Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا

    جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا

    سپریم کورٹ کی دوسری خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا

    جسٹس مسرت ہلالی نے بطور سپریم کورٹ جج کے حلف اٹھا لیا ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس مسرت ہلالی سے حلف لیا جسٹس مسرت ہلالی سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی دوسری جج ہیں ، تقریب حلف برداری میں سپریم کورٹ کے ججز، وکلا اور اٹارنی جنرل نے شرکت کی

    جسٹس مسرت ہلالی کے حلف اٹھانے کے بعد سے اب سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 16 ہوگئی ہے ج کہ وہ سپریم کورٹ میں ذمہ داریاں نبھانے والی دوسری خاتون جج ہوں گی ان سے قبل جسٹس عائشہ ملک نے 24 جنوری 2022 کو سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا

    جسٹس مسرت ہلالی 8 اگست 1961 کو پشاور میں پیدا ہوئیں انہوں نے خیب لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اوروہ 1983 میں ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر انرولڈ ہوئیں، 1988 میں انہوں نے بطور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ اور 2006 میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے طور پر کام کیا ،جسٹس مسرت ہلالی نے یکم اپریل 2023 کو پشاور ہائیکورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا اور پھر 12 مئی 2023 کو انہیں ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا گیا تھا

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،سپریم کورٹ

    ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز االاحسن اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،وکیل منیر پراچہ نے کہا کہ میرے نظرثانی کیس میں ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ایشو کو حل کرنا ہے وکیل نے کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ میں صرف دو شقوں میں 184 (3) کا ذکر ہے،ایکٹ کی دیگر شقیں تمام نظرثانی مقدمات پر لاگو ہوں گی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ اپیل میں آنے والے مقدمات پر بھی لاگو ہو گا بتائیں دیگر شقوں میں 185 کے اطلاق کا کیوں نہیں لکھا گیا؟ قانون بنانے کا مقصد بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق 184تین کے مقدمات کیلئے ہے متروکہ وقف املاک نظرثانی کیس میں وکیل کے ایکٹ اطلاق سے متعلق تمام اعتراضات مسترد کر دیئے گئے

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا تعلق 184 (3) کے علاوہ مقدمات پر نہیں ہوتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل کو ہدایت کی کہ کیس کے میرٹ پر دلائل دیں،وکیل نے کہا کہ وفاقی وزیر کے پاس متروکہ وقف املاک کی جائیداد الاٹمنٹ کا حق نہیں تھا جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل ویلفیئر کا وزیر کیسے متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کر سکتا ہے آپکی دلیل مان لی تو پھر وفاقی حکومت کا ڈرائیور بھی متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کر سکے گا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت کا ہر وزیر یوں زمین کی الاٹمنٹ کر سکتا ہے؟ ملک میں قانون ہے کوئی بادشاہت نہیں،ریاستی جائیداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے،قوانین، قواعد جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں موجودہ کیس میں وزیر کا اختیار تھا نہ قانونی طریقہ کار اپنایا گیا

    سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل خارج کردی

    22مارچ 1977 کو اس وقت کے وفاقی وزیر نے زمین شہریوں کو الاٹ کرنے کی منظوری دی تھی زمین الاٹمنٹ کے خلاف متروکہ وقف املاک نے عدالت میں کیس دائر کیا تھا

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

  • چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا   جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری

    وفاقی وزارت قانون و انصاف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 177 کی شق ون کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
    نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ جسٹس مسرت ہلالی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا اطلاق اسی دن ہوگا جب وہ اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گی۔
    ٕیاد رہے کہ 14 جون کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے عدالت عظمیٰ کی تاریخ میں دوسری خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی کی تعیناتی کی سفارش کردی تھی، جس کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی سفارش کردی تھی۔
    ڈان نیوز کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، جسٹس (ر) سرمد عثمان جلالی اور پاکستان بار کونسل کے اختر حسین نے شرکت کی تھی۔اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی کے نام پر اتفاق کرتے ہوئے ان کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش کردی تھی۔
    سپریم کورٹ میں اس وقت 17 ججوں کی طے شدہ تعداد کے برخلاف چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال سمیت 15 جج امور سرانجام دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پشاور ہائی کورٹ میں بطور قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں ادا کرنے والی جسٹس مسرت ہلالی کی آئین کے آرٹیکل 175 اے (13) کے تحت بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی تھی۔
    یکم اپریل کو جسٹس مسرت ہلالی نے پشاور ہائی کورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا تھا جس کے بعد وہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں۔8 اگست 1961 کو پشاور میں پیدا ہونے والی جسٹس مسرت ہلالی نے خیبر لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1983 میں وکالت کا آغاز کیا۔1988 میں انہوں نے ہائی کورٹ جبکہ 2006 میں سپریم کورٹ کا لائسنس بھی حاصل کر لیا۔2013 میں وہ پشاور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج تعینات ہوئیں اور 2014 میں مستقل جج بن گئیں۔
    جسٹس مسرت ہلالی 2007 کی وکلا تحریک میں بھرپور طور پر سرگرم رہیں اور احتجاجی مظاہروں میں مرد وکلا کے شانہ بشانہ شرکت کرتی رہیں۔اس کے علاوہ انہیں پشاور ہائی کورٹ بار کی نائب صدر، سیکریٹری، خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، پہلی صوبائی محتسب کے عہدوں پر فائز رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔پشاور ہائی کورٹ کی خواتین وکلا نے جسٹس مسرت ہلالی کی پہلی خاتون قائم مقام چیف جسٹس ہائی کورٹ کے عہدے پر تعیناتی کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

  • بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے، چیف جسٹس

    بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا ہے کہ بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے-

    سپریم کورٹ میں بچوں کی انسانی سمگلنگ کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی،دوران سماعت سپریم کورٹ میں یونان کشتی حادثے کا تذکرہ ہوا،چیف جسٹس نے کہا کہ یونان میں ہونے والا کشتی حادثہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، سادہ لوح غریب شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے،شہری انسانی سمگلروں کے دھوکے میں آ کر لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں، ملک میں خواتین اور بچوں کی بھی انسانی سمگلنگ ہو رہی ہے-

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    چیف جسٹس نے استفسا کیا کہ کیا حکومت کے پاس بچوں کی سمگلنگ کے اعداد و شمار ہیں؟ ڈی جی وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ بدقسمتی سے درست اعدادوشمار موجود نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے بنائے گئے 2018 کے قانون میں ابہام ہے، بنیادی مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کیلئے سپیشلسٹ فورس نہ ہونا بھی ہے، انسانی سمگلنگ روکنے کا کام بھی پولیس کے ذمہ تھا، سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو بھی انسانی سمگلنگ روکنے کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا، سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے طیبہ تشدد کیس بھی سنا تھا، کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ آج نویں جماعت کی ہونہار طالبہ ہے، طیبہ کو اس کے گھر والے چھوڑ چکے تھے وہ ایس او ایس ویلج میں قیام پذیر ہے،بچوں کو صرف تحفظ دینا مقصد نہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بنانا ہے-

    کراچی میں لڑکی سے سرعام زیادتی کی کوشش

  • سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے مزید 45 نشتوں پر بھرتیوں کا معاملہ موخر کردیاپی آئی اے نے پائلیٹس، کیبن کریو، آئی ٹی ماہر، فنانس اور مینیجمنٹ سائیڈ پر 250 بھرتیوں کی اجازت مانگی تھی سپریم کورٹ نے پائلیٹس، کیبن کریو اور آئی ماہرین کی بھرتیوں کی اجازی دیدی-

    عدالت نے پی آئی اے انتظامیہ کو بھرتیوں کا عمل صاف شفاف بنانے کی ہدایت کی ،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پی آئی اے اپنے واجبات ادا نہیں پا رہا ہے، پی آئی اے کو مزید بھرتیاں کس لیے کرنی ہے، جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ پی آئی آے کی سروسز کے معیار اپ ٹو مارک نہیں، نئی بھرتیوں سے ماہانہ 9 کروڑ سے زائد کا ادارہ پر بوجھ پڑے گا-

    لاہورسمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش کا سلسلسہ وقفے وقفے سے جاری

    سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے کو پاوں پر کھڑے کرنے کیلئے پلان بنایا ہے، قومی ائیر لائین کا گذشتہ چھ ماہ کا نفع 3 ارب ہے، نفع بخش روٹس پر فلائیٹس آپریشن چلا رہے ہیں، سمزید انٹرنیشنل نیشنل روٹس پر فائیٹ آپریشن شروع کرنے لگے ہیں-

    جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ دیگر ائیر لائین کا فلائیٹ اسٹاف تو کم ہوتا ہے، یہ بھرتیاں کس بنیاد پر ہوگی، بھرتیوں مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ پر ہوگی، سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ بھرتیاں ایک سال کے قابل توسیع کنٹریکٹ کی بنیاد ہر ہوگی،عدالت نے سی ای او PIA, ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد بھرتیوں کی اجازی دیدی-

    اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو آمدن کے برابر ڈالرز کی ایل سی کھولنے کی اجازت

  • سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل،22 جون کا تحریری حکم نامہ جاری

    سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل،22 جون کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف آئینی درخواستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے 22 جون کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    9 رکنی بینچ کے آرڈر پر 7 ججز نے دستخط کیے اور تحریری حکم کے ساتھ ویب سائٹ سے ہٹایا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ بھی شامل ہے جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ کے بھی نوٹ شامل ہیں۔

    جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ چیف جسٹس کو 17مئی کو 5 صفحات پر مشتمل جواب ارسال کیا، نشاندہی کی کہ مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل چیف جسٹس اور 2 سینئر ججز پرمشتمل کمیٹی کرے گی، اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ عدالت عظمٰی نے قانون کو جنم لینے سے پہلے ہی معطل کردیا۔

    کرنل شیر خان شہید نشان حیدر کا 24 واں یوم شہادت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ معزز چیف جسٹس نے مجھے ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے، مخمصے سے اسی وقت نکلا جاسکتا ہے جب اس قانون کے خلاف درخواستوں پرفیصلہ کریں یا حکم امتناع واپس لیں چیف جسٹس کو 17 مئی کو پانچ صفحات پر مشتمل جواب ارسال کیا، چیف جسٹس کو جواب میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا ایک بار پھر حوالہ دیا اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ عدالت عظمٰی نے قانون کو جنم لینے سے پہلے ہی معطل کردیا معزز چیف جسٹس نے مجھے ایک مخمصے میں ڈال دیا جس سے اسی وقت نکلا جاسکتا ہے جب اس قانون کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ کریں یا حکم امتناع واپس لیں۔

    ایس سی او ریاستی دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرے. …

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام ضروری معاملات اپنی مرضی یا چیدہ اہلکاروں کےذریعے چلائے، ججوں کی فل کورٹ میٹنگ تو نہ بلائی لیکن درخواست گزاروں اور ان کے وکلا کو ترجیح دی، ایکٹ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنےوالے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس کررہے ہیں، پوری قوم کی طرح میں بھی منتظر ہوں فیصلہ جلد ہو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کب تک چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں، اس کا جواب چیف جسٹس ہی بہتر دے سکیں گے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےنوٹ میں کہا کہ کچھ عرصے سے بینچ کی تشکیل کے لیے متواتر ایک مخصوص پیٹرن نظر آرہا ہے، چند معزز ججز کے اسپیشل بینچ بنائے گئے، فل کورٹ کی عدم تشکیل سے اس عدالت کی اتھارٹی اور فیصلوں کی قانونی حیثیت متاثرہورہی ہے، حالیہ معاملے کی آئینی حیثیت اعلیٰ ترین عدالتی جانچ کا تقاضا کرتی ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہونے تک بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات فل کورٹ سنے۔

    قتل یا خود کشی ؟بارات کےروزغائب والے دولہا کی گولی لگی لاش کھیت سے برآمد

    تحریری حکم نامے کے ساتھ جسٹس سردار طارق مسعود کا نوٹ بھی جاری کردیا گیا ہےجسٹس سردار طارق مسعود کے نوٹ میں کہا گیا ہےکہ چیف جسٹس سویلین کے فوجی ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیں سویلین کے فوجی ٹرائل کیخلاف درخواست گزار وکیل کے ساتھ چیف جسٹس کو ملا، چیف جسٹس سے چیمبر میں ملاقات کے اگلے روز مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ بینچ کی تشکیل کے حوالے سے کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی، پوچھا کہ کیا سالوں سے زیر التوا مقدمات میں درخواست گزاروں کو چیف جسٹس سے ملنے کی اجازت ہوگی انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس اس وجہ سے سنا کہ 5 رکنی بینچ اسے قابل سماعت قرار دے چکاتھا۔

    روجھان: ریسکیو1122 ایمبولینس حادثہ کاشکار، 2 ریسکیورز شہید

  • عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر

    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر

    سپریم کورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کے دور حکومت میں فوجی عدالتوں سے 29 افراد کو سنائی گئی سزائیں چیلنج کر دی گئیں

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے ،درخواست میں وفاق ،سابق وزیراعظم ،سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو فریق بنایا گیا ہے۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سمیت چاروں رجسٹرار ہائی کورٹس بھی فریقین میں شامل ہیں،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 29 سویلین کو ملک کے مختلف حصوں سے اٹھا کر فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا گیا ۔29 میں سے صرف پانچ افراد کو وکلا تک رسائی کی اجازت دی گئی، آرمی ایکٹ کے تحت دی گئی سزاوں کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت قرار دے کہ عمران خان، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خلاف قانون شہریوں کو اغوا کیے رکھا ، 29 شہریوں کو دی جانے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کیا جائے، ایک شہری کو 2020 میں سزائے موت، جبکہ ایک کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی دیگر ملزمان کو فوجی عدالتوں نے پانچ سے دس سال کی سزائیں سنائیں

    واضح رہے کہ سانحہ نو مئی کے شرپسندوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو رہا ہے جس پر تحریک انصاف نے فوجی عدالتوں کے خلاف اب سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے،

    سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ کے ججزکی تنخواہوں سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری

    سپریم کورٹ کے ججزکی تنخواہوں سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: قائم مقام صدرصادق سنجرانی نے اعلیٰ عدلیہ کے ججزکی تنخواہوں سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    صادق سنجرانی نے ججز کی تنخواہوں کا آرڈر 2023ء جاری کیا،وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کی بنیادی تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ کردیا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تنخواہ میں 2 لاکھ 4 ہزار 865 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔

    اس حکم نامے کے مطابق اب چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ 20 فیصد بڑھا کر 12 لاکھ 29 ہزار 189 روپے ماہانہ ہو گی،سپریم کورٹ کے دیگرججز کی بنیادی تنخواہ بھی 20 فیصد بڑھا کر 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے ماہانہ کر دئ گئی ہے،حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نئی تنخواہیں یکم جولائی سے نافذ العمل سمجھی جائیں گی۔

    تھانہ شادمان نذر آتش کیس،اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    اس سے قبل 2022ء کے آرڈر کے مطابق چیف جسٹس کی تنخواہ 10 لاکھ 24 ہزار 324 روپے جبکہ جج کی تنخواہ 9 لاکھ 67 ہزار 636 روپے تھی گزشتہ ہفتےوفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے تمام ججز کی بنیادی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ 30 جون سے پہلے ہوجائے گا، اس سلسلے میں سمری بھجوائی جاچکی ہے چیئرمین سینیٹ کی مراعات کے بل کو منی بل کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ن لیگ کا اصولی فیصلہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کی مراعات کا بل سپورٹ نہیں کریں گے نہ ہی اسے قومی اسمبلی سے پاس ہونے دیں گے۔

    فرانسسکو میں سکھ مظاہرین نے بھارتی قونصل خانے کو آگ لگا دی

  • وکیل قتل کیس،تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر

    وکیل قتل کیس،تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر

    سپریم کورٹ ،چیئرمین تحریک انصاف نے وکیل قتل کیس میں تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی درخواست دائر کردی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وکیل قتل کیس میں جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی مین دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دو رکنی بینچ نے کیس میں حکم امتناع جاری کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا دو رکنی بینچ نے تجویز دی کی تین رکنی بینچ کیلئے چیف جسٹس کو درخواست دی جائے،معاملہ حساس اور فوری سماعت کا متقاضی ہے۔ موکل کیخلاف سخت اقدامات اور گرفتاری کا خدشہ ہے فریقین اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے تو موکل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ معاملہ پر فوری تین بینچ تشکیل دیکر آج ہی سماعت کی جائے  چیئرمین تحریک انصاف کی طرف سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے درخواست دائرکی.

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کی حکم امتناع ،عبوری ضمانت کی استدعا مسترد

    وکیل قتل کیس،عمران خان کی حکم امتناع ،عبوری ضمانت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے وکیل لطیف کھوسہ کی عبوری ضمانت دینے کی استدعا مسترد کردی، لطیف کھوسہ کی ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناع دینے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی

    سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل سے مقدمے کی تفصیلات طلب کرلیں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ،دوران سماعت عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میرے موکل کی جان کو خطرہ ہے مہربانی فرما کر گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دوسرے فریق کو سنے بغیر اس سطح پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے ٹی اے کا سیکشن 6 اور7 غلط لگا ہے تو کس قانون سے ان کو ہٹایا جاسکتا ہے؟ کس نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملزم پر غلط دفعات کے تحت مقدمے کا اندراج ہوا؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا حق ہے کہ جا کر متعلقہ فورم پر درخواست دیں کہ غلط دفعات لگائی ہیں،

    وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ابھی چالان پیش نہیں ہوا اور چیئرمین پی ٹی آئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو گئے وکیل قتل کیس کا ادراک ابھی کسی عدالت کو نہیں ہوا اور جے آئی ٹی بھی بنا دی، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جے آئی ٹی کو چیلنج کیا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ میرے خلاف کیا کیا ہو رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کی کون سی دفعہ عدالت کو جے آئی ٹی بنانے کا اختیار دیتی ہے؟ دفعات کے نفاذ کااختیار توایس ایچ او کے پاس ہی ہے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایس ایچ او بھی تحقیقات کے مرحلے پر دہشتگردی کی دفعات عائد نہیں کر سکتا ،

    جسٹس عائشہ ملک نے عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ اپنی ہی مخالفت میں دلائل دے رہے ہیںجب کیس تحقیقاتی مرحلے پر ہے تو کیسے ایف آئی آر ختم کرنے کی استدعا ہو سکتی ہے؟ کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ ایف آئی آر سے یہ دفعات نکال دو؟ عدالت نے لارجر بنچ کے قیام کی درخواست چیف جسٹس کو پیش کرنے کی ہدایت کردی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2 ممبر بنچ ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ معطل نہیں کر سکتا ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے استدعا کی کہ لارجر بنچ بنا کر کل مقدمے کی سماعت کا حکم دے دیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لارجر بنچ بنانا ہمارا اختیار نہیں اس معاملے میں ہم مفلوج ہیں چیف جسٹس سے درخواست کریں ممکن ہے کیس آج ہی مقرر ہو جائے ابھی فوری طور پر آج کا حکم نامہ دستخط کرکے بھیج دیتے ہیں

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک سال سے چیئرمین پی ٹی آئی حفاظتی ضمانت کیلئے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں،معذرت خواہ ہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی آج پیش نہیں ہو سکے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایف آئی آر معطلی کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو ذاتی طور پر آنے کی ضرورت نہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے موکل کیخلاف 150 سے زائد مقدمات درج ہیں،اگر عدالت نے حکم نہ کیا تو گرفتاری ہو سکتی ہے عدالت گرفتاری روکنے کا حکم دے، میرے موکل کو فوری ریلیف نہ ملا تو اس کی جان بھی جا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کوئی اور درخواست کرنی ہے تو چیف جسٹس سے کی جاسکتی ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان سے ملیں تو خبریں لگ جاتی ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چیف جسٹس سے اکیلے ملنے کے بجائے ایڈووکیٹ جنرل کو ساتھ لے جائیں

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی، وکیل قتل کیس میں عمران خان لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے تھے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔