امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی سلامتی سے متعلق اہم تقریر کو امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے اپنے مرکزی نشریاتی چینلز پر براہِ راست نشر نہیں کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے منظم سازش قرار دیا اور متعلقہ نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب میں انتخابی نظام کی سلامتی سے متعلق خفیہ دستاویزات منظر عام پر پیش کیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں امریکی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت، الیکٹرانک ووٹنگ سسٹمز کی کمزوریاں اور دیگر حساس معلومات موجود ہیں۔
تاہم امریکا کے بڑے نشریاتی اداروں اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے اس خطاب کو اپنے مرکزی ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر نہیں کیا، ان اداروں نے تقریر کو صرف اپنی اسٹریمنگ سروسز، ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک محدود رکھا، جن کے ناظرین روایتی ٹی وی چینلز کے مقابلے میں کہیں کم ہیں، دوسری جانب سی بی ایس اور فاکس نیوز نے صدر کا خطاب براہِ راست نشر کیا، تاہم سی بی ایس نے دورانِ نشریات ٹرمپ کے بعض دعوؤ ں کی تردید بھی کی۔
صدر ٹرمپ نے خطاب کے دوران کہا کہ تقریر نشر نہ کرنے والے میڈیا ادارے ایک ’سازش‘ کا حصہ ہیں اور ایسے فراڈ پر ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کر دیے جانے چاہییں۔
یہ خطاب مڈٹرم انتخابات سے محض 4 ماہ قبل انتخابی سیکیورٹی کے حساس موضوع پر مبنی تھا۔ اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ان چینلز پر کڑی تنقید کی جنہوں نے ان کے خطاب کو لائیو نہیں دکھایا انہوں نے کہا ’یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے این بی سی (NBC) اور اے بی سی (ABC) جیسے جھوٹے میڈیا ہاؤسز نے یہ کہہ کر حد کر دی کہ وہ اس خطاب کی کوریج نہیں کریں گے۔ اس قسم کے دھوکے کا مطلب ان کے لائسنسوں کی فوری منسوخی ہونا چاہیے۔‘
رائٹرز کے مطابق میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت نشریاتی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ادارتی پالیسی کے مطابق فیصلہ کریں کہ کون سا مواد نشر کرنا ہے، تاہم ماضی میں قومی اہمیت کے صدارتی خطابات عموماً براہِ راست نشر کیے جاتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی نیٹ ورکس پر زور دیا تھا کہ وہ اس خطاب کو براہِ راست نشر نہ کریں، کیونکہ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایک بار پھر 2020 کے انتخابات سے متعلق وہی دعوے دہرا سکتے تھے جنہیں متعدد تحقیقات اور امریکی انٹیلیجنس ادارے مسترد کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اے بی سی نیوز (ABC News) کے ترجمان نے واضح کیا کہ نیٹ ورک نے صدر کا خطاب اپنے روایتی چینل پر لائیو دکھانے کے بجائے صرف اپنے ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارم اور ریڈیو پر نشر کیا۔ اسی طرح، این بی سی نیوز (NBC News) نے بھی اس خطاب کو اپنے فری اسٹریمنگ چینل ‘NBC News NOW’ پر منتقل کر دیا مگر اپنے مرکزی ٹی وی چینل پر جگہ نہیں دی۔
سی این این نے ایک بیان میں کہا کہ وہ خبر کے حصول کے لیے تقریر کی نگرانی کرے گا، جبکہ اس کی لائیو فیڈ صرف ویب سائٹ اور سبسکرپشن پر مبنی اسٹریمنگ سروس پر دستیاب ہوگی۔
واضح رہے کہ ان نیٹ ورکس کے اسٹریمنگ چینلز کے ناظرین کی تعداد روایتی ٹی وی چینلز کے مقابلے میں محض چند فیصد ہوتی ہے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کچھ ایسی خفیہ دستاویزات کو ڈی کلاسیفائیڈ (پبلک) کیا جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ امریکی انتخابات میں چینی مداخلت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح انہوں نے انتخابی سیکیورٹی پر اپنے پرانے حملوں کو دوبارہ ہوا دی، حالانکہ امریکی انٹیلی جنس کی سرکاری رپورٹ کے مطابق 2020 کے انتخابات میں بیجنگ کی جانب سے نتائج پر اثر انداز ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔
خطاب سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں ایران کی صورتحال اور معیشت پر بھی بات کر سکتے ہیں، لہذا میڈیا کو یہ خطاب لازمی لائیو دکھانا چاہیے ٹرمپ نے تقریر میں مختصر طور پر ایران کے خلاف جاری جنگ کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا معاشی طور پر اب تک کی بہترین پوزیشن پر ہے، تاہم ان کا زیادہ تر فوکس انتخابی دھاندلی کے الزامات پر ہی رہا۔
سی بی ایس (CBS) نے اپنے معمول کے پروگرام روک کر صدر کا خطاب لائیو دکھایا، لیکن نشریات سے ٹھیک پہلے اینکر ٹونی ڈوکوپل نے ناظرین کو خبردا ر کرتے ہوئے کہا، ’سچ یہ ہے کہ صدر نے اس موضوع پر جو کچھ بھی کہا ہے، اس میں سے اکثر حقائق کے منافی ہے۔ لیکن ہم اسے صرف اس لیے دکھا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک خبر ہے اور خبر پہنچانا ہمارا فرض ہے اس نیٹ ورک نے ٹرمپ کے دھاندلی کے دعووں کو مسترد کرنے کے لیے محض 15 منٹ بعد اپنی لائیو نشریات روک دیں۔
کنزرویٹو رجحان رکھنے والے ‘فاکس نیوز’ نے اس تقریر کو مکمل طور پر براہِ راست نشر کیا، جسے نیویارک سٹی سمیت فاکس کے مختلف مقامی اسٹیشنز نے بھی اٹھایا۔ تاہم، فاکس نیوز بھی محتاط دکھائی دیا کیونکہ 2023 میں اسے 2020 کے انتخابی نتائج سے متعلق غلط خبریں نشر کرنے پر ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں 78 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا انڈسٹری بڑے کاروباری سودوں کی زد میں ہے پیرا ماؤنٹ (Paramount) کا کنٹرول ارب پتی لیری ایلیسن کے بیٹے ڈیوڈ ایلیسن کے ہاتھ میں جانے کے بعد سی بی ایس (CBS) کے نیوز روم میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، کیونکہ لیری ایلیسن صدر ٹرمپ کے قریبی حامی مانے جاتے ہیں ایلیسن اب وارنر برادرز ڈسکوری کو خریدنے کے لیے وفاقی ریگولیٹری ادارے (FCC) کی منظوری کے منتظر ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر سی این این (CNN) کا کنٹرول بھی ان کے پاس چلا جائے گا۔
دوسری طرف، ڈزنی کی ملکیت والے نیٹ ورک ‘ABC’ کو بھی ایف سی سی کی جانب سے دو تحقیقات کا سامنا ہے جن میں سے ایک میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ان کے ٹاک شو ‘دی ویو’ نے ایک ڈیموکریٹ امیدوار کا انٹرویو کر کے مساوی وقت کے قوانین کی خلاف ورزی کی یا نہیں ایف سی سی اگلے ماہ تک ڈزنی کے 8 لوکل اسٹیشنز کے لائسنس منسوخ کرنے کا عمل شروع کر سکتا ہے۔
ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار، جو کامکاسٹ (این بی سی کی پیرنٹ کمپنی) کے تنوع (Diversity) کے طریقوں کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں، نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں تمام براڈکاسٹ نیٹ ورکس کو صدر ٹرمپ کا خطاب لازمی نشر کرنا چاہیے تھا، کیونکہ امریکی عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے صدر کی بات براہِ راست سن سکیں۔
