Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں،اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان اور وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی عدالت میں پیش ہوئے،سماعت شروع ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 10منٹس دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہم مہمان کے طور پربلاتے ہیں ہم تو آپ کا کیس نہیں سن رہے اٹارنی جنرل صاحب پہلے دلائل دے رہے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی آرٹیکل 184/3کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کردیا ؟ ہائیکورٹ کے کئی فیصلوں کیخلاف انٹراکورٹ اپیل، سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا، سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا 5 رکنی لارجر بنچ میں کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دوبارہ کہا کہ مجھے 10منٹ دیں دلائل دینا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب ہائیکورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹراکورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں ،ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے،جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184کی شق 3 کے تحت کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے قانون ساز عہد حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں ریویو آف ججمنٹ کے تحت آرٹیکل 184 کی شق 3کے فیصلے کیخلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا،5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہوگا

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184(3) پر نقطہ نظر دوبارہ ظہور الہٰی کیس والا ہوگیا تو اس سے آج کے قانون پر فرق نہیں پڑتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کے 2002 کیوریٹو ریویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں، فیصلہ میں کہا گیا کہ مکمل انصاف ہی خدائی منشاء ہے،عدالت خود کو آرڈر 26 تک محدود نہ کرے، آرڈر 26 دیوانی اور فوجداری کیسز سے متعلق ہے، سپریم کورٹ رولز 1980 میں بنائے گئے،آرٹیکل 188 نظر ثانی کے دائرہ کو محدود نہیں کرتا،1980 کے رولز آج کا تقاضا کیا ہے اس سے منع نہیں کرتے.اٹارنی جنرل نے بھارتی سپریم کورٹ کا کیوریٹیو نظر ثانی کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا انصاف کا قتل ہو تو ٹھیک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے بھارتی سپریم کورٹ نے خود کو نظرثانی میں محدود نہیں کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کو اپیل قرار نہیں دیا جا سکتا، زیر بحث قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اپیل اور نظرثانی ایک ہی چیز ہیں،نظرثانی کو اپیل کی طرح سمجھنا ہی اصل سوال ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہر اپیل آرٹیکل 185 کے تحت نہیں آتی، کورٹ فیصلوں کیخلاف اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہیں،مسابقتی کمیشن اور الیکشن ایکٹ میں بھی ٹربیونل کیخلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سپریم کورٹ میں اپیل کا حق آئین کے علاوہ مختلف قوانین میں بھی دیا گیا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون میں اپیل کو نظرثانی کا درجہ دیا گیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں نیا قانون کہتا ہے نظرثانی اور اپیل ایک ہی بات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں بھی نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے، اٹارنی آپ کے دلائل آپ کی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ اپیل کے دائرہ اختیار تک نہیں بڑھایا گیا۔اپیل میں مختلف بینچ کیس سنتا ہے۔ نئے قانون کے تحت نظرثانی سننے والے ججز میں اضافہ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل اور نظر ثانی کا دائرہ کار مختلف ہے نظر ثانی میں از سر نو سماعت تو نہیں ہو سکتی۔ آپ آرٹیکل 184/3 میں متاثرین کو داد رسی کا آپشن دینا چاہتے ہیں ہم داد رسی کے اس آپشن کو ویلکم کرتے ہیں۔ بہر حال آپ کو یہ حق احتیاط سے دینا ہوگا۔کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،خصوصی بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پانچ نکات پر دلائل دونگا،مفاد عامہ کے دائرہ کار کے ارتقاء پر دلائل دونگا،پاکستان میں نظر ثانی کے دائرہ کار پر عدالت کی معاونت کرونگا،مقننہ کے قانون سازی کے اختیارات پر معاونت کرونگا، بھارتی سپریم کورٹ میں نظر ثانی کے دائرہ اختیار اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دونگا،آرٹیکل 184 تین کے تحت پہلہ فیصلہ منظور الہیٰ کیس میں آیا ،منظور الہیٰ کے بھائیوں نے سندھ اور بلوچستان میں بھی درخواستیں دائر کیں،گرفتاری کے بعد منظور الہی کو قبائلی علاقہ میں لے جایا گیا،درخواستوں میں منظور الہیٰ نے اپنی بازیابی کی استدعا کی،1973 کے آئین میں بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ بڑھایا گیا، سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کا پہلا مقدمہ چوہدری منظور الہی کا آیا۔اپوزیشن لیڈر ظہور الہی کی گرفتاری پر سپریم کورٹ مین درخواست دائر ہوئی۔ اس کیس کے بینچ کے تمام ججز نے آرٹیکل 184/3کے اختیار پر محتاط رویہ اختیار کیا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منظور الہی کیس میں تمام ججز نے کہا کہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے۔آپ فیصلہ کا پیراگرام 47 پڑھیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا انحصار فیصلہ کے پیراگراف 45 پر ہے۔منظور الہی کیس کے بعد آرٹیکل 184/3 کا اختیار آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ 1980 میں سپریم کورٹ رولز بنے۔ 1980 میں رولز کا پس منظر اور زمینی حالات کیا تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جانتے ہیں کہ آرٹیکل 184/3 کا اختیار میں وقت کیساتھ توسیع ہوئی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا تعلق بھی آرٹیکل 184/3 سے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے دائرہ بڑھانے کے معاملہ پر دوسری سائیڈ بھی متفق ہے۔ اپیل اور نظر ثانی میں فرق ہے۔کیا نظر ثانی کا اپیل میں تبدیل کیا جا سکتا؟ دوسری سائیڈ کا موقف ہے یہ کام آئینی ترمیم سے ہوگا۔دوسری سائیڈ کا اختلاف قانون سازی کے طریقہ کار سے ہے۔ عدالت بھی نظر ثانی کے دائرہ میں توسیع کے نقطہ کو تسلیم کرتی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آئینی کی اسکیم کو عمومی قانون سازی سے بدلا جا سکتا یے؟

    دوران سماعت کمرہ عدالت میں چڑیوں کی چہچہانے کی آواز آئی جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوے کہا کہ چڑیا شاید آپ کیلئے پیغام لائی ہیں، اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ امید ہے پیغام اچھا ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ زمانہ بھی تھا جب کبوتروں کے زریعے پیغام جاتے تھے،

    سپریم کورٹ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ،آرٹیکل 184(3) سے متعلق ایک فیصلہ منظور الہی کیس میں آیا، اس کیس میں درخواست گزار تھے، انہیں گرفتار کر کے قبائلی علاقے لے جایا گیا،ملتا جلتا معاملہ ہائیکورٹس میں زیرالتوا ہونے پر چیف جسٹس نے 184(3) کی درخواست پر اختتار کے استعمال سے گریز کیا،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام ججز نے کہا تھا یہ معاملہ عوامی مفاد کا ہے، آپ فیصلہ کا پیرا گراف 47 بھی پڑھیں،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • ملک میں مشکل حالات، ہر ایک کو ہمت، برداشت، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،چیف جسٹس

    ملک میں مشکل حالات، ہر ایک کو ہمت، برداشت، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی کی جانب سے دوران سماعت موجودہ حالات کی شکایت کی گئی

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے عدالت میں کہا کہ اس کیس کی وجہ سے مجھ پر مشکل وقت آیا ہے، مجھے کہا گیا یا مقدمات واپس لو یا اسلام آباد چھوڑ دو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپکے ذاتی ایشوز ہیں، ایڈووکیٹ ریاض حنیف راہی نے کہا کہ میں تمام حالات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، عدالت کو تحریری طور پر بھی آگاہ کر رہا ہوں،عدالت کے سامنے دی گئی اپنی درخواست کو پڑھنا چاہتا ہوں، "چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو ضرورت محسوس ہوئی تو مجھ سے چیمبر میں مل لیں،ہمارا ملک اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ہر ایک کو ہمت، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے،موجودہ صورتحال کا سامنا کرنے کی کوشش کریں، موجودہ صورتحال کو ڈیل کرکے اس سے نکلنا ہے، آپ کی شکایت کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی دے دیتے ہیں",

    واضح رہے کہ آڈیولیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی لاپتہ ہوگئے تھے، عدالت میں انکے لئے درخواست بھی دائر کی گئی تھی تا ہم چھ دن بعد وہ دوبارہ عدالت پہنچ گئے،سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں وکیل کی گمشدگی پر اظہار تشویش کیا گیا تھا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ریاض حنیف راہی کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ، ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ بار کے رکن ہیں سپریم کورٹ بار کے ایک رکن کے لاپتہ ہونے پر ایسوسی ایشن آنکھیں بند نہیں کرسکتی وکلاء کے تحفظ اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہیں، یہ ایسوسی ایشن مزید زور دے کر کہتی ہے کہ ملک کا ہر شہری قانون کے یکساں تحفظ کا حقدار ہے، سب کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے پیشے کو بغیر کسی خوف، احسان اور ایذاء کے انجام دیں،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    چھ جون کو ریاض حنیب راہی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے،دوران سماعت درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

  • اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے،
    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے دلائل شروع کئے، وکیل علی ظفر نے 1962 کے عدالتی ایکٹ کا حوالہ دیا،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہہت اچھا فیصلہ ہے یہ ریویو سے متعلق تھا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو اپنا پرانا فیصلہ ری اوپن کرنے میں بہت ہچکچاہٹ اور احتیاط برتنی چاہیے ،فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حتمی ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں وزڈم ہے وہ قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں، آپ کی جانب سے اب تک تین پوائنٹ اٹھائے گئے ہیں، علی ظفرنے کہا کہ مقدمات کے حتمی ہونے کا تصور بڑا واضح ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے، ہمارا قانون کہتا ہے کہ اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے ، علی ظفر نے کہا کہ فیصلہ قانون اور حقائق کے برخلاف ہوگا تو ہی درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت دانشمندی ہے جو قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں،عدالت دیکھ رہی ہے کہ کیا پارلیمنٹ قانون کے ذریعے نظر ثانی کو بڑھا سکتی ہے، آپ کی دلیل ہے کہ نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، دوبارہ سماعت کا تصور اپیل کا ہے، علی ظفرنے کہا کہ آرٹیکل 184/3 حتمی احکامات کے لیے بنایا گیا ہے،جب 184/3 کی شرائط پوری ہو رہی ہوں تو عدالت حکم جاری کرتی ہے، اگر کسی کو آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دیا جائے تو یہ ازخود نوٹس کے اختیارات کم کرنے کے مترادف ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ نظرثانی قانون کو وسیع کرسکتی ہے،آئین میں نظرثانی کے دائرہ اختیارکوبالکل واضح لکھا گیا ہے،وکیل نے کہا کہ میرا کیس ہی یہی ہے کہ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ خلاف آئین ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری ریویو میں صرف نقص دور کیا جاتا ہے جبکہ سول میں اسکوپ بڑا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کے آئینی تقاضے ہیں مگر اسے اپیل میں نہیں بدلا جاسکتا،اگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا ہے تو آئینی ترمیم درکار ہوگی،نظرثانی کیس میں صرف نقائص کاجائزہ لیا جاتا ہے نئے شواہد بھی پیش نہیں ہوسکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کی نظر ثانی تک اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون الیکشن کمیشن کی نظر ثانی پر اپلائی نہیں ہوتا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قانون پچھلے فیصلوں پر اپلائی ہو اور مستقبل کے کیسز پر بھی لیکن پنجاب الیکشن کیس پر نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین دائرہ اختیار میں کمی کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ آئینی ترمیم کے زریعے ہونا چاہیے ،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کے ذریعے ریویو کا حق دیا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آئین اختیارات میں کمی کی اجازت تو دے رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے لیے عدالتی فیصلوں میں غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہوتی ہے ، کیا آئین سازوں کو نظر ثانی اور اپیل کا فرق معلوم تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارلیمان سب کچھ کر سکتی ہے لیکن آئینی ترمیم کے ذریعے، قانون سازی کے ذریعے نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی میں سماعت کا حق اور غلط قانون قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اپیل نہیں بنایا جا سکتا ،

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس ،علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو کل سنیں گے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،ارشد شریف کی قتل ازخود نوٹس کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے دو رپورٹس کا حوالہ دیا، خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے عبوری تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ،دوسری رپورٹ میں وزارت خارجہ کی طرف سے اب تک اقدامات کے بارے میں بتایا گیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں حکومت پاکستان کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں پر بات چیت کے عمل میں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگے گا،ارشد شریف کی دوسری اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو اقوام متحدہ کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کی ان کمیٹیوں کا حوالہ دیا جو دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات میں شامل ہیں، ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے دو متفرق دائر درخواستوں کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بعض افراد کے نام بتائے ہیں جن کو ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث سازشیوں اور مجرموں کے بارے میں علم ہے،

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ارشد شریف کی والدہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کو مذکورہ افراد کی جانچ کرنے کی ہدایت دی جائے،متفرق درخواستوں پر غور کرنے کے بعد والدہ کے وکیل کی استدعا قابل قبول نہیں ہے،سوموٹو میں عدالت ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں محض سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کیس پر مذید سماعت جولائی 2023 میں دوبارہ کی جائے گی،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

    واضح رہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل،حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل،حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف آئینی درخواستیں ،سپریم کورٹ نے 8 جون کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف جاری حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع کر دی،حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی اصلاحات قانون میں درستگی کیلئے مہلت کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے نظرثانی کے نئے قانون میں بھی درستگی کیلئے مزید مہلت مانگی،اٹارنی جنرل کے مطابق قوانین میں غلطیوں کی درستگی کیلئے ڈرافٹ شروع ہوچکا،اٹارنی جنرل کے مطابق پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کی وجہ سے قانون سازی کیلئے وقت درکا ہے ، اٹارنی جنرل کے مطابق عید کی وجہ سے بھی قانون سازی کیلئے وقت درکار ہے ، 8 رکنی بینچ میں شامل جسٹس شاہد وحید کی علالت کے باعث کھلی عدالت میں سماعت نہ ہوسکی ،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،سینئیر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بنچ میں شامل تھے،سپیشل جے آئی ٹی نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کر دی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا میں موجود ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،
    ملزمان کے ریڈ وارنٹس کیلئے انٹرپول سے رجوع کیا گیا ہے، کینیا کی حکومت نے معاہدے کا ہی کہا ہے،اس معاہدے کے بغیر کوئی چوائس نہیں ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تحقیاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا۔جو جرم ہوا وہ بہت سنگین تھا۔ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کسی بھی قسم میں کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ایم ایل اے کا معاہدہ ہونا ضروری ہے،فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کا سیکشن 3 کینیا کی حکومت سے تعاون سے منع نہیں کرتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی،ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے,چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جویریہ صدیق کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے ؟سعد بٹر وکیل جویریہ صدیق نے کہا کہ اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے ، جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں،اسطرح کے قتل کیسسز میں بین الاقوامی اداروں کو لکھا جا سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت خود اس سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی،وکیل سعد بٹرنے کہا کہ اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے،صحافیوں سے گزارش ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھیں اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا زکر موجود ہے،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

  • سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹ ایکٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹ ایکٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات اور ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے
    ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آ گٸے ،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ میری درخواست بھی سن لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پہلے نظر ثانی قانون پر دلاٸل سنے گی، اگر قانون کیخلاف کیس مضبوط نہ ہوا توآئندہ لاٸحہ عمل طے کریں گے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت تین رکنی بینچ نظر ثانی درخواست نہیں سن سکتا،

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ پر حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس سنے بغیر مفروضات کی بنیاد پر کیسے حکم امتناع دے دیں، وکیل الیکشن کمیشن نےاستدعا کی کہ پنجاب الیکشن کا معاملہ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز کیس کا فیصلہ ہونے تک زیر التواء رکھا جائے،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ،قانون پر عملدرآمد روکنے کی استدعا درخواست گزار زمان وردگ کی جانب سے کی گئی تھی درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ نظرثانی قانون لارجر بنچ کے سامنے مقرر کیا جائے،عدالتی اصلاحات بل اور نظرثانی ایکٹ ایک جیسے قوانین ہیں،عدالتی اصلاحات بل پر آٹھ رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے مناسب ہوگا یہ مقدمہ بھی اسی لارجر بنچ کو بھجوا دیا جائے۔ دوسرے درخواست گزار زمان وردگ نے بھی استدعا کی حمایت کر دی ،کہا کہ لارجر بنچ کی سماعت تک عدالت قانون پر عملدرآمد معطل کر دے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کے بعد ایک قانون پر عملدرآمد نہیں روک سکتے،درخواست گزار زمان وردگ نے کہا کہ دونوں قوانین یکساں ہیں دلائل کی نوعیت بھی ایک جیسی ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر قانون پر عملدرآمد روکنا ممکن نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کی نظرثانی قانون کیخلاف کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور کر لی ،تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ نظرثانی ایکٹ آئین کے خلاف ہے،سپریم کورٹ آرٹیکل 188 کے تحت اپنے احکامات پر نظرثانی کر سکتی ہے، نظرثانی کا دائرہ کار آئینی ترمیم کے بغیر بڑھایا نہیں جا سکتا، آئین سازوں نے نظرثانی کے دائرہ کار کو سوچ سمجھ کر محدود رکھا۔ نظرثانی کا اختیار اپیل سے مختلف ہے نظر ثانی کا مطلب معاملہ پر دوبارہ سماعت کرنا نہیں۔ فل کورٹ نے1980 میں رولز مرتب کیے بڑے نام والے ججز نے رولز بنائے۔ سن ججز کے قانونی ویژن پر کوئی شک نہیں کر سکتا۔رولز کےآرڈر26 میں واضح لکھا ہے کہ نظر ثانی کا دائرہ کتنا ہوگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 188 اور191 میں قانون کا بھی ذکر ہے۔آئین سازوں نے 188 اور 191 کو قانون سے بھی مشروط کیا ہے۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حتمی ہونے کا ایک تصور موجود ہے،
    نظرثانی میں شواہد دوبارہ نہیں دیکھے جاتے،نظرثانی کا دائرہ اختیار اپیل جیسا نہیں ہوسکتا،نظرثانی صرف اس لیے ہوتی ہےکہ سابقہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہو،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 188 ایکٹ آف پارلیمنٹ کی بھی بات کرتا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں،آئین سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل کا نہیں کہتا،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اپیل در اپیل کا حق ملتا گیا تو سپریم کورٹ کے فیصلے حتمی نہیں ہونگے، ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کے اندر سپریم کورٹ بن جائے گی،اپیل کے بعد سپر اپیل جیسا ہی ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسی مثال دیں کہ قانون سازی سے عدالت کا دائرہ اختیار کیسے بڑھایا جاسکتا ہے، مجھے ایسی باقاعدہ مثال نہیں ملی،وکیل نے کہا کہ دائرہ اختیار بڑھانے سے مراد ہرگز یہ نہیں ہوسکتی کہ نظر ثانی کو کسی اور چیز میں بدل دیا جائے، پنجاب الیکشن اور ریویو اینڈ ججمنٹ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

  • سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کرونا اب عالمی سطح پر وباء نہیں رہی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وباء ختم ہوگئی ہے تو ازخود نوٹس بھی نمٹا دینا چاہیے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرونا سے جو سبق حاصل ہوئے انہیں مستقبل کیلئے استعمال کیا جائے، کرونا کے حوالے سے تو قانون سازی بھی ہوچکی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کی دی گئی تمام ہدایات پر عمل ہوچکا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت مٰں کہا کہ عملدرآمد رپورٹس جمع کروا چکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سماعت کی

    واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا کرونا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آیا تھا، پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے تھے ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافز کر دی گئی تھی،شہروں میں لاک ڈاؤن لگا دیا تھا، کرونا کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کا بھی کاروبار کی بندش کی وجہ سے برا حال ہوا،

    کرونا کے ایام میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، ایک کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے تحریری حکم میں کہا تھا کہ منافع خوروں نے کورونا کے مریضوں کی ادویات ذخیرہ کرلی ہیں،ادویات کو مہنگے داموں فروخت کیا جاریا ہے،کورونا مریضوں کے لیے گیس سلنڈر بھی مہنگے فروخت کیے جارہے ہیں،غیرقانونی اقدام کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،سپریم کورٹ نے کورونا سے بچاوَ کے حفاظتی سامان مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ،ادویات، آکسیجن سلنڈراوردیگرآلات مہنگے فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی،عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق تمام طبی آلات، ادویات مناسب قیمت پریقینی بنانے کی ہدایت کی،عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق طبی آلات، ادویات کی ترسیل بھی یقینی بنانے کا حکم دیا

    دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

    کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

    کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

    کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

    سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

  • حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاذ کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی ،عدالت نے غیرمنقولہ پراپرٹی پر عائد 100 فیصد ٹیکس دینے پر حکم امتناع جاری کردیا اور فریقین کو غیرمنقولہ جائیدادوں پر50 فیصد ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے کا اطلاق منقولہ جائیداد پر نہیں ہو گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کواس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں تعاون کریں حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں اس نئے ٹیکس سسٹم کی خامیوں کو دیکھنا ہوگا مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے کریٹوٹیکسیشن کرنا ہوگی،عدالت نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ آئین وقانون کے مطابق کرے۔ سپریم کورٹ نے 100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مسترد کردی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا