Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    سپریم کورٹ : پشاور مرکزی عید گاہ پر سیکرٹریٹ تعمیر کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے عید گاہ پر سیکرٹریٹ کی تعمیر پر محکمہ اوقاف اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کردیا، وکیل نے لہا کہ پندرھویں صدی کی مسجد اور عید گاہ ہے۔ صوبائی حکومت وہاں سیکرٹریٹ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسجد نہیں عید گاہ کی زمین ہے۔ عید گاہ کی زمین تو اوپن ہوتی ہے۔زمین کی ملکیت کس کی ہے، ؟ وکیل نے کہا کہ زمین مسلم کمیونٹی کی ملکیت ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ مسلم کمیونٹی کسی این جی او کا نام ہے؟ زمین کسی کو ملکیت تو ہوگی۔ جو دستاویز آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق یہ وقف کی زمین ہے۔ وکیل نے کہا کہ پشاور مرکزی عید گاہ پر وزیر اعلی سمیت نامور شخصیات عید نماز ادا کرتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ سیکرٹریٹ تعمیر کا سائیٹ پلان کدھر ہے۔جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اگر عید گاہ مسجد کیساتھ مولوی صاحب کی کوارٹر تعمیر ہو اس پر آپکو اعتراض ہوگا۔وکیل نے کہا کہ مولوی کے کوارٹر پہلے سے تعمیر شدہ ہے ۔عدالت نے محکمہ اوقاف صوبائی حکومت کو نوٹس کردیا،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • پولیس کے مخبر اپنے ہی اہلکاروں کی مخبری کرتے کہ کون کہاں رات گزارتا ہے؟چیف جسٹس

    پولیس کے مخبر اپنے ہی اہلکاروں کی مخبری کرتے کہ کون کہاں رات گزارتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب پولیس کانسٹیبل کی برطرفی کا کیس کی سماعت ہوئی

    پنجاب پولیس کو اپنے ہی کانسٹیبل کی مخبری مہنگی پڑ گئی،عدالت نے کانسٹیبل محمد اسلم کی برطرفی کیلئے آئی جی پنجاب کی درخواست خارج کر دی،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ کانسٹیبل محمد اسلم ایک خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات میں ملوث پایا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاتون تو کہتی ہے کہ کانسٹیبل اس کا شوہر ہے،یہ کام پنجاب پولیس کا ہی ہو سکتا ہے،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ خاتون طوائف ہے اور پولیس نے مخبری پر کانسٹیبل کا پیچھا کر کے ریڈ کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب پولیس کے مخبر اپنے ہی اہلکاروں کی مخبری کرتے ہیں کہ کون کہاں رات گزارتا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نجی گھر میں بغیر وارنٹ کے پولیس ریڈ کیسے کر سکتی ہے؟پولیس غیر قانونی ریڈ کر کے اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کر رہی ہے،کیا پولیس کے غیر قانونی اقدام کی سپریم کورٹ توثیق کرے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کے پیچھے کھڑے پولیس اہلکار کون ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر کی سرزنش کی اور کہا کہ کیا بہاولنگر میں آج کرائم ریٹ صفر ہے جو ایس پی خود اٹھ کر ایک معمولی کیس کیلئے سپریم کورٹ آگئے؟ ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر کی اس کیس میں کیا ذاتی دلچسپی ہے؟ بہاولنگر اسلام آباد سے کتنی مسافت پر ہے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ بہاولنگر اسلام آباد سے 700 کلومیٹر دور ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پولیس افسران اپنے ذاتی خرچ پر آئے ہیں یا سرکار سے ٹی اے ڈی اے لیں گے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پولیس افسران کے مطابق انہیں ہدایات ہیں کہ سپریم کورٹ عدالت نمبر ایک میں خود افسران پیش ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسران تو ایسے آئے جیسے یہ اتنا بڑا کیس ہے کہ اس سے تو پاکستان کی دیواریں ہل جائیں گی،

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،لاہور ہائیکورٹ نے کانسٹیبل محمد اسلم کی برطرفی ختم کر دی تھی،آئی جی پنجاب کی جانب سے برطرفی کیلئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ تمام بینچز پر برتری لے گیا

    سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ تمام بینچز پر برتری لے گیا

    سپریم کورٹ،جسٹس طارق مسعود کا بینچ سپریم کورٹ میں تمام بینچز پر برتری لے گیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ 2 نے 18 ستمبر سے 20 اکتوبر تک 600 مقدمات کا فیصلہ کیا، بینچ 2 کے مقابلہ میں سپریم کورٹ کے چار بینچز نے 819 کیسز کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے تمام بینچز نے 18 ستمبر سے 20 اکتوبر تک 1419 مقدمات کا فیصلہ کیا،جسٹس سردار طارق مسعود کے بینچ 2 نے 18 ستمبر کے ہفتہ میں 88 کیسز کا فیصلہ کیا، بینچ 2 نے 25 ستمبر کے ہفتہ میں 126 مقدمات کا فیصلہ کیا، بینچ 2 نے دو اکتوبر کے ہفتہ میں 105 کیسز نمٹائے، 9 اکتوبر کو بینچ 2 نے 81 مقدمات کو نمٹایا،19 اکتوبر کو بینچ 2 نے 200 مقدمات کا فیصلہ کیا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہفتے میں کتنے کیسز سنتی ہے اس ضمن میں ہر ہفتے آگاہ کیا جائے گا،

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • نیب ترامیم کیس،عمران خان وکیل سے ہدایات لینا چاہیں تو موقع دیں،سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس،عمران خان وکیل سے ہدایات لینا چاہیں تو موقع دیں،سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں عدالت نے کہا ہے کہ عمران خان اس کیس میں وکیل کو ہدایات دینا چاہیں یا مشاورت کرنا چاہیں تو جیل سپرنٹینڈنٹ انتظامات کریں

    سپریم کورٹ نے نیب نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاقی حکومت اور دیگر کی اپیلوں کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 31 اکتوبر کو سماعت کی تھی

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک ٹرائل کورٹس کو ٹرائل جاری رکھنے لیکن فیصلہ کرنے سے روک دیا گیا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ کی تفصیلی وجوہات جاری ہونے کے بعد اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی آئی

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے –

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا،کور کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں انتخابی عمل کے آغاز پر سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں ، انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے ،انتخابی نشان ”بلّے“ کی فوری فراہمی سمیت زیر التوا معاملات پر بلا تاخیر فیصلے کیے جائیں۔

    اعلامیے میں کہا گہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی دستیابی یقینی بنائے ، اللہ کی رضا سے چیئرمین پی ٹی آئی بطور منتخب وزیراعظم ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ۔

    عرب مانیٹری فنڈ اور سٹیٹ بینک کے مابین ترسیلات زر میں سہولت کیلئے مفاہمتی یادداشت …

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 8 فروری 2024 کو ملک میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس میں صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کو عام انتخابات سے متعلق دستاویز پر دستخط کے بعد سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

  • پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت سے متعلق اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت سے متعلق اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے آئین شکنی پر سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کی اپیل اور سزائے موت دینے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دینے کے خلاف بار کونسل کی دائر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ دونوں اپیلوں کی سماعت کرے گا عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے۔

    پرویز مشرف کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مرحوم وقار سیٹھ، سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد فضل کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے 2014میں دائر مقدمہ چلانے کے بعد اکثریتی رائے سے17دسمبر 2019 کو سزائے موت دی تھی جس کے خلاف پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

    تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں بینچ نے اس خصوصی عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیلیں وکلا کی جانب سے داخل کی گئیں تھیں جو 2019سے سپریم کورٹ میں زیر التوا رہیں اور 5 سال بعد پہلی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔

    پرویز مشرف رواں سال علالت کے باعث بیرون ملک انتقال کر گئے تھے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

  • سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
    سپریم کورٹ نے42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نےمحکمہ مال میانوالی کو متاثرہ بہنوں کو حصہ دینے کا حکم دے دیا.عدالت نے کہا کہ کلاسیکل مثال ہے کہ ریونیو افسران کیوجہ سے کیس التواء میں پڑے رہتے ہیں،

    عدالت نے جائیداد نہ دینے والے پر10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا،سپریم کورٹ نے کہاکہ ہرجانہ نہ دینے پر اسی مالیت کی جائیداد دی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھائی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دو بہنوں کا حصہ مار لیا،بہنیں کتنی شریف ہیں،کیا وہ شادی شدہ ہیں؟ بھائی نے اٹارنی کے ذریعے بیٹے کو ساری جائیداد دے دی،قانون ،دین ،اخلاق اور سماج سب کیس میں آپکے خلاف ہیں،ماتحت عدالت نے اگر بہن کو حصہ نہیں دیا تو یہ عدالت دے گی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے بیٹے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 42سال سے آپ نے دھوکہ دے رکھا ہے،قانون یا عدالتوں کو تو آپ مانتے نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپکے خلاف فیصلہ دیا آپ نظرثانی کے لیے آگئے،کیوں نہ مثالی جرمانہ عائد کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب بہت مضبوط پیغام بھیجیں گے،ایسا فیصلہ کریں گے کہ آئندہ بہنوں کے جائیداد میں حق مارنے جیسے مقدمات عدالت نہ آئیں،وکیل درخواست گزار نے معاملہ نظر انداز کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایبسلوٹلی ناٹ معاملہ نظر اندا ز نہیں ہوسکتا،پاور آف اٹارنی سے بیٹے کو جائیداد منتقلی درست نہیں،بہنوں کو ہتھکنڈوں کے ذریعے سے جائیداد سے محروم کیا گیا،عدالتی کارروائی کے ذریعے سالہا سال اس سے فوائد لیے جاتے ہیں

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیے،اسحاق ڈار

    ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیے،اسحاق ڈار

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ آئین کہتا ہے نوے دن میں الیکشن ہوں، ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیں ، مردم شماری ہوجائے مشترکہ مفادات کونسل منظوری دے تو حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے،نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں، جب بجٹ پیش کیا تو الیکشن کمیشن کیلئے صرف پانچ ارب تھے،الیکشن کمیشن 54ارب مانگ رہا تھا پھر بات چیت سے 46ارب پر اتفاق ہوا ، اس کے باوجود سولہ ارب روپے مزید درکار تھے ، ہم اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے ، پھر قومی اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے مجھے پابند کردیا تھا،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ریکارڈ پر حقائق رکھنے ضروری ہیں.آئین میں نوے دن میں الیکشن ضروری ہیں، ہم بھی چاہتے تھے،آئین بہت کلیئر ہے، ممبر نیشنل اسمبلی اپنے اور دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو بھی ملا ہوں،اپوزیشن لیڈر نے بڑی اہم باتیں ہمارے لئے رکھی ہیں، بالکل صحیح کہتے ہیں کہ نوے روز میں الیکشن ہونے چاہیے،جب ہم یہ سوچتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ نوے روز میں انتخابات کروا دینے چاہئے تھے تو یہ بھی غیر آئینی سوچ ہے، جب مردم شماری کی منظوری ہوجائے تو الیکشن کمیشن کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے،پہلے بجٹ میں مختض رقوم الیکشن 5 بلین تھی الیکشن کمیشن کو 54 ارب درکار تھے، ہم نے46 بلین دینے کا طے کیا،پنجاب اور کے پی کےالیکشن کے لیے اضافی 16 ارب درکار تھے، ایک طرف ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے، میرے پاس بھی کوئی چوائس نہیں تھی،یہ ہاؤس میرے اوپر کوئی قدغن لگاتا ہے تو اسکو فالو کرنا پڑتا ہے،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • 8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،سپریم کورٹ کا حکمنامہ

    سپریم کورٹ میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات کے منٹس عدالت کو پیش کرنے ہیں ،
    ہم نے منٹس فائل کردیئے ہیں،جواب کے صفحہ دو پر صدر کو لکھا گیا خط ہے،عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل نے لکھے گئے خط پڑھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں یہ آگسٹ کا لفظ سپریم کورٹ کےلئے کیوں لکھا ہے،آئین میں ایسا کچھ نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ممبران میں نثار درانی سندھ سے، شاھد جتوئی بلوچستان سے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے جواب میں صدر کے دستخط کہاں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے مجھے خط لکھا ہے، وہ تھوڑی دیر میں میرے پاس آجائیگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے آج آپ کو اتنا وقت دیا ہے ،دیکھیں آپ حکومت کے نمائندے ہیں،صدر نے ابھی تک یہ نہیں لکھا کہ میں راضی ہوں یا کچھ اور، آپ کو صدر کی جانب سے جو بھی دستاویز آئے وہ ہمیں بھجوا دیجئے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے کل کی ملاقات کی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیئے، ہمیں بہتری کی کوشش کرنی چاہیئے،آپ کے پاس جب صدر کا جواب آئے تو بتائیے گا، ہم اٹھ کر جارہے ہیں پھر واپس آئیں گے، صدر کے جواب آنے تک کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل پاکستان ایوان صدر سے سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت پہنچ گئے،سماعت سے قبل اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط چیف جسٹس کو دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کمرہ عدالت پہنچ گیا،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے،اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کا خط سپریم کورٹ میں پیش کردیا،صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کی انتخابات کی تاریخ دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی، الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن 8 فرروری کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائیگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس پر کسی کو اعتراض ہے؟ اس پر صدر اور الیکشن کمیشن کے ممبران بھی مطمئن ہیں؟ کیا آپ سب خوش ہیں، کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟کمرہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کے وکیل سمیت کسی درخواست گزار نے اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس ملک میں انتخابات چاہتا ہے، سب لوگ بیٹھ جائیں آرڈر لکھوانے میں وقت لگے گا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی آئینی شق کا حوالہ نہیں دیا، اس نقطے پر بحث پھر کبھی کریں گے، عدالت نے تحریری حکمنامہ شروع کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا ، قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو تحلیل ہوئی ، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت میں اختلاف ہوا، وکیل تحریک انصاف علی ظفر کے مطابق صدر مملکت نے 13 ستمبر کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا، صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں، صدر مملکت ملک کا اعلی عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے، تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہیں، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے،

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمام ایڈووکیٹ جنرلز کمرہ عدالت میں موجود ہین؟ ایڈووکیٹ جنرلز روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراضات تو نہیں؟ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ انتخابات کی تاریخ پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، حکمنامہ میں کہا کہ کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں کیا، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہی، اعلیٰ آئینی عہدہ ہونے کے ناطے صدر مملکت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے،پورا ملک اس شش و پنج میں تھا کہ ملک میں عام انتخابات نہیں ہو رہے، آئین اور قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے،ہر آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں، آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، آئین پر علمداری اختیاری نہیں صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیاسپریم کورٹ آگاہ ہے ، صدر اور الیکشن کمیشن کے انتحابات کی تاریح نہ دینے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا،یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید انتحابات ہوں گے ہی نہیں۔ عدالت کو اداروں کا کردار نہیں اپنانا چاہییے،عدالت نے صدر اور ای سی پی کو کسی نتیجے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کی جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی،آئین میں صدر اور الیکشن کمیشن ممبران کے حلف کا ذکر موجود ہے۔آئین کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں۔حکمنامہ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے یہ آئین کی سکیم ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے،سپریم کورٹ صرف سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے،یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ ہر ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ آئین سے انحراف کا کوئی آپشن کسی آئینی ادارے کے پاس موجود نہیں، آئین کو بنے 50 سال گزر چکے، اب کوئی ادارہ آئین سے لاعلم ہونے کا نہیں کہہ سکتا، 15 سال قبل آئین کو پامال کیا گیا، انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر یا کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے.حادثاتی طور پر پاکستان کی تاریخ میں پندرہ سال آئینی عملداری کا سوال آیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف آئین پر عمل کریں بلکہ ملکی آئینی تاریخ کو دیکھیں ،آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ ملکی اداروں اور عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ،عدالتوں کو ایسے معاملات کا جلد فیصلہ کرنا پڑے گا ،قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی ،وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا،اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کر دیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا،عدالت نے سیاسی معاملے پر از خود نوٹس لیا، صدر مملکت نے تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کی جو غیر آئینی عمل تھا، تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر، وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی دور میں قومی اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ غیر آئینی تھا،اس وقت کے وزیر اغظم اور صدر مملکت نے جو کیا وہ ان کے اختیار میں نہیں تھااس فیصلے میں دو ججز نے صدر مملکت کے نتائج پر بات کی، اس فیصلہ میں کہا گیا کہ عوامی منتخب نمائندوں کو عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا، چیف جسٹس نے حکمنامہ میں تین نومبر کی ایمرجنسی کا ذکر بھی کر دیا اور کہا کہ آج سے پندرہ سال پہلے آج ہی کے دن آئین پامال ہوا،آئین کی پامالی کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا،عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا،آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے،غیر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے، صرف عوام کے مفاد میں آئینی ادارے اہم فیصلے کر سکتے ہیں، امید کرتے ہیں تمام آئینی ادارے مستقبل میں سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے ،وقت پر ہوجانے چاہئیں،اس پر منیر احمد نامی شخص کو پریشانی ہوسکتی ہے،منیر احمد ایسے شخص ہیں جس کے لئے وکلا پیش ہونا چاہتے ہیں،منیر احمد ایک پُراسرار شخص ہیں، ہم نے انتخابات کے انعقاد کیلئے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا،میڈیا پر انتخابات سے متعلق مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں،اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے،جس اینکر کو بھی انتخابات وقت پر نہ ہونے کا خدشہ ہے وہ ذاتی محفلوں یا اہلیہ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں ،اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی ہوگی، آزاد میڈیا ہے ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے،کسی اینکر یا رپورٹر کو اجازت نہیں کہ مائیک پکڑ کر عوام کو گمراہ کرے، میڈیا انتخابات پر اثرانداز ہوا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی،میڈیا کو منفی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،انشاء اللہ انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے آپ نظر رکھیں الیکشن کے حوالے سے کوئی منفی خبر چلائے تو ان کے خلاف ایکشن لیں ،یہ کوئی نہ سوچے کہ انتخابات کی تاریخ عدالت نے دی ہے،ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،لائیٹر نوٹ پر سماعت ختم کررہا ہوں کہ انتخابات بخیر و عافیت سے ہونگے،اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے پورے ملک کی تاریخ دے دی، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا،اُمید ہے تمام تیاریاں مکمل کرکے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا،8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہوں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی،الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ کیساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی تھی ،الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے حوالے عدالت کو آگاہ کرے گا ،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عدالت کوگیارہ فروری کے روز انتخابات کرانے کی تاریخ دی ہے ،رات گئے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کے درمیان عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی

  • صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر  عام انتخابات 8 فروری  کو کرانے پر متفق

    صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر متفق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے وفد نے صدر مملکت سے علیحدہ علیحدہ طویل ملاقاتیں کیں جس میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار ممبران کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا اور تفصیلی بحث کے بعد اجلاس نے متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سرابرہی میں ممبران صدر پاکستان سے ایوان صدر میں میں الیکشن کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی اعلامیے کے مطابق متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن مورخہ 8 فروری بروز جمعرات منعقد ہوں گے ۔

    سری لنکا کو شکست ،بھارت نےسیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

    خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہےعدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائےسپریم کورٹ کے حکم پر صدر عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان نے ملاقات کی جس میں الیکشن کمیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    ذرائع کے مطابق صدر سے چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں عام انتخابات کے لیے صدر مملکت کے سامنے 3 تاریخیں رکھی گئیں الیکشن کمیشن نے 28 جنوری ، 4 فروری اور 11 فروری کی تاریخوں پر رائے دی، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 فروری کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا گیا،ملاقات کے بعد ایوان صدر سے روانہ ہوکر الیکشن کمیشن پہنچے جہاں انہوں نے صدر مملکت کو خط لکھتے ہوئے ملک میں 11 فروری کو الیکشن کرانے کی تجویز دی۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے درمیان ملاقات میں الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد اٹارنی جنرل صدر مملکت کا پیغام لے کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس گئے اور صدر مملکت کا مؤقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے رکھا بعد ازاں 8 فروری کو انتخابات کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا-

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات