Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج کر دیا گیا

    نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کردی گئی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی نیب ترامیم کیس کا حکم نامہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،وزارت قانون نے نیب ترامیم پرجاری سپریم کورٹ کا فیصلہ نظرثانی کے لیے فٹ قرار دے دیا ،وزارت قانون نے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف درخواست تیار کرلی،نگران حکومت کی حتمی منظوری کے بعد نیب ترامیم فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جائے گی

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ، 70 تولہ سونا کمیٹی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نےغیر معیاری تفتیش پر برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے پولیس اب کرائے کی پولیس بن گئی ہے،پولیس کی اب اپنی عزت نہیں رہی،ادارے کی عزت ہونی چاہیے،پولیس اور پٹواری کا شاہی سسٹم ختم ہونا چاہیے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ دس گرام سونے کی کمیٹی نکلنے پر ادا نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ گرفتار سنار نے کتنا سونا کمیٹی کے ذریعے دینا تھا ؟ مدعی نے کہا کہ کمیٹی سے نکلنے والا 70 تولہ سونا نہیں دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ مالیت سونے کا کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا گیایہ سونا کہاں سے آتاہے؟ اسکی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ریاست کرپشن اور سمگلنگ کرنے میں معاونت کرتی ہے، اس کیس میں اصل ملزم تو پولیس کو بنانا چاہیے،پولیس والا سونے کا صرف اپنے مطلب کے لئے ہی پوچھے گا،کمیٹی گرفتار ملزم نے بنائی ، تفتیش اہلخانہ سے ہوئی، سپریم کورٹ نے سونے کی کمیٹی میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرلی،عدالت نے ضمانت کے لئے دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سماعت کل 11:30 بجے تک ملتوی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سماعت کل 11:30 بجے تک ملتوی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری ہے،دوران سماعت باربار سوال کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر کو ٹوک دیا اور کہا کہ اپنے سوال روک کر رکھیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ درخواستوں پر سماعت کررہا ہے دوران سماعت وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہنوٹس پر پیش ہوا ہوں، عدالت کو دو فیصلوں پر دلائل دوں گا آرٹیکل 191 میں لفظ’لاء‘ کا مطلب ہے وہ کسی قسم کا قانونی اختیار تو دے رہا ہے، سپریم کورٹ رولز میں الفاظ کی تعریف کا الگ سے سیکشن ہے۔

    فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ایک کاکڑ کیس کا حوالہ دوں گا، اور دوسرا سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کے فیصلے کا حوالہ دوں گا، ان فیصلوں کے کچھ حصے موجودہ کیس سے تعلق رکھتے ہیں، سپریم کورٹ رولز میں الفاظ کی تعریف کا الگ سے سیکشن ہے جس پرجسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ لاء کا مطلب ایکٹ آف پارلیمنٹ ہوتا تو آئین سازوں نے لکھا ہوتا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ ہر سوال کا جواب نہ دیں، آپ صرف اپنے دلائل پر توجہ دیں،چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس پر وکیل فیصل صدیقی ہنسے تو چیف جسٹس نے وکیل کے مسکرانے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہنسنے کی کوئی بات نہیں، 4 سماعتوں سے کیس سن رہے ہیں اور کئی کیس التوا میں ہیں، میری ساتھی ججز سے درخواست ہے اپنے سوالات روک کر رکھیں، بینچ میں ہرکوئی سوال کرنا چاہتا ہے لیکن وکیل کی کوئی دلیل پوری تو ہونے دیں، چار سماعتوں کے باوجود یہ ہماری کارکردگی ہےکہ ایک کیس ختم نہیں ہوا، اگر آپ ہر سوال کاجواب دیں گے تو آپ کے دلائل مکمل نہیں ہوسکیں گے، باقی تمام کیس چھوڑ کراس کیس کی سماعت کررہے ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ رولز میں لاء کی تعریف درج ہے، صرف یہ بتادیں آرٹیکل 191 میں لاء کا کیا مطلب ہے جسٹس منیب کے سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگرآپ نے پہلے ہی ذہن بنالیا ہے تو فیصلے میں لکھ لیجیےگا، وکیل کو جیسے مرضی دلائل دیناہوں گے دے گا، اس پر جسٹس منیب نے کہا کہ بینچ کا حصہ ہونے پر میرا حق ہے کہ میں سوال کروں، چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ظاہر ہے آپ سوال کرسکتے ہیں لیکن پہلے وکیل دلائل تو مکمل کریں، جسٹس منیب نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میرا مسئلہ میرا سوال ہے اور اس کا جواب دیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل صدیقی اپنے دلائل مکمل نہیں کریں گے تو ہم ہمیشہ یہی کیس سنتے رہیں گے، اس لیے آپ پہلے اپنے دلائل مکمل کریں اس پر جسٹس منیب نے کہا کہ میں اس بینچ کا حصہ ہوں اوریہ میرا استحقاق ہےکہ میں سوال پوچھوں، مجھے سوال پوچھنے سے روکا جائے گا تو بینچ میں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟

    ایم کیو ایم کے وکیل نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی حمایت کر دی، اور ایکٹ کیخلاف درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کردی۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ ایکٹ کیخلاف درخواستیں میرٹ پر خارج کی جائیں-

    چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر دلائل نہیں دینا چاہتے تو بیٹھ جائیں جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ سبجیکٹ ٹو اور لاء کو الگ الگ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ایک بار پھر وکیل فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ آئین نے یہ کیوں کہا عدلیہ، ایگزیکٹو اور مقننہ الگ الگ ہیں، ایکٹ سے سپریم کورٹ کی آزادی میں مداخلت کی گئی، ایکٹ سپریم کورٹ کے اندرونی امور میں مداخلت ہے یا نہیں۔

    وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ایکٹ کو سپریم کورٹ میں مداخلت کے طور پر نہیں دیکھ سکتے، پارلیمنٹ پر 4 پابندیاں ہیں، پارلیمنٹ عدلیہ کی آزادی میں مداخلت نہیں کر سکتی، پارلیمنٹ عدلیہ کی آزادی کومتاثرکرنےوالی قانون سازی نہیں کرسکتی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ سے پارلیمنٹ پرعائد آئینی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہر پابندی کو ایکٹ کی شقوں کے ساتھ ملا کر بتاوں گا، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کو سپروائز کر سکتی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپروائزکرنے کا مطلب توسپریم کورٹ کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کے سپروائزری اختیار کی بھی حدود ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا لیجسلیٹیواینٹریز پارلیمنٹ کو سپروائزری کا اختیار دیتی ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ اہم سوال ہے جس کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں، آرٹیکل191کو لیجسلیٹیو اینٹری 58 سے ملا کر پڑھیں تو پارلیمنٹ کو اختیار تھا، سپریم کورٹ کے پروسیجرز میں لفظ پریکٹس کا کیا مطلب ہے؟-

    وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ رجسٹرار آفس کے آرڈر کے خلاف اپیل بھی ہوتی ہے، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ ایڈمنسٹریٹو آرڈر اور ایڈمنسٹریٹو اپیل ہوتی ہے جسٹس منصورشاہ نے کہا کہ بھلے ایڈمنسٹریٹواپیل ہو، ہمیں اس کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے، فیصل صدیقی کے دلائل دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس منصور نے کہا کہ میں آپ کی فزیکل موومنٹ کو انجوائے کر رہا ہوں۔ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ واحد ورزش ہے جو میں کر سکتا ہوں۔

    وقفے کے بعد ایم کیو ایم کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ رولز بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا ہے، رول بنانے کو قانون سے مشروط کیا گیا ہے، جسٹس منیب نے آئینی تاریخ کی بات کی، اس تناظر میں بات کروں گا،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ضروریات تھیں جس بنیاد پر پارلیمنٹ نے ایکٹ بنایا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اپیل کا حق آئینی ترمیم سے ہی دیا جا سکتا ہے۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر یہ اپیل غیر آئینی ہے تو لا ریفارمز میں اپیل بھی غیر آئینی ہے۔،جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وہ والا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے، 2 غلط مل کر ایک درست نہیں بنا دیتے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اٹارنی جنرل سے پارلیمنٹری ریکارڈ منگوایا گیا تھا؟ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ کے معاملے پر جواب اٹارنی جنرل ہی دے سکتے ہیں، دیکھنا ہو گا آئین میں اپیل کا حق دینے پر پابندی ہے یا نہیں۔

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں400 مرتبہ لاء کا لفظ استعمال ہوا ہے، آئینی تشریح کیلئے کسی نا کسی پرنسپل پر انحصار کرنا ہوتا ہے، آپ کون سے پرنسپل پر انحصار کر رہے ہیں، جس پر وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ عدالت کو دیکھنا چاہئے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپیل تو آئین میں پہلے بھی دی گئی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں پارلیمنٹ کو براہ راست اختیار کہاں دیا گیاہے،ججز کی جانب سے پے در پے سوالات اور ریمارکس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک وقت پر ایک شخص بات کرے۔

    جسٹس مسرت ہلالی کے ازخود نوٹس اختیار سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل191 کی لینگویج سبجیکٹ ٹو لاء سے شروع ہوتی ہے، کیا ان الفاظ سے پروسیجر میں بہتری کی گنجائش چھوڑی گئی، آرٹیکل 184/3جب بھی استعمال ہوا ملک کی بنیادیں ہلا دیں۔

    چیف جسٹس نے ایک بار پھر جسٹس منیب اختر کو سوالات پر ٹوک دیا اور کہا کہ پہلے میرےسوال کا جواب دیا جائے بعد میں دوسرے سوال پر آئیں، میں نہیں چاہتا میرے سوال کے ساتھ کچھ اور آئے، میں نے آج سب سے کم سوال پوچھے ہیں، ماسٹر آف روسٹر کو اتنا تو اختیار دیں-

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر مزید سماعت کل صبح ساڈھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    باقی وکلا کو کل دن ساڑھے گیارہ بجے سنا جائے گا، ن لیگ کے وکیل صلاح الدین کے دلائل جاری ہیں،

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ رولز نہیں بنا سکتی ںہ ہی رولز بنانے کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے، رولز میں ردوبدل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آئین کہتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولزبنانے کیلئے با اختیار ہے، اگر سپریم کورٹ آئین سے بالا رولز بناتا ہے تو کوئی تو یاد دلائے گا کہ آئین کے دائرے میں رہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کیلئے پابند کرنے کا مطلب موجودہ قانون کے مطابق رولز بنیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ہم یہ کیس سن رہے ہیں اور ہمارے ادارے میں کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آج کیس کو ختم کرنا ہے، ہم میں سے جس کو جو رائے دینی ہے فیصلے میں لکھ دیں گے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے تحریری دلائل جمع کرائے تھے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ابھی اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے پہلے سے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا، اتنے سارے کاغذ ابھی پکڑا دیئے، کون سے ملک میں ایسے ہوتا ہے کہ کیس کی سماعت میں تحریری جواب جمع کراؤ، ہر بات میں امریکی اور دوسری عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں یہاں بھی بتائیں۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیوجرسی کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کم از کم امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا توحوالہ دیں، ہمارا لیول اتنا نہ گرائیں کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کو یہاں نظیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ تو فیصلہ بھی نہیں ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال ہے کہ سپریم کورٹ رولز بنانے کا اختیار کہاں اور کس کو دیا گیا ہے، آئین کے مطابق رولز بنانے کا اختیارسپریم کورٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار آئین کے مطابق ہےجسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ہر چیز آئین کے ہی مطابق ہوسکتی ہے سب کو معلوم ہے،وکیل عابد زبیری نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رولز بنانے کے اختیار سے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جاسکتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فل کورٹ مقدمہ سن رہی ہے تاکہ وکلا سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ حدود واضح کرتے ہیں جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معزز سپریم کورٹ نہیں ہوتی، معزز ججز ہوتے ہیں، اصطلاحات ٹھیک استعمال کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، آئین سازوں نے اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح لکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہوگا تووہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن اورسپریم جوڈیشل کونسل کے رولز سے متعلق آئین میں لکھا ہے کہ آئینی باڈیز خود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال ہے کہ آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔

    چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایک چیف جسٹس نے غلطی کی تو پارلیمنٹ کو نہیں کرنی چاہئے، کوئی غلطی ہوئی تو ازالے کی سب سے بڑی ذمہ داری عدالت کی ہے، پاکستان میں 184 تین کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ ہم آپ کی رائے سننا چاہتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی، ہائیکورٹ اور شرعی عدالت کے ضابطوں پر پابندی کیوں نہیں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کیلئے بااختیار ہے۔ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنالے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ پاکستان میں184تھری کا استعمال کیسے ہوا، کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں تذکرہ ہے، آرٹیکل 184 تھری سے متعلق ماضی کیا رہا ؟یا تو کہہ دیتے کہ 184تھری میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا،اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، اس سے پہلےکہ دنیا انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، ایک چیف جسٹس نےغلطی کی تو پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیو جرسی نہ جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کرے تو کیا پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184تھری پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کاغلط استعمال ہوتا رہا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے یہ بتا دیں، جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے کو بھی ہم آرٹیکل 184 تھری کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق دائرہ اختیار نہ پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نہ سپریم کورٹ، پھر ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے توغلط ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے موقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے، آئین کے اصل دائرہ اختیار 184 تھری میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کااستعمال کیسے ہوا،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد ہو جائے تو کیا اپیل نہیں ہونی چاہیے، پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی۔

    غلط استعمال ہوا یا صحیح دیکھنا ہے یہ اختیار کس کو ہے، عابد زبیری جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیار بڑھا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال اچھے یا برے کا نہیں سوال قانون بنانے کی اہلیت کا ہے،آپ بتائیے کس اکا اختیار ہے سپریم کورٹ بارے قانون بنانے کا؟ وکیل عابد زبیر نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے یہ اختیار پارلیمان کا ہے یا نہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی متاثر ہو رہی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر کیا قانون سازی ہو سکتی ہے یا نہیں، چیف جسٹس اس مقدمہ کو سماعت کیلئے مقرر کرسکتے تو دوسرے جبری گمشدگی جیسے مقدمات کیوں نہیں، آپ نے ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ کو بھی عبور نہیں کیا، بتائیں کہ اس قانون سازی سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ 184(3) میں ہم یہ مقدمہ کیسے سن سکتے ہیں ؟ آپ کہہ رہے ہیں نہ ہم اپنے دائرہ اختیار بڑھا سکتے ہیں نہ پارلیمان،ہمیں آپ کہہ رہے ہیں کہ 184(3) میں عدالت اپنا دائرہ اختیار بڑھا دے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اس ایکٹ کو دیکھنے کیلئے پہلے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے-

    عابد زبیری نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا پارلیمان کا اس قانون کو بنانے کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کو بھی ہم آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق آرٹیکل 184/3 کا دائرہ اختیار نا پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نا سپریم کورٹ،پھر یہ بتائیں ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں؟ سپریم کورٹ خود مقدمات میں آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے تو غلط ہے، اگر انکم ٹیکس آرڈیننس یا فیملی رائٹس میں ترمیم ہو تو کیا براہ راست سپریم کورٹ میں درخواست آ سکتی ہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ بلکل آ سکتی ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا جواب نوٹ کر رہا ہوں کہ بنیادی حقوق کے علاوہ بھی قانون سازی براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے اصل دائرہ اختیار 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کی جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184/3 کا استعمال کیسے ہوا ،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے خلاف اپیل نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مریض کہیں مر رہا ہو اور کوئی میڈیکل کی ذرا سی سمجھ رکھتا ہو تو وہ اس لیے مرنے دے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے؟ پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی-

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی،ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہو گا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے،یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ہے یا ورنہ اس کو کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا-

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کر دیتا ہے،امریکہ میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ اس کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں، پارلیمان قانون سازی کرے تو آپکو اعتراض ہے، کوئی فرد واحد آکر آئین میں اپنی مرضی سے ترمیم کردے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس ایکٹ میں آئین کے کونسے آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کر کے آئین میں ترمیم کا دروازہ کھولا جا رہا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں سادہ اکثریت کے زریعے ترمیم کر کے نیا راستہ کھولا جارہا ہے،

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل کی باتیں نا کریں آج کی صورتحال بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184/3 کے اختیار کو آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو ایسی قانون سازی نا ہوتی،آپ نا مدعی ہیں نا مدعا علیہ توپھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا دیا گیا ہے، اپیل کے اختیار سے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟

    چیف جسٹس نےعابد زبیری سے مکالمے میں کہا کہ آپکے دلائل مکمل ہوچکے ہیں، وقفے کے بعد اگلے درخواست گزار کو 20 منٹ دیں گے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تواس کو کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں، یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی نے 188 کے تحت نظر ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کر سکتا، ایکٹ کے تحت نظر ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کیا کہ بوجھ سپریم کورٹ پر پڑے گا تو گھبراہٹ آپ کو کیوں ہو رہی ہے؟

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا،وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو درخواستگزار عمر صادق کے وکیل عدنان خان نے دلائل کا آغاز کیا۔

    وکیل عدنان خان نے مؤقف پیش کیا کہ پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں، آئین سازوں نے پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز میں ردوبدل کا اختیار نہیں دیا، چیف جسٹس کے آفس کو پارلیمنٹ نے بے کار کر دیا، سپریم کورٹ2 بنیادوں پرکھڑی ہے، ایک چیف جسٹس اور دوسرا باقی ججز،سپریم کورٹ کی انتظامی معاملات میں چیف جسٹس ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیئے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے سوا کہاں تنہا اختیارات دئیے گئے وکیل عدنان خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر مشاورت بنچز بنا سکتا ہےپارلیمنٹ کو ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں-

    وکیل عدنان خان نے کہا کہ آئین سازوں نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ضابطوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو فل کورٹ بلانے کی کیا ضرورت ہے صرف چیف جسٹس کیس سن لیتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کےسوا کہاں تنہا اختیارا ت دیے گئے-

    وکیل عدنان خان نے کہ کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر کسی مشاورت کے بنچز بنا سکتا ہے، چیف جسٹس اور دیگر ججز میں فرق انتظامی اختیارات ہیں، مجھے اس قانون سے مسئلہ نہیں مگر طریقہ کار سے مسئلہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ اس قانون سے آپکا کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، وکیل عدنان خان نے کہا کہ اس ایکٹ سے انصاف کا حق متاثر ہوگا ایکٹ سے انصاف تک رسائی کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی، ایکٹ میں طریقہ کار دے کرسپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے بھی کیس مقرر کرنے کیلئے اپنا دماغ استعمال کرتے تھے، میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسز کے تقرر کا اختیار دیا، کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی وکیل عدنان خان نے کہ مشاورت اچھی چیز ہے، چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں، اس قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے، قانون کی رو میں کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہوگا، کوئی حوالہ دے دیجیے ،وکیل عدنان خان نے جواب دیا کہ میں ریفرنس جمع کرا دوں گا جس کے بعد وکیل عدنان خان کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    درخواست گزار محمد شاہد رانا ایڈووکیٹ کے دلائل شروع

    وکیل شاہد رانا نے دلائل شروع کرتے ہی سوال اٹھایا کہ اگر 15ججز فیصلہ کریں گے تو اپیل کس کے پاس جائے گی چیف جسٹس نے جواب دیا کہ 15 ججزفیصلہ کریں گے تو نہیں ہوگی اپیل، وکیل شاہد رانا نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت ہوتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو اس بات کا جواب فیصلے میں دے دیں گے، یہ معاملہ پہلے کبھی کیوں نہیں اٹھایا گیا، کیا پتا سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا تو وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کے لیے وقت نہ دینے پر اعتراض اٹھا دیا، اور مؤقف پیش کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ پہلے ہمیں سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو سنیں گے، ہمیں نہ سننا نا انصافی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہاں لکھا ہے حکمنامے میں کہ آپ کو ابھی سننا ہے جس پر امتیاز صدیقی نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ اپنا سلوک دیکھیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بات کرنے کی تمیز بھی ہوتی ہے، پچھلی سماعت کاتمام ججزکےدستخط کےساتھ حکمنامہ جاری ہوا،حکمنامہ میں درج ہےکہ امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہو چکےوکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ میرے ساتھی آپ کے رویے کی وجہ سے آج عدالت نہیں آئے، خواجہ طارق رحیم نے آپ کو پیغام پہنچانے کا کہا ہے۔

    چیف جسٹس نے وکیل امتیاز صدیقی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیے ورنہ میں کچھ ایشو کروں جس پر وکیل امتیاز صدیقی واپس نشست پر براجمان ہو گئے-

    مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم کے دلائل

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ مجھ سے پہلے مسلم لیگ ق کے وکیل دلائل دینا چاہتے ہیں مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم نے دلائل شروع کردیئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرا قلم ہوا میں رہ جاتا ہے آپ اپنا پوائنٹ پورا کر دیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل سے کہا کہ آپ فل کورٹ کو اپنی رائے بتا دیں،جس پر وکیل زاہد ابراہیم نے کہا کہ یہ کیس خود تسلیم کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتی ہےجسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیسے ممکن ہے کہ ”سبجیکٹ ٹو لاء“ لکھ کر پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا گیا ہو، آرٹیکل 188 اور آرٹیکل 191 میں فرق ہے۔

    آدھے گھنٹےکے وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل زاہد ابرہیم سے کہا کہ آپ آرٹیکل191سے اینٹری 55 کا تعلق سمجھا دیں، جسٹس منیب اختر نےریمارکس دیئےکہ ایکٹ کےذریعے آئین میں بلاواسطہ ترمیم کی گئی،کیا آئین پار لیمنٹ کو ایسی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل191 کے تحت قانون سازی کا اختیار بہت وسیع ہونا چاہئے، آپ 1956 کا آئین پڑھیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل زاہد ابراہیم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ضروری نہیں کہ آپ دلائل سے متفق ہوں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ میں بیٹھے جج کو حق حاصل ہے کہ وہ سوال کرے جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ کو موجودہ قانون کا دائرہ بڑھانے کا اختیار ہے، اپیل کا حق دے کر قانون کا دائرہ بڑھایا کیسے گیا۔

    وکیل زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ درخواست گزاروں سے سوال کیا گیا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوشش کی سپریم کورٹ کےکام کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے، عدلیہ کی مائیکرو مینجمنٹ مداخلت نہیں تو پھر کیا مداخلت ہوگی۔

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس قانون کے بعد ماسٹر اف روسٹر کون ہےِ؟ جس پر زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ کمیٹی پارلیمان ماسٹر آف روسٹر ہو گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ماسٹر آف روسٹر کا لفظ ہے، رولز میں چیف جسٹس کے بینچ مقرر کرنے کا ہے، مقدمات کا مقرر کرنے چیف جسٹس نے رجسڑار کا اختیار ہے، ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کس قانون میں ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ دنیا میں اب کہیں بھی ماسٹرز نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو قانون ہے آئین ہے وہ چیف جسٹس کی خواہشات پر نہیں، یہ عدلیہ کیا آزادی اور قانون کے منافی ہے، میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں۔

    وکیل صلاح الدین نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے بہت آرا آئی ہیں، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ اپ اپنے دلائل شخصیت کو مدنظر رکھ کر دے رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جو آرا دی گئی وہ ان کی آرا ہو ں گی، کسی کا ایک مؤقف ہوتا ہے دوسرے کا دوسرا مؤقف، بہتر ہو گا کہ پارلیمان کے اختیار پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سننا چاہتا ہوں اپنے دلائل دیں۔

    کیس کی کارروائی آج بھی سپریم کورٹ سے سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی جا رہی ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی گزشتہ دو سماعتوں میں 5 درخواست گزاروں کے وکلا دلائل مکمل کرچکے ہیں آج ہونے والی سماعت میں دیگردرخواست گزاروں کے وکلاء، اٹارنی جنرل، مسلم لیگ ن اوق کے وکلاء دلائل دیں گے اس سے قبل تمام فریقین سپریم کورٹ مین اپنے تحریری جوابات اور دلائل جمع کرواچکے ہیں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر آج اس کیس کی سماعت مکمل ہوجائے گی، چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت میں عندیہ دیا تھا کہ 9 اکتوبر کو تیسری سماعت میں یہ کیس مکمل کرلیا جائے گا۔

    کیس کی سماعت کرنے والے فل کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے علاوہ جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان،جسٹس سید مظاہرعلی نقوی،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

  • ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ؟ سپریم کورٹ

    ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ: سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی غیر قانونی حراست کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ
    میں نے چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف مقدمات سے متعلق آگاہی کے لیے درخواست دائر کی تھی،پرویز الہی کو ایک کیس میں ضمانت ہوتی ہے دوسرے میں پکڑ لیتے ہیں۔

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پرویز الٰہی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ نے ایم پی او کیس میں حکم دیا گرفتار نہ کیا جائے،اب جب اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ہے تو لاہور ہائیکورٹ کیا کرے؟ لاہور ہائیکورٹ کیا حکم کر سکتا تھا،یہ نہ سمجھیں جو ہو رہا ہے اس سے ہمیں خوشی ہو رہی ہے،قانونی سوالات اٹھتے ہیں جن پر جواب دیں، لاہور ہائیکورٹ کیسے اسلام آباد میں درج ایف آئی آر ختم کر سکتی ہے؟

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ہے۔اسلام آباد میں عدالت نے اس قسم کا آرڈر جاری کیا۔کیا عدالتیں ملزم کو جرم کرنے کا لائسنس دے رہی ہے۔ہم نے اور ان ججز نے بھی قانون کے تحفظ اٹھایا ہے۔فیصلہ دیا جاتا اب ملزم کی گرفتاری عدالت کی اجازت سے ہوگی۔وہ ملزم ضمانت پر رہا کرکے دو بندے قتل کردے پولیس کچھ نہ کرے۔پولیس کیا ملزم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر پہلے عدالتی اجازت لے پھر گرفتار کرے۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی مذاق ہے ضمانت کے بعددوسرے کیس میں پھر گرفتار کر لیتے ہیں۔جسٹس سردار طارق مسعود نےکہا کہ یہ مذاق تو ستر سال سے ہو رہا ہے۔آپ قانون کا بتائیں قانون کیا کہتا ہے۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارےساتھ وہ ہورہاہےجیسے کشمیرمیں ہوتاہے ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کشمیرکی بات نہ کریں، کشمیرمیں بھارتی فوج قابض ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ تو ہمارےساتھ ویساسلوک نہ کریں ناں،کپڑوں کےبغیر آکراغواکرلیاجاتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دن کو بغیر کپڑوں کے بغیر؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا کہنے کا مطلب ہے یونیفارم کے بغیر،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پرویز الٰہی قانونی طور پرحراست میں لئے گئے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہائیکورٹ وہ آرڈر کر سکتی ہے جو سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیس میں کیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ گھڑی کو بہت پیچھے نہ لے جائیں، اسی کیس پر رہیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ اگر آپ کو اس کیس کو غیرموثر ہی کرنا ہے تو پاکستان کے مقدر کا خداحافظ ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا مقدر چند لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ کیس کی سماعت کل یا پیر کورکھ لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پیر کو تو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیس ہوگا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سادہ سا کیس ہے آپ ہمیں غیرمتعلقہ معاملات میں الجھانا چاہتے ہیں،عدالت قانون کے مطابق چلے گی،لطیف کھوسہ نے کہاکہ حقوق پامالی کی اجازت نہیں،25کروڑ عوام کے حقوق کا سوال ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود کیس کی تیاری کرکے نہیں آئے اور بات ہم پر ڈال رہے ہیں،معاون وکیل سردار عبدالرازق نے کہاکہ شیخ رشید کو بھی بوگس کیس میں پکڑ لیا گیا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ زبانی باتیں نہ کریں شیخ رشید کا کیس ہمارے سامنے نہیں ہے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب کے دور میں ایف آئی آر دکھا کر گرفتاری کا قانون آیا،بھٹو صاحب کے دور میں یہ قانون ظہور الٰہی کیلئے آیا تھا،یہ تو لائسنس ٹو کرائم والی بات ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ ضمانتیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ہو رہی ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پھر یہ قانون عام بندے کیلئے بھی رکھیں نا، سب کو یہ حق دیں،آج کل ہائیکورٹ میں بندہ پیش نہیں ہوتا اور ضمانتیں دے دی جاتی ہیں،قانون کے مطابق ملزم کو ضمانت کیلئے خود پیش ہونا پڑتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہائیکورٹ کس طرح ایک آرڈر سے تمام کیسز میں ضمانت دے رہی ہے؟یہ بتائیں کیا ہائیکورٹ ایسا حکم دے سکتی ہے کہ ایک شخص کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرو؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیس غیرموثر ہو گیا تو کیسے آگے چلائیں،صرف دو سوالوں کے جواب دے دیں،

    عدالت عظمٰی نے وکیل لطیف کھوسہ سے دو سوالوں کے جواب طلب کرلئے، عدالت نے سوال کیا کہ کیا ہائیکورٹ کسی ملزم کو نامعلوم ایف آئی آر پر وسیع ریلیف دے سکتی ہے،حبس بے جا کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ مذید کیا کرسکتی ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ مجھے تیاری کیلئے وقت دیں ،

    سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی غیر قانونی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

  • فیض آباد دھرنا کیس،ایم کیو ایم کی بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست

    فیض آباد دھرنا کیس،ایم کیو ایم کی بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست

    ایم کیو ایم پاکستان نے بھی فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر کردی
    ایم کیوایم کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، نظرثانی واپس لینے کی درخواست ایڈووکیٹ آن ریکارڈ محمود اے شیخ نے دائر کی،ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اور رابطہ کمیٹی کی ہدایات پر نظرثانی پر کارروائی نہیں چاہتے.

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف، پیمرا، وزارت دفاع نے بھی نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواستیں واپس کیوں لی جارہی ہیں، ہمیں بتائیں، سچ بولنے سے ہر کوئی کترا کیوں رہا ہے؟ کیا یہ کہہ رہے ہیں مٹی پاو بعد میں دیکھیں گے، 12 مئی کو 55لوگ مرے، خون ہوا، آپ کہہ رہے ہیں مٹی پاؤ۔ بتائیں نا کیوں مٹی ڈالیں؟ کیا نئے واقعے کا انتظار کریں،؟ فیض آباد دھرنا کیس میں سب نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں جس سے امید تھی کہ نظرثانی دائر کرینگے انہوں نے دائر نہیں کی۔ آپ سب سے تو کم از کم خادم رضوی بہتر رہے، انہوں نے نظر ثانی درخواست بھی نہیں ڈالی جس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور ہمارے فیصلہ کو تسلیم کیا۔ خادم رضوی صاحب زندہ تھے اس وقت مگر شاید ہمارے فیصلے سے مطمئن تھے۔ غلطی ہوجاتی اسے تسلیم کرنا بڑاپن ہوتا ہے ،،نظرثانی واپس لیکر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو ہوا مٹی پاؤ ،، 12 مئی کے واقعات پر بھی مٹی پاؤکہیں گے کیا،

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کوئی بھی شخص حقائق منظر عام پر لانا چاہے تو اپنا بیان حلفی عدالت میں پیش کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے، کوئی بھی فریق یا کوئی اور شخص اپنا جواب جمع کروانا چاہے تو 27 اکتوبر تک جمع کروا دے، کیس کی آئندہ سماعت یکم نومبر کو ہوگی

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ :عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ :عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق دائر 9 درخواستوں پر سماعت شروع ہوگئی-

    باغی ٹی وی:سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ درخواستوں پر سماعت کررہا ہے جس کی سرکاری ٹی وی کے ذریعے براہ راست کوریج کی جارہی ہے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی آج کیس کا اختتام کریں، ایک کیس کو ہی لےکر نہیں بیٹھ سکتے، سپریم کورٹ میں پہلے ہی بہت سے کیس زیر التوا ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی مزید بات کرنا چاہے تو تحریری صورت میں دے دیں، آج اس قانون کا اثر بالخصوص چیف جسٹس، 2 سینئر ججز پر ہوگا، اختیارات کو کم نہیں بانٹا جا رہا ہے، 2 سینئر ججز کےساتھ ،اس قانون کا اطلاق آئندہ کے چیف جسٹسزپربھی ہوگا، کچھ ججز سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور چیف جسٹس کا اختیار آمنے سامنے ہے کچھ ایسا نہیں سمجھتے، آپ سب نے اپنے جوابات قلمبند کر دیے ہیں، ہمارے سامنے اٹارنی جنرل اور سینئر وکلا ہیں، سب کو سنیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل خواجہ طارق رحیم سے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، خواجہ صاحب آپ اپنا دلائل کا حق محفوظ رکھیں۔

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری کے دلائل

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے ایک پڑھنا شروع کیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ نہ پڑھیے ہم پورا ایکٹ پڑھ چکے ہیں وکیل اکرام چوہدری نے مؤقف پیش کیا کہ اس قانون کو خاص وجہ سے بنایا گیا ہے، ایکٹ کو مخصوص شخص کے لیے بنایا گیا، ایکٹ کی سیکشن3 آئین اور سپریم کورٹ رولز کے متصادم ہے، پارلیمان نے اختیارات کی آئینی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے۔چیف جسٹس نے وکیل اکرام چوہدری سے استفسار کیا کہ کیا آپ دلائل صرف نیوز رپورٹس کی روشنی میں دے رہے ہیں، وہ خبریں نا پڑھیں جن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، عدالت کو سیاسی بحث کے لیے استعمال نا کریں، میڈیا موجود ہے وہاں جا کر سیاست کریں، قانونی دلائل دیجیے، یہ دلیل دیں کہ پارلیمنٹ نے کیسے عدلیہ کا حق سلب کیا۔جس پر وکیل اکرام چوہدری نے بتایا کہ ہمارے پاس پارلیمنٹ کارروائی کا ریکارڈ ہی نہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاآپ نے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا؟ وکیل اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ نہیں میں نے ریکارڈ کے لئے خط نہیں لکھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ اور جوڈیشری الگ الگ ادارے ہیں،آپ نے خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ دلیل سنے۔وکیل اکرام چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ میں پوری قوم کی طرف سے بات کر رہا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ قوم کے نمائندے ہیں نہ ہی ہم، اس لئے اپنی بات کریں، اخبار میں آنے والی خبریں ہوسکتا ہے درست نہ ہوں، اپنے کیس تک خود کو محدود رکھیں،وکیل اکرام چوہدری نے ایک بار پھر خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم چاہتے تھے چیف جسٹس کو طلب کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایسی بات بالکل نہ کریں، جس کی بات کررہےہیں انہیں آپ نےفریق ہی نہیں بنایا، عدالت کو سیاسی تقریر کیلئے استعمال نہ کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ لوگوں کا بھی خیال ہے اس قانون سے سپریم کورٹ اور پارلیمان آمنے سامنے آگئے، میں لفظ جنگ استعمال نہیں کرونگا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر اب قانون بن چکا ہے، حسبہ بل کبھی قانون بنا ہی نہیں تھا، پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتا تھا یا نہیں اس بحث میں نہیں جانا چاہیے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آئین سے متصادم ہے یا نہیں یہ بتائیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت جب آئینی ترمیم بھی دیکھ سکتی ہےتوبات ختم ہوگئی، آپ کی دلیل ہےکہ آئینی ترمیم سے یہ قانون بن جائےتوٹھیک ہے، جب آپ عدالت کی آزادی کی بات کرتے ہیں توکیا یہ آزادی ازخود نایاب چیز ہے یالوگوں کے لیے ہے؟ عدالت کی آزادی صرف اس کے اپنے لیے ہےکہ اس کا ہرصورت دفاع کرناہے؟ عدالت کی آزادی لوگوں کے لیےنہیں ہے؟ اس بات پر روشنی ڈالیں، اگرکل پارلیمنٹ قانون بناتی ہےکہ بیواؤں کےکیسزکو ترجیح دیں، کیا اس قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی متاثرہوگی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون سازی انصاف دینےکا راستہ ہموار اور دشوارکررہی ہے تویہ بتائیں، کیا ہماری آزادی خود ہی کافی ہے یا اس کا تعلق کسی اورسے بھی ہے؟ پارلیمنٹ اور عدلیہ الگ الگ آئینی ادارہ ہیں، اگر آپ نے اپنےمعلومات تک رسائی کے حق کے تحت کارروائی کی درخواست نہیں کی تویہ دلیل مت دیں، آپ نے خود اسپیکرکو خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں پوری سپریم کورٹ بیٹھ کربے بنیاد دلیل سنے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل اکرام چوہدری کی تعریف کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے بہت محنت کی ہے چوہدری صاحب، جس کتاب کا آپ حوالہ دے رہے ہیں میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، عدلیہ حکومت کا ذیلی محکمہ نہیں۔جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ کتاب پہلے مارشل لاء کے بعد لکھی گئی، سپریم کورٹ نے اس مارشل لاء کی توثیق کی، کیا یہ کتاب مارشل لاء کے اثر میں لکھی گئی تھی۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ لفظ کا مطلب عدلیہ کو محکمہ کہنا نہیں ہے، ہر ملک کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ثابت کردیں کہ کیسے یہ ایکٹ آئین کے خلاف ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں اس کیس کو آج کنارے لگانا ہے، 45 منٹ سے آپ کو سن رہے ہیں، اب دلائل ختم کیجیے، سننا تو آپ کو پورا دن چاہتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں، کوئی دلیل رہ جائےتوتحریرجمع کرائی جاسکتی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس مظہرصاحب کے یہ بتادیں کون سی آئینی شق متاثر ہوئی، یہاں دو سوالات اٹھتے ہیں، کیا پارلیمنٹ سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کی مجاز ہے، بتائیں کہ کون سی دفعہ کس آئینی شق سے متصادم ہے، ایک سوال اہلیت اور دوسرا تضاد کا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جتنا باریکی میں جائیں گے زیادہ وقت لگے گا، اس کیس نے آج کے بعد نہیں چلنا، جتنا وقت آپ لیں گے باقی وکلاء کو کم ملے گا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ مان رہے ہیں کہ پارلیمنٹ قانون سازی کیلئے با اختیار ہے، جسٹس اعجازالاحسن کے دوسرے سوال کا جواب دیں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ کو مکمل طریقہ کار اپنانا چاہیے تھاجو نہیں کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نےریمارکس دیئے کہ انصاف تک رسائی کا حق دینا آئین کی بنیاد ہےکیا پارلیمنٹ قانون سازی کرنےکیلئےبا اختیار نہیں۔وکیل اکرام چوہدری نے جواب دیا کہ آرٹیکل 8 کہتا ہے ایمرجنسی میں آئینی شقیں معطل کی جا سکتی ہیں جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ اب آئینی شق کا کیا تعلق ہے جب قانون بن چکا۔ جسٹس سردارطارق نے ریمارکس دیے کہ کیا پارلیمنٹ قانون نہیں کر سکتی کوئی حوالہ تو دے دیں۔وکیل اکرام چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، باقی دلائل تحریری طور پر جمع کرا دوں گا۔

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری کے دلائل

    درخواست گزار نیازاللہ نیازی کے وکیل اکرام چوہدری کے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گزار مدثر حسن کے وکیل حسن عرفان نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف پیش کیا کہ تمام عدالتی سوالات کے جواب آئین میں موجود ہیں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو جسٹس عائشہ ملک نے وکیل حسن عرفان سے استفسار کیا کہ آپ اب تک درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دے رہے ہیں، صرف یہ بتا دیں کہ کن دفعات سےآپ متفق یا مخالف ہیں؟-وکیل حسن عرفان نے کہا کہ پارلیمان نے قانون سازی کی آڑ میں آئین میں ترمیم کر دی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آپ مفاد عامہ کی بات کر رہے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا انصاف تک رسائی کیلئے قانون سازی نہیں ہوسکتی، درخواست گزار اس کیس سے کیسے متاثرہ فریق ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ میرا مؤکل وکیل ہے اور نظام انصاف کی فراہمی کا اسٹیک ہولڈر ہے۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عوام کا انصاف تک رسائی کا بنیادی حق کیسے متاثر ہوا۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ انصاف تک رسائی کیلئے عدالت کو آزاد ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی بنیادی حقوق سے جڑی ہے، پہلے بتائیں کہ ایکٹ سے بنیادی حق کیسے متاثر ہوتا ہے، درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے آگے نکل چکے ہیں، انصاف تک رسائی کیلئےبنیادی شرط آزادعدلیہ ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا اپیل کا حق نہ ہونا انصاف تک رسائی کے منافی نہیں؟ وکیل حسن عرفان نے مؤقف پیش کیا کہ قانون سازوں کے ذہن میں شاید یہ سوال کبھی آیا ہی نہیں تھا، پارلیمان سپریم ضرورہے لیکن آئین کے بھی تابع ہے، چیف جسٹس، وزیراعظم اور صدر نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حلف میں آئین کے ساتھ قانون کا بھی ذکر ہے، اسے مدنظر رکھیں، جب مارشل لا لگتا ہے سب ہتھیار پھینک دیتے ہیں، مارشل لا لگے تو حلف کو بھول جایا جاتا ہے، پارلیمان کچھ کرے تو سب کو حلف یاد آ جاتا ہے، یہاں مارشل لا نہیں ہے، ماضی میں وکلاء 184تین کے بے دریغ استعمال پر تنقید کرتے رہے، آپ کے بطور شہری اس ایکٹ سے کون سے حقوق متاثرہوئے، کیا آپ اگلے مارشل لا کا دورازہ ہم سے کھلوانا چاہتے ہیں۔
    اس کمرے میں بہت سی تصاویر لگی ہیں جو مارشل لاء آنے پر حلف بھول جاتے ہیں،پارلیمنٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار بڑھا دیا گیا، کیا آپ کا موقف یہ ہے اپیل کا حق نہ ہو بس سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے وہ حتمی ہو، وکیل حسن عرفان نے کہا کہ میرا یہ موقف نہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کہتی ہے کہ انہوں نے ٹھیک قانون سازی کی، ماضی میں وکلاء سپریم کورٹ کے 184 تین کے بے دریغ استعمال پر بہت تنقید کرتے رہے، سپریم کورٹ کے 184 تین کے استعمال سے ماضی میں لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے،نظرثانی میں اپیل کا حق ملنے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ وکیل حسن عرفان نے کہا کہ اس سے قانون کی رسائی کا حق متاثر ہوگا کل کو سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت نے کئی بار مارشل لاء کی توثیق کی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق کو پارلیمنٹ کیوں نہیں بدل سکتی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نظر ثانی میں اپیل کا حق ملنے سے آپ کو کیا تکلیف ہے؟ وکیل حسن عرفان نےکہا کہ قانون کی رسائی کا حق متاثر ہو گا کل کو سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے،جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا ہارلیمان کی اچھی نیت پر اختیار سے کیا گیا تجاوز درست مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنیادی سوال یہ نہیں اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں،سوال یہ ہے کہ اپیل کا حق کس نے کیسےدینا ہے، آرٹیکل 184/3 میں اپیل نہیں دی گئی تو آئین کی منشا نہیں تھی، جاب اگر یہ منشا ہے تو آئین کی ترمیم سے ہی کیا جا سکتا ہے،اس طرح تو آئین کو ایک طرف رکھ کر کہہ دیں قانون کی پاور سے چار اپیلوں کا حق دے دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی تھی، کیا آپ سپریم کورٹ کے اُس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ حسن عرفان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ظفر علی شاہ کیس کے فیصلے سے متفق نہیں،

    پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیا پارلیمان نے اچھا قانون نہیں بنایا کہ ہم اس فیصلے کو واپس لے سکیں؟ ججز نے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین کیساتھ کھلواڑ کی اجازت دی، سپریم کورٹ بار کہتی تھی کسی ڈاکٹرائن کی وجہ سے مقدمات مقرر نہیں ہوتے، کیا ڈاکٹرائن آئین اور قانون کے مطابق تھی؟آپ کہتے ہیں بس فرد واحد کا اختیار کم نہ ہو، فرد واحد نے ہی ہمیشہ ملک کی تباہی کی ہے، مارشل لاء لگتا ہے تو ملک فرد واحد ہی چلاتا ہے،ہم آپس میں تین لوگ فیصلہ کریں یا پانچ کریں آپکو کیا مسئلہ ہے؟پارلیمان کو احترام دینا ہوگا، مفروضوں کی نہیں حقیقت کی زبان جانتا ہوں، مولوی تمیز الدین کیس سے شروع کریں یا نصرت بھٹو کیس سے،انہوں نے کہا آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کرنا چاہو کرو، پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مارشل لاء کو سپریم کورٹ نے اپیل میں درست قرار نہیں دیا، سپریم کورٹ غلطی پر مستقبل میں اس کی درستگی کر سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کر سکتا ہے، آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو اختیار دیتا پے کہ چیف جسٹس کے اختیارات لو ریگولیٹ کر سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریگولیٹ کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا تحریری آئین ہے ، ایک شخص آیا اور کہا گیا کہ ٹھیک ہے آئین کو روند دیں، جب بعد میں کوئی وضاحت آئے گی تو فیصلہ کریں گے، کبھی سپریم کورٹ نے کہا مارشل درست تھا اور کبھی کہا غلط تھا، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں ہم جنگل کے بادشاہ ہیں چاہے انڈے دیں یا بچے دیں،وکیل حسن عرفان نے کہا کہ اصل سوال عدالت نے حل کرنا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم نے ہی کرنا ہے تو آپ بیٹھ جائیں ہم خود دیکھ لیتے ہیں ،چیف جسٹس کے ریمارکس پرکمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ کیا اہلیت نہ رکھنے کے باوجود پارلیمنٹ قانون بنائے تو اسے نیت اچھی ہونے کی بنا پر درست قرار دیا جا سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ظفر علی شاہ کیس میں ایک فرد کو تمام اختیارات دے دیئے،کیا سپریم کورٹ نے فرد واحد کو اختیارات دے کر اچھا کام کیا،ریکوڈک کو دوبارہ کھولنے کے لیئے ایڈوائزری اختیارات کے تحت استعمال کیا گیا ،مولوی تمیز،نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ نے کہا فرد واحد جو آئین سے کھلواڑ کرنا چاہے وہ کر لے ،ہمیں پارلیمنٹ کی قدر کرنی چاہئے ،ہمیں پاکستان میں ائین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی تاریخ کو نہیں بھولنا چایئے،فرد واحد کا اختیار تباہی پھیلاتا ہےصرف چیف جسٹس کا فائدہ نہیں بلکہ لوگوں کے فائدے کی بات کرنی چاہیے ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وکیل صاحب، آپ سے جو کہا جا رہا ہے آپ آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں، آرٹیکل 191 کا اہم آئینی سوال ہمارے سامنے ہے، کیا آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کرنے کا اہل بناتا ہے؟ جواب دے دیں پلیز اس کا، آرٹیکل 191 میں سبجیکٹ ٹو لاء کا کیا مطلب ہے یہ بتا دیجیے،وکیل حسن عرفان نے کہا کہ آرٹیکل 191 میں تو ابہام ہے یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز آرڈر 11 کہتا ہے کہ چیف جسٹس کا اختیار ہے جو اس قانون کا سیکشن 2 تین ججز پر تقسیم کر رہا ہے، ایکٹ کے سیکشن 2 اور سپریم کورٹ رولز میں تضاد آ چکا، پارلیمنٹ کی قانون سازی سے بنا تضاد کیسے حل ہو گا؟وکیل حسن عرفان نے کہا کہ یہ تضاد حل کرنا تو مشکل ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا 1956 کے آرٹیکل 177 اور 1973 کے آرٹیکل 191 میں فرق ہے؟قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز کو ختم نہیں کیا جا سکتا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ باز محمد کاکڑ کیس میں سپریم کورٹ واضح کہہ چکی کہ آئین کے تحت بنے رولز کو سادہ قانونی سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 1956 کے رولز کو 1973 کے آئین میں ختم نہیں کیا گیا تھا،چیف جسٹس نے وکیل حسن عرفان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہاں ناں کے سوا کچھ نہیں کہہ رہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دنیا میں پارلیمنٹ کے قانون سے بالا کوئی رولز ہو سکتے ہیں؟ دنیا کی کوئی مثال ہو تو دے دیجیے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز آرٹیکل 191 کے تحت غیر آئینی ہو نہیں سکتے، وکیل حسن عرفان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ پر قانون سازی کی پابندی نہیں ہے تو اجازت بھی نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بار بار بات نا دہرائیں، یہ ایکٹ اپیل کا حق بھی دے رہا ہے اس پر اپنی رائے دیجیے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 184 تین کے تحت اختیار پہلے سے سپریم کورٹ کے پاس ہے، پارلیمنٹ نے اس اختیار کو بڑھایا؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر آئین ساز سمجھتے کہ آرٹیکل 184 تھری میں اپیل ہونی چاہئے تو آرٹیکل 185 میں شامل کر دیتے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو مسابقتی کمیشن کے قانون میں اپیل کا حق کیسے دے دیا گیا تھا؟ وکیل حسن عرفان خان کے دلائل مکمل ہو گئے جس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل شروع ہو گئے،

    وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ فیڈرل قانون سازی فہرست کے علاوہ کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی،چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی کی لسٹ میں سپیس پروگرام اور مصنوعی ذہانت کا ذکر ہے نہ ہی سوشل میڈیا کا، کیا پارلیمان سپیس پروگرام کے حوالے سے قانون سازی نہیں کر سکتی؟ اگر قانون سازی ہوتی ہے تو پارلیمان کونسا اختیار استعمال کرے گی؟ عذیر بھنڈاری کی جانب سے امریکہ عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ امریکی عدالت کو چھوڑیں اپنے آئین کی بات کریں، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ جناب میں سپیس پروگرام کے حوالے سے کیس تیار کرکے نہیں آیا، دو سماعتوں سے میں سن ہی رہا ہوں اب آپ بھی مجھے بولنے دیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں میں معذرت خواہ ہوں،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ڈیٹا پروٹیکشن کا قانون بناتی ہے جو سپریم کورٹ رولز سے مطابقت نہیں رکھتا، ایسی صورت میں قانون کی بالادستی ہوگی یا رولز کی؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں رولز بالادست ہوں گے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون حاوی ہوگا یا رولز، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ میری نظر میں رولز کو اہمیت دی جائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں رولز بائینڈنگ ہیں قانون نہیں،وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ رولز آئین کے تحت بنائے گئے، چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 204 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، پارلیمان نے آرڈیننس کے تحت 204 میں اپیل کا حق دیا ہے، کیا پہلے اس نکتے کی وضاحت کر دیں کہ اپیل کا وہ حق کیسے درست ہے اور یہ غلط، سپریم کورٹ نے 184/3 میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا،آرٹیکل 204 میں کہاں لکھا ہے کہ اپیل کا حق حاصل ہوگا؟ وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں کہاں لکھا ہے کہ اس کا اطلاق قانون کے تحت ہوگا؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مسابقتی کمیشن قانون سمیت بہت سے قوانین آئین کے اندر نہیں تو انکا کیا ہوگا،آئین میں جو چیزیں نہیں کیا قانون سازی سے انکو شامل نہیں کیا جاسکتا؟،وکیل عزیز بھنڈاری نے کہا کہ اسپیشل ٹریبونل بنائے گئے ہوں تو ان کیخلاف اپیل دی جاسکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےکہا کہ کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کچھ موضوعات پر قانون سازی کا حق دیا گیا ہے،آرٹیکل 191 میں قانون سازی کا اختیار کہیں نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آرٹیکل 191 میں قانون کے تابع رولز بنانے کے الفاظ غیرموثر ہوجائیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپکے دلائل مان لیں تو مسابقتی کمیشن ایکٹ میں اپیل کا حق بھی غیرآئینی ہے، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ جو قانون عدالت میں زیر بحث نہیں اس پر رائے نہیں دوں گا،

    چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق ملنے سے تحریک انصاف کو کیا مسئلہ ہے؟پی ٹی آئی نے اپنا موقف ہارلیمان میں کیوں نہیں اٹھایا، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ کسی سیاسی فیصلے کا دفاع نہیں کروں گا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سیاسی جماعت کے وکیل ہیں تو جواب بھی دینا ہوگا، وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ اسمبلی سے مستعفی ہونا سیاسی فیصلہ تھا،تحریک انصاف کے ہر اقدام کا ذمہ دار نہیں ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپیل کا حق دے دیا گیا ہے تو کیا قیامت آ گئی؟ ہو سکتا ہے آپ پارلیمنٹ میں یہی خوبصورت دلائل دیتے تو آپ کی بات مان لی جاتی،میں اگر کہتا ہوں عزیر بھنڈاری ہمیشہ وقت ضائع کرتا ہے،میں عزیر بھنڈاری کو عدالت پیش ہونے سے روک دیتا ہوں تو آپ کیا کریں گے،اگر چیف جسٹس نے ایک فیصلہ کر لیا تو مطلب اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا، پارلیمنٹ نے دیکھا ہے کہ 184/3 کا غلط استعمال ہوا،از خود نوٹس کے غلط استعمال پر پارلیمنٹ نے اپیل کا حق دیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام فیصلے درست نہیں ہوسکتے،اگر ہر کیس میں اپیل کا حق دے دیا جائے تو ہر بندہ اپیل لیکر آجائے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک مثال دے دیں کہ دنیا کی کسی عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کا حق نہیں ہے؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ باہر دنیا میں جانے کی کیا ضرورت ہے اپنے ملک کی مثال دیکھ لیں، چیف جسٹس نے کہا کہ امریکہ اور ہماری عدالت میں ایک بنیادی فرق ہے کہ وہاں فل کورٹ بیٹھتی ہے، امریکہ میں تو غلامی تھی خواتین کو ووٹ کا حق برصغیر کے بعد ملا،ہم امریکہ سے زیادہ متاثر کیوں ہیں،امریکہ میں دو تین ججز کے بجائے فل کورٹ کیس سنتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ امریکہ کی عدالت میں ازخود نوٹس کا بھی تصور نہیں، وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ امریکہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ خود 184 تین میں اپیل کا حق دے دے تو کیا ہوگا؟ وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پھر بھی اپیل ممکن نہیں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور اس سے اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے،پارلیمنٹ اپیل کا حق دینے میں بااختیار ہے لیکن دینے کا طریقہ کار کیا ہو یہ مسئلہ ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کا حق اتنا ہی ضروری ہے تو تین رکنی کمیٹی کیسے اپیل کیلئے فیصلہ کرے گی؟ فل کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کیسے ہوگی؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کا حق مختلف ہے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور بات ہے،
    پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت کے طور پر ایکٹ سے فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان؟ وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمیں کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے، مجھے ہدایات ہیں کہ میرا موکل شاید دوبارہ اقتدار میں آئے تو اس قانون سازی سے فرق پڑے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کے مقدمات میں ہدایات لینے کی اجازت نہیں آپ عدالت کی معاونت کیلئے ہیں،وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اسی کمرے میں ججز پر جسمانی حملے بھی ہوئے، آئین نے سپریم کورٹ کے تحفظ کیلئے آگ کی دیوار بنائی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں کو اپنے رولز بنانے کا حق حاصل ہے،عدلیہ پارلیمنٹ سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی، وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر میں کہاں لکھا ہے کہ مقدمات کیسے مقرر ہونگے؟قانون صرف بنچز تشکیل دینے کے حوالے سے ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات مقرر کرنے کے لیے میرے دائیں بائیں بیٹھے فرشتے نظر رکھیں گے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب چیف جسٹس اور تمام ججز ہیں،چیف جسٹس رولز کے تحت ججز کو انتظامی امور سونپتے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ تین رکنی کمیٹی بن گئی تو کیا ججز کے درمیانی برابری کا اصول ختم نہیں ہوجائے گا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ممکن ہے کل پی ٹی آئی اقتدار میں آئے تو پارلیمان کے ویژن کو کیوں چیلنج کر رہی ہے؟وکیل علی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پریکٹس اینڈ پروسیجر سے اچھا قانون آئینی طریقے سے بنائے گی،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر تو ایک اچھا قانون ہے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کسی صورت اچھا قانون نہیں ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سترہ ججز بھی یہی غلطیاں کرنی ہے تو پھر اپیل کا حق ہونا ہی چاہیے،بطور سیاسی جماعت اپ کو گھبراہٹ کیوں ہے،اپیل کا حق ملنے سے ہو سکتا ہے آپ کو فائدہ ہو، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اسی عدالت پر حملہ بھی ہوا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے ایسی باتیں نہ کریں، وکیل پی ٹی ائی نے کہا کہ پارلیمنٹ پر بھی حملے ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو بھی تحفظ دینا جانتے ہیں،مجھے بطورِ چیف جسٹس کہا جائے کہ رولز بنانے کے لیے فل کوٹ میٹینگ بلا لیں میں انکار کر دوں تو کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا، تعجب ہے کہ کسی نے اسلام پر بات نہیں کی،چیف جسٹس نا قابل احتساب کیسے ہو سکتا ہے، اگر میرا کنڈینکٹ بہت زیادہ نا قابلِ قبول ہو جائے تو کیا ہو گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی مستقل نہیں ہوتی بلکہ مدت ملازمت کی ریٹائرمنٹ بھی ہے،اگر کسی کا کانڈیکٹ نا قابلِ قبول ہے تو وہ جلا جائے گا ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر نا قابل قبول کانڈیکٹ ہو تو اس کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل بھی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ میری ریٹائرمنٹ کا انتظار کریں،آپ نے مختلف عدالتی سوالات کا تحمل مزاجی سے جواب دیا،آئین میں لکھا ہے حاکمیت اللہ پاک کی ہے، قرآن پاک میں بھی مشاورت سے کام کرنے کے احکامات ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بھی مشاورت سے فیصلے کا کہتا ہے،

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی مزید سماعت جمعہ کو رکھ لیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جمعہ کو سماعت نہ رکھیں، ہم سے مشاورت تو کریں، چیف جسٹس نے کہا کہ میں تو مقدمہ آج ختم کرنا چاہتا تھا، پہلے وکلاء دلائل اپنا لیتے تھے اب ہر وکیل ٹی وی پر آنا چاہتا ہے،

    زمان خان وردگ نے تحریری دلائل جمع کرائے، آئندہ سماعت پر مزید دو درخواست گزاروں اور سپریم کورٹ بار کے دلائل سنے جائیں گے، آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتوں کے وکلاء کو بھی سنا جائے گا

    عذیر بھنڈاری نے کہا کہ مختلف قوانین کے تحت کی جانے والی تمام اپیلیں آئین کے تناظر میں ہی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 میں اپیل کا حق لاء ریفارمز آرڈیننس کے تحت دیا گیا ہے، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ لاء ریفارمز آرڈیننس آئین پاکستان سے پہلے کا ہے، الیکشن مقدمات میں اپیل آرٹیکل 225 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہے، عدالت پریکٹس اینڈ پروسیجر برقرار رکھتی ہے تو اس دوران ہوئے فیصلوں کو تحفظ دیا جائے،سپریم کورٹ ماضی میں بھی کالعدم شدہ قانون کے تحت ہونے والے فیصلے برقرار رکھ چکی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا موجودہ کیس میں قرآن شریف سے مدد لی جا سکتی ہے؟ قرآن پاک بھی مشاورت سے فیصلے کرنے کا حکم دیتا ہے، میں اپنے طور پر ساتھیوں سے مشاورت کرکے فیصلے کر رہا ہوں، آئینی نکات پر پانچ رکنی بنچ بننے میں کیا برائی ہے؟ نبی کریم بھی ہر کام مشاور ت سے کرتے تھے، پارلیمان نے مشاورت کرنے کا کہ کر ہم پر کونسا حملہ کر دیا ہے، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز بھی مشاورت سے ہی بنائے گئے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپنی مرضی چلائوں تو کوئی کچھ نہیں کر سکے گا، عذیر بھنڈاری نے کہا کہ چیف جسٹس مشاورت تمام ججز کیساتھ بھی کر سکتے ہیں،سپریم کورٹ اپنے رولز میں مقدمات مقرر کرنے اور کاز لسٹ کو بھی شامل کرے، تحریک انصاف کے وکیل عذیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کر لیے

    اس سے قبل کیس میں وفاقی حکومت نے جواب جمع کروا دیا ہے تحریک انصاف نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروادیں اٹارنی جنرل، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے ایکٹ کو برقرار رکھنے جب کہ درخواست گزاروں اور پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اپنے تحریری جوابات میں ایکٹ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
    اٹارنی جنرل نے ججز کے سوالات پر مبنی اپنے جواب میں کہا کہ 8 رکنی بینچ کی جانب سے قانون کو معطل کرنا غیر آئینی تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون سے عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے، قانون سے عدالتی معاملات میں شفافیت اور بینچز کی تشکیل میں بہتری آئے گی، مفروضے کی بنیاد پر قانون کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا-

    مسلم لیگ (ن) اور (ق) نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے جواب میں کہا ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے، سپریم کورٹ رولز 1980 کی موجودگی میں عدالت عظمیٰ سے متعلق پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی۔درخواست گزاروں کے وکیل خواجہ طارق رحیم اور امتیاز صدیقی نے درخواستیں منظور کرکے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

    یاد رہے کہ اس ایکٹ کے خلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 8 رکنی لارجر بینچ نے حکم امتناع جاری کیا تھا سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ 1 اور لارجر بینچ اس کیس کی 5 سماعتیں کرچکا ہے لارجر بینچ نے 13 اپریل کو پہلی سماعت میں ہی قانون پرحکم امتناع دیا تھا، اس کے بعد 8 رکنی لارجربنچ نے 2 مئی، 8 مئی، یکم جون اور 8 جون کو مقدمے کی سماعت کی تھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر کہا تھا کہ جب تک بینچ کی تشکیل سے متعلق اس قانون کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو جاتا،تب تک وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    واضح رہے کی سابق حکومت نے پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کوریگولیٹ کیا تھا، قانون کے تحت ازخود نوٹس، بینچز کی تشکیل اورمقدمات کی فیکسشن کا اختیار 3 سینئر ججز کی کمیٹی کو دیا گیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا اورعدالت عظمٰی کی تاریخ میں پہلی بار 18 ستمبر کو سماعت کوبراہ راست نشر کیا گیا،یہ سماعت 6 گھنٹے سے زائد تک دکھائی گئی تھی۔

  • بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم کورٹ

    بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیس: تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف ایک ہزار 90 درخواستوں کی سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل نے عدالت سے مہلت مانگی جسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں تیاری کرنے کی تنبیہ کی اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس نہیں، وہ خوددلائل دیناچاہتے ہیں، عدالت کچھ مہلت دے دے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگرآپ خود لکھ کرکہہ دیں کہ عامر رحمان نا اہل ہے، دلائل نہیں دے سکتے تو ٹھیک ہے، ہم تو عامر رحمان کو نااہل کہنے کی گستاخی نہیں کرسکتے، میں تو سمجھتا ہوں عامر رحمان قابل وکیل ہیں اورکیس میں خود دلائل دے سکتے ہیں، اتنے سارے وکلا موجود ہیں-

    پولیس کو ایک ہفتے میں شیخ رشید کو پیش کرنے کا حکم

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں پر کیسز کا ڈھیر ہے، 16 اکتوبر کو دلائل سن کر فیصلہ کریں گے اور اس روز ویڈیو لنک کی سہولت نہیں دی جائے گی، تمام فریقین اسلام آباد میں آکر دلائل دیں بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہےکہ لاہور ہائیکورٹ نے رواں سال فروری میں بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور فیصلے کے خلاف بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت

  • فیض آباد دھرنا کیس کا حکمنامہ جاری

    فیض آباد دھرنا کیس کا حکمنامہ جاری

    اسلام آباد: ‏سپریم کورٹ کی جانب سے فیض آباد دھرنا کیس کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی: حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت دفاع اپنی نظرثانی درخواست پر مزید کاروائی نہیں چاہتی،آئی بی، پیمرا، پی ٹی آئی نے بھی متفرق درخواست کے ذریعے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی، درخواست گزار شیخ رشید نے نیا وکیل کرنے کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی، درخواست گزار اعجاز الحق نے فیصلے کے پیراگراف نمبر چار پر اعتراض اٹھایا-

    حکمنامے میں کہا گیا کہ دوران سماعت کیس سے متعلق چار سوالات اٹھائے گئے، دوران سماعت یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ طویل وقت گزرنے کے باوجود نظرثانی درخواستیں کیس کیوں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں، نظرثانی درخواستیں واپس لینے کے لیے ایک ساتھ متعدد متفرق درخواستیں کیوں دائر کی گئیں،کیا آئینی و قانونی اداروں کا نظرثانی درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ آزادانہ ہے، کیا فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر عملدرآمد ہو گیا؟

    عمران خان سائفر کیس:ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ …

    حکمنامے میں کہا گیا کہ کچھ درخواست گزاروں کی عدم حاضری پر انہیں ایک اور موقع دیا جاتا ہے، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ کچھ لوگوں نے عوامی سطح پر کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کیا ہوا، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں عدالت نے ان کا نکتہ نظر کو مدنظر نہیں رکھا، فیض آباد دھرنا فیصلے کے پیراگراف 17 کے تحت یہ مؤقف عدالت کے لیے حیران کن ہے، عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے میں کہا تھا کہ کوئی بھی متاثرہ فریق آگے بڑھ کر تحریری طور پر اپنا مؤقف پیش کر سکتا ہے-

    حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ عدالت ایک اور موقع دیتی ہے کوئی بھی شخص حقائق منظر عام پر لانا چاہے تو اپنا بیان حلفی عدالت میں پیش کرے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ایک محدود وقت کے لیے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع نہیں کیا جانا چاہیے، کوئی بھی فریق یا کوئی اور شخص اپنا جواب جمع کروانا چاہے تو 27 اکتوبر تک جمع کروا دے، کیس کی ائندہ سماعت یکم نومبر کو ہوگی-

    90 روزمیں الیکشن نہ کروانے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

  • پریکٹس اینڈ پروسیجرل معاملہ؛ وفاقی حکومت نے فل کورٹ کے پانچ سوالوں کا جواب دے دیا

    پریکٹس اینڈ پروسیجرل معاملہ؛ وفاقی حکومت نے فل کورٹ کے پانچ سوالوں کا جواب دے دیا

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل معاملہ پر وفاقی حکومت نے فل کورٹ کے پانچ سوالوں کا جواب دے دیا ہے جبکہ ، جواب
    میں کہا گیا کہ آٹھ رکنی بینچ کی جانب سے قانون معطل کرنا غیر آئینی تھا اور سابق چیف جسٹس نے قانون کو معطل کرکے بینچ تشکیل کرکےفیصلہ دیئے ہیں۔

    جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر قانون برقرار رہتا ہے تو ابتک کے فیصلوں کو عدالتی تحفظ فراہم کیا جائے، عام قانون سازی سے آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے، آرٹیکل 184/3 میں متاثرہ فرد کے پاس نظر ثانی کے سوا اپیل کا حق نہیں، جبکہ توہین عدالت کا آرٹیکل 204 اپیل کا حق فراہم نہیں کرتا۔

    دیئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے قانون سازی کرکے توہین عدالت کیسز میں اپیل کا حق فراہم کیا، پریکٹس قانون سے عدلیہ کی آزادی کو مزید یقینی بنایا گیا ہے، قانون سے عدالتی معاملہ میں شفافیت اور بینچ تشکیل میں جموریت آئے گی، پریکٹس قانون چیف جسٹس کے امتناہی صوابیدی اختیارات کو اسٹریکچر کرتا ہے،

    علاوہ ازیں کہا گیا کہ پریکٹس قانون کے تحت لارجر بینچ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات سنے گا، مفروضہ کے بنیاد پر قانون کا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ مستقبل کے کسی قانون سے عدلیہ کے قانون پر قدغن آئے تو عدالت جائزہ لے سکتی ہے، لا امتناہی صوابیدی اختیار سے نظام تباہ ہوتاہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی
    پی ڈی ایم پر آرٹیکل 6،جنرل باجوہ کا احتساب
    امریکی وزیرخارجہ بلینکن نے بجایا گٹار
    اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے امریکہ میں بھی سوالات ہوئے,نگران وزیر خارجہ
    واضح رہے کہ دیئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوسکتا ہے فل کورٹ فیصلہ پر اپیل کا حق نہیں ملے گا، فل کورٹ غیر معمولی مقدمات میں تشکیل دیا جاتا ہے، چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوگا یہ کوئی طے شدہ قانون نہیں، ماسٹر آف روسٹر کی اصطلاح انڈین عدلیہ سے لی گئی ہے، پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، پارلیمنٹ قانون سازی سے عدالتی فیصلوں کا اثر ختم کر سکتی ہے،۔