Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    جسٹس منصور علی شاہ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا

    فوجی عدالتوں کیخلاف سویلین کے ٹرائل کیخلاف کیس 23 جون کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا تحریری حکمنامہ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ بھی شامل ہے ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ بنچ تشکیل دیں، , نظام عدل کی ساکھ کی عمارت عوامی اعتماد پر کھڑی ہے، موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے،اس وقت ملک میں انتخابات کیلئے سیاسی ماحول کا منظرنامہ چارج ہے ،ایسے سیاسی چارج ماحول میں موجودہ عدالتی بنچ کے خلاف اعتراض کیا جاسکتا ہے، فوجی عدالتوں کیخلاف کیس سننے والے بنچ میں موجود ججز کے تحریری اعتراضات انتہائی سنجیدہ ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایک سینئر جج کے اعتراض پر اس وقت مناسب نہیں ہے کہ رائے دوں

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ ایک سینئر جج کے اعتراض عدالت میں ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے مناسب اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی

    جسٹس منیب اختر نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ,درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کر رکھی ہے سپریم کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی تھی،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری روسٹروم پر آ گئے اور کہا کہ میں نے بھی اس کیس میں درخواست دائر کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی پے سپریم کورٹ بار بھی اس کیس میں فریق بن رہی ہے ،اچھے دلائل کو ویلکم کریں گے، چآپ آج اس وقت درخواست دائر کر رہے ہیں ؟ عابد زبیری نے کہا کہ ابھی افس میں دائر ہو گئی ہے،

    ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، اٹارنی جنرل
    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت میں کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں،میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائلز کے خلاف ہیں ، فوجیوں کے خلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرائل جاری ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اٹارنی جنرل کے بیان سے متضاد ہے ،میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کی بات پر یقین ہے،

    اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ ملٹری کورٹس بھیجے گئے ملزمان پر سیکشن 2 ڈی ون لگائی گئی ہے یا 2 ڈی 2 ؟ کل کے بعد اسی معاملے کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ ابھی تک سیکشن 2ڈی 2 لگائی گئی ہے، سیکشن 2 ڈی ون کا اطلاق بعد میں ہو سکتا ہے،آج کے دن تک 2 ڈی ٹو کا ہی اطلاق ہوا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بی ایل ای اور ڈسٹرکٹ بار کیس کے فیصلے سویلین کا فورسز کے اندر تعلق سے متعلق کچھ ٹیسٹ آپلائی کرتا ہے، کیسے تعین ہو گا ملزمان کا عام عدالتوں میں ٹرائل ہو گا یا ملٹری کورٹس میں ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیر سویلین کے ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتا، اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاع پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے ، کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے،

    ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے، جسٹس منیب اختر
    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم ماضی میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مثالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ماضی کی ایسی مثالوں کے الگ حقائق ،الگ وجوہات تھیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شفاف ٹرائل کی بھی شرائط ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایف بی علی؛ بریگیڈیر فرخ بخت علی کیس کہتا ہے کہ کسی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے،یہ کیس سویلین کے اندر تعلق کی بات کرتا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق یہ کون سا تعلق ہو گا،جس پر ٹرائل ہو گا،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئینی ترمیم سے ہی ہو سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہوا میں بات کر رہے ہیں ٹو ڈی ٹو کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں اس پر معاونت کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم کا اکثریتی فیصلہ بھی یہ ہی شرط عائد کرتا ہے کہ جنگی حالات ہوں تک ہو گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف جنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؛ جب بنیادی حقوق معطل نہ ہوں تو سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا؛ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمارا ائین، ہمارے بنیادی حقوق، ہمارے قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزر کر مختلف ہو چکے ہیں اب ہمارے آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جس کو دیکھنا ضروری ہے ؛ آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل سٹرکچرکی بات کرتا ہے آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں ،یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے،بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ،کسی نے بھی خوشی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہو گی ایف آئی آر میں کہیں بھی افیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا،آرمی سپورٹس سمیت مختلف چیزوں میں شامل ہوتی ہے،اگر وہاں کچھ ہو جائے تو کیا آرمی ایکٹ لگ جائے گا،

    اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے سیکشن ٹو ڈی پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ آرمی والے کی بات کرتے ہیں تو اس کی سب اہم چیز مورال ہوتی ہے،اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہو جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے؛

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آفیشل سیکرٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے؟ ،وکیل درخواست گذار نے کہا کہ جی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کازکر ہی نہیں ہے،ایکٹ میں ترمیم کےذریعے تحفظ پاکستان ایکٹ کو ضم کرکے انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں،2017 میں ترمیم کرکے 2 سال کی انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتا ہے؟ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے، سقم قانون میں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کیا الزام لگایا گیا یہ تفصیل موجود ہی نہیں، ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ شاعر احمد فراز کے مقدمے میں جسٹس افضل ظلہ نے کی چونکہ ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لئے ان کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؛چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کئے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؛ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش کیسے ہو گی اور فرد جرم کیسے لگے گی؟ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ آرمی ایکٹ اس حوالے سے نامکمل ہے؛ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تو ملزمان پر کوئی چارج ہی نہیں ہے؛

    اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایف آئی آر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہوئی مگر ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے ، عزیر بھنڈاری کی جانب سے شاعر احمد فراز اور سیف الدین سیف کیس کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ احمد فراز پر الزام لگا تھا مگر ان جو باضابطہ چارج نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ جب کسی کیخلاف ثبوت نہیں تو فوج اسے گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک مجسٹریٹ بھی تب تک ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کخلاف شواہد نہ ہونے پر کاروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی پر موقف دینے کی بھی پابندی ہے،میڈیا پر نہیں چلتا،کچھ مستند آوازیں ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہیں ہیں،ہماری استدعا ہے کہ اوپن ٹرائل کیا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہو گئے درخواستگزار زمان وردک نے تحریری دلائل جمع کروا دیے

    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرمی افسران کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی شخص پر شواہد کے بغیر الزام لگانا بے کار ہے ، اٹارنی جنرل ہم نے ایسی معلومات منگوائی ہیں جو تمام والدین کے لیے فائدہ مند ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں تو ملزمان پر الزام ہی نہیں تھا ،ان مقدمات میں ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ تو سمجھ آتی ہے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر تحقیقات کرتے ہیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں، تسلیم شدہ حقائق سے بدنیتی اخذ کی جا سکتی ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیا پر مکمل بین یے،اوپن پبلک ٹرائل ہونا چاہیئے صحافیوں کو ٹرائل کی رپورٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی تعریف نہیں کی گئی، سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے ،

    102 ملزمان ملٹری تحویل میں،ہفتے میں ایک ملاقات ہو گی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنی تحریری معروضات کے ساتھ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی معلومات فراہم کروں گا،میں ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہ ہونے پر بھی معاونت کروں گا ،ملزمان کی کسٹڈی لیتے وقت الزامات بھی فراہم کردیے تھے ،9 مئی کا واقعہ تھا جس کے بعد 15 دن لیے گئے پھر ملزمان کی حوالگی کا عمل ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت چارج کرنے کا طریقہ رولزمیں ہے،؟۔ کیا آپ آج اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تحریری دلائل وقفہ کے بعد جمع کروا دوں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے معروضات کی تفصیل بھی مانگی تھی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس وقت 102 ملزمان ملٹری تحویل میں ہیں،تحویل میں موجود ملزمان کو گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی،والدین بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہو گی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کچھ جیلوں کا دورہ کیا وہاں بھی ملزمان کو فون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان کو جو کھانا دیا جاتا ہے وہ عام حالات سے کافی بہتر ہے،کھانا محفوظ ہے یا نہیں اس کا ٹیسٹ تو نہیں ہوتا مگر وہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی شفٹ ہو جائے گی،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں ،کیا ہم 102 افراد کی لسٹ کو پبلک کر سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جی نہیں ابھی وہ زیر تفتیش ہیں،

    کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے سوال
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سادہ سوال ہے کیوں حراست میں موجود لوگوں کی فہرست بپلک نہیں کر دیتے،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ پہلے یقینی بنائیں کہ زیر حراست افراد کی اپنے والدین سے بات ہو جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عید پر ہر کسی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون کون حراست میں ہے،عید پر سب کی اپنے گھر والوں سے بات ہونی چاہیے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فہرست پبلک کرنے کے حوالے سے ایک گھنٹے تک چیمبر میں آگاہ کر دوں گا،صحت کی سہولیات سب زیر حراست ملزمان کو مل رہی ہیں ڈاکٹرز موجود ہیں، صحافیوں اور وکلا کے حوالے سے کچھ واقعات ہوئے ہیں ریاض حنیف راہی سے کل بات بھی کی،ان کی شکایات کا ازالہ ہو گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سزائے موت غیر ملکی رابطوں کی صورت میں ہو سکتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ ملزمان کی آج ہی اہلخانہ سے بات کروائیں، اب ہم عید کے بعد ملیں گے، جو لوگ گرفتار ہیں ان کا خیال رکھیں، کتنی خوشی کی بات ہوگی کہ عمران ریاض عید پر اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہوں،

    عمران ریاض ہماری حراست میں نہیں ،ریکوری کی پوری کوشش کی جا رہی ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کوئی وکلاء گرفتار نہیں ہیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے ساتھ کوئی بد سلوکی ہوئی تو تحفظ فراہم کریں، صحافیوں کا بتائیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جانتا ہوں ایک صحافی مسنگ ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عمران ریاض کی بات کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وہ ہماری حراست میں نہیں ہے ان کی ریکوری کی پوری کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ اپنی صلاحیتوں سے یقینی بنائیں عمران ریاض کا پتہ لگائیں،

    وکلا نے ملٹری کورٹس کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ابھی کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوا اور اس میں وقت بھی لگتا ہے،ملزمان کو پہلے وکلا کی خدمات لینے کا وقت ملے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ ہوا مجھے فوری اگاہ کیا جائے، میں آئندہ ہفتے سے دستیاب ہوں گا، خواتین اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس

    سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لاجربنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس مظاہرنقوی اورجسٹس عائشہ ملک بینچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین تحریک انصاف کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہماری درخواست پر ابھی نمبر نہیں لگا۔ ہماری اس درخواست میں ایک استدعا فوجی عدالتوں کیخلاف ہے۔ میں صرف ایک فوجی عدالتوں کیخلاف استدعا پر زور دونگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ابھی ہم ایک سیٹ بیک سے باہر نکل رہے ہیں۔ آپ اپنی درخواست میں ترمیم کیوں نہیں کر لیتے۔ آپ نے ایک درخواست میں کئی استدعائیں کی ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے آرڈر لکھوائیں گے،آپ کی درخواست کو بعد میں دیکھیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صبح جو سیٹ بیک ہوا، اس سے ریکور ہو کر آئے ہیں، آئینی بحث کے بجائے دیگر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں،

    فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر ہوں تو اعتراض نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ
    درخواست گزار جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل شروع ہو گئے، جسٹس عائشہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے پہلے دن کے سوال پر جاوں گی کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا افواج کے افسران کا بھی ملٹری کورٹس میں کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ میں مخصوص حالات میں فوجی افسران کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کیخلاف ہائیکورٹ میں آئینی درخواست کیوں دائر نہیں کی جا سکتی؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ فوجی عدالتوں کی حیثیت کا تعین نہیں کر سکتی، میرے موکل کے بیٹے کا معاملہ ملٹری کورٹس میں ہے، ٹرائل صرف آرٹیکل 175 کے تحت تعینات کیا گیا جج کر سکتا ہے،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کسی صورت نہیں ہوسکتا، شہریوں کو کسی صورت شفاف ٹرائل کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ملزمان کو بنیادی حقوق میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق میسر ہوں تو اعتراض نہیں، صرف ملزمان کی حوالگی سے شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ختم نہیں ہوسکتا،

    کل عید سے پہلے آخری دن ہے، سماعت مکمل کرنی ہے وقت کی قلت کا خیال رکھیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کی بات واضح نہیں ہے، کیا ٹرائل شروع ہوچکا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا تو مفروضوں پر کیوں جا رہے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وقت کم ہے اس لئے موٹی بات کریں کل عید سے پہلے آخری دن ہے، سماعت مکمل کرنی ہے وقت کی قلت کا خیال رکھیں،

    آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے تو پھر کیا کیس ہے آپکا؟ جسٹس عائشہ ملک کا وکیل سے مکالمہ
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے یا نہیں، یہ نکتہ طے ہو جائے تو آرٹیکل 175(3) والی دلیل کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس کیس کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ریٹائرڈ فوجی افسر کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی آئین سے تجاوز نہیں کر سکتا، جسٹس عائشہ نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ سویلین پر آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی کا اطلاق ہوتا بھی ہے یا نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے، آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 ڈی سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اگر آپ اس بات پر آمادہ ہیں کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا ہے تو پھر کیا کیس ہے آپکا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سویلینز میں ریٹائرڈ آرمی افسران بھی آتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کورٹ مارشل کا لفظ آرمی ایکٹ کے علاوہ کہیں استعمال ہوا؟ ملٹری کورٹس کے بارے میں بہت سے فیصلے ہیں وہ دیکھنا چاہتے ہیں، جو کیس ملٹری افسران کے بارے میں نہیں اس میں انہیں کیوں لا رہے ہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرا فوکس صرف سویلینز پر ہے، آرٹیکل 199 آرمی ایکٹ کے تحت سزاوں پر لاگو ہوتا ہے لیکن کورٹ مارشل پر نہیں ،

     

    کیا فوجی عدالتوں کا آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین میں کہیں ذکر ہے؟ چیف جسٹس
    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا جو افراد آرمی ایکٹ کے تحت ڈسپلنری خلاف ورزی کرتے ہیں ان پر بنیادی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا؟آپ کے دلائل کا مقصد سمجھنا چاہ رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ فوجی افسران کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ آپ کا کیس سویلینز کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک وکیل متبادل عدالتی نظام کی بات کرتے ہوئے کورٹ مارشل کے معاملے پر کیسے جا سکتا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175 تین کے تحت جوڈیشل اختیارات کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ خود ایک کیس میں طے کر چکی کہ جوڈیشل امور عدلیہ ہی چلا سکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،کیا آپ ملٹری کورٹس میں فوجیوں کے ٹرائل کی بات پر بھی جانا چاہتے ہیں؟،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کی حد تک ہی بات کر رہا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو ہمیں یہی بتائیں کہ کیا سویلین کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 175(3) عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا فوجی عدالتوں کا آرمی ایکٹ کے علاوہ آئین میں کہیں ذکر ہے؟ اگر سویلینز کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا تو بات ختم،آپ قانون کی شقیں چیلنج کرتے ہوئے معاملہ پیچیدہ کر رہے ہیں،

    ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کی دو اقسام ہیں، ایک وہ سویلین ہیں جو آرمڈ فورسز کو سروسز فراہم کرتے ہیں، فورسز کو سروسز فراہم کرنے والے سویلین ملٹری ڈسپلن کے پابند ہیں،دوسرے سویلینز وہ ہیں جن کا فورسز سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں،جو مکمل طور پر سویلینز ہیں ان کا ٹرائل آرٹیکل 175/3 کے تحت تعینات جج ہی کرے گا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم ملٹری کورٹس کو کیسے کہیں کہ وہ عدالتیں نہیں ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج نہیں ہو سکتے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی چیف کے سامنے یا انکی بنائی کمیٹی کے سامنے ملٹری کورٹس کے فیصلے چیلنج ہو سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کورٹس میں اپیل کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں آرٹیکل 175(3) کے تحت متوازی عدالتی نظام نہیں چل سکتا،

    جسٹس عائشہ ملک نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ عدالت ہے یا نہیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملٹری کورٹ عدالت ہے جو سویلین کی زندگی اور آزادی چھیننے کااختیار رکھتی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف سویلین کے فوجی عدالت میں ٹرائل پر اعتراض ہے فوجی افسران کے ٹرائل پر نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں جب معمول کی عدالتیں اپنا کام جاری نہ رکھ سکیں تب فوجی عدالتیں حرکت میں آتی ہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون ان سویلینز کے بارے میں کیا کہتا ہے جو ریاست کیخلاف ڈٹ جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں سویلنز کی غیر ریاستی سرگرمیوں پر بھی ٹرائل سول عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سویلین کا مخصوص حالات میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصل صدیقی سے وہ قانونی حوالہ جات لیں گے جو سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دیتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا جنوبی ایشیاء میں کسی ملک میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز ہوتے ہیں؟وکیل نے عدالت میں کہا کہ میں نے برطانیہ، آسٹریلیا کینیڈا وغیرہ کا ریکارڈ نکالا لیکن جنوبی ایشیا کا نہیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو بنیادی حقوق معطل ہوں تو کیا سویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کا فیصلہ دیکھیں، مسلح افواج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کا مقصد فورس میں ڈسپلن قائم کرنا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم ان سے متعلق تھی جو فوج کیخلاف ہتھیاراٹھائیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی نظام میں ایسی کیا خامی ہے جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو؟ آرمی ایکٹ کے سویلینز پر اطلاق کا جائزہ 1975 کے بعد پہلی مرتبہ لیا جا رہا ہے، انصاف تک رسائی ہر شخص کا بنیادی حق ہے،سماعت سوا دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ،وقفے کے بعد سلمان اکرم راجہ دلائل مکمل کرینگے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عذیر بھنڈاری نے اپنے تحریری دلائل عدالت کو پیش کر دیے

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کر دیا وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران کے علاوہ سویلینز کو بھی شامل کیا گیا ہے، سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے اس لیے قانون کو چیلنج کیا ہے عدالت پر چھوڑتا ہوں کہ سویلینز کو آرمی ایکٹ کے دائرے میں ہونے پر کیسے دیکھتے ہیں ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئین کے بنیادی ڈھانچے کیخلاف ہے، عدالت سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر مبنی قانونی شقیں کالعدم قرار دے

    سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عزیز بھنڈاری نے کہا کہ ہم تمام درخواست گزاروں کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں اوپن ٹرائل ہو، اگر کوئی قصور وار ہے تو اسے سزا ملنی چاہیئے ، 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے اہداف اور خواہشات کے حصول کی بات نہ کریں، آپ صرف قانون کی بات کریں، سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع کرتے ہیں سپریم کورٹ میں درخواستوں ہر سماعت مکمل ہونے تک ملٹری کورٹس میں کوئی ٹرائل نہیں چلے گا گرفتار افراد کی مکمل تفصیلات فراہم کریں کہا جا رہا ہے کہ ملزمان کو اہلخانہ سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا ؟ خوراک اور کتابوں کی عدم فراہمی کی بھی کچھ شکایات ہیں 102 زیر حراست افراد کو ایلخانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے گی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو کیوں قیدی بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار جنید رزاق کی فیملی کب سے قید میں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 9 مئی سے ارم رزاق و دیگر کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے دن گزر گئے ابھی تک کچھ پتہ نہیں۔ اٹارنی جنرل سے آپ اس معاملے کو دیکھیں۔ ان کو خاندان سے ملنے کی اجازت دیں۔ یہ شکایت کس کی جانب سے تھی۔خاندانوں کو کیوں اٹھایا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کوئی ملٹری ٹرائل نہیں ہوگا۔ کسی کو کوئی شکایت ہے تو نام بتادیں میں متعلقہ حکام سے بات کرنے کی کوشش کرونگا۔ وکیل لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ وکیلوں تک رسائی بھی نہیں دی جارہی۔نہ خاندان کو ملنے دیا جاریا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے نام بتادیں تو میں اگے بات کرونگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں۔ سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کرتے ہیں۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • آج  نو مئی سے زیادہ سیاہ دن ہے، لطیف کھوسہ

    آج نو مئی سے زیادہ سیاہ دن ہے، لطیف کھوسہ

    سپریم کورٹ کے باہر وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گفتگو کا آغاز خواجہ آصف کے الفاظ سے کرتا ہوں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے،حکومت کا آج کا اقدام شرم ناک ہے،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جسٹس منصور نے پہلے ہی سوال کیا تھا کہ اگر کسی کو تو بتا دیں ، ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ پٹیشن کا فیصلہ کیا جائے، پہلے ہی وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ نہیں مانیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا مجھے ہدایت دی ہے کہ جسٹس منصور والے بینچ میں نہ بیٹھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ میں نےآج تک بہت تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اج بہت حیرانی ہوئی ،سب نے کہا کہ ہمیں جسٹس منصور علی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، یہ نو مئی سے زیادہ سیاہ دن ہے حکومت نے اعلان کر دیا کہ ہم آئیں و قانون کو نہیں مانتے،یہ صرف تاخیری حربے ہیں انہیں اپنی شکست نظر آ رہی ہے، وکلا اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں یہ لوگ عدالتوں کو فیصلہ نہیں کرنے دیتے،چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ڈنڈا نہیں مورل اتھارٹی ہے ،

    اعتزاز احسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب حکومت کروا رہی ہے، اگر چیف جسٹس کہیں کہ فلاں تاریخ کو انتخابات ہیں تو یہ لوگ نہیں مانیں گے، ان لوگوں نے سپریم کورٹ کے باہر جلسے میں مولانا اور مریم نے توہین عدالت کی ہے،عدالت کو چاہیے کہ انہیں توہین عدالت کے نوٹس دیں وکلاء اس فیصلے پر پہرا دیں گے،ان کو بھاری جرمانے کئے جائیں توہین عدالت میں نااہل کریں،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہویئ

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل اور سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایت ہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ بنچ کا حصہ نہ ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی مرضی سے بنچ نہیں بنایا جائے گا،کس بنیاد پر آپ جسٹس منصورعلی شاہ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفادات کے ٹکراو کی وجہ سے اعتراض اٹھایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا تھا کہ مجھ پر اعتراض تو نہیں،میں نے کہا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا
    وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض اٹھا دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لیے ان کے کندکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا ،سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا جسٹس منصور علی شاہ کی بنچ سے علیحدگی کے بعد بینچ اٹھ کر چلا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں،ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں باربار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے،پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا ،جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازعہ بنا رہے ہیں عدالت نے پہلے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، عدالت کے فیصلوں پر عمل اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمارے پاس فیصلوں پر عمل کیلئے کوئی چھڑی نہیں،بہت سے لوگوں کے پاس چھڑی ہے لیکن انکی اخلاقی اتھارٹی کیا ہے، لوگ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ،بینچ میں شامل رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جج صاحب خود کریں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرا خیال سے اعتراض کے بعد میں میرا اس بینچ میں شامل رہنا نہیں بنتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب پر جانبداری کا کہہ رہے ہیں یا مفادات کے ٹکراو کا؟ اٹارنی جنرل ایک اعلی معیار اور اچھے کردار کے وکیل ہیں ،سپریم کورٹ کے بینچز پر لگاتار اعتراضات اٹھ رہے ہیں ،

    عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس

    قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتیں حقائق کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہیں،ہم صرف قانونی پہلو کے تحت فیصلے کرتے ہیں ،کئی بارقانون کی تشریح سے متعلق تنازعات جنم لیتے ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کاروبار کیلئے ریگولیٹری سسٹم کی ضرورت ہے،آئین میں وسائل کی تقسیم کیلئے آرٹیکل 25 موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف صنعتیں بجلی اور گیس پر سسبڈی مانگ رہی ہیں، تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے معیشت مضبوط ہوگی،عدالتیں حقائق کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہیں، قانون کی بار بار تشریح کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں ماہرین کو قانون کی تشریح کے ذریعے تنازعات کو ختم کرنا چاہیے، قانون سے متعتق اور عوامی اہمیت کا معاملہ دیکھتے ہیں، سپریم کورٹ میں صرف قانون کی عملداری کی بات ہوتی ہے،ججز آسانی سے مارکیٹ میں میسر نہیں، کئی امتحانات دینا پڑتے ہیں،کئی اداروں کے چیئرمین اور ممبرز ہی نہیں ہے اورکسی کو پرشانی بھی نہیں ہم اپنے اختیارات کا استعمال بہت محتاط ہوکر کرتے ہیں، سرمایہ کاروں کو ’’لیول پلیئنگ فیلڈ‘‘ فراہم کرنی چاہیے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کیا ہمارا قانون کاروبار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد گار ہے، کاروبار کے مواقع اور صنعتی ترقی سے ملکی ترقی ممکن ہے، ہر شعبہ سبسڈی مانگ رہا ہے سبسڈی حکومت دیتی ہے ،ٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی لگائی جاتی ہے لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ حق کے راستے پر چلتے نظریہ کی خاطر بھٹو اور بی بی شہید نے شہادت قبول کی، بھٹو شہید نے سمجھوتہ نہیں کیا , تاریخ میں بھٹو زندہ ہے ،بی بی شہید نے قوم کیلئے جام۔شہادت نوش کیا، دھمکیوں کے باوجود ملک و ملت کی خاطر پاکستان واپس آئی، بی بی شہادت کے ثمرات سے قوم مستفید ہو رہی ہے ، بی بی شہید کی بے مثال جدوجہد بے نظیر شہادت ہے , سیاسی بصیرت والے ہی ملک چلا سکتے ہیں ،ایسی قیادت کا انتخاب کرنا ہے جو مستقبل بین ہو اورمستقبل محفوظ بنا سکے،مناپلی کے ذریعے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، ہمیں اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا، ایس ای سی پی کو بھی اقلیتی شیئر ہولڈرز اور اقلیتی سرمایہ کاروں کا خیال رکھنا ہوگا، تمام اداروں اور محکموں کو شفافیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا،بزنس فرینڈلی ماحول بنانا ضروری ہے ہم نے ایک کیس دیکھا ایک ریگولیٹری باڈی کا کورم ہی پورا نہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان آئینی ادارہ ہے اور سپریم کورٹ سپورٹ کرتا ہے،آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے اور ہم اسے مضبوط کرتے ہیں، تعداد زیادہ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ تربیت حاصل کرنی چاہیے ،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

  • نومئی واقعات،فوجی عدالتوں میں کن افراد کا ٹرائل؟ فہرست باغی ٹی وی کو موصول

    نومئی واقعات،فوجی عدالتوں میں کن افراد کا ٹرائل؟ فہرست باغی ٹی وی کو موصول

    نو مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، فوجی تنصیبات پر بھی حملے کئے گئے جس کے بعد ان حملوں میں ملوث شرپسندوں کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا گیا،

    اگرچہ تحریک انصاف احتجاج کر رہی اور سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹ میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہو رہی ہے تا ہم اب ملٹری کورٹس میں کن کن افراد کے مقدمے چلیں گے، انکی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، ملٹری کورٹس میں 59 افراد کا کیس چلے گا جو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں،

    باغی ٹی وی کی ملنے والی فہرست کے مطابق نومئی کو ہنگامہ آرائی کرنیوالے شرپسندوں میں سے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 48 شرپسندوں کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلے گا، پنڈی سے آٹھ، میانوالی سے پانچ، فیصل آباد سے آٹھ اور گوجرانوالہ سے دس شرپسندوں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گئے، فوجی عدالت میں ٹرائل کے لئے بھجوائے گئے ناموں میں تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان، عباد فاروق کا نام بھی شامل ہے، سترہ افراد کے خلاف سرور روڈ تھانے میں مقدمہ درج ہے جنکا کیس فوجی عدالت منتقل کیا گیا،جن میں ارسلان، عمیر ، رحیم،ضیا، وقاص،رئیس، فیصل ،بلاول،فہیم،میاں محمد اکرم، حاشر خان،حسن شاکر،عبدالہادی،میاں عباد فاروق،ارزم جنید شامل ہیں

    Total 59 cases have been referred to military courts so far.

    Total 59 cases have been referred to military courts so far.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، کل بھی ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں لارجر بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے تحریری دلائل بھی جمع کروائے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میری درخواست باقی درخواستوں سے کچھ الگ ہے میں اس پر دلائل نہیں دوں گا کہ سویلین کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتایہ بھی نہیں کہیتا کہ ملٹری کورٹس کے زریعے ٹرائل سرے سے غیر قانونی ہے، میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ 9 مئی کو کیا ہوا کیا نہیں،میرا مدعا تمام ملزمان میں سے چند کے ساتھ الگ سلوک ہوا،ایک ایف آئی آر میں ساٹھ ملزمان ہیں تو پندرہ ملٹری کورٹس کو دیے جاتے ہیں ، ایف آئی آر میں جو الزامات ہیں ان پر تین الگ طرح کے ٹرائل ہو سکتے ہیں ،میرا دوسرا نقظہ فیئر ٹرائل کا ہے،ایک الزام پر ٹرائل کے بعد کچھ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہو گا اور کچھ کے پاس نہیں سویلین کے ٹرائل کی ماضی میں مثالیں ہیں ، فوجی عدالتوں میں فوج داری ضابطے کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی ، اس کو چیلنج نہیں کیا،میں نے کسی ملزم کی بریت کو چیلنج نہیں کیا، فوج کے حوالے ملزمان کو کرنے کے عمل میں مخصوص افراد کو چنا گیا،آرمی ایکٹ قانون کو بدنیتی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے،عدالت میں جا کر کہا گیا 15 لوگوں کو حوالے کر دیں،جن افراد کا انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل ہو گا ان کو اپیل کا حق ملے گا،جن کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہو گا انہیں اپیل کا حق حاصل نہیں ،

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو آپ کرائم رپورٹ دکھا رہے ہیں اس میں تو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں،9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ سے متعلق دفعات کب شامل کی گئیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل کی بنیاد یہ ہے کہ کس کے پاس اختیار ہے کہ وہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل کرے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیشل سیکورٹی کے باعث کہا گیا کہ یہ ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا، سٹیٹ سیکورٹی کے حدود میں جائینگے تو پھر ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونے کا ذکر ہے، جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو کب شامل کیا گیا؟

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جن لوگوں کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ان پر الزامات کی نوعیت الگ ہو،آپ صرف مفروضہ پر کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ آپ عمومی بحث پر جا رہے ہیں یہ بھی علم نہیں ان لوگوں کو کس کس شق کے تحت ملٹری کورٹس بھجا گیا ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فرض کریں ان کیخلاف شواہد بھی موجود ہیں تو دکھاوں گا کہ انہیں کیسے ملٹری کورٹس نہیں بھجا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کے متعلقہ نکات تک محدود رکھیں،آج کا دن درخواست گزاروں کیلئے مختص ہے بے شک تین بجے تک دلائل دیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ملٹری کے اندر کام کرنے والے بندہ ہو تو ہی آفیشیل سکرٹ ایکٹ لگے گا، ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ وہ کون سا جرم ہو گا جن کے مقدمات ملٹری کورٹس کونہیں یجوائے جائیں گے ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں گرفتار ملزمان آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت نہیں آتے ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ مقدمات میں کب شامل کیا گیا ، جسٹس نقوی نے کہا کہ اگر مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ شامل ہی نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ان ملزموں کی حوالگی مانگ سکتا ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی سیشن 2ڈی (1) (11) کے تحت سویلینز کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہو سکتا ہے ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سادہ سا سوال ہے کس طریقہ کار کے تحت یہ اختیار استعمال ہوتا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹس میں کسی کو ملزم ٹھہرانے کا کیا طریقہ کار ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ممنوعہ علاقے عمارات اور کچھ سول عمارات پر بھی ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ ابھی تک بنیادی پوائنٹ ہی نہیں بتا سکے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات ایف آئی آرز میں کب شامل کی گئیں،اگر ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات ہی شامل نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ملزمان کی حوالگی مانگ سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ سے دو سوال پوچھ رہے ہیں اس پر آئیں،آپ پراسس بتائیں آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہو گا،آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،عدالت نے کیس کی سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ٹرائل کیسے شروع ہوتا ہے،اس کا جواب آرمی رولز 1954 میں موجود ہے،رول 157 کی سب سیکشن 13 میں طریقہ کار درج ہے،یہاں 9 اور 10 مئی کو واقعات ہوتے ہیں اور 25 مئی کو حوالگی مانگ لی جاتی ہے،یہاں تو ہمیں حقائق میں جانے کی ضرورت بھی نہیں،ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چارج سے پہلے انکوائری کا ہم اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے،

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل الگ نوعیت کے حالات میں ہو گا،آپ یہ بھی پھر واضح کریں کہ وہ الگ نوعیت کے حالات کیا ہوں گے،کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ محدود معاملات پر ہی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین نیب اختیارات کیس میں 2003 کا ایک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،عدالت نے کہا تھا عام عدالت سے کیس تب تک نیب کورٹ نہیں جائے گا جب تک چیئرمین کے صوابدیدی اختیارات سٹرکچر نہیں ہوتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل صرف مجسٹریٹ نے کیا ہو؟فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں اس حوالے سے فیصلوں کی نظیریں پیش کروں گا،وکیل احمد حسین نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا سویلین جن کا فوج سے تعلق نہیں ان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ میرا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،ہمارا اعتراض یہ بھی نہیں کہ لوگون کے خلاف کارروائی نہ ہو ،ہمارا نقطہ فورم کا ہے ،کہ کارروائی کا فورم ملٹری کورٹس نہیں،سوال یہ ہے سویلین کے کورٹ مارشل کی آرمی ایکٹ میں گنجائش کیا ہے؟ آرمی ایکٹ کا مقصد ہے کہ آرمڈ فوسز میں ڈسپلن رکھا جائے،جن افراد کو مسلح افواج کی کسی کمپنی وغیرہ میں بھرتی کیا گیا ہو ان پر ہی اس ایکٹ کا اطلاق ہو گا،

    انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏جب کور کمانڈر ہاؤس فوجی تنصیبات میں آتا ہی نہیں تو فوجی ٹرائلز کس بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ بھی قانون میں ہے کہ اگر فوج سویلین کی حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے تو ریفرنس وفاقی حکومت کو بھیجا جاتا ہے، وفاقی حکومت کی منظوری پر حوالگی کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کب سویلینز کی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی منظوری دی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ‏کیا ہمیں مکمل تفصیلات حاصل ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوج کیسے کسی کو ملزم قرار دیتی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں ہمارے سامنے کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق سامنے نہ بھی ہوں تو بھی یہ کیس بادی النظر کا بنتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہنے کہا کہ ‏آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان ملزمان پر خلاف بظاہر کوئی الزام نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ میں یہ کہہ رہا ہوں چارج کرنے سے پہلے سخت انکوائری ہونی چاہیے،9 مئی کے ملزمان سے متعلق سخت انکوائری پہلے ہونی چاہیے سویلین ملٹری کورٹ نہیں جا سکتا،سویلینز کا ٹرائل سول عدالتوں میں ہوتا ہے،انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ‏دوسرے کیسز میں آرمی ایکٹ سے متعلق کیا پرنسپل سیٹ کیا گیا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ سول کورٹس کو بائی پاس کیا گیا ہو، جسٹس عائشہ ملک‏ نے کہا کہ کن وجوہات کی بنا پر سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت کیا جاتا رہا ہے؟ یہ بتا دیں کہ کون سے غیر معمولی حالات میں سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے؟ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہونے والا جرم ضروری نہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوا ہو،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کن جرائم پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ لگتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی فوجی عدالتوں کو حوالگی کی درخواست نہیں دی جا سکتی،‏وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہو گئے

    آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،وکیل فیصل صدیقی
    سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریمانڈ آرڈر میں ذکر نہیں ملزمان کی حوالگی کیسے اور کن شواہد پر ہوئی،ملزمان کے ریمانڈ میں بنیادی چیز مسنگ ہے، جسٹس منصور علی‏ شاہ نے کہا کہ آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ درخواستیں سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کی حد تک آپ کے دلائل مکمل ہیں ،فیصل صدیقی‏ نے کہا کہ جی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے تک دلائل مکمل ہیں اب آگے چلتے ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا سویلینز کا جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہے یا نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی قانون میں جرائم آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے بالکل مختلف ہیں، جسٹس منیب اختر‏ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ ہم سویلینز کو ملٹری کورٹ کے حوالے نہیں کر رہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر کیس کسی آرمی آفیشل پر ہوتا تو بات اور تھی اب کورٹ مارشل کے علاوہ آپشن نہیں،آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،

    وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا مقصد افواج میں ڈسپلن برقرار رکھنا ہے، سویلینز کا کورٹ مارشل کر کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کیا جا رہا ہے، جواد ایس خواجہ کے وکیل نے لارجر بنچ بنانے کی استدعا کر دی،کہا اگر عدالت سمجھتی ہے کہ میرے کیس میں ٹھوس وجوہات ہیں تو لارجر بنچ بنا دیں، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے، ابھی نماز کیلئے بریک لیں گے اور ڈیڑھ بجے واپس آئیں گے،وکیل نے کہا کہ ،یہ بہت اہم کیس ہے اس سے ایک مثال قائم ہوگی،عدالت نے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہوگا تو دیکھیں گے آپ بات تو کریں،

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت، وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ کورٹ مارشل سے بنیادی حقوق ختم ہو جاتے ہیں، آرٹیکل 10 کے مطابق شفاف ٹرائل کا حق ہر شخص کو ہے. آرٹیکل 25 ہر شہری کی عزت نفس کی ضمانت دیتا ہے، کورٹ مارشل سے عزت نفس مجروح ہوتی ہے کورٹ مارشل کیلئے ایک آفیسر کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جاتی ہے

    دوران سماعت خواجہ احمد حسین نے کلبھوشن کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کلبھوشن کا کورٹ مارشل کرکے سزا دی گئی تھی، عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے سزا کیخلاف اپیل کی، پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن کو سزا پر عدالتی نظرثانی کا قانونی حق حاصل ہے،عالمی عدالت انصاف نے عدالتی نظرثانی کو با ضابطہ اپیل طرز پر ہونے کا موقف تسلیم نہیں کیا، عالمی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کو کلبھوشن کیلئے قانون سازی کرنا پڑی، فوجی عدالتوں میں موجود ججز آرمی افسر اور ادارے کے ماتحت ہوتے ہیں ،خفیہ مقام پر ہونے والے ٹرائل کی قانون میں گنجائش نہیں، شفاف ٹرائل کیلئے آزاد عدلیہ کا ہونا لازمی شرط ہے، فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ کا نظرثانی اختیار محدود ہوتا ہے، آئینی طور پر عدالت وہی ہوسکتی ہے جو آرٹیکل 175 میں بیان کی گئی، آرٹیکل 175 میں کسی فوجی عدالت کا ذکر نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں فوجی عدالتوں اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی توثیق کر چکی، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ سال 2015 میں قائم فوجی عدالتوں کو دو سال کا آئینی تحفظ دیا گیا تھا، مخصوص مدت کیلئے قائم فوجی عدالتوں کی توثیق کی گئی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملک حالت جنگ میں ہے، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ معلوم نہیں اس وقت حالت جنگ میں ہونے کے معاملے پر وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے، عدلیہ کی موجودگی میں کسی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، موجودہ کیس میں فوجی عدالتوں کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی،کلبھوشن کیلئے اپیل کے حق کا نیا قانون بھی بنایا گیا تھا، 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم فوجی عدالتوں کا دورانیہ مختصر تھا

    آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے آپ موجودہ کیس کو21 ویں آئینی ترمیم سے الگ قرار دے رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، ہم کسی قانون کو چھیڑے بغیر اس کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ وکیل احمد حسین نے کہا کہ آرمی کی سینئر کمانڈ نے پریس ریلیز میں دو نتائج اخذ کیے ، پریس ریلیز میں کہا گیا 9 مئی کو ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا گیا،پریس ریلیز میں کہا گیا حملے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، یہ نتائج پہلے سے اخذ کرنے کے بعد وہ خود اس معاملے کے جج نہیں ہوسکتے ،

    اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،جسٹس منیب اختر
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کون سے سویلینز کی بات ہو رہی ہے؟ سویلینز تو ریٹائرڈ فوجی افسران بھی ہیں، قانون میں یہ کیوں درج ہے کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت کے سامنے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ زبردستی لایا جا رہا ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں بنیادی حقوق کو معطل کیا گیا ہے، سویلین کوبنیادی انسانی حقوق کے تحت تحفظ ہرصورت حاصل ہے، وکیل نے کہا کہ آرمی افسران کے بنیادی حقوق کا معاملہ عدالت نہیں دیکھ سکتی لیکن سویلینز کا دیکھا جا سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،مخصوص حالات میں آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،ایمرجنسی میں تو لوگوں کی نقل وحرکت بھی روک دی جاتی ہے، آئین تو نقل و حرکت اورآزادی کا حق دیتا ہے، پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تفریق کیسے ہوگی کہ آرمی ایکٹ صرف فوج پر لاگو ہوتا ہے، آرمی ایکٹ کے مطابق اس کا اطلاق سویلینز پر بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سویلینز میں تو تمام شہری آتے ہیں، کیا سب پر آرمی ایکٹ لاگو ہو سکتا ہے؟ آرمی ایکٹ ان سویلینز پر لاگو ہوگا جو فوج سے تعلق رکھتے ہوں، فوج میں صرف فوجی نہیں سویلین بھی ہوتے ہیں، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ اصولی طور پر تو اُن سویلینز کا ٹرائل بھی فوجی عدالتوں میں نہیں ہونا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ خواجہ احمد حسین نے کہا کہ موجودہ کیس میں کسی ملزم کا تعلق فوج سے نہیں ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی جیسے معاملات میں فوج براہ راست متاثر ہوتی ہے،کسی حاضر سروس فوجی افسر کو قومی سلامتی کے خلاف سازش کیلئے اکسانا سنگین جرم ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے،وکیل احمد حسین نے کہا کہ اس صورت میں سویلین کیخلاف کاروائی ہو سکتی ہے جب وہ بیرونی سازش کا حصہ ہوں،سویلینز کا ملک کے خلاف گٹھ جوڑ ثابت ہو جائے تو کاروائی ہوسکتی ہے، وقت آچکا ہے کہ کھل کر حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے،وکیل احمد حسین سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کہنا کہ سویلین کا کبھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا درست نہیں ہے، کوئی سویلین فوجی کو بغاوت کیلئے اکسائے تو ملٹری کورٹس کاروائی کر سکتی ہیں،دیکھنا ہوگا کہ سویلینز کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لانے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے کس بنیاد پر مقدمات فوجی عدالت منتقل کیے ،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، پشاور میں چار لوگ زیر حراست ہیں، پنجاب میں ایم پی او کے تحت اکیس افراد گرفتار ہیں، انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 141 افراد گرفتار ہیں،اسلام آباد پولیس کی تحویل میں کوئی شخص گرفتار نہیں ہے،سندھ میں 172 افراد جوڈیشل تحویل میں ہیں، 345 افراد گرفتار ہوئے اور ستر رہا ہوئے، 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں ہیں، کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں ہیں،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • کیا کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹرائل کا بھی فیصلہ ہوا تھا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    کیا کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹرائل کا بھی فیصلہ ہوا تھا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف سماعت ہوئی

    7 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ بنچ میں شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ میں شامل ہیں،وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہماری درخواست پر کچھ اعتراضات لگائے گئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں کچھ سیاسی نوعیت کی استدعائیں موجود ہیں، ابھی ہم وہ سنانا نہیں چاہتے ابھی فوکس ملٹری کوٹس ہیں،چھٹیوں میں بنچ کی دستیابی ایک مسئلہ ہوتا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اپنی درخواست میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کی استدعا کی ہے، آرٹیکل 245 نافذ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا، آرٹیکل 245 کا نوٹیفکیشن واپس ہوچکا ہے، جسٹس یحیحی آفریدی 15 مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9 مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کس کو بنچ پر اعتراض ہے تو پہلے بتا دے،جسٹس ر جواد ایس خواجہ مجھ سے منسلک ہیں،اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی کو بھی اس بنچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کو بھی بنچ پر اعتراض نہیں،لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھٹیوں میں ہمارے بنچز دیگر رجسٹریز میں ہوتے ہیں اس لیے تمام فریقین دلائل مختصر رکھیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں اب آرٹیکل 245 نافذ نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ نو مئی کے واقعہ کی وجوہات میں نہیں جانا چاہتا، دس مئی کو آرٹیکل 245 کا نفاذ کر دیا گیا 15 مئی کو کور کمانڈر کانفرنس ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹرائل کا بھی فیصلہ ہوا تھا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس نے فیصلہ کیا، سکیورٹی کونسل اور کابینہ نے توثیق کی، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جسٹس جواد خواجہ کی درخواست میں موجود ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں چل رہا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ بالکل سویلینزکا ٹرائل فوجی عدالتوں میں شروع ہوچکا ہے، لطیف کھوسہ نے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں آئی ایس پی آر کا نام کہاں لکھا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ آئی ایس پی آرکا ہی جاری کردہ اعلامیہ ہے، کابینہ نے آئی ایس پی آرکے اعلامیے کی کھل کرتوثیق کی،فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں کرنل لیول کے اور اس کے اوپر کے افسران شریک ہوئے تھے، فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ خلاف آئین ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ متاثرہ ہیں کیا ان میں سے کسی نے سپریم کورٹ سے براہ راست رجوع کیا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے پاس اس قسم کی معلومات نہیں ہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے ایک درخواست دائر کی مگر فی الحال کسی متاثرہ شخص نے ملٹری کورٹس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونا ہے کیا اس قانون کو کسی نے چیلنج کیا؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملٹری کورٹس سے متعلق قانون چیلنج ہوسکتا ہے؟ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیخلاف مقدمہ کون سنے گا؟وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کو تو لوگ مان ہی نہیں رہے،کسی مقدمہ میں آرمی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں کی گئی تھی، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ مقدمات میں لگائی دفعات کا آرمی ایکٹ سے تعلق بھی نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے مقدمات میں کون کون لوگ نامزد ہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، فرخ حبیب نامزد ہیں، رہنمائوں پر منصوبہ بندی کا الزام ہے موقع پر موجود ہونے کا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے مقدمات درج ہوئے اور کتنی گرفتاریاں ہوئیں یہ بتائیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ نو مئی کی رات لاہور میں پانچ مقدمات درج ہوئے، ایک مقدمہ میں 50 گرفتاریاں ہوئیں،دس مئی کو ملک بھر سے چار ہزار افراد کو مشکوک قرار دیکر گرفتار کیا گیا، کسی مقدمہ میں دہشتگردی کے علاوہ آرمی ایکٹ سمیت کوئی اور دفعہ نہیں لگائی گئی،فوج نے ملزمان کی حوالگی کی درخواست میں لکھا کہ جرم ثابت ہوچکا ہے، حوالگی کی درخواست میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر بھی کیا گیا، ملزمان حکم چیلنج کریں بھی تو سنے گا کون؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اے ٹی سی میں ملزمان کی ملٹری کورٹس حوالگی سے پہلے کوئی بحث ہوئی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کئی جگہوں پر نہ ملزمان عدالت میں موجود تھے نہ ان کے وکیل،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ ایسے فیصلے کو چیلنج نہہں کرے گا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا کیس یہ ہے کہ پرائیوٹ لوگوں کا کیس ملٹری کورٹس میں نہیں چل سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیس اے ٹی سی میں چل سکتا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل اے ٹی سی میں چل سکتا ہے،کمرہ عدالت میں صحافی اور وکلا کی بڑی تعداد موجود،اضافی کرسیاں لگا دی گئیں

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اے ٹی سی جج فیصلہ دے سکتا ہے کہ کیس آرمی ایکٹ کا بن سکتا ہے یا نہیں؟ سویلین کو ملٹری کورٹس میں بنیادی حقوق کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا آئینی حق ہوتا ہے،بنیادی حقوق کا معاملہ سپریم کورٹ لایا جاسکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے 10 منٹ میں دلائل مکمل کریں،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو سیکشن 549 تھری کے تحت اے ٹی سی نے ملٹری حکام کے حوالے کیا آرمی ایکٹ کے تحت سزا کم ہے اور عام قانون میں سزا زیادہ ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوچھ رہے ہیں کہ آپ ادھر آنا چاہتے ہیں یا ادھر جانا چاہتے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ کے ریمارکس پر قہقہے لگ گئے، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو جلد سننا چاہتے ہیں ، کیس کو سننے والا بینچ اب یہی رہے گا، اگر بینچ کا ایک بھی ممبر نہ ہوا تو سماعت نہیں ہوسکے گی، تمام فریقین اپنے دلائل تحریری طور پر دیں،

    لطیف کھوسہ نے سویلنز کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف حکم امتناع جاری کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے،وکلاء سائلین کا دفاع کرتے ہیں،وکلاء کو حراساں کیا جارہا ہے،سپریم کورٹ میں سماعت کل ساڈھے نو بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سن کر دیکھیں گے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے