Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور تمام درخواستگزاران کے وکلا کو کمیٹی روم بلا لیا،

    سپریم کورٹ میں درخواستوں پر دوبارہ ڈیڑھ بجے بینچ بیٹھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج ہی نیا بینچ تشکیل دیں گے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، منصور علی شاہ شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لطیف کھوسہ سنئیر وکیل ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ روسٹرم پر آئیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے، صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے،ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرونگا، سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میں یہاں خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں،حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرونگا، آپ سیاسی بیان باہر جا کر دیں،قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بنچ کی تشکیل سنئیر ممبران کی ایک میٹنگ سے ہونی ہے کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا، اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا،میرے سامنے آیا کہ حلف کی پاسداری کرکے بینچ میں بیٹھوں یا پہر میں نے حالات کو دیکھ کر چیمبر ورک شروع کیا۔ جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا ،اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے ،میرے دوست یقینا مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا،اس چھ ممبر بنچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا،

    سپریم کورٹ کا 9 رکنی بینچ ٹوٹ گیا ، جسٹس قاضی فائز عیسی الگ ہو گئے ،نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا ، سوال یہ ہے پریکٹس بل پارلیمان اور عدالت کا معاملہ جسٹس صاحب نے پرسنل کیسے بنا لیا ؟ پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق فیصلہ کرے میں بینچ سے اٹھ رہا ہوں ‘ مگر سماعت سے انکار نہیں کررہا ،میں اس وقت تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی،میں اس بینچ کو بینچ نہیں تصور کرتا،

    جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں ‘ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کےخلاف درخواستوں پر فیصلہ کرینگے، اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں، یہ اہم کیس ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مخلوق خدا کے حق میں فیصلے کے لئے بیٹھے ہیں وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کہاں جائیں گے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کیس سن لیجیئے، میری استدعا ہے قاضی صاحب سے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں ،یہ نہیں ہو سکتا ایک بار میں اپنے حلف کیخلاف ورزی کر دوں ، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس معاملے میں تمام ججز کیس کو سنیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اس دفعہ بیٹھے رہیں حلف توڑ کے ، مجھے شرمندہ نہ کریں دونوں وکلا میرے لئے قابل قدر ہیں ،اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کے اندر کشمکش ہے ایسی زبان استعمال نہ کریں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت گھر نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے جو آئین کے تحت چلتی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سینئر جج صاحبان نے بنچ پر اعتراض کیا ہے ، گزشتہ دو سماعتوں پر اٹارنی جنرل نے قانون میں بہتری لانے کا وقت لئے ہوا ہے ،تہ دل سے سب کا احترام ہے آئین کے تحت کیا جو بھی فیصلہ کیا ،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سپریم کورٹ کے سابق جج قاضی محمد امین انتقال کرگئے

    سپریم کورٹ کے سابق جج قاضی محمد امین انتقال کرگئے

    راولپنڈی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج قاضی محمد امین دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: چکوال سے تعلق رکھنے والے قاضی محمد امین کی عمر66 برس تھی،جسٹس (ر) قاضی محمد امین کے انتقال کی تصدیق اہل خانہ کی جانب سے کردی گئی ہےنمازجنازہ آج شام راولپنڈی میں ادا کی جائےگی-

    خاندانی ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) قاضی امین گزشتہ کئی دنوں سے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج تھے،جسٹس (ر) قاضی امین کی نماز جنازہ آج شام 6 بجے راولپنڈی میں ادا کی جائےگی۔

    امریکا میں بھارتی وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا

    کلر کہار بس حادثے کے بعد موٹر وے پولیس نےنئی حکمت عملی وضع کر دی

    جسٹس (ر) قاضی محمد امین احمد 26 مارچ 1957 کو چکوال میں پیدا ہوئے تھے، قاضی محمد امین کی اپریل2019 میں بطورجج سپریم کورٹ تعیناتی ہوئی تھی جسٹس قاضی محمد امین احمد کی تقرری کی سفارش سپریم کی جوڈیشل کونسل نے کی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد صدر ڈاکٹرعارف علوی نے تقرری کا حکم نامہ جاری کیا تھا قاضی محمد امین مارچ 2022 کو بطور سپریم کورٹ جج ریٹائر ہوئے تھے،محمد امین لاہور ہائیکورٹ میں 7 نومبر 2014 سے 25 مارچ 2019 تک جج رہے۔

    چترال، کوہستان اپر، اپر دیر اور سوات کے بالائی علاقوں میں گلیشیر پگھلنے کا خدشہ

    سابق وفاقی وزیرغلام سرور خان گرفتار

  • گزشتہ مالی سال میں پی آئی اے کو 88 ارب کا خسارہ

    گزشتہ مالی سال میں پی آئی اے کو 88 ارب کا خسارہ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے ،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر پی آئی اے آڈیٹر کمپنیوں کے نمائندوں کو طلب کرلیا

    سپریم کورٹ میں پی آئی اے کے حوالہ سے درخؤاست پر سماعت ہوئی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ عدالت سے کیبن کریو سمیت 250 ملازمین کی بھرتی کی اجازت طلب کی گئی گزشتہ سماعت پر عدالت نے آپریشنز اور فنانس سے متعلق سوالات پوچھے تھے ، وکیل پی آئی اے نے کہا کہ عدالتی سوالات کے جوابات جمع کروا دئیے ہیں،دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ پی آئی اے کے اس وقت کتنے جہازاورعملہ ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی آئی اے کے پاس 31 جہاز اور341 کریوز ہے کیبن کریو کا ہونا لازمی ہے ،فنانس ہیڈ کا کہنا تھا کہ بہت سے روٹس پر عملہ کی عدم دستیابی کے باعث فلائٹس نہیں چلا سکتے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بات کر رہے ہیں آپ ،جہاز ہی نہیں تو کیسے چلائیں گے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا پی آئی اے منافع کما رہی ہے؟ پی آئی اے حکومت سے کتنی گرانٹس لیتی ہے، نمائندہ پی آئی اے نے عدالت میں کہا کہ مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے گزشتہ مالی سال میں 88 ارب کا خسارہ ہوا ہے اگر سابقہ خسارے کو پی آئی اے سے علیحدہ کردیا جائے تو بہتری ہو سکتی ہے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ 9 ماہ میں پی آئی اے کی کارکردگی بہتر رہی ہے جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے سارے حج آپریشنز آؤٹ سورس کردئیے ہیں،جہاز ہی نہیں تو آپریشنز کیسے چلیں گے

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • عمران خان کے خلاف وکیل کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    عمران خان کے خلاف وکیل کے قتل کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ ، بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی ،

    بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا،انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کوقتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ، ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرزایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ پنجاب انتخابات اور ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ آرٹیکل 188 نظرثانی کی حدود کو محدود نہیں کرتا،آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں نظرثانی کا دائرہ بڑھانا امتیازی سلوک نہیں، سپریم کورٹ میں اپیلیں ہائیکورٹس یا ٹریبونلز کے فیصلوں کیخلاف آتی ہیں، آرٹیکل 184(3) کا مقدمہ براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جاتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے نظرثانی کا دائرہ بڑھایا گیا اس پر سوال اٹھا ہے، بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کے کیسز میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، سوال یہ ہے کیا قانون سازی سے نظرثانی کا دائرہ اتنا بڑھایا جا سکتا ہے؟ نظرثانی کا اتنا دائرہ بڑھانے کی وجوہات بھی سمجھ نہیں آتی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں نظرثانی کیلئے الگ دائرہ کار رکھا گیا ہے، نظرثانی میں اپیل کے حق سے کچھ لوگوں کیساتھ استحصال ہونے کا تاثر درست نہیں، اٹارنی جنرل صاحب آہستہ آہستہ دلائل سے ہمیں سمجھائیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کے حق سے پہلے آئین لوگوں کا استحصال کرتا رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ سے پہلے 184/3 میں نظرثانی کا کوئی طریقہ نہیں تھا، حکومتی قانون سازی سے کسی کیساتھ استحصال نہیں ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون سازی کر سکتی ہے مگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا درست نہیں لگ رہا آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے کیلئے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے،نظرثانی اور اپیل کو ایک جیسا کیسے دیکھا جا سکتاہے؟ عدالت کو حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، اگر نظر ثانی کا دائرہ اختیار بڑھا دیا جائے تو کیا یہ تفریق نہیں ہوگی، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے متعلق متعدد فیصلے موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی معاملے کیلئے پورے آئین کو کیسے نظر انداز کریں؟

    سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،چیف جسٹس
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر 184(3) کا سکوپ بڑھ گیا ہے تو اس پر نظرثانی کا دائرہ کار بھی بڑھنا چاہیے، پہلے فیصلہ دینے والے ججز نظرثانی کے لیے قائم لارجر بینچ کا حصہ بن سکتے ہیں، بینچ کی تشکیل کا معاملہ عدالت پر ہی چھوڑا گیا ہے، تلور کے شکار کے کیس میں نظرثانی 5 رکنی بینچ نے سنی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین رکنی بینچ اگر فیصلہ دے تو کیا 4 رکنی بنچ نظرثانی کر سکے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر سے مراد لارجر ہے جتنے بھی جج ہوں،آئین نظرثانی کے دائرہ اختیار کو محدود نہیں کرتا،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ کیا نظرثانی کے اختیار کو سول قوانین سے مماثلت دی جا سکتی ہے؟ سول قوانین صوبائی دائرہ اختیار میں ہیں اور ریویو ایکٹ میں صوبائی قوانین کا ذکر نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے سب ہی اتفاق کرتے ہیں کہ مقننہ نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھا سکتی ہے،حکومت نے نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل کردیا جس کی ٹھوس وجوہات پیش کرنا لازم ہے، قانون سازی سے قبل محتاط طریقہ کار سے حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے،

    سپریم کورٹ نے ریویوآف ججمنٹ اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تمام درخواستگزاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواست گزار اپنے دلائل تحریری طور پر بھی جمع کرادیں ،درخواست گزار تحریری جوابات میں ریفرنسز بھی شامل کریں تا کہ مدد مل سکے ،ہم آپس میں مشاورت کرکے جلد فیصلہ سنائیں گے

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • آڈیو لیکس کیس،اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

    آڈیو لیکس کیس،اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس میں ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک پر خصوصی کمیٹی میں طلبی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستار کیس نے کیس کی سماعت کی، عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن ،وکیل درخواست گزار سردار لطیف کھوسہ اوراٹارنی جنرل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے. عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ قانونی نکات ہیں ان پرآپ کی معاونت چاہئے ہو گی عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات کیلئے آپ کو بلایا ہے اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیو لیکس کے معاملے پر کمیشن قائم کیا عدالت نے جو سوالات اٹھائے وہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی ہیں سپریم کورٹ نے بھی ان سوالات پر فیصلہ سنانا ہے

    آپ کو عدالتی سوالات کے جوابات دینے میں کتنا وقت چاہئے ہوگا؟ عدالت
    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے 5 سوالات پر ہی معاونت کریں معاملہ بالآخر سپریم کورٹ میں ہی جانا ہے ہوسکتا ہے ہم کوئی فیصلہ دیں تو وہ سپریم کورٹ کیلئے معاونت ہو،سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،حکومت چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کیسے جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے حکومت کو چاہئے تھا چیف جسٹس سے مشاورت کرتی اور وہ ججز نامزد کرتے ،عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا آپ کو عدالتی سوالات کے جوابات دینے میں کتنا وقت چاہئے ہوگا؟ آپ کو 4 ہفتے کا ٹائم دیتے ہیں،عدالت نے اٹارنی جنرل کو 4 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل جواب کی کاپیاں فریقین کو بھی فراہم کریں عدالت نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی خصوصی کمیٹی میں طلبی کے خلاف حکم امتنازع میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 اگست تک ملتو ی کردی

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن پہنچے سپریم کورٹ

    سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن پہنچے سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کردی

    دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں اس سے قبل بھی اسی طرح کی درخواست دائر کی گئی ہے، پشاور ہائیکورٹ میں بھی اسی طرح کی درخواست دائر کی جا چکی ہے

     

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں،اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان اور وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی عدالت میں پیش ہوئے،سماعت شروع ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 10منٹس دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہم مہمان کے طور پربلاتے ہیں ہم تو آپ کا کیس نہیں سن رہے اٹارنی جنرل صاحب پہلے دلائل دے رہے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی آرٹیکل 184/3کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کردیا ؟ ہائیکورٹ کے کئی فیصلوں کیخلاف انٹراکورٹ اپیل، سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا، سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا 5 رکنی لارجر بنچ میں کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دوبارہ کہا کہ مجھے 10منٹ دیں دلائل دینا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب ہائیکورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹراکورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں ،ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے،جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184کی شق 3 کے تحت کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے قانون ساز عہد حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں ریویو آف ججمنٹ کے تحت آرٹیکل 184 کی شق 3کے فیصلے کیخلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا،5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہوگا

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184(3) پر نقطہ نظر دوبارہ ظہور الہٰی کیس والا ہوگیا تو اس سے آج کے قانون پر فرق نہیں پڑتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کے 2002 کیوریٹو ریویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں، فیصلہ میں کہا گیا کہ مکمل انصاف ہی خدائی منشاء ہے،عدالت خود کو آرڈر 26 تک محدود نہ کرے، آرڈر 26 دیوانی اور فوجداری کیسز سے متعلق ہے، سپریم کورٹ رولز 1980 میں بنائے گئے،آرٹیکل 188 نظر ثانی کے دائرہ کو محدود نہیں کرتا،1980 کے رولز آج کا تقاضا کیا ہے اس سے منع نہیں کرتے.اٹارنی جنرل نے بھارتی سپریم کورٹ کا کیوریٹیو نظر ثانی کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا انصاف کا قتل ہو تو ٹھیک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے بھارتی سپریم کورٹ نے خود کو نظرثانی میں محدود نہیں کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کو اپیل قرار نہیں دیا جا سکتا، زیر بحث قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اپیل اور نظرثانی ایک ہی چیز ہیں،نظرثانی کو اپیل کی طرح سمجھنا ہی اصل سوال ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہر اپیل آرٹیکل 185 کے تحت نہیں آتی، کورٹ فیصلوں کیخلاف اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہیں،مسابقتی کمیشن اور الیکشن ایکٹ میں بھی ٹربیونل کیخلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سپریم کورٹ میں اپیل کا حق آئین کے علاوہ مختلف قوانین میں بھی دیا گیا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون میں اپیل کو نظرثانی کا درجہ دیا گیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں نیا قانون کہتا ہے نظرثانی اور اپیل ایک ہی بات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں بھی نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے، اٹارنی آپ کے دلائل آپ کی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ اپیل کے دائرہ اختیار تک نہیں بڑھایا گیا۔اپیل میں مختلف بینچ کیس سنتا ہے۔ نئے قانون کے تحت نظرثانی سننے والے ججز میں اضافہ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل اور نظر ثانی کا دائرہ کار مختلف ہے نظر ثانی میں از سر نو سماعت تو نہیں ہو سکتی۔ آپ آرٹیکل 184/3 میں متاثرین کو داد رسی کا آپشن دینا چاہتے ہیں ہم داد رسی کے اس آپشن کو ویلکم کرتے ہیں۔ بہر حال آپ کو یہ حق احتیاط سے دینا ہوگا۔کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،خصوصی بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پانچ نکات پر دلائل دونگا،مفاد عامہ کے دائرہ کار کے ارتقاء پر دلائل دونگا،پاکستان میں نظر ثانی کے دائرہ کار پر عدالت کی معاونت کرونگا،مقننہ کے قانون سازی کے اختیارات پر معاونت کرونگا، بھارتی سپریم کورٹ میں نظر ثانی کے دائرہ اختیار اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دونگا،آرٹیکل 184 تین کے تحت پہلہ فیصلہ منظور الہیٰ کیس میں آیا ،منظور الہیٰ کے بھائیوں نے سندھ اور بلوچستان میں بھی درخواستیں دائر کیں،گرفتاری کے بعد منظور الہی کو قبائلی علاقہ میں لے جایا گیا،درخواستوں میں منظور الہیٰ نے اپنی بازیابی کی استدعا کی،1973 کے آئین میں بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ بڑھایا گیا، سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کا پہلا مقدمہ چوہدری منظور الہی کا آیا۔اپوزیشن لیڈر ظہور الہی کی گرفتاری پر سپریم کورٹ مین درخواست دائر ہوئی۔ اس کیس کے بینچ کے تمام ججز نے آرٹیکل 184/3کے اختیار پر محتاط رویہ اختیار کیا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منظور الہی کیس میں تمام ججز نے کہا کہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے۔آپ فیصلہ کا پیراگرام 47 پڑھیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا انحصار فیصلہ کے پیراگراف 45 پر ہے۔منظور الہی کیس کے بعد آرٹیکل 184/3 کا اختیار آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ 1980 میں سپریم کورٹ رولز بنے۔ 1980 میں رولز کا پس منظر اور زمینی حالات کیا تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جانتے ہیں کہ آرٹیکل 184/3 کا اختیار میں وقت کیساتھ توسیع ہوئی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا تعلق بھی آرٹیکل 184/3 سے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے دائرہ بڑھانے کے معاملہ پر دوسری سائیڈ بھی متفق ہے۔ اپیل اور نظر ثانی میں فرق ہے۔کیا نظر ثانی کا اپیل میں تبدیل کیا جا سکتا؟ دوسری سائیڈ کا موقف ہے یہ کام آئینی ترمیم سے ہوگا۔دوسری سائیڈ کا اختلاف قانون سازی کے طریقہ کار سے ہے۔ عدالت بھی نظر ثانی کے دائرہ میں توسیع کے نقطہ کو تسلیم کرتی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آئینی کی اسکیم کو عمومی قانون سازی سے بدلا جا سکتا یے؟

    دوران سماعت کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز آئی جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوے کہا کہ چڑیا شاید آپ کیلئے پیغام لائی ہیں، اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ امید ہے پیغام اچھا ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ زمانہ بھی تھا جب کبوتروں کے زریعے پیغام جاتے تھے،

    سپریم کورٹ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ،آرٹیکل 184(3) سے متعلق ایک فیصلہ منظور الہی کیس میں آیا، اس کیس میں درخواست گزار تھے، انہیں گرفتار کر کے قبائلی علاقے لے جایا گیا،ملتا جلتا معاملہ ہائیکورٹس میں زیرالتوا ہونے پر چیف جسٹس نے 184(3) کی درخواست پر اختتار کے استعمال سے گریز کیا،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام ججز نے کہا تھا یہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے، آپ فیصلہ کا پیرا گراف 47 بھی پڑھیں،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • ملک میں مشکل حالات، ہر ایک کو ہمت، برداشت، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،چیف جسٹس

    ملک میں مشکل حالات، ہر ایک کو ہمت، برداشت، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی کی جانب سے دوران سماعت موجودہ حالات کی شکایت کی گئی

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے عدالت میں کہا کہ اس کیس کی وجہ سے مجھ پر مشکل وقت آیا ہے، مجھے کہا گیا یا مقدمات واپس لو یا اسلام آباد چھوڑ دو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپکے ذاتی ایشوز ہیں، ایڈووکیٹ ریاض حنیف راہی نے کہا کہ میں تمام حالات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، عدالت کو تحریری طور پر بھی آگاہ کر رہا ہوں،عدالت کے سامنے دی گئی اپنی درخواست کو پڑھنا چاہتا ہوں، "چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو ضرورت محسوس ہوئی تو مجھ سے چیمبر میں مل لیں،ہمارا ملک اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ہر ایک کو ہمت، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،موجودہ صورتحال کا سامنا کرنے کی کوشش کریں، موجودہ صورتحال کو ڈیل کرکے اس سے نکلنا ہے، آپ کی شکایت کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی دے دیتے ہیں",

    واضح رہے کہ آڈیولیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی لاپتہ ہوگئے تھے، عدالت میں انکے لئے درخواست بھی دائر کی گئی تھی تا ہم چھ دن بعد وہ دوبارہ عدالت پہنچ گئے،سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں وکیل کی گمشدگی پر اظہار تشویش کیا گیا تھا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ریاض حنیف راہی کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ، ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ بار کے رکن ہیں سپریم کورٹ بار کے ایک رکن کے لاپتہ ہونے پر ایسوسی ایشن آنکھیں بند نہیں کرسکتی وکلاء کے تحفظ اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہیں، یہ ایسوسی ایشن مزید زور دے کر کہتی ہے کہ ملک کا ہر شہری قانون کے یکساں تحفظ کا حقدار ہے، سب کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے پیشے کو بغیر کسی خوف، احسان اور ایذاء کے انجام دیں،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    چھ جون کو ریاض حنیب راہی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے،دوران سماعت درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،