Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس کا انتخابات اور فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا کیس مقرر کرنے کا عندیہ

    چیف جسٹس کا انتخابات اور فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا کیس مقرر کرنے کا عندیہ

    سپریم کورٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے انتخابات اور فوجی عدالتوں کا کیس مقرر کرنے کا عندیہ دیا ہے

    سپریم کورٹ میں پاک عرب ریفائنری ملازمین کیس میں التوا دینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس حوالہ سے ریمارکس دیئے، وکیل ملازمین نے استدعا کی کہ پاک عرب ریفائنری ملازمین کا کیس 15 دن کے بعد مقرر کر دیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں عام انتخابات اور سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس مقرر ہونے والے ہیں،سپریم کورٹ میں مشکل مقدمات آنے والے ہیں جس دوران دیگر کیسز سننا مشکل ہو گا، اس کیس کو دو ماہ بعد مقرر کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،

    سپریم کورٹ نے پاک عرب ریفائنری کے کیس کو دو ماہ کے لیے ملتوی کر دیا ،سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے تک آرٹیکل 184 تین کے مقدمات مقرر نہیں ہو رہے تھے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اقساط جمع کرانے میں ایک سال کی رعایت دینے کی درخواست 2021 میں دائر کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڑھائی سال سے درخواست مقرر کیوں نہیں ہوئی؟ کیا بحریہ ٹائون کی مقدمہ میں دلچسپی ختم ہوگئی تھی؟ کیا کوئی جلد سماعت کی درخواست دائر کی تھی؟ وکیل بحریہ ٹاؤن سلمان بٹ نے کہا کہ جلد سماعت کی کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ تاخیر سے درخواست مقرر ہونے پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟ آپ متعلقہ آفس پر الزام لگائیں ہم تحقیقات کرینگے،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مقدمات عدالت خود مقرر کرتی ہے وکیل کا کوئی کردار نہیں ہوتا، مقدمات مقرر کرنا عدالت کا اندرونی معاملہ ہے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے آپ کارروائی ہی نہیں چاہتے، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ کسی پر الزام نہیں لگا سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اپنے طور پر کارروائی کرینگے،

    وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ قانونی طور پر بحریہ ٹائون کو 16896 ایکڑ زمین الاٹ ہونی تھی لیکن صرف 11 ہزار ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلے پر عملدرآمد مانگیں یا توہین عدالت کا موقف لیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ فیصلے پر یکطرفہ عملدرآمد نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری بات سن ہی نہیں رہے ،ہم توکوئی دروازہ کھول لیں توہین کا کھولیں یا نظرثانی کا کھولیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ تھا اس میں سے دروازہ کھلے گا،ومخالف فریق نے اپنے حصہ کا معاہدے کے تحت کام نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہم توہین عدالت کا دروازہ کھول دیتے ہیں،ہم آپ کو آپشن دے رہے ہیں اور آپ کوئی نہیں لے رہے،آپ ہمارے سامنے بےیارو مددگار کھڑے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مجھے کوئی ایک آپشن لینے کیلئے وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ڈھائی سال کے بعد اور بھی وقت چاہیے،اب ایسا نہیں چلے گا،معاملہ اب ہمارے پاس آگیا ہے بتائیں بحریہ ٹاؤن نے ادائیگی کر دی یا نہیں،کیا آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کر لیا،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ جب تک دوسرا فریق عمل نہیں کرتا ہم نہیں کر سکتے،65 ارب روپے ادا کر چکے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ٹوٹل اقساط میں سے کتنی ادا کی گئیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ میں آپ کو چارٹ پیش کردوں گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آخری قسط کب ادا کی گئی،وکیل نے کہا کہ آخری قسط 2022 میں ادا کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کو کسی ریونیو آفیسر نے خط لکھا کہ ان کے پاس زمین نہیں،آپ اس خط کو ٹوکری میں پھینک دیں ،آپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست لے آئیں،جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی کون کر رہا تھا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس وقت وکیل علی ظفر تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اور نام بھی لکھا ہوا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اعتزاز احسن بھی وکیل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا ملک کے دو بڑے وکیلوں کو فیصلہ سمجھ نہیں آیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلہ پورا نہیں پڑھ رہے ،وکیل نے کہا کہ فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصلے پر عمل نہ ہوا تو نیب ریفرنسز دائر کرے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس راستہ یہ ہی ہے کہ نیب ریفرنس دائر کرے،ہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کیسے کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹائون اس وقت ایک بات پر متفق ہوئے اب کہتے ہیں عمل نہیں کرنا،وہ خط کہاں ہے جس میں حکومت نے آپ سے کہا کہ وہ زمین نہیں لے سکتے،

    سماعت میں آدھا گھنٹہ کا وقفہ کر دیا گیا،بحریہ ٹاون ادائیگیوں پر عمل درآمد کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں پھر بتا دیتا ہوں کہ اصل اسٹیک ہولڈرز سندھ کی عوام ہے،کیا ہم سندھ کی عوام کو ہار جانے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نقشہ سے دکھائیں کون سی زمین اب دستیاب نہیں، اپ ہر چیز زبانی بتا رہے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فیصلہ کے بعد ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے 16 ہزار ایکٹر کا پلان منظور کرنا تھا، اپ ہمیں وہ لے آوٹ پلان دیکھائیں جو منظور کروایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے قانون کے مطابق منظوری لینا نہیں یہ بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا کہ میں ہر بات پر میں بتا دونگا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہاکہملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی زمین نہیں دے رہی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کام کیسے کر رہیں ہیں،اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ بتا دونگا تو پھر آپ کی درخواستیں خارج ہو جائیں گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے سوال کیا کہ آپ کے کلائنٹ کدھر ہیں ان سے پوچھیں،اتنے اہم کیس پر آپ کے کلائنٹ کیوں نہیں آئے؟

    سپریم کورٹ نے برطانیہ سے ریکور رقم ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کرنے پر سوال اٹھا دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاون نے جو رقوم جمع کرائیں وہ آئیں کہاں سے؟ کیا یہ درست ہے بیرون ملک ضبط رقم بھی سپریم کورٹ جمع کرائی گئی؟ وکیل نے کہا کہ وہ سب ایک معاہدے سے ہوا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ معاہدہ پیش کر دیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اس معاملے پر نوٹس نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر ہم نوٹس کر دیتے ہیں ، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ادائیگیاں شئیر ہولڈرز نے کی تھیں، اجازت دیں پہلے میں ہدایات لوں پھر اس پر آگاہ کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیاآپ بحریہ ٹاون کے مالک کے بھی وکیل ہیں، ہم فریقین کو نوٹس کر دیتے ہیں اس معاملے پر بھی،ہو سکتا ہے آپ کا بھلا ہو جائے آپ کو وہ اس معاملے پر بھی وکیل کر لیں،وکیل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منظوری دی یانہیں اسکا مجھے علم نہیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ منظوری کا سوال پہلی بار سامنے آیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تھانہ اور پٹواری کلچر کو ختم کرنا ہے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک یہ الارمنگ صورت حال ہے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے نہ اس فیصلے پر عمل ہوا نہ قانون پر عمل ہوا، ابھی تک سندھ حکومت کو معلوم ہی نہیں کوئی ایکشن لیا گیا یا نہیں،کیا حکومت سندھ،سندھ کی عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے،کراچی نسلہ ٹاور کے علاوہ کئی جھونپڑیاں گرائیں گئی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہہ آئندہ سماعت پر مکمل تفصیلات فراہم کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ نائیک صاحب یہ تصدیق کر لیجیے گا کہ ملیر ڈویلپمنٹ نے زمین سے انکار کیا ،پہلے زمین دینے کا کہا اب انکار کیسے کر سکتے ہیں ،بنیادی سوال ہمارے وہیں کھڑے ہیں سوال ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے بھی کریں گے ،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ رقم حکومت سندھ کو ملنی چاہیے تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رقم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ملنی چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ زمین ایم ڈی اے نے خود ڈویلپ کرنا تھی یا کسی اورکو بھی دے بھی سکتی تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ خود بھی کر سکتی تھی کسی کو دے بھی سکتی ہے،ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت بحریہ ٹائون کی رقم حاصل کرنے کیلئے آمنے سامنے آگئیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے سندھ حکومت سے زمین لی، سندھ حکومت کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کی گئی تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سندھ حکومت سے زمین خریدی تھی یا لیز پر لی؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایم ڈی اے نے زمین لیز پر لی تھی لیکن مدت مقرر نہیں کی گئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لیز پر لی گئی زمین ایم ڈی اے کسی دوسرے کو کیسے دے سکتی ہے؟ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے زمین کے عوض رقم نہیں لی،زمین سندھ حکومت کی تھی اس لئے پیسہ بھی سندھ حکومت کو ملنا چائیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بحریہ ٹائون سے پیسہ لیکر کرے گی کیا؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ فیصلے کے مطابق رقم کمیشن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی،کمیشن کا چیئرمین چیف جسٹس نامزد کرینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اگر نامزدگی نہ کرنا چاہے تو کیا ہوگا؟ عدالت نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ زبانی گفتگو کے بجائے سندھ حکومت کو ادائیگی کی تفصیلات فراہم کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ہونے والا ہے منتخب لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں پیسے کا کیا کرنا ہے، آئین اور قانون کے مطابق ترقیاتی کاموں کیلئے بجٹ سپریم کورٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟

    بحریہ ٹائون کراچی کے الاٹیز کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،بحریہ ٹائون کے وکیل کی جانب سے الاٹیز کے وکیل کے پیش ہونے کی مخالفت کی گئی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ انفرادی کیسز کا 184/3 میں نہ سنا جائے،ماضی میں بھی بحریہ ٹائون کو بہت بلیک میل کیا جا چکا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کا فائدہ الاٹیز کو ہی ہونا ہے، الاٹیز کے حوالے سے عدالتی حکم میں ذکر موجود ہے،

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاون کی ادائیگیوں کے معاملے پر بحریہ ٹاون کے بجائے رقم جمع کرانے والے دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ یہ نوٹ کیا گیا کچھ رقوم بحریہ ٹاون نے خود ادا نہیں کیں،بحریہ ٹاون کے وکیل ہدایات اور معلومات لیکر اس پر جواب دیں، کیس کی آئندہ سماعت 8 نومبر کو ہو گی،سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس کا بالواسطہ نوٹس لے لیا، بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کے عوض رقم ادا کرنے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • سپریم کورٹ نے حکومت کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے حکومت کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روک دیا

    حکومت کے ناجائز اختیارات کے استعمال پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ،سپریم کورٹ نے حکومت کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ حکومت شہریوں کیخلاف بے بنیاد اور جھوٹی کاروائیوں سے ہرہیز کرے،ا ختیارات کے باجائز استعمال سے عوام میں خوف اور عدم سیکورٹی کا احساس پیدا ہوتا ہے،خوف کا ماحول ریاستی اداروں کیخلاف نفرت پیداکرتا ہے،خوف کے ماحول میں میڈیا بھی آزاد کام نہیں کر سکتا،حکومت ناقدین اور سیاسی مخالفین کو اپنا دشمن نہ سمجھے،آئین ہر شہری کو سیاسی معاشرتی اور آزادی رائے کا حق دیتا ہے، شہریوں کے جائز حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے،

    فیصلے میں کہا گیا کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا عوام تک معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہیں، آزادی رائے کا حق استعمال کرنے پر سیاسی ورکرز، صحافیوں و دیگر پر مقدمات کا اندراج ہو رہا ہے،یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ عوامی نمائندے،صحافی اور سیاسی ورکرز ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں،حکومت کی ایسی کاروائیاں آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ عماد یوسف کیس میں جاری کیا،جسٹس اعجاز الااحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عماد یوسف کو شہباز گل کیس سے بری کردیا تھا

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

  • نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف نگران وفاقی حکومت کی جانب سے اپیل دائر کرنے کا معاملہ،اپیل کی درخواست دائر کرنے کے بعد واپس لے لی گئی

    وفاقی حکومت نے بذریعہ اٹارنی عدالت عظمی نے اپیل دائر کرنے کیلئے مہلت مانگ لی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اپیل دائر کرنے کے لیے 15 روز کا وقت دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کچھ مزید گراؤنڈز شامل کی جارہی ہیں،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے سے اپیل کا حق مل گیا،

    وفاقی حکومت نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف وکیل مخدوم علی خان کے ذریعے اپیل تیار کررہی ہے،سابق چیف جسٹس بندیال نے دو ایک کے تناسب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا ،نیب ترامیم کے خلاف 15 ستمبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا

    قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ھے کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ھے۔ سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو بحال کرے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمان کے اختیارات پر تجاوز کے مترادف ہے۔ اپیل میں فیڈریشن، نیب اور چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیاہے،وفاق نے اپنی اپیل میں نیب ترامیم کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار اور ترامیم کو بحال کرنے کی استدعا کی ہے

    قبل ازیں نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی تھی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • سپریم کورٹ،خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

    باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کا لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حکم قانون کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ نے فیصلے میں ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ سے متاثرہ افراد نیپرا سے رجوع کریں،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قانون میں ڈسکوز کیخلاف نیپرا اتھارٹی اور ٹربیونل کے فورم قائم کئے گئے ہیں، متعلقہ فورم کے ہوتے ہوئے ہائیکورٹ براہ راست حکم جاری نہیں کر سکتی،

    وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے لوڈشیڈنگ کی صورت میں حکام کیخلاف مقدمات درج کرانے کا حکم دیا،لوڈشیڈنگ پورے ملک کا مسئلہ ہے پیسکو حکام کیخلاف مقدمات بلاجواز ہونگے، وکیل جواب دہندہ نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ حکم میں لوڈشیڈنگ کی تفصیل مانگی تھی،ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بل دینے والوں کو بجلی فراہم کی جائے، دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کئی تکنیکی نکات بھی آسکتے ہیں عدالت کیسے جائزہ لے گی، جن فیڈرز سے ریکوری نہیں ہو رہی ان کا کیا کرینگے،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پیسکو کی اپیل منظور کر لی

  • کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ چیف جسٹس

    کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں افغان نژاد ڈنمارک کے شہری کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل نادرا نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار نے پی او سی کی توثیق کیلئے درخواست دی تھی، افنان کریم کنڈی نے کہا کہ آئی ایس آئی کی مخالفت پر پی او سی کارڈ کی توثیق نہیں کی گئی، پی او سی کارڈ ان غیرملکیوں کو جاری ہوتا ہے جن کی شادی پاکستان میں ہوئی ہو، بھارت یا کسی بھی دشمن ملک سے تعلق رکھنے والے کو کارڈ جاری نہیں ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ پی او سی کارڈ کی توثیق کی مخالفت کس بنیاد پر کی گئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار افغان شہری ہے، اہلخانہ کے صرف نام دیے گئے پتہ نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کیخلاف کوئی شواہد ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار کے بہن بھائی کابل اور لوگر میں رہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی خود طورخم اور چمن بارڈر جائیں اور دیکھیں کیا ہو رہا ہے، جس کو دل کرتا ہے پاکستان آنے دیا جاتا ہے جسے دل چاہے روک دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسوں کا دھندا یہاں کھڑے ہوکر نہ کریں،

    جسٹس اطہرمن اللہ سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلاوجہ کسی پر شک کرنا انسانی حقوق کیخلاف ہے، درخواست گزار کے بیوی بچے پاکستانی اور ملک میں موجود ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت مانگ لی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ سماعت تک درخواست گزار کو ملک سے نہیں نکالا جائے گا

    عدالت نے حکم دیا کہ مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں، دوران سماعت مداخلت پر عدالت نے درخواست گزار حیات اللہ وفادارکو جھاڑ پلا دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کادرخواست گزار کی اہلیہ سے دلچسپ مکالمہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا حیات اللہ گھر میں آپ کی بات سنتا ہے؟ ہماری تو نہیں سن رہا،خاتون نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ گھر میں میری بات سنتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ وفادار صاحب آپ کیساتھ وفادار ہیں ملک میں رہ سکتے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • سپریم کورٹ،بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم

    سپریم کورٹ،بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاملہ نیپرا ایپلٹ ٹریبونل کو بھیج دیا،سپریم کورٹ نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف کمپنیوں کا معاملہ نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل کو بھیج دیا ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ آئینی و قانونی طور پر قابل عمل نہیں، نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل میں صارف کمپنیاں 15 دن میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف اپیلیں دائر کریں، نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل 10 دن میں اپیلیں مقرر کرے، نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل جلد از جلد قانونی میعاد کے اندر اپیلوں پر فیصلہ کرے

    لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا

  • سپریم کورٹ ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور

    سپریم کورٹ ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور کر لی

    سپریم کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ! عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ پر معلومات تک رسائی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا تاہم مفاد عامہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے رجسٹرار آفس سات روز کے اندر درخواست گزار مختار احمد کو متعلقہ معلومات فراہم کرے !رائٹ ٹو ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کا سپریم کورٹ عملہ پر لاگو ہو گا

    جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ بھی تحریر کیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معلومات کے حصول کا تقاضہ کرنے والے پر وجوہات بتانا لازم ہے درخواست گزار کو انٹراکورٹ اپیل اور سپریم کورٹ میں اپیل کیلئے جمع کرائی گئی فیس واپس کی جائے فیصلےکو اردو میں بھی جاری کیا جائے معلومات فراہم کرنے والا وجوہات کے جائزے کا پابند ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ،چیف جسٹس سمیت جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 27ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ میں ملازمین کی تفصیلات سے متعلق شہری نے درخواست دائر کی تھی ۔عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو دو ہفتوں میں تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

  • عام شہریوں کی سرکاری اداروں سے متعلق معلومات تک رسائی،فیصلہ کل

    عام شہریوں کی سرکاری اداروں سے متعلق معلومات تک رسائی،فیصلہ کل

    رائٹ ٹو ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ کیس،سپریم کورٹ انتظامی عملہ پر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے لاگو ہونے سے متعلق مقدمے کا فیصلہ کل سنائے گی

    سپریم کورٹ عام شہریوں کی سرکاری اداروں سے متعلق معلومات تک رسائی کے قانون پر کل فیصلہ سنائے گی ، چیف جسٹس شہریوں کی سرکاری اداروں سے معلومات تک رسائی کے قانون سے متعلق محفوظ فیصلہ کل سنائیں گے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ،چیف جسٹس سمیت جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 27ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ میں ملازمین کی تفصیلات سے متعلق شہری نے درخواست دائر کی تھی ۔عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو دو ہفتوں میں تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

  • سپریم کورٹ،بحریہ ٹاؤن مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد  کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،بحریہ ٹاؤن مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پروجیکٹس کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا

    سپریم کورٹ کے 2018 میں دیے گئے بحریہ ٹاؤن کے مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد اور نظرثانی کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس امین الدین جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،سپریم کورٹ 18 اکتوبر کو کیس کی سماعت کریگی ،رجسٹرار سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دائر درجنوں درخواستیں بھی ہیں جو بحریہ ٹاؤن کراچی، بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور بحریہ ٹاؤن مری کے مقدمات سے متعلق ہیں،ان مقدمات میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رقم کی ازسرنو سرمایہ کاری کا معاملہ بھی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے،دو ارب 51 کروڑ روپے کی رقم کے ایک چیک کی درخواست بھی سماعت کے لیے لگائی گئی ہے جس کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا تھا،

    بحریہ ٹاؤن کراچی کے فیصلے کے حوالے سے 12 درخواستیں ہیں جبکہ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے حوالے سے فیصلے پر چھ درخواستیں سُنی جائیں گی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

    ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، سب کا پیسہ پاکستان آنا چاہئے، ملک ریاض بول پڑے

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ