Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،

    حکومت نے قانون پر نظرثانی کیلئے وقت مانگ لیا ،عدالتی عملے نے کمرہ عدالت میں آ کر آگاہ کر دیا ، عدالتی عملے نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق بجٹ اجلاس کی وجہ سے قانون پر نظرثانی میں وقت لگے گا، آج جسٹس شاہد وحید طبیعت ناسازی کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے بینچ نامکمل ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،کمرہ عدالت میں سات کرسیاں لگا دی گئی تھیں، تا ہم جج کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد کردئیے

    عائد اعتراض میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت کو فریق نہیں بنایا جا سکتا، درخواست میں عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے سوال کے بارے میں نہیں بتایا گیا،آرٹیکل 184(3) کے استعمال کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات تسلی بخش نہیں، درخواست گزار نے کسی دوسرے متعلقہ فورم سے نہ رابطہ کیا اور نہ ہی رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتائی، درخواست تحریر کرنے والے وکیل کا نام نہیں بتایا گیا،

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • بچوں کی سمگلنگ،سدباب کیلئے اقدامات پر جوابات طلب

    بچوں کی سمگلنگ،سدباب کیلئے اقدامات پر جوابات طلب

    سپریم کورٹ میں بچوں کی سمگلنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی ،سپریم کورٹ نے تمام صوبائی حکومتوں سے بچوں کی سمگلنگ کے سدباب کیلئے اقدامات پر جوابات طلب کر لیے اوربچوں کے حقوق سے متعلق کمیشن کو بھی نوٹس جاری کردیا عدالت نے بچوں کے حقوق سے متعلق کمیشن کے ایک نمائندے کو آئندہ سماعت پر معاونت کا حکم دے دیا، عدالت نے ایس او ایس ولیج سے بھی معاونت طلب کرلی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی سمگلنگ کا معاملہ ایسا نہیں کہ صرف پولیس پر چھوڑا جائے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی سمگلنگ کے معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھنا ہو گا پاکستان میں انسانی سمگلنگ سنگین جرم ہے انسانی اعضا کی سمگلنگ سے بچوں کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے افریقہ میں اعضا کی سمگلنگ کو بے بی فارمنگ کا نام دیا جاتا ہے، دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل معاملہ اچھی طرز حکمرانی کا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سمگلنگ بچوں کے تحفظ کے قوانین تو بہت اچھے لیکن ان پر ملدرآمد مسئلہ ہے ،عدالت نے طیبہ تشدد کیس نمٹا دیا اورکیس میں بچوں کی سمگلنگ سے متعلق درخواستیں الگ سے 2 ہفتوں بعد مقرر کرنے کا حکم دے دیا

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    ریویو آف ججمنٹس ایکٹ کیس اور پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواستوں کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس اور ریویو ایکٹ ساتھ سنتے ہیں، عدالت نے پی ٹی آئی وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسارکیا کہ سپریم کورٹ نظر ثانی نئے قانون پر آپ کا کیا موقف ہے ؟علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظر ثانی پر نیا قانون آئین سے متصادم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا تسلسل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کچھ درخواستیں آئی ہیں، ریویو ایکٹ کے معاملے کو کسی اسٹیج پر دیکھنا ہی ہے،اٹارنی جنرل کو نوٹس کر دیتے ہیں، ریویو ایکٹ پر نوٹس کے بعد انتخابات کیس ایکٹ کے تحت بنچ سنے گا،

    بیرسٹر علی ظفرنے عدالت میں کہا کہ عدالت پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس کا فیصلہ ریویو ایکٹ کیس کے فیصلے تک روک سکتی ہے، پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں دلائل تقریبا مکمل ہو چکے ہیں اسلیے کیس مکمل کر لینا چاہئے، عدالت نے کہا کہ اگر ریویو ایکٹ ہم پر لاگو ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل کو لارجر بنچ میں دوبارہ سے دلائل کا آغاز کرنا ہو گا .عدالت کیسے پنجاب انتخابات کیس سنے اگر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ نافذ ہو چکا ہے؟ آپ بتائیں کہ کیسے ہم پر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں لاگو نہیں ہوتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس کی سماعت ملتوی نہ کرے، نئے قانون کی شق 5 کا اطلاق پنجاب الیکشن کیس پر نہیں ہوتا ہے، مجھے امید ہے عدالت دونوں قوانین کو کالعدم قرار دے گی

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں پنجاب الیکشن کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،وکیل علی ظفر نے کہاکہ جی میں یہی کہنا چاہتا ہوں کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں کہ پنجاب انتخابات نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو الیکشن کمیشن کے وکیل نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس وسیع تراختیارات ہیں اپیل کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں پنجاب انتخابات نظرثانی کیس نیا نہیں اس پر پہلے بحث ہوچکی الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل نظرثانی کا دائرہ کار بڑھانے پر تھے انتخابات نظرثانی کیس لارجر بینچ میں جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل وہیں سے شروع کرسکتے ہیں انتخابات کا معاملہ قومی مسئلہ ہے 14 مئی کے فیصلے پرعملدرآمد ممکن نہیں مگر یہ فیصلہ تاریخ بن چکا عدالتی فیصلہ تاریخ میں رہے گا کہ 90 روز میں انتخابات لازمی ہیں دیکھنا تو یہ تھا کہ کیا انتخابات کے لیے 90 روز بڑھائے جا سکتے ہیں کیا 9 مئی کے واقعات کے بعد حالات وہ ہیں جو آئین میں انتخابات میں التوا کے لیے درج ہیں؟ ہر چیز تشدد اور زورزبردستی سے نہیں ہوسکتی، کیا نو مئی کے واقعات کے بعد 8 اکتوبر کو الیکشن ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل اس سوال کا جواب نہیں دے سکے، کیا آئینی احکامات کو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے؟ آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ آئین پاکستان کی ایک خوبصورت دستاویز ہے،

    علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر آئین مر چکا ہے آئین کی وفات کی دو وجوہات ہیں،ایک وجہ ہے کہ 90 روز میں انتخابات کے قانون کو فالو نہیں کیا گیا،دوسری وجہ ہے کہ انتخابات کروانے کے سپریم کورٹ کے واضح حکم پر عمل نہیں کیا گیا دو صوبے جمہوریت اور عوامی نمائندوں سے محروم ہیں، کروڑوں لوگوں کا کوئی منتخب نمائندہ نہیں، مجھے لگتا ہے آئین پاکستان کا قتل ہوچکا ہے، حکومت دو تین اور تین چار کا کھیل کھیلتی رہی، ہر گزرتا دن آئین کے قتل کی یاد دلاتا ہے،اس وقت ملک کے دو صوبے جمہوریت،اسمبلی اور عوامی نمائندگی کے بغیر ہیں،اس وقت آئین پر کوئی عمل نہیں ہے ،وزیراعظم ، چیف جسٹس پاکستان سمیت سب نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل جو بھی دلائل دیں اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی، جب ریویو ایکٹ پاس ہوا تو میں نے سینیٹ میں کہا کہ کیسے آئین سے متصادم قانون بنا رہے ہیں؟ سینیٹ سے 5 منٹ میں یہ ریویو ایکٹ پاس ہوا، بحث بھی نہیں ہوئی، عدلیہ کی آزادی سے متعلق قوانین صرف آئینی ترمیم سے بنائے جاسکتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کے خیال میں حکومت نے آرٹیکل 184 تین میں اپیل کا حق دیا جو خلاف آئین ہے،علی ظفر نے کہا کہ جو نکات مرکزی کیس میں نہیں اٹھائے گئے وہ نظر ثانی میں نہیں لائے جا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں آرٹیکل 184 تین سے متعلق اچھی ترامیم ہیں، صرف ایک غلطی انہوں نے یہ کی کہ آرٹیکل 184 تین پر نظر ثانی کو اپیل قرار دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات اچھی ہوئی کہ حکومت اور اداروں نے کہا عدالت میں ہی دلائل دیں گے جو قانونی ہیں، ورنہ یہ تو عدالت کے دروازے کے باہر احتجاج کر رہے تھے، اس احتجاج کا کیا مقصد تھا؟
    انصاف کی فراہمی تو مولا کریم کا کام ہے، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ اپیل کو نئے قانون میں نیا نام دیا گیا؟ علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل دونوں قانون میں الگ الگ چیزیں، آئن کے برخلاف جا کر ایک قانون میں رویو کو اپیل بنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے 184(3) پر، 14مئی کو انتخابات کا فیصلہ کو اب واپس لانا ممکن نہیں انتخابات تو نہیں ہوئے لیکن ہم نے اصول طے کردیے کن حالات میں انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں اور کن میں نہیں

    سپریم کورٹ نے انتخابات کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کردی ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ،سپریم کورٹ نے انتخابات کیس اور نئے قانون کیخلاف درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے صدر مملکت کو بذریعہ پرنسپل سیکر ٹری نوٹس جاری کر دیا،وزارت پارلیمانی امور اور سیکرٹری سینٹ کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عدالتی نظرثانی ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

  • کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،حافظ نعیم

    کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،حافظ نعیم

    کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ شہر قائد میں لوگ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلوں سے پریشان ہیں۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی مئیر کے معاملے پر جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ ن لیگ سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں پی ٹی آئی کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی جارہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کی اے ٹیم ہونے کا ثبوت دیا۔

    یہ تاثر نہیں ملنا چاہیےکہ نگراں حکومت طاقت میں رہنا چاہتی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہمارے وکلا نےکےالیکٹرک کےحوالےسےدرخواست میں دلائل دیئے بینچ نے ہماری 2015 کی درخواست سماعت کےلئےمقررکی جس پر ہم شکر گزار ہیں لیکن ہمیں ہائیکورٹ جانے کا کہا گیا، ہم سمجھتے ہیں کہ جیسا ہم نے ذہن بنایا ہوا تھا ویسی سماعت نہیں ہوئی۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان سےیہ اپیل کرتا ہوں کہ ٹھیک ہےآپ نےایک قانونی طریقےسےیہ کہہ دیا کہ ہائیکورٹ جائیں نیپراجائیں سپریم کوٹ میں توکراچی کےحوالےسےجو کیس چلتارہا اس میں اس وقت کےچیف جسٹس کےالیکٹرک سےمتعلق ریمارکس اور عدالتی کارروائی کا مطالعہ کریں تو پتا چلے گا کہ کراچی کےلوگ کتنےپریشان ہیں میں سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس ازخود اسے دیکھیں کہ یہ مفاد عامہ کا مسئلہ ہے۔ جسے کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا تو آخری عدالت سپریم کورٹ ہے-

    جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے سے یاسمین راشد کی بریت چیلنج

    حافظ نعیم نےمزید کہاکہ لوڈ شیڈنگ غلط ہورہی ہےمہنگی بجلی کراچی کو دی جارہی ہےسب سےزیادہ بل یہاں آتےہیں ہماری پٹیشن نجکاری کے حوالے سے تھی لیکن بات اب بہت آگے نکل چکی ہےاگر سپریم کورٹ مزید سماعت کرتی تو اضافی درخواست لگاتے جس میں ہم بتاتے کہ بجلی پیداوار میں اضافہ بھی نہیں ہوا۔

  • جماعت اسلامی قابل احترام ،پارلیمنٹ میں موجود، وہاں نجکاری کا ایشو اٹھائے،عدالت

    جماعت اسلامی قابل احترام ،پارلیمنٹ میں موجود، وہاں نجکاری کا ایشو اٹھائے،عدالت

    سپریم کورٹ میں کے الیکٹرک نجکاری کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی، دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 184 (3 ) کے کیسز میں ماضی میں بہت ساری چیزیں ہوئیں پاکستان سٹیل مل کا کیس بھی آرٹیکل 184 (3 ) کے تحت سنا گیا عدالت کے الیکٹرک کی نجکاری کیخلاف یہ مقدمہ کیوں ٹیک اپ کرے؟ جماعت اسلامی ہمارے لئے قابل احترام ہے،جماعت اسلامی پارلیمنٹ میں موجود ہے وہاں نجکاری کا ایشو اٹھائے،آرٹیکل 184 (3 ) کے تحت دی گئی یہ درخواست حکومت کی معاشی پالیسی کیخلاف ہے ،

    وکیل جماعت اسلامی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ فیل ہو جائے تو پھر عدلیہ کا آپشن باقی رہ جاتا ہے جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ناکام ہو گئی ایسا نہ کہیں پارلیمنٹ کا احترام کریں یہ معاملہ کورٹ میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں اٹھائیں ایسے اقدامات سے ہی پارلیمنٹ مضبوط ہو گی ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نجکاری کو کیسے منسوخ کرے، ہم کیسے کے ای ایس ای کی نجکاری کو منسوخ کردیں،وکیل رشید رضوی نے کہا کہ نجکاری کے معاہدے پر عمل نہیں کیا گیا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے ایسے معاملات نیپرا کو جائیں گے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کے ای ایس ای کی نجکاری کے معاہدے کو 184 (3 ) نہیں سن سکتے ان مقدمات کو متعلقہ فورمز پر جانا چاہئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس میں 2 ججز نے قانونی نکات کو اٹھایا ہے کتنی انویسٹمنٹ آئی کیا نتائج نکلے ہم اس کو نہیں دیکھیں گے یہ تجربہ کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں چیزوں کو منسوخ کرنا آسان جبکہ اکٹھا کرنا اور بنانا مشکل ہوتا ہے عوامی مسائل حل نہ ہونے کی ہی وجہ سے نجکاری کا عمل کیا گیا اس مرحلے میں تفصیل میں جانا مشکل ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اکنامک ایشوزسے دور رہنے کا لکھ دیا تو دوسرے فورمز بھی یہ کہیں گے بہتر ہے اس درخواست کو واپس لے کر متعلقہ فورم پر جائیں جماعت اسلامی کے سیاسی ہم آہنگی کے کردار کو سراہتے ہیں ،موجودہ کیس میں ہم نہیں جانا چاہتے ،عدالتی آبزرویشنز کے بعد وکیل رشید رضوی سمیت تمام نے درخواستیں واپس لے لیں ،سپریم کورٹ نے درخواستوں کو نمٹا دیا

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    سپریم کورٹ ،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل تھے،درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے ،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق آج ججز کیخلاف دائر اعتراضات پر دلائل ہونے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراضات پر دلائل شروع کریں

    اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ کس نقطے پر بات کرنا چاہیں گے؟ آپ ایک چیز مس کر ریے ہیں،چیف جسٹس پاکستان ایک آئینی عہدہ ہے، مفروضہ کی بنیاد پر چیف جسٹس کا چارج کوئی اور نہیں استعمال کر سکتا، اس کیس میں چیف جسٹس دستیاب تھے جنہیں کمیشن کے قیام سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا، چیف جسٹس کے علم میں نہیں تھا اور کمیشن بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ان نکات پر آپ دلائل دیں، اٹارنی جنرل نے بنچ پر اعتراض کی درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ عدالت نے حکم نامہ میں جن فیصلوں پر انحصار کیا وہ ججز کی جانبداری سے متعلق ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنسز ان فیصلوں کے دیے گئے ہیں جہاں متبادل نہ ہو تو فیصلہ مجاز فورم ہی کرتا ہے، ایسی صورتحال میں جانبداری کا الزام واحد دستیاب فورم پر نہیں لگ سکتا، چیف جسٹس کا عہدہ آئینی ہے جس کے انتظامی اختیارات بھی ہوتے ہیں، چیف جسٹس دستیاب نہ ہوں تو آئین کے تحت قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے اختیارات کسی اور کو تقویض نہیں کیے جا سکتے، موجودہ کیس میں کیا الزامات ہیں معلوم نہیں، چیف جسٹس نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کمیشن کیلئے ججز دستیاب ہیں یا نہیں، مفادات کا ٹکرائو ہو بھی تو چیف جسٹس آفس ہی فیصلہ کرے گا کیونکہ یہ آئینی عہدہ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک اعتراض بنچ کی تشکیل دوسرا کمیشن کے ٹی او آرز کی بنیاد پر ہے، چیف جسٹس کی جانب سے کمیشن کیلئے نامزدگی دوسرا اعتراض ہے، ججز ضابطہ اخلاق کے تحت موجودہ بنچ کے کچھ ممبران کیس نہیں سن سکتے، مفادات کا ٹکرائو ہو تو ججز کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانونی نکات پر بات کریں،عدلیہ کی آزادی کے نکتے اور ماضی کے عدالتی فیصلوں سے متفق ہیں یا نہیں پہلے یہ بتائیں،آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے بنچ کی تشکیل پر دلائل دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس نقطے پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازعہ ہیں؟ اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا کنفلکٹ ہے،میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں،دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر کا آڈیو لیکس سے تعلق ہے آپ تینوں ججز کیس نہ سنیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں پوچھے بغیر ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دے دیا گیا، یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس پر دلائل دیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا قانونی طور پر درست ہے جسے آڈیوز کی حقیقت کا نہیں پتہ وہ بنچ پر اعتراض اٹھائے؟ میں آپ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا پوچھ رہا ہوں وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کیوں کی، کیا ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بیان کے بعد تو اس وزیر کو ہٹا دیا جاتا یا وہ مستعفی ہوجاتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا ایک وزیر کا بیان پوری حکومت کا بیان لیا جا سکتا ہے؟میرے علم میں نہیں اگر پریس کانفرنس کسی نے کی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اتنے اہم ایشو پر کابینہ کی اجتماعی زمہ داری سامنے آنی چاہیے تھی، وزیر اگر چائے پینے کا کہے تو الگ بات، یہاں بیان اہم ایشو پر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے کہ وزیر داخلہ کا بیان نو مئی سے پہلے کا ہے یا بعد کا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واہ کیا خوبصورت طریقہ ہے اورعدلیہ کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے، پہلے ان آڈیوز پر ججز کی تضحیک کی پھر کہا اب ان آڈیوز کے سچے ہونے کی تحقیق کروا لیتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہوجائے گا کسی بھی جج کو کیس سے ہٹانا ہے تو اس کا نام لے کر آڈیو بنا دو،کیس سے الگ ہونے کے پیچھے قانونی جواز ہوتے ہیں، یہ آپشن اسلیے نہیں ہوتا کوئی بھی آکر کہہ دے جج صاحب فلاں فلاں کیس نہ سنیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اسی لیے اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آڈیوز کس نے پلانٹ کی ہیں، کیا حکومت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کون کر رہا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت کمیشن کے زریعے اس معاملے کو بھی دیکھے گی،کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں کمیشن کے زریعے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا،ابھی تو یہ معاملہ انتہائی ابتدا کی سطح پر ہے، وفاقی حکومت کے مطابق یہ آڈیوز مبینہ آڈیوز ہیں، وفاقی حکومت کا یہی بیان دیکھا جانا چاہیے،کابینہ کے علاوہ کسی وزیر کا ذاتی بیان حکومت کا بیان نہیں،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ اگر وزیر خزانہ کچھ بیان دے تو کیا وہ بھی حکومت کا نہ سمجھا جائے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی معاملہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز سے متعلق نکل آئے پھر یہ نظریہ ضرورت پر عمل ہوسکتا ہے،اگر تمام ججز پر سوال ہو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی نے تو سننا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے اپنے وسائل استعمال کر کے پتہ کیا کہ آڈیوز ریکارڈ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہیں؟ کون یہ سب کر رہا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نے آڈیوز کو مبینہ قرار دیتے ہوئے کمیشن تشکیل دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بدنام کرکے معاملہ حقائق جاننے کیلئے بھیج دیا گیا،واہ کیا خوبصورتی سے یہ کام کیا گیا، ججز کی تضحیک کی آخر کیا وجہ تھی؟ کابینہ نے خود کو ایسے بیانات سے الگ کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم میڈیا اور پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر آپ کو شرمندہ کریں؟ حقائق جانے بغیر ججز کی تضحیک کی گئی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سائل نے جج تبدیل کرانا ہو تو ایک آڈیو بنا کر لیک کروا دے گا، اکثر سائلین خود پیش ہوتے ہیں کیس نہ بنتا ہو تو جج پر الزام لگا دیتے ہیں،کیا ایسے موقع پر جج نظام انصاف کو دیکھے یا اٹھ کر چلا جائے اور کیس نہ سنے؟ کل کوئی جج کا نام لے کر ویڈیو بھی ٹوئٹر پر ڈال سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیوز کو پلانٹ کیا گیا حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ تعین کر سکے کس نے پلانٹ کیا، کمیشن بھی حکومت سے ہی معاونت لے گا، کیا حکومت نے آڈیوز کے حوالے سے کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے آڈیوز کیلئے کمیشن تشکیل دیا ہے کمیشن جس بھی ادارے کو کہے گا وہ معاونت کرینگے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کیس سننے والے سات میں سے چار ججز کی فون ٹیپنگ کی گئی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں صدر کے اختیارات کا سوال تھا،بینظیر کیس میں بینچ پر اعتراض نہیں ہوا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا اس کیس میں ججز نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا جن کی کالز ٹیپ ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کیس تعصب کا نہیں مفادات کے ٹکراو کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ اعتراض صرف جوڈیشل کاروائی پر بنتا ہے یا انتظامی امور کی انجام دہی پر بھی ہے؟ ایک ٹویٹر ہینڈل بار بار ایسا مواد جاری کر رہا ہے، یہ سوال ہے ایسی آڈیوز لیک کون کرتا ہے، جس ٹویٹر اکاؤنٹ نے یہ آڈیوز جاری کی اسکے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری اس سارے معاملے پر کوئی بدنیتی نہیں ہے، بنچ تبدیل ہونے سے کمیشن کے خلاف عدالت آئے درخواست گزاروں کا حق متاثر نہیں ہوگا،استدعا ہے کہ بنچ تبدیلی کی درخواست کو زیر غور لائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دو اور ججز پر بھی ہے، ہماری درخواست کا متن آپ کے سامنے ہے اس کا جائزہ لے لیں، کمیشن آڈیو سے متعلق تمام عوامل کا جائزہ لے گا۔وفاقی حکومت کا موقف ہے یہ آڈیوز مبینہ ہیں۔کسی نے پریس کانفرنس کی ہے تو اسکا انفرادی فعل ہے انفرادی فعل پر کابینہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر وزراء کے بیانات کو حکومت کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تحریری اعتراض جج پر اٹھایا جائے تو صورتحال مختلف ہوجاتی ہے ،وفاقی حکومت کا کسی جج کیخلاف تعصب کا نہیں ،وفاقی حکومت کا کیس ججز کے مفادات کے ٹکراو کا ہے ،ججز پر اعتراض کسی منفی مقصد کے تحت نہیں اٹھایا گیا

    اٹارنی جنرل نے دوران سماعت ارسلان افتخار کیس کا حوالہ دیا،اور کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں بنچ سربراہ جسٹس افتخار چوہدری تھے،ایک فریق کی استدعا پر جسٹس افتخار چوہدری نے خود کو بنچ سے الگ کر لیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دیگر دو ججز پر بھی ہے، کیا آپ دیگر دو ججز پر اعتراض واپس لینگے یا باری باری ہر جج پر دلائل دینگے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست اور اعتراضات کا متن عدالت کے سامنے ہے،بنچ کی تشکیل پر اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کر لئے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام آڈیوز 16 فروری کے بعد کی ہیں، عدالت نے انتخابات کا مقدمہ سننا شروع کیا تو آڈیوز آنا شروع ہوگئیں، ایک ہیکر کے اکائونٹ سے تمام آڈیوز لیک کی جاتی ہیںحکومت انتخابات کیس میں فریق ہے وہی کمیشن بھی بنا رہی ہے، پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آڈیوز ریکارڈ اور لیک کون کر رہا ہے، کمیشن کے ٹی او آرز میں آڈیوز ریکارڈ کرنے والے کا ذکر ہوتا پھر تو بات تھی، یہاں عدالت کے سامنے ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں سوال ایگزیکٹو کی عدلیہ میں مداخلت کا ہے، اس بنچ نے کسی کے حق میں یا خلاف فیصلہ نہیں دینا ایک تشریح کرنی ہے،جس بنیاد پر بنچ تبدیلی کی درخواست ہے وہ دیکھی، کیا ہم آڈیوز کو پہلے ہی تسلیم کر لیں؟یہ تو بلیک میلنگ کا بہت آسان طریقہ ہوجائے گا، کسی بھی فیک آدمی کے زریعہ جعلی آڈیوز بنوا دی جایا کریں گی،اس عدالت نے صرف الیکشن کرانے کا کہا تھا،اس پر آڈیوز آنے لگی اور ٹاک شوز میں کیا نہیں کہا گیا پیمرا اس دوران کہاں ہے دیکھ لیں پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیں،عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،عدلیہ کی آزادی بہت اہم ہے، لوگ عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں،لوگوں کے سیاسی نظریات پر ان کے بیاسی سال کے والد کو اٹھا لیا جاتا ہے،کیا عدلیہ میں ایگزیکٹو ایسے مداخلت کرے گی،

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • ایم ڈی پی ٹی وی کیس: درخواست گزاروں کو وکلا تبدیل کرنے کی اجازت

    ایم ڈی پی ٹی وی کیس: درخواست گزاروں کو وکلا تبدیل کرنے کی اجازت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ٹی وی کیس میں درخواست گزاروں کو وکلا تبدیل کرنے کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطا الحق قاسمی کیس کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی عدالت نے دائر نظر ثانی اپیلوں کو نمبر لگانے کا حکم دیا اور درخواست گزاروں کو وکلا تبدیل کرنے کی بھی اجازت دی۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہے گا،محکمہ موسمیات

    سپریم کورٹ نے عطا الحق قاسمی کے وکیل اور اسحاق ڈار کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی عدالت نے پرویز رشید کو بھی نیا وکیل کرنے کی اجازت دے دی۔

    وکیل نے عدالت سے کہا کہ نئے قانون کے مطابق نظرثانی اپیلوں میں ایڈیشنل حقائق بتانا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیا قانون نا فذ ہےآپ اس کے تحت درخواست دے سکتے ہیں، چاہیں تو نئے قانون کے مطابق نظرثانی دائر کریں۔

    پاکستان میں جب بھی شاپنگ کی دوکانداروں نے پیسے نہیں لئے،وریندر سہواگ

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ 184(3) کے تحت سنایا تھا، درخواست گزاروں کو نئے قانون کا فائدہ لینا چاہئے۔

  • سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر قانون چیلینج

    سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر قانون چیلینج

    سپریم کورٹ ،وفاقی حکومت کی جانب سے بنایا گیا نیا قانون بھی چیلینج کر دیا گیا

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر قانون چیلینج کردیا گیا ،ریاض حنیف راہی نے قانون کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی، ریاض حنیف راہی نے نئے قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی، سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں وفاق، وزارت پارلیمامی امور، وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڑرز قانون آئینی سے متصادم ہے،پارلیمنٹ عمومی قانون سازی سے نظر ثانی کا دائرہ اختیار نہیں بڑہا سکتی ، قانون کو آئین سے متصادم قرار دیکر خارج کیا جائے۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں آڈیو لیک کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست معاملہ ،ریاض حنیف راہی نے توہین عدالت درخواست پر رجسٹرار آفس اعتراضات پر اپیل دائر کردی ،اپیل میں کہا کہ جسٹس فائز عیسی آڈیو لیک کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی عدولی کی حکم عدولی پر کمیشن ارکان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، توہین عدالت درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بلا جواز ہیں توہین عدالت درخواست پر اعتراضات کو ختم کرکے توہین عدالت درخواست سماعت کیلئے مقرر کی جائے ریاض حنیف راہی کی توہین عدالت درخواست رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا کر واپس کردی تھی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیک کمیشن معاملہ ،مبینہ آڈیو لیک میڈیا پر نشرنہیں ہو سکتے،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست جمع کرادی ،صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے معاملے پراسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ لارجر بینچ کے سامنے رکھ دیا ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیکس کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے ریکارڈ سے متعلق متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبینہ آڈیو لیکس کو میڈیا پر نیوز آئیٹم بنانے سے روک رکھا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیک سے متعلق پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا سمن معطل کر رکھا ہے لاہور ہائیکورٹ غیر قانونی ریکارڈنگ کے ذمہ دار کیخلاف کارروائی کا حکم دے چکی ہے عدالتی فیصلوں کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے

  • نجکاری کو 18 سال ہو چکے،درخواست کو اپڈیٹ اوراپ گریڈ کرلیں، چیف جسٹس

    نجکاری کو 18 سال ہو چکے،درخواست کو اپڈیٹ اوراپ گریڈ کرلیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کے ای ایس سی کی نجکاری کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد سے بذریعہ ویڈیولنک کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ یہ پالیسی میٹر ہے اسکا دائرہ اختیار یہ کورٹ تو نہیں؟ میرا خیال ہے پہلے مناسب فورم پر جانا چاہیے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو ادارے کی نجکاری ہوچکی ہے اور ادارہ طویل عرصے سے کام کر رہا ہے ،وکیل جماعت اسلامی رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کئی معاملات حل طلب ہیں مجھے سنا جائےگا تو بتاؤں گا کہ سماعت کیوں ضروری ہے اس حوالے سے میں اہم نکات پر عدالت کی رہنمائی کرنا چاہتا ہوں

    دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری کو 18 سال ہو چکے ہیں کئی ڈویلپمنٹس ہوچکی ہیں آپ درخواست کو اپڈیٹ اوراپ گریڈ کرلیں تو اچھا ہے آپ پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیں پھر سپریم کورٹ آ جائیں سپریم کورٹ معاشی معاملات میں مداخلت نہیں کریگی معاشی معاملات میں سپریم کورٹ کو کوئی مہارت حاصل نہیں ویسے بھی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 184 کی شق 3 سے متعلق 2 قوانین بنائے ہیں پرانے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں تا کہ دیکھ سکیں کہ لائیو ایشو کیا ہے

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    ایڈووکیٹ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ لیبریونین کےخلاف درخواست بھی آئی ہے جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ کیس اس وقت ہمارے سامنے نہیں ہے وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کی جائے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں ججز پرنسپل سیٹ پر دستیاب نہیں ہوں گے آئندہ ہفتے ججز متعلقہ رجسٹریوں میں ہوں گے آپ ہدایات لے لیں کل کیس سنیں گے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج