Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آصف علی زرداری، نواز شریف، مراد علی شاہ، شاہد خاقان عباسی سمیت 80 نیب کیسز بحال

    آصف علی زرداری، نواز شریف، مراد علی شاہ، شاہد خاقان عباسی سمیت 80 نیب کیسز بحال

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد کیسز کا ریکارڈ احتساب عدالت جمع کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب ترامیم کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نیب میں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی نیب نے دو سے تین دن میں کیسز کا ریکارڈ احتساب عدالت اسلام آباد میں جمع کروانے کا فیصلہ کرلیا، تمام اہم کیسز کا ریکارڈ اکٹھا کر کے جمع کروایا جائے گا۔

    نیب نے نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر سیاست دانوں کے 80 کرپشن کیسز بحال کرتے ہوئے احتساب عدالت اسلام آباد کو خط لکھ دیا سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے ایکشن لیتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 80 کیسز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے نیب نے رجسٹرار احتساب عدالت کو خط لکھ دیا جس کے بعد کل کیسز کا ریکارڈ پیش کیا جائے گا۔

    عدالتی حکم پر آصف علی زرداری، نواز شریف، مراد علی شاہ، شاہد خاقان عباسی سمیت 80 کیسز بحال کردیئے گئے ہیں، اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا داخل دفتر کیا گیا کیس بھی کھولا جارہا ہے۔

    ذرائع نیب کورٹ کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹ کیسز بھی بحال ہوگئے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس کھل گیا، نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ گاڑیوں کا کیس بھی کھل گیا ہے نیب فہرست کے حساب سے کل ریکارڈ پیش کرے گی۔

    واضح رہے کہ 15 ستمبر کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم کو کالعدم دے دیا تھا عدالت نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیا جس کے بعد مختلف سیاستدانوں کے خلاف نیب کے مقدمات بحال ہوئے ہیں سپریم کورٹ نے پلی بارگین سے متعلق ترامیم کالعدم قرار دیتے ہوئے ہوئے نیب کو 7 دن میں ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھیجنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    گندم سے بھرا جہاز بلغاریہ سے پاکستان پہنچ گیا

    58 صفحات پر مشتمل فیصلےمیں اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے 2 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ لکھا جو تحریری فیصلے میں شامل ہے تحریری فیصلے میں نیب سیکشن 3 اور سیکشن 4 سے متعلق ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، فیصلے میں کرپشن اور بے ایمانی کی تعریف کے حوالے سے کی گئی ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی، جب کہ سروس آف پاکستان کے خلاف دائر ریفرنسز کیلئے سیکشن 9 اے فائیو میں کی گئی ترمیم برقرار رہے گی۔

    سرکاری ملازمین کو مفت بجلی فراہم نہیں کر سکتے،وزارت توانائی

    تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ میں رہنا یا نہ رہنا سیاسی فیصلہ ہے، عدالت سیاسی جماعتوں کے سیاسی فیصلوں کا جائزہ نہیں لے سکتی،نیب ترامیم آرٹیکل 9 ، 14 ، 24 اور 25 متصادم ہیں، پارلیمنٹ نے ترامیم کے ذریعے 50 کروڑ سے کم کرپشن معاف کرکے عدلیہ کا اختیار استعمال کیا، این آر او کیس میں بھی عدالت کا موقف تھا کہ کیسز عدلیہ ہی ختم کر سکتی ہے، درخواست اس بنیاد پر مسترد کرنا غیر مناسب ہے کہ ترامیم کی پارلیمنٹ میں مخالفت نہیں کی گئی۔

    نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں اضافہ

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پلی بارگین میں عدالتی اختیار کو ختم کرنا عدلیہ کی آزادی اور آئین کے آرٹیکل 175/3 کے بر خلاف ہے، نیب قانون میں مجرم اور پلی بارگین کرنے والے عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیے گئے ہیں، پلی بارگین کے ملزمان کو رعایت دینا خود نیب قانون کی سیکشن 15 کے خلاف ہے۔

    یو اے ای نے پاکستانی تازہ گوشت کی سمندری راستے سے امپورٹ بند کردی

  • یا تواردومیں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    یا تواردومیں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں،چیف جسٹس وکیل پر برہم

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران دو زبانوں میں دلائل دینے پر وکیل پر برہم ہوگئے-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں زمین تنازع سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، تو چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور وکیل کے مابین دلچسپ مکالمہ ہوا دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ پٹھان توسب سے اچھے ہوتے ہیں،جتنا اخلاق آپ کووہاں ملے گا ایسا کہیں اورنہیں، لیکن پٹھانوں کا بس یہ ہے کہ وہ دشمنی بڑی لمبی چلاتے ہیں۔

    وکیل نے جواب میں کہا کہ لگتا ہےمیں نے غلط جگہ پر ایسی بات کردی وکیل کے جملے پر عدالت میں قہقہے بکھر گئے وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے بھی مزاحیہ انداز میں کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بینچ میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہوگا چیف جسٹس پر ایک بار پھر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

    الیکشن کمیشن نے ووٹرز کا ڈیٹا جاری کردیا

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے شوقیہ مقدمہ بازی کوبند کرنا ہے چیف جسٹس وکیل کے اردو اور انگریزی دونوں میں دلائل دینے پر شدید برہم ہوگئے اور کہا کہ آپ نے 2 زبانوں کا قتل کیا ہے، یا تو اردو میں بتائیں یا پوری انگریزی بولیں۔

    دوسری جانب بھارت کے بعد پاکستان عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے والا دوسرا ایشیائی ملک بن گیا، کینیڈا اور برطانیہ میں بھی عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا نظام رائج ہے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی براہ راست سماعت سے ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار کسی کیس کی لائیو اسٹریمنگ کی گئی عام طور پر کمرہ عدالت کے اندر کیمرے لانے اور تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    ریلویز پولیس نےمہنگا ترین موبائل فون برآمد کرکے مسافر کے حوالے کردیا

    عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے والا پاکستان پہلا ملک نہیں بلکہ دنیا میں اس کی مثالیں پہلے ہی موجود ہیں کینیڈا، برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالتوں میں بھی عدالتی مقدمات کی لائیو اسٹریمنگ کا طریقہ اپنایا جاتا ہے ایشیائی ممالک کی بات کی جائے تو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ستمبر 2022 میں پہلی مرتبہ آئینی معاملات کی لائیو اسٹریمنگ شروع کی تھی بھارت میں اس نظام کا آغاز ایک طویل بحث کے بعد شروع ہوا۔

    معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے 3 کیسز نمٹا دیئے

  • معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے  3 کیسز نمٹا دیئے

    معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے 3 کیسز نمٹا دیئے

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3 کیسز نمٹا دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے آج سے معمول کے کیس سننا شروع کردئیے ہیں، اور ان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے5میں سے3 کیسز نمٹا دئیے ہیں،سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں پاکستان پوسٹ کی درخواست خارج کردی ہےقتل کے کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی، اور سی ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے کیس میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی، جب کہ ملازمت بحالی کیلئے دائراپیل میں وکیل کی استدعا پر 2 ہفتوں کا وقت دے دیا۔

    کراچی سمیت ملک بھر میں کل تک مزید بارشوں کا امکان

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اتوار کو چیف جسٹس کا حلف لیا تھا اورگزشتہ روز ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فُل کورٹ نے سماعت کی تھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے اور بلٹ پروف گاڑی بھی لینے سے انکار کردیا تھا چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کا بہت سا تعاون چاہیے، آج میری میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیل سے ملوں گا لوگ سپریم کورٹ خوشی سے نہیں آتے، اپنے مسائل ختم کرنے کے لئے آتے ہیں، لہٰذا آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں یقیناً کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں اور آنے والے لوگوں کی مدد کریں-

    حکومت کا ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر بندیال کے بعد پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ تاہم، انہیں بہت سے اہم مسائل ورثے میں ملے ہیں جو فوری توجہ اور حل کے طالب ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جن اہم ترین خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ان میں سے ایک وہ تاثر ہے جو ان کے پیشرو کے دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بنچ بنیادی طور پر ججوں کے نظریات لے کر تشکیل دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں متوقع نتائج نکلتے ہیں، خاص طور پر سابق وزیر اعظم خان کے معاملات میں۔ اس طرز عمل نے سپریم کورٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کے فیصلوں کو اکثر عوام کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہ صرف بینچ کی تشکیل کو متنوع بنانا چاہیے بلکہ مزید جامع نقطہ نظر کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ایک مثالی مثال مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کو روکنے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق ایک اور قانون سازی کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ کے قیام کی بار بار درخواستیں ہیں۔ پچھلی انتظامیہ کے دوران ان درخواستوں کو مسلسل مسترد کیا گیا۔

    یہ مسئلہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجرز) ایکٹ 2023 سے براہ راست جڑا ہوا ہے، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مفاد عامہ کے کسی بھی معاملے کو تین سینئر ججوں پر مشتمل بنچ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایک قابل ذکر اقدام میں، سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے 13 اپریل کو اس قانون کے نفاذ کو معطل کر دیا۔

    ایک اور اہم چیلنج جس کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سامنا ہے وہ ہے 56,000 سے زائد مقدمات کا، کافی پسماندہ افراد جو حل کے منتظر ہیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں، یہ مقدمات اکثر سابق وزیر اعظم خان کی طرف سے سیاسی معاملات مسلسل لانے کی وجہ سے رہ گئے اور ان کے فیصلے نہ ہو سکے۔ مسٹر سے خطاب کرنے کے لئے "آدھی رات کی عدالتوں” کے تصور کا تعارف۔ خان کی شکایات نے ایک مخصوص فرد کے ساتھ ترجیحی سلوک کا تاثر پیدا کیا۔ لارڈ چیف جسٹس ہیورٹ کے الفاظ میں، "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے” (Rex v. Sussex Justices، [1924] 1 KB 256)۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    یقینا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بینچ کی تشکیل میں اصلاحات، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا، اور کیسز کے بھاری بھرکم بوجھ کو تیزی سے حل کرنا شامل ہیں۔ ان کو اپنی مدت کے دوران دیکھتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ان چیلنجوں کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نمٹتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف سماعت آج 18 ستمبرکو ہوگی چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کرے گا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سماعت کے لئے فل کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا، چیف جسٹس فائزعیسی کا پہلا بنچ ہی تاخیرکا شکارہوگیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے درخواستوں پر سماعت ساڑھے 9 بجے مقرر کی گئی تھی تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود 10 بجے بھی بنچ نہ پہنچ سکا چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس جاری ہے اور تاخیرکی وجہ براہ راست نشریات کیلئے ہونے والی فل کورٹ میٹنگ ہے۔

    سائفر کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں فُل کورٹ کے دیگرارکان میں جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس سید منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظہرعلی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس سید حسن اظہررضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹارنی جنرل، و فاقی سیکریٹری قانون سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل …

    سپریم کورٹ کا فل کورٹ ایجنڈا جاری کردیا گیا جس میں عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ اور کیسز کی سماعتوں کو موثر بنانے کے لیے گائیڈ لائنز بھی ایجنڈے میں شامل ہےفُل کورٹ ایجنڈے کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں8 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ بارایوسی ایشن کی درخواست حکم امتناع جاری کیا تھا۔

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    اس قانون میں چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات سمیت مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دینے کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی بنانے کا کہا گیا تھا یہ کیس 15 ستمبر بروز جمعہ کو رجسٹرار آفس کی جانب سے سپریم کورٹ میں 18 ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر کیا گیا تھا، اور رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

    بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہےکہ عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھایاچیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ پہلےروز بغیر پروٹوکول سپریم کورٹ پہنچے اور وہ اپنی ذاتی گاڑی میں عدالت آئے جہاں عملے نے ان کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر عملے سے گفتگو میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج میری بہت ساری میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیلی ملوں گا، آپ سب کا تعاون چاہیےلوگ سپریم کورٹ خوشی سے نہیں آتے، اپنے مسائل ختم کرنے کیلئے عدالت آتے ہیں لہٰذا آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں یقیناً کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں، آنے والے لوگوں کی مدد کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو اپنی ذمہ داری دل جمی سے ادا کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا تھا، پولیس نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی گارڈ آف آنر دیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج ہو گی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کریں گے، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کرے گاسپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا-

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

  • چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو اپنی ذمہ داری دل جمی سے ادا کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا تھا، پولیس نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی گارڈ آف آنر دیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج ہو گی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کریں گے، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کرے گاسپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا-

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار

  • چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کر رکھا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بھی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے اور انہوں نے اس بات کا اظہار ملٹری کورٹ سے متعلق کیس کے بینچ سے علیحد ہوتے وقت بھی کیا تھااب انہوں نے آج اپنےعہدے کا حلف اٹھانے کےبعد سماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سماعت کل بروز پیر کو ہو گی، کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا 14 رکنی فل کورٹ کرے گا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ چیف جسٹس پاکستان کے اختیارات سے متعلق ہے جسے پارلیمنٹ سے منظور کیا تھا تاہم سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر حکم امتناع دیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا،چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حلف لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں، اور جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کے حلف کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔

    آئین کے مطابق چیف جسٹس اور 2 سینئر ججزسپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ ہوتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا ہے، اور اب جسٹس اعجازالاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بن گئے ہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق پہلے ہی سپریم جوڈیشل کونسل کاحصہ ہیں دوسری جانب جسٹس منیب اختر ججز تقرری کیلئےقائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ بن گئےہیں، جب کہ جسٹس سردار طارق، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصورعلی شاہ پہلے ہی کمیشن کا حصہ ہیں۔

    آئی ایم ایف کےایجنڈے کو پوری طاقت سےآگےبڑھایا جا رہا ہے،حافظ نعیم

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس اور4 سینئر ججزرکن ہوتے ہیں، جب کہ کمیشن کے دیگر ارکان میں ایک ریٹائرڈ جج، وزیرقانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوتے ہیں پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوتا ہے۔

  • نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے،شہباز شریف

    لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے-

    باغی ٹی وی: شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیب ترامیم سےمتعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ افسوسناک ہے، ایک ڈکٹیٹر کے قانون کو بحال کیا گیا چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے حواریوں کو این آر او دینے کے لیے دو بار نیب قانون تبدیل کیا سپریم کورٹ کے نیب ترمیم فیصلے پر بات کرتے ہوئے صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ متنازع فیصلے آئے ہیں، پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون کو مسترد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پوچھنا چاہتا ہوں صدارتی آرڈیننس کے وقت جسٹس عمرعطا کہاں تھے،بے بنیاد جھوٹے مقدمات میں نوازشریف کے خلاف فیصلے ہوئے،صدر ن لیگ نے راجہ ریاض کے پارٹی میں شمولیت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینئر سیاستدان کی ن لیگ میں شمولیت سے پارٹی کو تقویت ملےگی۔

    راجہ ریاض نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی

    واضح رہے کہ لندن میں راجہ ریاض نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور راجہ ریاض نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی اس سے قبل راجہ ریاض کا کہنا تھاکہ ملاقات میں سیاسی گفتگو ہوگی، نوازشریف کی واپسی اورالیکشن بھی موضوع ہوں گے آئندہ چنددنوں میں اہم فیصلے ہوں گے، میں نے 15 فروری انتخابات کی تاریخ دی ہے، اس سے ہفتہ پہلے یا بعد میں ہوں گے نواز شریف کا زبردست استقبال ہوگا، ان کا اپنا ووٹ بینک ہے، مسلم لیگ پرانی جماعت ہے، اس کے فالوورز گہرائی تک ہیں، ن لیگ کو انتخابات سے بھاگنا ہوتا تو نوازشریف واپس نہ جارہے ہوتے، جوفیصلہ ہوگا بتاکر جاؤں گا۔

    سیاسی جماعت کا عوام کو پیٹرول 165 فی لیٹر فراہم کرنے کا اعلان

  • 90 روز میں الیکشن: تحریک انصاف نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کردی

    90 روز میں الیکشن: تحریک انصاف نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کردی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن 90 روز میں کرانے کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی:دو روز قبل تحریک انصاف نے 90 دن میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184(3) درخواست دائر کی تھی سپریم کو رٹ نے پی ٹی آئی کی 90 روز میں انتخابات کرانے کی آئینی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی تھی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 درخواست دائر کی تھی رجسٹرار آفس نے پی ٹی آٸی کو تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا، در خواست گزار نے کسی متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، درخواست میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے۔

    سائفرگمشد گی کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    جس کے بعد تحریک انصاف نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کردی اپیل میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار نے درخواست ناقا بل سماعت ہونے کے اعتراضات لگا کر واپس کردی،رجسٹرار آفس کے اعتراضات جوڈیشل نوعیت کے ہیں درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ رجسٹرار آفس جوڈیشل نوعیت کے اعتراضات نہیں لگا سکتا،رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کر کے درخواست سماعت کیلئے مقرر کی جائے-

    کوئٹہ میں ایرانی پٹرول کی مانگ میں اضافہ