Baaghi TV

Tag: شام

  • شام:اسرائیل کی طرطوس پر 2012 کے بعد سے اب تک کی شدید ترین بمباری

    شام:اسرائیل کی طرطوس پر 2012 کے بعد سے اب تک کی شدید ترین بمباری

    شام: اسرائیل کی جانب سے گذشتہ روز شام کے ساحلی شہر طرطوس پر 8 گھنٹے سے زائد تک شدید بمباری کی گئی جس کے باعث پورا علاقہ لرز اٹھا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ شب آٹھ گھنٹے سے زیادہ تک شام کے ساحلی شہر طرطوس کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس دوران میں زور دار دھماکے سنے گئے اور کئی مقامات سے آگ کے بلند و بالا شعلے اٹھتے دکھائی دیے،اسرائیل نے 10 سے زیادہ حملے کیے ،بمباری اتنی شدید تھی کہ حملے کا نشانہ بننے والے علاقے ریکٹر اسکیل پر تین کی شدت کے برابر جھٹکوں سے لرز اٹھے۔

    شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد” کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جن اہداف کو نشانہ بنایا ان میں فضائی دفاع کے یونٹ اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کے گودام شامل ہیں، گذشتہ رات ہونے والے یہ حملے 2012 سے اب تک کے شدید ترین حملے تھے۔

    ادھر طرطوس میں رہنے والے شامی فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا جب شہر کو اسرائیلی بم باری میں اتنے بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا اسرائیل نے ایسے میزائل استعمال کیے جو شاید پہلی مرتبہ شام پر بمباری میں استعمال ہوئے کہ دھماکوں کی آوازیں دس کلو میٹر سے زیادہ دوری تک سنی گئیں اس شدید بم باری کے سبب علاقے میں رہنے والے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    شامی فوج کے ایک سابق عہدے دار میجر جنرل کمال الموسی نے عرب میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں شامی فوج کے عسکری ساز و سامان کا 85 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ8دسمبر کو سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد سے اب تک اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں میں 500 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں ان کا مقصد شامی فوج اور مسلح فورسز کی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے-

  • شام:  روسی فضائیہ کی روانہ ہونیوالی  خصوصی پرواز   میں کون سوار تھا؟

    شام: روسی فضائیہ کی روانہ ہونیوالی خصوصی پرواز میں کون سوار تھا؟

    اتوار کے روز شام میں حمیمیم کے فضائی اڈے سے روسی فضائیہ کا ایک طیارہ روانہ ہوا جس میں سوار افراد سے متعلق روسی وزارت خارجہ نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی: روسی وزارت خارجہ کے مطابق اتوار کو اڑان بھرنے والے روسی فضائیہ کے طیارے میں روس، بیلا روس اور شمالی کوریا کے بعض سفارت کار سوار تھےطیارہ ماسکو کے قریب اترا تاہم وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ طیارے میں کتنے افراد سوار تھے۔

    روسی وزارت خارجہ میں بحرانات سے متعلق انتظامیہ نے ٹیلی گرام پر اپنے چینل پر بتایا ہے کہ دمشق میں روسی سفارت خانے کا کام جاری ہے،جبکہ روسی میڈیا نے بیلا روس کی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام سے بیلا روس کے تمام سفارت کاروں کو نکال لیا گیا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق ٹیلی گرام پر جاری بیان میں روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ 15 دسمبر کو دمشق میں سفارتی عملے کا ایک حصہ واپس بلا لیا گیا ہے، یہ افراد حمیمیم کے فضائی اڈے سے روانہ ہونے والے روسی فضائیہ کی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے چکالوسکی کے ہوائی اڈے پہنچے اسی طرح بیلا روس، شمالی کوریا اور ابخازیا کے سفارتی مشنوں کے بھی متعدد ملازمین کو اسی پرواز کے ذریعے شام سے نکال لیا گیا ہے، دمشق میں روسی سفارت خانے نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔

  • شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    شام میں دمشق یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے کھل گئے، جامعہ دمشق کے طلبہ نے جشن مناتے ہوئے بشار الاسد کا بڑا مجسمہ سڑک پر گھسیٹا۔

    الجزیرہ کے مطابق شام کی عبوری حکومت کی جانب سے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ اسکول اور یونیورسٹیاں بھی دوبارہ کھل گئی ہیں، جس کے بعد دمشق یونیورسٹی کے اندر تہوار کا ماحول دیکھا گیا، اور ہزاروں طلبہ نے جشن منایا۔سوشل میڈیا پر دمشق یونیورسٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں طلبہ کا ہجوم بشار الاسد کا ایک بہت بڑا مجسمہ گرا کر رسیوں سے باندھ کر سڑک پر گھسیٹ رہے ہیں، طلبہ نے مجسمے پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دیگر نعرے لگاتے رہے۔طالب علم عمر نورالدین نے میڈیا کو بتایا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیمپس ہر شعبے کے طلبہ سے بھرا ہوا ہے، یہ روشنی ہم 50 سال کی آمریت کے بعد محسوس کر رہے ہیں، ہم پورے کیمپس میں جشن منا رہے ہیں۔طالب علم نے کہا ’’ہم سب حکومت کے جانے کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ اس طرح چند ہی دنوں میں گر جائے گی۔ میں ہمیشہ ملک چھوڑنے کا خواب دیکھتا تھا، لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ مجھے اپنے ملک میں رہنا چاہیے اور اس کی تعمیر نو میں مدد کرنی چاہیے۔طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام سے باہر بہت سے شامی باشندے فوری طور پر وطن واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب شام اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ایک اور طالبہ فاطمہ سلیمان نے کہا ’’میں تعلیمی ادارے میں واپسی پر خوش ہوں، مثبت تبدیلی آئی ہے، اور میں بغیر کسی جانبداری اور اقربا پروری کے اپنے کام میں مشغول ہو سکتی ہوں، اور اپنی آواز بھی اٹھا سکتی ہوں۔‘‘

  • شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کی کارکردگی سے مشروط ہے،امریکا

    شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کی کارکردگی سے مشروط ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

    باغی ٹی وی : اردن میں عرب رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب، مصر، عراق، لبنان، قطر، امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ شریک ہوئےاجلاس میں شام میں تمام عسکری کارروائیاں روکنے اور ہر طبقہ فکر پر مشتمل جامع حکومت کی تشکیل پر زوردیا گیا جبکہ مقبوضہ گولان کو شام کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔

    اس حوالے سے اردن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل حماس کے خلاف ہدف حاصل کرچکا، اب یرغمالیوں کے لیے ڈیل کا لمحہ آگیا ہے۔

    شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہیئت تحریر الشام ملیشیا اور دیگر باغیوں سے رابطے میں ہیں، شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

    دوسری جانب ایرانی حمایت یافتی عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد گروپ اپنا سپلائی روٹ کھو چکا ہے،اسد کے دور میں، حزب اللہ نے شام کو ایران سے ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان عراق اور شام کے راستے لبنان میں لانے کے لیے استعمال کیا لیکن 6 دسمبر کو، اسد مخالف جنگجوؤں نے عراق کے ساتھ سرحد پر قبضہ کر لیا اور اس راستے کو کاٹ دیا، اور دو دن بعد، باغیوں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔

    نعیم قاسم نے ہفتے کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں اسد کا نام لیے بغیر کہا، ’حزب اللہ اس مرحلے پر شام کے ذریعے فوجی سپلائی کا راستہ کھو چکی ہے، لیکن یہ نقصان مزاحمت کے کام میں وقتی رکاوٹ ہے، ’نئی حکومت کے آنے کے بعد یہ راستہ بحال ہوسکتا ہے اور ہم دوسرے بھی راستے تلاش کر سکتے ہیں۔‘

  • امید ہے کہ شام کے نئےحکمران بھی اسرائیل کو دشمن ہی تسلیم کریں گے ،سربراہ حزب اللہ

    امید ہے کہ شام کے نئےحکمران بھی اسرائیل کو دشمن ہی تسلیم کریں گے ،سربراہ حزب اللہ

    بیروت: لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد حزب اللہ نے ایران سے شام کے راستے ہونے والی عسکری سپلائی کا راستہ فی الحال کھو دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہا کہ شام کو خطرناک توسیع پسند دشمن کا سامنا ہے اور شام میں گولان پہاڑیوں کے بفرزون پر اسرائیلی فوج کا قبضہ اس کا ثبوت ہے امید ہے کہ شام کے نئےحکمران بھی اسرائیل کو دشمن ہی تسلیم کریں گے اور اسرائیل سے معمول کے تعلقات نہیں بنائیں گے۔

    حزب اللہ سربراہ نے کہا کہ شام کےحالات کو مستحکم کرنے تک شامی باغیوں کے بارے میں رائےقائم نہیں کرسکتے، امید ہے نئی شامی حکومت تمام فورسز اور جماعتوں کو حکومت میں شامل کرےگی، یہ بات ٹھیک ہے کہ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد حزب اللہ کا شام سےعسکری سپلائی کا راستہ فی الحال ختم ہو چکا مگر امید ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد یہ راستہ پھر بحال ہوجائے گا یا ہم نئے راستے تلاش کریں گے۔

  • چند گھنٹوں میں  اسرائیل کے شام پر 60 سے زائد حملے

    چند گھنٹوں میں اسرائیل کے شام پر 60 سے زائد حملے

    دمشق:گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے شام پر 60 سے زائد حملے کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :بشار الاسد اور ان کی حمایت یافتہ فوج کے فرار ہونے کے بعد اسرائیل مسلسل شامی فوج کے اسلحے کے ذخائر اور فوجی سازوسامان کو تباہ کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں میں شام کے فوجی ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر 61 میزائل حملے کیے گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم نے شام پر چند گھنٹوں میں ان تازہ ترین اسرائیلی حملوں کو رپورٹ کیابرطانیہ میں موجود تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران شام کی سرزمین پر 60 سے زائد حملے کیے ہیں، اسرائیل نے ہفتے کی شام 5 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شام کے فوجی ٹھکانوں پر 61 میزائل داغے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی شام پر جارحیت کا یہ سلسلہ تقریبا ایک ہفتہ قبل باغی افواج کی جانب سے ملک کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام کے بااختیار رہنما احمد الشرع نے اسرائیل کی جانب سے شامی سرزمین پر قبضے اور جاری حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی،ان کا کہنا تھا کہ شام اب ایک اور نئے تنازع میں الجھنے کے لیے بہت تھک چکا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج شام کے شہر قنیطرہ میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقہ جبری خالی کرانے کےلیے پانی و بجلی اور سڑکوں کا نظام تباہ کردیا ہے۔

  • شام میں ترکیے کا سفارت خانہ  12 سال بعد دوبارہ  فعال

    شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال

    دمشق: شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال ہو گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ہفتے کے روز ترکیے کے سفارتی مشن نے 12 سال کے وقفے کے بعد اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں اور ترکیے کا پرچم سفارتخانے پر لہرایا گیاسفارتی مشن شروع ہونے کے بعد ترکیے نے شام میں برہان کور اوغلو کو ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیے نے سابق صدر بشارالاسد حکومت کے خلاف 2011 میں مظاہرے کرنے والوں پر بدترین کریک ڈاؤن کے خلاف 2012 میں شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں روک دی تھیں جبکہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اب استنبول میں شامی قونصلیٹ جنرل نے بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں،گزشتہ دنوں شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے دارالحکومت دمشق پر کنٹرول اور شامی صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد ترکیہ میں شامی قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا تھا-

  • شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    دمشق: شام میں اپوزیشن فورسز ہیئت تحریر الشام اور اتحادی گروپوں کے سربراہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام ہونے والی تبدیلی خطے میں ایران کے خطرناک منصوبے کے خلاف بڑی کامیابی ہے،جبکہ یہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصو بہ بندی کا نتیجہ ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق احمد الشرع نے کہاکہ ایران کے منصوبے خطے کے عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوئے، ایرانی عوام سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،سابق صدر بشار الاسد نے منشیات کی پیداوار میں عالمی ریکارڈ قائم کیا، روس بشارالاسد کی گرتی ہوئی ساکھ سے بیزار ہونےلگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ خط وکتابت کےذریعے روس کےساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی ہےاور روس کو نئےسرے سے تعلقا ت قائم کرنےکا موقع فراہم کیا ہے،موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی بلکہ کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، شام کےعلاقوں اور شہرو ں پر اپوزیشن فورسز کے قبضوں کےدوران کوئی نقل مکانی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل ایران کے بہانے شام میں مداخلت کرتا آیا ہے، اب شام میں غیرملکی مداخلت کا کوئی وجود نہیں رہا، اسرائیل کیلئے غیرملکی مداخلت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے دعویٰ کیا تھاکہ شام میں بشارالاسد حکومت کاخاتمہ امریکا، اسرائیل اور شام کے پڑوسی ملک کے منصوبےکا نتیجہ ہےشام میں باغی گروپوں کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں ،شام کے ہر باغی گروپ کے اپنے علیحدہ مقاصد اور ایجنڈا ہے، وقت ثابت کرےگا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہيں ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، فتنہ داعش کے دوران ایران کی شام میں موجودگی کا مقصد مقدس مقامات کا تحفظ تھا، ایران کی موجودگی کا مقصد امن قائم کرنے میں شامی حکومت کی مدد کرنا تھا۔

  • اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے چند گھنٹے بعد ہی شام کے تمام فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آغاز کر دیا تھا، تاکہ وہ ان اثاثوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں آنے سے بچا سکے۔

    اسرائیل کی فوج نے شام میں تقریباً 500 مقامات پر بمباری کی، شام کی بحریہ کو تباہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام کی معروف سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کا 90 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا سب سے اہم اور دیرپا اقدام شام کے بلند ترین پہاڑ، جبل حرمون کی چوٹی پر قبضہ کرنا ہو سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اس کا قبضہ عارضی ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہر ایفرایم انبار، جو یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹرٹیجی اینڈ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ جبل حرمون علاقے کا سب سے بلند مقام ہے، جو لبنان، شام اور اسرائیل پر نظر رکھتا ہے۔ انبار نے کہا، "یہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ پہاڑوں کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔”

    جبل حرمون کی چوٹی شام میں واقع ہے اور یہ ایک بفر زون میں آتا تھا، جو اسرائیلی اور شامی افواج کے درمیان 50 سال تک تقسیم کا باعث رہا۔ تاہم، پچھلے اتوار تک یہ بفر زون غیر فوجی تھا اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جو دنیا کی سب سے بلند مستقل نگرانی کے مقام پر تعینات تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع، اسرائیل نے جمعہ کے روز فوج کو حکم دیا کہ وہ موسم سرما کی سختیوں کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے کہا، "شام کی صورت حال کے پیش نظر جبل حرمون کی چوٹی پر ہمارے کنٹرول کو برقرار رکھنا ہماری سیکیورٹی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔” اسرائیلی فوج جبل حرمون کی چوٹی سے آگے بھی پیش قدمی کر چکی ہے اور بقااسم تک پہنچ چکی ہے، جو دمشق سے تقریباً 25 کلومیٹر (15.5 میل) دور ہے، تاہم یہ دعویٰ وائس آف دی کیپیٹل، ایک شامی کارکن گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ سی این این نے اس دعویٰ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس ہفتے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی افواج "دمشق کی طرف بڑھ رہی ہیں۔”

    اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا، جو جبل حرمون کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور تب سے اس پر قابض ہے۔ شام نے 1973 کی جنگ میں اس علاقے کو واپس لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ اسرائیل نے 1981 میں گولان کو اپنی سرزمین میں ضم کر لیا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قبضہ غیر قانونی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ نے گولان پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا۔

    اسرائیل نے دہائیوں تک جبل حرمون کے نچلے ڈھلوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہے اور یہاں ایک اسکی ریزورٹ بھی قائم کیا ہے، تاہم چوٹی ہمیشہ شام کے اختیار میں رہی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔”

    جبل حرمون کی چوٹی اسرائیل کے لیے ایک زبردست اثاثہ ہے۔ یہ 2814 میٹر (9232 فٹ) بلند ہے اور یہ نہ صرف اسرائیل یا شام کا سب سے بلند مقام ہے بلکہ لبنان کے ایک پہاڑ سے بھی اونچا ہے۔

    ایفرایم انبار نے 2011 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس میں جبل حرمون کی کئی اہمیتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پہاڑ اسرائیل کو شام کی گہرائیوں میں الیکٹرانک نگرانی کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو بروقت خبردار کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی والے متبادل جیسے فضائی نگرانی کے آلات، پہاڑ پر نصب تنصیبات کی مانند مؤثر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان میں بڑے اینٹینا نصب نہیں کیے جا سکتے اور یہ دشمن کی زمین سے مار کرنے والی میزائلوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف اور شام کی مستقبل کی صورتحال

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل شام کے نئے حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے "ہاتھ بڑھا رہا ہے”۔ لیکن 7 اکتوبر کے بعد کے عالمی منظر نامے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اسرائیل زیو نے کہا، "یہ زیادہ تر ہمارے لیے تسلی کی بات ہے۔ ہم نے دیگر ممالک میں دیکھا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیمیں فوجی سازوسامان پر قابض ہو جاتی ہیں تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔”نیتن یاہو نے کہا کہ جبل حرمون پر اسرائیل کا قبضہ عارضی ہے اور اسرائیل کبھی بھی جہادی گروپوں کو اس خلا کو پُر کرنے اور گولان کی بلندیوں پر اسرائیلی کمیونٹیز کو 7 اکتوبر جیسے حملوں کا سامنا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایسا کوئی فوجی دستہ قائم ہونا ضروری ہے جو 1974 کے معاہدے پر عمل پیرا ہو اور جو سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ اسرائیل کب اس علاقے سے پیچھے ہٹے گا۔ ایفرایم انبار کے مطابق، "یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ فوج وہاں رہنا پسند کرے گی۔”

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

  • بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشارالاسد کے ماسکو فرار ہونے کے بعد روس نے شام کو گندم کی سپلائی معطل کردی۔

    روسی اور شامی ذرائع نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شام کو روسی گندم کی سپلائی نئی حکومت کے بارے میں غیریقینی صورتحال اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے معطل کر دی گئی ہے۔شام کے لیے روسی گندم لے جانے والے دو جہاز اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ سکے۔روس، دنیا کا سب سے بڑا گندم برآمد کرنے والا ملک اور بشار الاسد کا کٹر حامی تھا اور اس نے شام اور روس دونوں پر عائد مغربی پابندیوں کو ناکام بناتے ہوئے پیچیدہ مالیاتی اور لاجسٹک انتظامات کے ذریعے شام کو گندم فراہم کی تھی۔حکومت کے قریبی ایک روسی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ شام کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے کیونکہ برآمد کنندگان اس بات پر غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں کہ دمشق میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد شام کی جانب سے گندم کی درآمد کا انتظام کون کرے گا۔شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بحری جہاز، میخائل نیناشیف، شام کے ساحل پر لنگر انداز ہے، جب کہ دوسرا، الفا ہرمیس، کئی دنوں تک شام کے ساحل سے دور رہنے کے بعد مصری بندرگاہ اسکندریہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    کراچی فراہمی و نکاسی آب کیلئے 24 کروڑ ڈالر منظور

    محض شک کے بنا پرشوہر نے حاملہ بیوی کو نہر میں پھینک دیا