Baaghi TV

Tag: صحت

  • لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر عبدالواحد بلوچ نے کہاھےکہ لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ھےاس سلسلے میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف دلجمی اور احسن طریقے سے اپنا فرض منصبی انجام دیں تاکہ لوگوں کو فوری اور بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن ان خیالات کا اظہار انہوں مختلف مراکز صحت کے دورہ کے دوران ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نرسز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ھے.

    ضلعی افسر صحت نے جن مراکز کا دورہ کیا ان میں بنیادی مراکز صحت شادوبند ، سی ڈی شمبے اسماعیل ، بی ایچ یو گھٹی ڈور اور آر ایچ سی سر بندن شامل ہیں دورہ کے دوران انہوں نے مراکز صحت کے اسٹاف کی حاضریاں چیک کرنے کے ساتھ ساتھ اور دوسرے شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اس کے علاؤہ ای پی سینٹر کے شعبے کو چیک کیا انہوں نے محدود اسٹاف کے ساتھ ان سینٹروں کی کارکردگی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا مراکز صحت کو مذید بہتر کیا جائےساتھ میں اسٹاف کو بھی تنبیہ کیا کہ وہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو بہتر سے بہتر صحت کی سہولیات فراہم کریں اور ای پی آئی انچارج کو ہدایت کی کہ اپنی آؤٹ ریچ سیشن کو اور بہتر طریقے سے موثر بنائیں تاکہ ڈسٹرکٹ کے اندر کوئی بھی بچہ بغیر ویکسینیشن کے نہ رہے جو کہ بچوں میں سب سے بہتر اور موثر طریقے سے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ ہے .

    ضلعی افسر صحت نے سینٹروں میں نیوٹریشن پروگرام کی ریکارڈ کو چیک کیا اور اس سلسلے میں ایک بریفنگ میں بھی شرکت کی اور تاکید کی کہ اپنے اپنے کیچمنٹ ایریا پاپولیشن میں کمزور اور خوراک میں کمی کے شکار ہونے والے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ڈھونڈیں اور ان کو UNICEF کی طرف سے دیئے گئے مفت اور صحت مند خوراک کو انہی کمزور بچوں تک پہنچائیں۔ اس انہوں نےکہا کہ ہیسپتال بیلانگ، اسٹاف کوارٹرز اور اسٹاف کی کمی کا ایک جامع رپورٹ بنا کر سیکٹری ہیلتھ کو ارسال کیا گیا ہے اور ساتھ میں مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ کے اندر خالی پوسٹوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے تاکہ ہیلتھ سینٹرز کو اسٹاف کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے جو اس وقت بہت بڑا مسلہ ہے اور خاص طور پر آر ایچ سی سر بندن جہاں اس وقت کوئی ڈاکٹر پوسٹ نہیں ہے اور آر ایچ سی کو اسٹاف کی بھی کمی کا سامنا ہے ۔

    سر بندن دورے کے دوران انہوں نے ملیریا اسپرے کی دوائیاں سر بندن کے کونسلر کے حوالے کیے اور ہر طرح کی تعاون کی یقین دہائی کرائی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے اندر غیر استعمال جمع شدہ پانی کا جائزہ لیا تاکہ ان جگہوں میں جلد سے ملیریا اور ڈینگی مچھر کی افزائش کو کنٹرول کرنے کے لیے larvaeciding کی جائے ۔

  • ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کرونا وائرس کی شرح تین فیصد سے تجاوز کرگئی

    قومی ادارہ برائے صحت (این ایچ آئی ) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور کیسز یومیہ 400 سے تجاوز کرگئے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران کوروناکے13 ہزار644 ٹیسٹ کیےگئے جس میں سے 435 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور شرح 3.19 فیصد رہی جب کہ اس دوران کورونا سے ایک ہلاکت بھی سامنے آئی۔


    قومی ادارہ برائے صحت کےمطابق کورونا میں مبتلا 87 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل نے ملازمین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں خوشبری سنائی کہ: ملازمین کی سول سرونٹس برقرار رکھنے کے لیے پمز کے 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کروانے کیلئے ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
    ان خیالات کا اظہار وزیر صحت نے پمز ملازمین کے احتجاج میں جاکر کیا جس پر ملازمین نے دس روز سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے اس عمل کو سراہا۔
    واضح رہے کہ: پمز ملازمین نے متنازع قانون ایم ٹی آئی کیخلاف دس روز سے احتجاج کررہے تھے۔ تاہم اب وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اوپی ڈیز کی سروسز بحال کردی ہیں۔

    پمز کے ایک ملازم وسیم ارشاد کے مطابق: وزیر صحت عبدالقادر پٹیل پمز ہسپتال میں تشریف لائے اور ایم ٹی آئی جیسے کالے قانون کا خاتمہ کر نے کی یقین دہانی کرائی ۔
    انہوں نے مزید کہا: وزیر صحت نے کہا بہت جلد ترمیمی بل سینٹ سے منظور کروا کر پمز کے 2018 والے وفاقی سٹیٹس کو بحال کیا جاے گا لہذا نکی اس یقین دہانی پر احتجاج پیر تک موخر کرنے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • وزارت صحت کے منصوبوں کے لئے 12650.997 ملین روپے کے فنڈز

    وزارت صحت کے منصوبوں کے لئے 12650.997 ملین روپے کے فنڈز

    مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت وزارت صحت کے لئے33جاری اور 9 نئے منصوبوں اور سکیموں کے لئے مجموعی طور پر 12650.997 ملین روپے مختص کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

    پی ایس ڈی پی کے اعداو شمار کے مطابق جاری منصبوں کے لئے مجموعی طور پر 10501.622 ملین روپے مختص کئے گئے ، جبکہ نئے منصوبوں کے لئے 2149.375 ملین روپے مختص کئے گئے۔جاری منصوبوں گلگت بلتستان کے کاندانی منصوبہ بندی و بنیادی صحت کے منصوبہ کے لئے 49 ملین روپے ،نرم ہسپتال اسلام آباد میں نئی مشینری اور آلات کی خریداری کے لئے 396.993 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    جاری منصوبوں میں وزیراعظم صحت سہولت پروگرام کا نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام فیز ٹو کا منصوبہ شامل ہے جس کے لئے جاری منصوبوں میں سب سے زیادہ رقم 2100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح متعدی امراض کی نگرانی اور تیاری کے نظام کے لئے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    راولپنڈی میں 200 بیڈ پر مشتمل گائنی کے پیچیدہ امراض کے علاج کے مرکز کی تعمیر کے لئے 800 ملین روپے مختص کئے گئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال میں ایمر جنسی اور شعبہ حادثات کے 200 بستروں پر مشتمل عمارت کی تعمیر کے لئے بھی 900 ملین روپے رکھے گئے ہیں ،اس طرح اسلام آباد میں 4 بنیادی صحت کے مراکز کی تعمیر کے لئے 162.992 ملین روپے ،جناح ہسپتال اسلام آباد ( فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز ٹو جی الیون تھری اسلام آباد کی فیزبلٹی کے لیے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے۔

    بری امام کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کی تعمیر کے لئے 168 ملین روپے، زچہ بچہ سینٹر گھوڑا شاہان ہمک کی تعمیر کے لئے 182.868 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ متعدی امراض کے تدارک کے نظام کو مستحکم بنانے کے لئے 169.599 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان آف پاپولیشن کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    مجموعی طور پر نئی سکیموں کے لئے 2149.375 روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی سکیموں میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کیلئے 250 ملین، کامن مینجمنٹ یونٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے 500 ملین روپے مختص کئے گئے تاکہ ٹی بی، ایڈز اور ملیریا جیسی بیماریوں پر کنٹرول کیا جا سکے

  • افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    تربوز ایسا پھل ہے جو درجہ حرارت بڑھنے پر جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اسے دیکھنا ہی ذہن کو تروتازہ کردیتا ہے جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تربوز میں موجود اجزا جیسے لائیکوپین، پوٹاشیم اور فائبر سمیت دیگر مختلف فائدے پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

    گرمیوں کے موسم میں روزے کی وجہ سے انسانی جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے، تاہم تربوز کو افطاری کا حصہ بنانے سے نہ صرف اپنے جسم میں پانی کی مقدار کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ کئی طرح کے فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    پانی کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث تربوز ہیٹ اسٹروک سے بچاتا ہے، یہ ان چند پھلوں میں سے ایک ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے جبکہ گرمی سے جلن کے احساس پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے تربوز وٹامن بی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں توانائی کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں مگر توانائی زیادہ، جو دن بھر جسمانی طور پر متحرک رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

    تربوز میں موجود پوٹاشیم دن بھر کی مصروفیات کے باوجود تھکاوٹ کے احساس کو دور رکھتا ہے علاوہ ازیں پوٹاشیم جسم میں کیلشیئم کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کہ مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری جز ہے۔

    تربوز میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین جسم کو نزلہ زکام اور فلو سے لڑنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں میں دمہ کی علامات کو بھی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

    تربوز میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اس کے علاوہ تربوز میں موجود فائبر بھی ہاضمے کی کارکردگی بڑھاتا ہے جبکہ قبض کی روک تھام کرتا ہےتربوز پیشاب کی روانی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے مگر گردوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی طرح یہ پھل جگر کے افعال جیسے امونیا کے اخراج میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس میں خرابی کی صورت میں اضافی سیال مواد بڑھتا ہے اور گردوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔

    تربوز میں موجود لائیکو پین خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے جبکہ یہ ہڈیوں کی صحت کو بھی بہتر بنا ہے تربوز کا زیادہ استعمال خون کی شریانوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے کیونکہ اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کی سطح معمول پر آتی ہے-

    تربوز میں مختلف اجزاءجیسے فلیونوئڈز، کیروٹین اور دیگر شامل ہوتے ہیں، کیروٹین جسم میں ورم کی سطح میں کمی لانے اور مضر صحت اجزاءسے نجات میں مدد دیتا ہے۔ اس میں شامل tripterpenoid بھی ورم کش ہوتا ہے اور ایسے انزائمے روکتا ہے جو کہ جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر ین کا کہنا ہے کہ رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نےحال ہی میں کراچی میں آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 کے دوسرے روز سائنٹیفک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے کیس کم ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے-

    دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرز کی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چکھنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔

    گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بلال جمیل کا کہنا تھا کہ گردوں کی بیماری کا شکار ایسے مریض جنہیں دل کی بیماری بھی لاحق ہو، انہیں روزے رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن صرف گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر مسرت ریاض کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق ایسی حاملہ خواتین جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں اپنی صحت یا اپنے ہونے والے بچے کو کسی طرح کا ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن چونکہ اکثر حاملہ خواتین روزہ رکھنے پر اصرار کرتی ہیں، اس لیے انہیں اپنی گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جو کہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے-

    ہر نمازکے بعد اللہ تعالیٰ کے 3 ناموں کا ورد، داغ دھبے اور دانے ہمیشہ کے لئے ختم

    دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھو کر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا تاہم مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں-

    فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسےمریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

  • دہی خواتین  کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    غذائی ماہرین کے مطابق دہی وٹامن سے بھر پور غذا ہے، دہی میں صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں، طبی لحاظ سے بھی دہی نا صرف خاصا مفید اثرات کا حامل ہے بلکہ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اس کا ایک کپ روزانہ کھانے سے جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 5، آیوڈین اور زنک کی کمی دور ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق دہی کے استعمال سے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ پائی جانے والی بیماری ’اوسٹیو پروسس‘ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے اور طویل عمری میں گھٹنوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دہی کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیلشیم جسم میں موجود چربی کو پگھلاتا اور وزن کو بڑھنے سے روکتا ہے دہی میں چکنائی اور کیلوریز انتہائی کم مقدار میں پائی جاتی ہیں، ایک کپ دہی میں صرف 120 کیلوریز ہوتی ہیں-

    دہی میں دیگر ضروری غذائی اجزاء جیسے کہ پروٹین بھی پایا جاتا ہے جسے انسانی پٹھوں کی نشونما کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے۔دہی کے 100 گرام مقدار میں ہزاروں گُڈ بیکٹیریاز کے ساتھ 59 کیلوریز، 0.4 فیصد گرام فیٹ، 5 ملی گرام کولیسٹرول، 36 ملی گرام سو ڈیم ، 141 ملی گرام پوٹاشیم ، 3.2 گرام شوگر، 11 فیصد کیلشیم ، 13 فیصد کوبالمین، 5 فیصد وٹامن بی 6 او 2 فیصد میگنیشیم پایا جاتا ہے، اسلئے غذائیت سے بھرپور دہی خواتین خصوصاً حاملہ خواتین کے لیے بے حد مفید قرار دیا جاتا ہے ۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    ماہرین کے مطابق دہی میں شامل کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور خصوصاً خواتین کو اِن ہی دو وٹامن اور منرل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کا روز مرہ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ ہڈیوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

    دہی میں موجود خصوصی اینٹی آکسائیڈز جلد کو بہتر نشوونما فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ جلد میں موجود ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ کرتے ہیں دہی میں موجود قدرتی صحت بخش اجزاء کی خصوصات جلد کو صحت مند اور بالوں کو مضبوطی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس میں بڑی مقدار میں (لیکٹک ایسڈ) کی خوبی موجود ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کی نگہداشت وحفاظت کے لیے بہت کارآمد ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دہی میں حیرت انگیزطورپر فری ریڈیکلز کوکنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاؤ کی خصوصیات بھی رکھتا ہے جو جلد پر باریک لکیروں اور جھریوں کو نمودار ہونے سے روکتا ہے دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ قبل ازوقت جلد کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

    جلد کو جھریوں سے دور، جوان، چمکدار کرنے کے لیے ایک چمچہ زیتون کا تیل اور تین چمچے دہی کو مکس کرکے 30منٹ تک چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں اس فیس پیک کو ہفتے میں تین بار ضرور استعمال کرنے سے جلد ملائم، نکھری نکھری تروتازہ ہو جائے گی۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

  • بیٹی کی لاش کندھےپراٹھا کر10کلومیٹرپیدل سفرکرنےوالےباپ کی دردناک کہانی نےسب کورُلا دیا

    بیٹی کی لاش کندھےپراٹھا کر10کلومیٹرپیدل سفرکرنےوالےباپ کی دردناک کہانی نےسب کورُلا دیا

    نئی دہلی: بھارت میں بیٹی کی لاش کندھے پراٹھا کرپیدل گھرلے جانے والے باپ کی ویڈیو نے دیکھنے والوں کورلا دیا۔

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے رہائشی ایشورداس نے تیز بخار میں مبتلا اپنی 7سالہ بیٹی کو ڈسٹرکٹ اسپتال میں داخل کیا تھا جہاں چند گھنٹوں بعد وہ چل بسی۔سرکاری اسپتال کی انتظامیہ نے بچی کے باپ کو ایمبولینس فراہم نہ کی تومجبورا باپ کو بیٹی کی لاش کندھے پررکھ کرگھرلے جانا پڑا۔ باپ نے بیٹی کی لاش کولے کر10کلومیٹرپیدل سفرکیا۔

    مجبورباپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔سوشل میڈیا صارفین نےاسپتال اورمقامی انتظامیہ کوہٹانے کا مطالبہ کیا۔مقامی وزیرصحت نے استعفیٰ دینےکےبجائے ذمہ دارباپ کے اوپرکے ڈال دی کہ انہیں لاش لےجانےکےلئے ایمبولینس کا انتظارکرنا چاہئیے تھا۔

     

    یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بھارت میں درجنوں ایسے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں جس میں بےبس ماں باپ اپنے دنیا سے کوچ کرجانےوالے بچوں کو ایسے ہی کندھوں پر اٹھاکرمیلوں‌ لمبا سفرپیدل طئے کرکے گھرواپس پہنچتے ہیں

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کےبرابرہیں اور صحت کا نظام صرف طاقتوروں کو ہی سپورٹ کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امیروں کے لیے تمام ترسہولیات ہیں جبکہ غریبوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں

     

  • وزیر اعلی پنجاب کا ڈاکٹرز کے لئے سال نو کا تحفہ

    وزیر اعلی پنجاب کا ڈاکٹرز کے لئے سال نو کا تحفہ

    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈاکٹرز کے لئے سال نو کا تحفہ دیا ہے

    وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے ایڈہاک ڈاکٹروں و دیگر سٹاف کے لئے بڑے ریلیف کا اعلان کیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کے ایڈہاک ڈاکٹرز و دیگر سٹاف کی ملازمتوں میں ایک برس کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعلی عثمان بزدار نے ایڈہاک ڈاکٹرز و دیگر سٹاف کی ملازمتوں میں ایک برس توسیع کی منظوری دے دی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے اس اقدام سے ہزاروں ایڈہاک ڈاکٹرز و دیگر سٹاف کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا ،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایڈہاک ڈاکٹرز و دیگر سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی بروقت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے،

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کے ایڈ ہاک ڈاکٹرز و دیگر سٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی میں حائل رکاوٹوں کودور کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں – دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ایڈہاک ڈاکٹرزکے مسائل کا پورا احساس ہے-تحریک انصاف کی حکومت آئندہ بھی ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی- شعبہ طب کی بہتری کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ایڈہاک ڈاکٹرزو دیگر سٹاف کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔پنجاب حکومت ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی خدمات کو سراہتی ہے-

    نئے سال کی آمد-محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب کی جانب سے ڈاکٹروں کو ترقیوں کا تحفہ ،محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے 36 ایسوسی ایٹ پروفیسرز کو پروفیسر کے عہدوں پر ترقی دے کر مختلف میڈیکل اداروں میں تعینات کر دیا۔

    19 پروفیسرز آف سرجری کے عہدوں پر ترقی پانے والوں میں ڈاکٹر یاسمین رفیع کو سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں، ڈاکٹر عندلیب خانم کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر وسیم حیات خان سمز ، ڈاکٹر عطاء اللطیف ساہیوال میڈیکل کالج، ڈاکٹر محمد شاکر علامہ اقبال میڈیکل کالج، ڈاکٹر منور جمیل قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور، ڈاکٹر نوید اختر نشتر میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر آمنہ جاوید پی جی ایم آئی، ڈاکٹر نوید اختر ملک راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر وقاص رضا گوجرانولہ میڈیکل کالج، ڈاکٹر محمد اکرم فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر رحمان گلزار علامہ اقبال میڈیکل کالج، ڈاکٹر حریت افضل علامہ اقبال میڈیکل کالج، ڈاکٹر اجمل فاروق کو صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ، ڈاکٹر نذیر احمد کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر محمد کامران صفدر میڈیکل کالج، ڈاکٹر لیاقت علی بھٹی ڈی جی خان میڈیکل کالج، ڈاکٹر عمران اسلم قائد اعظم میڈیکل کالج اور ڈاکٹر نادر محمود کو پروفیسر آف سرجری ساہیوال میڈیکل کالج میں تعینات کردیا گیا ہے۔

    پروفیسرز آف گائنی کے عہدوں پر ترقی پانیوالے 10 پروفیسروں میں ڈاکٹر کرن خورشید ملک کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر ماہلیکہ مقصود سمز، ڈاکٹر سلمہ جبیں قائد اعظم میڈیکل کالج، ڈاکٹر نزہت رشید شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان، ڈاکٹر روبینہ کوثر کو سمز، ڈاکٹر روبینہ طارق گوجرانولہ میڈیکل کالج، ڈاکٹر جمشید فیروز قائد اعظم میڈیکل کالج، ڈاکٹر مہر النساء فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر طلعت فرخندہ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی اور ڈاکٹر تبسم طاہرہ کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں تعینات کر دیا گیا۔

    پروفیسرز آف پتھالوجی کے عہدوں پر ترقی پانیوالے 7 پروفیسروں میں شامل ڈاکٹر ایس ایم عباس نقوی کو نشتر میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر راحت سرفراز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر ارم مریم رانا راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، ڈاکٹر شبنم بشیر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر سیما مظہر علامہ اقبال میڈیکل ، ڈاکٹر حمیرا رفیق وزیر آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ڈاکٹر شگفتہ ارم کو ساہیوال میڈیکل کالج میں تعینات کر دیا ہے۔

    سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی جانب سے ترقی پانیوالے پروفیسرز کو مبارکباد دی گئی، اس سلسلہ میں نوٹیفکیشنز جاری کردیے گئے ہیں۔

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،عدالت نے لڑکے اور لڑکی کو کیا طلب

    خواتین کو ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کا کیس، درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    پانی جتنا زیادہ پیا جائے اتنا صحت کیلئے مفید ہے انیسویں صدی کے آغاز تک زیادہ پانی پینا بری بات سمجھا جاتا تھا اونچے طبقے کے افراد زیادہ پانی پینا اپنی توہین سمجھتے تھے انہیں لگتا تھا کہ پیٹ کو پانی سے بھرنا تو غریبوں کا کام ہے۔ وہ ایسا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

    تاہم آج کل دنیا بھر میں خوب پانی پیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بوتل بند پانی کی مانگ سوڈے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ دن رات لوگوں کو خوب پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے زیادہ پانی پینے کو اچھی صحت کا راز اور خوبصورت جلد کی وجہ بتایا جا رہا ہے اس کے علاوہ زیادہ پانی پی کر کینسر اور وزن سے چھٹکارے کے نسخے بھی عام ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    سنہ 1945 میں امریکہ میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف نیشنل ریسرچ کونسل نے بڑوں کو مشورہ دیا کہ انہیں ہر کیلوری کو ہضم کرنے کے لیے ایک ملی لیٹر پانی پینا چاہیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ دن میں دو ہزار کیلوری لینے والی خاتون ہیں تو آپ کو دو لیٹر پانی پینا چاہیے۔ ڈھائی ہزار کیلوری لینے والے مردوں کو دو لیٹر سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔

    اس میں صرف سادہ پانی شامل نہیں ہے بلکہ پھلوں، سبزیوں اور دوسری پینے کی چیزوں سے ملنے والا پانی بھی شامل ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں 98 فیصد تک پانی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانی جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے جسم کے کل وزن کا دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے۔ پانی جسم سے خراب عناصر کو باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    ہمارے جسم کا درجہ حرارت درست رکھنے کے لیے، جوڑوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے علاوہ بھی پانی کئی اہم کام کرتا ہے۔ جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں ہم پسینے، پیشاب اور سانسوں کے ذریعہ پانی جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ ہم جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

    معروف میڈیکل نیوز ویب سائٹ WebMD کے مطابق 24 گھنٹوں میں کچھ اوقات ایسے ہیں جس میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے دن و رات کے ان اوقات میں پانی پینے کا فائدہ دوچند ہوجاتا ہے-

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    جب آپ کو بھوک لگ رہی ہو تو کھانا کھانے سے پہلے پانی پیئں ، جب آپ سو کر اٹھیں: کیونکہ طویل نیند کی وجہ سے آپ کا جسم ایک طرح سے روزے کی حالت میں ہوتا ہے، نہ کچھ کھایا گیا ہوتا ہے اور نہ پیا؛ جب بھی پسینے آنا شروع ہوں تو ایسی حالت میں زیادہ دیر بغیر پانی کے رہنا طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    ورزش سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد پانی پیئں طبیعت خراب ہونے کے دوران جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنا ہی بیماری سے افاقے کی کنجی ہے۔ اسہال، اُلٹی، بخار وغیرہ جسم سے پانی کی سطح کو کم کردیتے ہیں، جب آپ ہوائی جہاز میں ہوں جی ہاں! جتنی زیادہ اونچائی ہوگی ہوا میں نمی کا تناسب اتنا ہی کم ہوگا جسکی وجہ سے جہاز کی اندرونی ہوا خشک رہتی ہے کوشش کریں پانی کی بوتل اپنے ساتھ رکھیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    خواتین کیلئے مخصوص ایام کے آغاز میں جو درد کی لہریں اٹھتی ہیں یہ dehydration کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اگر حیض سے پہلے ہی زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیا جائے تو اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔

    بعد دوپہر کے ہم میں سے اکثریت اپنی توانائی کسی نہ کسی کام یا سرگرمی میں صرف کرچکی ہوتی ہے تھکاوٹ محسوس ہورہی ہوتی ہے۔ ایسے میں کافی یا چائے پینے کے بجائے پانی پی لیا جائے تو وہ زیادہ فائدہ مند ہے ،سر میں درد ہونے کی سب سے عام وجہ پانی کی کمی ہی ہے دماغ کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

    وزن گھٹانے کی پلاننگ میں پانی صرف پیٹ بھرنے والی کیلوری فری شے ہی نہیں بلکہ یہ ہاضمہ بھی اچھا کرتی ہے پانی جسم میں موجود چربی کو گُھلانے کے عمل کو تیز بھی کرتا ہے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق