Baaghi TV

Tag: صدر ٹرمپ

  • ایران پر حملہ فوری معاہدے سے مشروط قرار دے کر منسوخ کر دیا، صدر ٹرمپ

    ایران پر حملہ فوری معاہدے سے مشروط قرار دے کر منسوخ کر دیا، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور خطے کے کئی ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت متعدد علاقائی رہنماؤں نے بھی کشیدگی کم کرنے اور جنگ سے گریز پر زور دیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے اور ویک اینڈ پر حملے کا منصوبہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ان کے مطابق یہ اقدام دنیا کے مستقبل اور ایران کی بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اسرائیل نے بھی حملے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا اور اس کے اتحادی تباہ کن کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

    اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیاسعودی ولی عہد نے ایران پر امریکا کی جانب سے بڑے حملوں کے ممکنہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لائی جائے اور فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

    دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے بھی امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے،قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے رابطے کیے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

  • نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے رویے پر کھلے عام ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں“۔

    منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ پر سخت ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ان کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ٹرمپ نے نیتن یاہو کے نجی نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بی بی سے یہ سب سننے کی ضرورت نہیں ہے، بی بی مجھے یہ باتیں صرف اس لیے بتا رہے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں اس جنگ میں پھنسا رہوں۔

    امریکی صدر نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ اگر تمہارے پاس معلومات تھیں تو تم نے مجھے براہ راست کیوں نہیں بتائیں، پوری دنیا کے سامنے اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پک ایکس پر کیا ہو رہا ہے اور یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے-

    اسی دوران صدر ٹرمپ نے ترکیہ کو جدید ایف 35 طیاروں کی فراہمی پر اسرائیلی مخالفت کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھ رہے ہیں جو ہمارے بغیر وجود بھی نہیں رکھ سکتے، اور آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بغیر کون باقی نہیں رہ سکتا، وہ اسرائیل ہے-

    اس عوامی تنقید اور کھچاؤ کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان اوول آفس میں بند کمرہ ملاقات ہوئی، جس میں صحافیوں کو آنے یا سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی،ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ”یہ نشست مثبت اور پیداواری رہی“۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس ملاقات پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی اب تک کی بہترین گفتگو قرار دیا،نیتن یاہو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ جب میں اسے بہترین کہہ رہا ہوں تو اس کا مطلب کوئی سطحی بات نہیں ہے، یہ گفتگو مکمل شراکت داری، باہمی تعاون اور اس مشترکہ مقصد پر ایک جیسے فہم پر مبنی تھی کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں۔

    امریکی عوام اور خود صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ایک بڑے طبقے میں اس جنگ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے اور امریکی عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ نیتن یاہو امریکا کو مزید جنگوں میں دھکیل رہے ہیں،نیتن یاہو کے لیے یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ وہ اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریب تعلقات کو ظاہر کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  • ٹرمپ کاایک بار پھر 2020 کے انتخابات میں چینی مداخلت کا دعویٰ، تحقیقات کا حکم

    ٹرمپ کاایک بار پھر 2020 کے انتخابات میں چینی مداخلت کا دعویٰ، تحقیقات کا حکم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی اور چینی مداخلت کے الزامات دہراتے ہوئےمعاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    وائٹ ہاؤس سے جمعرات کی شب قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا کہ 2020 کا صدارتی انتخاب، جس میں انہیں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، شفاف نہیں تھا، چین نے انتخابات سے قبل 22 کروڑ امریکی ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی، جسے انہوں نے ’انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی دراندازی‘ قرار دیا،تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ ماضی میں متعدد عدالتیں 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات مسترد کر چکی ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دے رہے ہیں اور ایسی انٹیلیجنس دستاویزات کو بھی منظرعام پر لائیں گے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان سے ووٹنگ سسٹم کی سنگین کمزوریاں بے نقاب ہوتی ہیں،صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر چین نے ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل بھی کی تو اس سے اس وقت کے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو انتخاب جیتنے میں کس طرح مدد ملی۔

    ٹرمپ نے امریکی انتخابی نظام کو ’انتہائی ناقص‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہے، لیکن انہوں نے ووٹوں میں ردوبدل یا انتخابی نتائج تبدیل کیے جانے کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر اور ایف بی آئی کو ان الزامات کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مبینہ ڈیٹا چوری کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔

    خطاب کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے ایک ویب سائٹ بھی جاری کی، جس پر مختلف تحقیقاتی فائلوں، انٹیلیجنس تجزیوں اور سرکاری خط و کتابت کے منتخب حصے بغیر مکمل سیاق و سباق کے شائع کیے گئے،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکی انتخابی نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے محفوظ نہیں، وفاقی حکام ان ریاستوں کو بھی مطلع کر رہے ہیں جن کے انتخابی ڈیٹا کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ کئی برسوں سے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی عدالتیں درجنوں مقدمات میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر ان الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کا متعدد بڑے نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ

    صدر ٹرمپ کا متعدد بڑے نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی سلامتی سے متعلق اہم تقریر کو امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے اپنے مرکزی نشریاتی چینلز پر براہِ راست نشر نہیں کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے منظم سازش قرار دیا اور متعلقہ نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

    رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب میں انتخابی نظام کی سلامتی سے متعلق خفیہ دستاویزات منظر عام پر پیش کیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں امریکی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت، الیکٹرانک ووٹنگ سسٹمز کی کمزوریاں اور دیگر حساس معلومات موجود ہیں۔

    تاہم امریکا کے بڑے نشریاتی اداروں اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے اس خطاب کو اپنے مرکزی ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر نہیں کیا، ان اداروں نے تقریر کو صرف اپنی اسٹریمنگ سروسز، ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک محدود رکھا، جن کے ناظرین روایتی ٹی وی چینلز کے مقابلے میں کہیں کم ہیں، دوسری جانب سی بی ایس اور فاکس نیوز نے صدر کا خطاب براہِ راست نشر کیا، تاہم سی بی ایس نے دورانِ نشریات ٹرمپ کے بعض دعوؤ ں کی تردید بھی کی۔

    صدر ٹرمپ نے خطاب کے دوران کہا کہ تقریر نشر نہ کرنے والے میڈیا ادارے ایک ’سازش‘ کا حصہ ہیں اور ایسے فراڈ پر ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کر دیے جانے چاہییں۔

    یہ خطاب مڈٹرم انتخابات سے محض 4 ماہ قبل انتخابی سیکیورٹی کے حساس موضوع پر مبنی تھا۔ اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ان چینلز پر کڑی تنقید کی جنہوں نے ان کے خطاب کو لائیو نہیں دکھایا انہوں نے کہا ’یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے این بی سی (NBC) اور اے بی سی (ABC) جیسے جھوٹے میڈیا ہاؤسز نے یہ کہہ کر حد کر دی کہ وہ اس خطاب کی کوریج نہیں کریں گے۔ اس قسم کے دھوکے کا مطلب ان کے لائسنسوں کی فوری منسوخی ہونا چاہیے۔‘

    رائٹرز کے مطابق میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت نشریاتی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ادارتی پالیسی کے مطابق فیصلہ کریں کہ کون سا مواد نشر کرنا ہے، تاہم ماضی میں قومی اہمیت کے صدارتی خطابات عموماً براہِ راست نشر کیے جاتے رہے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی نیٹ ورکس پر زور دیا تھا کہ وہ اس خطاب کو براہِ راست نشر نہ کریں، کیونکہ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایک بار پھر 2020 کے انتخابات سے متعلق وہی دعوے دہرا سکتے تھے جنہیں متعدد تحقیقات اور امریکی انٹیلیجنس ادارے مسترد کر چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، اے بی سی نیوز (ABC News) کے ترجمان نے واضح کیا کہ نیٹ ورک نے صدر کا خطاب اپنے روایتی چینل پر لائیو دکھانے کے بجائے صرف اپنے ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارم اور ریڈیو پر نشر کیا۔ اسی طرح، این بی سی نیوز (NBC News) نے بھی اس خطاب کو اپنے فری اسٹریمنگ چینل ‘NBC News NOW’ پر منتقل کر دیا مگر اپنے مرکزی ٹی وی چینل پر جگہ نہیں دی۔

    سی این این نے ایک بیان میں کہا کہ وہ خبر کے حصول کے لیے تقریر کی نگرانی کرے گا، جبکہ اس کی لائیو فیڈ صرف ویب سائٹ اور سبسکرپشن پر مبنی اسٹریمنگ سروس پر دستیاب ہوگی۔

    واضح رہے کہ ان نیٹ ورکس کے اسٹریمنگ چینلز کے ناظرین کی تعداد روایتی ٹی وی چینلز کے مقابلے میں محض چند فیصد ہوتی ہے۔

    اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کچھ ایسی خفیہ دستاویزات کو ڈی کلاسیفائیڈ (پبلک) کیا جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ امریکی انتخابات میں چینی مداخلت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح انہوں نے انتخابی سیکیورٹی پر اپنے پرانے حملوں کو دوبارہ ہوا دی، حالانکہ امریکی انٹیلی جنس کی سرکاری رپورٹ کے مطابق 2020 کے انتخابات میں بیجنگ کی جانب سے نتائج پر اثر انداز ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔

    خطاب سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں ایران کی صورتحال اور معیشت پر بھی بات کر سکتے ہیں، لہذا میڈیا کو یہ خطاب لازمی لائیو دکھانا چاہیے ٹرمپ نے تقریر میں مختصر طور پر ایران کے خلاف جاری جنگ کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا معاشی طور پر اب تک کی بہترین پوزیشن پر ہے، تاہم ان کا زیادہ تر فوکس انتخابی دھاندلی کے الزامات پر ہی رہا۔

    سی بی ایس (CBS) نے اپنے معمول کے پروگرام روک کر صدر کا خطاب لائیو دکھایا، لیکن نشریات سے ٹھیک پہلے اینکر ٹونی ڈوکوپل نے ناظرین کو خبردا ر کرتے ہوئے کہا، ’سچ یہ ہے کہ صدر نے اس موضوع پر جو کچھ بھی کہا ہے، اس میں سے اکثر حقائق کے منافی ہے۔ لیکن ہم اسے صرف اس لیے دکھا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک خبر ہے اور خبر پہنچانا ہمارا فرض ہے اس نیٹ ورک نے ٹرمپ کے دھاندلی کے دعووں کو مسترد کرنے کے لیے محض 15 منٹ بعد اپنی لائیو نشریات روک دیں۔

    کنزرویٹو رجحان رکھنے والے ‘فاکس نیوز’ نے اس تقریر کو مکمل طور پر براہِ راست نشر کیا، جسے نیویارک سٹی سمیت فاکس کے مختلف مقامی اسٹیشنز نے بھی اٹھایا۔ تاہم، فاکس نیوز بھی محتاط دکھائی دیا کیونکہ 2023 میں اسے 2020 کے انتخابی نتائج سے متعلق غلط خبریں نشر کرنے پر ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں 78 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔

    یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا انڈسٹری بڑے کاروباری سودوں کی زد میں ہے پیرا ماؤنٹ (Paramount) کا کنٹرول ارب پتی لیری ایلیسن کے بیٹے ڈیوڈ ایلیسن کے ہاتھ میں جانے کے بعد سی بی ایس (CBS) کے نیوز روم میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، کیونکہ لیری ایلیسن صدر ٹرمپ کے قریبی حامی مانے جاتے ہیں ایلیسن اب وارنر برادرز ڈسکوری کو خریدنے کے لیے وفاقی ریگولیٹری ادارے (FCC) کی منظوری کے منتظر ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر سی این این (CNN) کا کنٹرول بھی ان کے پاس چلا جائے گا۔

    دوسری طرف، ڈزنی کی ملکیت والے نیٹ ورک ‘ABC’ کو بھی ایف سی سی کی جانب سے دو تحقیقات کا سامنا ہے جن میں سے ایک میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ان کے ٹاک شو ‘دی ویو’ نے ایک ڈیموکریٹ امیدوار کا انٹرویو کر کے مساوی وقت کے قوانین کی خلاف ورزی کی یا نہیں ایف سی سی اگلے ماہ تک ڈزنی کے 8 لوکل اسٹیشنز کے لائسنس منسوخ کرنے کا عمل شروع کر سکتا ہے۔

    ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار، جو کامکاسٹ (این بی سی کی پیرنٹ کمپنی) کے تنوع (Diversity) کے طریقوں کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں، نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں تمام براڈکاسٹ نیٹ ورکس کو صدر ٹرمپ کا خطاب لازمی نشر کرنا چاہیے تھا، کیونکہ امریکی عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے صدر کی بات براہِ راست سن سکیں۔

  • ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا،صدر ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر ریمارکس

    ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا،صدر ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر ریمارکس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے لگژری بوئنگ 747-8 طیارے پر اپنی پہلی پرواز مکمل کی اس موقع پر طیارے کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم خود ایسا طیارہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ ہم اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کو تیار ہی نہ ہوتے-

    تقریباً $40 کروڑ (400 ملین ڈالر) مالیت کا یہ بوئنگ طیارہ قطری حکومت کی جانب سے امریکا کو بغیر کسی شرط کے تحفے میں دیا گیا ہے،طیارے کا نیا رنگ و ڈیزائن سفید، سرخ اور نیوی بلیو پر مشتمل ہے، جو صدر ٹرمپ کے ذاتی طیارے سے بھی مشابہت رکھتا ہے اس انتہائی پرتعیش طیارے کو عارضی طور پر نئے ‘ایئر فورس ون’ کا درجہ دیا گیا ہےرپورٹس کے مطابق یہ طیارہ امریکی محکمہ دفاع کو باضابطہ طور پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مستقبل کے استعمال کے حوالے سے وائٹ ہاؤس سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پرانا صدارتی طیارہ 35 سال پرانا تھا، اور یہ نیا تحفہ ملک کے شایانِ شان ہے، صدر ٹرمپ نے اس طیارے میں پہلی صدارتی پرواز میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے شمالی ڈکوٹا کے لیے مکمل کی، طیارے کو صدارتی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین سیکیورٹی نظام اور اضافی سہولیات شامل کی گئی ہیں ان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ مگر شاندار مشین ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب بوئنگ کے سربراہ نے انہیں اس طیارے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے قطر سے اسے کچھ عرصے کے لیے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم بعد میں قطر کے امیر نے یہ طیارہ امریکا کو بطور تحفہ دینے کی پیشکش کر دی،وہ اس طیارے کو اس وقت تک استعمال کریں گے جب تک امریکا میں تیار ہونے والے نئے صدارتی طیارے مکمل نہیں ہو جاتے، جس میں تقریباً 2 سال لگ سکتے ہیں،انہوں نے قطر کی جانب سے اس طیارے پر کیے گئے اخراجات کو ’اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا۔

    اس تحفے کو امریکی سیاست میں کانگریس اور اخلاقی گروپس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے، تاہم انتظامیہ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے مفاد میں قرار دیا ہے،یہ طیارہ، جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے، بغیر کسی شرط کے امریکا کو دیا گیا ہے اور اسے اِس وقت قانونی، اخلاقی اور قومی سلامتی سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل 1990 سے استعمال ہونے والا بوئنگ 747-200 ایئر فورس ون مرحلہ وار سروس سے ہٹایا جا چکا ہے، جبکہ 2 نئے بوئنگ 747-800 طیاروں کو VC-25B کے طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ پرانے اور نئے صدارتی طیاروں کے درمیان عبوری خلا پُر کیا جا سکے۔

  • واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیاں مزید وسیع کر سکتا ہے،ایسا نہ ہو کہ ایران کا وجود ہی نہ رہے،صدر ٹرمپ

    واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیاں مزید وسیع کر سکتا ہے،ایسا نہ ہو کہ ایران کا وجود ہی نہ رہے،صدر ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیاں مزید وسیع کر سکتا ہے، ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب امریکا کے لیے مزید تحمل ممکن نہ رہے ایسا نہ ہو کہ ایران کا وجود ہی نہ رہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، ساحلی ریڈار تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی اور خطے میں ایران کی سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی امریکی فوج نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے،اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو امریکا اس فوجی مہم کو مکمل کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے جس کے نتائج ایران کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ بندی معاہدے کی دوبارہ خلاف ورزی کی ہے، یہ ممکن ہے کہ وہ کبھی نہیں سیکھیں گے،امریکا مستقبل میں مزید کارروائی بھی کر سکتا ہے، ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب ہم مزید تحمل نہیں دکھا سکیں گے اور ہمیں وہ کام فوری طور پر مکمل کرنا پڑے گا جس کی ہم نے بہت کامیابی سے ابتدا کی ہے، اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں اور ایران کی جانب سے جارحانہ اقدامات کے جواب میں امریکی افواج نے ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے سے متعلق صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔

  • امریکی صدر کی جسمانی اور ذہنی صحت میں مسلسل بگاڑ آ رہا ہے،  ٹرمپ کی بھتیجی کا دعویٰ

    امریکی صدر کی جسمانی اور ذہنی صحت میں مسلسل بگاڑ آ رہا ہے، ٹرمپ کی بھتیجی کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چچا کی جسمانی اور ذہنی صحت میں مسلسل بگاڑ آ رہا ہے، جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میری ٹرمپ نے اپنے ہفتہ وار نیوز لیٹر میں صدر ٹرمپ کی صحت سے متعلق جاری بحث پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مجموعی جسمانی اور نفسیاتی کیفیت تشویش ناک حد تک متاثر ہو رہی ہے انہوں نے صدر ٹرمپ کے طرزِ عمل اور رات گئے سوشل میڈیا پر کی جانے والی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وہ ٹھیک دکھائی دیتے ہیں، لیکن نفسیاتی اعتبار سے ان کی حالت مسلسل تنزلی کی جانب بڑھ رہی ہے ٹرمپ اس وقت مسلسل دباؤ اور اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے احساس سے دوچار ہیں، امریکی صدر کو سب سے زیادہ خوف عوامی تذلیل اور ناکامی کے تاثر سے ہوتا ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے میری ٹرمپ کے الزامات اور دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر انجام دے رہے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی میڈیا اور مختلف سرویز میں صدر ٹرمپ کی عمر، ذہنی صلاحیت اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے بحث ہوتی رہی ہے تاہم وائٹ ہاؤس متعدد بار سرکاری طبی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کی صحت کو تسلی بخش قرار دے چکا ہے۔

  • صدر ٹرمپ کی  ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر نیٹو اور اطالوی وزیراعظم پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں، خصوصاً اٹلی اور اس کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے دہائیوں تک اتحادیوں کا دفاع کیا، لیکن جب وقت آیا تو وہ ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا امریکا نے نیٹو پر ٹریلین ڈالر خرچ کیلئے لیکن ایران کی جانب سے جوہری خطرے کو ختم کرنے میں نیٹو اور اٹلی کی وزیراعظم نے ان کا ساتھ دینے کا سوچا بھی نہیں،دہائیوں سے ہم ان کا دفاع کرتے آئے ہیں لیکن جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ ہمارا اور باقی دنیا کا دفاع کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتے، یہ اچھی بات نہیں!‘‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور میلونی کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص G7 اجلاس کے بعد ذاتی نوعیت کے سخت بیانات کے بعد، ٹرمپ نے میلونی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ بعض معاملات میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہیں، جب کہ میلونی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اپنے قومی مفاد اور خودمختار فیصلوں کے مطابق پالیسی بناتا ہے۔

    گزشتہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بیانات کو ’’غلط‘‘ اور ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ قرار دیا، جس کے بعد اٹلی کی طرف سے امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر سرد مہری بھی دیکھی گئی۔

  • صدر  ٹرمپ نے  فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    فرانس کے محلِ ورسائی میں عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو میز پر مفاہمتی یادداشت کے دستاویز پیش کیے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کی جا نب پیش رفت ہے،معاہدے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے، ایران کے جوہری پروگرا م پر مذاکرات اور 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    تقریب کے دوران صدر میکرون نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیاامریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی فریم ورک ہے اور آئندہ 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات کے ذریعے ایک حتمی اور ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی توثیق یافتہ معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہد ے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گےمعاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

  • طبی معائنے کے بعدصدر ٹرمپ کو مکمل طور پر فٹ قرار

    79 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معالج نے طبی معائنے کے بعد انہیں بہترین صحت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور صدر اپنی تمام ذمہ داریا ں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں تاہم انہیں وزن کم کرنے اور جسمانی سرگرمی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکی بحریہ کے کیپٹن اور صدارتی معالج شان باربابیلا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی صحت بہترین ہے اور ان کی قلبی، پھیپھڑوں، اعصابی اور مجموعی جسمانی کارکردگی مضبوط ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ احتیاطی طبی مشوروں میں متوازن غذا، کم مقدار میں اسپرین کا استعمال، جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور وزن میں کمی کی ہدایت شامل ہے۔

    3 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ واشنگٹن کے قریب واقع والٹر ریڈ میڈیکل اسپتال میں منگل کے روز کیے گئے طبی معائنے اور مختلف تشخیصی ٹیسٹوں کی تفصیلات پر مشتمل ہےڈاکٹر باربابیلا نے صدر کو کمانڈر اِن چیف اور سربراہ مملکت کے تمام فرائض انجام دینے کے لیے مکمل طور پر فٹ قرار دیا۔

    اگلے ماہ 80 برس کے ہونے والے ٹرمپ اس وقت 3 ادویات استعمال کر رہے ہی جن میں 2 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے جبکہ ایک دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اسپرین شامل ہے ٹرمپ کا قد 6 فٹ 3 انچ (191 سینٹی میٹر) ہے جبکہ ان کا وزن 238 پاؤنڈ (108 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال اپریل میں ہونے والے طبی معائنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت ان کا وزن 224 پاؤنڈ تھا،رپورٹ میں ٹرمپ کی ٹانگوں میں معمولی سوجن اور ہاتھوں پر نشانات کا بھی ذکر کیا گیا جنہیں ڈاکٹرز نے معمولی اور بے ضرر قرار دیا۔

    معالج کے مطابق صدر کی قلبی کارکردگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے جبکہ جامع اعصابی معائنے میں ان کی ذہنی حالت نارمل پائی گئی جس میں ڈپریشن اور بے چینی کے ٹیسٹ بھی شامل تھے۔

    یہ معائنہ صدر کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد تیسرا طبی معائنہ تھا اور یہ ان کی صحت سے متعلق بڑھتی قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا جن میں ہاتھوں پر نیل پڑنے اور بعض ملاقاتوں کے دوران غنودگی کے تاثر جیسے معاملات شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے طبی معائنے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ان کا طبی معائنہ بالکل بہترین رہا۔