Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے ججزکی تنخواہوں سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری

    سپریم کورٹ کے ججزکی تنخواہوں سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: قائم مقام صدرصادق سنجرانی نے اعلیٰ عدلیہ کے ججزکی تنخواہوں سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    صادق سنجرانی نے ججز کی تنخواہوں کا آرڈر 2023ء جاری کیا،وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کی بنیادی تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ کردیا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تنخواہ میں 2 لاکھ 4 ہزار 865 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔

    اس حکم نامے کے مطابق اب چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ 20 فیصد بڑھا کر 12 لاکھ 29 ہزار 189 روپے ماہانہ ہو گی،سپریم کورٹ کے دیگرججز کی بنیادی تنخواہ بھی 20 فیصد بڑھا کر 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے ماہانہ کر دئ گئی ہے،حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نئی تنخواہیں یکم جولائی سے نافذ العمل سمجھی جائیں گی۔

    تھانہ شادمان نذر آتش کیس،اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    اس سے قبل 2022ء کے آرڈر کے مطابق چیف جسٹس کی تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار 324 روپے جبکہ جج کی تنخواہ 9 لاکھ 67 ہزار 636 روپے تھی گزشتہ ہفتےوفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے تمام ججز کی بنیادی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ 30 جون سے پہلے ہوجائے گا، اس سلسلے میں سمری بھجوائی جاچکی ہے چیئرمین سینیٹ کی مراعات کے بل کو منی بل کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ن لیگ کا اصولی فیصلہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی مراعات کا بل سپورٹ نہیں کریں گے نہ ہی اسے قومی اسمبلی سے پاس ہونے دیں گے۔

    فرانسسکو میں سکھ مظاہرین نے بھارتی قونصل خانے کو آگ لگا دی

  • وکیل قتل کیس،تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر

    وکیل قتل کیس،تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر

    سپریم کورٹ ،چیئرمین تحریک انصاف نے وکیل قتل کیس میں تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست دائر کردی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وکیل قتل کیس میں جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی مین دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دو رکنی بینچ نے کیس میں حکم امتناع جاری کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا دو رکنی بینچ نے تجویز دی کی تین رکنی بینچ کیلئے چیف جسٹس کو درخواست دی جائے،معاملہ حساس اور فوری سماعت کا متقاضی ہے۔ موکل کیخلاف سخت اقدامات اور گرفتاری کا خدشہ ہے فریقین اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے تو موکل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ معاملہ پر فوری تین بینچ تشکیل دیکر آج ہی سماعت کی جائے  چیئرمین تحریک انصاف کی طرف سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے درخواست دائرکی.

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کی حکم امتناع ،عبوری ضمانت کی استدعا مسترد

    وکیل قتل کیس،عمران خان کی حکم امتناع ،عبوری ضمانت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے وکیل لطیف کھوسہ کی عبوری ضمانت دینے کی استدعا مسترد کردی، لطیف کھوسہ کی ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناع دینے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی

    سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل سے مقدمے کی تفصیلات طلب کرلیں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ،دوران سماعت عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میرے موکل کی جان کو خطرہ ہے مہربانی فرما کر گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دوسرے فریق کو سنے بغیر اس سطح پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے ٹی اے کا سیکشن 6 اور7 غلط لگا ہے تو کس قانون سے ان کو ہٹایا جاسکتا ہے؟ کس نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملزم پر غلط دفعات کے تحت مقدمے کا اندراج ہوا؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا حق ہے کہ جا کر متعلقہ فورم پر درخواست دیں کہ غلط دفعات لگائی ہیں،

    وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ابھی چالان پیش نہیں ہوا اور چیئرمین پی ٹی آئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو گئے وکیل قتل کیس کا ادراک ابھی کسی عدالت کو نہیں ہوا اور جے آئی ٹی بھی بنا دی، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جے آئی ٹی کو چیلنج کیا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ میرے خلاف کیا کیا ہو رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کی کون سی دفعہ عدالت کو جے آئی ٹی بنانے کا اختیار دیتی ہے؟ دفعات کے نفاذ کااختیار توایس ایچ او کے پاس ہی ہے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایس ایچ او بھی تحقیقات کے مرحلے پر دہشتگردی کی دفعات عائد نہیں کر سکتا ،

    جسٹس عائشہ ملک نے عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ اپنی ہی مخالفت میں دلائل دے رہے ہیںجب کیس تحقیقاتی مرحلے پر ہے تو کیسے ایف آئی آر ختم کرنے کی استدعا ہو سکتی ہے؟ کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ ایف آئی آر سے یہ دفعات نکال دو؟ عدالت نے لارجر بنچ کے قیام کی درخواست چیف جسٹس کو پیش کرنے کی ہدایت کردی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2 ممبر بنچ ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ معطل نہیں کر سکتا ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے استدعا کی کہ لارجر بنچ بنا کر کل مقدمے کی سماعت کا حکم دے دیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لارجر بنچ بنانا ہمارا اختیار نہیں اس معاملے میں ہم مفلوج ہیں چیف جسٹس سے درخواست کریں ممکن ہے کیس آج ہی مقرر ہو جائے ابھی فوری طور پر آج کا حکم نامہ دستخط کرکے بھیج دیتے ہیں

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک سال سے چیئرمین پی ٹی آئی حفاظتی ضمانت کیلئے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں،معذرت خواہ ہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی آج پیش نہیں ہو سکے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایف آئی آر معطلی کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو ذاتی طور پر آنے کی ضرورت نہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے موکل کیخلاف 150 سے زائد مقدمات درج ہیں،اگر عدالت نے حکم نہ کیا تو گرفتاری ہو سکتی ہے عدالت گرفتاری روکنے کا حکم دے، میرے موکل کو فوری ریلیف نہ ملا تو اس کی جان بھی جا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کوئی اور درخواست کرنی ہے تو چیف جسٹس سے کی جاسکتی ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان سے ملیں تو خبریں لگ جاتی ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چیف جسٹس سے اکیلے ملنے کے بجائے ایڈووکیٹ جنرل کو ساتھ لے جائیں

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی، وکیل قتل کیس میں عمران خان لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے تھے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    جسٹس منصور علی شاہ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا

    فوجی عدالتوں کیخلاف سویلین کے ٹرائل کیخلاف کیس 23 جون کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا تحریری حکمنامہ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ بھی شامل ہے ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ بنچ تشکیل دیں، , نظام عدل کی ساکھ کی عمارت عوامی اعتماد پر کھڑی ہے، موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے،اس وقت ملک میں انتخابات کیلئے سیاسی ماحول کا منظرنامہ چارج ہے ،ایسے سیاسی چارج ماحول میں موجودہ عدالتی بنچ کے خلاف اعتراض کیا جاسکتا ہے، فوجی عدالتوں کیخلاف کیس سننے والے بنچ میں موجود ججز کے تحریری اعتراضات انتہائی سنجیدہ ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایک سینئر جج کے اعتراض پر اس وقت مناسب نہیں ہے کہ رائے دوں

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ ایک سینئر جج کے اعتراض عدالت میں ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے مناسب اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی

    جسٹس منیب اختر نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ,درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کر رکھی ہے سپریم کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی تھی،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری روسٹروم پر آ گئے اور کہا کہ میں نے بھی اس کیس میں درخواست دائر کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی پے سپریم کورٹ بار بھی اس کیس میں فریق بن رہی ہے ،اچھے دلائل کو ویلکم کریں گے، چآپ آج اس وقت درخواست دائر کر رہے ہیں ؟ عابد زبیری نے کہا کہ ابھی افس میں دائر ہو گئی ہے،

    ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، اٹارنی جنرل
    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت میں کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں،میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائلز کے خلاف ہیں ، فوجیوں کے خلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرائل جاری ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اٹارنی جنرل کے بیان سے متضاد ہے ،میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کی بات پر یقین ہے،

    اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ ملٹری کورٹس بھیجے گئے ملزمان پر سیکشن 2 ڈی ون لگائی گئی ہے یا 2 ڈی 2 ؟ کل کے بعد اسی معاملے کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ ابھی تک سیکشن 2ڈی 2 لگائی گئی ہے، سیکشن 2 ڈی ون کا اطلاق بعد میں ہو سکتا ہے،آج کے دن تک 2 ڈی ٹو کا ہی اطلاق ہوا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بی ایل ای اور ڈسٹرکٹ بار کیس کے فیصلے سویلین کا فورسز کے اندر تعلق سے متعلق کچھ ٹیسٹ آپلائی کرتا ہے، کیسے تعین ہو گا ملزمان کا عام عدالتوں میں ٹرائل ہو گا یا ملٹری کورٹس میں ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیر سویلین کے ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتا، اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاع پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے ، کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے،

    ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے، جسٹس منیب اختر
    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم ماضی میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مثالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ماضی کی ایسی مثالوں کے الگ حقائق ،الگ وجوہات تھیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شفاف ٹرائل کی بھی شرائط ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایف بی علی؛ بریگیڈیر فرخ بخت علی کیس کہتا ہے کہ کسی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے،یہ کیس سویلین کے اندر تعلق کی بات کرتا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق یہ کون سا تعلق ہو گا،جس پر ٹرائل ہو گا،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئینی ترمیم سے ہی ہو سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہوا میں بات کر رہے ہیں ٹو ڈی ٹو کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں اس پر معاونت کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم کا اکثریتی فیصلہ بھی یہ ہی شرط عائد کرتا ہے کہ جنگی حالات ہوں تک ہو گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف جنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؛ جب بنیادی حقوق معطل نہ ہوں تو سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا؛ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمارا ائین، ہمارے بنیادی حقوق، ہمارے قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزر کر مختلف ہو چکے ہیں اب ہمارے آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جس کو دیکھنا ضروری ہے ؛ آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل سٹرکچرکی بات کرتا ہے آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں ،یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے،بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ،کسی نے بھی خوشی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہو گی ایف آئی آر میں کہیں بھی افیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا،آرمی سپورٹس سمیت مختلف چیزوں میں شامل ہوتی ہے،اگر وہاں کچھ ہو جائے تو کیا آرمی ایکٹ لگ جائے گا،

    اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے سیکشن ٹو ڈی پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ آرمی والے کی بات کرتے ہیں تو اس کی سب اہم چیز مورال ہوتی ہے،اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہو جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے؛

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آفیشل سیکرٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے؟ ،وکیل درخواست گذار نے کہا کہ جی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کازکر ہی نہیں ہے،ایکٹ میں ترمیم کےذریعے تحفظ پاکستان ایکٹ کو ضم کرکے انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں،2017 میں ترمیم کرکے 2 سال کی انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتا ہے؟ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے، سقم قانون میں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کیا الزام لگایا گیا یہ تفصیل موجود ہی نہیں، ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ شاعر احمد فراز کے مقدمے میں جسٹس افضل ظلہ نے کی چونکہ ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لئے ان کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؛چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کئے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؛ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش کیسے ہو گی اور فرد جرم کیسے لگے گی؟ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ آرمی ایکٹ اس حوالے سے نامکمل ہے؛ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تو ملزمان پر کوئی چارج ہی نہیں ہے؛

    اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایف آئی آر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہوئی مگر ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے ، عزیر بھنڈاری کی جانب سے شاعر احمد فراز اور سیف الدین سیف کیس کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ احمد فراز پر الزام لگا تھا مگر ان جو باضابطہ چارج نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ جب کسی کیخلاف ثبوت نہیں تو فوج اسے گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک مجسٹریٹ بھی تب تک ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کخلاف شواہد نہ ہونے پر کاروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی پر موقف دینے کی بھی پابندی ہے،میڈیا پر نہیں چلتا،کچھ مستند آوازیں ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہیں ہیں،ہماری استدعا ہے کہ اوپن ٹرائل کیا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہو گئے درخواستگزار زمان وردک نے تحریری دلائل جمع کروا دیے

    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرمی افسران کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی شخص پر شواہد کے بغیر الزام لگانا بے کار ہے ، اٹارنی جنرل ہم نے ایسی معلومات منگوائی ہیں جو تمام والدین کے لیے فائدہ مند ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں تو ملزمان پر الزام ہی نہیں تھا ،ان مقدمات میں ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ تو سمجھ آتی ہے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر تحقیقات کرتے ہیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں، تسلیم شدہ حقائق سے بدنیتی اخذ کی جا سکتی ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیا پر مکمل بین یے،اوپن پبلک ٹرائل ہونا چاہیئے صحافیوں کو ٹرائل کی رپورٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی تعریف نہیں کی گئی، سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے ،

    102 ملزمان ملٹری تحویل میں،ہفتے میں ایک ملاقات ہو گی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنی تحریری معروضات کے ساتھ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی معلومات فراہم کروں گا،میں ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہ ہونے پر بھی معاونت کروں گا ،ملزمان کی کسٹڈی لیتے وقت الزامات بھی فراہم کردیے تھے ،9 مئی کا واقعہ تھا جس کے بعد 15 دن لیے گئے پھر ملزمان کی حوالگی کا عمل ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت چارج کرنے کا طریقہ رولزمیں ہے،؟۔ کیا آپ آج اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تحریری دلائل وقفہ کے بعد جمع کروا دوں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے معروضات کی تفصیل بھی مانگی تھی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس وقت 102 ملزمان ملٹری تحویل میں ہیں،تحویل میں موجود ملزمان کو گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی،والدین بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہو گی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کچھ جیلوں کا دورہ کیا وہاں بھی ملزمان کو فون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان کو جو کھانا دیا جاتا ہے وہ عام حالات سے کافی بہتر ہے،کھانا محفوظ ہے یا نہیں اس کا ٹیسٹ تو نہیں ہوتا مگر وہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی شفٹ ہو جائے گی،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں ،کیا ہم 102 افراد کی لسٹ کو پبلک کر سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جی نہیں ابھی وہ زیر تفتیش ہیں،

    کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے سوال
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سادہ سوال ہے کیوں حراست میں موجود لوگوں کی فہرست بپلک نہیں کر دیتے،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ پہلے یقینی بنائیں کہ زیر حراست افراد کی اپنے والدین سے بات ہو جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عید پر ہر کسی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون کون حراست میں ہے،عید پر سب کی اپنے گھر والوں سے بات ہونی چاہیے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فہرست پبلک کرنے کے حوالے سے ایک گھنٹے تک چیمبر میں آگاہ کر دوں گا،صحت کی سہولیات سب زیر حراست ملزمان کو مل رہی ہیں ڈاکٹرز موجود ہیں، صحافیوں اور وکلا کے حوالے سے کچھ واقعات ہوئے ہیں ریاض حنیف راہی سے کل بات بھی کی،ان کی شکایات کا ازالہ ہو گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سزائے موت غیر ملکی رابطوں کی صورت میں ہو سکتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ ملزمان کی آج ہی اہلخانہ سے بات کروائیں، اب ہم عید کے بعد ملیں گے، جو لوگ گرفتار ہیں ان کا خیال رکھیں، کتنی خوشی کی بات ہوگی کہ عمران ریاض عید پر اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہوں،

    عمران ریاض ہماری حراست میں نہیں ،ریکوری کی پوری کوشش کی جا رہی ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کوئی وکلاء گرفتار نہیں ہیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے ساتھ کوئی بد سلوکی ہوئی تو تحفظ فراہم کریں، صحافیوں کا بتائیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جانتا ہوں ایک صحافی مسنگ ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عمران ریاض کی بات کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وہ ہماری حراست میں نہیں ہے ان کی ریکوری کی پوری کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ اپنی صلاحیتوں سے یقینی بنائیں عمران ریاض کا پتہ لگائیں،

    وکلا نے ملٹری کورٹس کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ابھی کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوا اور اس میں وقت بھی لگتا ہے،ملزمان کو پہلے وکلا کی خدمات لینے کا وقت ملے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ ہوا مجھے فوری اگاہ کیا جائے، میں آئندہ ہفتے سے دستیاب ہوں گا، خواتین اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس

    سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لاجربنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس مظاہرنقوی اورجسٹس عائشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین تحریک انصاف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہماری درخواست پر ابھی نمبر نہیں لگا۔ ہماری اس درخواست میں ایک استدعا فوجی عدالتوں کیخلاف ہے۔ میں صرف ایک فوجی عدالتوں کیخلاف استدعا پر زور دونگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ابھی ہم ایک سیٹ بیک سے باہر نکل رہے ہیں۔ آپ اپنی درخواست میں ترمیم کیوں نہیں کر لیتے۔ آپ نے ایک درخواست میں کئی استدعائیں کی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے آرڈر لکھوائیں گے،آپ کی درخواست کو بعد میں دیکھیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صبح جو سیٹ بیک ہوا، اس سے ریکور ہو کر آئے ہیں، آئینی بحث کے بجائے دیگر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں،

    فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر ہوں تو اعتراض نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ
    درخواست گزار جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل شروع ہو گئے، جسٹس عائشہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے پہلے دن کے سوال پر جاوں گی کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا افواج کے افسران کا بھی ملٹری کورٹس میں کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ میں مخصوص حالات میں فوجی افسران کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کیخلاف ہائیکورٹ میں آئینی درخواست کیوں دائر نہیں کی جا سکتی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ فوجی عدالتوں کی حیثیت کا تعین نہیں کر سکتی، میرے موکل کے بیٹے کا معاملہ ملٹری کورٹس میں ہے، ٹرائل صرف آرٹیکل 175 کے تحت تعینات کیا گیا جج کر سکتا ہے،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کسی صورت نہیں ہوسکتا، شہریوں کو کسی صورت شفاف ٹرائل کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ملزمان کو بنیادی حقوق میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر ہوں تو اعتراض نہیں، صرف ملزمان کی حوالگی سے شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ختم نہیں ہوسکتا،

    کل عید سے پہلے آخری دن ہے، سماعت مکمل کرنی ہے وقت کی قلت کا خیال رکھیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کی بات واضح نہیں ہے، کیا ٹرائل شروع ہوچکا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا تو مفروضوں پر کیوں جا رہے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وقت کم ہے اس لئے موٹی بات کریں کل عید سے پہلے آخری دن ہے، سماعت مکمل کرنی ہے وقت کی قلت کا خیال رکھیں،

    آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے تو پھر کیا کیس ہے آپکا؟ جسٹس عائشہ ملک کا وکیل سے مکالمہ
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے یا نہیں، یہ نکتہ طے ہو جائے تو آرٹیکل 175(3) والی دلیل کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس کیس کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ریٹائرڈ فوجی افسر کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی آئین سے تجاوز نہیں کر سکتا، جسٹس عائشہ نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ سویلین پر آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق ہوتا بھی ہے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے، آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اگر آپ اس بات پر آمادہ ہیں کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے تو پھر کیا کیس ہے آپکا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سویلینز میں ریٹائرڈ آرمی افسران بھی آتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کورٹ مارشل کا لفظ آرمی ایکٹ کے علاوہ کہیں استعمال ہوا؟ ملٹری کورٹس کے بارے میں بہت سے فیصلے ہیں وہ دیکھنا چاہتے ہیں، جو کیس ملٹری افسران کے بارے میں نہیں اس میں انہیں کیوں لا رہے ہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا فوکس صرف سویلینز پر ہے، آرٹیکل 199 آرمی ایکٹ کے تحت سزاوں پر لاگو ہوتا ہے لیکن کورٹ مارشل پر نہیں ،

     

    کیا فوجی عدالتوں کا آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین میں کہیں ذکر ہے؟ چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا جو افراد آرمی ایکٹ کے تحت ڈسپلنری خلاف ورزی کرتے ہیں ان پر بنیادی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا؟آپ کے دلائل کا مقصد سمجھنا چاہ رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ فوجی افسران کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ آپ کا کیس سویلینز کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک وکیل متبادل عدالتی نظام کی بات کرتے ہوئے کورٹ مارشل کے معاملے پر کیسے جا سکتا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175 تین کے تحت جوڈیشل اختیارات کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ خود ایک کیس میں طے کر چکی کہ جوڈیشل امور عدلیہ ہی چلا سکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،کیا آپ ملٹری کورٹس میں فوجیوں کے ٹرائل کی بات پر بھی جانا چاہتے ہیں؟،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کی حد تک ہی بات کر رہا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو ہمیں یہی بتائیں کہ کیا سویلین کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175(3) عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا فوجی عدالتوں کا آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین میں کہیں ذکر ہے؟ اگر سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا تو بات ختم،آپ قانون کی شقیں چیلنج کرتے ہوئے معاملہ پیچیدہ کر رہے ہیں،

    ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کی دو اقسام ہیں، ایک وہ سویلین ہیں جو آرمڈ فورسز کو سروسز فراہم کرتے ہیں، فورسز کو سروسز فراہم کرنے والے سویلین ملٹری ڈسپلن کے پابند ہیں،دوسرے سویلینز وہ ہیں جن کا فورسز سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں،جو مکمل طور پر سویلینز ہیں ان کا ٹرائل آرٹیکل 175/3 کے تحت تعینات جج ہی کرے گا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج نہیں ہو سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی چیف کے سامنے یا انکی بنائی کمیٹی کے سامنے ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج ہو سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کورٹس میں اپیل کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں آرٹیکل 175(3) کے تحت متوازی عدالتی نظام نہیں چل سکتا،

    جسٹس عائشہ ملک نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ عدالت ہے یا نہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملٹری کورٹ عدالت ہے جو سویلین کی زندگی اور آزادی چھیننے کااختیار رکھتی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف سویلین کے فوجی عدالت میں ٹرائل پر اعتراض ہے فوجی افسران کے ٹرائل پر نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں جب معمول کی عدالتیں اپنا کام جاری نہ رکھ سکیں تب فوجی عدالتیں حرکت میں آتی ہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون ان سویلینز کے بارے میں کیا کہتا ہے جو ریاست کیخلاف ڈٹ جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں سویلنز کی غیر ریاستی سرگرمیوں پر بھی ٹرائل سول عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سویلین کا مخصوص حالات میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصل صدیقی سے وہ قانونی حوالہ جات لیں گے جو سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دیتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا جنوبی ایشیاء میں کسی ملک میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز ہوتے ہیں؟وکیل نے عدالت میں کہا کہ میں نے برطانیہ، آسٹریلیا کینیڈا وغیرہ کا ریکارڈ نکالا لیکن جنوبی ایشیا کا نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو بنیادی حقوق معطل ہوں تو کیا سویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں، مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کا مقصد فورس میں ڈسپلن قائم کرنا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم ان سے متعلق تھی جو فوج کیخلاف ہتھیاراٹھائیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی نظام میں ایسی کیا خامی ہے جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو؟ آرمی ایکٹ کے سویلینز پر اطلاق کا جائزہ 1975 کے بعد پہلی مرتبہ لیا جا رہا ہے، انصاف تک رسائی ہر شخص کا بنیادی حق ہے،سماعت سوا دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ،وقفے کے بعد سلمان اکرم راجہ دلائل مکمل کرینگے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عذیر بھنڈاری نے اپنے تحریری دلائل عدالت کو پیش کر دیے

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کر دیا وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران کے علاوہ سویلینز کو بھی شامل کیا گیا ہے، سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے اس لیے قانون کو چیلنج کیا ہے عدالت پر چھوڑتا ہوں کہ سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں ہونے پر کیسے دیکھتے ہیں ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئین کے بنیادی ڈھانچے کیخلاف ہے، عدالت سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر مبنی قانونی شقیں کالعدم قرار دے

    سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عزیز بھنڈاری نے کہا کہ ہم تمام درخواست گزاروں کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں اوپن ٹرائل ہو، اگر کوئی قصور وار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیئے ، 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں، آپ صرف قانون کی بات کریں، سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع کرتے ہیں سپریم کورٹ میں درخواستوں ہر سماعت مکمل ہونے تک ملٹری کورٹس میں کوئی ٹرائل نہیں چلے گا گرفتار افراد کی مکمل تفصیلات فراہم کریں کہا جا رہا ہے کہ ملزمان کو اہلخانہ سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا ؟ خوراک اور کتابوں کی عدم فراہمی کی بھی کچھ شکایات ہیں 102 زیر حراست افراد کو ایلخانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے گی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو کیوں قیدی بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار جنید رزاق کی فیملی کب سے قید میں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 9 مئی سے ارم رزاق و دیگر کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے دن گزر گئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں۔ اٹارنی جنرل سے آپ اس معاملے کو دیکھیں۔ ان کو خاندان سے ملنے کی اجازت دیں۔ یہ شکایت کس کی جانب سے تھی۔خاندانوں کو کیوں اٹھایا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کوئی ملٹری ٹرائل نہیں ہوگا۔ کسی کو کوئی شکایت ہے تو نام بتادیں میں متعلقہ حکام سے بات کرنے کی کوشش کرونگا۔ وکیل لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ وکیلوں تک رسائی بھی نہیں دی جارہی۔نہ خاندان کو ملنے دیا جاریا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے نام بتادیں تو میں اگے بات کرونگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں۔ سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کرتے ہیں۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • آج  نو مئی سے زیادہ سیاہ دن ہے، لطیف کھوسہ

    آج نو مئی سے زیادہ سیاہ دن ہے، لطیف کھوسہ

    سپریم کورٹ کے باہر وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گفتگو کا آغاز خواجہ آصف کے الفاظ سے کرتا ہوں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے،حکومت کا آج کا اقدام شرم ناک ہے،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جسٹس منصور نے پہلے ہی سوال کیا تھا کہ اگر کسی کو تو بتا دیں ، ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ پٹیشن کا فیصلہ کیا جائے، پہلے ہی وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ نہیں مانیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا مجھے ہدایت دی ہے کہ جسٹس منصور والے بینچ میں نہ بیٹھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ میں نےآج تک بہت تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اج بہت حیرانی ہوئی ،سب نے کہا کہ ہمیں جسٹس منصور علی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، یہ نو مئی سے زیادہ سیاہ دن ہے حکومت نے اعلان کر دیا کہ ہم آئیں و قانون کو نہیں مانتے،یہ صرف تاخیری حربے ہیں انہیں اپنی شکست نظر آ رہی ہے، وکلا اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں یہ لوگ عدالتوں کو فیصلہ نہیں کرنے دیتے،چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ڈنڈا نہیں مورل اتھارٹی ہے ،

    اعتزاز احسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب حکومت کروا رہی ہے، اگر چیف جسٹس کہیں کہ فلاں تاریخ کو انتخابات ہیں تو یہ لوگ نہیں مانیں گے، ان لوگوں نے سپریم کورٹ کے باہر جلسے میں مولانا اور مریم نے توہین عدالت کی ہے،عدالت کو چاہیے کہ انہیں توہین عدالت کے نوٹس دیں وکلاء اس فیصلے پر پہرا دیں گے،ان کو بھاری جرمانے کئے جائیں توہین عدالت میں نااہل کریں،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہویئ

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل اور سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایت ہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ بنچ کا حصہ نہ ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی مرضی سے بنچ نہیں بنایا جائے گا،کس بنیاد پر آپ جسٹس منصورعلی شاہ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفادات کے ٹکراو کی وجہ سے اعتراض اٹھایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا تھا کہ مجھ پر اعتراض تو نہیں،میں نے کہا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا
    وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض اٹھا دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لیے ان کے کندکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا ،سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا جسٹس منصور علی شاہ کی بنچ سے علیحدگی کے بعد بینچ اٹھ کر چلا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں،ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں باربار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے،پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا ،جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازعہ بنا رہے ہیں عدالت نے پہلے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، عدالت کے فیصلوں پر عمل اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمارے پاس فیصلوں پر عمل کیلئے کوئی چھڑی نہیں،بہت سے لوگوں کے پاس چھڑی ہے لیکن انکی اخلاقی اتھارٹی کیا ہے، لوگ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ،بینچ میں شامل رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جج صاحب خود کریں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرا خیال سے اعتراض کے بعد میں میرا اس بینچ میں شامل رہنا نہیں بنتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب پر جانبداری کا کہہ رہے ہیں یا مفادات کے ٹکراو کا؟ اٹارنی جنرل ایک اعلی معیار اور اچھے کردار کے وکیل ہیں ،سپریم کورٹ کے بینچز پر لگاتار اعتراضات اٹھ رہے ہیں ،

    عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس

    قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتیں حقائق کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہیں،ہم صرف قانونی پہلو کے تحت فیصلے کرتے ہیں ،کئی بارقانون کی تشریح سے متعلق تنازعات جنم لیتے ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کاروبار کیلئے ریگولیٹری سسٹم کی ضرورت ہے،آئین میں وسائل کی تقسیم کیلئے آرٹیکل 25 موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف صنعتیں بجلی اور گیس پر سسبڈی مانگ رہی ہیں، تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے معیشت مضبوط ہوگی،عدالتیں حقائق کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہیں، قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں ماہرین کو قانون کی تشریح کے ذریعے تنازعات کو ختم کرنا چاہیے، قانون سے متعتق اور عوامی اہمیت کا معاملہ دیکھتے ہیں، سپریم کورٹ میں صرف قانون کی عملداری کی بات ہوتی ہے،ججز آسانی سے مارکیٹ میں میسر نہیں، کئی امتحانات دینا پڑتے ہیں،کئی اداروں کے چیئرمین اور ممبرز ہی نہیں ہے اورکسی کو پرشانی بھی نہیں ہم اپنے اختیارات کا استعمال بہت محتاط ہوکر کرتے ہیں، سرمایہ کاروں کو ’’لیول پلیئنگ فیلڈ‘‘ فراہم کرنی چاہیے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کیا ہمارا قانون کاروبار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد گار ہے، کاروبار کے مواقع اور صنعتی ترقی سے ملکی ترقی ممکن ہے، ہر شعبہ سبسڈی مانگ رہا ہے سبسڈی حکومت دیتی ہے ،ٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی لگائی جاتی ہے لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ حق کے راستے پر چلتے نظریہ کی خاطر بھٹو اور بی بی شہید نے شہادت قبول کی، بھٹو شہید نے سمجھوتہ نہیں کیا , تاریخ میں بھٹو زندہ ہے ،بی بی شہید نے قوم کیلئے جام۔شہادت نوش کیا، دھمکیوں کے باوجود ملک و ملت کی خاطر پاکستان واپس آئی، بی بی شہادت کے ثمرات سے قوم مستفید ہو رہی ہے ، بی بی شہید کی بے مثال جدوجہد بے نظیر شہادت ہے , سیاسی بصیرت والے ہی ملک چلا سکتے ہیں ،ایسی قیادت کا انتخاب کرنا ہے جو مستقبل بین ہو اورمستقبل محفوظ بنا سکے،مناپلی کے ذریعے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، ہمیں اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا، ایس ای سی پی کو بھی اقلیتی شیئر ہولڈرز اور اقلیتی سرمایہ کاروں کا خیال رکھنا ہوگا، تمام اداروں اور محکموں کو شفافیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا،بزنس فرینڈلی ماحول بنانا ضروری ہے ہم نے ایک کیس دیکھا ایک ریگولیٹری باڈی کا کورم ہی پورا نہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان آئینی ادارہ ہے اور سپریم کورٹ سپورٹ کرتا ہے،آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے اور ہم اسے مضبوط کرتے ہیں، تعداد زیادہ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ تربیت حاصل کرنی چاہیے ،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر