساتھ ہم نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابصار عالم نے کسی کا لحاظ نہیں کیا سسٹم کو ایکسپوز کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابصار عالم صاحب آپ نے سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے لی تھی،ابصار عالم نے کہا کہ وہ اپیل میرے وکیل کی پیش نہ ہونے کی وجہ سے خارج ہوئی،اس وقت مجھے انصاف کی امید نہیں تھی،میں اللہ کے سو اکسی اور شخص کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ امید ختم نہ کریں،آخری وقت تک لڑتے رہیں،اپیل بحالی کی درخواست دی جاسکتی ہے،، آج بھی ہم نے اپیلیں بحال کی ہیں،

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست واپس لینے کے معاملے پر شیخ رشید کو نوٹس جاری کر دیا ،اعجاز الحق نے عدالتی فیصلے میں حساس ادارے کی رپورٹ کی تردید کر دی،فیض آباد دھرنا کیس سماعت کے دوران اہم مکالمہ سامنے آیا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعجاز الحق کے والد سابق آرمی چیف تھے، وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ اعجاز الحق کے والد صدر پاکستان بھی تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضیاء الحق کو سابق صدر نہیں مانتا ، عدالت میں ایسی غلط بیانی دوبارہ نہیں کرنا، وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ ضیاء الحق کا نام آئین میں لکھا ہوا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ضیاء الحق کا نام آئین سے نکال دیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر پانچ سال کیلئے ہی ہوسکتا ہے، بندوق کی زور پر کوئی صدر نہیں بن سکتا، سابق آرمی چیف کے بیٹے کا نام آئی ایس آئی نے غلط طور پر رپورٹ میں شامل کیا؟ وکیل اعجاز الحق نے کہا کہ اپنی پوزیشن واضح کر رہے ہیں،

    تحریک لبیک کو بھی فارن فنڈنگ ہوئی، وکیل الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں اعتراف
    الیکشن کمیشن کے وکیل کو عدالت نے روسڑم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو ایک آزاد ادارہ ہیں ،کیا الیکشن کمیشن نے ایک فضول نظرثانی دائر کی جو اب واپس لینی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کا سربراہ کون تھا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سردار رضا اس وقت چیف الیکشن کمشنر تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جسٹس سردار محمد رضا؟ الیکشن کمیشن نے اب عملدرآمد رپورٹ دی ہے اس میں کیا ہے؟ دکھائیں کیا عملدرآمد کیا گیا؟ آج کل وکالت کم لفاظی زیادہ ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کو تحریک لبیک کے ذمہ داروں کے ساتھ حافظ کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارے میں انھیں حافظ کیوں کہہ رہے ہیں،آپ لوگوں سے مساوی سلوک نہیں کرتے،آپ نے عملدرآمد رپورٹ میں جو کچھ لکھا وہ فیصلے سے پہلے کا ہے، ہمارے فیصلے کے بعد کیا اقدامات لئے وہ بتائیں،کیا آپ نے ٹی ایل پی رجسٹر کرانے والے شخص کو بلایا؟ ٹی ایل پی رجسٹریشن کرانے والا شخص تو دوبئی میں رہتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کو بلایا تھا رجسٹر کرانے والے کو نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اس طرح کام کرتا ہے؟ راتوں رات سیاسی جماعتیں کیسے رجسٹر ہوجاتی ہیں؟کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اوپر سے حکم آتا ہے کچھ کہتے ہیں پہیے لگ جاتے ہیں،ایک دن درخواست آتی ہے اگلے دن الیکشن کمیشن نئی جماعت رجسٹر کر لیتا ہے،جیسے ایک شخص کہتے ہیں کیا یہاں کام پہیے لگا کر ہوتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا بیرون ملک رہنے والا سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والوں کے پارٹی رجسٹر کرانے والوں پر پابندی نہیں، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے دو ہزار شناختی کارڈ قانونی طور پر لازمی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ٹی ایل پی والوں کے دو ہزار شناختی کارڈ کہاں ہیں؟ٹی ایل پی کی رجسٹریشن کا ریکارڈ کہاں ہے؟الیکشن ایکٹ 2017 پر عملدرآمد کا ریکارڈ کہاں ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کی ہیں، تحریک لبیک کو 15 لاکھ کی معمولی فارن فنڈنگ ہوئی جسے فارن فنڈنگ قرار نہیں دیا جا سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود مان رہا کہ 15 لاکھ کی فارن فنڈنگ ہوئی،15 لاکھ الیکشن کمیشن کیلئے معمولی رقم ہوگی میرے لیے تو کافی رقم ہے،الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس طرح آنکھوں میں دھول نہ جھونکے،جیسے ہمارے قانون کا بناوٹی کہا جاتا تھا الیکشن کمیشن ویسے کام کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے فارن فنڈنگ تو ہے لیکن بہت معمولی سی؟ پندرہ لاکھ روپے پینٹس ہیں تو مینگو کیا ہے؟پینٹس PeanutS لفظ سب سے پہلے کس نے استعمال کیا تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے امریکی صدر کو 1979 میں کم امداد دینے پر کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کا مونگ پھلی کا فارم تھا جس وجہ سے جملہ بولا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ملک کیساتھ مخلص ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ملک کیساتھ مخلص ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ باقاعدہ سسٹم کے تحت ادارے تباہ کئے جائیں تو کس کی ملک سے کیا مخلصی ہوگی،جن کی تحقیقات ہونی تھیں انکی وکالت الیکشن کمیشن کے وکیل کر رہے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان کا شہری نہ ہونے والا کیا جماعت رجسٹرڈ کروا سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ الیکشن ایکٹ 2017 کے تابع ہیں تو بتائیں اس پر عمل کیا،چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کی عملدرآمد رپورٹ مسترد کر دی اور کہا کہ یہ فائل آپ واپس لے جائیں اور بتائیں کیا آپ نے قانون پر عمل کیا،ہمارے فیصلے کو بھول جائیں اپنا قانون دیکھ کر بتائیں،کیا قانون صرف الماریوں میں رکھنے کیلئے ہے کیا اس پر عمل نہیں کرنا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی سچ بتانے کو تیار نہیں، سب کہتے ہیں اتفاقیہ تھا، کتنا حسین اتفاق ہے کہ وزارت دفاع، الیکشن کمیشن سمیت سب نے نظرثانی دائر کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چار سال بعد نظرثانی درخواست مقرر ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بھی حسن اتفاق ہے، حسن اتفاق پر کوئی شعر ہی سنا دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بات نکلے گی تو بہت دور تک جائے گی، اس وقت یہی شعر اچھا ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کی نہیں کسی اور کی نمائندگی کر رہے ہیں،عدالت کو بالکل کوئی معاونت فراہم نہیں کی جارہیالیکشن کمیشن کے وکیل کوئی قانونی حوالہ نہیں دے رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چندہ دیا ہے،کیا آپ نے کبھی 680 روپے یا 1000 روپے دیئے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی بالکل میں نے چندہ دیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کو کیا پتا جو پیسے دیئے جارہے وہ کہاں سے آئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پوچھا ہی نہیں تحریک لبیک کو چندہ دینے والے شیخ ریاض کون ہیں

    سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ سابق چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے بیان حلفی جمع کرایا ،بیان حلفی میں ایک انفرادی شخص اور انکے نامعلوم ماتحت اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کئے،ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ،ایک منظم طریقے سے ملک کے ادارے تباہ کئے گئے،اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل بارے بتایا،اٹارنی جنرل کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا،کمیٹی نے تحقیقات کیسے کرنی ہیں اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ حکومت انکوائری کمیشن تشکیل دے گی،اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل سے متعلق مہلت طلب کی،اٹارنی جنرل کے مطابق کمیشن تشکیل دیکر عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہوگا،حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا،آئی بی،وزارت دفاع اور پیمرا نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن نے بھی نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،تحریک لبیک نے کوئی نظرثانی درخواست دائر نہیں کی،تحریک لبیک کو فیض آباد دھرنا فیصلہ درست لگا ہوگا،انفرادی درخواست گزاروں کو ہم نہیں سنیں گے،تمام متعلقہ درخواست گزاروں کو ہم نے سن لیا ہے،ابصار عالم نے کچھ شخصیات پر الزامات عائد کیے،اگر حکومت کمیشن قائم کرتی ہے تو تمام الزامات کمیشن کے سامنے رکھے جائیں،ابصار عالم نے کہا وہ انکوائری کمیشن کے سامنے سارا بیان کھل کر دیں گے،سپریم کورٹ نے وزارت دفاع اور انٹیلی جنس بیورو کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں عدالت نے شیخ رشید کو نوٹسز جاری کردیئے،عدالت نے کہا کہ شیخ رشید کی درخواست خارج نہیں کی جاتی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں ، وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور پیمرا نے عدالتی حکم پر عملدرآمد جواب جمع کروا دیا وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے زمہ دار کے تعین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے ، الیکشن کمیشن نے جواب میں فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا بتا دیا پیمرا نے بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام احکامات پر من و عن عمل کر چکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ جاری

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس،جسٹس منصور علی شاہ کا 27صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عدلیہ قانون سازی کا اس وقت جائزہ لے سکتی ہے جب وہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو، قانون سازوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر جانچنا پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے،سپریم کورٹ نے 15 ستمبر کو نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا،2ایک کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیاگیا تھا،اداروں کے درمیان توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب احترام کا باہمی تعلق قائم ہو، پارلیمانی نظام حکومت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو یا مقننہ کے مخالف کے طور پر نہیں دیکھا جاتا،عدلیہ کو اس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو، نیب ترامیم کے حوالے درخواست گزار کے بنیادی حقوق کا موقف غیر یقینی ہیں،درخواست گزار کاموقف تسلیم کیا گیا تو پارلیمان کیلئے کسی بھی موضوع پر قانون سازی مشکل ہوگی

    اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے قوانین بالاخر کسی نہ کسی انداز میں بنیادی حقوق تک پہنچتے ہیں ،درخواست گزار نیب ترامیم کو عوامی مفاد کے برعکس ثابت کرنے میں ناکام رہا ،درخواست آئین کے آرٹیکل 8(2) کے مد نظر درخواست کو میرٹس لیس ہونے کی وجہ سے خارج کرتا ہوں،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں