Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے قائم انکوائری کمیشن کا معاملہ.انکوائری کمیشن کے لیے کیمرے، کمپیوٹر، پرنٹر و دیگر سامان واپس بھجوا دیا گیا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے انکوائری کمیشن کی کاروائی روک دی تھی. انکوائری کمیشن نے جدید آلات کے ذریعے کاروائی کو آگے بڑھانا تھا. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کاروائی ملتوی کردی ہے.

    مبینہ آڈیوز انکوائری کمیشن کے دوسرے اجلاس کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا محکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے پانچ ججز کا 26 مئی کا جاری کردہ آرڈر پڑھ کر سنایا، اٹارنی جنرل نے کہا درخواست گزاروں نے انکوائری کمیشن کے خلاف مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا انکوائری کمیشن کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے فریق بنایا گیا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صدر سپریم کورٹ بار اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار نے کمیشن کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنا رکھا ہے، اس تناظر میں انکوائری کمیشن کا اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے،

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن ،جسٹس قاضی فائز عیسی اور کمیشن کے ارکان سپریم کورٹ پہنچ گئے. اٹارنی جنرل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ،آج آڈیو لیکس کمیشن نے گواہان کو طلب کر رکھا تھا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کل کمیشن کو کاروائی سے روک دیا تھا سپریم کورٹ نے کل کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا تھا.

    مبینہ آڈیو لیکس کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا دوسرا اجلاس شروع ہو گیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن کاروائی کر رہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز عامر فاروق اور نعیم افغان کمیشن کا حصہ ہیں ،اٹارنی جنرل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں تھا تو کام سے کیسے روک دیا،سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سن کر اس کے بعد کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے،جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں کل کمرہ عدالت میں تھے نوٹس تھا یا ویسے بیٹھے تھے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ مجھے زبانی بتایا گیا تھا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں،سماعت کے بعد مجھے نوٹس جاری کیا گیا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایک جج کے خلاف الزام پر سیدھا ریفرنس جائے تو وہ پوری زندگی بھگتتا رہے گا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عبدالقیوم صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے انہیں کمیشن کی کارروائی پرکوئی اعتراض نہ ہو ان کے دوسرے فریق نے ہمیں درخواست بھیجی انکے دوسرے فریق نے کہا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے لاہور ہیں، کہا جب لاہورآئیں توان کا بیان بھی لے لیں،عابد زبیری اور شعیب شاہین نے آج آنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا انہیں آ کر بتانا نہیں تھا کہ کل کیا آرڈ ہوا ،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو جج کا حلف پڑھنےکی ہدایت کی ، انہوں نے حلف پڑھا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حلف میں لکھا ہے فرائض آئین و قانون کے تحت ادا کروں گا یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنا ہے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت یہ کمیشن بنایا گیا ہم صرف اللہ کے غلام ہیں اور کسی کے نہیں شعیب شاہین روزانہ ٹی وی پربیٹھ کر وکلا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہیں ہمیں قانون سکھانے آگئے ہیں رولز کے مطابق وکیل اپنے مقدمے سے متعلق میڈیا پر بات نہیں کر سکتا کوئی بات نہیں سکھائیں ہم تو روزانہ قانون سیکھتے ہیں ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سانحہ کوئٹہ کا ذکرکرتے ہوئے جذباتی ہوگئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طرح کی دردناک تحقیقات کرنی پڑتی ہیں اب ہمیں ٹاک شوز میں کہا جائے گا ہم آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں حلف کے تحت اس کمیشن کی اجازت نہ ہوتی تو معذرت کر کے چلا گیا ہوتا ٹی وی پر ہمیں قانون سکھانے بیٹھ جاتے ہیں یہاں آکر بتاتے نہیں کہ اسٹے ہوگیا ہے ایک طرف پرائیویسی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنی آڈیوز پر ٹاک شو میں بیٹھے ہیں ہم ججز ٹاک شو میں جواب تو نہیں دے سکتے بطور وکیل ہم بھی اس لیے آرڈر لیتے تھے کہ اگلے روز جا کر متعلقہ عدالت کو آگاہ کرتے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ یہ ٹویٹر کیا ہے؟ پتہ تو چلے کہ کون آڈیو جاری کررہا ہے، اصلی ہیں بھی یا نہیں ہوسکتا ہے جن لوگوں کی آڈیوزہیں انہوں نے خود جاری کی ہوں ہوسکتا ہے عبدالقیوم صدیقی نے اپنی آڈیو جاری کی ہو تحقیقات ہونگی تو یہ سب پتا چل سکے گا جج کو پیسے دینے کی بات ہورہی ہے مگر تحقیقات پر اسٹے آجاتا ہے ججز کے بارے میں آڈیوز آئیں تحقیقات تو ہونی چاہیں پرائیویسی کی آڑ میں کیا کسی الزام کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے مجھے کوئی مرضی کے فیصلے کے لیے رقم آفر کرے تو کیا یہ گفتگو بھی پرائیویسی میں آئے گی؟ کیا راستے پر کوئی حادثہ ہوجائے تو اس کی ویڈیو جاری کرنا پرائیویسی کے خلاف ہوگا؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر ایک سافٹ ویئر ہے، ہیکر کا مجھے علم نہیں شاید میڈیا والوں میں سے کوئی جانتا ہو

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حیران ہوں آپ نے کل ان نکات کو رد نہیں کیا، شعیب شاہین نے میڈیا پر تقریریں کر دیں، یہاں آنے کی زحمت نہ کی پرائیویسی ہمیشہ گھر کی ہوتی ہے کسی کے گھر میں جھانکا نہیں جاسکتا باہر سڑکوں پر جو سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں کیا یہ بھی پرائیویسی کے خلاف ہیں؟ آپ نے کل عدالت کو بتایا کیوں نہیں ان کے اعتراضات والے نکات کی ہم پہلے ہی وضاحت کرچکے ابھی وہ اسٹیج ہی نہیں آئی تھی نہ ہم وہ کچھ کر رہے تھے کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں کیا گیا تھا توکام سے کیسے روک دیا، ہم کمیشن کی مزید کارروائی نہیں کر رہے ہم آج کی کارروائی کا حکم نامہ جاری کریں گے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں زندگی میں بعض ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے، ہمیں پٹیشنرز بتا رہے ہیں کہ حکم امتناع ہے آپ سن نہیں سکتے، وکلا کوڈ آف کنڈکٹ کو کھڑکی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا ہے، ہم بعض کام خوشی سے ادا نہیں کرتے لیکن حلف کے تحت ان ٹاسکس کو ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں، ہمیں اس اضافی کام کا کچھ نہیں ملتا، ہمیں کیا پڑی تھی سب کرنےکی

    آڈیو لیکس کمیشن کی کارروائی روک دی گئی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، آج کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے،

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • آڈیو لیکس کمیشن نے زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری کردیے

    آڈیو لیکس کمیشن نے زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری کردیے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی آڈیو کمیشن کی تحقیقات میں نیا موڑ سامنے آیا ہے

    آڈیو لیکس کمیشن نے زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری کردیے ،پیمرا کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے مبینہ آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ تیار کرکے ٹرانسکرپٹ کی تصدیق بھی کردی ،سپریم کورٹ کے جج اور چودھری پرویز الٰہی کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،عمران خان اور مسرت چیمہ کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی خوشدامن اور وکیل کی اہلیہ کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،چودھری پرویز الٰہی اور ارشد جوجا ایڈووکیٹ کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور وکیل طارق رحیم کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،چودھری پرویز الٰہی اور صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،فواد چودھری اور ان کے بھائی فیصل چودھری کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور پی ٹی آئی رہنما کے درمیان مبینہ آڈیو کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا گیا،

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

  • سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت نے پانچ رکنی لارجر بنچ پر اعتراض اٹھا دیا ،حکومت کی جانب سے اعتراض اٹارنی جنرل نے کیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا چیف جسٹس کا استحقاق ہے، مناسب یہی ہے کہ چیف جسٹس اس مقدمے کو نہ سنیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراض کا آپ کو پورا موقع دیا جائے گا، 9 مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند ہو گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں،عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی،
    حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بینچ میں نہیں بٹھا سکتیاگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے،9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی،حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے ،آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں نامزدگی کیلئے مشاورت بھی نہیں کی گئی عدلیہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر کوشش نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟ حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل کیس میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کیخلاف ہے، عدلیہ اصلاحات قانون خود کہتا ہے 184/3 کے مقدمات پانچ رکنی بنچ سنے گا، اگر لارجر بنچ نے اپیل سننی ہو تو ججز کئی دستیاب نہیں ہونگے،ہمارے انتظامی امور میں مداخلت کرینگے تو کیسے ریلیف ملے گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل پر اعتراض دور کر دینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراض دور کریں کس نے روکا ہے؟ اعتراضات دور ہوگئے تو شاید ریلیف بھی مل جائے، آٹھ رکنی بنچ بنانے کی یہی وجہ ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے پانچ ججز کے بینچ بنانے کا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہہ دیا،ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے، حکومت بتائے اس نے سپریم کورٹ کے بارے میں قانون سازی کرتے وقت کس سے مشورہ کیا، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا،ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، یہ سب انا کی باتیں نہیں آئین کی باتیں ہیں،آئین اختیارات کی تقسیم کی بات کرتا ہے،

    دوران سماعت 9 مئی کے واقعات کا بھی تذکرہ ہوا،. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں آپکا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں،اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے، 9 مئی کے واقعات کا فائدہ عدلیہ کو ہوا،عدلیہ کو فائدہ ایسے ہوا کہ ہمارے خلاف ہونے والی بیان بازی رک گئی، بدقسمتی سے عدلیہ کیخلاف بیان بازی رکنے کیلئے اتنے بڑے سانحہ کی ضرورت پڑی،ہر آئینی و قانونی ادارے کا تحفظ اور احترام ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اگر جھگڑا کرنا ہے تو تیاری کرکے آئیں،سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات میں مداخلت بند کی جائے،عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ، ہم انا کی بات نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں ،

    صدر سپریم کورٹ بار کے وکیل شعیب شاہین نے درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آڈیو لیک کمیشن کی تشکیل میں مشاورت کا حصہ نہیں تھا۔ معاملہ آپ سے متعلقہ تھا اس لئے سینئر جج کو کمیشن کا سربراہ بنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 2017 کے قانون کے مطابق چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں ،کمیشن کی تشکیل کا 2017 کا قانون کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو آئینی روایات کی پاسداری کرنی چاہیے کمیشن کی تشکیل کیلئے مشاورت کا 1956 کے قانون میں بھی نہیں لکھا تھا۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ساری آڈیو ایک ہی ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہوتی ہے۔آڈیو لیک ہونے کے بعد وفاقی وزراء اس پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ ٹوئیٹر پر ہیکر کے نام سے گمنام اکاونٹ ہے،ہیکر کے نام سے اکاونٹ سے آڈیو ویڈیو ریلیز ہوتی ہیں۔یہ اکاونٹ ستمبر 2022 میں بنایا گیا۔ فروری 2023 سے گمنام اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیوز لیک ہوئی۔ ہماری درخواست کمیشن کی تشکیل کیخلاف ہیں۔ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے، حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے،حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں، کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اس کا تعین کون کرے گا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پہلے تسلیم کرے کہ آڈیوز اس کے اداروں نے ریکارڈ کرکے لیک کی ہیں، اگر آڈیوز کی ریکارڈنگ قانون کے مطابق ہے تو اعتراض نہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ ریکارڈنگ قانون کے مطابق کی گئی،سپریم کورٹ کا بینظیر بھٹو کیس میں 1998 کا فیصلہ کچھ اور کہتا ہے، فیصلے کے مطابق کالز کی ریکارڈنگ عدالت کی اجازت سے ہی ہوسکتی ہیں، ججز کی آڈیوز کو بطور شواہد تسلیم کرکے مس کنڈکٹ کا تعین کیا جا رہا ہے، کیا اب کمیشن سفارش کرے گا کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے؟فیئر ٹرائل ایکٹ بھی ریکارڈنگ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ریکارڈنگ پیکا ایکٹ 2016 اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی بھی خلاف ورزی ہے، بینظیر بھٹو کیس بھی 1996 کے قانون کی خلاف ورزی پر بنا تھا، فیئرٹرائل ایکٹ کے مطابق مشکوک افراد کی ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، ریکارڈنگ کیلئے متعلقہ پولیس یا حساس ادارے کا مجاز افسر درخواست دے سکتا ہے،مشکوک افراد کا متعلقہ کیس سے تعلق ہونا بھی ضروری ہے،قانون کے مطابق جاسوسی کے اجازت نامہ پر دستخط ہائی کورٹ کا جج کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کیس میں بھی قرار دیا گیا کہ ججز کی جاسوسی قانون کیخلاف ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے، کالز ریکارڈنگ آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی خلاف ورزی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ ایک نجی چینل نے ایک ادارے کے سربراہ کی ویڈیو چلائی تو اس پر دس لاکھ کا جرمانہ ہوا، نجی چینل نے کہا ہمیں انفارمیشن ملی اور ہم نے چلایا،ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جب تک تصدیق نہ ہو آڈیو ویڈیو نہیں چلائی جاسکتی ہے، اگر ایسی آڈیو ویڈیو کسی دشمن تک پہنچ جائے تو ملک کی کیا عزت رہے گی،اس وقت عدلیہ کو سب سے زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس وقت تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز عدلیہ ہے، عوام کا ہجوم اب خود انصاف کرنے لگا ہے، کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ افتحار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جس ملک کا عدالتی نظام مضبوط ہوتا ہے وہاں حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، اگر ہم تماشائی بن کر بیٹھے رہے گے تو ریاستی ادارے تباہ ہو جائیں گے، کمیشن اپنے ٹی او آرز سے باہر نہیں جا سکتا ہے، یہ بھی دیکھنا ہو گا یہ آڈیوز ریکارڈ کس نے کی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی میں کیا ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی تو کیا حکومت یا پیمرا نے اسے روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، عدلیہ کی آزادی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، آج ہی عبوری ریلیف اور سماعت پر حکمنامہ جاری کرینگے،سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے حکومت نے کمیشن جلد بازی میں بنایا،جلد بازی میں کیے گئے کام اکثر غلط ہو جاتے ہیں،آرٹیکل 209 کا معاملہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن کے آرڈر میں ذکر نہیں آڈیو کیسے ریکارڈ کی گئی کمیشن اپنے ٹی او آرز کا پابند ہے کمیشن نے پہلے اجلاس پر پورے پاکستان کو بزریعہ اشتہار نوٹس جاری کردیا، آڈیوز کو کس نے بنایا وہ کسی کو معلوم نہیں۔ معاملہ کے جائزہ کیلئےکمیشن کی کاروائی کو معطل کر دیا جائے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر کرنا ایگزیکٹیو کا اختیار ہے۔ جج سے متعلق معاملہ تو پہلے ہی جوڈیشل کونسل میں زیر التواء ہے۔ بظاہر یہ معاملہ اختیارت کی تقسیم کے آئینی اصول سے منافی ہے۔ جج کیخلاف انکوائری صرف جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ،چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے، الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے دلائل کا آغاز کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیسرا دن ہے الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل مختصر ہوں،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کافی وقت ضائع ہوا،ہمیں بتائیے کہ آپ کا اصل نقطہ کیا ہے، سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ سپریم کورٹ رولز آئینی اختیارات کو کم نہیں کرسکتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ رولز عدالتی آئینی اختیارات کو کیسے کم کرتے ہیں، اب تک کے نقاط نوٹ کر چکے ہیں آپ آگے بڑھیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کیلئے نگران حکومت کا ہونا ضروری ہے،نگران حکومت کی تعیناتی کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے، نگران حکمرانوں کے اہلخانہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، آئین میں انتخابات کی شفافیت کے پیش نظر یہ پابندی لگائی گئی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی اسمبلی چھ ماہ میں تحلیل ہو جائے تو کیا ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی رہے گی،ساڑھے چار سال قومی اسمبلی کی تحلیل کا انتظار کیا جائے گا،؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی متعلقہ صوبے میں کام کرے گی, آئین کے ایک آرٹیکل ہر عمل کرتے ہوئے دوسرے کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 254 سے نوے دن کی تاخیر کو قانونی سہارا مل سکتا ہے، انتخابات میں نوے دن کی تاخیر کا مداوا ممکن یے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مداوا ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ساڑھے چار سال کے لیے نئی منتخب حکومت آ سکتی ہے، آئین میں کیسے ممکن ہے کہ منتخب حکومت چھ ماہ اور نگران حکومت ساڑھے چار سال رہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دن کا وقت بھی آئین میں دیا گیا ہے،نگران حکومت 90 دن میں الیکشن کروانے ہی آتی ہے آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے،نگران حکومت کی مدت میں توسیع آئین کی روح کے منافی ہے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن سے متفق ہوں،آئین کی منشاء منتخب حکومتیں اور جہموریت ہی ہے۔ملک منتحب حکومت ہی چلا سکتی ہے۔ جہموریت کو بریک نہیں لگائی جا سکتی 1973 میں آئین بنا تو نگران حکومتوں کا تصور نہیں تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین بنا تو مضبوط الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی سہولت کے لیے آئین میں شامل کی گئیں۔ شفاف انتحابات کروانا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے،الیکشن کمیشن فنڈز اور سیکورٹی کی عدم فراہمی کا بہانہ نہیں کرسکتا۔ کیا الیکشن کمیشن بااختیار نہیں ہے ۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے آئینی اختیارات سے نظر نہیں چرا سکتے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں 90 دن کی نگران حکومت ساڑھے چار سال کیسے رہ سکتی ہے،آئین پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے دونوں صوبوں میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا پنجاب انتحابات سے متعلق فیصلہ چیلنج ہوا تھا،سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اس پر آپ نظر ثانی پر دلائل دے رہے ہیں،آپ کہہ رہے ہیں کے پی کے کی اسمبلی بھی تحلیل ہوئی تھی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب تھا کے پی کے اور پنجاب پورے ملک کا ستر فیصد ہیں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل ہو تو کیا اس پر آئین کا اطلاق نہیں ہوگا،نشستیں جتنی بھی ہوں ہر اسمبلی کی اہمیت برابر ہے،حکومت جو بھی ہو شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،کیا الیکشن کمیشن کہہ سکتا منتحب حکومت کے ہوتے ہوئے الیکشن نہیں ہوں گے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات سے معذوری ظاہر نہیں کر سکتا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تو کہتا تھا فنڈز اور سیکورٹی دیں تو انتحابات کروا دیں گے،آئین کے حصول کی بات کر کے خود اس سے بھاگ رہے ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ حقائق کے مطابق دی تھی۔جسٹس مینب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ ستمبر کو الیکشن کمیشن کہے کہ اکتوبر میں الیکشن ممکن نہیں تو کیا ہوگا؟ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے، صوابدید نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود کہا آئین کی روح جمہوریت ہے، کب تک انتخابات آگے کرکے جمہوریت قربان کرتے رہیں گے، تاریخ میں کئی مرتبہ جمہوریت قربان کی گئی، جب بھی جمہوریت کی قربانی دی گئی کئی سال نتائج بھگتے، عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے، الیکشن کمیشن کے جواب میں صرف وسائل نہ ہونے کا زکر تھا، الیکشن کمیشن کب کہے گا کہ اب بہت ہوگیا انتخابات ہر صورت ہونگے،اب الیکشن کمیشن سیاسی بات کررہا ہے، بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں ٹرن آوٹ ساٹھ فیصد تھا، سیکیورٹی خدشات کے باوجود بلوچستان کے عوام نے ووٹ ڈالا، انتخابات تاخیر کا شکار ہوں تو منفی قوتیں اپنا زور لگاتی ہیں،بطور آئین کے محافظ عدالت کب تک خاموش رہے گی، آرٹیکل 224 کو سرد خانے میں کتنے عرصے تک رکھ سکتے ہیں .وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو مئی کے واقعات سے الیکشن کمیشن کے خدشات درست ثابت ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے خدشات کی نہیں آئین کے اصولوں کی بات کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کا مطلب صرف قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں ہوتا، ایک ساتھ انتخابات میں پانچ جنرل الیکشن ہوتے ہیں، وزیر اعظم اور وزاء اعلی چھ ماہ بعد اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا ،وزیر اعظم اور وزیر اعلی جب چاہیں اسمبلیاں تحلیل کر سکتے ہیں،آئین کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بتائیں الیکشن کمیشن کا موقف کیا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت صرف اس لیے آتی ہے کہ کسی جماعت کو سرکاری سپورٹ نہ ملے، کیا نگران حکومت جب تک چاہے رہ سکتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کی مدت کا تعین حالات کے مطابق ہو گا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ میں انتخابات سے معذوری ظاہر کی نہ سپریم کورٹ میں ، سپریم کورٹ کو بھی کہا کہ وسائل درکار ہیں، اب الیکشن کمیشن کہتا ہے آئین کے اصولوں کے مطابق انتخابات ممکن نہیں ہیں، پہلے کیوں نہیں کہا کہ وسائل ملنے پر بھی انتخابات ممکن نہیں ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے تحریری موقف میں بھی یہ نقطہ اٹھایا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر اور گورنر کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا، دو دن تک آپ مقدمہ دوبارہ سننے پر دلائل دیتے رہے، ایک دن انتخابات سے آئین کی کون سی شقیں غیر مؤثر ہوں گی، لیڈر آف ہاؤس کو اسمبلی تحلیل کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے ، نظام مضبوط ہو تو شاید تمام انتخابات الگ الگ ممکن ہوں، فی الحال تو اندھیرے میں ہی سفر کر رہے ہیں جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ رہی،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی ماحول کو دیکھ کر ہی آٹھ اکتوبر کی تاریخ دی تھی، نو مئی کو جو ہوا اس خدشے کا اظہار کر چکے تھے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں ہوسکتا جو آپکو سوٹ کرے وہ موقف اپنا لیں۔جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو نو مئی پر بات کرنے سے روک دیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کبھی الیکشن کی کوئی تاریخ دیتے ہیں کبھی کوئی تاریخ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں ممکن ہی نہیں۔ ہر موڑ پر الیکشن کمیشن نیا موقف اپنا لیتا ہے۔ آپ ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں ماضی اور آج کے حالات میں فرق ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ حالات میں انتحابات ممکن نہیں۔ جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پھر آئینی اصولوں سے موجودہ حالات پر آگئے ہیں۔ کیا پانچوں اسمبلیوں کے الیکشن الگ الگ ہوسکتے ہیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومتیں ہوں تو الگ الگ انتحابات ممکن ہیں۔ موجودہ حالات میں الگ الگ انتحابات ممکن نہیں۔ پنجاب میں منتخب حکومت آ گئی تو قومی اسمبلی کے انتحابات کیسے شفاف ہوں گے؟ الیکشن کمیشن تمام سرکاری مشینری حکومت سے لیتا ہے۔نیوٹرل انتظامیہ نہیں ہوگی تو شفاف انتحانات کیسے ہوں گے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ کے بہانے قبول نہیں کرنے چاہیے، الیکشن کمیشن کو حکومت سے ٹھوس وضاحت لینی چاہیے،کل ارکان اسمبلی کے لیے 20 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس منظور ہوئیں، الیکشن کمیشن کو بھی 21 ارب ہی درکار تھے، ارکان اسمبلی کو فنڈ ملنا اچھی بات ہے، الیکشن کمیشن خود غیر فعال ہے، الیکشن کمیشن کے استعدادکار میں اضافے کی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن نے چار لاکھ پچاس ہزار سیکیورٹی اہلکار مانگے، الیکشن کمیشن کو بھی ڈیمانڈ کرتے ہوئے سوچنا چاہیے، فوج کی سیکیورٹی کی ضرورت کیا ہے؟ فوج صرف سیکیورٹی کے لیے علامتی طور پر ہوتی ہے، فوجی اہلکار آرام سے کسی کو روکے تو لوگ رک جاتے ہیں۔ جو پولنگ سٹیشن حساس یا مشکل ترین ہیں وہاں پولنگ موخر ہوسکتی ہے،ہوم ورک کرکے آئیں، پتہ تو چلے کہ الیکشن کمیشن کی مشکل کیا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل بااختیار ہے، کارروائی کرسکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں۔ الیکشن کیس کی سماعت سوموار 29 مئی تک ملتوی کر دی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • کور کمانڈر ہاؤس دراصل جناح ہاؤس اور قانونی طور پرسویلین عمارت ہے، عمران خان

    کور کمانڈر ہاؤس دراصل جناح ہاؤس اور قانونی طور پرسویلین عمارت ہے، عمران خان

    عمران خان نے پارٹی تحلیل کی کوشش اور رہنمائوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حامد خان کے ذریعے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں غیر اعلانیہ مارشل لاء اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی طلبی کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی،عدالت سے استدعا کی گئی کہ سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل اور گرفتاریاں روکی جائیں،ایم پی او کے تحت گرفتار کارکنوں اور رہنمائوں کو رہا کرنے کو حکم دیا جائے، تحریک انصاف کو تحلیل کرنے کی کوششیں کالعدم قرار دی جائیں، نو مئی کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے،پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش آئین کی خلاف ورزی ہے،پارٹی قائدین اور کارکنوں کو جماعت سے علیحدہ ہونے پر مجبور کرنا قانون کیخلاف ہے، سپریم کورٹ ماضی میں اس حوالے سے اہم فیصلے صادر کر چکی ہے،گھروں پر چھاپے مار کر بغیر مقدمات گرفتاریاں کی جا رہی ہیں

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کور کمانڈر ہائوس لاہور دراصل جناح ہائوس اور قانونی طور پر سویلین عمارت ہے، جناح ہائوس حملے کے مبینہ ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل خلاف قانون ہے، خوف اور گرفتاریوں کے ذریعے تحریک انصاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،عمران خان کی درخواست میں وفاق، نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان کو فریق بنایا گیا ہے، عمران خان کی درخواست میں نگران وزیر اعلی محسن نقوی، اعظم خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 245 کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے۔ سپریم کورٹ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سویلینز کا کورٹ مارشل غیر قانونی قرار دے۔ عدالت تحریک انصاف رہنماوں کی پارٹی سے جبری علیحدگیوں کو غیر آئینی قرار دے۔ یہ سارا ڈرامہ نواز شریف اور مریم نواز کا رچایا ہے، نوازشریف اور مریم نواز نے پروپیگنڈہ کیا کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا اور ان کے ساتھ کھڑے رہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، پنجاب انتخابات پر الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ اس سے پہلے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل دیں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، گزشتہ روز عدالت کی جانب سے کچھ ریمارکس دئے گئے،عدالت نے کہا جو نکات پہلے نے نہیں اٹھائے وہ اب کیوں رکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ گھبرا کیوں رہے ہیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے، یہ عدالت سماعت کیلئے بیٹھی ہے کوئی معقول نقطہ اٹھائیں سن کر فیصلہ کریں گے،آپ نے نکات بے شک اٹھائے لیکن ان پر بحث نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل عدالت میں کہا گیا الیکشن کمیشن کے اٹھائے گئے نکات پہلے کیوں نہیں اٹھائے گئے تھے ،دوسرا نقطہ تھا وفاقی حکومت پہلے چار تین کے چکر میں پڑی رہی، ایک صوبے میں انتخابات ہوں تو قومی اسمبلی کا الیکشن متاثر ہونے کا نقطہ پہلے اٹھایا گیا تھا، اپنے جواب میں 4/3 کا فیصلہ ہونے کا ذکر بھی کیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی معقول نقطہ اٹھایا گیا تو جائزہ لے کر فیصلہ بھی کریں گے، کل نظر ثانی کے دائرہ اختیار پر بات ہوئی تھی ماضی کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، حکومت کی نہیں اللہ کی رضا کے لیے بیٹھے ہیں، بہت سی قربانیاں دے کر یہاں بیٹھے ہیں ،آپ اپنے ساتھیوں سے کہیں کہ ہمارے دروازے پر ایسی باتیں نہ کریں، ایوان میں گفتگو بھی سخت نہ کیا کریں ہم اللہ کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے چپ بیٹھے ہیں ،جس ہستی کا کام کر رہے ہیں وہ بھی اپنا کام کرتی ہے،آپ صفائیاں نہ دیں عدالت صاف دل کے ساتھ بیٹھی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو بھی خوش آمدید کہا گڈ ٹو سی یو کہا ،ہماری ہرچیز درست رپورٹ نہیں ہوتی،کہا گیا عمران خان کو عدالت نے مرسیڈیز دی تھی، میں تو مرسیڈیز استعمال ہی نہیں کرتا، پولیس نے عمران خان کی مرسیڈیز کا بندوبست کیا تھا، اس بات کو پتہ نہیں کیا سے کیا بنا دیا گیا ، پی آر او نے وضاحت کی اسے بھی غلط طریقے سے پیش کیا گیا ، ہم نے توآپ کو دیکھ کرکھلے دل سے”گڈ ٹو سی یو” کہا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی اورطریقے سے کہی گئی باتیں رپورٹ ایسے ہوئیں کہ ان سے تاثرغلط گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ پرسکون رہیں بیٹھ جائیں،ابھی الیکشن کمیشن کے وکیل کوسنتے ہیں پھرآپکے مفید دلائل بھی سنیں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل کا آغاز کردیا ،سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہمیشہ آئین کی تشریح زندہ دستاویز کے طور پر کرتی ہے،انصاف کا حتمی ادارہ سپریم کورٹ ہے اس لئے دائرہ کار محدود نہیں کیا جا سکتا، مکمل انصاف اور آرٹیکل 190 کا اختیار کسی اور عدالت کو نہیں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظیروں کے مطابق نظر ثانی اور اپیل کے دائرہ کار میں فرق ہے،اس سوال کا جواب آپ نے کل سے نہیں دیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ کار پر آپ کی دلیل درست مان لیں تو سپریم کورٹ رولز کالعدم ہو جائیں گے، سپریم کورٹ رولز میں نظر ثانی پر ابھی تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی، دائرہ کار بڑھایا تو کئی سال پرانے مقدمات بھی آ جائیں گے،کیسے ہو سکتا ہے سپریم کورٹ رولز کا نظرثانی سے متعلق آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہو، آرڈر 26 پورا لاگو نہ ہونے سے نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی ختم ہو جائے گی، کیا دس سال بعد کوئی نظر ثانی دائر کر کے کہہ سکتا ہے رولز مکمل لاگو نہیں ہوتے، آپ کو شاید اپنی دلیل مانے جانے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نظر ثانی دائر کرنے کے لیے مدت ختم نہیں ہونی چاہیئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 70 سال میں یہ نقطہ آپ نے دریافت کیا ہے تو نتائج بھی بتائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ کار سپریم کورٹ رولز میں موجود ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ رولز نظر ثانی کے آئینی اقدام پر قدغن نہیں لگا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 184/3 کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے،احساس ہوا ہے کہ اس سے غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں، آپ کی نظر میں نظر ثانی کا دائرہ محدود ہونا درست نہیں ہے، آپ چاہتے ہیں نظر ثانی میں دائرہ وسیع کیا جائے،اب اصل مقدمہ کی جانب آئیں اس پر بھی دلائل دیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ پہلی بار عدالت آیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ ایسے قانون کے حوالے بھی دئیے جائیں گے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا سکیورٹی اور فنڈز دے دیں انتخابات کروا دیں گے، اب ان تمام نکات کی کیا قانونی حیثیت ہے، نو رکنی بینچ نے اپنے حکم میں اہم سوالات اٹھائے تھے،سیاسی جماعتوں کے مفادات کہیں اور جڑے ہوئے تھے،قانونی نکات پر دلائل کی بجائے بینچ پر اعتراض کیا گیا، نو رکنی بینچ سے پانچ رکنی بینچ بنا وہ بھی عدالتی حکم پر، سات رکنی بینچ عدالت کے حکم پر بنا ہی نہیں تو 4/3 کا فیصلہ کیسے ہو گیا، عدالت دو منٹ میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ نظر ثانی درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت قانونی نکات پر سن کر فیصلہ کرنا چاہتی ہے ، آسانی سے کہہ سکتے ہیں آپ نے سواری مس کر دی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے صدر کو خط لکھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو وہ صورتحال نہیں بتائی جو عدالت کو اب بتا رہے ہیں ، صدر کو خط صرف تاریخ دینے کا لکھا گیا تھا، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں تو نظر ثانی دائر کرنے کی مدت بھی نہیں دی گئی، کیا فیصلے کے بیس سال بعد نظر ثانی دائر ہو سکتی ہے ،اگر نظر ثانی کی مدت والا رول لاگو ہو سکتا ہے تو دائرہ کار کیسے نہیں ہو گا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ رولز بنانے والوں نے دائرہ کار آئینی مقدمات میں محدود نہیں رکھا ،ملک کے تین بہترین ججز کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہوں،وقت کے ساتھ قانون تبدیل ہوتا رہتا ہے ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کو ایک دن انتخابات کی ایڈوائس کیوں نہیں دی؟ الیکشن کمیشن نے صدر کو نہ سکیورٹی کا بتایا نہ فنڈز کا، زمینی حالات کا ذکر کیے بغیر کہا جا رہا ہے آرٹیکل 218/3 کے تحت مزید اختیارات دئیے جائیں ، آئین اختیار دیتا ہے تو استعمال کرنے سے پہلے آنکھیں اور ذہن بھی کھلا رکھیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تلور کے شکار والے کیس میں بھی عدالت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی، 16 ہزار ملازمین کے کیس میں نظر ثانی خارج ہوئی لیکن عدالت نے 184/3 اور 187 کا اختیار استعمال کیا، ججز کیس میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ خود تبدیل کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ججز کیس میں سوموٹو نظر ثانی کی تھی ،ملازمین کیس میں اقلیتی نوٹ ہے کہ خارج شدہ نظرثانی آرٹیکل 187 میں بحال نہیں ہوسکتی، وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ دہشتگردی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا دوسری نظرثانی درخواست نہیں ہوسکتی لیکن عدالت خود فیصلے کا جائزہ لے سکتی ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی نظرثانی درخواست میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ واپس لیا تھا، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن،معلومات کی فراہمی کیلئے پبلک نوٹس جاری

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن،معلومات کی فراہمی کیلئے پبلک نوٹس جاری

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے عوام سے معلومات کی فراہمی کیلئے پبلک نوٹس جاری کر دیا

    نوٹس میں کہا گیا کہ جس کے پاس بھی زیر تفتیش آڈیو لیکس سے متعلق معلومات ہوں فراہم کرے، پبلک نوٹس میں سیکرٹری کمیشن کا فون نمبر، ای میل ایڈریس بھی شامل ہے، پبلک نوٹس میں بذریعہ ڈاک معلومات کی فراہمی کیلئے جسٹس فائز عیسیٰ کے چیمبر کا پتہ بھی شامل ہے، پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے کیلئے شناخت ظاہر کرنا لازمی ہوگا، نامعلوم ذرائع سے ملنے والی معلومات قبول نہیں کی جائیں گی،

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیشن تشکیل دے دیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر کمیشن میں شامل ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق بھی کمیشن میں شامل ہیں،وفاقی حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    کمیشن جوڈیشری کے حوالے سے لیک ہونے والی آڈیوز پر تحقیقات کریگا یہ آڈیو لیکس درست ہیں یا من گھرٹ کمیشن اس بارے میں تحقیقات کرے گا، وفاقی حکومت کی جانب سے بنایا جانے والا کمیشن ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا،وکیل اور صحافی کے درمیان بات چیت کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی سابق چیف جسٹس اور وکیل کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی کمیشن سوشل میڈیا پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد کی عدالتی کارروائی پراثرانداز ہونے کے الزامات کی آڈیو لیک کی تحقیقات کریگا،کمیشن چیف جسٹس کی ساس اور ان کی دوست کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کرے گا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

  • نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ایک کیس میں نیب پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: نیب کی جانب سے ملزم کے بینک اکاونٹس منجمند کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    گھر سے باہر نکلتا ہوں تو میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا …

    دوران سماعت چیف جسٹس کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 48 ہزار 674 روپے کے بینک اکاونٹ کے فریزنگ آرڈر درکار ہیں۔

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا مذاق ہے، نیب اس وقت اختیار کا غلط استعمال کر رہا ہے، نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے، نیب صرف 48 ہزار روہے کے پیچھے پڑا ہوا ہے، 48 کروڑ ہوتے تو بات بھی تھی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب فیٸر نہیں ہے، نیب کو ایسی درخواست داٸر نہیں کرنی چاہیے تھی عدالت کے برہمی ظاہر کرنے پر نیب نے درخواست واپس لے لی، اور سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔

  • الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار سپریم کورٹ کو نہیں،پنجاب حکومت کا جواب جمع

    الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار سپریم کورٹ کو نہیں،پنجاب حکومت کا جواب جمع

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

    نگران پنجاب حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا گیا ہے، سپریم کورٹ میں تحریری جواب چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار سپریم کورٹ کو نہیں ، 14 مئی کو الیکشن کی تاریخ دیکر تقسیم اختیارات کی خلاف ورزی ہوئی ،آرٹیکل 218 کے تحت شفاف انتخابات الیکشن کمیشن ک ااختیار ہے،تقسیم اختیارات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی،

    نگران پنجاب حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن پروگرام میں تبدیلی کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کا ہے 9 مئی کے بعد صوبے میں سکیورٹی حالات تبدیل ہو گئے

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کر دی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا گیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ آزادانہ اورشفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیارکو غیرموثرکر دیا پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے پنجاب سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والا صوبہ ہے پنجاب میں جیت سے یہ تعین ہوتا ہے کہ مرکز میں حکومت کون کرے گا پنجاب میں انتخابات قومی اسمبلی کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں سپریم کورٹ اپنے 4 اپریل کے فیصلہ پر نظرثانی کرے سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیارات کو استعمال کیا

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا