Baaghi TV

ٹرمپ کاایک بار پھر 2020 کے انتخابات میں چینی مداخلت کا دعویٰ، تحقیقات کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی اور چینی مداخلت کے الزامات دہراتے ہوئےمعاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

وائٹ ہاؤس سے جمعرات کی شب قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا کہ 2020 کا صدارتی انتخاب، جس میں انہیں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، شفاف نہیں تھا، چین نے انتخابات سے قبل 22 کروڑ امریکی ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی، جسے انہوں نے ’انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی دراندازی‘ قرار دیا،تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ ماضی میں متعدد عدالتیں 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات مسترد کر چکی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دے رہے ہیں اور ایسی انٹیلیجنس دستاویزات کو بھی منظرعام پر لائیں گے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان سے ووٹنگ سسٹم کی سنگین کمزوریاں بے نقاب ہوتی ہیں،صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر چین نے ووٹرز کے ڈیٹا تک رسائی حاصل بھی کی تو اس سے اس وقت کے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو انتخاب جیتنے میں کس طرح مدد ملی۔

ٹرمپ نے امریکی انتخابی نظام کو ’انتہائی ناقص‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہے، لیکن انہوں نے ووٹوں میں ردوبدل یا انتخابی نتائج تبدیل کیے جانے کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر اور ایف بی آئی کو ان الزامات کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مبینہ ڈیٹا چوری کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کیا جا سکے۔

خطاب کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے ایک ویب سائٹ بھی جاری کی، جس پر مختلف تحقیقاتی فائلوں، انٹیلیجنس تجزیوں اور سرکاری خط و کتابت کے منتخب حصے بغیر مکمل سیاق و سباق کے شائع کیے گئے،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکی انتخابی نظام ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے خطرات سے محفوظ نہیں، وفاقی حکام ان ریاستوں کو بھی مطلع کر رہے ہیں جن کے انتخابی ڈیٹا کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ کئی برسوں سے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی عدالتیں درجنوں مقدمات میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر ان الزامات کو مسترد کر چکی ہیں۔

More posts