Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن اور مریم نواز کےخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن اور مریم نواز کےخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن اور مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے ناقابل سماعت قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی: رجسٹرار آفس نے 7 اعتراضات عائد کرتے ہوئےدرخواست واپس کر دی رجسٹرار آفس کےاعتراضات میں کہاگیا کہ درخواست میں توہین آمیز زبان استعمال کی گئی،درخواست گزار نے اس بات کی نشان دہی نہیں کی کہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے کس حصے کی خلاف ورزی کی گئی۔

    کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں برساتی ندی نالوں میں طغیانی،ملک کے مختلف علاقوں میں …

    اعتراضات میں کہا گیا کہ مرکزی کیس کی پیپر بکس جمع نہیں کرائی گئیں، بادی النظر میں انکوائری کمیشن نے سپریم کورٹ کی 26 مئی کی سماعت کے حکمنامہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے کاروائی روک دی۔

    اعتراضات میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کی انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جس کے بعد توہین عدالت کی درخواست ناقابلِ فہم ہے،جن افراد نے توہین عدالت کی ان کے خلاف الزامات پر مبنی مواد جمع نہیں کرایا گیا،توہین عدالت کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کی جاتی ہے.

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے،اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

  • قانون سازی کا عدلیہ سے تعلق نہیں،عدلیہ ریاست کے تابع ہے،عرفان قادر

    قانون سازی کا عدلیہ سے تعلق نہیں،عدلیہ ریاست کے تابع ہے،عرفان قادر

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری اورآئین کی پاسداری ہرشہری پر فرض ہے،ریاستی اداروں کیخلاف منظم مہم جاری ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی دھڑاریاست اوراداروں کوکمزور کرنے میں مصروف ہے،تمام اداروں کواپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا چاہیے،کوئی شخص یا ادارہ آئین سے بڑا نہیں ہے،ہم سب آئین کے تابع ہیں آئین ہمارے تابع نہیں،انصاف کے عہدوں پرفائز کچھ لوگ ایک مخصوص دھڑے کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں،شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے وفادار رہنا ہے چند مخصوص لوگ استعمال ہو رہے ہیں تمام اداروں نے حدود میں رہ کر کام کرنا ہے ،ریاست وفاقی حکومت اور پارلیمان ہے ،

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ چند مخصوص لوگ ریاستی اداروں میں مداخلت کر رہے ہیں کچھ لوگوں نے سیاسی دھڑے سے کنارہ کشی اختیار کر لی ،کہا جاتا ہے کہ پارلیمان قانون بنانے سے پہلے ہم سے مشورہ کرے،قانون سازی کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں،عدلیہ ریاست کے تابع ہے،عدلیہ کو کمزور نہیں کرنا چاہیے، اس ہم خیال گروپ کیخلاف ہیں جو خود عدلیہ کے خلاف ہے،عدلیہ کے احترام کامطلب یہ نہیں کہ ریاست کمزور ہے،

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    تحریک لبیک کا مہنگائی مارچ ،مبشر لقمان نے بھی حمایت کر دی

  • عدالتی نظرثانی ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج

    عدالتی نظرثانی ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ،عدالتی نظرثانی ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر درخواست میں صدر مملکت اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی نظرثانی ایکٹ آئین سے متصادم ہے ،آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت شفاف ٹرائل ہرشہری کا حق ہے ،عدالتیں قانون،ثبوتوں اور حقائق کومدنظر رکھ کر فیصلے سناتیں ہیں عدالتی فیصلوں پر نظر ثانی کاقانون عدلیہ کودباو میں لانے کا ہتھیار ہے عدالت عدالتی نظرثانی ایکٹ کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دے ،عدالت نظرثانی ایکٹ کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے

    واضح رہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروا دیا ، آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی، ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں،جسٹس محمد علی مظہر بھی آٹھ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں، اٹارنی جنرل بھی روسٹرم پر آگئے ،وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر نظرثانی کا فیصلہ کر لیا ہے، اٹارنی جنرل نے دوران سماعت سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حوالے سے دو قوانین بنائے گئے، حالیہ قانون نظرثانی درخواستوں سے متعلق تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل اور نظرثانی قانون دونوں میں کچھ شقیں ایک جیسی ہیں، دونوں قوانین کا باہمی تضاد سے بچانے کیلئے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، سپریم کورٹ کی مشاورت سے اب قانون میں ترمیم ہوگی،سپریم کورٹ کے انتظامی معاملے پر قانون سازی عدلیہ کے مشورے سے نہیں ہوئی، دونوں قوانین کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی مشاورت ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے پارلیمنٹ اور حکومت مماثلت والے قوانین میں ترمیم کر رہی ہے، حکومت کوعدلیہ کی قانون سازی سے متعلق سپریم کورٹ سے مشاورت کرنی چاہئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے دو قوانین ہیں، ایک سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ ہےدوسرا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ہے، دونوں قوانین میں ریویواوروکیل کرنےکی شقوں کی آپس میں مماثلت ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ زیادہ وسیع ہے،ایکٹ میں سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات سے متعلق شقیں ہیں، دونوں قوانین میں سے کس پرانحصارکرنا ہے اس کیلئے ایک حل پر پہنچنا ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوانین میں ہم آہنگی کیلئے پارلیمنٹ کودیکھنے کا کہہ سکتے ہیں،آپ کی اس تجویزکاخیرمقدم کرتے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت آج کی کارروائی کا مناسب حکم جاری کرے گی، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ حکومت سے ہدایات لے لیں تب تک کسی اور کو سن لیتے ہیں، وکیل درخواست دہندہ نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ کی کاروائی طلب کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اخبارات کے مطابق پارلیمنٹ نے کاروائی عدالت کو فراہم کرنے سے انکار کیا،پارلیمنٹ کو شاید معلوم نہیں تھا کہ تمام کاروائی ویب سائٹ پر موجود ہے، اگلے ہفتے اس کیس کو سنیں گے، تمام وکلاء جو کراچی سے لمبا سفر کر کے آئے ان سے معذرت کرتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں موسم خوشگوار ہے امید ہے سب انجوائے کریں گے،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے بیان کو خوش آئند قرار دیدیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون پر نظرثانی اور مشاورت کرنا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، عدلیہ کی مشاورت سے پارلیمان قانون سازی کرے تو تنازعات نہیں ہونگے، ممکنہ طور پر سپریم کورٹ سے مشاورت کی جائے گی پارلیمنٹ کو قانون سازی کے حوالے سے ہدایات نہیں دے سکتے،عدلیہ کے حوالے سے یکطرفہ قانون سازی نہیں ہونی چاہیے، ایک طریقہ یہ ہے کہ حکومت غلطیاں درست کرے اور کیس چلتا رہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قانون بنتے رہیں ہم سماعت کرے رہیں دیکھتے ہیں کون تیز ہے،

    قبل ا زیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پرویسجر قانون کیس معاملہ ،مسلم لیگ ق نے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کردی مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروادیا جس میں کہا گیا کہ قانون سے عدلیہ کی آزادی میں کمی نہیں اضافہ ہوگا،ملک میں چلنے والی وکلا تحریک کے بعد ریفارمز کے موقع کو گنوا دیا گیا،قانون کاسیکشن 4 سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو وسیع کرتا ہے، سیکشن 3 چیف جسٹس کےاز خود نوٹس کے اختیار کے بے ترتیب استعمال کو سینئر ججز کے ساتھ مل کر استعمال کا کہتا ہے قانون کے تحت کمیٹی کے جانب سے مقدمات کو مقرر کرنے اور از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے عوام کا اعتماد بڑھے گا،سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار چودھری ،گلزار احمد ، ثاقب نثار کی جانب سے اختیارات کا زیادہ استعمال کیا گیا، چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال کے نتائج سٹیل مل ،پی کے ایل ائی اور نسلہ ٹاور کی صورت میں سامنے آئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی سے ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا، آزاد عدلیہ کا مطلب ہر جج کے بغیر پابندی،دباواور مداخلت کے فرائض کی انجام دہی ہے،

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بھی بینچ میں شامل تھے ،رجسٹرار سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کیس سننے والے ججز پر اعتراضات کی حکومتی درخواست واپس کر دی، کہا کہ جو درخواست کرنی ہو وہ کھلی عدالت میں کریں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیکس کمیشن کا جواب موصول ہوگیا ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن نے جواب میں ٹاک شوز کا بھی ذکر کیا ہے، ٹاک شوز میں ایک سال سے عدلیہ کا دفاع کرنے جاتے ہیں، ٹاک شوز میں جو گفتگو ہوتی ہے وہ عدالت کے سامنے ہے، عدالت کے دروازے پر جو زبان استعمال کی گئی وہ ڈھکی چھپی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شعیب شاہین کو ہدایت کی کہ کمیشن کے جواب پر تحریری موقف جمع کروا دیں،تحریری موقف آئے گا تو جائزہ لیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراضات کی درخواستیں بھی آئی ہیں، آئندہ سماعت پر درخواستیں سن کر فیصلہ کرینگے، بنچ پر اعتراض پر مبنی درخواستیں پہلے سنی جائیں گی، بنچ پر اعتراض کی حکومتی درخواست کو نمبر الاٹ نہیں ہوا، اعتراض پر مبنی درخواستیں کمرہ عدالت میں دی جاتی ہیں، چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کی درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کر دی ،درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی عدولی ہو رہی ہے، توہین عدالت کی درخواست دائر کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست آفس میں فائل کریں جو مروجہ طریقہ ہے،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ بنچ پر اعتراض تو عدالت مسترد کر چکی ہے، سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ،سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع کر دی

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے تا ہم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور سپریم کورٹ نے کمیشن کو کام سے روک دیا، کمیشن کی آخری سماعت ہفتہ کو ہوئی جس میں کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے کام روک دیا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

  • سپریم جوڈیشنل کونسل کا جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کیخلاف کاروائی کا آغاز

    سپریم جوڈیشنل کونسل کا جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کیخلاف کاروائی کا آغاز

    سپریم کورٹ کے جج کیخلاف شکایت کا معاملہ،سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ جج کے خلاف شکایات پر کارروائی کا آغاز کر دیا،

    چیف جسٹس نے مظاہر نقوی کیخلاف شکایات سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ممبر کو بھجوا دیں ،شکایات کی جانچ کے بعد ممبرز اپنی رائے سے کونسل کو آگاہ کرینگے

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس بھجوایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی تھی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں ان فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہےسپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ، گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ، سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ اور گوجرانوالہ الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

  • آڈیو لیکس کمیشن کیس :ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا،انکوائری کمیشن

    آڈیو لیکس کمیشن کیس :ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا،انکوائری کمیشن

    آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں کےکیس میں انکوائری کمیشن کے سیکرٹری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں جمع کرائےگئے انکوائری کمیشن کے جواب میں کہا گیا ہےکہ آئینی درخواستیں قابل سماعت نہیں، انکوائری کمیشن نے 5 رکنی بینچ کی تشکیل کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کرتے ہوئےکہا ہےکہ بینچ کی تشکیل کا معاملہ ججز کمیٹی کے سامنے نہیں رکھا گیا، بہتر ہوگا ججزکمیٹی کی جانب سے بینچ کی تشکیل تک 5 رکنی بینچ سماعت مؤخر کردے صدرسپریم کورٹ بار نے آڈیو لیک کمیشن کےخلاف درخواست دائر کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ یہ کیس نہ سنے، ذاتی مفادات سے متعلق کیس کوئی جج نہیں سن سکتا۔

    عدالت نے آڈیولیک تحقیقاتی کمیٹی کو ثاقب نثارکے بیٹےکیخلاف کارروائی سے روک دیا

    انکوائری کمیشن کا کہنا ہےکہ کمیشن کو آڈیو لیکس کی انکوائری میں کوئی ذاتی دلچسپی نہیں،کمیشن کو یہ ذمہ داری قانون کے تحت دی گئی ہے، کمیشن آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرےگا،صحافی قیوم صدیقی اور خواجہ طارق رحیم کمیشن میں پیش ہونےکے لیے تیارہیں، ججز کا حلف ہےکہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فرائض ادا کریں گے۔

    کمیشن کے مطابق وہ عوام کا پیسا بچانے کے لیے اپنا وکیل نہیں کر رہا، درخواست ہے کہ سیکرٹری کے ذریعے کھلی عدالت میں یہ جواب پڑھ کر سنایا جائے، کمیشن عدالت کو یقین دلاتا ہےکہ کارروائی میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

    آج بھی پنجاب سمیت ملک بھر میں بارش کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں، تاہم چیف جسٹس پاکستان عمرعطابندیال نے آڈیولیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجربینچ تشکیل دیتے ہوئے کمیشن کو کارروائی سے روک دیا ہے۔

  • آڈیو لیکس کی تحقیقات،نیا کمیشن بنانے کی حکومتی تجویز

    آڈیو لیکس کی تحقیقات،نیا کمیشن بنانے کی حکومتی تجویز

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کا معاملہ .وفاقی حکومت نےسپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحقیقات کا عمل مکمل کرنے پر مشاورت شروع کر دی

    سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں نیا کمیشن بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کمیشن میں خفیہ اداروں کے سینیر افسران اور متعلقہ وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہونگے ۔تجویز وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور معاون خصوصی عرفان قادر نے دی حکومت نے آڈیو لیکس سے متعلق نئے کمیشن کا معاملہ وفاقی کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے اینٹلی جنس اداروں کی رپورٹس پر غور کے بعد نیا کمیشن بنانے کی حتمی منظوری متوقع ہے،وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت قانون اس حوالے سے اپنی اپنی سفارشات پیش کریں گی

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے تا ہم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور سپریم کورٹ نے کمیشن کو کام سے روک دیا، کمیشن کی آخری سماعت ہفتہ کو ہوئی جس میں کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے کام روک دیا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، آج کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

  • پنجاب انتخابات،نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے،اٹارنی جنرل

    پنجاب انتخابات،نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے،اٹارنی جنرل

    اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروا دیا

    آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی، ایکٹ
    ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے قوانین منظور ہو چکے ہیں،سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے ،سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے قوانین کا اطلاق جمعے سے ہوا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار آرٹیکل 184 تھری کے کیسز میں نظر ثانی کا قانون بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ کے نظر ثانی اختیار کو وسیع کیا گیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جوڈیشل کمیشن والا کیس مقرر ہے،آپ اس بارے بھی حکومت سے ہدایات لے لیں،نیا قانون آچکا ہے ہم بات سمجھ رہے ہیں،آج سماعت ملتوی کر دیتے ہیںتحریک انصاف کو بھی قانون سازی کا علم ہوجائے گا،چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جو کیس مقرر ہے اس پر بھی ہدایات لے لیں، یہ عدالت عدلیہ کی آزادی کے قانون کو لاگو کرتی ہے، سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 184 تھری کے دائرہ اختیار کے کیسز میں نظر ثانی ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کے ہی فیصلے آرٹیکل 187 کے تحت نظر ثانی کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کا راستہ دے رہے ہیں، جج کی جانبداری کا بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے،کیوریٹیو ریویو کا جو معاملہ آپ نے اٹھایا اس کو بھی دیکھ رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ دوسری جانب سے کون آیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ علی ظفر آج نظر نہیں آئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے علی ظفر کو کچھ برا کہا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے بیرسٹر علی ظفر کو کچھ نہیں کہا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آڈیو لیکس کمیشن کیس میں ہمارا حکم نامہ پڑھا ہوگا ذہن میں رکھیں کہ عدالت نے کمیشن کالعدم قرار نہیں دیا عدالت نے عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے ،خفیہ ملاقاتوں سے معاملات نہیں چل سکتے یہ تاریخی ایکسیڈنٹ ہے کہ چیف جسٹس صرف ایک ہی ہوتا ہے ہم نےمیمو گیٹ،ایبٹ آباد کمیشن اورشہزاد سلیم قتل کے کمیشنز کا نوٹیفکیشن دکھایا تمام جوڈیشل کمیشنز چیف جسٹس کی مرضی سے تشکیل دیے جاتے ہیں کسی چیز پر تحقیقات کرانی ہیں تو باقاعدہ طریقہ کارسے آئیں میں خود پر مشتمل کمیشن تشکیل نہیں دوں گا کسی اورجج سے تحقیقات کرائی جاسکتی ہیں یہ سیاسی پارہ معیشت اورامن و امان کو بہتر نہیں کرے گا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو فی الحال ملتوی کر رہے ہیں، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • مریم نواز کا  چیف جسٹس پر عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام

    مریم نواز کا چیف جسٹس پر عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام

    سپریم کورٹ کے آڈیو لیکس کمیشن کو کام سے روکنے کے حکم کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدرمریم نواز نے چیف جسٹس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عہدے کے بے دریغ استعمال کا الزام لگادیا۔

    باغی ٹی وی: مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر براجمان شخص اپنے عہدے کو احتساب سے بچنے کے لیے بے دریغ استعمال کر رہا ہے اگر آپ اور آپ کی ساس کا دامن صاف ہےتو کیا آپ کو قانون کا سامنا نہیں کرنا چاہیے؟یاچیف جسٹس ہونے کے ناطے قانون آپ پر لاگو نہیں ہوتا؟عمر عطا بندیال اپنے خاندان کو بچانے کے لیے قانون کا مذاق اور عدلیہ کا تماشہ بنانے کے جرم میں سزا کے حقدار ہیں۔

    امریکی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    قبل ازیں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد پاکستان کی فوج کو کمزور کرنا اور پر تشدد لہر کو جنم دینا تھا، پاکستان کیخلاف مسلح بغاوت تھی جس کا سرغنہ عمران خان ہے، عمران خان کو شرم آنی چاہیے، ڈوب کر مر جانا چاہیے۔حملوں میں عمران خان اکیلا نہیں، 2014 سے اب تک کے سہولت کار بھی شامل تھے، کوئی پہلا حملہ نہیں تھا، یہ سوچی سمجھی سازش تھی۔

    ریت کی طرح جماعت بکھر جانے کے بعد مذاکرات یاد آ گئے؟،مریم اورنگزیب

    مریم نواز نے استفسار کیا جب لاہور سے جتھے نکلتے ہیں تو سیدھا جناح ہاوس کیوں جاتے ہیں؟ جب میانوالی سے جھتے نکلتے ہیں تو یہ طیارے پر حملہ کیوں کرتے ہیں؟ یہ اس جہاز پر حملہ کیوں نہیں کرتے جسے عمران خان نے رکشے کی طرح استعمال کیا، جب کوئی جتھہ نکلتا ہے تو یہ لال حویلی جانے کی بجائے جی ایچ کیو کیوں جاتا ہے؟ انہوں نے کہا یہ حملہ پاکستان کی فوج پر حملہ تھا، ہم نے بھی جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے خلاف اسٹینڈ لیا تھا، نواز شریف نے کہا جنرل فیض اور جنرل باجوہ قوم آپ سے جواب مانگتی ہے۔

    پرویز الہٰی کی عبوری ضمانت مسترد،اینٹی کرپشن عدالت کا تحریری فیصلہ جاری