Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات فیصلے پر نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے چار اپریل کے فیصلے پر نظر ثانی دائر کر رکھی ہے سماعت کے اغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے تیاری کیلئے مزید ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کردی۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت ایک ہفتہ کی تیاری کیلئے مہلت دے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف بتائیں آپ کے ساتھ ہم بھی کیس کا جائزہ لیں گے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے کیس میں اضافی گراونڈز تیار کیے ہیں سب سے اہم سوال الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار کا تھا سیکشن 57,58 میں ترامیم کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب ذہن میں رکھیں یہ نظر ثانی ہے، وکیل نے کہا کہ دوہفتے پہلے سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات سے متعلق تفصیلی فیصلہ ملا،فیصلے کی روشنی میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوفیصلہ آیا وہ کیس ختم ہوچکا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا جواب ابھی عدالت میں ہمارے ساتھ ہی پڑھیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ کانظرثانی کیس سے کوئی تعلق نہیں،انتخابات کی تاریخ دینے کا مقدمہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے،نظرثانی کیس میں جونکات اٹھانا چاہتے ہیں وہ بتائیں،

    جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی میں آپ دوبارہ دلائل نہین دے سکتے۔ یہ بتائیں کہ عدالتی فیصلہ میں غلطی کہاں ہے۔ سیکشن 230 کا نقطہ مرکزی کیس میں اٹھایا ہی نہیں گیا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین الیکشن کیشن کو اختیار نہیں ذمہ داری دیتا ہے، کیا صدر کی تاریخ الیکشن کمیشن کوتبدیل کرنے کا اختیار ہے،یہ بڑا اہم قانونی نقطہ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اختیارات کو الیکشن کمیشن نے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنا ہے،جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا دلائل دے رہے ہیں۔ کبھی ادھر کبھی ادھر جا رہے ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تیسری مرتبہ آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں۔ آپ کا نقطہ نوٹ کرلیا۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری کے روشنی میں اختیارات کا استعمال کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے نوے دن میں انتخابات ہونگے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے تاریخ تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔ عدالت الیکشن کمیںشن کی دلیل سے اتفاق نہیں کرتی۔ نظر ثانی میں دوبارہ دلائل کی اجازت نہیں الیکشن کمیشن وکیل ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں الیکشن کمشن وکیل کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو بتا دیں۔عدالت کے 14 مئی کو انتخابات کرانے کے فیصلہ میں سقم کیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اضافی دستاویزات کا جائزہ ابھی آپ کیساتھ ہی لین گے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات 90 روز نہیں کروا سکتا تو اسکا حل فیصلے میں بتا دے،اللہ نے ہمیں ایک دماغ اور 2 کان دیئے ہیں،آئین کسی کی جاگیر نہیں جو اسکی خلاف ورزی کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ صرف آئین اور قانون سے تبدیل ہوگی ،ہمیں اب آرٹیکل 254 کے چکر میں نہ ڈالیں،

    الیکشن کمیشن کی پنجاب انتخابات تاریخ پر دائرنظر ثانی درخواست خارج
    سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی آئینی خلاف ورزی ہو گی عدالت مداخلت کرے گی کسی ادارے کو اختیار نہیں کہ آئین پر اثر انداز ہو،پنجاب انتخابات میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی قراردے دیا گیا،

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

  • کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق پچاسویں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں ، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب گڈ ٹو سی یو ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے عدالت کے دو منٹ چاہیے ،میرے حوالے سے خبر میں کہا گیا کہ میں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں خامیوں کو تسلیم کیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عدالتی حکم کا حصہ ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے متعلقہ حکم پڑھنا چاہتا ہوں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مجھ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں غلطیوں کا اعتراف منسوب کیا گیا، آٹھ جون کے عدالتی حکم کے مطابق میں نے کہا تھا دو قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کی دو شقیں ایک جیسی تھیں، ریویو ایکٹ کیس پر سماعت شروع ہوئی تو پارلیمان نے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو ایکٹ کیس پر عدالتی فیصلہ اگست کے دوسرے ہفتے میں آیا ہے، قانون میں ترمیم نہ کرنے کی یہ دلیل قابل قبول نہیں، پارلیمان قانون سازی میں کافی مصروف رہی، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل شاید پارلیمان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں چیف جسٹس کو ربڑسٹیمپ بنایا گیا، میڈیا میں کیا رپورٹ ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں نے کہا تھا پریکٹس اینڈ پروسیجراور ریویو ایکٹ اوورلیپ کرتے ہیں، میرے سامنے اخبار ہے جس میں مجھ سے منسوب بات چھپی ہے، خبر کے مطابق مجھ سے منسوب کیا گیا میں نے نقائص تسلیم کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی انگریزی اخبارات میں خبر رپورٹر کے نام سے شائع کیوں نہیں کی جا رہی، معلوم نہیں کیا یہ کوئی سنسر شپ کا نیا طریقہ آیا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے تو تسلیم کیا قوانین میں مطابقت نہیں، جو قانون سازی کی گئی اس سے چیف جسٹس پاکستان کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم آپ کی وضاحت کو تسلیم کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان ریویو ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی ہر بات مانیں گے مگر یہ بات تسلیم نہیں کریں گے، کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،

    نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا چیف جسٹس نے فہرستیں طلب کر لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم کے بعد کتنے کیسز عدالتوں سے واپس ہوئے فہرست فراہم کی جائے، ایک فہرست نیب جمع کرا چکا ہے لیکن اسے مزید اپڈیٹ کر کے دوبارہ جمع کرائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ نئے نیب قانون میں کون سی ایسی پرانی شقیں ہیں جنہیں ختم نہیں کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے نیب قانون میں کئی اچھی چیزیں بھی ہیں،نیب قانون کی وجہ سے کئی لوگوں نے بغیر جرم جیلیں کاٹیں، ہم نے دیکھنا ہے کہ نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا، نیب ترامیم سے کئی جرائم کو ختم کیا گیا کچھ کی حیثیت تبدیل کی گئی،نیب ترامیم سے کچھ جرائم کو ثابت کرنا ہی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے، کم سے کم حد پچاس کروڑ کرنے سے کئی مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر کیے گئے، نیب ایک ہی ملزم پر کئی مقدمات بنا لیتا ہے جن میں سینکڑوں گواہان ہوتے ہیں،سیکڑوں گواہان کی وجہ سے نیب مقدمہ کئی کئی سال چلتے رہتے ہیں،اصل چیز کرپشن کے پیسے کی ریکوری ہے، ریکوری نہ بھی ہو تو کم از کم ذمہ دار کی نشاندہی اور سزا ضروری ہے،یہ درست ہے کہ نیب قانون میں کئی خامیاں ہیں اور اس کا اطلاق بھی درست انداز میں نہیں کیا گیا

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس میں اب تک انچاس سماعتیں کرچکی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم حکومت کی نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • ناقص تفتیش،سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب،آر پی شیخوپورہ کو طلب کرلیا

    ناقص تفتیش،سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب،آر پی شیخوپورہ کو طلب کرلیا

    سپریم کورٹ، قتل کیس ، ملزم سانول یوسف ضمانت کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب اور آر پی شیخوپورہ کو طلب کرلیا،عدالت نے قتل کیس میں ناقص تفتیش پر اعلی پولیس افسران کو کل پیش ہونے کا حکم دے دیا، جسٹس مظاہر علی نقوی نے متعلقہ آئی او اور ڈی ایس پر اظہار برہمی کیا، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی نے کس بنیاد پر ملزم کا نام تفتیش میں شامل نہیں کیا، زخمی کہہ رہا ہے کی فائرنگ سانول یوسف نے کی۔ کیا اس طرح سے تفتیش ہوتی ہے۔ کیوں آئی او اور ڈی ایس پی کو یہاں سے جیل بھیج دیں۔

    تھانہ شیخوپورہ میں سانول یوسف پر اکبر پر قتل کرنے کا الزام ہے سانول یوسف نے ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،جسٹس مظاہر علی نقوی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے پنجاب انتخابات 14 مئی کو کروانے کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی نظر ثانی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 31 اگست کو ہوگی اور چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی بینچ سماعت کرے گا۔

    علاوہ ازیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہی اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیا گیا جبکہ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    خیال رہے کہ اس سے قبل گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے۔ سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے، گورنر پنجاب نے مزید کہا تھا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے۔

    محمد بلیغ الرحمان ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو 30 مئی 2022 سے پنجاب کے 39ویں گورنر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر مقرر کیا تھا

  • اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جون کے بعد مخدوم علی خان سے ملے ہیں،ہم نے درخواست گزار سمیت دیگر وکلا کی تحریری معروضات دیکھی ہیں،اس کیس میں بہت وقت لگ چکا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد مختلف درخواستیں دائرہوئی ہیں،

    چیف جسٹس نے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ سے متعلق گزشتہ عدالتی حکمنامے پڑھنا شروع کردیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی وکیل مخدوم خان کا مدعا ہم سمجھ چکے ہیں، مخدوم صاحب توآج کل سب کے بارے میں ہی بڑے تنقیدی ہوگئے ہیں،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں خامیاں ہیں، اٹارنی جنرل نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق یکم جون کومطلع کیا،اٹارنی جنرل نے جون میں کہا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو اسمبلی دیکھے گی، اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا،نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت کا اس قانون سے متعلق موقف کیا ہے، کیا معطل شدہ قانون کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اس کی وجہ سے تمام کیسز التوا کا شکار ہوں؟ اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ اٹارنی جنرل اپنی پوزیشن کے دفاع کیلئے یہاں موجود نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مبشرحسن کیس کے فیصلے میں وجوہات دی گئی ہیں،آٹھ ممبرز بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں سن سکتے،اگرآپ کوکوئی اعتراض ہے تونئی درخواست دائرکرکے آجائیں، کیا سپریم کورٹ اپنا کام بند کر دے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ اعتزازاحسن کیس میں کسی قانون سازی کوکالعدم نہیں قراردیا گیا، اعتزازاحسن کیس میں کہا گیا کہ قانون سازی غیرموثررہے گی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یکم اورآٹھ جون کا فیصلہ اس لیے پڑھ کرسنایا ، تاکہ حکومت نے خودتسلیم کیا ناقص قانون سازی کی گئی، عدالتی حکم سے معطل شدہ قانون سازی کےتحت کاروائی متاثرتونہیں کی جا سکتی، خواجہ حارث نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس وقت ان فیلڈ نہیں معطل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو قانونی نکات اُٹھائے گئے انھیں ہم سمجھ رہے ہیں، موجودہ کیس میں حکومت پاکستان نے خود اس کیس کو التواء میں ڈالنے کی استدعا کی،ہم یہاں آئین اور قانون کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں، کیس سننے کے لیے ہم میں سے ایک ممبر کو بیرون مُلک سے واپس آنا پڑا، میری ذاتی رائے یہ ہے اس کیس کو چلایا جائے، 2023 والی نیب ترامیم تو مخص ایک ریفائن کرنے کی کوشش تھی اصل نیب ترامیم تو 2022 میں آئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2023 والی ترامیم سے متعلق بھول جائیں، چھٹیاں چل رہی ہیں ہم صرف اس کیس کے لیے واپس آئے ہیں، آپ اپنے دلائل کو 2022 والی ترمیم تک محدود رکھیں، لگتا ہے یہ کیس ای او بی آئی بنتا جارہا ہے جو ختم نہیں ہونا، ای او بی آئی کیس میں چھ چیف جسٹس گزارے تھے،

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ 8 رکنی بنچ نےقانون سازی پرحکم امتناع دے رکھا ہے، میں نے اپنے نوٹ میں آٹھ رکنی بنچ کے اسٹے آرڈرپراعتراض نہیں کیا میرا سوال صرف اتنا ہے کیا یہ کیس اسی بنچ کوسننا چاہیے یا فل کورٹ تشکیل دینا چاہیے یہ نیٹ فلیکس سیزن تھری بن گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقدمے کا 2022 کی ترامیم کے حوالے سے فیصلہ کر دیتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023ء میں چھوٹی ترامیم ہوئی جیسا کہ مقدمہ منتقلی کے حوالے سے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں صرف بتائیں کہ 2022ء والی ترامیم میں کیا کیا شامل ہوا تاکہ کیس کو ختم کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023 والی ترامیم سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ترمیمی درخواست دائر نہیں کی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں ان کی درستگی کروا دوں گا عدالتی حکمنامے میں موجود ہے کہ میں نے 2023 والی ترامیم کا معاملہ اُٹھایا، عدالت نے مجھے متفرق درخواست دائر کر کے اور کاپی مخالف فریق کو دینے کا کہا اور یہ میں کر چُکا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم سے کچھ لوگون کو استثنی مل گیا، خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ بے نامی کا تصور بدل دیا گیا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ 200 سال پہلے برطانیہ میں سات سو جرائم پر سزائے موت تھی، قوانین میں ترامیم سے ان سزاوں کو نرم کیا گیا،جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بنیادی حقوق سے متعلق قانون ساز ترامیم کرسکتے ہیں، مخدوم علی کی جانب سے عدالت کے سامنے خلافت عثمانیہ اسلامی قوانین اور تاریخی کتب کے حوالے دئے گئے ،مخدوم علی خان نے کہا کہ ہاشم کمالی کی ایک کتاب کا حوالہ بھی پیش کروں گا ،جسٹس منصور شاہ نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ آپ نے یہ کتاب سم شاپنگ سے خریدی یا کہیں سے منگوائی تھی ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ برسوں پہلے میں نے یہ کتاب ایمازون سے منگوائی تھی ،جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ میں ایمازون پر اس کتاب کو ڈھونڈ لوں گا ،مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے قانون بھی سلطان بناتا تھا اور قاضی کی تعنیاتی بھی سلطان کرتا تھا اب ویسا سلطنت والا تصور موجود نہیں قانون ساز پر اعتبار کرنا چاہئے

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ،نیب ترامیم کیس، جسٹس منصور علی شاہ نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی تجویز دے دی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے نیا قانون توثیق کیلئے صدر پاکستان کے پاس ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بے شک نیا بن جائے ہائی کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا، ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ توشہ خانہ تحائف عوامی ملکیت ہیں، عوامی ملکیت کے حامل تحائف کی نیلامی میں ہر شخص حصہ لے سکتا ہے، تحائف عوامی ملکیت ہیں تو ایسا ممکن نہیں کہ صرف مخصوص افراد ہی خرید سکیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق درست ہے، سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی پیروی کرنے یا نہ کرنے پر وقت مانگ لیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک جاویدنے حکومت سے ہدایات لینے کی استدعا کر دی،سپریم کورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہورہائیکورٹ احکامات کیخلاف دائر اپیل واپس لے لی ، سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ احکامات کے خلاف دائر اپیل واپس لے لی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ نئے رولز کی روشنی میں اپیل واپس لینا چاہتے ہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز پر نہ جائیں، توشہ خانہ پر پہلے ہی بہت شرمندگی ہو چکی ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا.

    پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 2021 میں اپیل دائر کی تھی، جبکہ توشہ خانہ یا اسٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔

    خیال رہے کہ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جبکہ یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    پی ٹی آئی کاعام انتخابات 90 روز میں کرانےکیلئےسپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے سینیٹر علی ظفر کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے گورنرز کو انتخابات کی تاریخ کے لیے ہدایات جاری کرے،صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا آئینی حق آرٹیکل 58 ون کے تحت حاصل ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ الیکٹورل پراسس کوحلقہ بندیوں کےبہانے سے التوا میں ڈالے،مردم شماری سے متعلق فیصلہ کرنے والی مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل مکمل نہیں تھی، الیکشن کمیشن غیر آئینی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر انحصار کر کے انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتا۔

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے اور فیصلے کے بعد جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، انتخابات بروقت نا ہونے سے پاکستان ایک اور آئینی بحران کا شکار ہو جائے گا الیکشن کمیشن کو انتخابات میں التوا کا اختیار آئینی رو سے جائز نہیں، کالعدم قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن، گورنرز اور مشترکہ مفادات کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب 90 روز میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا, جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے عدالت عظمی میں آئینی درخواست دائر کر دی،جماعت اسلامی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور صوبائی الیکشن کمشنرز کو فریق بنایا گیا ہے-

    لاہور:پولیس کااینٹی نارکوٹکس یونٹ منشیات فروش نکلا،4 اہلکار گرفتار،ڈی ایس پی فرارہو گیا

    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں،الیکشن کمیشن کو الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا جائےآرٹیکل 218(3) کے تحت نگران حکومتوں اور اتھارٹیز کو آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کا حکم دیا

  • چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کا ملاقات سے انکار غیرآئینی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی کسی شق کی بنیاد پر صدر کے آئینی اختیار سے انکار ممکن نہیں،عدالت قرار دے کہ صدر مملکت ہی 90 کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کے اہل ہیں،نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں،صدر مملکت 90 دن میں انتخابات کی تاریخ دینے کیلئے نگران حکومت کی سمری کے محتاج نہیں،نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا،

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کو لے کر صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی، صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے، خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدر مملکت کو جوابی خط بھجوایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • عمران خان کو جیل میں سہولیات،رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    عمران خان کو جیل میں سہولیات،رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات بارے حکومت نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی ہے

    سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے سربمہر رپورٹ جمع کروائی ہے، عمران خان توشہ خانہ کیس میں سزا ملنے کے بعد اٹک جیل میں قید ہیں، عمران خان سے انکے وکیل اور اہلیہ کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،آئی جی پنجاب بھی کل عمران خان کو ملے، سپریم کورٹ نے عمران خان کو ملنے والی سہولیات کی تفصیلات طلب کی تھیں جس پر اٹارنی جنرل نے آج چیف جسٹس آفس میں سربمہر رپورٹ جمع کروائی ہے،

    عمران خان کو جیل میں سہولیات دی جا رہی ہیں، عام قیدیوں کی نسبت عمران خان کو جیل میں زیادہ ریلیف دیا گیا ہے ، جیل کے اندر ہوتے ہوئے بھی عمران خان دیسی گھی میں بنے کھانے کھا رہے ہیں، عمران خان کو دیسی گھی میں کبھی مٹن ، تو کبھی چکن بنا کر دیا جاتا ہے تا ہم اسکی عمران خان کو ادائیگی کرنا ہوتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی وہ پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات نے اٹارنی جنرل آفس میں دی تھی، میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کو جیل میں چہل قدمی کی بھی اجازت ہے،عمران خان کو بہتر کلاس کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں
    jail menu

    سپرنٹنڈٹ اٹک جیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ 6 صفحات پر مشتمل ہے ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے ساتھ والے بیریکس کے بلاکس خالی کرا دیئے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی کو ڈائٹ فوڈ ان کی مشاورت سے دیا جاتا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو پیر سے اتوار تک ان کو ناشتے میں بریڈ، آملیٹ، دہی اور چائے دی جاتی ہے،لنچ میں پیر کو سبزی، روٹی، سلاد اور دہی دیا جاتا ہے ، منگل کو دال چنے ،بدھ کو دال ماش دی جاتی ہے،جمعرات کو دال، جمعے کو سبزی،ہفتے اور اتوار کو بھی دال دی جاتی ہے،ڈنرمیں دال چاول، دہی اور سلاد دیا جاتا ہے،ملزم کی ڈیمانڈ پر ہفتے میں دو بار دیسی مرغی اور ایک بار چھوٹا گوشت دیسی گھی میں تیار کرکے فراہم کیا جاتا ہے،موسمی پھل بھی فراہم کئے جاتے ہیں،18 اگست کو سیل کے واش روم کی مرمت کرکے اس کی دیوار مزید پانچ فٹ اونچی کی گئی،ملزم کو جس سیل میں رکھا گیا ہے اس کی مرمت کی گئی، سیل کا فرش سیمنٹ کا ہے،ایک پنکھا لگا ہوا ہے،واش روم کے اندر پورٹا کمپنی کا کموڈ، مسلم شاو،ٹشو اسٹینڈ لگائے گئے ہیں،وضو کےلئے واش روم کے باہر واش بیسن لگایا گیا ہے، ملزم کا سیل بیک سائیڈ سے ہوا کے لئے کھلا ہے، سیل کے اس ایریا میں ملزم واک کرسکتا ہے،ملزم کو ایک میٹریس، چار تکیے، ٹیبل، کرسی ، جائے نماز اور ایئر کولر کی سہولت دی گئی ہے،ملزم کو قرآن پاک انگریزی ترجمے کے ساتھ فراہم کیا گیا ہے، 25 کتابیں پڑھنے کے لئے دی گئی ہیں،رملزم کو 21 انچ ایل ای ڈی ٹی وی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، ملزم کے سیل کی صفائی کے لئے 2 سینیٹری ورکرز موجود ہیں ،اٹک جیل میں کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے دیگر جیلوں کے 53 افسران کو تعینات کیا گیا ہے، چار اے ایس پی رینک کے پولیس افسران تین شفٹوں میں ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں،ملزم اور سٹاف کی نقل وحرکت چیک کرنے کے لئے 3 کیمرے نصب کئے گئے ہیں، ڈیوٹی دینے والے سٹاف کو دو وائرلیس فون دیئے گئے ہیں،فیملی کے لئے منگل دن 2 بجے، وکلا کے لئے جمعرات کا دن ملاقات کے لئے مقرر کیا گیا ہے،ملاقاتوں کے دوراں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کئے جاتے ہیں،اس وقت اٹک جیل میں 982 قیدی قید ہیں،وکیل نعیم حیدر پنجوتھا، اہلیہ بشری بی بی، عمیر خان نیازی، بابر اعوان اور لطیف کھوسہ ملاقاتیں کرچکے ہیں،چیئرمین پی ٹی ائی کی طبی چیک اپ کے لئے پانچ ڈاکٹرز کا پینل ہر وقت موجود ہوتا ہے،

    عمران خان کو جیل میں بیرک نمبر تین الاٹ کیا گیا ہے، عمران خان صبح 11 بجے ناشتہ کرتے ہیں، اورانہیں فروٹ بھی دیا جا رہا ہے، 22 اگست کو محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جا چکی ہیں جس میں نیا باتھ روم بھی بنوا دیا گیا ہے جس کی دیواریں 5 فٹ اونچی ہیں واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور واش بیسن بھی ہے

    ترجمان محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق عمران خان کیلئے بنائے گئے باتھ روم میں باتھ سوپ ، پرفیوم، ائیر فریشنر، تولیہ اور ٹیشو پیپر بھی موجود ہیں،کمرے میں بیڈ ، تکیہ ، میٹرس، میز ، کرسی، ائیر کولر ایگزاسٹ فین بھی موجود ہے، فروٹ، شہد، کھجوریں، جائے نماز انگریزی ترجمے والا قرآن مجید اورکتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے،

  • الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی نہیں تھی،پرویز خٹک

    واضح رہے کہ قبل ازیں پیپلز پارٹی نے بھی انتخابات میں 90 روز سےزیادہ کی تاخیر کی کھل کر مخالفت کی تھی،پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کے بعد ان کے خلاف اپیلیں ہوئیں تو سال ڈیڑھ سال انہی چکروں میں پڑے رہیں گے، اس لیے الیکشن 90 روز کے اندر اندر ہونے چاہئیں، آئین میں 90 دن کا ذکر ہے، حلقہ بندیوں کا ذکر نہیں، اسمبلیوں کی نشستیں بھی نہیں بڑھائی جا رہیں،انہی حلقوں کی حدود کو کم زیادہ کرنا ہے، یہ کام کرنا بھی ہے تو 2 ماہ میں مکمل کر لیا جائے، پیپلز پارٹی کا اجلاس بلا کر فیصلہ کریں گے کہ الیکشن میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا ہے یا نہیں۔

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی، صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    سربراہ بی این پی عوامی اور سابق صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پر …

    اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن کو آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا ہوتا ہے، آئین کے مطابق مدت پوری ہونے سے قبل اگر اسمبلی توڑی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانے ہوتے ہیں تاہم اگر نئی مردم شماری ہو تو آئین کے آرٹیکل 15(1)کے سب سیکشن 5کے تحت الیکشن کمیشن پاکستان از سر نو حلقہ بندیاں کرانے کا قانونی طو رپر پابند ہے۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 دن میں نہیں ہو سکتےالیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرنےکا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ کا وقت مختص کردیا،حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبرکو کی جائےگی، ملک بھر میں8 ستمبر سے7 اکتوبر تک حلقہ بندیاں کی جائیں گی، اکتوبر سے 8 نومبر تک حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز دی جائیں گی، 5 ستمبرسے7 ستمبر تک قومی وصوبائی اسمبلیوں کا حلقہ بندیوں کا کوٹہ مختص کیا جائےگا، حلقہ بندیوں سےمتعلق انتظامی امور 31 اگست تک مکمل کیے جائیں گے۔

    لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی