Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عدالتی حکم عدولی،پرویزالہیٰ کی گرفتاری، پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ جاری

    عدالتی حکم عدولی،پرویزالہیٰ کی گرفتاری، پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ جاری

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وائس چیئرمین ہارون الرشید اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب، تحریک انصاف کے‌صدر چودھری پرویز الہیٰ کی گرفتاری کی مزمت کی ہے، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت کل عدالت سے گھر جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا،اسلام آباد پولیس نے پرویز الہیٰ کو گرفتار کیا اسکے باوجود کہ لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ کسی قسم کے کیس میں بھی پرویز الہیٰ کو گرفتار نہ کیا جائے،

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری سے قانون کی حکمرانی اور سیاسی منظر نامے میں طاقت کے استعمال کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے ہر کسی کو عدالتی احکامات پر عمل کرنا ہوگا،عدالتوں کو سیاسی مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آیا ان کے احکامات پر عملدرآمد ہو سکتا ہے یا نہیں، پاکستان بار کونسل اور وکلا برادری نے ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی ہے

    پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ جاری

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    پاکستان بار کونسل نے 5 ستمبر کو وکلا تنظیموں کی کانفرنس کا اعلان کیا ہے،

  • ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، بینچ کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس منصورعلی شاہ شامل ہیں ،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج نیب ترامیم کیس ختم کرنا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ پیر کو وہ کچھ وقت لیں گے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پیر تک وقت نہیں تحریری طور پر دلائل دے دیں ہم دیکھ لیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اجازت ہو تو وفاقی وکیل مخدوم علی خان سےایک بات پوچھوں کل ہم نے ترمیمی قانون میں ایک اور چیز دیکھی ایم ایل اے کے تحت حاصل شواہد کی حیثیت ختم کردی گئی اب نیب کو خود وہاں سروسز لینا ہوں گی جومہنگی پڑیں گی ایم ایل اے کے علاوہ بھی بیرون ملک سےجائیدادوں کی رپورٹ آئی ہے قانون میں تو اس ذریعے سے حاصل شواہد قابل قبول ہی نہیں نیب نے ترامیم کے بعد ریفرنسز واپس ہونے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرکا بیرون ملک سے حاصل کردہ ریکارڈ قابل قبول شواہد کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا کیا آئین پاکستان میں شکایت کنندہ کے حقوق درج ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ آئین میں صرف ملزم کے حقوق اورفیئرٹرائل کے بارے میں درج ہے آئین پاکستان شکایت کنندہ کے حقوق کی بات نہیں کرتا کل یہاں کہا گیا کہ نیب تحقیقات پراربوں روپے لگے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی نیب مقدمات میں سزا کی شرح 50 فیصد سے کم تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں بھی سزا کی شرح 70 فیصد سے کم ہے ان میں سے بھی کئی مقدمات اوپرجا کر آپس میں طے ہوجاتے ہیں ہم یہ ڈیٹا دیکھ رہے ہوتےہیں جو تشویش کی بات ہے قتل کے مقدمات میں 30 سے 40 فیصد لوگوں کو انصاف نہیں ملتا جبکہ ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ کئی متاثرین عدالتوں میں ملزمان کوشناخت کرنے سے انکارکردیتے ہیں متاثرین کویقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان کی شناخت کے بعد محفوظ رہیں گے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد بین الاقوامی قانونی تعاون کے ذریعے ملنے والے شواہد قابل قبول نہیں رہے،وکیل نے کہا کہ ایف بی آرکو بیرون ممالک سے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوجاتی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو ملنے والی معلومات بطور ثبوت استعمال نہیں ہو سکتیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا مواد بھی نیب نے ہی ثابت کرنا ہوتا ہے بیرون ملک سے لائے گئے شواہد بھی ثابت کرنا نیب کی ہی ذمہ داری ہے، عدالتیں شواہد کو قانونی طورپر دیکھ کرہی فیصلہ کرتی ہیں،سوئس عدالتوں نے آصف زرداری کیخلاف اپنے ملک کے شواہد تسلیم نہیں کیے تھے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات تو زائد المعیاد ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے تھے عدم شواہد پر نہیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے سوئس حکام سے معاونت کس قانون کے تحت مانگی تھی کوئی نہیں جانتا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب پر دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک سے باہمی قانونی تعاون کے ذریعے شواہد لیے جاتے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بیرون ممالک سے حاصل کردہ شواہد کی کیا قانونی حیثیت ہے؟وکیل نے بتایا کہ بیرون ملک شواہد کے دفترخارجہ کے ذریعے تصدیق کا ایک پورا عمل ہوتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پاکستان کے قانون میں بیرون ملک سے قانونی معاونت کی گنجائش کتنی ہے؟ خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ پاکستانی قانون میں بیرون ملک سے حاصل قانونی معاونت کی زیادہ اہمیت نہیں رکھی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مئی2023 سے پہلے نیب ریفرنسز کا واپس ہونا سنجیدہ معاملہ ہے ہمارے پاس نیب ریفرنس واپس ہونے سے متعلق تفصیلات پرمبنی فہرست ہے بات یہ ہے کہ ہم نے آج کیس ختم کرنا ہے ہمارے پاس جمعہ کی وجہ سے آج ساڑھے 12 بجے تک کا وقت ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو ساڑھے 12 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی معافی کی طرح نیب سے معافیاں دی جا رہی ہیں بدنیت لوگوں کے ہاتھ میں اتھارٹی دی جاتی رہی ملک میں کئی لوگوں کے پاس منشیات اور دیگر منفی ذرائع سے حاصل کردہ داغدار پیسہ ہے جس کے تحفظ کی خاطر سسٹم میں مخصوص لوگوں کو بچا لیا جاتا ہے ، ریاست کی ذمہ داری ہے منصفانہ و فیئر معاشرہ قائم کرے ریاست نے یقینی بنانا ہے مجرمان آزاد نہ گھومیں آج صورتحال یہ ہو گئی کہ معاشی مواقع چھیننے پر شہری ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں معیشت کے شعبے کو سیاسی طاقتوروں کیلئے مختص کر دیا گیا بنیادی حقوق کے براہ راست تعلق کا سوال اٹھا رہے ہیں لوگ اپنے نمائندے کسی مقصد سے منتخب کرتے ہیں جو آئین میں درج ہے دنیا بھر میں آمدن سے زائد اثاثوں کے اصولوں کا استعمال کم کیا جاتا ہے ماضی میں نیب قانون کا غلط استعمال کیا جاتا رہا قانون سازی کے ذریعے سرکاری افسران کو نیب سے تحفظ فراہم کیا جاتا رہا آڈیٹر جنرل اہم آئینی ادارہ ہےمضبوط آڈیٹر جنرل آفس صوبوں کے اکاؤنٹس کو دیکھ سکتا ہےنیب ترامیم سے براہ راست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی نیب ترامیم سے بالواسطہ حقوق متاثر ہونے کا پہلو ضرور ہے، برا طرز یا مجرمانہ معاشرہ ہو گا تو لوگ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ نے نیب ترایم کیخلاف چیئرمین پی ٹی ائی کی درخواست کی سماعت ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی،

    دوسری جانب نیب ترامیم سے رواں سال فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہیں، رواں سال30 اگست تک12ریفرنس نیب عدالتوں سے منتقل ہوئے، سابق صدر آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی،خورشید انور جمالی، منظور قادر ،انور مجید،حسین لوائی،مرادعلی شاہ کے کیس نیب کے دائرہ کار سے نکل گئے،رواں سال مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے،ترامیم کی روشنی میں 25 مقدمات دیگر فورمز کو منتقل کر دیے گئے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کیخلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں، سماعت کا آغاز ہوتے ہی سرکاری وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گٸے،حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کردیا،وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے آغاز میں حمیدالرحمٰن چوہدری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حمید الرحمٰن مشرقی پاکستان کے سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے ٹرائل کی کہانی لکھی، انہیں اس بات پرسزا دی گئی تھی کہ پبلک آفس سے پرائیویٹ کال کیوں کی؟ مغربی پاکستان سے تفتیشی افسران اورجج لے کرجاتے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جومشرقی اورمغربی پاکستان کوآمنے سامنے لائے۔ آئین قانون سازوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آج ایسے قوانین کونہ پنپنے دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ہمارے لیے ایجوکیشنل بھی ہے

    مخدوم علی خان نے ججز کو تین مختلف ملکی و غیرملکی کتابیں مطالعہ کیلئے پیش کر دیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نیب ترمیمی کیس ہمارے علم میں کافی اضافے کا باعث بنے گا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کا کہا تھا، احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہی ماضی سے کیا جاتا رہا ہے،سال 1996 میں احتساب آرڈیننس آیا اطلاق 1985 سے کیا گیا،1997 میں دو احتساب آرڈیننس آئے انکا اطلاق بھی 1985 سے ہوا، نیب قانون 1999 میں بنا اس کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا، چیلنج کی گئی 2022 کی دونوں ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا تھا،

    مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم اور ان کا ماضی سے اطلاق غیر آئینی نہیں ،بے نامی دار کے کیس میں معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوتا ہے اب کہا گیا ہے آپ پہلے ثابت کریں کہ وہ اثاثے کرپشن سے بنائے ،یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ،اب نئے قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں ،اب مسئلہ اس رقم کا بن گیا ہے کہ وہ کرپشن سے آئی یا نہیں ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹگری سے نکال دیں ،یہ احتساب کی تو ریڑھ کی ہڈی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے لاکرز توڑے گھروں میں گھسے اور پھر ملا بھی کچھ نہیں ،مخدوم علی خان کی جانب سے جسٹس منصور شاہ کے لکھے خورشید شاہ کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا،اورکہا گیا کہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا پراپرٹی کسی کے قبضے میں ہے اور اس کا منافع کون لے رہا ہے دونوں چیزوں کا تعین ضروری ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر پہلے ثابت کیا جائے وہ کرپشن سے بنے ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پراسیکیوشن اگر الزام لگا رہی ہے تو اس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے ہر بے نامی ٹرانزیکشن یا پراپرٹی کرپشن نہیں ہوتی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذرائع آمدن ملزم نے نہیں بتائے تو جرم ثابت نہیں ہو گا ، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ نیب ترمیم سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے
    .وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سیریس جرم رہ نہیں گیا ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت آخری دو جرائم پر بھی ختم کی جا چکی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے مختلف ادوار میں جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ اپنایا جا سکتا ہےن

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات فیصلے پر نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے چار اپریل کے فیصلے پر نظر ثانی دائر کر رکھی ہے سماعت کے اغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے تیاری کیلئے مزید ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کردی۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت ایک ہفتہ کی تیاری کیلئے مہلت دے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف بتائیں آپ کے ساتھ ہم بھی کیس کا جائزہ لیں گے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے کیس میں اضافی گراونڈز تیار کیے ہیں سب سے اہم سوال الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کا تھا سیکشن 57,58 میں ترامیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظر ثانی ہے، وکیل نے کہا کہ دوہفتے پہلے سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات سے متعلق تفصیلی فیصلہ ملا،فیصلے کی روشنی میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوفیصلہ آیا وہ کیس ختم ہوچکا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا جواب ابھی عدالت میں ہمارے ساتھ ہی پڑھیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کانظرثانی کیس سے کوئی تعلق نہیں،انتخابات کی تاریخ دینے کا مقدمہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے،نظرثانی کیس میں جونکات اٹھانا چاہتے ہیں وہ بتائیں،

    جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی میں آپ دوبارہ دلائل نہین دے سکتے۔ یہ بتائیں کہ عدالتی فیصلہ میں غلطی کہاں ہے۔ سیکشن 230 کا نقطہ مرکزی کیس میں اٹھایا ہی نہیں گیا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین الیکشن کیشن کو اختیار نہیں ذمہ داری دیتا ہے، کیا صدر کی تاریخ الیکشن کمیشن کوتبدیل کرنے کا اختیار ہے،یہ بڑا اہم قانونی نقطہ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اختیارات کو الیکشن کمیشن نے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنا ہے،جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا دلائل دے رہے ہیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر جا رہے ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تیسری مرتبہ آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں۔ آپ کا نقطہ نوٹ کرلیا۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری کے روشنی میں اختیارات کا استعمال کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے نوے دن میں انتخابات ہونگے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔ عدالت الیکشن کمیںشن کی دلیل سے اتفاق نہیں کرتی۔ نظر ثانی میں دوبارہ دلائل کی اجازت نہیں الیکشن کمیشن وکیل ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں الیکشن کمشن وکیل کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو بتا دیں۔عدالت کے 14 مئی کو انتخابات کرانے کے فیصلہ میں سقم کیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اضافی دستاویزات کا جائزہ ابھی آپ کیساتھ ہی لین گے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات 90 روز نہیں کروا سکتا تو اسکا حل فیصلے میں بتا دے،اللہ نے ہمیں ایک دماغ اور 2 کان دیئے ہیں،آئین کسی کی جاگیر نہیں جو اسکی خلاف ورزی کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ صرف آئین اور قانون سے تبدیل ہوگی ،ہمیں اب آرٹیکل 254 کے چکر میں نہ ڈالیں،

    الیکشن کمیشن کی پنجاب انتخابات تاریخ پر دائرنظر ثانی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی کسی ادارے کو اختیار نہیں کہ آئین پر اثر انداز ہو،پنجاب انتخابات میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی قراردے دیا گیا،

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق پچاسویں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں ، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب گڈ ٹو سی یو ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے عدالت کے دو منٹ چاہیے ،میرے حوالے سے خبر میں کہا گیا کہ میں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں خامیوں کو تسلیم کیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عدالتی حکم کا حصہ ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے متعلقہ حکم پڑھنا چاہتا ہوں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مجھ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں غلطیوں کا اعتراف منسوب کیا گیا، آٹھ جون کے عدالتی حکم کے مطابق میں نے کہا تھا دو قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کی دو شقیں ایک جیسی تھیں، ریویو ایکٹ کیس پر سماعت شروع ہوئی تو پارلیمان نے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو ایکٹ کیس پر عدالتی فیصلہ اگست کے دوسرے ہفتے میں آیا ہے، قانون میں ترمیم نہ کرنے کی یہ دلیل قابل قبول نہیں، پارلیمان قانون سازی میں کافی مصروف رہی، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل شاید پارلیمان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں چیف جسٹس کو ربڑسٹیمپ بنایا گیا، میڈیا میں کیا رپورٹ ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں نے کہا تھا پریکٹس اینڈ پروسیجراور ریویو ایکٹ اوورلیپ کرتے ہیں، میرے سامنے اخبار ہے جس میں مجھ سے منسوب بات چھپی ہے، خبر کے مطابق مجھ سے منسوب کیا گیا میں نے نقائص تسلیم کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی انگریزی اخبارات میں خبر رپورٹر کے نام سے شائع کیوں نہیں کی جا رہی، معلوم نہیں کیا یہ کوئی سنسر شپ کا نیا طریقہ آیا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے تو تسلیم کیا قوانین میں مطابقت نہیں، جو قانون سازی کی گئی اس سے چیف جسٹس پاکستان کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم آپ کی وضاحت کو تسلیم کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان ریویو ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی ہر بات مانیں گے مگر یہ بات تسلیم نہیں کریں گے، کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،

    نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا چیف جسٹس نے فہرستیں طلب کر لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم کے بعد کتنے کیسز عدالتوں سے واپس ہوئے فہرست فراہم کی جائے، ایک فہرست نیب جمع کرا چکا ہے لیکن اسے مزید اپڈیٹ کر کے دوبارہ جمع کرائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ نئے نیب قانون میں کون سی ایسی پرانی شقیں ہیں جنہیں ختم نہیں کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے نیب قانون میں کئی اچھی چیزیں بھی ہیں،نیب قانون کی وجہ سے کئی لوگوں نے بغیر جرم جیلیں کاٹیں، ہم نے دیکھنا ہے کہ نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا، نیب ترامیم سے کئی جرائم کو ختم کیا گیا کچھ کی حیثیت تبدیل کی گئی،نیب ترامیم سے کچھ جرائم کو ثابت کرنا ہی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے، کم سے کم حد پچاس کروڑ کرنے سے کئی مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر کیے گئے، نیب ایک ہی ملزم پر کئی مقدمات بنا لیتا ہے جن میں سینکڑوں گواہان ہوتے ہیں،سیکڑوں گواہان کی وجہ سے نیب مقدمہ کئی کئی سال چلتے رہتے ہیں،اصل چیز کرپشن کے پیسے کی ریکوری ہے، ریکوری نہ بھی ہو تو کم از کم ذمہ دار کی نشاندہی اور سزا ضروری ہے،یہ درست ہے کہ نیب قانون میں کئی خامیاں ہیں اور اس کا اطلاق بھی درست انداز میں نہیں کیا گیا

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس میں اب تک انچاس سماعتیں کرچکی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم حکومت کی نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ناقص تفتیش،سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب،آر پی شیخوپورہ کو طلب کرلیا

    ناقص تفتیش،سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب،آر پی شیخوپورہ کو طلب کرلیا

    سپریم کورٹ، قتل کیس ، ملزم سانول یوسف ضمانت کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب اور آر پی شیخوپورہ کو طلب کرلیا،عدالت نے قتل کیس میں ناقص تفتیش پر اعلی پولیس افسران کو کل پیش ہونے کا حکم دے دیا، جسٹس مظاہر علی نقوی نے متعلقہ آئی او اور ڈی ایس پر اظہار برہمی کیا، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی نے کس بنیاد پر ملزم کا نام تفتیش میں شامل نہیں کیا، زخمی کہہ رہا ہے کی فائرنگ سانول یوسف نے کی۔ کیا اس طرح سے تفتیش ہوتی ہے۔ کیوں آئی او اور ڈی ایس پی کو یہاں سے جیل بھیج دیں۔

    تھانہ شیخوپورہ میں سانول یوسف پر اکبر پر قتل کرنے کا الزام ہے سانول یوسف نے ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،جسٹس مظاہر علی نقوی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے پنجاب انتخابات 14 مئی کو کروانے کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 31 اگست کو ہوگی اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ سماعت کرے گا۔

    علاوہ ازیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہی اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیا گیا جبکہ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    خیال رہے کہ اس سے قبل گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے، گورنر پنجاب نے مزید کہا تھا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے۔

    محمد بلیغ الرحمان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو 30 مئی 2022 سے پنجاب کے 39ویں گورنر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر مقرر کیا تھا

  • اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جون کے بعد مخدوم علی خان سے ملے ہیں،ہم نے درخواست گزار سمیت دیگر وکلا کی تحریری معروضات دیکھی ہیں،اس کیس میں بہت وقت لگ چکا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد مختلف درخواستیں دائرہوئی ہیں،

    چیف جسٹس نے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ سے متعلق گزشتہ عدالتی حکمنامے پڑھنا شروع کردیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی وکیل مخدوم خان کا مدعا ہم سمجھ چکے ہیں، مخدوم صاحب توآج کل سب کے بارے میں ہی بڑے تنقیدی ہوگئے ہیں،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں خامیاں ہیں، اٹارنی جنرل نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق یکم جون کومطلع کیا،اٹارنی جنرل نے جون میں کہا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو اسمبلی دیکھے گی، اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا،نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت کا اس قانون سے متعلق موقف کیا ہے، کیا معطل شدہ قانون کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اس کی وجہ سے تمام کیسز التوا کا شکار ہوں؟ اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ اٹارنی جنرل اپنی پوزیشن کے دفاع کیلئے یہاں موجود نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مبشرحسن کیس کے فیصلے میں وجوہات دی گئی ہیں،آٹھ ممبرز بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں سن سکتے،اگرآپ کوکوئی اعتراض ہے تونئی درخواست دائرکرکے آجائیں، کیا سپریم کورٹ اپنا کام بند کر دے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ اعتزازاحسن کیس میں کسی قانون سازی کوکالعدم نہیں قراردیا گیا، اعتزازاحسن کیس میں کہا گیا کہ قانون سازی غیرموثررہے گی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یکم اورآٹھ جون کا فیصلہ اس لیے پڑھ کرسنایا ، تاکہ حکومت نے خودتسلیم کیا ناقص قانون سازی کی گئی، عدالتی حکم سے معطل شدہ قانون سازی کےتحت کاروائی متاثرتونہیں کی جا سکتی، خواجہ حارث نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس وقت ان فیلڈ نہیں معطل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو قانونی نکات اُٹھائے گئے انھیں ہم سمجھ رہے ہیں، موجودہ کیس میں حکومت پاکستان نے خود اس کیس کو التواء میں ڈالنے کی استدعا کی،ہم یہاں آئین اور قانون کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں، کیس سننے کے لیے ہم میں سے ایک ممبر کو بیرون مُلک سے واپس آنا پڑا، میری ذاتی رائے یہ ہے اس کیس کو چلایا جائے، 2023 والی نیب ترامیم تو مخص ایک ریفائن کرنے کی کوشش تھی اصل نیب ترامیم تو 2022 میں آئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2023 والی ترامیم سے متعلق بھول جائیں، چھٹیاں چل رہی ہیں ہم صرف اس کیس کے لیے واپس آئے ہیں، آپ اپنے دلائل کو 2022 والی ترمیم تک محدود رکھیں، لگتا ہے یہ کیس ای او بی آئی بنتا جارہا ہے جو ختم نہیں ہونا، ای او بی آئی کیس میں چھ چیف جسٹس گزارے تھے،

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ 8 رکنی بنچ نےقانون سازی پرحکم امتناع دے رکھا ہے، میں نے اپنے نوٹ میں آٹھ رکنی بنچ کے اسٹے آرڈرپراعتراض نہیں کیا میرا سوال صرف اتنا ہے کیا یہ کیس اسی بنچ کوسننا چاہیے یا فل کورٹ تشکیل دینا چاہیے یہ نیٹ فلیکس سیزن تھری بن گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقدمے کا 2022 کی ترامیم کے حوالے سے فیصلہ کر دیتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023ء میں چھوٹی ترامیم ہوئی جیسا کہ مقدمہ منتقلی کے حوالے سے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں صرف بتائیں کہ 2022ء والی ترامیم میں کیا کیا شامل ہوا تاکہ کیس کو ختم کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023 والی ترامیم سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ترمیمی درخواست دائر نہیں کی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں ان کی درستگی کروا دوں گا عدالتی حکمنامے میں موجود ہے کہ میں نے 2023 والی ترامیم کا معاملہ اُٹھایا، عدالت نے مجھے متفرق درخواست دائر کر کے اور کاپی مخالف فریق کو دینے کا کہا اور یہ میں کر چُکا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم سے کچھ لوگون کو استثنی مل گیا، خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ بے نامی کا تصور بدل دیا گیا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ 200 سال پہلے برطانیہ میں سات سو جرائم پر سزائے موت تھی، قوانین میں ترامیم سے ان سزاوں کو نرم کیا گیا،جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بنیادی حقوق سے متعلق قانون ساز ترامیم کرسکتے ہیں، مخدوم علی کی جانب سے عدالت کے سامنے خلافت عثمانیہ اسلامی قوانین اور تاریخی کتب کے حوالے دئے گئے ،مخدوم علی خان نے کہا کہ ہاشم کمالی کی ایک کتاب کا حوالہ بھی پیش کروں گا ،جسٹس منصور شاہ نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ آپ نے یہ کتاب سم شاپنگ سے خریدی یا کہیں سے منگوائی تھی ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ برسوں پہلے میں نے یہ کتاب ایمازون سے منگوائی تھی ،جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ میں ایمازون پر اس کتاب کو ڈھونڈ لوں گا ،مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے قانون بھی سلطان بناتا تھا اور قاضی کی تعنیاتی بھی سلطان کرتا تھا اب ویسا سلطنت والا تصور موجود نہیں قانون ساز پر اعتبار کرنا چاہئے

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ،نیب ترامیم کیس، جسٹس منصور علی شاہ نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی تجویز دے دی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے نیا قانون توثیق کیلئے صدر پاکستان کے پاس ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بے شک نیا بن جائے ہائی کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا، ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ توشہ خانہ تحائف عوامی ملکیت ہیں، عوامی ملکیت کے حامل تحائف کی نیلامی میں ہر شخص حصہ لے سکتا ہے، تحائف عوامی ملکیت ہیں تو ایسا ممکن نہیں کہ صرف مخصوص افراد ہی خرید سکیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق درست ہے، سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی پیروی کرنے یا نہ کرنے پر وقت مانگ لیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک جاویدنے حکومت سے ہدایات لینے کی استدعا کر دی،سپریم کورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہورہائیکورٹ احکامات کیخلاف دائر اپیل واپس لے لی ، سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ احکامات کے خلاف دائر اپیل واپس لے لی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ نئے رولز کی روشنی میں اپیل واپس لینا چاہتے ہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز پر نہ جائیں، توشہ خانہ پر پہلے ہی بہت شرمندگی ہو چکی ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا.

    پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 2021 میں اپیل دائر کی تھی، جبکہ توشہ خانہ یا اسٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔

    خیال رہے کہ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جبکہ یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے سینیٹر علی ظفر کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے گورنرز کو انتخابات کی تاریخ کے لیے ہدایات جاری کرے،صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا آئینی حق آرٹیکل 58 ون کے تحت حاصل ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ الیکٹورل پراسس کوحلقہ بندیوں کےبہانے سے التوا میں ڈالے،مردم شماری سے متعلق فیصلہ کرنے والی مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل مکمل نہیں تھی، الیکشن کمیشن غیر آئینی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر انحصار کر کے انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتا۔

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے اور فیصلے کے بعد جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، انتخابات بروقت نا ہونے سے پاکستان ایک اور آئینی بحران کا شکار ہو جائے گا الیکشن کمیشن کو انتخابات میں التوا کا اختیار آئینی رو سے جائز نہیں، کالعدم قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن، گورنرز اور مشترکہ مفادات کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب 90 روز میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا, جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے عدالت عظمی میں آئینی درخواست دائر کر دی،جماعت اسلامی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور صوبائی الیکشن کمشنرز کو فریق بنایا گیا ہے-

    لاہور:پولیس کااینٹی نارکوٹکس یونٹ منشیات فروش نکلا،4 اہلکار گرفتار،ڈی ایس پی فرارہو گیا

    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں،الیکشن کمیشن کو الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا جائےآرٹیکل 218(3) کے تحت نگران حکومتوں اور اتھارٹیز کو آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کا حکم دیا