Baaghi TV

Tag: طالبان

  • امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں،امریکی جج

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں،امریکی جج

    مین ہٹن: امریکی جج نے کہا ہے کہ افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثے وہاں کے عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یک امریکی جج نے سفارش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو طالبان کے خلاف حاصل کیے گئے عدالتی فیصلوں کو پورا کرنے کے لیے افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    وکی لیکس کے بانی نے امریکا حوالگی کے خلاف برطانیہ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی

    اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا۔، جن کی کل تعداد تقریباً 10 بلین ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 7 بلین ڈالر امریکہ میں رکھے گئے تھے اور دیگر ممالک میں تقریباً 2 بلین ڈالر ہیں امریکی صدر نے ان میں نصف افغان عوام اور نصف نائن الیون متاثرین کو دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مغربی حکومتوں نے طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں پر اس کی ملکیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے امریکی ریاست مین ہٹن کی مجسٹریٹ جج سارہ نیٹ برن نے سفارش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو طالبان کے خلاف حاصل کیے گئے عدالتی فیصلوں کو پورا کرنےکےلیے افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کی اجازت نہ دی جائے

    لیبیا میں دومسلح گروہوں کے درمیان خونی تصادم ،23 افراد ہلاک،140 زخمی

    جج مین ہٹن نے اپنی سفارش میں لکھا کہ نائن الیون حملے کے امریکی متاثرین انصاف، احتساب اور معاوضے کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے لیکن قانون عدالت کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے کسی دوسرے ملک کے اثاثوں کے استعمال سے روکتا ہے۔

    امریکی جج نے اپنے سفارش میں مزید لکھا کہ چنانچہ دا افغانستان بینک کو عدالتوں کے دائرہ اختیار سے استثنیٰ حاصل ہے اور اگر اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس کامطلب طالبان حکومت کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا اور ایسا صرف امریکی صدر ہی کرسکتے ہیں۔

    ایشیا کپ 2022: پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ آج کھیلا جائے گا

    "طالبان کے متاثرین انصاف، احتساب اور معاوضے کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ کسی سے کم کے حقدار نہیں ہیں،” جج نیٹ برن نے لکھا لیکن قانون محدود کرتا ہے کہ عدالت کس معاوضے کا اختیار دے سکتی ہے، اور یہ حدود ڈی اے بی کے اثاثوں کو اس کے اختیار سے باہر کر دیتی ہیں-

    مین ہٹن کی جج کی اس سفارش کا جائزہ مین ہٹن میں ہی امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج ڈینیئلز کریں گے، جو قانونی چارہ جوئی کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا اس کی سفارش کو رد کریں یا قبول کیا جائے۔

    واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹراور پینٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرائے گئے تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکا نے حملے کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیتے ہوئے طالبان پر معاونت کا الزام عائد کیا تھا۔

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

  • ذبیح اللہ مجاہد نےعہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ذبیح اللہ مجاہد نےعہدے سے استعفیٰ دے دیا

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نائب وزیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو نائب وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا تھا، اب ذبیح اللہ مجاہد نے نائب وزیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاہم ذبیح اللہ مجاہد بدستور حکومت کے مرکزی ترجمان رہیں گے۔

    افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت…


    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور ان کی جگہ مولوی حیات اللہ مہاجر کو نائب وزیراطلاعات مقرر کیا گیا۔

    ذبیح اللہ مجاہد تحریک اسلامی طالبان کےدو باضابطہ ترجمانوں میں سے ایک ہیں، دوسرے قاری یوسف احمدی ہیں۔ ذبیح اللہ زیادہ تر مشرقی، شمالی اور وسطی افغانستان میں طالبان سرگرمیوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہیں جبکہ یوسف احمدی مغربی اور جنوبی خطوں پر بات کرتے ہیں۔

    افغانستان کسی کی معیشت، فوج اور سیاست پر انحصار نہیں کرتا، قائم مقام وزیر دفاع

    ذبیح اللہ مجاہد باقاعدہ طور پر افغان صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں اور بذریعہ موبائل کال، پیغامات، ای میل، ٹیوٹر اور جہادی ویب سائٹوں پر شائع کر کے طالبان کی طرف سے بات کرتے تھے تاپم گزشتہ برس اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے تھے-

    ذبیح اللہ کو جنوری 2007ء میں طالبان ترجمان محمد حنیف کی گرفتاری کے بعد مقرر کیا گیا تھا-

    یو اے ای کا 6 سال بعد ایران میں سفیر تعینات کرنے کا اعلان

  • طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 20 سال بعد امریکا نے افغانستان چھوڑا، توطالبان نےافغانستان کا کنٹرول سنبھالا، آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے-

    افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد مختلف دلچسپ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک سال پورا ہونے پر افغانستان نے پیر 15 اگست کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں افغان حکومت نے کہا ہے کہ ایک سال مکمل ہونے پر 15 اگست کو پورے افغانستان میں عام تعطیل ہوگی۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1558506768677842947?s=20&t=KJurlkQsxaEYJFVuIn86LQ
    حکام نے ابھی تک ایک سال مکمل ہونے کی سالگرہ کے موقع پر کسی سرکاری تقریبات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان کے آخری معرکے کابل کو بھی فتح کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اسی دن اُس وقت کے صدر اشرف غنی بغیر کسی کو بتائے ملک سے فرار ہوگئے تھے جب کہ افغان فوج نے معمولی سی بھی مزاحمت نہیں کی تھی پنجشیر میں تاحال طالبان مکمل طور پر اقتدار میں نہیں آسکے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان امیر کی جانب سے نامزد کردہ عبوری کابینہ امور مملکت چلا رہی ہے اور تاحال خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے جب کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

  • خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    خواتین اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں، طالبان

    کابل: طالبان نے خواتین ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جگہ متبادل کے طور پر کسی رشتے دار مرد کو ملازمت پر بھیجیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے ’’دی گارجیئن‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین ملازمین کو اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجنے کا کہا ہے حکومتی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ان کی ملازمتوں سے گھر بھیج دیا گیا تھا،اور کچھ نہ کرنے کے لیے انہیں بھاری کم تنخواہیں دی گئی تھیں۔

    گارجیئن سےبات کرتے ہوئےکئی خواتین نےبتایا کہ طالبان حکام نے ہمیں کال کرکے کہا ہےکہ اپنی جگہ کسی مرد رشتے دار کو ملازمت پر بھیجیں۔ چند ایک خواتین کو بھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مرد رشتے داروں کو متبادل بناکر نہ بھیجا تو ایسی خواتین کی ملازمتوں سے برخاست کردیا جائے گا۔

    طالبان حکومت کی جانب سے خواتین ملازمین کے لیے یہ حکم حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد آیا اور اس دوران خواتین کو ملازمتوں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خواتین سے متعلق ماحول سازگار ہونے پر انھیں ملازمتوں پر واپس بلالیا جائے گا۔

    طالبان پر خواتین کو ملازمتوں پر آنے کی اجازت نہ دینے، لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش اور کابینہ میں تمام طبقات کی شمولیت نہ ہونے پر شدید عالمی دباؤ ہے تاہم طالبان نے مؤقف اختیار کیا ہے وہ اپنے فیصلے اسلامی قوانین اور افغان کلچر کے مطابق کریں گے۔

    یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بہاؤس نے مئی میں کہا: "خواتین کی ملازمت پر موجودہ پابندیوں کے نتیجے میں 1 بلین ڈالر تک کا فوری معاشی نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے – یا افغانستان کی جی ڈی پی کا 5 فیصد تک انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تقریباً عالمگیر غربت ہے۔ "ایک پوری نسل کو غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا خطرہ ہے۔”

  • کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل :طالبان حکام نے علما کے اجتماع میں دنیا کے دیگر ممالک سے اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن لڑکیوں کے اسکول کھولنے جیسے مطالبات پورے کرنے کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا۔

    رائٹرز کے مطابق افغانستان میں طالبان حکام اور علماء، عمائدین اور قومی سرکردہ شخصیتوں کے اجتماع کے بعد جاری اعلامیے میں کہا کہ ہم علاقائی، بین الاقوامی اور خاص طور پر اسلامی ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ‘امارت اسلامی افغانستان’ کو تسلیم کرکے تمام پابندیاں ختم اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کریں اور افغانستان کی ترقی میں مدد کریں۔ امارات اسلامی افغانستان سے موسوم طالبان حکومت کو اب تک باضابطہ طور پر کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان اپنے اعلان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کیا تھا کہ تمام اسکول مارچ میں کھل جائیں گے، جس کے بعد ہائی اسکولوں کی کافی لڑکیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جبکہ اس فیصلے کو مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ جو عام طور پر قندھار میں رہتے ہیں اور عوامی مقامات پر کم ہی نظر آتے ہیں تاہم وہ کابل میں منعقدہ اس اجتماع میں شریک ہوئے اور کہا کہ غیرملکیوں کو احکامات نہیں دینا چاہئیں۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے فنڈنگ روکنے اور سخت پابندیوں کے نفاذ سے افغانستان کی معیشت بحران کا شکار ہے، ان ممالک کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی تمام اقوام می شرکت سے جامع اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام ایک لازمی امر ہے۔
    حادثے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پائلٹ سمیت سات افراد شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبے جوزجان میں طالبان کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، حادثے میں تین افراد جاں بحق، سات زخمی ہو گئے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق طالبان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کی شام کو ہیلی کاپٹر جس میں دس افراد سوار تھے، تکنیکی خرابی کے باعث جوزجان کے مرکز شبرغان شہر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

  • افغان لویہ جرگہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ

    افغان لویہ جرگہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ

    کابل: افغانستان میں ہونے والے لویہ جرگہ کے شرکا نے عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ کر دیا۔افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تین روزہ لویہ جرگہ کا اختتام ہوگیا ہے، جرگے میں مختلف قراردادوں کی منظوری دی گئی۔

    جرگے میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا ہےکہ امارت اسلامیہ کی حکومت جائز ہے، تمام علاقائی، بین الاقوامی ممالک خصوصاً اسلامی ممالک امارت اسلامیہ کی حکومت کو تسلیم کریں اور عالمی برادری افغانستان پر سے تمام پابندیاں ختم کرکے افغان اثاثے بحال کرے۔

    پاکستانی سفیرکی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کےڈپٹی سیکریٹری…

    جرگےکا کہنا تھا کہ امارت اسلامیہ کی دوسرے ممالک میں مداخلت کی پالیسی نہیں، دوسرے ممالک بھی افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

    دیگر قراردادوں میں موجودہ افغان حکومت کے خلاف مسلح مخالفت بغاوت ہونے، داعش سے کسی قسم کا تعلق ممنوع ہونے، منشیات کے خلاف امارت اسلامیہ کے فرمان کی حمایت، میڈیا کے ذریعے اشتعال پھیلانے والے علما کو روکنے اور ملک میں قومی اتحاد کی ترغیب دینے پر شرکا نے اتفاق کیا۔

    لویہ جرگہ میں 4 ہزار سے زائد افغان علما، سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

  • افغان طالبان نے خراب کوالٹی کے تیل کے 12 ایرانی ٹینکرزواپس بھیج دیئے

    افغان طالبان نے خراب کوالٹی کے تیل کے 12 ایرانی ٹینکرزواپس بھیج دیئے

    طالبان نے خراب کوالٹی کا تیل افغانستان میں لانے پر 12 ایرانی آئل ٹینکرز کو واپس ایران بھیج دیا گیا-

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق طالبان سیکیورٹی حکام کے مطابق ایران سے درآمد کیے گئے تیل کے 12 ٹرکوں میں ناقص معیار کا تیل موجود پایا گیا ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جس کے بعد ٹینکرز ایران واپس چلے گئے-

    صوبہ نمروز کے طالبان گورنر، صوبائی پولیس چیف، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی کے نمائندے، کسٹمز اور محکمہ نارم اینڈ سٹینڈرڈ کے حکام کی موجودگی میں طالبان چیف آف پولیس آفس میں کرائم کنٹرول کے ڈائریکٹر قاری عبدالرحیم حذیفہ نے بتایا کہ نارم اینڈ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ کی لیبارٹری میں جانچ کے بعد ایران سے درآمد کیے گئے 5 لاکھ لیٹر آئل کے 12 ٹینکروں میں خراب کوالٹی کا تیل پایا گیا جس کے بعد ٹینکروں کو واپس ایران بھیج دیا گیا۔

    صوبہ نمروز کے متعدد مقامی لوگوں نے طالبان کے اس اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ناقص معیار کا تیل فضائی آلودگی میں معاون اور شہریوں کیلئے سنگین مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

    یوکرین روس جنگ میں ایک اور صحافی جاں بحق

    واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر کی زیر صدارت اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ بالا ٹیم خراب کوالٹی کے پیٹرولیم اور گیس مصنوعات کی نشاندہی کرنے اور ان کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔

    ایشین فٹبال کپ 2023: چین کی دستبرداری کے بعد ٹورنامنٹ کی میزبانی کیلئے بولی جون کے آخر میں ہوگی

  • طالبان حکومت کی بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش

    طالبان حکومت کی بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش

    کابل: طالبان حکومت نے بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش کردی۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق قطرمیں طالبان کےسیاسی دفترکےترجمان سہیل شاہین نےایک انٹرویومیں کہا کہ بھارت کابل میں دوبارہ سفارتخانے کھولے گا تواس کےسفارتکاروں کومکمل سیکورٹی فراہم کی جائےگی بھارت کوقومی اورباہمی مفادات کےبنیاد پرطالبان حکومت سے تعلقات قائم کرنا چاہئیں اورسابق افغان حکام سے روابط نہیں رکھنے چاہئیں۔

    طالبان حکومت،افغان ایئرپورٹس کےمعاملات چلانےکیلئےیواےای سےمعاہدہ کرے گی

    سہیل شاہین کا یہ بیان اس وقت آیا جب حال ہی میں بھارتی خبررساں ادارے انڈین ایکسپریس نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت افغانستان میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے پر غور کر رہا ہے-

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کام کرنے والے تمام غیرملکی سفارتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔بہت سے سفارت خانے کابل میں کام کررہے ہیں اورانہیں بھرپورسیکورٹی دی گئی ہےبھارتی سفارتخانے اورسفارتکاروں کوبھی سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور اگربھارت افغانستان میں جاری منصوبے مکمل کرنا چاہے گا یا نئے منصوبے شروع کرنا چاہے گا تو اس کا خیرمقدم کریں گے۔

    دوسری جانب بھارت نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی سرگرمیوں کی بحالی پرغور کرنا شروع کردیا ہے اور ابتدائی طور پرافغان اہلکار ہی سفارت خانےمیں ذمہ داریاں سنبھالیں گےاس حوالےسے معروف بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک ٹیم ورکنگ انوائرمنٹ، امن و امان کی صورت حال اور سفارت خانہ کے تحفظ سے متعلق زمینی حقائق کا جائزہ لینے کابل بھی گئی تھی۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    انڈین ایکسپریس نے یہ بھی دعویٰ بھی کیا تھا کہ ابھی سینیئر سطح کے سفارت کاروں کو بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے البتہ ابھی صرف مقامی اہلکار سفارت خانے میں فرائض انجام دیں گے تاہم ضرورت پڑنے پر قونصلر کی خدمات تک توسیع کی جا سکتی ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے حکام نے انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ مقامی افغان اہلکاروں کے ساتھ سفارت خانہ کھولنے کا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ہرگز نہیں ہے۔ تاحال طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس اگست کے وسط میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

  • کابل: خواتین اینکرز سے اظہار یکجہتی ، مرد اینکرز نے بھی چہرے ڈھانپ لیے

    کابل: خواتین اینکرز سے اظہار یکجہتی ، مرد اینکرز نے بھی چہرے ڈھانپ لیے

    افغانستان میں تحریک طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ خواتین ٹی وی پریزینٹرز پربرقع مسلط نہیں کرتےمگرچہرہ ڈھانپنے کو کہا ہے-

    باغی ٹی وی : طالبان حکومت کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ایک حکم نامے کے ذریعے اتوار تک خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپ کر ٹی وی اسکرین پر آنے کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے بعد معروف ترین افغان ٹی وی "طلوع نیوز”، "شمشاد ٹی وی”، "وان ٹی وی” اور "اریانا” چینلز پر تمام خواتین پریزنٹرز اتوار کے روز نقاب پہنے نمودار ہوئیں اُنہوں نے صرف اپنی آنکھیں اور ماتھے کو ظاہر کیا۔

    افغان خواتین اینکرزنے چہرہ ڈھانپنے کا حکم مسترد کردیا

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپ کر ٹی وی اسکرین پر آنے کے حکم پر مرد اینکرز بھی اظہار یکجہتی کے لیے اپنے چہرے ماسک سے چھپا کر ٹی وی اسکرین پر آئے اور لائیو پروگرام کیے۔


    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز کے نیوز بلیٹن اور ٹاک شو کے مرد اینکرز اپنا چہرہ ڈھانپ کر اسکرین پر نمودار ہوئےمر اینکرز کا کہنا ہےکہ یہ اقدام اپنی کولیگز خواتین پریزینٹرز کو چہرہ ڈھانپ پر کر ٹی وی اسکرین پر آنے کے طالبان حکومت کے حکم کے ردعمل میں اُٹھایا ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ناک اور ہونٹ کپڑے سے ڈھکے ہوں تو بولنے اور سانس میں لینے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے طلوع نیوز کے ڈائریکٹر خپلواک ساپئی کا کہنا تھا کہ حکم نامے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے تاہم طالبان کے سپریم لیڈر کے فرمان میں خواتین پریزنٹرز کے پردے کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں تھا میرے خیال میں ٹی وی پر خواتین کی تصویر یا ویڈیو ورچوئل ہوتی ہے اور وہ اصل میں موجود نہیں ہوتیں اس لیے یہ حکم ان پر لاگو نہیں ہوتا۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل…

    جبکہ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان عاکف مہاجر کا کہنا ہے کہ چہرہ ڈھانپنے کا حکم یہ ہمارا نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔ چہرہ ڈھانپنا بھی پردے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب غیرملکی خبررساں ادارے” العربیہ ” کو دیئے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نےکہا کہ حجاب اور برقع ان کےملک کی ثقافت کا حصہ ہیں افغان حکومت نے براڈکاسٹروں پر برقع نافذ کیا لیکن ہم خواتین ٹی وی پریزینٹرز سےکہتے ہیں کہ وہ اپنا منہ اور ناک ڈھانپیں اس کے لیے محض ماسک کافی ہے مگر پردہ اسلامی شریعت میں لازمی ہے۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرویو میں میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹیاں ان کے لیے کھلی ہیں اور حکومت سیکیورٹی نافذ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ طالبات کو اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

    پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کرنل کے قتل کا بدلہ لیں گے،ایرانی صدر کا اعلان

    انہوں نے پوست اور افیون کی کاشت کے مسئلے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے افیون کی کاشت کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کو اس کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے کام کیا ہے۔ اس کے لیے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نشےکی لعنت سے نجات دلانے میں ہماری مدد کرے۔

    ذبیح اللہ نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور جنگ کے خاتمے کے بعد اس میں سلامتی اور استحکام کے لیے کام کر رہا ہے افغانستان بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے بعد اپنے اندرونی وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کی مدد کا مطالبہ کیا اور افغانستان سے بالخصوص امریکا کے خلاف کسی بھی خطرے کو روکنے کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔

    موجودہ افغان حکومت کی جانب سےسابق حکومت کی شخصیات کو شامل نہ کرنےکی وجہ کےبارےمیں انہوں نےکہاکہ حکومت میں مختلف طبقات کی شخصیات شامل ہیں طالبان نے”دوحہ معاہدے” میں ملک چھوڑنے والی شخصیات کو شامل کرنے کا عہد نہیں کیا تھا۔ سابق صدر اشرف غنی، ان کے حامی اور دیگر پہلے طالبان کے خلاف لڑتے رہے اور پھر ملک چھوڑ گئے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

  • افغان خواتین اینکرزنے چہرہ ڈھانپنے کا حکم مسترد کردیا

    افغان خواتین اینکرزنے چہرہ ڈھانپنے کا حکم مسترد کردیا

    کابل: افغانستان کے ٹی وی چینلز نے خواتین اینکرز کے چہرے ڈھانپنے کے حوالے سے طالبان کے حکم نامے کو مسترد کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ٹی وی چینلز پر خواتین اینکرز طالبان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے چہروں کو ڈھانپے بغیر اسکرین پر آئیں۔

    لاہور میں دسویں جماعت کی طالبہ کا دن دیہاڑے اغوا

    افغانستان کے مشہور ٹی وی چینلز میں شمار طلوع نیوز، شمشاد ٹی وی اور ون ٹی وی نے ہفتے کو لائیو پروگرام نشر کیے، جس میں خواتین اینکرز کے چہرے نظر آرہے تھے۔

    منہ ڈھانپے بغیر پروگرام پیش کیے جانے سے متعلق شمشاد ٹی وی کے ہیڈ آف نیوز عابد احساس نے ڈی ڈبلیو (DW) سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری خواتین ساتھیوں کو تشویش ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے کو ڈھانپتی ہیں تو اگلے حکم میں انہیں کام کرنے سے روکنے کے لیے کہا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک اس حکم پر عمل نہیں کیا۔

    ایک خاتون پریزینٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ طالبان اقتدار میں آکر پھر سے سخت موقف اخیتار کررہے ہیں جبکہ اس حکمنامہ کے بعد سے ہم ملک چھورنے کا سوچ رہے ہیں۔

    افغانستان میں خواتین میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ

    یاد رہے کہ طالبان نے افغانستان میں ٹی وی نشریات کا حصہ بننے والی تمام خواتین کو نشریات کے دوران چہرے کو ڈھانپنے کا حکم دیا تھا۔


    افغان وزارت امربالمعروف ونہی عن المنکر کی جانب سے جاری کردہ حکم میں کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق افغانستان میں تمام میڈیا اداروں میں کام کرنے والی تمام خواتین پر ہوگا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی-

    اس سے قبل خواتین پریزینٹرز کے لیے صرف سر پر سکارف پہننا لازمی تھا جبکہ گزشتہ دنوں افغان طالبان کی حکومت نے لڑکیوں کے سیکینڈری اسکولز جانے پر بھی پابندی لگادی تھی تاہم وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اسکول کھولنے سے متعلق اچھی خبر کا جلد اعلان کیا تھا۔

    طالبان کی حکومت اس سے قبل خواتین کے پارکوں میں جانے اورریسٹورنٹس میں کھانا کھانے پربھی پابندی عائد کرچکی ہے۔ عوامی مقامات پرخواتین کومکمل پردہ کرکے کے آنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل بنانےکا فیصلہ