Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنرکا صدر سے ملاقات سے انکارغیرآئینی قرار دیا جائے،درخواست دائر

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    چیف الیکشن کمشنر کا ملاقات سے انکار غیرآئینی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،درخواست عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی کسی شق کی بنیاد پر صدر کے آئینی اختیار سے انکار ممکن نہیں،عدالت قرار دے کہ صدر مملکت ہی 90 کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کے اہل ہیں،نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں،صدر مملکت 90 دن میں انتخابات کی تاریخ دینے کیلئے نگران حکومت کی سمری کے محتاج نہیں،نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا،

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کو لے کر صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی، صدر مملکت نے چیف الیکش کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی ، آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل ملاقات کیلئے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تاریخ طے کی جا سکے، خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے صدر مملکت کو جوابی خط بھجوایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • عمران خان کو جیل میں سہولیات،رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    عمران خان کو جیل میں سہولیات،رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات بارے حکومت نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی ہے

    سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے سربمہر رپورٹ جمع کروائی ہے، عمران خان توشہ خانہ کیس میں سزا ملنے کے بعد اٹک جیل میں قید ہیں، عمران خان سے انکے وکیل اور اہلیہ کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،آئی جی پنجاب بھی کل عمران خان کو ملے، سپریم کورٹ نے عمران خان کو ملنے والی سہولیات کی تفصیلات طلب کی تھیں جس پر اٹارنی جنرل نے آج چیف جسٹس آفس میں سربمہر رپورٹ جمع کروائی ہے،

    عمران خان کو جیل میں سہولیات دی جا رہی ہیں، عام قیدیوں کی نسبت عمران خان کو جیل میں زیادہ ریلیف دیا گیا ہے ، جیل کے اندر ہوتے ہوئے بھی عمران خان دیسی گھی میں بنے کھانے کھا رہے ہیں، عمران خان کو دیسی گھی میں کبھی مٹن ، تو کبھی چکن بنا کر دیا جاتا ہے تا ہم اسکی عمران خان کو ادائیگی کرنا ہوتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی وہ پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات نے اٹارنی جنرل آفس میں دی تھی، میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کو جیل میں چہل قدمی کی بھی اجازت ہے،عمران خان کو بہتر کلاس کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں
    jail menu

    سپرنٹنڈٹ اٹک جیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ 6 صفحات پر مشتمل ہے ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے ساتھ والے بیریکس کے بلاکس خالی کرا دیئے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی کو ڈائٹ فوڈ ان کی مشاورت سے دیا جاتا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو پیر سے اتوار تک ان کو ناشتے میں بریڈ، آملیٹ، دہی اور چائے دی جاتی ہے،لنچ میں پیر کو سبزی، روٹی، سلاد اور دہی دیا جاتا ہے ، منگل کو دال چنے ،بدھ کو دال ماش دی جاتی ہے،جمعرات کو دال، جمعے کو سبزی،ہفتے اور اتوار کو بھی دال دی جاتی ہے،ڈنرمیں دال چاول، دہی اور سلاد دیا جاتا ہے،ملزم کی ڈیمانڈ پر ہفتے میں دو بار دیسی مرغی اور ایک بار چھوٹا گوشت دیسی گھی میں تیار کرکے فراہم کیا جاتا ہے،موسمی پھل بھی فراہم کئے جاتے ہیں،18 اگست کو سیل کے واش روم کی مرمت کرکے اس کی دیوار مزید پانچ فٹ اونچی کی گئی،ملزم کو جس سیل میں رکھا گیا ہے اس کی مرمت کی گئی، سیل کا فرش سیمنٹ کا ہے،ایک پنکھا لگا ہوا ہے،واش روم کے اندر پورٹا کمپنی کا کموڈ، مسلم شاو،ٹشو اسٹینڈ لگائے گئے ہیں،وضو کےلئے واش روم کے باہر واش بیسن لگایا گیا ہے، ملزم کا سیل بیک سائیڈ سے ہوا کے لئے کھلا ہے، سیل کے اس ایریا میں ملزم واک کرسکتا ہے،ملزم کو ایک میٹریس، چار تکیے، ٹیبل، کرسی ، جائے نماز اور ایئر کولر کی سہولت دی گئی ہے،ملزم کو قرآن پاک انگریزی ترجمے کے ساتھ فراہم کیا گیا ہے، 25 کتابیں پڑھنے کے لئے دی گئی ہیں،رملزم کو 21 انچ ایل ای ڈی ٹی وی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، ملزم کے سیل کی صفائی کے لئے 2 سینیٹری ورکرز موجود ہیں ،اٹک جیل میں کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے دیگر جیلوں کے 53 افسران کو تعینات کیا گیا ہے، چار اے ایس پی رینک کے پولیس افسران تین شفٹوں میں ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں،ملزم اور سٹاف کی نقل وحرکت چیک کرنے کے لئے 3 کیمرے نصب کئے گئے ہیں، ڈیوٹی دینے والے سٹاف کو دو وائرلیس فون دیئے گئے ہیں،فیملی کے لئے منگل دن 2 بجے، وکلا کے لئے جمعرات کا دن ملاقات کے لئے مقرر کیا گیا ہے،ملاقاتوں کے دوراں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کئے جاتے ہیں،اس وقت اٹک جیل میں 982 قیدی قید ہیں،وکیل نعیم حیدر پنجوتھا، اہلیہ بشری بی بی، عمیر خان نیازی، بابر اعوان اور لطیف کھوسہ ملاقاتیں کرچکے ہیں،چیئرمین پی ٹی ائی کی طبی چیک اپ کے لئے پانچ ڈاکٹرز کا پینل ہر وقت موجود ہوتا ہے،

    عمران خان کو جیل میں بیرک نمبر تین الاٹ کیا گیا ہے، عمران خان صبح 11 بجے ناشتہ کرتے ہیں، اورانہیں فروٹ بھی دیا جا رہا ہے، 22 اگست کو محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جا چکی ہیں جس میں نیا باتھ روم بھی بنوا دیا گیا ہے جس کی دیواریں 5 فٹ اونچی ہیں واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور واش بیسن بھی ہے

    ترجمان محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق عمران خان کیلئے بنائے گئے باتھ روم میں باتھ سوپ ، پرفیوم، ائیر فریشنر، تولیہ اور ٹیشو پیپر بھی موجود ہیں،کمرے میں بیڈ ، تکیہ ، میٹرس، میز ، کرسی، ائیر کولر ایگزاسٹ فین بھی موجود ہے، فروٹ، شہد، کھجوریں، جائے نماز انگریزی ترجمے والا قرآن مجید اورکتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے،

  • الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی نہیں تھی،پرویز خٹک

    واضح رہے کہ قبل ازیں پیپلز پارٹی نے بھی انتخابات میں 90 روز سےزیادہ کی تاخیر کی کھل کر مخالفت کی تھی،پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کے بعد ان کے خلاف اپیلیں ہوئیں تو سال ڈیڑھ سال انہی چکروں میں پڑے رہیں گے، اس لیے الیکشن 90 روز کے اندر اندر ہونے چاہئیں، آئین میں 90 دن کا ذکر ہے، حلقہ بندیوں کا ذکر نہیں، اسمبلیوں کی نشستیں بھی نہیں بڑھائی جا رہیں،انہی حلقوں کی حدود کو کم زیادہ کرنا ہے، یہ کام کرنا بھی ہے تو 2 ماہ میں مکمل کر لیا جائے، پیپلز پارٹی کا اجلاس بلا کر فیصلہ کریں گے کہ الیکشن میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا ہے یا نہیں۔

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی، صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    سربراہ بی این پی عوامی اور سابق صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پر …

    اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن کو آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا ہوتا ہے، آئین کے مطابق مدت پوری ہونے سے قبل اگر اسمبلی توڑی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانے ہوتے ہیں تاہم اگر نئی مردم شماری ہو تو آئین کے آرٹیکل 15(1)کے سب سیکشن 5کے تحت الیکشن کمیشن پاکستان از سر نو حلقہ بندیاں کرانے کا قانونی طو رپر پابند ہے۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 دن میں نہیں ہو سکتےالیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرنےکا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ کا وقت مختص کردیا،حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبرکو کی جائےگی، ملک بھر میں8 ستمبر سے7 اکتوبر تک حلقہ بندیاں کی جائیں گی، اکتوبر سے 8 نومبر تک حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز دی جائیں گی، 5 ستمبرسے7 ستمبر تک قومی وصوبائی اسمبلیوں کا حلقہ بندیوں کا کوٹہ مختص کیا جائےگا، حلقہ بندیوں سےمتعلق انتظامی امور 31 اگست تک مکمل کیے جائیں گے۔

    لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی

  • نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ ,نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی،،ابراہیم ابڑو ایڈووکیٹ درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر چار اپریل 2022 کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ،آئین کے آرٹیکل 207 کے تحت جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نگران وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے ہیں ،چیف جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سپریم کورٹ کے جج ریٹائرڈ ہوئے ہیں، احترام سے بات کریں، بتایا جائے کس قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟

    درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر دو سال تک کسی منافع بخش عہدے پر تعینات نہیں ہوسکتے ہیں ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ریٹائرمنٹ کے دو سال مکمل کیے بغیر نگراں وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے ہیں ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی بطور نگران وزیر اعلیٰ سندھ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 207 کی خلاف ورزی ہے ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو بطور نگران وزیر اعلیٰ کام کرنے سے روکا جائے ،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • تین سال ایک شخص کواندررکھا اوراب کہہ رہے کیس نہیں بنتا،سپریم کورٹ نیب پر برہم

    تین سال ایک شخص کواندررکھا اوراب کہہ رہے کیس نہیں بنتا،سپریم کورٹ نیب پر برہم

    سپریم کورٹ میں احد چیمہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت نیب کی جانب سے تحریری استدعا کی گئی، نیب نے موقف اختیار کیا کہ دوبارہ تحقیقات میں احد چیمہ کے خلاف نیب کا کیس نہیں بنتا ، سپریم کورٹ نیب پر برہم ہو گئی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین سال ایک شخص کو اندر رکھا اور اب کہہ رہے ہیں کیس نہیں بنتا ،نیب اپنا کنڈکٹ دیکھے نیب کو جرمانہ کیوں نہ کیا جائے ہائیکورٹ کا فیصلہ تفصیلی تھا پھر بھی سپریم میں درخواست دائر کی گئی ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سالوں تحقیقات کرنے کے بعد کہتے ہیں کیس نہیں بنتا ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی شخص کو تین سال اندر رکھنے کا کوئی مداوا ہو سکتا ہے؟

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا کیس نہیں ،پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر کیس واپس لیتے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اج اس کیس کو مثال بناتے ہوئے جرمانہ کیوں نہ کیا جائے ؟ٹرائل کورٹ میں نیب نے 24 بار التوا مانگا، جسٹس جمال خان نے کہا کہ نیب مقدمات سے بری ہونے والے ملزمان نیب کے خلاف مقدمہ کیوں نہ دائر کریں، جو پسندیدہ بن جاتا ہے اسکا کیس واپس لے لیا جاتا ہے، چیرمین نیب کے پاس اتنے لامحدود اختیارات کیسے ہیں ؟ احد چیمہ ابھی کہاں ہیں، پراسیکوٹر نیب نے عدالت میں کہا کہ ابھی احد چیمہ وزیر بنے چکے ،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو وہ بھی آپکے پسندیدہ ہو گئے ہوں گے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا احد چیمہ کے خلاف پہلی تحقیقات جانبدار تھیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب میں ترامیم کر کے ضمانت دی گئی جو اچھا ہے، نیب کسی کو فوری گرفتار نہیں کرسکتا

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    احد چیمہ کا حالیہ بیان سنا ؟ کیا آپکو معلوم ہے کہ نیب نے کتنا نقصان پہنچایا ہے؟ عدالت

    واضح رہے کہ نیب نے احد چیمہ کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہوا تھا، نیب ریفرنس کے مطابق احد چیمہ نے اندرون و بیرون ملک اربوں روپے کے ناجائز اثاثہ بنائے،احد چیمہ کے اثاثہ جات کی مارکیٹ اربوں روپے کے قریب ہے،احد چیمہ نے فیملی ممبران کے نام بے نامی جائیدادیں بنائیں، احد چیمہ کے اثاثہ جات کی مارکیٹ ویلیو600 ملین کے قریب ہے، احد چیمہ نے اہلیہ صائمہ احد، والدہ نصرت افزا، بھائی احمد سعود اور بہن سعدیہ منصور کے نام جائیدادیں بنائیں،

  • بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار نے وکلا شاہد کمال ، چوہدری امجد کے ذریعے آئینی سوالات اٹھائے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل کا 5 اگست 2023 کا اجلاس آئینی تھا؟ کیا پنجاب ، کے پی کے نگران وزرائے اعلٰی اجلاس میں شرکت کے مجاز تھے؟ کیا اپیلٹ فورم کی موجودگی میں اجلاس منعقد کیا جاسکتا تھا؟ کیا نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہ سکتی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کا آئینی حکم نظر انداز کرسکتا ہے؟

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا آئینی حکم نظر انداز کرکے حلقہ بندیاں شروع کی جا سکتی ہیں؟ کیا پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر صدر کا آئینی اختیار کم کرسکتی ہے؟

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اسی طرز کی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ کا حصہ ہیں،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر اگئے،چئیرمین پی ٹی کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابھی کیس کی سماعت چل رہی ہے،
    ہائی کورٹ معاملے کا حل نکال رہی ہے، یہی ہمارے نظام کی خوبصورتی ہے، ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیں، پھر سماعت کریں گے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، ہمیں ابھی اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کل اپنے موکل سے اٹک جیل میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران ایک پولیس والا ہمارے درمیان ڈٹ کر بیٹھا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہائی کورٹ کا حکم آئے گا تب دیکھ لینگے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    آپ اللہ کو جواب دے ہیں،میرا کام آپکی معاونت کرنا ہے ،انصاف کرنا نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کردی،سپریم کورٹ نے عمران خان کو جیل میں میسر سہولیات پر رپورٹ طلب کر لی

    دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “بہت تکلیف ہوتی ہے جب وکلاء ہائیکورٹ کے خلاف بیانات دیتے ہیں، سول کورٹ، مجسٹریٹ یا ہائیکورٹ سپریم کورٹ کی ماتحت نہیں ہے، مجسٹریٹ سے لیکر ہائیکورٹ تک ہمارے لیے سب قابل احترام ہیں، کوئی بھی عدالت خود کو سپریم کورٹ کے ماتحت نہ سمجھے”۔

    بعد ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل جمعہ تک سماعت ملتوی کی تو سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی

    مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو بدمزگی ہوئی اس پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، آج شکر ہے پرسکون ماحول ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر کیا آپ شامل تفتیش ہوئے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شامل تفتیش ہونا بھی نہیں ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ شامل تفتیش ہوں گے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگتیں، جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں وہاں پیش نہیں ہوں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اور بھی سوالات ہم نے سوچ رکھے ہیں،شکایت کنندہ کی غیر موجودگی میں کیس نہیں سن سکتے، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کیس کو عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    پی ٹی آئی وکیل علی اعجاز بٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ وکیل قتل کیس میں دوسری طرف مدعی کے وکیل آج بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوۓ اس وجہ سے کیس ملتوی ہو گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے،اس کیس میں خان صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج

    رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج

    اسلام آباد: اسابق وزیر داخلہ اور لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، اس دوران نیب کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ لاہور ہائی کورٹ رانا ثنا اللہ کے خلاف انکوائری کالعدم قرار دے چکی ہے عدالت نے درخواست غیر مؤثر ہونے پر رانا ثنا اللہ کی نیب مقدمہ میں ضمانت منسوخی کیلئے دائر نیب اپیل نمٹا دی۔

    دوسری جانب احد چیمہ کی ضمانت منسوخی کا ایک پرانا کیس بھی سماعت کیلئے مقرر ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ 25 اگست کو سماعت کرے گا۔

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    واضح رہے کہ جمعہ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے پاناما والیم ٹین کھولنے، مریم نواز اور رانا ثنا اللہ کی ضمانتیں منسوخ کرنے اور پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں مریم نواز، احد چیمہ، رانا ثناء اللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں سمیت اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کئے تھے-

    آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی

  • جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سپریم کورٹ: پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری ہوئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لے لیا ،اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، صحافی ہر وہ چیز معلوم کرسکتے ہیں جس میں پبلک انٹرسٹ ہو، میڈیا کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا ہوتا ہے، جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں،آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے،دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں، ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سچ کی تلاش کے حوالے سے قرآنی آیات اور مختلف احادیث کے حوالے دیئے گئے، انکا کہنا تھا کہ جج آئین و قانون کے دائرے میں کام کرتا ہے سچ اور انصاف کا گہرا تعلق ہے،میں آپ کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیئے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری