Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ ,نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی،،ابراہیم ابڑو ایڈووکیٹ درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر چار اپریل 2022 کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ،آئین کے آرٹیکل 207 کے تحت جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نگران وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے ہیں ،چیف جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سپریم کورٹ کے جج ریٹائرڈ ہوئے ہیں، احترام سے بات کریں، بتایا جائے کس قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟

    درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر دو سال تک کسی منافع بخش عہدے پر تعینات نہیں ہوسکتے ہیں ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ریٹائرمنٹ کے دو سال مکمل کیے بغیر نگراں وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے ہیں ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی بطور نگران وزیر اعلیٰ سندھ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 207 کی خلاف ورزی ہے ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو بطور نگران وزیر اعلیٰ کام کرنے سے روکا جائے ،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • تین سال ایک شخص کواندررکھا اوراب کہہ رہے کیس نہیں بنتا،سپریم کورٹ نیب پر برہم

    تین سال ایک شخص کواندررکھا اوراب کہہ رہے کیس نہیں بنتا،سپریم کورٹ نیب پر برہم

    سپریم کورٹ میں احد چیمہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت نیب کی جانب سے تحریری استدعا کی گئی، نیب نے موقف اختیار کیا کہ دوبارہ تحقیقات میں احد چیمہ کے خلاف نیب کا کیس نہیں بنتا ، سپریم کورٹ نیب پر برہم ہو گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین سال ایک شخص کو اندر رکھا اور اب کہہ رہے ہیں کیس نہیں بنتا ،نیب اپنا کنڈکٹ دیکھے نیب کو جرمانہ کیوں نہ کیا جائے ہائیکورٹ کا فیصلہ تفصیلی تھا پھر بھی سپریم میں درخواست دائر کی گئی ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سالوں تحقیقات کرنے کے بعد کہتے ہیں کیس نہیں بنتا ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی شخص کو تین سال اندر رکھنے کا کوئی مداوا ہو سکتا ہے؟

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا کیس نہیں ،پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر کیس واپس لیتے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اج اس کیس کو مثال بناتے ہوئے جرمانہ کیوں نہ کیا جائے ؟ٹرائل کورٹ میں نیب نے 24 بار التوا مانگا، جسٹس جمال خان نے کہا کہ نیب مقدمات سے بری ہونے والے ملزمان نیب کے خلاف مقدمہ کیوں نہ دائر کریں، جو پسندیدہ بن جاتا ہے اسکا کیس واپس لے لیا جاتا ہے، چیرمین نیب کے پاس اتنے لامحدود اختیارات کیسے ہیں ؟ احد چیمہ ابھی کہاں ہیں، پراسیکوٹر نیب نے عدالت میں کہا کہ ابھی احد چیمہ وزیر بنے چکے ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو وہ بھی آپکے پسندیدہ ہو گئے ہوں گے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا احد چیمہ کے خلاف پہلی تحقیقات جانبدار تھیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب میں ترامیم کر کے ضمانت دی گئی جو اچھا ہے، نیب کسی کو فوری گرفتار نہیں کرسکتا

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    احد چیمہ کا حالیہ بیان سنا ؟ کیا آپکو معلوم ہے کہ نیب نے کتنا نقصان پہنچایا ہے؟ عدالت

    واضح رہے کہ نیب نے احد چیمہ کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہوا تھا، نیب ریفرنس کے مطابق احد چیمہ نے اندرون و بیرون ملک اربوں روپے کے ناجائز اثاثہ بنائے،احد چیمہ کے اثاثہ جات کی مارکیٹ اربوں روپے کے قریب ہے،احد چیمہ نے فیملی ممبران کے نام بے نامی جائیدادیں بنائیں، احد چیمہ کے اثاثہ جات کی مارکیٹ ویلیو600 ملین کے قریب ہے، احد چیمہ نے اہلیہ صائمہ احد، والدہ نصرت افزا، بھائی احمد سعود اور بہن سعدیہ منصور کے نام جائیدادیں بنائیں،

  • بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار نے وکلا شاہد کمال ، چوہدری امجد کے ذریعے آئینی سوالات اٹھائے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل کا 5 اگست 2023 کا اجلاس آئینی تھا؟ کیا پنجاب ، کے پی کے نگران وزرائے اعلٰی اجلاس میں شرکت کے مجاز تھے؟ کیا اپیلٹ فورم کی موجودگی میں اجلاس منعقد کیا جاسکتا تھا؟ کیا نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہ سکتی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کا آئینی حکم نظر انداز کرسکتا ہے؟

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا آئینی حکم نظر انداز کرکے حلقہ بندیاں شروع کی جا سکتی ہیں؟ کیا پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر صدر کا آئینی اختیار کم کرسکتی ہے؟

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اسی طرز کی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ کا حصہ ہیں،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر اگئے،چئیرمین پی ٹی کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابھی کیس کی سماعت چل رہی ہے،
    ہائی کورٹ معاملے کا حل نکال رہی ہے، یہی ہمارے نظام کی خوبصورتی ہے، ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیں، پھر سماعت کریں گے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، ہمیں ابھی اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کل اپنے موکل سے اٹک جیل میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران ایک پولیس والا ہمارے درمیان ڈٹ کر بیٹھا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہائی کورٹ کا حکم آئے گا تب دیکھ لینگے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    آپ اللہ کو جواب دے ہیں،میرا کام آپکی معاونت کرنا ہے ،انصاف کرنا نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کردی،سپریم کورٹ نے عمران خان کو جیل میں میسر سہولیات پر رپورٹ طلب کر لی

    دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “بہت تکلیف ہوتی ہے جب وکلاء ہائیکورٹ کے خلاف بیانات دیتے ہیں، سول کورٹ، مجسٹریٹ یا ہائیکورٹ سپریم کورٹ کی ماتحت نہیں ہے، مجسٹریٹ سے لیکر ہائیکورٹ تک ہمارے لیے سب قابل احترام ہیں، کوئی بھی عدالت خود کو سپریم کورٹ کے ماتحت نہ سمجھے”۔

    بعد ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل جمعہ تک سماعت ملتوی کی تو سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی

    مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو بدمزگی ہوئی اس پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، آج شکر ہے پرسکون ماحول ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر کیا آپ شامل تفتیش ہوئے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شامل تفتیش ہونا بھی نہیں ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ شامل تفتیش ہوں گے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگتیں، جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں وہاں پیش نہیں ہوں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اور بھی سوالات ہم نے سوچ رکھے ہیں،شکایت کنندہ کی غیر موجودگی میں کیس نہیں سن سکتے، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کیس کو عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    پی ٹی آئی وکیل علی اعجاز بٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ وکیل قتل کیس میں دوسری طرف مدعی کے وکیل آج بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوۓ اس وجہ سے کیس ملتوی ہو گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے،اس کیس میں خان صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج

    رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج

    اسلام آباد: اسابق وزیر داخلہ اور لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، اس دوران نیب کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ لاہور ہائی کورٹ رانا ثنا اللہ کے خلاف انکوائری کالعدم قرار دے چکی ہے عدالت نے درخواست غیر مؤثر ہونے پر رانا ثنا اللہ کی نیب مقدمہ میں ضمانت منسوخی کیلئے دائر نیب اپیل نمٹا دی۔

    دوسری جانب احد چیمہ کی ضمانت منسوخی کا ایک پرانا کیس بھی سماعت کیلئے مقرر ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ 25 اگست کو سماعت کرے گا۔

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    واضح رہے کہ جمعہ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے پاناما والیم ٹین کھولنے، مریم نواز اور رانا ثنا اللہ کی ضمانتیں منسوخ کرنے اور پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں مریم نواز، احد چیمہ، رانا ثناء اللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں سمیت اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کئے تھے-

    آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی

  • جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سپریم کورٹ: پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری ہوئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لے لیا ،اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، صحافی ہر وہ چیز معلوم کرسکتے ہیں جس میں پبلک انٹرسٹ ہو، میڈیا کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا ہوتا ہے، جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں،آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے،دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں، ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سچ کی تلاش کے حوالے سے قرآنی آیات اور مختلف احادیث کے حوالے دیئے گئے، انکا کہنا تھا کہ جج آئین و قانون کے دائرے میں کام کرتا ہے سچ اور انصاف کا گہرا تعلق ہے،میں آپ کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیئے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ بارے کیس کی سماعت ملتوی

    افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ بارے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر احمان نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار کہاں کا باشندہ ہے تاحال شناخت نہیں ہو سکی ؟ افغانستان اور ڈنمارک میں بھی درخواست گزار کا ٹھکانہ نہ مل سکا، درخواستگزار پاکستانی نہیں افغان شہری ہے سیکیورٹی کلیٸرنس کے بغیر اجازت نہیں دی جا سکتی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افغان شہری قابل احترام ہیں بہت سے افغان شہری لاہور میں مقیم ہیں سیکیورٹی معاملات بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں درخواست گزار کی اہلیہ پاکستانی شہری ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواستگزار حیات اللہ کو تمام معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل متعلقہ اداروں سے ریکارڈ چیک کروائیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کیا جائے

    افغان شہری حیات اللہ نے پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے حیات اللہ نے پاکستان اوریجن کارڈ کی تجدید کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے

    لیڈی ہیلتھ ورکرز کو رات کے وقت بلانے پر سپریم کورٹ کے ریمارکس،بیان حلفی میں کیا کہا گیا؟

    جعلی ڈگریوں پرملازمت کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں چیرمین پی ٹی ائی کا توشہ خانہ کیس ٹرائل کو بھجوانے کے ہائیکورٹ حکم کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کی جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کے خلاف تین درخواستیں دائر کی ہیں، چیرمین پی ٹی ائی 2018 انتخابات میں میانوالی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، الیکشن ایکٹ ہر رکن اسمبلی کو اثاثہ جات کی تفصیل جمع کروانے کا کہتا ہے،6 اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کیلئے سپیکر اسمبلی کے پاس ریفرنس بھیجا ،اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی پر اثاثوں کی غلط ڈیکلریشن کا الزام لگایا سپیکر اسمبلی نے ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ آپ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 پڑھیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنوں میں ہی کاروائی کرسکتا یے،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے ،چیئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف سپیکر نے ریفرنس بھیجا لیکن 120 دن گزرنے کے بعد، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے شکایت کی قانونی حیثیت پر نہیں، ٹرائل کورٹ سے مقدمہ ختم ہوچکا اب کس کو ریمانڈ کیا جا سکتا ہے؟ موجودہ کیس کا سزا کیخلاف مرکزی اپیل پر کیا اثر ہوگا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کو گھڑی کی سوئیاں واپس پہلے والی پوزیشن پر لانی ہونگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا نہ کوئی فوجداری کارروئی تاحکم ثانی نہیں ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اپ نے شکایت کی قانونی حیشت کو چیلنج ہی نہیں کیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہاں بھیجیں گے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس ساری مشق کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے ،انصاف تک کی رسائی کو روکا جاتا رہا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے فیصلے پبلک ہوتے ہیں، فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور فیصلوں تک ہی رہنی چاہیے، ادارے ایسے ہی کام کر سکتے ہیں،جسٹس مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ دینے کے کتنے دن بعد شکائت بھیجی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں دنوں کا تعین اثاثوں کے تفصیل جمع کرانے کے بعد سے لکھا ہے، سردار لطیف کھوسہ نے قانون پڑھ کر سنا دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 342 اسمبلی ممبران پھر صوبائی ممبران سب کی تفصیل الیکشن کمشن 120 دن میں کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ 120 دن کہاں سے شروع ہوں گے کے یہ دیکھنے کے لیے اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہو گا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا مقدمہ بار بار ایک ہی جج کو بھجوایا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی عدالت پر تعصب کا الزام نہیں لگا سکتے، سپریم کورٹ یہاں سول جج تک اپنے تمام ججز کا دفاع کرے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے اس عدلیہ کے لیے اپنا خون بہایا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس لیے تو آپ سے توقعات زیادہ ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کے لیے حاضر ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے لیے نہیں اس چئیر کے لیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے معاملہ ٹرائل کورٹ بھیجا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ جج فیصلہ دیکر لندن روانہ ہو گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لندن والی بات نہ کریں، آپ صرف یہ بتائیں ہائی کورٹ کے بتائے نکات پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا یا نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ان نکات پر فیصلہ نہیں کیا کیس قابل سماعت ہونے کا اپنا سابقہ فیصلہ بحال کردیا،ان جج صاحب نے فیس بک پر چئیرمیں پی ٹی آئی کیخلاف زہر اگلا ہوا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی.

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں، عمران خان کو غلط طریقے سے سزا سنائی گئی،عمران خان کو سزا سنانے میں کوئی ایک نہیں کئی بڑی غلطیاں ہوئیں، عمران خان کا حق دفاع ختم کرنا غلط تھا، ٹرائل کورٹ کے جج نے اس فیصلے پر انحصار کیا، جو کالعدم ہو چکا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملک کی کسی اور عدالت میں یہ سب ہوتا ہے جو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوا؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ ہر بات پر اسلام آباد ہائیکورٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اعتراض نہ کریں تو پھر کیا کریں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کردیا تو آپ اپیل کردیں، عدالت کا ہر فیصلہ پبلک ڈومین میں جاتا ہے،
    عدالت کا فیصلہ ڈسکس ہونا چاہیے ججز نہیں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا ،ٹھیک ہے سر، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ نے چار اگست کو آپ کی درخواستوں پر فیصلہ کردیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں پھر 120 کی حد کیوں دی گئی ہے ؟ کیا ساری عمر یہ تلوار لٹکتی رہے گی ؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جب ڈیکلریشن کا جھوٹا ہونے کا پتہ چلے گا اس کے 120 دن تک شکایت درج ہوسکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 800 سے زیادہ ارکان ہیں، الیکشن کمیشن نے سینکڑوں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ 120 دن میں تو نہیں لے سکتا،120 دن کب شروع ہوں گے اس کے لیے مائنڈ آپلائی کرنا پڑتا ہے، پانچ اگست کو اپیل کا فیصلہ ہوگیا آپ نے چینلج بھی کردیا،ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو تعصب کے ساتھ ٹرائل کی تیز رفتاری پر بھی اعتراض تھا،اگر کوئی فیصلہ غلط ہے اس میں مداخلت کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ یہاں ہر جج کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے،سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ماتحت عدالت تک ہر جج کی عزت برابر ہے،جب فیصلہ آجاتا ہے تو وہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے، تنقید عدالتی فیصلے پر کریں ادارے پر نہیں،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی پھر شکایت بھیجی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،قومی اسمبلی کے 342 ارکان ہوتے ہیں،120دن میں شکایت بھیجنا مشکل ہے،آپ عدالتی فیصلے پر بات کریں، جج پر بات نا کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ٹرائل کورٹ تک سب کی برابر عزت و تکریم ہے، ہم نے آپ کیلئے خون دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دیا، آئین کیلئے ہم گواہ ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے آئین کیلئے جدوجہد کی، کسی جج کیلئے نہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی واپس ہائیکورٹ بھیج دیا،سپریم کورٹ ہمارے اعتراضات کو سن کر فیصلہ کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہائیکورٹ کے فورم کو کیوں ضائع کررہے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    ہائیکورٹ کا فورم ضائع ہوتا ہے تو ہونے دیں،ہم خوار ہورہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ جزباتی ہونے کی بجائے قانون کے مطابق دلائل دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرسماعت ہیں انہیں فیصلہ کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا ہائیکورٹ مائنڈ اپلائی کرکے فیصلہ دے، بار بار کیسز عدالتوں میں آتے رہے، امجد پرویز وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ اس کیس میں پیش ہونے کیلئے میرے پاس اٹارنی نہیں ہے، عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، اس کیس پر آپ سے معاونت لیں گے، ہائیکورٹ نے خود فیصلہ کرنے کی بجائے پھر ریمانڈ بیک کردیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 3سے4 مرتبہ کیس میں وقفہ کیا لیکن ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، پھر سیشن کورٹ نے فیصلہ کردیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے دن کے مواقع دئیے گئے، اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    جج ہمایوں دلاور نے ہدایت پر سزا سنائی،سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو میرے خلاف تمام مقدمات کی شنوائی سے روکا جائے،میرے تمام مقدمات اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور یا پشاور ہائیکورٹس منتقل کیے جائیں،عدالتی فیصلہ ہونے تک جسٹس عامر فاروق کو مقدمات کی سماعت سے روکا جائے،

    سپریم کورٹ میں درخواست آرٹیکل 186 اے کے تحت دائر کی گئی ،درخواست ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے میرے خلاف تعصب کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، مجھے جیل میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ میں انتخابات میں حصہ نہ لے سکوں،مجھے میرے قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا، جج ہمایوں دلاور مجھے سزا دینے کے لیے تیار تھا اس لیے میرا مقدمہ اس کے پاس بھجوایا گیا،جج ہمایوں دلاور مجھ سے نفرت کرتا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر جج ہمایوں دلاور نے مجھے سزا سنائی،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا