Baaghi TV

Tag: طالبان

  • افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    کابل پر طالبان قبضے کے 2 سال مکمل ہونے پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جب تک خواتین کو تحفظ نہیں دیا جائے گا طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکیں گے-

    باغی ٹی وی: امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان نے وعدے کیے، مگر پورے نہیں کیے ، طالبان کو وعدوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں،جب تک خواتین کو تحفظ نہیں دیا جائے گا طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکیں گے-

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھاکہ 2 برس میں تقریباً 34 ہزار افغان شہریوں کو خصوصی امیگرنٹ ویزے جاری کیے گئے جبکہ اگست 2021 سے اب تک 1.9 بلین ڈالر افغان عوام کی امداد کے لیے عطیہ کیے افغانستان میں شراکت داروں کے ساتھ وعدوں کی تکمیل پر پیشرفت جاری ہے۔

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    یاد رہے کہ طالبان حکام نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021 کو افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا،طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم پرپابندی عائد کی گئی۔

    امریکا میں بھارتی شہریوں پر فراڈ کا جرم ثابت،ملزمان کو15 سال سے زائد قید کی …

    دوسری جانب حال ہی میں افغان محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، تاہم اس بات کی منظوری طالبان کی اعلٰی قیادت دے گی،افغان وزیرتعلیم ندا محمد ندیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم پرپابندی لازمی تھی کیونکہ کچھ مضامین پڑھائے جانے سے اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے،یہ پابندی طالبان سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی طرف سے لگائی گئی تھی،یہ عارضی ہے ، مخلوط تعلیم، نصاب اور ڈریس کوڈ کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو یونیورسٹیاں دوبارہ کھول دی جائیں گی ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے جنوبی شہر قندھار سے جاری کردہ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار ہے۔

    نریندرمودی کی انوکھی اپیل ماننے پر بی سی سی آئی گولڈن ٹک سے محروم ہوگیا

  • طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی

    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی

    کابل: افغانستان میں سیکنڈری اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد طالبان نے اب کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : 15 اگست 2021 کوجب سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا ہے، تب سے اب تک خواتین پر پابندیوں کے کئی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں ایسے کئی معاملات ہیں مگر کئی معاملات میں تو کسی حکم نامے یا سفارش کے بغیر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں چار طرح کی ہیں: سیاست سے بے دخلی، عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں، تعلیم پر پابندی، اور کام کرنے کے حق پر پابندی ،یہ وہ چاربنیادی پابندیاں ہیں جو طالبان نےخواتین پر عائد کر رکھی ہیں حالانکہ اُنھوں نے اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ نرمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    ہر بارفرد جرم عائد ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا،برطانوی …

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی فارسی کے مطابق طالبان نے 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی جس کے بعد کلاس 3 کے بعد لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گی چھٹی جماعت کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ جن لڑکیوں کا قد 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں سے زیادہ ہے، انہیں بھی اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    بی بی سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزنی صوبے میں طالبان حکومت کی وزارت تعلیم کےحکام نے اسکولوں اور مختصر مدت کے تربیتی پروگراموں کے سربراہوں کو مطلع کیا ہے کہ 10 سال سے زیادہ عمرکی لڑکیوں کوپڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی دیگر صوبوں میں ‘وزارت تبلیغ اور رہنمائی’ نے لڑکیوں کے اسکولوں کے سربراہوں سے کہا ہے کہ کسی بھی طالبہ کو تیسری جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کےعلاج کیلئے تیار گولی کی منظوری مل گئی

    قبل ازیں طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاہم پرائمری اسکول میں پانچویں جماعت تک لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں جب کہ خواتین پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں اور انھیں پارکوں، جمز، میلوں اور پارلرز میں بھی جانے کی اجازت نہیں۔

  • رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    رواں ہفتے امریکی حکام دوحا میں طالبان کے وفد سےملاقات کریں گے

    امریکی حکام رواں ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان نمائندوں کے وفد سے ملاقات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائند تھامس ویسٹ اور افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کےلیےامریکی نمائندہ خصوصی رینا امیری آستانہ قازقستان میں قازقستان، کرغیزجمہوریہ، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستا ن کے نمائندوں کے ساتھ افغانستان سے متعلق ملاقاتیں کریں گے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکام کی رواں ہفتے دوحا میں طالبان نمائندوں کے وفد سے ملاقات ہوگی جس میں معیشت، سکیورٹی اور خواتین کے حقوق پر بات چیت ہوگی ملاقات میں افغانستان کے لیے انسانی امداد، سلامتی کے مسائل، افغان معیشت کے استحکام اور منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ روکنے کے معاملات پر بھی گفتگو کی جائے گی۔

    مکیش امبانی نے نئی ’بم پروف‘ مرسڈیز کار خرید لی

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے امریکی نمائندہ خصوصی تھامس ویسٹ اور افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کی ایلچی رینا امیری طالبان کے وفد سے ملاقات کریں گے تھامس ویسٹ اور رینا امیری 26 سے 31 جولائی تک قازقستان اور قطر کا دورہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان اگست 2021 میں امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں واشنگٹن اب بھی کابل میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس نے گروپ اور اس کے رہنماؤں کے خلاف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں محکمہ خارجہ نے بدھ 26 جولائی کو اپنے بیان میں کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقاتیں امریکی موقف میں تبدیلی کا اشارہ نہیں دیں گی۔

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ترجمان ویدانت پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا، “ہم بہت واضح ہیں کہ ہم طالبان کے ساتھ مناسب طریقے سے بات چیت کریں گے جب ایسا کرنا ہمارے مفاد میں ہوگا۔ اس کا مطلب طالبان کو تسلیم کرنے یا ان کے معمول پر لانے یا ان کے قانونی ہونے کا کسی بھی قسم کا اشارہ نہیں ہے2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان کو خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں پر متعدد مسلم اکثریتی ممالک سمیت بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    خواتین کے یونیورسٹی جانے پر پابندی عائد کرے کے علاوہ انہوں نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے پہلے اسکول جانے سے روک دیا۔ رواں ماہ کے اوائل میں خواتین کے بیوٹی پارلرز پر بھی پابندی عائد کر دی تھی گزشتہ سال کےاواخر میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے طالبان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کی تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

  • افغانستان میں ٹی ٹی پی نہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا  دعوی زمینی حقائق کے بالکل برعکس

    افغانستان میں ٹی ٹی پی نہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا دعوی زمینی حقائق کے بالکل برعکس

    سال 2007 کے دوران ٹی ٹی پی کے قیام کے بعد اس کے سربراہ بیت اﷲ محسود کی سربراہی میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر نے جنم لیا جو رفتہ رفتہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں پھیلتی گئی۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے انسداد دہشتگردی آپریشنز کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے پاکستانی قبائلی پٹی سے فرار ہوکر سرحد پارافغانستان میں اپنے اڈے بنا لیےافغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےحال ہی میں ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں کہاکہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک بشمول پاکستان کےخلاف کسی بھی قسم کی کاروائیوں میں استعمال نہیں ہورہی،اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کوئی بھی پناہ گاہ موجود نہیں ۔

    بدقسمتی سے ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعوی زمینی حقائق کے بالکل بر عکس ہے آئیے آج ذبیح اللہ مجاہد کے ٹی ٹی پی کے متعلق بیان کے بارے میں آپ کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں کیا حالیہ دنوں میں افغان طالبان نے بدنام زمانہ ٹی ٹی پی کمانڈر یاسر پرکے جو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کئی حملوں میں ملوث تھا اس کی کابل میں بھرپور میزبانی نہیں کی؟ انہیں خصوصی پرواز کے ذریعے کنڑ سے لایا گیا اور کابل میں صدارتی محل کا دورہ بھی کروایا گیا۔

    کیا طالبان کی اعلیٰ قیادت مفتی نور ولی محسود، حافظ گل بہادر اور علیم خان خوشحالی، برمل، خوست اور لمن میں رہائش پذیر نہیں؟ ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا برمل، افغانستان میں واقع ایک تربیتی کیمپ کے دورے پر ان کا بھرپور انداز میں استقبال کیا جاتا یے، کیا ذبیح اللہ مجاہد اب بھی یہی کہیں گے کہ ٹی ٹی پی کا افغانستان میں نام و نشان تک نہیں؟

    گلون میں ایک کیمپ جو کہ خودکش بمباروں کو تربیت دیتا ہے خوست میں واقع ہے اور مفتی احمد شاہ اسے چلا رہے ہیں۔ وہ امیر حافظ گل بہادر کے قریبی دوست ہیں اور حافظ گل بہادر گروپ کے تمام اہم کاروائیوں کا حصہ ہیں کونڑ کے علاقے شونکرے میں بھی خودکش بمبار ٹریننگ مرکز موجود ہیں جو کہ پاک-افغان سرحد سے 3.3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے دہشت گرد کمانڈر مولا صابر عرف سنگین مرکز کے انچارج ہیں اور مرکز کا بنیادی مقصد خودکش بمباروں کو تربیت دینا ہے۔

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا

    چانچڑ پل ضلع لغمان سے تعلق رکھنے والا حاجی عبدالہادی ( نائب وزیر معدنیات کا بھائی) لغمان، کابل، ننگرہار، کنڑ، نورستان سے ہتھیار خریدتا ہے اور پاکستان میں اسمگل کرنے کے لیے ننگرہار منتقل کرتا ہے۔ کیا ذبیح اللہ مجاہد کو ان کے کارناموں کا اندازہ نہیں؟ حالیہ دنوں پاکستان میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے تانے بانے براہ راست افغانستان سے ملتے ہے۔

    30 جنوری کو،تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کی زمہ داری جمات الاحرار سے تعلق رکھنے والے سربکف محمند نے قبول کی۔

    اس کے بعد 17 فروری کو ٹی ٹی پی نے پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کے قلب میں ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جس میں صوبہ سندھ کے پولیس چیف کا دفتر واقع تھا۔ اس حملے میں پانچ سے چار سیکورٹی اہلکار اور ایک عام شہری مارا گیا۔ اس حملے کے ایک حملہ آور کے خاندان نے انکشاف کیا کہ وہ پانچ ماہ قبل افغانستان ٹریننگ حاصل کرنے گیا تھا۔

    دونوں حملوں کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور یا تو افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان آئے تھے یا بھر ان کا تعلق افغانستان سے تھا آرمی پبلک اسکول حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر خالد خراسانی ضلع برمل کے قریب سڑک کنارے بم حملے میں مشرقی پکتیکا میں مفتی حسن اور حافظ دولت خان کے ساتھ مارا گیا۔ ذبیح اللہ صاحب اگر ٹی ٹی پی کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں تو پھر ان کے کارندے ہمیشہ افغانستان میں ہی کیوں نشانہ بنتے ہے؟

    ٹی ٹی پی کے متعدد تربیتی کیمپ افغان سرزمین میں نڈر ہوکر اور بغیر کسی رکاوٹ یا دباؤ کے کام کرتے رہتے ہیں، بڑے اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں اور افغانوں اور دیگر افراد کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی تربیت دیتے ہیں ان تمام شواہد سے یہ بات بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

    افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائیاں تیز کرنی ہوگی ورنہ پاکستان اپنے دفاع کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے بھی دو ٹوک انداز میں بیان کردیا ہے کہ اگر افغانستان کی حکومت ٹی ٹی پی کے پنا گاہوں کو نشانہ نہیں بناتی تو پاکستان کو مجبوراً کوُسخت کاروائی کرنی پڑے گی۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق بیان مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی نے افغان میڈیا کو انٹرویو کے دوران ٹی ٹی پی کو افغان علاقوں میں منتقل کرنے کے امارات اسلامیہ افغانستان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

    افغان میڈیا کے مطابق آصف علی درانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وزیرستان کے مہاجرین جو تنازعات کی وجہ سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں انہیں پاکستان منتقل کیا جائے گا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا ان افراد کی منتقلی پاکستان کو افغانستان سے خطرات کے تحفظ کی یقین دہانی کے طور پرکی جائے گی،اگر پاکستان میں کوئی سرگرم ہے یا کسی کی تحریک چل رہی ہے تو یہ پاکستان کا مسئلہ ہے پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے، ہم افغان سرزمین سے پاکستان کے لیے خطرہ بننے کی کسی کو اجازت نہ دینے کے پابند ہیں۔

    آدھا گھنٹہ حرکت قلب بند، عراقی حاجی کی جان بچالی گئی

    واضح رہے کہ رواں برس مئی میں آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائدہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کیا گیا تھا ،وزارت خارجہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کردیا گیا آصف درانی اس سے قبل افغانستان، ایران اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، صادق خان کے استغفےٰ کے بعد نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کا عہدہ خالی تھا۔

    افغانستان کے امور کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے محمد صادق نے تین سال عہدے پر رہنے کے بعد گزشتہ سال اگست کے آغاز میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا …

  • طالبان نے افغانستان سے  تیل نکالنے کا آغاز کردیا

    طالبان نے افغانستان سے تیل نکالنے کا آغاز کردیا

    افغانستان کے صوبہ سر پل میں واقع قشقری کنویں سے آزمائشی طور پر تیل نکالنے کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس علاقے سے روزانہ 150,000 ڈالر مالیت کا 200 ٹن تیل حاصل کیا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق ہفتے کومائنز اور پیٹرولیم کے وزیر شہاب الدین دلاور نے کہا کہ اس صوبے کا تیل ملک کے اہم اقتصادی وسائل میں سے ایک ہے اس تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک میں دیگر منصوبوں کے نفاذ کے لیے استعمال کرنا امارت اسلامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے مستقبل قریب میں صوبے میں قشقری تیل کے کنوؤں سے روزانہ 100 ٹن تیل نکالا جائے گا، ان کانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا-

    بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑ دیا،پی ڈی ایم اے کی انتظامیہ کو الرٹ …

    باختر نیوز ایجنسی کے مطابق سرپل اور فاریاب صوبوں میں قشقری، بازار کامی اور زمردسائی کے نام سے تیل کی تین فیلڈز ہیں، جن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس علاقے میں مستحکم ذخائر کی مقدار کا تخمینہ 87 ملین بیرل ہے طالبان کی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی کانوں میں خاص طور پر چین سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے ایک اندازے کے مطابق افغانستان 1 ٹریلین ڈالر سے زائد کے غیر استعمال شدہ وسائل پر بیٹھا ہے، جس نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے، کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ …

    واضح رہے کہ سرپل کی قشقری آئل فیلڈ میں دس کنویں ہیں جن میں سے پانچ فعال ہیں اور ”افغان چائنا“ کمپنی نے قشقری فیلڈ میں بارہ اور اگ دریا میں مزید دو کنوؤں کی کھدائی شروع کر دی ہے، جس کا تعلق سرپل کا مرکز ہے 2021 میں کابل کے اقتدار پر واپسی کے بعد، طالبان نے گزشتہ سال ایک چینی کمپنی کے ساتھ سر پل سے تیل نکالنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    جنوری میں، افغان طالبان کی عبوری حکومت نے ایک چینی فرم کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے کہ وہ دریائے آمو کے طاس سے تیل نکالے اور شمال میں تیل کے ذخائر کو ترقی دے سکے معاہدے کے مطابق چینی کمپنی پہلے سال میں 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو تین سالوں میں 540 ملین ڈالر تک بڑھ جائے گی۔

    عمران خان آرمی چیف کیخلاف مذموم اور بدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں،وزیراعظم

  • افغانستان کےصوبے بدخشاں میں بم دھماکہ:صوبے کے ڈپٹی گورنر جاں بحق

    افغانستان کےصوبے بدخشاں میں بم دھماکہ:صوبے کے ڈپٹی گورنر جاں بحق

    افغانستان کے صوبے بدخشاں میں ہونے والے بم د ھماکے میں صوبے کے ڈپٹی گورنر جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کے روز شمالی افغانستان کے صوبے بدخشاں میں کار بم دھماکا ہوا جس میں صوبے کے ڈپٹی گورنر نثار احمد احمدی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    پاکستان میں جب بھی شاپنگ کی دوکانداروں نے پیسے نہیں لئے،وریندر سہواگ

    صوبائی ترجمان نے بتایا کہ چین اور تاجکستان کی سرحد کو ملانے والے صوبے بدخشاں میں ہونےوالے دھماکے میں ڈپٹی گورنر نثار احمد احمدی کے ساتھ ان کا ڈرائیور بھی جاں بحق ہوا جب کہ دھماکے میں 6 عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس بم دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، جو کئی ہفتوں میں افغانستان میں طالبان کے کسی اہلکار پر ہونے والا پہلا بڑا دھماکہ یا حملہ تھا۔

    روسی ریڈیو اسٹیشنز ہیک، صدرپیوٹن کا جعلی پیغام نشر

    طالبان انتظامیہ داعش کے ارکان کے خلاف چھاپے مار رہی ہے، جس نے شہری مراکز میں کئی بڑے حملوں کا دعویٰ کیا تھا آئی ایس آئی ایس نے طالبان انتظامیہ کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس میں مارچ میں ان کے دفتر پر حملے میں شمالی بلخ صوبے کے گورنر کی ہلاکت کا دعویٰ بھی شامل ہے۔

    افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی 80 بچیوں کو زہر دینے کا انکشاف

  • افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی 80 بچیوں کو زہر دینے کا انکشاف

    افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی 80 بچیوں کو زہر دینے کا انکشاف

    شمالی افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی تقریباً 80 افغان بچیوں کو اسکول میں زہر دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان صوبے سر پول میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو زہر کا نشانہ بنانے کا یہ واقعہ لڑکیوں کی تعلیم کی سخت جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔

    تین سالہ بچے نے سانپ کو چبا کر اسکی جان لے لی

    سر پول کے پولیس ترجمان دین محمد نظری نے کہا کہ ضلع سانچارک میں کچھ نامعلوم افراد لڑکیوں کےاسکول میں داخل ہوئے اور کلاسوں کو زہر آلود کر دیا، جب لڑکیاں کلاسوں میں آئیں تو وہ اس زہر کا شکار ہوگئیں لڑکیوں کو ہسپتال لے جایا گیا، وہ ”بہتر حالت میں“ ہیں لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ کوئی مادہ استعمال کیا گیا تھا یا اس واقعے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔

    دوسری جانب تعلیمی حکام نے کہا کہ زہر دینے کا منصوبہ بنانے والے شخص کی ذاتی رنجش تھی، لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

    صوبائی محکمہ تعلیم کے سربراہ محمد رحمانی نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کے دوران صوبہ سرپل کے ضلع سنگچارک میں تقریباً 80 طالبات کو زہر دیا گیا نسوان کبود آب اسکول میں 60 اور نسوان فیض آباد اسکول میں 17 طلباء کو زہر دیا گیا دونوں پرائمری اسکول ایک دوسرے کے قریب ہیں اور یکے بعد دیگرے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    بھارت میں ایک اور ٹرین حادثہ

    طالبات کو زہر دئیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے،افغانستان کی سابقہ غیر ملکی حمایت یافتہ حکومت کے دوران، لڑکیوں کے اسکولوں پر مشتبہ گیس حملوں سمیت زہر کے کئی حملے ہوئے تھے بلکہ پڑوسی ملک ایران میں نومبر سے لے کر اب تک لڑکیوں کو اسکولوں میں زہر دینے کے واقعات میں ایک اندازے کے مطابق 13,000 طالبات بیمار ہوچکی ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق اور آزادیوں پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کے بعد سے اس قسم کا پہلا حملہ ہوا ہے۔

    ایک ہزار78 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے ہائپرلوپ چلانےکا سعودی منصوبہ

    واضح رہے کہ طالبان انتظامیہ نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے زیادہ تر طالبات کو ہائی اسکول اور یونیورسٹی جانے سے روک دیا ہے، جس کی بین الاقوامی حکومتوں اور بہت سے افغانوں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے طالبان حکام نے لڑکیوں کے لیے پرائمری اسکول 12 سال کی عمر تک کھلے رکھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بعض شرائط کے تحت خواتین کی تعلیم کے حق میں ہیں۔

  • خواتین پر پابندیاں عائد کرنا ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اقوام متحدہ ہمارے فیصلوں کا احترام کرے،افغان حکومت

    خواتین پر پابندیاں عائد کرنا ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اقوام متحدہ ہمارے فیصلوں کا احترام کرے،افغان حکومت

    کابل: افغانستان حکومت نے کہا ہے کہ خواتین پر پابندیاں عائد کرنا ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اقوام متحدہ ہمارے فیصلوں کا احترام کرے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہیں چاہتےاور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی معاملات کسی کے لیے مسائل پیدا نہیں کریں گے اس لیے ہمارے اندرونی فیصلوں کا احترام کیا جائے۔

    افغان مسئلے پر چین کا مؤقف؛ 11 نکاتی اعلامیہ جاری

    انہوں نے کہا کہ خواتین پر پابندی کے فیصلے میں کوئی تفریق نہیں ہے لیکن اس کے برعکس مذہبی اور ثقافتی مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم لوگوں کے تمام حقوق کے لیےپرعزم ہیں افغانستان کے پاس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونےکی صلاحیت موجود ہے اور ملک کو درپیش مسائل اقتصادی اور بینکنگ سسٹم پر عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اثاثے منجمد کرنے، بینکنگ، سفری پابندیوں اور دیگر پابندیوں کے مسائل حل کریں تاکہ افغانستان اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں ترقی کر سکے۔

    واضح رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان حکام نے اسلام کی سخت تشریح کے ساتھ ملک میں خواتین کو ملازمتوں سے روکنے، پردہ کرنے، بغیر مرد ساتھی کے عوامی مقامات میں نہ نکلنے جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور بعدازاں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

    لیک ہونیوالی حساس امریکی دستاویزات میں چین کا روس کو مہلک ہتھیار فراہم کرنےکے ارادےکا …

    افغان طالبان کی طرف سے گزشتہ برس دسمبر میں ملک میں کام کرنے والی بین الاقوامی فنڈ تنظیموں میں خواتین کی ملازمت پر پابندی عائد کرنے کے بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنی والی خواتین پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس سے ان پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔

    اقوام متحدہ نے کہا کہ خواتین کی ملازمت پر پابندی اس مشکل ترین انتخاب کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آیا کہ افغانستان میں سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں یا نہیں وہ اس پابندی کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ یہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت غیرقانونی ہے۔

    اسرائیلی جاسوسی کمپنی نے کتنے ملکوں کو ٹارگٹ کیا،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

    خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیاں 1996 اور 2001 کے درمیان طالبان کی پہلی حکومت کی ایک جھلک ہے جب اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق بالخصوص لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں۔

    خیال رہے کہ افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد امریکا نے فوری طور پر افغان سینٹرل بینک میں رکھے گئے 7 ارب ڈالر کے اثاثے منجمند کردیئے تھے جس کی وجہ سے ملک کو متعدد مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔

  • افغانستان میں فیملیز اور خواتین کے ریسٹورنٹس اور پارکس میں جانے پر پابندی

    افغانستان میں فیملیز اور خواتین کے ریسٹورنٹس اور پارکس میں جانے پر پابندی

    طالبان نے افغانستان میں فیملیز اور خواتین کے ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے اور پارکس میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کےمطابق افغانستان کےصوبےہرات میں افغان انتظامیہ کی طرف سےتصدیق کی گئی ہےکہ خواتین کو ریسٹورنٹس اور پارکس میں جانے سے روک دیا جائےگا ہرات میں خواتین پر لگائی گئی پابندی علماء کی طرف سے شکایات کے باعث عائد کی گئی ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ریسٹورنٹس اور پارکس میں خواتین کی بے پردگی ہوتی ہے۔

    ی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں …

    یہ بھی ذہن میں رہے کہ افغانستان کے صوبے ہرات میں غیر ملکی فلموں، ٹی وی شوز اور میوزک کی ڈی وی ڈی فروخت کرنے پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل افغان حکومت کی جانب سے افغانستان کے شہر ہرات میں مرد اور خواتین کے ایک ساتھ ریسٹورنٹس میں بیٹھ کر کھانا کھانے اور ایک ساتھ پارکس میں جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

    طالبان کو اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے یونیورسٹٰی جانے اور ملازمت پر پابندی لگانے پر عالمی برادری کی تنقید کا سامنا ہے۔

    آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس، پاکستانی وفد امریکا پہنچ گیا