Baaghi TV

Tag: صحت

  • وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا  چار سال کے  منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آ رہا ہے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ صحت نے صوبے میں آئندہ چار سال کے ترقیاتی منصوبے کا لائحہ عمل پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں دل، جگر اور جل جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولتوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس سے پورے صوبے میں معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔وزیر مریم اورنگزیب کی صدارت میں پنجاب میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا پانچواں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں صحت کی فراہمی کے بنیادی اور ثانوی نظام، پاپولیشن ویلفیئر، اعلی تعلیم اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ترقی اور منصوبہ بندی کے چیئرمین نبیل احمد اعوان، سیکرٹری آصف طفیل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں نے شرکت کی۔

    اہم فیصلے اور اقدامات:
    لاہور میں موروثی اور خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ۔
    محکمہ صحت کو فنڈز کی بروقت فراہمی اور منصوبہ بندی پر وزیر مریم اورنگزیب نے شاباش دی۔
    ‘کلینک آن ویلز’ کے فلیگ شپ پروگرام کو تیز کرنے کی ہدایت۔
    بچوں کی نشوونما کی کمی (سٹینٹنگ گروتھ) روکنے کے لیے فولک ایسڈ اور وائرن کی فراہمی جاری رہے گی۔
    سٹینٹڈ گروتھ اور ذیابیطس کی سکریننگ کے لیے مشینوں کی فراہمی۔
    میڈیکل سٹیز اور یونیورسٹی کمپلیکسز کا قیام۔
    وزیراعلی نے ہسپتالوں میں مشینوں کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
    3000 نرسوں کی بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
    ضلعی اور تحصیل سطح پر ہسپتالوں کی اپگریڈیشن کی رفتار بڑھانے کی ہدایت۔

    دیگر اہم اقدامات:
    بہاولپور میں 200 بستروں کا ماں اور بچے کا ہسپتال اور میانوالی میں 100 بستروں کا ہسپتال قائم کرنے کی منصوبہ بندی۔
    پتوکی اور قصور میں ٹی ایچ کیو میں 20 بیڈز پر مشتمل ٹراما سینٹر کی تعمیر۔
    لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال میں کینسر ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔
    1610 آئی سی یو بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
    وزیراعلی کے منصوبوں کے تحت 13831 ملین روپے کے فنڈز کے ساتھ بنیادی ہیلتھ یونٹس اور رورل ہیلتھ سینٹرز کی تجدید کا عمل جون تک مکمل کیا جائے گا۔
    ایمرجنسی سروسز کی بہتری کے لیے ریسکیو 1122 کے مزید سٹیشنز بنائے جائیں گے۔

    تعلیمی شعبے میں اقدامات:
    ہائیئر ایجوکیشن کی 100 سکیموں میں سے 81 جاری اور 19 نئی سکیموں پر کام کیا جا رہا ہے۔
    گوجرانوالہ یونیورسٹی کے قیام کے لیے 400 ملین مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
    وزیر اعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کے خادم ہیں اور اس پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے اور تمام محکموں کی کارکردگی کو تسلی بخش بنانے کے لیے بار بار جائزہ لیا جائے گا۔

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے-

    باغی ٹی وی: چین میں حالیہ دنوں میں ہیومین میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) کے پھیلنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں یہ وائرس 14 سال اور اس سے کم عمر کی عمر کے بچوں میں پھیل رہا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ اس سے بیمار ہونے والوں کو کتنا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    اب اس وائرس کے حوالے سے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کا بیان سامنے آیا ہے قومی ادارہ صحت کے مطابق چین میں پھیلنے والا ایچ یم پی وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے، ایچ ایم پی وی کی پاکستان میں پہلی دفعہ تشخیص 2001 میں ہوئی تھی،2015 میں اس وائرس کے پمز اسلام آباد میں 21 کیس سامنے آئے تھے۔

    چین میں نئی وبا،پاکستان الرٹ،نگرانی بڑھا دی

    این آئی ایچ حکام نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے فی الحال ایچ ایم پی وی کے حوالے سے کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی،چین میں ایچ ایم پی وی کی صورتحال پر این سی او سی کا اجلاس 7 جنوری کو ہوگا پاکستان میں اس وقت موسمی انفلوئنزا خاص طور پر انفلوئنزا اے اور بی کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

    دوسری جانب طبی ماہرین کا بھی کہنا تھا کہ ایچ ایم پی وی کے کیسز اکثر اوقات سامنے آتے رہتے ہیں یہ وائرس پہلی بار 2000 میں سامنے آیا تھا اور بیماری کی شدت میں اب تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی امریکا میں ہر سال 5 سال سے کم عمر 20 ہزار بچے اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں اور وہاں وائرس سے بچاؤ کیلئے کورونا والی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    داعش کے دہشتگرد اب بھی عالمی سطح پر خطرہ

  • امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل، ڈاکٹر ویوک مرتی نے ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں امریکیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ شراب پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اس پر صحت کے انتباہی لیبل کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    سرجن جنرل کی ایڈوائزریز عام طور پر صحت کے خطرات کے بارے میں واضح پیغامات دینے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور یہ کم ہی جاری کی جاتی ہیں، کیونکہ یہ مسائل جنہیں فوری طور پر عوامی آگاہی اور کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے، ان پر ہی ان ایڈوائزریز کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1964 میں سگریٹ نوشی پر سرجن جنرل کی رپورٹ نے سگریٹ کو بے ضرر سمجھنے کے رویے میں تبدیلی کی تھی۔

    نئی ایڈوائزری شراب کے بارے میں اس طویل عرصے سے موجود سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ شراب صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ شراب کوئی نقصان دہ نہیں بلکہ ایک خطرناک عادت ہے۔ڈاکٹر مرتی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ "شراب ایک ثابت شدہ اور قابلِ روک تھام کینسر کا سبب ہے ،جو ہر سال امریکہ میں تقریباً 1 لاکھ کیسز اور 20 ہزار کینسر کی اموات کا باعث بنتا ہے ، لیکن اس خطرے سے آگاہی رکھنے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔”امریکہ میں تقریباً 70 فیصد لوگ شراب پیتے ہیں اور اس بات پر شدید الجھن کا شکار ہیں کہ آیا کبھی کبھار شراب پینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔

    امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2019 کی ایک سروے کے مطابق، صرف 45 فیصد امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ شراب پینا کینسر کا سبب بنتا ہے۔ ڈاکٹر برائن پی۔ لی، جو کیک میڈیسن یونیورسٹی آف جنوبی کیلیفورنیا کے جگر کے ماہر ہیں اور شراب کے صحت پر اثرات پر تحقیق کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "ماضی میں کی گئی تحقیقیں اتنی مضبوط نہیں تھیں اور ان کی طریقہ کار درست نہیں تھا۔”

    ڈاکٹر مرتی کی ایڈوائزری میں حالیہ سائنسی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ "ہلکی شراب نوشی بھی فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔” امریکہ میں شراب پینا کینسر کا تیسرا سب سے بڑا سبب ہے، جس کے بعد تمباکو اور موٹاپا آتے ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شراب نوشی اور کینسر کے خطرات کے درمیان تعلق کم از کم سات اقسام کے کینسر میں واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے، جن میں چھاتی، بڑی آنت، غذا کی نالی، جگر، منہ، گلے اور آواز شامل ہیں۔

    ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شراب کینسر کے اسباب بننے کے لیے کئی مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے۔ شراب کو جسم میں میٹابولائز کر کے ایک کیمیائی مادہ "ایسیٹالڈہائیڈ” میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے سیلز بے قابو انداز میں تقسیم ہونے لگتی ہیں، جس سے کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شراب "فری ریڈیکلز” پیدا کرتی ہے جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

    شراب ہارمونز جیسے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو تبدیل کرتی ہے، جس سے چھاتی اور پروسٹیٹ جیسے ہارمون پر منحصر کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب بی وٹامنز اور فولک ایسڈ جیسے اہم غذائی اجزاء کی کمی بھی پیدا کرتی ہے، جو کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹر اوٹیس بلیلی، جو جان ہاپکنز یونیورسٹی میں آنکولوجسٹ ہیں، نے کہا، "اب وقت آ چکا ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا جائے کہ شراب کی کوئی محفوظ مقدار نہیں ہوتی۔”امریکہ کے سرجن جنرل کی ایڈوائزری نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ شراب کے استعمال کے صحت پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور عوامی آگاہی میں مزید اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کے خطرات کو سمجھیں اور مناسب فیصلے کر سکیں۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    پریانکا چوپڑا اور نک جوناس کی ساحل پر رومانوی تصویر

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

  • ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    تمباکو نوشی کی عادت کو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے، مگر صرف ایک سگریٹ پینے کے بعد جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حالیہ برطانوی تحقیق نے دیا ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمباکو نوشی سے نہ صرف جسم پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے زندگی کی مدت بھی کم ہو جاتی ہے۔

    لندن کالج یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سگریٹ پینے سے انسان کی عمر میں 20 منٹ کی کمی واقع ہوتی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص روزانہ ایک پورا پیکٹ (20 سگریٹ) پیتا ہے تو اس کی زندگی میں تقریباً 7 گھنٹے کی کمی آجاتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ 10 سگریٹ پینے والا فرد یکم جنوری کو تمباکو نوشی چھوڑ دے اور 5 فروری تک سگریٹ سے گریز کرے تو اس کی زندگی میں ایک ہفتے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر وہ شخص 5 اگست تک تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ترک کر دے تو اس کی زندگی کی مدت میں پورے ایک مہینے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ سال کے آخر تک اس کی عمر میں 50 دنوں کا اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ اس کو تمباکو نوشی کی عادت سے بچانے کے مترادف ہے۔

    محققین نے مزید کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ علم ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، مگر ان کے خیال میں اس کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ہر فرد کو اوسطاً اپنی زندگی کے 10 قیمتی سالوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔اس تحقیق کے لیے برسٹل ڈاکٹرز اسٹڈی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو 1951 میں 10 لاکھ خواتین پر شروع ہوئی تھی اور 1996 تک جاری رہی۔ اس سے پہلے 2000 میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک سگریٹ پینے سے عمر میں 11 منٹ کی کمی آتی ہے، تاہم، اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک سگریٹ سے مردوں کی عمر میں 17 منٹ اور خواتین کی عمر میں 22 منٹ کی کمی آتی ہے۔

    محققین کے مطابق تمباکو نوشی کے نتیجے میں درمیانی عمر کے افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں ان کی صحت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ اس عادت کا اثر نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی اور جذباتی حالت پر بھی پڑتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق، محققین نے لوگوں کو اپنی صحت کے لیے تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی عمر میں تمباکو نوشی کو چھوڑنا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ تاہم، جتنا جلدی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    یہ تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تمباکو نوشی صرف سنگین بیماریوں کا سبب نہیں بنتی بلکہ ایک سگریٹ پینے سے بھی انسان کی عمر میں فوری طور پر کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر لوگ تمباکو نوشی کی عادت چھوڑنے کا فیصلہ کریں تو یہ ان کی زندگی کی مدت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر، تمباکو نوشی کو ترک کرنے کی کوشش کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ صحت مند زندگی گزار سکے۔

    یہ تحقیق جرنل آف ایڈکشن میں شائع ہوئی ہے اور اس نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات کو واضح کیا ہے، جو کہ لوگوں کو اس عادت کو ترک کرنے کے لیے مزید قائل کر سکتی ہے۔

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    کپڑوں کی آڑ میں غیر ملکی سگریٹس،کمپیوٹر ایل سی ڈیزاسمگل کی کوشش ناکام

  • پرندوں کی بیٹ اگلی فلو وبا  روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

    پرندوں کی بیٹ اگلی فلو وبا روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

    نیو جرسی: امریکہ میں سائنسدانوں نے پرندوں کی بیٹ کو اگلی فلو وبا کو روکنے کے لیے تحقیق کا ذریعہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق پرندوں کی بیٹ، جسے گوانو بھی کہا جاتا ہے، وائرسز کا مرکز ہے اور فلو کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ڈیلاویئر بے جہاں ہر سال بہار میں تقریباً 25 اقسام کے پرندے آتے ہیں، اس تحقیق کے لیے ایک اہم مقام ہے۔

    سی این این کے مطابق یہ تحقیق سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال کے سائنسدانوں کی ٹیم کر رہی ہے، جو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی مالی معاونت سے چل رہی ہے ڈاکٹر پامیلہ میکنزی اور ان کے ساتھی پیٹرک سیلر چار دہائیوں سے پرندوں کی بیٹ جمع کر رہے ہیں ڈاکٹر میکنزی نے سی این این کو بتایا، "یہاں ہر طرف قیمتی مواد موجود ہے۔”

    اسٹیٹ بینک کا انعامی بانڈز کے حوالے سے اہم اعلان

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے وائرولوجسٹ ڈاکٹر رابرٹ ویبسٹر نے سب سے پہلے اس بات کو سمجھا کہ فلو وائرس پرندوں کی آنتوں سے آتا ہے یہ تحقیق ان کی تخلیق ہے اور اگرچہ وہ اب 92 سال کے ہو چکے ہیں اور ریٹائر ہو چکے ہیں، وہ اب بھی ٹیم کے ساتھ شامل رہتے ہیں ویبسٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرندوں کے جسم میں یہ وائرس نظامِ تنفس کی بجائے آنتوں میں بڑھتا ہے اور پرندے اسے پانی میں بیٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

    سنہ 1985 میں پہلی بار ویبسٹر اور ان کی ٹیم نے ڈیلاویئر بے کا دورہ کیا، جہاں 20 فیصد بیٹ کے نمونوں میں فلو وائرس پایا گیا یہ علاقہ اس وقت سے پرندوں میں فلو وائرسز کی نگرانی کے لیے اہم مقام بنا ہوا ہےتحقیق کرنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہاں کسی نئے فلو وائرس کی دریافت دنیا کو وبا کے حوالے سے پہلے سے خبردار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    ڈاکٹر رچرڈ ویبی، جو اب اس منصوبے کی نگرانی کرتے ہیں، اسے فلو وائرسز کی طویل المدتی تحقیق کا ایک منفرد منصوبہ قرار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطرے، چاہے وہ طوفان ہو یا وبا، کی پیش گوئی کے لیے ہمیں موجودہ حالات کو سمجھنا ہوگا” ڈاکٹر ویبی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے جانوروں میں فلو وائرس کی تحقیق کے مرکز کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا ہے کہ پرندوں کی بیٹ کے ذریعے وائرس کی حرکات کو سمجھنا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی کسانوں کو انتہائی پیتھوجینک برڈ فلو کا مقابلہ کرنا پڑا ہو 2014 میں، یورپ سے ہجرت کرنے والے پرندے شمالی امریکہ میں H5N8 وائرس لائے۔ جارحانہ طور پر 50 ملین سے زیادہ پرندوں کی موت کے نتیجے میں، اس وباء کو روک دیا گیا اور امریکہ برسوں تک انتہائی پیتھوجینک برڈ فلو وائرس سے پاک رہا۔

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    تاہم، اسی حکمت عملی نے H5N1 کو نہیں روکا ہے۔ H5N1سن 2021 کے آخر میں امریکہ پہنچا، اور متاثرہ مرغیوں میں پھیلنا جاری ہے۔ پچھلے دو سالوں میں، H5N1 وائرس نے ممالیہ جانوروں کی بڑھتی ہوئی اقسام جیسے بلیوں، لومڑیوں، اوٹروں اور سمندری شیروں کو بھی متاثر کیا ہت ، جس سے وہ انسانوں میں آسانی سے پھیلنے کے ایک قدم کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    H5N1 وائرس انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن یہ انفیکشن اب تک ایک شخص سے دوسرے شخص تک نہیں پہنچتے ہیں کیونکہ ہماری ناک، گلے اور پھیپھڑوں کے خلیات پرندوں کے پھیپھڑوں والے خلیوں سے قدرے مختلف ریسیپٹرز رکھتے ہیں۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    تاہم، اسے تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔سائنس جریدے میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ وائرس کے ڈی این اے میں ایک اہم تبدیلی اسے انسانی پھیپھڑوں کے خلیات تک پہنچنے کی اجازت دے گی کیپ مے کی ٹیم کو پہلے کبھی بھی ان پرندوں میں H5N1 نہیں ملا تھا جنہوں نے وہاں نمونے لیے تھے لیکن کئی ریاستوں میں گائے میں وائرس پھیلنے کے ساتھ، وہ حیران تھے کہ یہ اور کہاں ہو سکتا ہے کیا یہ ان پرندوں تک بھی پہنچ گیا تھا؟

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    ایک ہفتے کے دوران ٹیم 800 سے 1000 نمونے جمع کرے گی، نمونوں میں فلو کے کسی بھی وائرس کو ترتیب دیا جائے گا – وائرس کے جینیاتی کوڈ کے صحیح حروف کو پڑھا جائے گا – اور ایک بین الاقوامی ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا جائے گا، ایک قسم کی ریفرنس لائبریری جو سائنسدانوں کو انفلوئنزا کے تناؤ کو ٹریک کرنے میں مدد کرتی ہے جب وہ دنیا کا چکر لگاتے ہیں-

  • وزیراعلی مریم نواز  کے ہیلتھ پراجیکٹ مثال بن گئے

    وزیراعلی مریم نواز کے ہیلتھ پراجیکٹ مثال بن گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی قیادت میں صوبے میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں جو عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ بن چکے ہیں۔ مریم نوازشریف کے منصوبوں نے صحت کے شعبے میں جدیدیت، سہولت اور معیار کو نئے سطح تک پہنچایا ہے۔ ان کی حکومت نے عوامی صحت کے فوائد کے لیے متعدد پراجیکٹس شروع کیے ہیں جن کا اثر نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دور دراز دیہات تک بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

    لاہور میں قائم محمد نوازشریف کینسر ہسپتال، جو کہ پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر کینسر ہسپتال ہے، تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ اس ہسپتال میں جدید طریقہ علاج متعارف کرایا جائے گا، جن میں چین کے طریقہ علاج "نوکیموتھراپی” اور "نوسرجری” شامل ہیں۔ اس سے کینسر کے مریضوں کو بہتر علاج اور زیادہ سہولت ملے گی۔

    کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ سرگودھا
    سرگودھا میں محمد نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی تکمیل کے قریب ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ علاقے میں دل کے مریضوں کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کرے گا اور امراض قلب کے علاج میں انقلاب لائے گا۔

    پنجاب ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز
    پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن چکا ہے جس نے ایئر ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے دور دراز علاقوں سے مریضوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا سکے گا، جس سے جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔

    کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال: 68 لاکھ مریضوں کی خدمت
    "کلینک آن ویل” اور "فیلڈ ہسپتال” جیسے منصوبوں کے ذریعے تقریباً 68 لاکھ مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان سروسز کے تحت موبائل کلینکس اور فیلڈ ہسپتال دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں ایکسرے، لیب ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، فرسٹ ایڈ اور ماں بچے کی صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب بھر کے دیہی مراکز صحت کی ری ویمپنگ
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب بھر کے 2800 سے زائد ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی گئی ہے۔ یہ مراکز صحت اب جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہیں اور عوام کو بہتر علاج فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ روایتی بی ایچ یوز (بنیادی ہیلتھ یونٹس) کو "مریم ہیلتھ کلینک” میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں جدید علاج اور میڈیکل سہولتیں دستیاب ہیں۔

    فیلڈ ہسپتال: دور دراز علاقوں میں نئی سہولت
    پنجاب کے دور دراز علاقوں میں فیلڈ ہسپتالوں کی بے مثال سروس جاری ہے۔ ان ہسپتالوں نے تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔ فیلڈ ہسپتالوں میں 60 ہزار ایکسرے، ایک لاکھ 35 ہزار لیب ٹیسٹ اور مختلف نوعیت کی دیگر میڈیکل سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔

    دل کے مریضوں کے لیے خصوصی پروگرام
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دل کے مریض بچوں کے لیے "چیف منسٹر ہارٹ سرجری پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بچوں کو مفت علاج اور آپریشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے دل کے مریض بچوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

    مریضوں کے علاج میں آسانیاں اور سہولتیں
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت عوامی صحت کو ترجیح دیتی ہے اور اس مقصد کے لیے وسائل کی کمی کو کسی صورت نہیں آنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم عوام کو سرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ کلینک سے بہتر ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ہسپتال میں بہتری لانا چاہتے ہیں تاکہ ہر مریض کو مفت علاج اور میڈیسن ملے۔”مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب میں صحت کے شعبے میں مزید اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ ضلعی ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے اور سپیشل پیکیجز کے تحت علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، پنجاب کے تمام ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیب اور کارڈیالوجی سینٹر مرحلہ وار بنایا جائے گا تاکہ دل کے مریضوں کو فوری علاج مل سکے۔

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    امریکا میں خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری دے دی گئی-

    باغی ٹی وی :نیند کے دوران خراٹے لینا ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف آس پاس کے افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ خراٹے لینے والے شخص کی نیند پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں،خراٹے لینے والے صرف 2 فیصد افراد کو کوئی سنگین پیچیدگی لاحق ہوتی ہے ورنہ 98 فیصد افراد میں عام وجہ ناک سے لے کر گردن کے نیچے تک کی جگہ میں کوئی رکاوٹ ہونا ہوتی ہے۔

    بہت زیادہ وزن، زیادہ تھکاوٹ، کسی بیماری جیسے بلڈ پریشر یا شوگر کی دوائیں لینا، اینٹی ڈپریسنٹس لینا، ناک کے مسائل جیسے ناک کی ہڈی یا گوشت بڑھا ہوا ہونا، ہڈی ٹیڑھی ہونا یا غدود ہونا خراٹوں کی وجوہات ہوسکتے ہیں،ماہرین کے مطابق خراٹے لینے سے نہ صرف آس پاس موجود افراد کی نیند خراب ہوتی ہے، بلکہ خود اس شخص کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے، خراٹے لینے والا شخص گہری نیند نہیں سو پاتا، اور نیند پوری نہ ہونے سے نتیجتاً اگلے دن اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، دو ملزمان اشتہاری قرار

    اکثر خراٹوں کی وجہ obstructive sleep apnea (او ایس اے) نامی عارضہ ہوتا ہےاو ایس اے کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، اب خراٹوں کا شکار بنانے والے اس عارضے کا علاج کرنے والی پہلی دوا کی امریکا میں منظوری دی گئی ہے۔

    او ایس اے کے علاج کے لیے زیپ باؤنڈ نامی دوا کی منظوری یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دی گئی اس دوا کے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ زیپ باؤنڈ کے استعمال سے او ایس اے سے متاثر موٹاپے کے شکار افراد میں سانس رکنے کی شرح میں 63 فیصد تک کمی آتی ہے۔

    پی ایس ایل 10، مستفیض الرحمان نے رجسٹریشن کروا لی

    ایک سال تک جاری رہنے والا ٹرائل 2 مرحلوں میں ہوا تھاایک مرحلے میں ایسے افراد شامل تھے جن کو صرف زیپ باؤنڈ کا استعمال کرایا گیا اور دوا کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے گروپ کے ساتھ کیا گیا،دوسرے مرحلے میں زیپ باؤنڈ کے ساتھ لوگوں کو پازیٹیو ائیرویز پریشر (پی اے پی) ڈیوائس کا استعمال کرایا گیا۔

    پی اے پی ڈیوائس کو ابھی او ایس اے کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس گروپ کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے افراد سے کیا گیا۔

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران

    ماہرین کے مطابق یہ او ایس اے کا علاج کرنے والی پہلی دوا ہے اس دوا کے استعمال سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے او ایس اے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، ایف ڈی اے کے کی منظوری کے بعد ڈاکٹروں اور مریضوں کو موٹاپے اور او ایس اے جیسے دونوں مسائل کا علاج کرنے میں مدد ملے گی۔

    محققین کے مطابق اس دوا پر ہونے والی دیگر تحقیقی کام میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر اور گردوں کے امراض کا پھیلاؤ بھی رک جاتا ہے او ایس اے اب بھی ایسا مرض ہے جس کی اکثر تشخیص نہیں ہوتی، حالانکہ اس کے نتیجے میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، ایسا ہی موٹاپے سے بھی ہوتا ہے تو دونوں کا علاج کرنا صحت کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔

    وزیراعظم کی ہدایت،پاراچنار میں امدادی سرگرمیوں کیلئے ہیلی کاپٹر مختص

  • ذیابیطس اور وزن میں کمی کی ادویات بینائی کا سبب بننے لگیں

    ذیابیطس اور وزن میں کمی کی ادویات بینائی کا سبب بننے لگیں

    محققین نے ذیابیطس اور وزن میں کمی کی دو مشہور ادویات اور آنکھوں کے ایک نایاب مسئلے کے درمیان ایک تشویشناک تعلق پایا ہے-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ذیابیطس اور وزن کم کرنے کی کچھ دوائیں لیتے ہیں، جیسے اوزیمپک اور ویگووی (Ozempic and Wegovy) لینے سے لوگوں میں NAION نامی آنکھوں کی نایاب حالت ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جو بینائی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

    نائیون آنکھوں کی ایک نایاب حالت ہے جہاں آپٹک اعصاب، جس میں دس لاکھ سے زائد چھوٹے ریشے موجود ہوتے ہیں، خون کا بہاؤ کافی نہیں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اچانک بینائی ختم ہوجاتی ہے یہ صرف چند لوگوں کو متاثر کرتا ہے جس کا بدقسمتی سے ابھی تک کوئی مؤثر علاج نہیں مل سکا۔

    تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ذیابیطس کے لیے سیمگلوٹائڈ لینے والے افراد میں NAION ہونے کا امکان 4 گنا زیادہ ہوتا ہے جو لوگ اسے وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کے لیے خطرہ 7 گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

    آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر ریزو کے مطابق میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مریض اپنی دوائی لینا چھوڑ دیں یہ صرف ایک انتباہ ہے کہ وہ زیادہ محتاط رہیں، ڈاکٹروں اور مریضوں کو اس دوا کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل اس کے خطرات اور استعمال سے متعلق بات کرنی چاہئے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ موٹاپے کے علاج کے لیے سیماگلوٹائڈ لینے سے آنکھوں کی نایاب حالت کا خطرہ 7 گنا بڑھ جاتا ہے، اور اسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال کرنے سے خطرہ 4 گنا بڑھ جاتا ہے ٹائپ 2 ذیابیطس کے 710 مریضوں میں سے سیماگلوٹائڈ لینے والوں میں NAION ہونے کا امکان تقریباً 9 فیصد تھا، جب کہ دوسری دوائیں لینے والوں میں 2 فیصد سے بھی کم خطرے کا امکان تھا۔

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس

    پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس

    اسلام آباد: پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ،منکی پاکس کا مریض اپر دیر کا رہائشی ہے جو 18 دسمبر کو سعودیہ سے اسلام آباد پہنچا تھا-

    باغی ٹی وی : خلیجی ملک سے اسلام آباد آنے والے 32 سالہ نوجوان میں منکی پاکس کی تصدیق ہوگئی،وزارت صحت کے حکام نے منکی پاکس کے کیس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثرہ شخص خلیجی ملک اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا ،ایئرپورٹ پر دوران اسکریننگ مسافر میں منکی پاکس علامات پائی گئیں جس پر مریض کو ایئرپورٹ سے پمز منتقل کیا گیا۔

    وزارت صحت کے مطابق منکی پاکس سے متاثرہ مریض اس وقت پمز اسپتال میں زیر علاج ہے، سربراہ انفیکشنز ڈیزیز پمز کے مطابق منکی پاکس سے متاثرہ شخص کا تعلق خیبر پختون خوا کے علاقے اپر دیر سے ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں اب تک منکی پاکس کے 8 کیسز سامنے آچکے ہیں۔