Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنا کیس کے ذمہ داران اور ہینڈلرز کا تعین کرے گی

    فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنا کیس کے ذمہ داران اور ہینڈلرز کا تعین کرے گی

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس ،اٹارنی جنرل نے عملدرآمد رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے تعین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دی ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھرنا کیس کے 6 فروری 2019 کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری دفاع، ڈائریکٹر آئی ایس آئی شامل ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع رپورٹ میں کہا گیا ہک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی طے شدہ ٹی او آرز کے تحت انکوائری کرے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنے سے متعلقہ شواہد اکھٹے کرے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تمام حاصل کردہ شواہد، دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی گواہان کے بیانات ریکارڈ کرے گی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی معاملے پر قانون اور ضابطے کے مطابق کاروائی کرے گی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی فیض آباد دھرنا کیس کے ذمہ داران اور ہینڈلرز کا تعین کرے گی،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تعین کرے گی کہ فیض آباد دھرنا کیس میں کس نے احکامات دیے اور مینیج کیا تھا،کمیٹی پہلی میٹنگ 26 اکتوبر کو کرچکی ہے۔کمیٹی یکم دسمبر کو رپورٹ جمع کرائے گی۔

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس، شیخ رشید نے بھی درخواست واپسی کی استدعا کر دی
    دوسری جانب سپریم کورٹ،فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس،چیئرمین عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، شیخ رشید نے جواب میں کہا کہ میرا تحریکِ لبیک یا ان کے شرکاء سے کوئی تعلق نہیں ہےمیرا تحریک لبیک کیساتھ کوئی رابطہ نہیں،سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، میں اپنی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • سپریم کورٹ نے 34 برس بعد بھانجی کو ماموں سے حق دلوا دیا

    سپریم کورٹ نے 34 برس بعد بھانجی کو ماموں سے حق دلوا دیا

    سپریم کورٹ نے 34 سال بعد بھانجی کو ماموں سے حق دلوا دیا

    عدالت نےمحکمہ مال ڈی جی خان کو سارہ اختر کو پانچ مربع زمین کا فوری قبضہ فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ماموں سردار منصور کو قانونی چارہ جوئی کے تمام اخراجات بھانجی کو ادا کرنے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کو غیرآئینی، غیر شرعی طریقے سے صلب کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شرافت سے زمین بھانجی کے حوالے کر دیں،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کیا عدالت کہتی ہے خواتین جو بھی کہیں وہ درست مانا جائے گا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خواتین کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دے رہے، وہی آبزرویشن دی ہے جو بدقسمتی سے معاشرے میں ہو رہا ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لازمی نہیں ہمیشہ مرد ہی عورت کا حق مارے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی کیس آیا نہیں جس میں عورت نے مرد کا حق مارا ہو، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بھانجی نے اپنی زمین 1989 میں ماموں سردار منصور کو فروخت کی، فروخت کے 20 سال بعد زمین کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور اپنے ہی دستخط سے انکاری ہو گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زمین کی خریداری ثابت کرنا خریدار کا کام تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تین عدالتوں نے درخواست گزار کیخلاف فیصلہ دیا،

    سارہ اختر کے وکیل یاسین بھٹی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ زمین کی مبینہ فروخت کے وقت سارہ اختر نابالغ تھی،سارہ کے ماموں سردار منصور سابق چیئرمین ضلع کونسل ہیں، سردار منصور نے زمین اپنے کم سن بچوں، اہلیہ، ساس اور سالے کے نام منتقل کرائی،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • سویلین سے آرمی ایکٹ کے  تحت نمٹا جاسکتا ہے. عرفان قادر

    سویلین سے آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جاسکتا ہے. عرفان قادر

    فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ ڈٹ گئی ہے جبکہ اس حوالے سے صحافی مبشرلقمان نے سوال جبکہ عرفان قادر سے سوال کیا تو انہو ں نے کہا کہ جس میں جماعت کی میں نمائندگی کررہا ہوں وہ اب اس کو واپس لینا چاہتی ہے اور انہوں نے درخواست بھی دی مگر چیف جسٹس صاحب نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے، اس پر سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹ کو نہ کردی اور اس پر بھی اپیل کو مستردکیا جائے گا یا قبول؟


    اس پر عرفان قادر جو کہ معروف وکیل اور سابق اٹارنی جنرل ہیں نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں تو واضح لکھا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے، لیکن عدالت عظمیٰ اس کو غیر آئنی قرار دے دیا ہے اور یہ منطق بھی غلط ہے جس میں اتفاق نہیں کرتا ہوں.

    انہوں نے مزید کہا کہ فوج کا رول بہت رہا ہے گورنمنٹ سازی وغیرہ میں اور اب بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ اس رول کو کم کردیا جائے، لہذا اگر آپ نے فوج کے رول کو کم کرنا ہے تو یہ عدالت کا کام نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ یہ کرسکتی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو آنے پر 4 ایتھلٹس پر پابندی عائد کردی گئی
    ہمارے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہی ہیں۔ اسحاق ڈار
    زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    مبشرلقمان نے کہا کہ ہمارا عدالتی نظام دقیانوسی ہے اور اس میں تو جو دہشتگردی ہیں وہ تو چھوٹ جائیں گے جبکہ ان کا تو ٹرائل تو ملٹری کورٹ میں ہونا چاہئے اس پر سینئر وکیل نے کہا آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہے اور میرا بھی یہی خیال ہے اس لیئے یہ جو عدالت نے فیصلہ دیا ہے وہ غلط ہے.

  • فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ یکم نومبر کو سماعت کرے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے گزشتہ سماعت پر تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کیا تھا،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، الیکشن کمیشن، آئی بی سمیت دیگر نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف، پیمرا، وزارت دفاع نے بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواستیں واپس کیوں لی جارہی ہیں، ہمیں بتائیں، سچ بولنے سے ہر کوئی کترا کیوں رہا ہے؟ کیا یہ کہہ رہے ہیں مٹی پاو بعد میں دیکھیں گے، 12 مئی کو 55لوگ مرے، خون ہوا، آپ کہہ رہے ہیں مٹی پاؤ۔ بتائیں نا کیوں مٹی ڈالیں؟ کیا نئے واقعے کا انتظار کریں،؟ فیض آباد دھرنا کیس میں سب نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس سے امید تھی کہ نظرثانی دائر کرینگے انہوں نے دائر نہیں کی۔ آپ سب سے تو کم از کم خادم رضوی بہتر رہے، انہوں نے نظر ثانی درخواست بھی نہیں ڈالی جس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور ہمارے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ خادم رضوی صاحب زندہ تھے اس وقت مگر شاید ہمارے فیصلے سے مطمئن تھے۔ غلطی ہوجاتی اسے تسلیم کرنا بڑاپن ہوتا ہے ،،نظرثانی واپس لیکر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو ہوا مٹی پاؤ ،، 12 مئی کے واقعات پر بھی مٹی پاؤکہیں گے کیا،

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کوئی بھی شخص حقائق منظر عام پر لانا چاہے تو اپنا بیان حلفی عدالت میں پیش کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے، کوئی بھی فریق یا کوئی اور شخص اپنا جواب جمع کروانا چاہے تو 27 اکتوبر تک جمع کروا دے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • جبری گمشدگیاں،اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    جبری گمشدگیاں،اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    ملک میں صحافیوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی گمشدگیوں کا معاملہ،سینیئر وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی،درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا،

    درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا،درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ

    آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ سپریم کورٹ
    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں عسکری فور کراچی میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روکنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست ناقابل سماعت ہونے پر مسترد کر دی،سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے پر سوالات اٹھا دیے ، سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کے قانونی وجود کے بارے آئین، رول آف بزنس 1983 یا کسی قانون میں ذکر ہے؟ کیا وفاقی حکومت کے ادارے اپنے کیسز میں پرائیویٹ وکیل ہائر کر سکتے ہیں؟قانونی وجود نا رکھنے والے کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دینے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تعجب ہوا،

    سپریم کورٹ نے کہاکہ قانونی وجود نا رکھنے پر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ درخواست دائر نہیں کر سکتی،اگر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ فریق ہو تو وفاقی حکومت کے ذریعے درخواست دائر کرسکتی ہے،موجودہ کیس میں آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے تو وفاقی حکومت، صدر مملکت سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، کیا یہ وفاقی حکومت کا وفاقی حکومت کے ہی خلاف کیس ہے؟آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا حق دعوی ہو ہی نہیں سکتا،آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نا کوئی فلاحی ادارہ ہے نا کارپوریشن، جب ایک ادارہ آئین و قانون میں وجود رکھتا ہی نہیں تو درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ صدارتی آرڈر 1982 سے وجود میں آیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈر میں آئین و قانون کا حوالہ کہاں ہے؟ ،جسٹس اطہرمن اللہ نے عابد زبیری کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 245 پڑھیں کیا کہتا ہے، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات پر افواج ملک کا بیرونی خطرات سے دفاع کرتی ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ افواج کا آرٹیکل 245 سے باہر کوئی کام نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی سینئر وکیل ہیں اور ایک قانونی وجود نا رکھنے والے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ قانونی وجود نا رکھنے والے درخواست گزار کا کیس نہیں سن سکتے، شکایت کنندگان کے وکیل موئز جعفری اسی لیے کنارہ کش ہو گئے کہ انہیں پتا تھا ان سے سنبھلے گا نہیں،

    عدالت نے شکایت کننگان کے وکیل موئز جعفری کی عدم پیشی پر خصوصی نمائندگی کی درخواست خارج کر دی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سندھ ہائیکورٹ نے عسکری فور میں پارکنگ ایریا میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روک دی تھی،ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ ، ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ نے عام انتخابات ایک تاریخ کو کرانے کی درخواست خارج کردی،سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کی،درخواست گزار کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے اور کہا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہ رہی،کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے ،یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے 14 مئی کو انتخابات کا آرڈر دیا تھا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو درخواست دینی چاہئے تھی کہ 90 دن میں الیکشن نہیں کرارہے ان کے خلاف کاروائی کریں، آپ الیکشن التوا میں ڈالنے والوں کی معاونت کیوں کرتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں جو آپ درخواست میں مانگ رہے ہیں ،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 4 سال بعد انتخابات کا حکم دیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ قانون کے برخلاف تو کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، شاہ خاور نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپکا کا موقف یہی تھا کہ ایک ساتھ انتخابات ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل کو دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پھر؟ شاہ خاور نے کہا کہ ہم پھر ایک درخواست دائر کردیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر اس معاملے پر ایک ہی بار فیصلہ نہ کردیں ؟ اگر آڈر آف دا کورٹ کی خلاف ورزی ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں،آپ اکثریت کا فیصلہ چیلنج کریں، آڈر آف دا کورٹ کی اہمیت ہوتی ہے، ایک آڈر آف دا کورٹ نہ ہو تو ہر جج کہے گا یہ آڈر آف دا کورٹ ہیں،انتخابات کے معاملے پر 4 آڈر آف دا کورٹ تھے یا پانچ؟ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں مذاکراتی کمیٹی بات چیت کیلئے بنی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ، آڈر آف دا کورٹ سے اکثریت واضح ہوجاتی ہے، آڈر آف دا کورٹ سے فیصلے کا نتیجہ مل جاتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت آئین کے دیباچے کے خلاف ہیں ، 6 ماہ کیلئے نگران سیٹ اپ کیسے ہوسکتا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ نگران حکومت کا مقصد کیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نگران حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات ہیں،آج تک صاف شفاف انتخابات نگران حکومت نہیں کرواسکی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کروانا تو الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا پھر کیا کام ہے،چلیں خیر یہ دیکھنا پارلیمنٹ کا کام ہے،ہم صرف تشریح ہی کر سکتے ہیں ،وکیل شاہ خاور کی جانب سے درخواست واپس لینے پر عدالت نے خارج کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے عین پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ میں سوالات اٹھا رہا ہوں کہ شاید پارلیمنٹ ان پر غور کرے ،الیکشن سے بہت پہلےکے اصولی مؤقف پراسمبلی تحلیل کرناتوالگ بات ہے ،الیکشن سےعین پہلے ایساکرنے سے کیا ہوگا؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن اور سلمان اکرم راجہ نے فوجی عدالتوں کے حوالہ سے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بہت اہم کیس تھا بہت اہم فیصلہ دیا،فیصلہ جمہوریت اور پورے نظام کو مستحکم کرے گا،سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،بادشاہ اس لیے بادشاہ ہے کہ قانون اس کو بادشاہ بناتا ہے، تمام اداروں کو یہ اطلاع ہو جانی چاہیے کہ آپ جتنے بھی طاقتور ہوں قانون سے بالاتر نہیں، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف ہم نے جدودجہد کی،آج کی خبر تھی کہ ملٹری کورٹس میں کاروائی شروع ہوگئی،کاروائی کے بارے میں اٹارنی جنرل نے موقف لیا تھا کہ ہم بغیر اطلاع کوئی کاروائی شروع نہ کریں گے،سپریم کورٹ کو اطلاع ٹرائل شروع کرنے کے بعد دی گئی،9 مئی اور دس مئی کے واقعات کے ملزمان پر حکومت نے جو الزام لگایا،ان کے خلاف مقدمہ فوجی نہیں سویلین عدالتوں میں چلے گا،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آج اس فیصلے کے بعد سویلین اداروں میں اعتماد آئے گا،میں شکر گزار ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو حوصلے سے سنا،دلائل کے لیے تمام فریقین کو موقع دیا گیا،عدالت کی جانب سے بہترین فیصلہ دیا گیا،تفصیلی فیصلے سے وکلا، عدالتوں اور عام عوام کے لیے رہنمائی ملے گی،102 لوگوں کو فی الحال ریلیف ملا ہے،وہ تمام افراد فوجی حراست سے سویلین حراست میں جائیں گے، عدالت کا پہلا اصول ہے کہ جج آزاد ہونا چاہیے،جج کو یہ فکر نہ ہو کہ اگر فیصلہ اس کے حق میں دے دیا تو ٹرانسفر نہ کر دے،آئین کے تحت عدالت وہی ہو سکتی ہے جو ہائی کورٹ کی دسترس میں ہو،فوجی عدالت میں دو افسران بیٹھے ہوئے ہیں وہ آزاد تو نہیں ہوسکتی ،

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    کراچی والوں کے لئے بڑی خوشخبری، کراچی سرکلرریلوے کے لیے ہوں گی 40 کوچز تیار

    پرائیوٹ کمپنی نے غریب ریل مسافروں پر مہنگائی کا بم گرا دیا

  • سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیدیا ،فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں خلاف قواعد ہونے پر خارج کر دی گئیں ،آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 کی ذیلی شق ایک کالعدم قرار دے دی گئی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا.جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل عام عدالتوں میں ہوگا،ملزمان کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مقدمات عام عدالتوں میں چلائے جائیں ،سپریم کورٹ نے فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا،جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا

    عدالت نے فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں واپس کردیں،جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ فوجی تحویل میں افراد کی درخواستوں کے ساتھ بیان حلفی نہیں ہیں، فوجی تحویل میں 9 ملزمان کی درخواستیں واپس لے لی گئیں،

    جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں،اٹارنی جنرل بنچ کے سامنے پیش، دلائل کا آغازکردیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہوچکا ہے ،ممنوعہ علاقوں اور عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دہشتگردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کے لیے نہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،ملزمان کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی ٹو کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے،نو مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہوگا،فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی شہادتیں ریکارڈ ہوں گی،آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے،ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جا سکیں گی،دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتائوں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015 کے ملزمان عام شہری تھے، غیرملکی یا دہشتگرد؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان میں ملکی و غیرملکی دونوں ہی شامل تھے،سال 2015 میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشتگردوں کے سہولت کار بھی شامل تھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردوں کیلیے ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کیلئے نہیں ؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 8 کی زیلی شق تین سے کیسے جوڑیں گے ؟ آئین کے مطابق تو قانون میں آرمڈ فورسز سے تعلق ضروری ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون واضح ہے پھر ملزمان کا تعلق کیسے جوڑیں گے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپکی تشریح کو مان لیا توآپ ہر ایک کو اس میں لے آئیں گے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دیتا ہے ،سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسے آتے ہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 8 کیا کہتا ہے اٹارنی جنرل صاحب؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کے برخلاف قانون سازی برقرار نہیں رہ سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے، افواج کے نظم و ضبط کے لیے موجود قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟ 21ویں آئینی ترمیم کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ افواج کا نظم و ضبط اندرونی جبکہ افواج کے فرائض کے انجام میں رکاوٹ ڈالنا بیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسے شخص کا ٹرائل ہوسکتا جو اسکے زمرے میں آئے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پر چھوڑی جا سکتی ہے؟آئین بنیادی حقوق کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بناتا ہے، عام شہریوں پر آرمی کے ڈسپلن اور بنیادی حقوق معطلی کے قوانین کیسے لاگو ہوسکتے؟ عدالت نے یہ دروازہ کھولا تو ٹریفک سگنل توڑنے والا بھی بنیادی حقوق سے محروم ہوجائے گا، کیا آئین کی یہ تشریح کریں کہ جب دل چاہے بنیادی حقوق معطل کر دیے جائیں؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے اندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون پڑھیں تو واضح ہوتا ہے یہ تو فورسز کے اندر کے لئے ہوتا ہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسے دیکھائیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنا بھی اس قانون میں جرم بن جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لیکن قانون مسلح کے اندر موجود افراد کی بھی بات کرتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات فورسز میں ڈسپلن کی حد تک ہو تو یہ قانون صرف مسلح افواج کے اندر کی بات کرتا ہے،جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین اور قانون فرائض کی ادائیگی کو پاپند آرمڈ فورسز کو کرتا ہے،قانون انہیں کہتا ہے کہ آپ فرائص ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پر نہیں لگے گا،آپ اس بات کو دوسری طرف لیکر جارہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں جو انہیں ڈسٹرب کرے ان کے لئے قانون ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے،میں لیاقت حسین کیس سے بھی دلائل دینا چاہوں گا، اٹارنی جنرل نےا ایف بی علی کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بریگیڈئیر ایف بی علی ریٹائرڈ ہوچکے تھے،ایف بی علی ریٹائرڈ تھے اس لیے سیکشن 2 ون ڈی کے تحت چارج ہوئے،دیکھنا یہی ہوتا ہے کہ کیا ملزمان کا تعلق آرمڈ فورسز سے ثابت ہے یا نہیں،
    اس عدالت نے 21ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ فیئر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہوگا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ ساری آرمڈ فوسز کے کیسز پڑھ رہے ہیں، ان کیسز کا موجودہ سے کیا تعلق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ گٹھ جوڑ والا معاملہ موجود ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کوٹ مارشل کو آئین تسلیم کرتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مجھے اسی نقطے کی وضاحت کر دیں،

    خیال رہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع ہوگیا اور وفاقی حکومت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا تھا اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکم نامےکی روشنی میں عدالت کو ٹرائلزکے آغاز سے مطلع کیا جارہا ہے اور فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کوپاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا جبکہ گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر ہاؤس لاہورپر حملے میں ملوث ہیں اور گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی، آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پرحملے میں بھی ملوث ہیں۔

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،