Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ ، ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے عام انتخابات ایک تاریخ کو کرانے کی درخواست خارج کردی،سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کی،درخواست گزار کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے اور کہا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہ رہی،کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے ،یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے 14 مئی کو انتخابات کا آرڈر دیا تھا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو درخواست دینی چاہئے تھی کہ 90 دن میں الیکشن نہیں کرارہے ان کے خلاف کاروائی کریں، آپ الیکشن التوا میں ڈالنے والوں کی معاونت کیوں کرتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں جو آپ درخواست میں مانگ رہے ہیں ،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 4 سال بعد انتخابات کا حکم دیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ قانون کے برخلاف تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، شاہ خاور نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپکا کا موقف یہی تھا کہ ایک ساتھ انتخابات ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل کو دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر؟ شاہ خاور نے کہا کہ ہم پھر ایک درخواست دائر کردیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر اس معاملے پر ایک ہی بار فیصلہ نہ کردیں ؟ اگر آڈر آف دا کورٹ کی خلاف ورزی ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں،آپ اکثریت کا فیصلہ چیلنج کریں، آڈر آف دا کورٹ کی اہمیت ہوتی ہے، ایک آڈر آف دا کورٹ نہ ہو تو ہر جج کہے گا یہ آڈر آف دا کورٹ ہیں،انتخابات کے معاملے پر 4 آڈر آف دا کورٹ تھے یا پانچ؟ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں مذاکراتی کمیٹی بات چیت کیلئے بنی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ، آڈر آف دا کورٹ سے اکثریت واضح ہوجاتی ہے، آڈر آف دا کورٹ سے فیصلے کا نتیجہ مل جاتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت آئین کے دیباچے کے خلاف ہیں ، 6 ماہ کیلئے نگران سیٹ اپ کیسے ہوسکتا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ نگران حکومت کا مقصد کیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات ہیں،آج تک صاف شفاف انتخابات نگران حکومت نہیں کرواسکی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کروانا تو الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا پھر کیا کام ہے،چلیں خیر یہ دیکھنا پارلیمنٹ کا کام ہے،ہم صرف تشریح ہی کر سکتے ہیں ،وکیل شاہ خاور کی جانب سے درخواست واپس لینے پر عدالت نے خارج کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے عین پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ میں سوالات اٹھا رہا ہوں کہ شاید پارلیمنٹ ان پر غور کرے ،الیکشن سے بہت پہلےکے اصولی مؤقف پراسمبلی تحلیل کرناتوالگ بات ہے ،الیکشن سےعین پہلے ایساکرنے سے کیا ہوگا؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن اور سلمان اکرم راجہ نے فوجی عدالتوں کے حوالہ سے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بہت اہم کیس تھا بہت اہم فیصلہ دیا،فیصلہ جمہوریت اور پورے نظام کو مستحکم کرے گا،سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،بادشاہ اس لیے بادشاہ ہے کہ قانون اس کو بادشاہ بناتا ہے، تمام اداروں کو یہ اطلاع ہو جانی چاہیے کہ آپ جتنے بھی طاقتور ہوں قانون سے بالاتر نہیں، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف ہم نے جدودجہد کی،آج کی خبر تھی کہ ملٹری کورٹس میں کاروائی شروع ہوگئی،کاروائی کے بارے میں اٹارنی جنرل نے موقف لیا تھا کہ ہم بغیر اطلاع کوئی کاروائی شروع نہ کریں گے،سپریم کورٹ کو اطلاع ٹرائل شروع کرنے کے بعد دی گئی،9 مئی اور دس مئی کے واقعات کے ملزمان پر حکومت نے جو الزام لگایا،ان کے خلاف مقدمہ فوجی نہیں سویلین عدالتوں میں چلے گا،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آج اس فیصلے کے بعد سویلین اداروں میں اعتماد آئے گا،میں شکر گزار ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو حوصلے سے سنا،دلائل کے لیے تمام فریقین کو موقع دیا گیا،عدالت کی جانب سے بہترین فیصلہ دیا گیا،تفصیلی فیصلے سے وکلا، عدالتوں اور عام عوام کے لیے رہنمائی ملے گی،102 لوگوں کو فی الحال ریلیف ملا ہے،وہ تمام افراد فوجی حراست سے سویلین حراست میں جائیں گے، عدالت کا پہلا اصول ہے کہ جج آزاد ہونا چاہیے،جج کو یہ فکر نہ ہو کہ اگر فیصلہ اس کے حق میں دے دیا تو ٹرانسفر نہ کر دے،آئین کے تحت عدالت وہی ہو سکتی ہے جو ہائی کورٹ کی دسترس میں ہو،فوجی عدالت میں دو افسران بیٹھے ہوئے ہیں وہ آزاد تو نہیں ہوسکتی ،

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    کراچی والوں کے لئے بڑی خوشخبری، کراچی سرکلرریلوے کے لیے ہوں گی 40 کوچز تیار

    پرائیوٹ کمپنی نے غریب ریل مسافروں پر مہنگائی کا بم گرا دیا

  • سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیدیا ،فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں خلاف قواعد ہونے پر خارج کر دی گئیں ،آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 کی ذیلی شق ایک کالعدم قرار دے دی گئی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا.جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل عام عدالتوں میں ہوگا،ملزمان کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مقدمات عام عدالتوں میں چلائے جائیں ،سپریم کورٹ نے فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا،جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا

    عدالت نے فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں واپس کردیں،جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ فوجی تحویل میں افراد کی درخواستوں کے ساتھ بیان حلفی نہیں ہیں، فوجی تحویل میں 9 ملزمان کی درخواستیں واپس لے لی گئیں،

    جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں،اٹارنی جنرل بنچ کے سامنے پیش، دلائل کا آغازکردیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہوچکا ہے ،ممنوعہ علاقوں اور عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دہشتگردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کے لیے نہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،ملزمان کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی ٹو کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے،نو مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہوگا،فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی شہادتیں ریکارڈ ہوں گی،آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے،ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جا سکیں گی،دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتائوں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015 کے ملزمان عام شہری تھے، غیرملکی یا دہشتگرد؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان میں ملکی و غیرملکی دونوں ہی شامل تھے،سال 2015 میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشتگردوں کے سہولت کار بھی شامل تھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردوں کیلیے ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کیلئے نہیں ؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 8 کی زیلی شق تین سے کیسے جوڑیں گے ؟ آئین کے مطابق تو قانون میں آرمڈ فورسز سے تعلق ضروری ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون واضح ہے پھر ملزمان کا تعلق کیسے جوڑیں گے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپکی تشریح کو مان لیا توآپ ہر ایک کو اس میں لے آئیں گے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دیتا ہے ،سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسے آتے ہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 8 کیا کہتا ہے اٹارنی جنرل صاحب؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کے برخلاف قانون سازی برقرار نہیں رہ سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے، افواج کے نظم و ضبط کے لیے موجود قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟ 21ویں آئینی ترمیم کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ افواج کا نظم و ضبط اندرونی جبکہ افواج کے فرائض کے انجام میں رکاوٹ ڈالنا بیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسے شخص کا ٹرائل ہوسکتا جو اسکے زمرے میں آئے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پر چھوڑی جا سکتی ہے؟آئین بنیادی حقوق کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بناتا ہے، عام شہریوں پر آرمی کے ڈسپلن اور بنیادی حقوق معطلی کے قوانین کیسے لاگو ہوسکتے؟ عدالت نے یہ دروازہ کھولا تو ٹریفک سگنل توڑنے والا بھی بنیادی حقوق سے محروم ہوجائے گا، کیا آئین کی یہ تشریح کریں کہ جب دل چاہے بنیادی حقوق معطل کر دیے جائیں؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے اندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون پڑھیں تو واضح ہوتا ہے یہ تو فورسز کے اندر کے لئے ہوتا ہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسے دیکھائیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنا بھی اس قانون میں جرم بن جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لیکن قانون مسلح کے اندر موجود افراد کی بھی بات کرتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات فورسز میں ڈسپلن کی حد تک ہو تو یہ قانون صرف مسلح افواج کے اندر کی بات کرتا ہے،جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین اور قانون فرائض کی ادائیگی کو پاپند آرمڈ فورسز کو کرتا ہے،قانون انہیں کہتا ہے کہ آپ فرائص ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پر نہیں لگے گا،آپ اس بات کو دوسری طرف لیکر جارہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں جو انہیں ڈسٹرب کرے ان کے لئے قانون ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے،میں لیاقت حسین کیس سے بھی دلائل دینا چاہوں گا، اٹارنی جنرل نےا ایف بی علی کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بریگیڈئیر ایف بی علی ریٹائرڈ ہوچکے تھے،ایف بی علی ریٹائرڈ تھے اس لیے سیکشن 2 ون ڈی کے تحت چارج ہوئے،دیکھنا یہی ہوتا ہے کہ کیا ملزمان کا تعلق آرمڈ فورسز سے ثابت ہے یا نہیں،
    اس عدالت نے 21ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ فیئر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہوگا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ ساری آرمڈ فوسز کے کیسز پڑھ رہے ہیں، ان کیسز کا موجودہ سے کیا تعلق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ گٹھ جوڑ والا معاملہ موجود ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کوٹ مارشل کو آئین تسلیم کرتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مجھے اسی نقطے کی وضاحت کر دیں،

    خیال رہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع ہوگیا اور وفاقی حکومت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا تھا اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکم نامےکی روشنی میں عدالت کو ٹرائلزکے آغاز سے مطلع کیا جارہا ہے اور فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کوپاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا جبکہ گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر ہاؤس لاہورپر حملے میں ملوث ہیں اور گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی، آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پرحملے میں بھی ملوث ہیں۔

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • صحافی ارشد شریف کے قتل کو ایک سال بیت گیا

    صحافی ارشد شریف کے قتل کو ایک سال بیت گیا

    پاکستان کے سینئر صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل کو ایک برس گزر گیا تاہم ملزمان ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے

    ارشد شریف کو ایک برس قبل کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • صدر کے پاس اختیار تھا تو  انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    صدر کے پاس اختیار تھا تو انتخابات کی تاریخ کیوں نہیں دی؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں 90دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری روسٹرم پر آ گئے، درخواست گزار عبادالرحمان لودھی بھی ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری بھی ایک اپیل سماعت کے لئے مقرر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست پر رجسٹرار افس نے اعتراضات عائد کیے تھے،اعتراضات کے خلاف تو جج چیمبر اپیل سنتا ہے،چلیں ہم اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے دلائل شروع ہو گئے، عابد زبیری نے کہا کہ ہم نے 16 اگست کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،درخواست پر نمبر لگ گیا،جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست کے باوجود کیس نہیں سنا گیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ابھی آفس کی طرف سے ایک نوٹ بھیجا گیا ہے،اس میں تو لکھا ہےاپ نے کبھی کیس کی جلد سماعت کی درخواست ہی دائر نہیں کی،آپ صدر سپریم کورٹ بار ہو کر عدالت سے غلط بیانی کر رہے ہیں،عام انتخابات سے متعلق درخواست تو انتہائی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے،عام انتخابات کیس تو بہت اہم مقدمہ ہے فوری سماعت ہونی چاہیئے تھی،اب تک تو اس کیس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 19اے سے متعلق فیصلہ سنا چکی ہے، اب آپ ایک چٹھی لکھتے آپ کو مشترکہ مفادات کونسل کا ریکارڈ مل جاتا،آپ کے مطابق مردم شماری کا آغاز 18 ماہ پہلے ہوا تھا، عابد زبیری نے کہا کہ پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مردم شماری کب ہوگی کیا اس کا کوئی طے شدہ ضابطہ ہے؟ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ مردم شماری کا آئینی تقاضہ کیا ہے اور کب ہوتی ہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اس کی پالیسی سازی کے لیے لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ سوال اب بھی یہی ہے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آخری مردم شماری کب ہوئی؟ عابد زبیری نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، چکیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟عابد زبیری نے کہا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟ 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی،ہمیں صرف اس سوال کا جواب دے دیں نئی مردم شماری کالعدم قراردیں تو انتخابات کس مردم شماری کے تحت ہونگے،عابد زبیری نے کہا کہ میں ایک عدالتی فیصلہ بطور نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے عدالتی فیصلوں پر ہی انحصار کرنا ہے تو آپکو کیوں سن رہے ہیں،پھر ہم عدالتی فیصلہ دیکھ کر خود ہی حکم جاری کردیتے ہیں،عابد زبیری نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں کے پی اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کا شرکت کرنا غیر آئینی تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نگران وزرائے اعلیٰ شریک نہیں ہوسکتے، آپ جذباتی نہیں آئین کے مطابق دلائل دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دنوں میں انتخابات کے انعقاد کے آئینی شق کی خلاف ورزی تو ہوچکی،کیا آپ اپنی درخواست پر اب بھی چاہتے ہیں کہ کاروائی ہو، عابد زبیری نے کہا کہ نوے دن گزر جانے کے باوجود دو نگران صوبائی حکومتیں ابھی بھی کام کرہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے لئے الگ سے کوئی درخواست دائر کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر ہم مردم شماری کے معاملے میں پڑے تو انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال ایک ہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ انتخابات 2017 کی مردم شماری ہے مطابق ہوں،ہم مختصر وقفے کے بعد آرہے ہیں، آپ اس معاملے پر تیاری کرلیں،عابد زبیری نے کہا کہ بارہ اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں مردم شماری کا فیصلہ ہوا ،اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلی نے کونسل کے فیصلے سے اختلاف کیا، مردم شماری کا سلسلہ 2021 میں شروع ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب مردم شماری کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت کس کی حکومت تھی؟ وکیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی،مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا، لیکن تاخیر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 کے فیصلے پر عمل 2021 میں ہوا، میں اس بارے میں اس لئے جانتا ہوں کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کی،جس نے تاخیر کی اس شخصیت کا نام لیں نا وکیل صاحب، جب مردم شماری کا فیصلہ 2017 میں ہوا اس وقت آپ نے بطور وکیل کیوں نہیں درخواست دائر کی، وکیل صاحب اگر اپ سیاسی دلائل دینا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے یہ عدالت موزوں فورم نہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مردم شماری کی پر فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تھا ،ایک وزیر اعظم اور چار وزرا اعلی بیٹھتے ہیں ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوتا ہے،ملک میں اس وقت صرف ایک صوبے میں بلدیاتی حکومتیں موجود تھیں وہ صرف بلوچستان تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی تو ہم کیا کریں؟کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت کو استثنی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کیخلاف ہم کیا کرسکتے ہیں ؟اپنی رٹ بحال کرنے کیلئے حکم جاری کرسکتے ہیں،اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو آرٹیکل 6 لگے گا،تاریخ دینے کے حوالے سے قانون میں ترمیم ہوگئی تھی، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 48 سے متصادم ہے؟الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں؟انتخابات تو ہونے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کو ایک وکیل نے خط لکھا ، اسکا کیا جواب ملا؟ درخواست گزار منیر احمد نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو تاخیر کا زمہ دار صدر مملکت کو ٹھہرا رہے ہیں،کیا ہم صدر مملکت کو تاریخ نہ دینے پر نوٹس دیں؟ چاس مقدمے میں درخواست گزار ایسے ہیں جو سنجیدہ نہیں، ایک درخواست گزار ہیں جنہوں نے سماعت کے بعد وکیل تبدیل کیا، اگر ہم مقدمات مقرر نہ کریں تو پھر کہا جاتا ہے کہ مقدمات مقرر نہیں کئے جاتے،میڈیا پر جاکر باتیں کی جاتی ہیں، سپریم کورٹ رولز پروسیجر کیس میں جلدی فیصلہ ہوسکتا تھا لیکن اس کیس کو لمبا کیا گیا، ہم پر دل کھول کرتنقید کریں، لیکن یہاں آکر کیس میں دلائل دیں،لوکل گورنمنٹ انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کے کہنے پر مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا،ہم تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتے،گزشتہ حکومت نے مردم شماری کرانے کے فیصلے کیلئے چار سال لگا دیئے،عابد زبیری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا حکم بھی اسی عدالت نے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمدرآمد نہیں ہوا لیکن کیا دو صوبوں میں انتخابات کا کیس زیر سماعت ہے؟آپ وکیل ہیں لے آئیں ناں کوئی توہیں عدالت کی درخواست، کس نے روکا ہے؟ جب میں بلوچستان کا چیف جسٹس تھا صرف بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار منیر احمد نے بھی جلد سماعت کی درخواست نہیں دی، میڈیا پر انتخابات کیس پر لمبی لمبی بحث ہوتی ہے، ہم کیس لگائیں تو الزام، کیس نہ لگائیں تو بھی ہم پر الزام ، یہ ایسا مقدمہ ہے جو ہر صورت لگنا چاہیے تھا،آج وکلاء کے پاس مقدمے کی فائل ہی نہیں ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے اہم مقدمات لگانا شروع کر دیئے ، میڈیا پر لمبی لمبی تقریریں اور کمرہ عدالت میں وکیل کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اگر ہم نے تاخیر کرنا ہوتی تو فوجی عدالتوں کا نیا بینچ بنا دیتے،میڈیا ہم پر انگلی اٹھائے اگر ہم غلطی پر ہیں، کیس عدالت میں چلانا ہے یا ٹی وی پر چلانا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپنا مقدمہ صرف 90 دن میں انتخابات پر رکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 90 دنوں والی بات ممکن نہیں ، وہ بات بتائیں جو ممکن ہو، آپکا سارا مقدمہ ہی صدر مملکت کے اختیارات کا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے تو پھر تاخیر کا زمہ دار کون ہے؟ آئینی کام میں تاخیر کے نتائج ہونگے،وکیل انور منصور نے کہا کہ صدر مملکت کے خط کے بعد تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت نے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی؟آپ ایک وقت میں دو مختلف دلائل نہیں دے سکتے، آرٹیکل 48 پر انحصار کریں یا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 پر؟ صدر کے جس ٹوئیٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے اس میں صدر مملکت خود رائے مانگ رہے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ ٹوئیٹ بھی صدر کا ہے یا نہیں ،کیا سپریم کورٹ ایک ٹویٹ پر فیصلے دے؟ ٹویٹس میں صدر مملکت نے اپنے آئینی اختیارات کی بات نہیں کی، صدر حکم دے دیتے،انور منصور صاحب آپ ایسے صدر کے اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں ،بہت اخلاق والے صدر ہیں آپ فون بھی کرتے توآپکو بتا دیتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وضاحت کریں تاخیر پر نتائج کا سامنا کسے کرنا چاہیے ؟صدر مملکت نے کونسی اور کب تاریخ دی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر بار کے مطابق 3 نومبر کو انتخابات ہونے چاہئےتھے ، صدر مملکت نے 6 ستمبر کی تاریخ دے دی تو خود خلاف ورزی کردی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل آرٹیکل 224 تک محدود رکھیں ،وہ الگ بات ہے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے،انور منصور نے کہا کہ ہم ذمہ داروں کے تعین کی بات نہیں کرہے، ہم تو انتخابات چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 23 اگست کو صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ نہیں دی صرف خط لکھا اور کہا کہ آئیں بات کرتے ہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لگتا ہے انور منصور صاحب آپ نے اپنی درخواست خود نہیں لکھی،آپ انتخابات کے معاملے کو کنفیوژ کرہے ہیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انور منصور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی خدمات پروفیشنلی حاصل کی گئی ہیں؟ایک سوال یہ ہے کہ انتخابات کون اعلان کرسکتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کیا اس وقت نوے دنوں میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ؟

    عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ تاریخ دے، کچھ اختیارات آئین سے مشروط ہیں،90 دنوں میں انتخابات کروانا آئینی مینڈیٹ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دونوں میں انتخابات کی تاخیر کس نے کی، اس پر آپ انگلی نہیں اٹھاتے؟ آپ کہتے ہیں صدر مملکت نے تاریخ دینی تھی،آپ کہہ رہے ہیں کہ تاریخ دینے کا اختیار صدر مملکت کا ہے،اسکا مطلب ہے آپ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 کو چیلنج نہیں کررہے،
    اگر صرف انتخابات کی بات کریں تو ہم فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر آپ آئینی تشریح کی بات کریں گے تو ہمیں پانچ رکنی بینچ بنانا پڑے گا، دنیا کے سارے مسائل اس درخواست میں نہ لائیں ،صرف انتخابات کی بات ہے تو ہم ابھی نوٹس کردیتے ہیں

    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کو پھر ثابت نہ کیا جاسکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہی ہوتا ہے جب کوئی آئینی ادارہ کام نہ کرے اور دوسرے پر ڈال دے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ اتنا بتا دیں کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہے،عابد زبیری نے کہا کہ ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے،آئین کے مطابق صدر مملکت نے تاریخ دینا ہوتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر بات کو گھما رہے ہیں صدر کے پاس اختیار تھا تو تاریخ کیوں نہیں دی؟کوئی تو ذمہ دار ہے کیا آپ صدر مملکت کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں؟وکیل علی ظفر صاحب آپ کا کیس الیکشن 60 دنوں میں کرانے کا ہے یا 90 دنوں کا ہے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میرا کیس 90 دنوں میں الیکشن کرانے کا ہے، نوے دنوں میں الیکشن کرانے کے عمل کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،آئین کا ارٹیکل 48 کہتا ہے کہ اگر صدر مملکت اسمبلی توڑتا ہے تو وہ انتخابات کی تاریخ دے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے دلائل میں صدر کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں، اگر صدر نے تاریخ دینی تھی اور نہیں دی توپھرکیوں ان کا نام نہیں لیتے؟آپ کا کیس یہ ہے کہ صدر تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ بتائیں علی ظفر صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ صدر نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کے لئے بلایا تھا تاریخ نہیں دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کے کیس میں درخواست گزارکون ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہاکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہورہا ہوں، میرا موکل پارٹی کا جنرل سیکریٹری عمر ایوب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس کے پوتے ہیں آپ کو علم ہے ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ جی ان کے دادا پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہیں گے کہ درخواست گزارکے دادا نے ملک میں آئین کے استعمال کو روکا،کیا آپ کو اس ملک کی تاریخ کا علم نہیں ؟ علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل یہ ملک کی ایک تاریخ ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ دادا کے کاموں کا ذمہ دارپوتا ہوتا ہے، اب ان کا پوتا جمہوریت پسند ہے،پہلے انتخابات کی تاریخ اعلان کرنے کا اختیار صدر کے پاس تھا،ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے،پی ٹی ائی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    درخواست گزار عبادالرحمان نے دلائل کا آغاز کردیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہا،صدر کے پاس اختیار ہے انتخابات کرانے کا، اس آئین کی ذمہ داری صدر نے پوری نہیں کی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ اگر کسی نے آئین پر عمل نہیں کیا تو پھر اس کو نتائج بھگتنا چاہئیں،بظاہر لگ رہا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ اب نوے دنوں میں الیکشن نہیں ہوسکتے لیکن انہوں نے حل دیا آرٹیکل 224 کا،اب اس کیس میں عدالت کس کو بلائے ، صدر کو پھر الیکشن کمیشن کو؟ علی ظفر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ وقت دوبارہ نہیں آسکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ دلائل مکمل کریں ہم اس پر نوٹس کرتے ہیں.

    نوے دنوں میں عام انتخابات کیس، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ درخواستوں میں مختلف نوعیت کی استدعائیں کی گئیں، درخواستوں میں صدر اور دیگر کو فریق بنایا گیا،آئین میں صدر کے خلاف حکم کی استثنی حاصل ہے،ہم نے درخواست گزاروں کے وکلا کو تفصیل سے سنا،وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عام انتخابات ملک میں نہیں ہوسکے جس کی وجہ ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ 15 جنوری کو سی سی آئی نے مردم شماری کرنے کا فیصلہ کیا،سی سی آئی کے فیصلے پر ادارہ شماریات نے مردم شماری کی اور پانچ اگست کو اس کے نتائج کو سی سی آئی نے منظور کیا،الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیاں کرنے کا نوٹیفیکیشن آرڈر کا حصہ بنادیا گیا،دلائل کے دوران اس بات پر سارے متفق تھے کہ اسمبلی توڑنے سےلے کر آج تک نوے دنوں میں انتخابات ممکن نہیں،علی ظفر نے آرٹیکل 244 کا حوالہ دیا ۔ آرٹیکل 244 کو ارڈر کا حصہ بنا دیا گیا

    90روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی،عدالت نے سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی،تاہم عدالت نے کہا کہ تمام وکلا عدالت میں پیش ہوں ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ہوگی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس، نو مزید  ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس، نو مزید ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس میں 9 مئی واقعات کے 9 ملزمان نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا ہے جبکہ ان ملزمان نے سپریم کورٹ میں درخواست ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعے دائر کیں ہیں اور درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ 9 مئی کے واقعے کے بعد بطور ملزمان فوجی اتھارٹی کے زیر حراست ہیں اور ملٹری اتھارٹی کا دوران حراست سلوک غیر متوقع طور پر بہت ہی اچھا ہے۔

    خیال رہے کہ ملزمان کی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ ہمیں ملٹری اتھارٹی سے انصاف کا مکمل یقین ہے اور سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے مقدمے کے متاثرہ فریق ہیں جبکہ درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ ہمیں مقدمہ میں فریق بنائے اور سپریم کورٹ فریق بناکر ملٹری اتھارٹی کو جلد ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے دے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت کوجیت لیے 274 رنز کا ہدف
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
    تاہم خیال رہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع ہوگیا اور وفاقی حکومت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا تھا اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکم نامےکی روشنی میں عدالت کو ٹرائلزکے آغاز سے مطلع کیا جارہا ہے اور فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کوپاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا جبکہ گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر ہاؤس لاہورپر حملے میں ملوث ہیں اور گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی، آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پرحملے میں بھی ملوث ہیں۔

  • بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے ہم جنس پرست جوڑے کی منگنی

    بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے ہم جنس پرست جوڑے کی منگنی

    بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے انکار کیا تو ہم جنس پرست جوڑے نے بھارتی سپریم کورٹ کے باہر جا کر منگنی کر لی اور ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا دی

    بھارتی سپریم کورٹ نے چند روز قبل فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کو قرار نہیں دے سکتے اس ضمن میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے، ایسے جوڑوں کو تحفظ بھی فراہم کیا جائے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک ہم جنس پرست جوڑے نے بھارتی سپریم کورٹ کے باہر جا کر منگنی کر لی اور ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا کر تصویر ٹویٹ کر دی

    پی ایچ ڈی طالب علم اننیا کوٹیا اور وکیل اتکرش نے سپریم کورٹ کے باہر منگنی کی، اننیا لندن سکول آف اکنامکس میں زیر تعلیم ہیں، دونوں نے سوشل میڈیا پر اپنی منگنی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے منگنی کر لی ہے،اننیا نے اپنی پوسٹ کے کیپشن پر لکھا کہ ہم اپنے حقوق کیلئے دوبارہ آئیں گے

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھارتی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک کمیٹی قائم کرے گی جو ان چیزوں کا جائزہ لے گی،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

  • چیف جسٹس کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس

    چیف جسٹس کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس

    سپریم کورٹ،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا

    اجلاس میں قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عرفان سعادت خان کی سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دی گئی،جوڈیشیل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عرفان سعادت خان کے بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کی منظوری اتفاق رائے سے ہوئی۔اجلاس میں ہائیکورٹ کے ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کے طریقہ کار کی تجاویز پر بھی غور ہوا۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عرفان سعادت کی بطور سپریم کورٹ کے جج سفارش کر دی،جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عرفان سعادت کا نام حتمی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو بھجوا دیا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،90 دن میں انتخابات کیس،سماعت کیلئے مقرر

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،90 دن میں انتخابات کیس،سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے اہم مقدمات کی سماعت ہو گی، فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل اور 90 دنوں میں انتخابات کیس سماعت کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کیخلاف کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گی،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ 23اکتوبر کو سماعت کرے گا، بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

    نوےروز میں انتخابات کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ 23اکتوبر کو سماعت کرے گا، بنچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روزسپریم کورٹ میں پاک عرب ریفائنری ملازمین کیس میں التوا دینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس حوالہ سے ریمارکس دیئے، وکیل ملازمین نے استدعا کی کہ پاک عرب ریفائنری ملازمین کا کیس 15 دن کے بعد مقرر کر دیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں عام انتخابات اور سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس مقرر ہونے والے ہیں،سپریم کورٹ میں مشکل مقدمات آنے والے ہیں جس دوران دیگر کیسز سننا مشکل ہو گا، اس کیس کو دو ماہ بعد مقرر کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا شہری پر تشدد، ویڈیو وائرل

    عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا شہری پر تشدد، ویڈیو وائرل

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کی ایک شہری کے ساتھ سپریم کورٹ کے باہر ہاتھا پائی ہوئی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے

    سپریم کورٹ گیٹ کے باہر شہری اور شیر افضل مروت کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کے بارے میں عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ شہری نے انہیں بلا وجہ گالی دی میں تو اس شخص کو جانتا تک نہیں، سوشل میڈیا پر مار کٹائی کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر افضل مروت شہری کو زمین پر گراتے ہیں جبکہ ایک شخص شہری پر تشدد کر رہا ہے اسی دوران پولیس اہلکار بھی آ جاتے ہیں تو دونوں‌کو چھڑاتے ہیں،

    واقعہ کے بعد شیر افضل مروت کے تشدد کا شکار شہری تھانہ سیکرٹریٹ میں شیر افضل مروت کے خلاف درخواست دینے چلا گیا۔ شیر افضل مروت نے اس موقع پر مختصر بات میں کہا کہ ایک شخص تعاقب کرتا ہوا آیا تھا ،لڑائی جھگڑا نہیں ہوا، یوٹیوبر نے کہا کہ آپ نے اسکی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ روزانہ کوئی نہ کوئی واردات ہو جاتی ہے کوئی پرواہ نہیں ہے،

     شعیب شاہین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں واحد غدار ہے،

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا