Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ بارے کیس کی سماعت ملتوی

    افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ بارے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر احمان نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار کہاں کا باشندہ ہے تاحال شناخت نہیں ہو سکی ؟ افغانستان اور ڈنمارک میں بھی درخواست گزار کا ٹھکانہ نہ مل سکا، درخواستگزار پاکستانی نہیں افغان شہری ہے سیکیورٹی کلیٸرنس کے بغیر اجازت نہیں دی جا سکتی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افغان شہری قابل احترام ہیں بہت سے افغان شہری لاہور میں مقیم ہیں سیکیورٹی معاملات بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں درخواست گزار کی اہلیہ پاکستانی شہری ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواستگزار حیات اللہ کو تمام معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل متعلقہ اداروں سے ریکارڈ چیک کروائیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کیا جائے

    افغان شہری حیات اللہ نے پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے حیات اللہ نے پاکستان اوریجن کارڈ کی تجدید کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے

    لیڈی ہیلتھ ورکرز کو رات کے وقت بلانے پر سپریم کورٹ کے ریمارکس،بیان حلفی میں کیا کہا گیا؟

    جعلی ڈگریوں پرملازمت کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں چیرمین پی ٹی ائی کا توشہ خانہ کیس ٹرائل کو بھجوانے کے ہائیکورٹ حکم کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کی جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کے خلاف تین درخواستیں دائر کی ہیں، چیرمین پی ٹی ائی 2018 انتخابات میں میانوالی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، الیکشن ایکٹ ہر رکن اسمبلی کو اثاثہ جات کی تفصیل جمع کروانے کا کہتا ہے،6 اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کیلئے سپیکر اسمبلی کے پاس ریفرنس بھیجا ،اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی پر اثاثوں کی غلط ڈیکلریشن کا الزام لگایا سپیکر اسمبلی نے ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ آپ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 پڑھیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنوں میں ہی کاروائی کرسکتا یے،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے ،چیئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف سپیکر نے ریفرنس بھیجا لیکن 120 دن گزرنے کے بعد، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے شکایت کی قانونی حیثیت پر نہیں، ٹرائل کورٹ سے مقدمہ ختم ہوچکا اب کس کو ریمانڈ کیا جا سکتا ہے؟ موجودہ کیس کا سزا کیخلاف مرکزی اپیل پر کیا اثر ہوگا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کو گھڑی کی سوئیاں واپس پہلے والی پوزیشن پر لانی ہونگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا نہ کوئی فوجداری کارروئی تاحکم ثانی نہیں ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اپ نے شکایت کی قانونی حیشت کو چیلنج ہی نہیں کیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہاں بھیجیں گے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس ساری مشق کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے ،انصاف تک کی رسائی کو روکا جاتا رہا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے فیصلے پبلک ہوتے ہیں، فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور فیصلوں تک ہی رہنی چاہیے، ادارے ایسے ہی کام کر سکتے ہیں،جسٹس مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ دینے کے کتنے دن بعد شکائت بھیجی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں دنوں کا تعین اثاثوں کے تفصیل جمع کرانے کے بعد سے لکھا ہے، سردار لطیف کھوسہ نے قانون پڑھ کر سنا دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 342 اسمبلی ممبران پھر صوبائی ممبران سب کی تفصیل الیکشن کمشن 120 دن میں کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ 120 دن کہاں سے شروع ہوں گے کے یہ دیکھنے کے لیے اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہو گا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا مقدمہ بار بار ایک ہی جج کو بھجوایا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی عدالت پر تعصب کا الزام نہیں لگا سکتے، سپریم کورٹ یہاں سول جج تک اپنے تمام ججز کا دفاع کرے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے اس عدلیہ کے لیے اپنا خون بہایا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس لیے تو آپ سے توقعات زیادہ ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کے لیے حاضر ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے لیے نہیں اس چئیر کے لیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے معاملہ ٹرائل کورٹ بھیجا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ جج فیصلہ دیکر لندن روانہ ہو گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لندن والی بات نہ کریں، آپ صرف یہ بتائیں ہائی کورٹ کے بتائے نکات پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا یا نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ان نکات پر فیصلہ نہیں کیا کیس قابل سماعت ہونے کا اپنا سابقہ فیصلہ بحال کردیا،ان جج صاحب نے فیس بک پر چئیرمیں پی ٹی آئی کیخلاف زہر اگلا ہوا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی.

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں، عمران خان کو غلط طریقے سے سزا سنائی گئی،عمران خان کو سزا سنانے میں کوئی ایک نہیں کئی بڑی غلطیاں ہوئیں، عمران خان کا حق دفاع ختم کرنا غلط تھا، ٹرائل کورٹ کے جج نے اس فیصلے پر انحصار کیا، جو کالعدم ہو چکا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملک کی کسی اور عدالت میں یہ سب ہوتا ہے جو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوا؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ ہر بات پر اسلام آباد ہائیکورٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اعتراض نہ کریں تو پھر کیا کریں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کردیا تو آپ اپیل کردیں، عدالت کا ہر فیصلہ پبلک ڈومین میں جاتا ہے،
    عدالت کا فیصلہ ڈسکس ہونا چاہیے ججز نہیں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا ،ٹھیک ہے سر، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ نے چار اگست کو آپ کی درخواستوں پر فیصلہ کردیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں پھر 120 کی حد کیوں دی گئی ہے ؟ کیا ساری عمر یہ تلوار لٹکتی رہے گی ؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جب ڈیکلریشن کا جھوٹا ہونے کا پتہ چلے گا اس کے 120 دن تک شکایت درج ہوسکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 800 سے زیادہ ارکان ہیں، الیکشن کمیشن نے سینکڑوں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ 120 دن میں تو نہیں لے سکتا،120 دن کب شروع ہوں گے اس کے لیے مائنڈ آپلائی کرنا پڑتا ہے، پانچ اگست کو اپیل کا فیصلہ ہوگیا آپ نے چینلج بھی کردیا،ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو تعصب کے ساتھ ٹرائل کی تیز رفتاری پر بھی اعتراض تھا،اگر کوئی فیصلہ غلط ہے اس میں مداخلت کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ یہاں ہر جج کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے،سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ماتحت عدالت تک ہر جج کی عزت برابر ہے،جب فیصلہ آجاتا ہے تو وہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے، تنقید عدالتی فیصلے پر کریں ادارے پر نہیں،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی پھر شکایت بھیجی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،قومی اسمبلی کے 342 ارکان ہوتے ہیں،120دن میں شکایت بھیجنا مشکل ہے،آپ عدالتی فیصلے پر بات کریں، جج پر بات نا کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ٹرائل کورٹ تک سب کی برابر عزت و تکریم ہے، ہم نے آپ کیلئے خون دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دیا، آئین کیلئے ہم گواہ ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے آئین کیلئے جدوجہد کی، کسی جج کیلئے نہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی واپس ہائیکورٹ بھیج دیا،سپریم کورٹ ہمارے اعتراضات کو سن کر فیصلہ کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہائیکورٹ کے فورم کو کیوں ضائع کررہے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    ہائیکورٹ کا فورم ضائع ہوتا ہے تو ہونے دیں،ہم خوار ہورہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ جزباتی ہونے کی بجائے قانون کے مطابق دلائل دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرسماعت ہیں انہیں فیصلہ کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا ہائیکورٹ مائنڈ اپلائی کرکے فیصلہ دے، بار بار کیسز عدالتوں میں آتے رہے، امجد پرویز وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ اس کیس میں پیش ہونے کیلئے میرے پاس اٹارنی نہیں ہے، عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، اس کیس پر آپ سے معاونت لیں گے، ہائیکورٹ نے خود فیصلہ کرنے کی بجائے پھر ریمانڈ بیک کردیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 3سے4 مرتبہ کیس میں وقفہ کیا لیکن ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، پھر سیشن کورٹ نے فیصلہ کردیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے دن کے مواقع دئیے گئے، اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو میرے خلاف تمام مقدمات کی شنوائی سے روکا جائے،میرے تمام مقدمات اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور یا پشاور ہائیکورٹس منتقل کیے جائیں،عدالتی فیصلہ ہونے تک جسٹس عامر فاروق کو مقدمات کی سماعت سے روکا جائے،

    سپریم کورٹ میں درخواست آرٹیکل 186 اے کے تحت دائر کی گئی ،درخواست ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے میرے خلاف تعصب کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، مجھے جیل میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ میں انتخابات میں حصہ نہ لے سکوں،مجھے میرے قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا، جج ہمایوں دلاور مجھے سزا دینے کے لیے تیار تھا اس لیے میرا مقدمہ اس کے پاس بھجوایا گیا،جج ہمایوں دلاور مجھ سے نفرت کرتا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر جج ہمایوں دلاور نے مجھے سزا سنائی،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، لیگی رہنما جاوید لطیف کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے مطلع کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جاوید لطیف کا مقدمہ انکوائری کی سطح پر تھا جس میں گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ تین جولائی 2023 کی ترمیم کے بعد انکوائری کے دوران بھی گرفتاری ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جولائی میں ہونے والی نیب ترمیم مشکوک ہے، تین جولائی کو کی گئی نیب ترامیم عدالتی فیصلوں کے متصادم ہیں،سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟ نیب قانون 2001 تک ڈریکونین تھا، نیب قانون میں ریمانڈ کا دورانیہ کم کرنے اور ضمانت دینے کی ترامیم اچھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کی تشریح عدالتی فیصلوں اور آئین کے تناظر میں ہی ہوسکتی ہے، عدالت نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی ،عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم تین جولائی کی ترمیم سے پہلے کا ہے، پراسیکیوٹر رضوان ستّی نے کہا کہ نیب ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑیں جی ان باتوں کو، چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری 

    نیب لاہور کی کاروائی، مونس الہی کے لیے مشکلات مزید بڑھنے لگیں

  • آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل،معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

    سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے پاس آئے، ایک دن خبر آئی کہ صدر مملکت نے دستخط کر دیئے تاہم دوسرے روز صدر مملکت نے ٹویٹ کر دی اور کہا کہ میں نے دستخط نہیں کئے، اسکے بعد پاکستانی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، صدر مملکت سے انکی حریف جماعتوں کے رہنما استعفیٰ مانگ رہے ہیں کہ اگر انکا سیکرٹری،یا پی اے انکی بات نہیں مانتا تو صدر فوری مستعفی ہوں اور گھر جائیں

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کو اس عدالت میں سخت سیکورٹی میں پیش کیا گیا تھا

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں،چیف جسٹس

    عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں،چیف جسٹس

    براڈ شیٹ کمپنی کی پانامہ جے آئی ٹی کے والیم 10 تک رسائی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،براڈ شیٹ کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے، وکیل براڈ شیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی غیر موثر نہیں ہوا، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں ثالثی کورٹ میں کارروائی کا کیا بنا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہاں معاملہ نمٹ چُکا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ والیم 10 میں ایسا کیا ہے کہ اسے خفیہ رکھا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے مگر ہمیں پتہ تو چلے کہ ہمارے سامنے درخواست کیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ نے پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے بارے میں کوئی آبزرویشن دی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت عوام کا حق ہے کہ وہ دیکھیں کیسے ملک کو لوٹا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم اس طرف نہیں جائیں گے کیونکہ اس میں تو ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، آپ کو والیم 10 ثالثی کورٹ میں کارروائی کے لیے چاہیے تھا، وہاں معاملہ نمٹ چُکا اب تو آپ کی درخواست غیر موثر ہو چُکی،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ براڈ شیٹ کو ریکور پراپرٹی میں سے بیس فیصد حصہ مل چُکا، 28 ملین ڈالر دیے گئے، براڈ شیٹ کمپنی نے والیم 10 فراہم کرنے کی درخواست واپس لے لی .وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ضرورت پڑی تو والیم 10 فراہمی کی نئی درخواست دائر کریں گے براڈ شیٹ کے ساتھ یہی معاہدہ تھا کہ شریف فیملی کی پراپراٹی سے ریکور 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا، پاکستان عوام کا 80 فیصد حصہ کہاں ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستانی عوام کی بات نہ کریں،اپ اپنے موکل براڈ شیٹ کی بات کریں، اگر والیم 10 میں کچھ بھی ہوتا تو پانامہ کا پانچ رکنی بنچ ضرور لکھتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ براڈشیٹ اب والیم 10 سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، براڈ شیٹ کی حد تک معاملہ نمٹ چکا ہےدوسرا فریق نیب ہے،وہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ شریف خاندان کے اثاثوں کا کھوج لگانے کیلئے براڈشیٹ کی خدمات لی گئیں،ملک کو کیسے لوٹ کر جائیدادیں بنائی گئیں سب سامنے لایا جائے یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی ایشو ہے تو براڈشیٹ کے کندھے پر رکھ کر فائر نہ کریں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس میں عدالت فیصلہ کرچکی، وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، اپنے دلائل کو پانچ رکنی بنچ کے فیصلے سے تک ہی محدود رکھیں، کیا پانامہ فیصلے میں والیم 10 کے حوالے سے کوئی ہدایت ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانامہ کے حتمی فیصلے میں والیم 10 کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے کچھ نہیں ہے، والیم 10 کو خفیہ رکھنے کا آرڈر حتمی فیصلے میں ضم نہیں کیا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی پاکستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرسکتی،اپ پاکستان کے عوام کی جانب سے نہیں کمپنی کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے براڈ شیٹ کمپنی کے وکیل لطیف کھوسہ کی والیم 10 تک رسائی کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایک شخص ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک گیا اور تدریسی عمل جاری رکھا، بھارتی شہری کو 102سال کی عمر میں نوبل انعام ملا،پاکستان میں جو بہترین دماغ تھے وہ اس وقت حکومت میں ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ بہتر دماغ اس وقت عدالت میں بھی موجود ہیں جن کی ذمہ داری ہے ملک آئین کے مطابق چلانا، پانامہ فیصلے میں لکھا ہے کہ اداروں پر شریف خاندان کا قبضہ تھا، آج بھی تمام اداروں پر قبضہ ہوچکا ہے،ملک سے زیادہ کسی چیز سے پیار نہیں کرتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ساتھ تو سب کو ہی محبت ہے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

  • مریم نواز کیخلاف ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    مریم نواز کیخلاف ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی سے متعلق نیب کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں ن لیگ کی چیف آگنائزر مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،نیب نے مریم نوازکے خلاف درخواست واپس لے لی، اور عدالت نے مریم نوازکے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پرخارج کردی۔

    نیب نے کیس میں تحریری جواب عدالت میں جمع کرایا، تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پروسیکیوٹر کو تحریری جواب پڑھنے کی ہدایت کی نیب پروسیکیوٹر نےعدالت کوبتایاکہ مریم نواز کا کیس نیب ترامیم کے بعد قابل سماعت نہیں رہا، درخواست خارج کرنے کی بجائے نمٹا دیں چیف جسٹس نےاستفسارکیاکہ درخواست نمٹائیں گے تو آپ کوپسند آئے گاعدالت نے مریم نواز کے خلاف نیب درخواست خارج کرتے ہو ئے کیس نمٹا دیا۔

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر …

    واضح رہے کہ مریم نواز پر شمیم شوگر ملز کیس میں آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے، اور نیب نے شمیم شوگر ملزکیس میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کی تھی۔

    ڈینگی مریضوں کی تعداد میں اضافہ

    ملک میں مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی

  • سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ پر سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیدیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کل سماعت کریگا سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    جڑانوالہ میں چرچ اور عیسائی برادری کے گھروں پر حملوں کے خلاف متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی سپریم کورٹ گھنائونے واقعے کا ازخود نوٹس لے ،درخواست اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مقدمے میں دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ اقلیتی برادری پر۔حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ،درخواست منارٹیز الائنس ایمپلیمنٹشن کی جانب سے دی گئی تھی

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی 

  • سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اپیل 23 اگست کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہونگے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی،چیرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 اگست کے فیصلوں کو چیلنج کیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ قابل سماعت ہونے کا معاملہ واپس جج ہمایوں دلاور کو بھجوادیا تھا ،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • درخواست گزار کو کہیں کہ وہ معاشی معاملات پر اخبار میں لکھ کرعوام کو شعور دیں،چیف جسٹس

    درخواست گزار کو کہیں کہ وہ معاشی معاملات پر اخبار میں لکھ کرعوام کو شعور دیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آئینی حد سے زیادہ قرضے لینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آئینی حد سے زیادہ قرضے لینے سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس اطہر من اللہ بینچ کا حصہ تھے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ 2020 میں قرضے لینے سے متعلق آئینی درخواست دائر کی، کیس میں فریق حفیظ شیخ اور رضا باقر تو بھاگ چکے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا کیس یہ ہے کہ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ 2005 پر عملدرآمد نہیں کیا گیا وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ حکومتوں نے حد سے زیادہ قرضے لے کر آئینی خلاف ورزی کی۔

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے ہائیکورٹ جانا چاہیے، ملک شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے اٹھائے گئے نکتے میں وزن ہے، آخر ملک پر اتنا قرض کیوں لیا گیا؟ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دیکھیں کہ 1947 سے آج تک سالانہ کتنے قرض لیے گئےملک کو ابتر معاشی صورتحال کا سامنا ہے، یہ بہتر وقت نہیں ہے کہ عدالت اس قسم کی درخواست کو سنے۔

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئےکہ آپ نےجوتجاویز دینی ہیں وہ وفاقی حکومت کو دیں،سپریم کورٹ کومعاشی مسائل میں مت الجھائیں، عدالت پہلے ہی بہت سے معاملات میں الجھی رہی ہے،وفاقی حکومت ہی معیشت سے متعلق معاملات دیکھنے کا متعلقہ فورم ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کو کہیں کہ وہ معاشی معاملات پر اخبار میں لکھ کرعوام کو شعور دیں۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    عدالت نے وکیل کو درخواست گزار ڈاکٹر محمد زبیر سے ہدایات لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔