Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • نومئی واقعات،فوجی عدالتوں میں کن افراد کا ٹرائل؟ فہرست باغی ٹی وی کو موصول

    نومئی واقعات،فوجی عدالتوں میں کن افراد کا ٹرائل؟ فہرست باغی ٹی وی کو موصول

    نو مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، فوجی تنصیبات پر بھی حملے کئے گئے جس کے بعد ان حملوں میں ملوث شرپسندوں کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا گیا،

    اگرچہ تحریک انصاف احتجاج کر رہی اور سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹ میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہو رہی ہے تا ہم اب ملٹری کورٹس میں کن کن افراد کے مقدمے چلیں گے، انکی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، ملٹری کورٹس میں 59 افراد کا کیس چلے گا جو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں،

    باغی ٹی وی کی ملنے والی فہرست کے مطابق نومئی کو ہنگامہ آرائی کرنیوالے شرپسندوں میں سے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 48 شرپسندوں کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلے گا، پنڈی سے آٹھ، میانوالی سے پانچ، فیصل آباد سے آٹھ اور گوجرانوالہ سے دس شرپسندوں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گئے، فوجی عدالت میں ٹرائل کے لئے بھجوائے گئے ناموں میں تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان، عباد فاروق کا نام بھی شامل ہے، سترہ افراد کے خلاف سرور روڈ تھانے میں مقدمہ درج ہے جنکا کیس فوجی عدالت منتقل کیا گیا،جن میں ارسلان، عمیر ، رحیم،ضیا، وقاص،رئیس، فیصل ،بلاول،فہیم،میاں محمد اکرم، حاشر خان،حسن شاکر،عبدالہادی،میاں عباد فاروق،ارزم جنید شامل ہیں

    Total 59 cases have been referred to military courts so far.

    Total 59 cases have been referred to military courts so far.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، کل بھی ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں لارجر بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے تحریری دلائل بھی جمع کروائے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میری درخواست باقی درخواستوں سے کچھ الگ ہے میں اس پر دلائل نہیں دوں گا کہ سویلین کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتایہ بھی نہیں کہیتا کہ ملٹری کورٹس کے زریعے ٹرائل سرے سے غیر قانونی ہے، میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ 9 مئی کو کیا ہوا کیا نہیں،میرا مدعا تمام ملزمان میں سے چند کے ساتھ الگ سلوک ہوا،ایک ایف آئی آر میں ساٹھ ملزمان ہیں تو پندرہ ملٹری کورٹس کو دیے جاتے ہیں ، ایف آئی آر میں جو الزامات ہیں ان پر تین الگ طرح کے ٹرائل ہو سکتے ہیں ،میرا دوسرا نقظہ فیئر ٹرائل کا ہے،ایک الزام پر ٹرائل کے بعد کچھ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہو گا اور کچھ کے پاس نہیں سویلین کے ٹرائل کی ماضی میں مثالیں ہیں ، فوجی عدالتوں میں فوج داری ضابطے کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی ، اس کو چیلنج نہیں کیا،میں نے کسی ملزم کی بریت کو چیلنج نہیں کیا، فوج کے حوالے ملزمان کو کرنے کے عمل میں مخصوص افراد کو چنا گیا،آرمی ایکٹ قانون کو بدنیتی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے،عدالت میں جا کر کہا گیا 15 لوگوں کو حوالے کر دیں،جن افراد کا انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل ہو گا ان کو اپیل کا حق ملے گا،جن کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہو گا انہیں اپیل کا حق حاصل نہیں ،

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو آپ کرائم رپورٹ دکھا رہے ہیں اس میں تو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں،9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ سے متعلق دفعات کب شامل کی گئیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل کی بنیاد یہ ہے کہ کس کے پاس اختیار ہے کہ وہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل کرے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیشل سیکورٹی کے باعث کہا گیا کہ یہ ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا، سٹیٹ سیکورٹی کے حدود میں جائینگے تو پھر ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونے کا ذکر ہے، جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو کب شامل کیا گیا؟

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جن لوگوں کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ان پر الزامات کی نوعیت الگ ہو،آپ صرف مفروضہ پر کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ آپ عمومی بحث پر جا رہے ہیں یہ بھی علم نہیں ان لوگوں کو کس کس شق کے تحت ملٹری کورٹس بھجا گیا ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فرض کریں ان کیخلاف شواہد بھی موجود ہیں تو دکھاوں گا کہ انہیں کیسے ملٹری کورٹس نہیں بھجا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کے متعلقہ نکات تک محدود رکھیں،آج کا دن درخواست گزاروں کیلئے مختص ہے بے شک تین بجے تک دلائل دیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ملٹری کے اندر کام کرنے والے بندہ ہو تو ہی آفیشیل سکرٹ ایکٹ لگے گا، ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ وہ کون سا جرم ہو گا جن کے مقدمات ملٹری کورٹس کونہیں یجوائے جائیں گے ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں گرفتار ملزمان آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت نہیں آتے ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ مقدمات میں کب شامل کیا گیا ، جسٹس نقوی نے کہا کہ اگر مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ شامل ہی نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ان ملزموں کی حوالگی مانگ سکتا ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی سیشن 2ڈی (1) (11) کے تحت سویلینز کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہو سکتا ہے ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سادہ سا سوال ہے کس طریقہ کار کے تحت یہ اختیار استعمال ہوتا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹس میں کسی کو ملزم ٹھہرانے کا کیا طریقہ کار ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ممنوعہ علاقے عمارات اور کچھ سول عمارات پر بھی ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ ابھی تک بنیادی پوائنٹ ہی نہیں بتا سکے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات ایف آئی آرز میں کب شامل کی گئیں،اگر ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات ہی شامل نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ملزمان کی حوالگی مانگ سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ سے دو سوال پوچھ رہے ہیں اس پر آئیں،آپ پراسس بتائیں آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہو گا،آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،عدالت نے کیس کی سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ٹرائل کیسے شروع ہوتا ہے،اس کا جواب آرمی رولز 1954 میں موجود ہے،رول 157 کی سب سیکشن 13 میں طریقہ کار درج ہے،یہاں 9 اور 10 مئی کو واقعات ہوتے ہیں اور 25 مئی کو حوالگی مانگ لی جاتی ہے،یہاں تو ہمیں حقائق میں جانے کی ضرورت بھی نہیں،ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چارج سے پہلے انکوائری کا ہم اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے،

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل الگ نوعیت کے حالات میں ہو گا،آپ یہ بھی پھر واضح کریں کہ وہ الگ نوعیت کے حالات کیا ہوں گے،کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ محدود معاملات پر ہی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین نیب اختیارات کیس میں 2003 کا ایک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،عدالت نے کہا تھا عام عدالت سے کیس تب تک نیب کورٹ نہیں جائے گا جب تک چیئرمین کے صوابدیدی اختیارات سٹرکچر نہیں ہوتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل صرف مجسٹریٹ نے کیا ہو؟فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں اس حوالے سے فیصلوں کی نظیریں پیش کروں گا،وکیل احمد حسین نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا سویلین جن کا فوج سے تعلق نہیں ان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ میرا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،ہمارا اعتراض یہ بھی نہیں کہ لوگون کے خلاف کارروائی نہ ہو ،ہمارا نقطہ فورم کا ہے ،کہ کارروائی کا فورم ملٹری کورٹس نہیں،سوال یہ ہے سویلین کے کورٹ مارشل کی آرمی ایکٹ میں گنجائش کیا ہے؟ آرمی ایکٹ کا مقصد ہے کہ آرمڈ فوسز میں ڈسپلن رکھا جائے،جن افراد کو مسلح افواج کی کسی کمپنی وغیرہ میں بھرتی کیا گیا ہو ان پر ہی اس ایکٹ کا اطلاق ہو گا،

    انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏جب کور کمانڈر ہاؤس فوجی تنصیبات میں آتا ہی نہیں تو فوجی ٹرائلز کس بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ بھی قانون میں ہے کہ اگر فوج سویلین کی حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے تو ریفرنس وفاقی حکومت کو بھیجا جاتا ہے، وفاقی حکومت کی منظوری پر حوالگی کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کب سویلینز کی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی منظوری دی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ‏کیا ہمیں مکمل تفصیلات حاصل ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوج کیسے کسی کو ملزم قرار دیتی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں ہمارے سامنے کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق سامنے نہ بھی ہوں تو بھی یہ کیس بادی النظر کا بنتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہنے کہا کہ ‏آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان ملزمان پر خلاف بظاہر کوئی الزام نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ میں یہ کہہ رہا ہوں چارج کرنے سے پہلے سخت انکوائری ہونی چاہیے،9 مئی کے ملزمان سے متعلق سخت انکوائری پہلے ہونی چاہیے سویلین ملٹری کورٹ نہیں جا سکتا،سویلینز کا ٹرائل سول عدالتوں میں ہوتا ہے،انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ‏دوسرے کیسز میں آرمی ایکٹ سے متعلق کیا پرنسپل سیٹ کیا گیا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ سول کورٹس کو بائی پاس کیا گیا ہو، جسٹس عائشہ ملک‏ نے کہا کہ کن وجوہات کی بنا پر سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت کیا جاتا رہا ہے؟ یہ بتا دیں کہ کون سے غیر معمولی حالات میں سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے؟ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہونے والا جرم ضروری نہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوا ہو،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کن جرائم پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ لگتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی فوجی عدالتوں کو حوالگی کی درخواست نہیں دی جا سکتی،‏وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہو گئے

    آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،وکیل فیصل صدیقی
    سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریمانڈ آرڈر میں ذکر نہیں ملزمان کی حوالگی کیسے اور کن شواہد پر ہوئی،ملزمان کے ریمانڈ میں بنیادی چیز مسنگ ہے، جسٹس منصور علی‏ شاہ نے کہا کہ آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ درخواستیں سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کی حد تک آپ کے دلائل مکمل ہیں ،فیصل صدیقی‏ نے کہا کہ جی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے تک دلائل مکمل ہیں اب آگے چلتے ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا سویلینز کا جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہے یا نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی قانون میں جرائم آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے بالکل مختلف ہیں، جسٹس منیب اختر‏ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ ہم سویلینز کو ملٹری کورٹ کے حوالے نہیں کر رہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر کیس کسی آرمی آفیشل پر ہوتا تو بات اور تھی اب کورٹ مارشل کے علاوہ آپشن نہیں،آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،

    وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا مقصد افواج میں ڈسپلن برقرار رکھنا ہے، سویلینز کا کورٹ مارشل کر کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کیا جا رہا ہے، جواد ایس خواجہ کے وکیل نے لارجر بنچ بنانے کی استدعا کر دی،کہا اگر عدالت سمجھتی ہے کہ میرے کیس میں ٹھوس وجوہات ہیں تو لارجر بنچ بنا دیں، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے، ابھی نماز کیلئے بریک لیں گے اور ڈیڑھ بجے واپس آئیں گے،وکیل نے کہا کہ ،یہ بہت اہم کیس ہے اس سے ایک مثال قائم ہوگی،عدالت نے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہوگا تو دیکھیں گے آپ بات تو کریں،

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت، وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ کورٹ مارشل سے بنیادی حقوق ختم ہو جاتے ہیں، آرٹیکل 10 کے مطابق شفاف ٹرائل کا حق ہر شخص کو ہے. آرٹیکل 25 ہر شہری کی عزت نفس کی ضمانت دیتا ہے، کورٹ مارشل سے عزت نفس مجروح ہوتی ہے کورٹ مارشل کیلئے ایک آفیسر کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جاتی ہے

    دوران سماعت خواجہ احمد حسین نے کلبھوشن کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کلبھوشن کا کورٹ مارشل کرکے سزا دی گئی تھی، عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے سزا کیخلاف اپیل کی، پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن کو سزا پر عدالتی نظرثانی کا قانونی حق حاصل ہے،عالمی عدالت انصاف نے عدالتی نظرثانی کو با ضابطہ اپیل طرز پر ہونے کا موقف تسلیم نہیں کیا، عالمی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کو کلبھوشن کیلئے قانون سازی کرنا پڑی، فوجی عدالتوں میں موجود ججز آرمی افسر اور ادارے کے ماتحت ہوتے ہیں ،خفیہ مقام پر ہونے والے ٹرائل کی قانون میں گنجائش نہیں، شفاف ٹرائل کیلئے آزاد عدلیہ کا ہونا لازمی شرط ہے، فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ کا نظرثانی اختیار محدود ہوتا ہے، آئینی طور پر عدالت وہی ہوسکتی ہے جو آرٹیکل 175 میں بیان کی گئی، آرٹیکل 175 میں کسی فوجی عدالت کا ذکر نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں فوجی عدالتوں اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی توثیق کر چکی، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ سال 2015 میں قائم فوجی عدالتوں کو دو سال کا آئینی تحفظ دیا گیا تھا، مخصوص مدت کیلئے قائم فوجی عدالتوں کی توثیق کی گئی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملک حالت جنگ میں ہے، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ معلوم نہیں اس وقت حالت جنگ میں ہونے کے معاملے پر وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے، عدلیہ کی موجودگی میں کسی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، موجودہ کیس میں فوجی عدالتوں کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی،کلبھوشن کیلئے اپیل کے حق کا نیا قانون بھی بنایا گیا تھا، 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم فوجی عدالتوں کا دورانیہ مختصر تھا

    آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے آپ موجودہ کیس کو21 ویں آئینی ترمیم سے الگ قرار دے رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، ہم کسی قانون کو چھیڑے بغیر اس کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ وکیل احمد حسین نے کہا کہ آرمی کی سینئر کمانڈ نے پریس ریلیز میں دو نتائج اخذ کیے ، پریس ریلیز میں کہا گیا 9 مئی کو ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا گیا،پریس ریلیز میں کہا گیا حملے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، یہ نتائج پہلے سے اخذ کرنے کے بعد وہ خود اس معاملے کے جج نہیں ہوسکتے ،

    اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،جسٹس منیب اختر
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کون سے سویلینز کی بات ہو رہی ہے؟ سویلینز تو ریٹائرڈ فوجی افسران بھی ہیں، قانون میں یہ کیوں درج ہے کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت کے سامنے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ زبردستی لایا جا رہا ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں بنیادی حقوق کو معطل کیا گیا ہے، سویلین کوبنیادی انسانی حقوق کے تحت تحفظ ہرصورت حاصل ہے، وکیل نے کہا کہ آرمی افسران کے بنیادی حقوق کا معاملہ عدالت نہیں دیکھ سکتی لیکن سویلینز کا دیکھا جا سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،مخصوص حالات میں آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،ایمرجنسی میں تو لوگوں کی نقل وحرکت بھی روک دی جاتی ہے، آئین تو نقل و حرکت اورآزادی کا حق دیتا ہے، پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تفریق کیسے ہوگی کہ آرمی ایکٹ صرف فوج پر لاگو ہوتا ہے، آرمی ایکٹ کے مطابق اس کا اطلاق سویلینز پر بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سویلینز میں تو تمام شہری آتے ہیں، کیا سب پر آرمی ایکٹ لاگو ہو سکتا ہے؟ آرمی ایکٹ ان سویلینز پر لاگو ہوگا جو فوج سے تعلق رکھتے ہوں، فوج میں صرف فوجی نہیں سویلین بھی ہوتے ہیں، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ اصولی طور پر تو اُن سویلینز کا ٹرائل بھی فوجی عدالتوں میں نہیں ہونا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ خواجہ احمد حسین نے کہا کہ موجودہ کیس میں کسی ملزم کا تعلق فوج سے نہیں ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی جیسے معاملات میں فوج براہ راست متاثر ہوتی ہے،کسی حاضر سروس فوجی افسر کو قومی سلامتی کے خلاف سازش کیلئے اکسانا سنگین جرم ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے،وکیل احمد حسین نے کہا کہ اس صورت میں سویلین کیخلاف کاروائی ہو سکتی ہے جب وہ بیرونی سازش کا حصہ ہوں،سویلینز کا ملک کے خلاف گٹھ جوڑ ثابت ہو جائے تو کاروائی ہوسکتی ہے، وقت آچکا ہے کہ کھل کر حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے،وکیل احمد حسین سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کہنا کہ سویلین کا کبھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا درست نہیں ہے، کوئی سویلین فوجی کو بغاوت کیلئے اکسائے تو ملٹری کورٹس کاروائی کر سکتی ہیں،دیکھنا ہوگا کہ سویلینز کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لانے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے کس بنیاد پر مقدمات فوجی عدالت منتقل کیے ،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، پشاور میں چار لوگ زیر حراست ہیں، پنجاب میں ایم پی او کے تحت اکیس افراد گرفتار ہیں، انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 141 افراد گرفتار ہیں،اسلام آباد پولیس کی تحویل میں کوئی شخص گرفتار نہیں ہے،سندھ میں 172 افراد جوڈیشل تحویل میں ہیں، 345 افراد گرفتار ہوئے اور ستر رہا ہوئے، 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں ہیں، کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں ہیں،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • کیا کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹرائل کا بھی فیصلہ ہوا تھا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    کیا کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹرائل کا بھی فیصلہ ہوا تھا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف سماعت ہوئی

    7 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ بنچ میں شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ میں شامل ہیں،وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہماری درخواست پر کچھ اعتراضات لگائے گئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں کچھ سیاسی نوعیت کی استدعائیں موجود ہیں، ابھی ہم وہ سنانا نہیں چاہتے ابھی فوکس ملٹری کوٹس ہیں،چھٹیوں میں بنچ کی دستیابی ایک مسئلہ ہوتا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اپنی درخواست میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کی استدعا کی ہے، آرٹیکل 245 نافذ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا، آرٹیکل 245 کا نوٹیفکیشن واپس ہوچکا ہے، جسٹس یحیحی آفریدی 15 مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9 مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کس کو بنچ پر اعتراض ہے تو پہلے بتا دے،جسٹس ر جواد ایس خواجہ مجھ سے منسلک ہیں،اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی کو بھی اس بنچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کو بھی بنچ پر اعتراض نہیں،لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھٹیوں میں ہمارے بنچز دیگر رجسٹریز میں ہوتے ہیں اس لیے تمام فریقین دلائل مختصر رکھیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں اب آرٹیکل 245 نافذ نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ نو مئی کے واقعہ کی وجوہات میں نہیں جانا چاہتا، دس مئی کو آرٹیکل 245 کا نفاذ کر دیا گیا 15 مئی کو کور کمانڈر کانفرنس ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹرائل کا بھی فیصلہ ہوا تھا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس نے فیصلہ کیا، سکیورٹی کونسل اور کابینہ نے توثیق کی، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جسٹس جواد خواجہ کی درخواست میں موجود ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں چل رہا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بالکل سویلینزکا ٹرائل فوجی عدالتوں میں شروع ہوچکا ہے، لطیف کھوسہ نے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں آئی ایس پی آر کا نام کہاں لکھا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ آئی ایس پی آرکا ہی جاری کردہ اعلامیہ ہے، کابینہ نے آئی ایس پی آرکے اعلامیے کی کھل کرتوثیق کی،فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں کرنل لیول کے اور اس کے اوپر کے افسران شریک ہوئے تھے، فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ خلاف آئین ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ متاثرہ ہیں کیا ان میں سے کسی نے سپریم کورٹ سے براہ راست رجوع کیا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے پاس اس قسم کی معلومات نہیں ہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے ایک درخواست دائر کی مگر فی الحال کسی متاثرہ شخص نے ملٹری کورٹس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونا ہے کیا اس قانون کو کسی نے چیلنج کیا؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملٹری کورٹس سے متعلق قانون چیلنج ہوسکتا ہے؟ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیخلاف مقدمہ کون سنے گا؟وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کو تو لوگ مان ہی نہیں رہے،کسی مقدمہ میں آرمی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں کی گئی تھی، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ مقدمات میں لگائی دفعات کا آرمی ایکٹ سے تعلق بھی نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے مقدمات میں کون کون لوگ نامزد ہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، فرخ حبیب نامزد ہیں، رہنمائوں پر منصوبہ بندی کا الزام ہے موقع پر موجود ہونے کا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے مقدمات درج ہوئے اور کتنی گرفتاریاں ہوئیں یہ بتائیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ نو مئی کی رات لاہور میں پانچ مقدمات درج ہوئے، ایک مقدمہ میں 50 گرفتاریاں ہوئیں،دس مئی کو ملک بھر سے چار ہزار افراد کو مشکوک قرار دیکر گرفتار کیا گیا، کسی مقدمہ میں دہشتگردی کے علاوہ آرمی ایکٹ سمیت کوئی اور دفعہ نہیں لگائی گئی،فوج نے ملزمان کی حوالگی کی درخواست میں لکھا کہ جرم ثابت ہوچکا ہے، حوالگی کی درخواست میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر بھی کیا گیا، ملزمان حکم چیلنج کریں بھی تو سنے گا کون؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اے ٹی سی میں ملزمان کی ملٹری کورٹس حوالگی سے پہلے کوئی بحث ہوئی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کئی جگہوں پر نہ ملزمان عدالت میں موجود تھے نہ ان کے وکیل،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ ایسے فیصلے کو چیلنج نہہں کرے گا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ پرائیوٹ لوگوں کا کیس ملٹری کورٹس میں نہیں چل سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیس اے ٹی سی میں چل سکتا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل اے ٹی سی میں چل سکتا ہے،کمرہ عدالت میں صحافی اور وکلا کی بڑی تعداد موجود،اضافی کرسیاں لگا دی گئیں

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اے ٹی سی جج فیصلہ دے سکتا ہے کہ کیس آرمی ایکٹ کا بن سکتا ہے یا نہیں؟ سویلین کو ملٹری کورٹس میں بنیادی حقوق کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا آئینی حق ہوتا ہے،بنیادی حقوق کا معاملہ سپریم کورٹ لایا جاسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے 10 منٹ میں دلائل مکمل کریں،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو سیکشن 549 تھری کے تحت اے ٹی سی نے ملٹری حکام کے حوالے کیا آرمی ایکٹ کے تحت سزا کم ہے اور عام قانون میں سزا زیادہ ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوچھ رہے ہیں کہ آپ ادھر آنا چاہتے ہیں یا ادھر جانا چاہتے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ کے ریمارکس پر قہقہے لگ گئے، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو جلد سننا چاہتے ہیں ، کیس کو سننے والا بینچ اب یہی رہے گا، اگر بینچ کا ایک بھی ممبر نہ ہوا تو سماعت نہیں ہوسکے گی، تمام فریقین اپنے دلائل تحریری طور پر دیں،

    لطیف کھوسہ نے سویلنز کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف حکم امتناع جاری کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے،وکلاء سائلین کا دفاع کرتے ہیں،وکلاء کو حراساں کیا جارہا ہے،سپریم کورٹ میں سماعت کل ساڈھے نو بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سن کر دیکھیں گے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور تمام درخواستگزاران کے وکلا کو کمیٹی روم بلا لیا،

    سپریم کورٹ میں درخواستوں پر دوبارہ ڈیڑھ بجے بینچ بیٹھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج ہی نیا بینچ تشکیل دیں گے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، منصور علی شاہ شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لطیف کھوسہ سنئیر وکیل ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ روسٹرم پر آئیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے، صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے،ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرونگا، سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میں یہاں خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں،حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرونگا، آپ سیاسی بیان باہر جا کر دیں،قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بنچ کی تشکیل سنئیر ممبران کی ایک میٹنگ سے ہونی ہے کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا، اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا،میرے سامنے آیا کہ حلف کی پاسداری کرکے بینچ میں بیٹھوں یا پہر میں نے حالات کو دیکھ کر چیمبر ورک شروع کیا۔ جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا ،اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے ،میرے دوست یقینا مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا،اس چھ ممبر بنچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا،

    سپریم کورٹ کا 9 رکنی بینچ ٹوٹ گیا ، جسٹس قاضی فائز عیسی الگ ہو گئے ،نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا ، سوال یہ ہے پریکٹس بل پارلیمان اور عدالت کا معاملہ جسٹس صاحب نے پرسنل کیسے بنا لیا ؟ پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق فیصلہ کرے میں بینچ سے اٹھ رہا ہوں ‘ مگر سماعت سے انکار نہیں کررہا ،میں اس وقت تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی،میں اس بینچ کو بینچ نہیں تصور کرتا،

    جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں ‘ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کےخلاف درخواستوں پر فیصلہ کرینگے، اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں، یہ اہم کیس ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مخلوق خدا کے حق میں فیصلے کے لئے بیٹھے ہیں وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کہاں جائیں گے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کیس سن لیجیئے، میری استدعا ہے قاضی صاحب سے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں ،یہ نہیں ہو سکتا ایک بار میں اپنے حلف کیخلاف ورزی کر دوں ، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس معاملے میں تمام ججز کیس کو سنیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اس دفعہ بیٹھے رہیں حلف توڑ کے ، مجھے شرمندہ نہ کریں دونوں وکلا میرے لئے قابل قدر ہیں ،اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کے اندر کشمکش ہے ایسی زبان استعمال نہ کریں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت گھر نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے جو آئین کے تحت چلتی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سینئر جج صاحبان نے بنچ پر اعتراض کیا ہے ، گزشتہ دو سماعتوں پر اٹارنی جنرل نے قانون میں بہتری لانے کا وقت لئے ہوا ہے ،تہ دل سے سب کا احترام ہے آئین کے تحت کیا جو بھی فیصلہ کیا ،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سپریم کورٹ کے سابق جج قاضی محمد امین انتقال کرگئے

    سپریم کورٹ کے سابق جج قاضی محمد امین انتقال کرگئے

    راولپنڈی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج قاضی محمد امین دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: چکوال سے تعلق رکھنے والے قاضی محمد امین کی عمر66 برس تھی،جسٹس (ر) قاضی محمد امین کے انتقال کی تصدیق اہل خانہ کی جانب سے کردی گئی ہےنمازجنازہ آج شام راولپنڈی میں ادا کی جائےگی-

    خاندانی ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) قاضی امین گزشتہ کئی دنوں سے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج تھے،جسٹس (ر) قاضی امین کی نماز جنازہ آج شام 6 بجے راولپنڈی میں ادا کی جائےگی۔

    امریکا میں بھارتی وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا

    کلر کہار بس حادثے کے بعد موٹر وے پولیس نےنئی حکمت عملی وضع کر دی

    جسٹس (ر) قاضی محمد امین احمد 26 مارچ 1957 کو چکوال میں پیدا ہوئے تھے، قاضی محمد امین کی اپریل2019 میں بطورجج سپریم کورٹ تعیناتی ہوئی تھی جسٹس قاضی محمد امین احمد کی تقرری کی سفارش سپریم کی جوڈیشل کونسل نے کی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد صدر ڈاکٹرعارف علوی نے تقرری کا حکم نامہ جاری کیا تھا قاضی محمد امین مارچ 2022 کو بطور سپریم کورٹ جج ریٹائر ہوئے تھے،محمد امین لاہور ہائیکورٹ میں 7 نومبر 2014 سے 25 مارچ 2019 تک جج رہے۔

    چترال، کوہستان اپر، اپر دیر اور سوات کے بالائی علاقوں میں گلیشیر پگھلنے کا خدشہ

    سابق وفاقی وزیرغلام سرور خان گرفتار

  • گزشتہ مالی سال میں پی آئی اے کو 88 ارب کا خسارہ

    گزشتہ مالی سال میں پی آئی اے کو 88 ارب کا خسارہ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے ،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر پی آئی اے آڈیٹر کمپنیوں کے نمائندوں کو طلب کرلیا

    سپریم کورٹ میں پی آئی اے کے حوالہ سے درخؤاست پر سماعت ہوئی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ عدالت سے کیبن کریو سمیت 250 ملازمین کی بھرتی کی اجازت طلب کی گئی گزشتہ سماعت پر عدالت نے آپریشنز اور فنانس سے متعلق سوالات پوچھے تھے ، وکیل پی آئی اے نے کہا کہ عدالتی سوالات کے جوابات جمع کروا دئیے ہیں،دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ پی آئی اے کے اس وقت کتنے جہازاورعملہ ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی آئی اے کے پاس 31 جہاز اور341 کریوز ہے کیبن کریو کا ہونا لازمی ہے ،فنانس ہیڈ کا کہنا تھا کہ بہت سے روٹس پر عملہ کی عدم دستیابی کے باعث فلائٹس نہیں چلا سکتے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بات کر رہے ہیں آپ ،جہاز ہی نہیں تو کیسے چلائیں گے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا پی آئی اے منافع کما رہی ہے؟ پی آئی اے حکومت سے کتنی گرانٹس لیتی ہے، نمائندہ پی آئی اے نے عدالت میں کہا کہ مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے گزشتہ مالی سال میں 88 ارب کا خسارہ ہوا ہے اگر سابقہ خسارے کو پی آئی اے سے علیحدہ کردیا جائے تو بہتری ہو سکتی ہے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ 9 ماہ میں پی آئی اے کی کارکردگی بہتر رہی ہے جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے سارے حج آپریشنز آؤٹ سورس کردئیے ہیں،جہاز ہی نہیں تو آپریشنز کیسے چلیں گے

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • عمران خان کے خلاف وکیل کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    عمران خان کے خلاف وکیل کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ ، بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی ،

    بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا،انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کوقتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ پنجاب انتخابات اور ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ آرٹیکل 188 نظرثانی کی حدود کو محدود نہیں کرتا،آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں نظرثانی کا دائرہ بڑھانا امتیازی سلوک نہیں، سپریم کورٹ میں اپیلیں ہائیکورٹس یا ٹریبونلز کے فیصلوں کیخلاف آتی ہیں، آرٹیکل 184(3) کا مقدمہ براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جاتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے نظرثانی کا دائرہ بڑھایا گیا اس پر سوال اٹھا ہے، بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کے کیسز میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، سوال یہ ہے کیا قانون سازی سے نظرثانی کا دائرہ اتنا بڑھایا جا سکتا ہے؟ نظرثانی کا اتنا دائرہ بڑھانے کی وجوہات بھی سمجھ نہیں آتی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں نظرثانی کیلئے الگ دائرہ کار رکھا گیا ہے، نظرثانی میں اپیل کے حق سے کچھ لوگوں کیساتھ استحصال ہونے کا تاثر درست نہیں، اٹارنی جنرل صاحب آہستہ آہستہ دلائل سے ہمیں سمجھائیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کے حق سے پہلے آئین لوگوں کا استحصال کرتا رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ سے پہلے 184/3 میں نظرثانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا، حکومتی قانون سازی سے کسی کیساتھ استحصال نہیں ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے مگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا درست نہیں لگ رہا آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے،نظرثانی اور اپیل کو ایک جیسا کیسے دیکھا جا سکتاہے؟ عدالت کو حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، اگر نظر ثانی کا دائرہ اختیار بڑھا دیا جائے تو کیا یہ تفریق نہیں ہوگی، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی معاملے کیلئے پورے آئین کو کیسے نظر انداز کریں؟

    سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،چیف جسٹس
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر 184(3) کا سکوپ بڑھ گیا ہے تو اس پر نظرثانی کا دائرہ کار بھی بڑھنا چاہیے، پہلے فیصلہ دینے والے ججز نظرثانی کے لیے قائم لارجر بینچ کا حصہ بن سکتے ہیں، بینچ کی تشکیل کا معاملہ عدالت پر ہی چھوڑا گیا ہے، تلور کے شکار کے کیس میں نظرثانی 5 رکنی بینچ نے سنی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بینچ اگر فیصلہ دے تو کیا 4 رکنی بنچ نظرثانی کر سکے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر سے مراد لارجر ہے جتنے بھی جج ہوں،آئین نظرثانی کے دائرہ اختیار کو محدود نہیں کرتا،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا نظرثانی کے اختیار کو سول قوانین سے مماثلت دی جا سکتی ہے؟ سول قوانین صوبائی دائرہ اختیار میں ہیں اور ریویو ایکٹ میں صوبائی قوانین کا ذکر نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،حکومت نے نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل کردیا جس کی ٹھوس وجوہات پیش کرنا لازم ہے، قانون سازی سے قبل محتاط طریقہ کار سے حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے،

    سپریم کورٹ نے ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام درخواستگزاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواست گزار اپنے دلائل تحریری طور پر بھی جمع کرادیں ،درخواست گزار تحریری جوابات میں ریفرنسز بھی شامل کریں تا کہ مدد مل سکے ،ہم آپس میں مشاورت کرکے جلد فیصلہ سنائیں گے

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • آڈیو لیکس کیس،اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

    آڈیو لیکس کیس،اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس میں ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک پر خصوصی کمیٹی میں طلبی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستار کیس نے کیس کی سماعت کی، عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن ،وکیل درخواست گزار سردار لطیف کھوسہ اوراٹارنی جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے. عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ قانونی نکات ہیں ان پرآپ کی معاونت چاہئے ہو گی عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات کیلئے آپ کو بلایا ہے اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیو لیکس کے معاملے پر کمیشن قائم کیا عدالت نے جو سوالات اٹھائے وہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی ہیں سپریم کورٹ نے بھی ان سوالات پر فیصلہ سنانا ہے

    آپ کو عدالتی سوالات کے جوابات دینے میں کتنا وقت چاہئے ہوگا؟ عدالت
    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے 5 سوالات پر ہی معاونت کریں معاملہ بالآخر سپریم کورٹ میں ہی جانا ہے ہوسکتا ہے ہم کوئی فیصلہ دیں تو وہ سپریم کورٹ کیلئے معاونت ہو،سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،حکومت چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کیسے جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے حکومت کو چاہئے تھا چیف جسٹس سے مشاورت کرتی اور وہ ججز نامزد کرتے ،عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا آپ کو عدالتی سوالات کے جوابات دینے میں کتنا وقت چاہئے ہوگا؟ آپ کو 4 ہفتے کا ٹائم دیتے ہیں،عدالت نے اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل جواب کی کاپیاں فریقین کو بھی فراہم کریں عدالت نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی خصوصی کمیٹی میں طلبی کے خلاف حکم امتنازع میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 اگست تک ملتو ی کردی

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن پہنچے سپریم کورٹ

    سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن پہنچے سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کردی

    دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں اس سے قبل بھی اسی طرح کی درخواست دائر کی گئی ہے، پشاور ہائیکورٹ میں بھی اسی طرح کی درخواست دائر کی جا چکی ہے

     

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے