Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام اباد: سپریم کورٹ نے سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس اعجازالحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کل (جمعہ 8 ستمبر کو) سماعت کرے گا بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے حوالے سے متعلقہ فریقین کو نوٹسسز جاری کردیئے ہیں۔

    18 اگست کواقلیتی رہنما سیمیول پیارے نےجڑانوالہ واقعے پر نوٹس کے لیے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی درخواست میں سپریم کورٹ سے جڑانوالہ واقعے کا نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئےکہا گیا تھا کہ جڑانوالہ میں 16 اگست کو مذہبی اوراق سمیت چرچ کو نظر آتش کیا گیا، عدالت درخواست منظور کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کرے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جڑانوالا میں توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مشتعل افراد نے کرسچن کالونی اور عیسیٰ نگری میں گرجا گھروں، مسیحی برادری کے درجنوں مکان، گاڑیاں اور مال و اسباب جلا دیئے تھے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں 19 چرچ جلائے گئے، پُرتشدد مظاہروں میں 86 مکانات کو توڑ پھوڑ کے بعد جلایا گیا۔

    زر مبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 7 کروڑ ڈالر کی کمی

  • سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 سے بڑھ کر 56 ہزار 544 ہوگئی

    سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 سے بڑھ کر 56 ہزار 544 ہوگئی

    سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعدادمیں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، سپریم کورٹ نے 31 اگست تک زیر التوا مقدمات کی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں ایک ماہ کے دوران 1579 زیر التوا مقدمات کا اضافہ ہوا جس کے بعد زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 سے بڑھ کر 56 ہزار 544 ہوگئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا سول پیٹیشنز کی تعداد 30 ہزار 578 تک پہنچ گئی، زیر التوا سول اپیلوں کی تعداد 9 ہزار 875 ہوگئی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں زیر التوا فوجداری درخواستوں کی تعداد 9 ہزار 384 ہے جبکہ زیر التوا نظرثانی درخواستوں کی تعداد ایک ہزار 653 ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائیں گے. عبداللہ بن سعود
    امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا
    ایشیا کپ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 194 کا ہدف دے دیا
    رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں 25 از خود نوٹس اور ایک ریفرنس زیر التوا ہے۔

  • نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم،سپریم کورٹ میں درخواست

    نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم،سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ: نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے بیٹے حسن کامران نے دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ افراد کم کر دیئے گئے،مردم شماری کے حتمی مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 21 اعشاریہ سات ملین تھی،ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج میں بلوچستان کی آبادی 14 اعشاریہ نواسی ملین بتائی،ادارہ شماریات کے آفیشل اکاؤنٹس سے متضاد بیانات جاری کیے گئے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،مشترکہ مفادات کونسل کیخلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہماری درخواست خارج کی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ہماری درخواست سے بالکل الگ ہے،درخواست میں وفاق،ادارہ شماریات،نادرا اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے پرویز مشرف نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج کردی۔ عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کی ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست غیر موثر نہیں ہوگئی ،درخواست گزار توفیق آصف نے عدالت میں کہا کہ اگر درخواست چھ سال پہلے لگ جاتی تو غیر موثر نہ ہوتی۔ایڈووکیٹ توفیق آصف نے کہا کہ ہمارے خدشات تو درست ثابت ہوئے ،پرویز مشرف باہر گئے پھر واپس نہیں آئے۔ جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بس اب اللہ پر چھوڑ دیں۔ وکیل نے کہا کہ بس اب تو اللہ پر ہی چھوڑ رہے ہیں۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں، چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ نے حارث دلائل دیئے،خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیر التواء مقدمات کو واپس کردیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدس مقامات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں ؟ان ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہوگیا، خواجہ حارث نے کہا کہ پہلے تحقیقات ہوں گئیں جن کے جائزہ کے بعد مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واپس ہونے والے فورمز کا مستقبل بارے کسی کو معلوم نہیں ،نہیں معلوم کہ یہ مقدمات دوسرے فورمز پر بھی جائیں گے ؟ کیا نیب کے پاس مقدمات دوسرے فورمز کو بھجنے کا کوئی اختیار ہے ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد ان مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں، مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیار نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے دفتر میں قتل ہوگا تومعاملہ متعلقہ فورم پر جائے گا، مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوانے کیلئے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے، دوسرے فورمز کو مقدمات بھجوانے کا اختیار نہیں مل رہا اس بارے ضرور پوچھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مجموعی طور پر 52 ویں سماعت کی، اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے دلائل کیلئے اٹارنی جنرل کی درخواست پر آج کا دن مقرر کیا تھا

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں،ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے،مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکاڑد پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟

    سپیشل پراسیکیوٹر ستار اعوان نے عدالت میں کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہے، ان کی جانب سے تحریری دلائل دینگے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو پہلے بتا دیا جاتا توریگولر بنچ لگا لیتے، نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک نیب مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں یہ بھی کہا گیا کہ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی دور حکومت میں دی گئی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے کنڈ کٹ سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن بنیادی انسانی حقوق سے ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ کہا گیا نیب ترامیم سے میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں، اگر میں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو اسی قانون کیخلاف نہ کھڑا ہوتا، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے لیکن نیب کو بتا دیا ہے کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے،نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیرالتواء تحقیقات اور انکوائریاں ترامیم کے بعد سردخانے کی نظر ہوچکی ہیں، تحقیقات منتقلی کا مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے، منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنی دیا گیا ہے، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کیخلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پر سزائیں موجود ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اور عوامی عہدیداروں کیخلاف بھی موجود ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سول سروس قانون میں صرف محکمانہ کارروائی ہے کرپشن پر فوجداری سزا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کرپٹ آرمی افسر کا عوام سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسر فوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہو تو نیب قانون کی زد میں آتا ہے، اعلی عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنی نہیں ہے،آرٹیکل 209 کے تحت صرف جج برطرف ہوسکتا ہے ریکوری ممکن نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج برطرف ہو جائے تو نیب کو کارروئی کرنی چاہیے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ کے مطابق کراچی میں 36 اور لاہور میں 21 ریفرنس زیر التوا ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ ان ریفرنسز کے تفصیل یےجو ترمیم سے متاثر نہیں ہوئے جن کا ٹرائل چل رہا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی طارق اعوان ہیں ان کے کیسز 8 سال سے چل رہے ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ غیر قانونی الائمنٹ کے کیسز تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پشاور میں تو کچھ باقی نہیں بچا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت ان کیسز کا ہے جو نہیں چل رہے ،جو مقدمات واپس ہوئے وہ ابھی تک نیب کے پاس پڑے ہیں؟ نیب پراسیکوٹرنے کہا کہ جی وہ ہمارے ہاس ہی ہیں سال 2022 میں 386 ریفرنس ہمیں واپس ہوئے

    عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ۔ کر لیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواستگزار کے بیٹے حسان نیازی کے ملٹری اتھارٹی کے زیر حراست ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیا جائے،آئین میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت نہیں،سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آرٹیکل 10اے کی خلاف ورزی ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی عدالت کی اجازت کے بغیر حسان نیازی کو ملٹری کورٹس ٹرائل کیلئے حوالے کردیا گیا ،سپریم کورت میں درائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ آرمی ایکٹ ترامیم 2023 کو آئین کے آرٹیکل 3,4,9,10,13,14,اور 24 کے برخلاف قرار دیا جائے،

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    بھارتی فوجی افسرنے پاکستان کی جاسوسی کے بہانےاپنی فوج کواربوں روپے کا چونا لگا دیا

    قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مرحوم قاضی محمد عیسیٰ آف پشین، قیامِ پاکستان کی تحریک کے سرکردہ رکن تھے اور محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے،قاضی محمد عیسیٰ صوبہ بلوچستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنما اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے اور یہاں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا انہوں نے قانون کی تعلیم لندن سے حاصل کی اور پھر وطن واپس آ کر وکالت شروع کی وہ بطور وکیل تقریباً 27 سال ملک کی مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ۔

    پاکستان نیوی کا ہیلی کاپٹر گوادر میں گر کر تباہ

    عدالتی کیرئیر بطور جسٹس

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 5 اگست 2009 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے انہیں 5 ستمبر 2014 میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا انہوں نے نومبر 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم کے تحت ججز کے حلف لینے کی مخالف کی تھی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس عرصے کے دوران کئی اہم مقدمات میں انتہائی اہم فیصلے تحریر کیے۔

    جے جے وی ایل ریفرنس:ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کی درخواست منظور

    سنہ 2012 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میمو گیٹ کمیشن کی سربراہی بھی کی میمو گیٹ اسکینڈل میں اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیرحسین حقانی پرالزام تھاکہ انہوں نےپاکستان میں فوجی بغاوت کاخدشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکہ سے سول حکومت کی مدد کی درخواست کی تھی جسٹس فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کو پیش کی جانے والی کمیشن رپورٹ میں حسین حقانی کو قصوار ٹھہرایا تھا۔

    8 اگست 2016 میں کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اس کے حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی بھی جسٹس قاضی فائز عیٰسی کو سونپی گئی انکوائری کمیشن نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں خود کش دھماکے کو حکومت کی غفلت قرار دیا تھا انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

    آمدن سے زائد اثاثہ جات:آغا سراج درانی کی ضمانت منظور

  • عدالتی حکم عدولی،پرویزالہیٰ کی گرفتاری، پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ جاری

    عدالتی حکم عدولی،پرویزالہیٰ کی گرفتاری، پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ جاری

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وائس چیئرمین ہارون الرشید اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب، تحریک انصاف کے‌صدر چودھری پرویز الہیٰ کی گرفتاری کی مزمت کی ہے، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت کل عدالت سے گھر جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا،اسلام آباد پولیس نے پرویز الہیٰ کو گرفتار کیا اسکے باوجود کہ لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ کسی قسم کے کیس میں بھی پرویز الہیٰ کو گرفتار نہ کیا جائے،

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری سے قانون کی حکمرانی اور سیاسی منظر نامے میں طاقت کے استعمال کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے ہر کسی کو عدالتی احکامات پر عمل کرنا ہوگا،عدالتوں کو سیاسی مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ آیا ان کے احکامات پر عملدرآمد ہو سکتا ہے یا نہیں، پاکستان بار کونسل اور وکلا برادری نے ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی ہے

    پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ جاری

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    پاکستان بار کونسل نے 5 ستمبر کو وکلا تنظیموں کی کانفرنس کا اعلان کیا ہے،

  • ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، بینچ کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس اعجازالاحسن اورجسٹس منصورعلی شاہ شامل ہیں ،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج نیب ترامیم کیس ختم کرنا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ پیر کو وہ کچھ وقت لیں گے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پیر تک وقت نہیں تحریری طور پر دلائل دے دیں ہم دیکھ لیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اجازت ہو تو وفاقی وکیل مخدوم علی خان سےایک بات پوچھوں کل ہم نے ترمیمی قانون میں ایک اور چیز دیکھی ایم ایل اے کے تحت حاصل شواہد کی حیثیت ختم کردی گئی اب نیب کو خود وہاں سروسز لینا ہوں گی جومہنگی پڑیں گی ایم ایل اے کے علاوہ بھی بیرون ملک سےجائیدادوں کی رپورٹ آئی ہے قانون میں تو اس ذریعے سے حاصل شواہد قابل قبول ہی نہیں نیب نے ترامیم کے بعد ریفرنسز واپس ہونے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرکا بیرون ملک سے حاصل کردہ ریکارڈ قابل قبول شواہد کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا کیا آئین پاکستان میں شکایت کنندہ کے حقوق درج ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ آئین میں صرف ملزم کے حقوق اورفیئرٹرائل کے بارے میں درج ہے آئین پاکستان شکایت کنندہ کے حقوق کی بات نہیں کرتا کل یہاں کہا گیا کہ نیب تحقیقات پراربوں روپے لگے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی نیب مقدمات میں سزا کی شرح 50 فیصد سے کم تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں بھی سزا کی شرح 70 فیصد سے کم ہے ان میں سے بھی کئی مقدمات اوپرجا کر آپس میں طے ہوجاتے ہیں ہم یہ ڈیٹا دیکھ رہے ہوتےہیں جو تشویش کی بات ہے قتل کے مقدمات میں 30 سے 40 فیصد لوگوں کو انصاف نہیں ملتا جبکہ ریاست کا بنیادی کام ہی لوگوں کو انصاف دینا ہوتا ہے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ کئی متاثرین عدالتوں میں ملزمان کوشناخت کرنے سے انکارکردیتے ہیں متاثرین کویقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان کی شناخت کے بعد محفوظ رہیں گے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد بین الاقوامی قانونی تعاون کے ذریعے ملنے والے شواہد قابل قبول نہیں رہے،وکیل نے کہا کہ ایف بی آرکو بیرون ممالک سے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوجاتی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو ملنے والی معلومات بطور ثبوت استعمال نہیں ہو سکتیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا مواد بھی نیب نے ہی ثابت کرنا ہوتا ہے بیرون ملک سے لائے گئے شواہد بھی ثابت کرنا نیب کی ہی ذمہ داری ہے، عدالتیں شواہد کو قانونی طورپر دیکھ کرہی فیصلہ کرتی ہیں،سوئس عدالتوں نے آصف زرداری کیخلاف اپنے ملک کے شواہد تسلیم نہیں کیے تھے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات تو زائد المعیاد ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے تھے عدم شواہد پر نہیں ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے سوئس حکام سے معاونت کس قانون کے تحت مانگی تھی کوئی نہیں جانتا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب پر دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک سے باہمی قانونی تعاون کے ذریعے شواہد لیے جاتے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بیرون ممالک سے حاصل کردہ شواہد کی کیا قانونی حیثیت ہے؟وکیل نے بتایا کہ بیرون ملک شواہد کے دفترخارجہ کے ذریعے تصدیق کا ایک پورا عمل ہوتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پاکستان کے قانون میں بیرون ملک سے قانونی معاونت کی گنجائش کتنی ہے؟ خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ پاکستانی قانون میں بیرون ملک سے حاصل قانونی معاونت کی زیادہ اہمیت نہیں رکھی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مئی2023 سے پہلے نیب ریفرنسز کا واپس ہونا سنجیدہ معاملہ ہے ہمارے پاس نیب ریفرنس واپس ہونے سے متعلق تفصیلات پرمبنی فہرست ہے بات یہ ہے کہ ہم نے آج کیس ختم کرنا ہے ہمارے پاس جمعہ کی وجہ سے آج ساڑھے 12 بجے تک کا وقت ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو ساڑھے 12 بجے تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی معافی کی طرح نیب سے معافیاں دی جا رہی ہیں بدنیت لوگوں کے ہاتھ میں اتھارٹی دی جاتی رہی ملک میں کئی لوگوں کے پاس منشیات اور دیگر منفی ذرائع سے حاصل کردہ داغدار پیسہ ہے جس کے تحفظ کی خاطر سسٹم میں مخصوص لوگوں کو بچا لیا جاتا ہے ، ریاست کی ذمہ داری ہے منصفانہ و فیئر معاشرہ قائم کرے ریاست نے یقینی بنانا ہے مجرمان آزاد نہ گھومیں آج صورتحال یہ ہو گئی کہ معاشی مواقع چھیننے پر شہری ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں معیشت کے شعبے کو سیاسی طاقتوروں کیلئے مختص کر دیا گیا بنیادی حقوق کے براہ راست تعلق کا سوال اٹھا رہے ہیں لوگ اپنے نمائندے کسی مقصد سے منتخب کرتے ہیں جو آئین میں درج ہے دنیا بھر میں آمدن سے زائد اثاثوں کے اصولوں کا استعمال کم کیا جاتا ہے ماضی میں نیب قانون کا غلط استعمال کیا جاتا رہا قانون سازی کے ذریعے سرکاری افسران کو نیب سے تحفظ فراہم کیا جاتا رہا آڈیٹر جنرل اہم آئینی ادارہ ہےمضبوط آڈیٹر جنرل آفس صوبوں کے اکاؤنٹس کو دیکھ سکتا ہےنیب ترامیم سے براہ راست بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی نیب ترامیم سے بالواسطہ حقوق متاثر ہونے کا پہلو ضرور ہے، برا طرز یا مجرمانہ معاشرہ ہو گا تو لوگ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ نے نیب ترایم کیخلاف چیئرمین پی ٹی ائی کی درخواست کی سماعت ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی،

    دوسری جانب نیب ترامیم سے رواں سال فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہیں، رواں سال30 اگست تک12ریفرنس نیب عدالتوں سے منتقل ہوئے، سابق صدر آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی،خورشید انور جمالی، منظور قادر ،انور مجید،حسین لوائی،مرادعلی شاہ کے کیس نیب کے دائرہ کار سے نکل گئے،رواں سال مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے،ترامیم کی روشنی میں 25 مقدمات دیگر فورمز کو منتقل کر دیے گئے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کیخلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں، سماعت کا آغاز ہوتے ہی سرکاری وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گٸے،حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کردیا،وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے آغاز میں حمیدالرحمٰن چوہدری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حمید الرحمٰن مشرقی پاکستان کے سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے ٹرائل کی کہانی لکھی، انہیں اس بات پرسزا دی گئی تھی کہ پبلک آفس سے پرائیویٹ کال کیوں کی؟ مغربی پاکستان سے تفتیشی افسران اورجج لے کرجاتے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جومشرقی اورمغربی پاکستان کوآمنے سامنے لائے۔ آئین قانون سازوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آج ایسے قوانین کونہ پنپنے دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ہمارے لیے ایجوکیشنل بھی ہے

    مخدوم علی خان نے ججز کو تین مختلف ملکی و غیرملکی کتابیں مطالعہ کیلئے پیش کر دیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نیب ترمیمی کیس ہمارے علم میں کافی اضافے کا باعث بنے گا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کا کہا تھا، احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہی ماضی سے کیا جاتا رہا ہے،سال 1996 میں احتساب آرڈیننس آیا اطلاق 1985 سے کیا گیا،1997 میں دو احتساب آرڈیننس آئے انکا اطلاق بھی 1985 سے ہوا، نیب قانون 1999 میں بنا اس کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا، چیلنج کی گئی 2022 کی دونوں ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا تھا،

    مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم اور ان کا ماضی سے اطلاق غیر آئینی نہیں ،بے نامی دار کے کیس میں معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوتا ہے اب کہا گیا ہے آپ پہلے ثابت کریں کہ وہ اثاثے کرپشن سے بنائے ،یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ،اب نئے قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں ،اب مسئلہ اس رقم کا بن گیا ہے کہ وہ کرپشن سے آئی یا نہیں ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹگری سے نکال دیں ،یہ احتساب کی تو ریڑھ کی ہڈی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے لاکرز توڑے گھروں میں گھسے اور پھر ملا بھی کچھ نہیں ،مخدوم علی خان کی جانب سے جسٹس منصور شاہ کے لکھے خورشید شاہ کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا،اورکہا گیا کہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا پراپرٹی کسی کے قبضے میں ہے اور اس کا منافع کون لے رہا ہے دونوں چیزوں کا تعین ضروری ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر پہلے ثابت کیا جائے وہ کرپشن سے بنے ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پراسیکیوشن اگر الزام لگا رہی ہے تو اس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے ہر بے نامی ٹرانزیکشن یا پراپرٹی کرپشن نہیں ہوتی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذرائع آمدن ملزم نے نہیں بتائے تو جرم ثابت نہیں ہو گا ، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ نیب ترمیم سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے
    .وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سیریس جرم رہ نہیں گیا ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت آخری دو جرائم پر بھی ختم کی جا چکی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے مختلف ادوار میں جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ اپنایا جا سکتا ہےن

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں