Baaghi TV

Tag: طالبان

  • طالبان نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کا حکم واپس لے لیا

    طالبان نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کا حکم واپس لے لیا

    کابل: طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری گرلز اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے چند گھنٹوں بعد ہی بند کرنے کا حکم دے دیا، افغان وزارت تعلیم کے مطابق 6 ویں جماعت سے آگے کی طالبات کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان وزارت تعلیم نے لڑکیوں کے تمام ہائی اسکول آج سے کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج صبح جب طالبات اسکول پہنچیں تو انہیں گھر واپس لوٹ جانے کا حکم دیا گیا طالبان کے اچانک فیصلے پر بچیاں اپنے آنسووں کو روک نہ پائیں اور رو پڑیں۔ طالبات نے مطالبہ کیا کہ طالبان تمام لڑکیوں کے لیے اسکول کو کھولنے کا وعدہ پورا کریں۔


    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغان وزارت تعلیم نے طالبات کے لیے ہائی اسکول تاحکم ثانی بند رکھنے کا نوٹس جاری کر دیا ہےنوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون اور افغان ثقافت کے مطابق منصوبے کی تیاری تک لڑکیوں کے ہائی اسکول اگلے حکم تک بند رہیں گے۔


    خبر ایجنسی کا کہنا ہے افغان وزارت تعلیم نے طالبات کے لیے ہائی اسکول کی بندش پر ردعمل سے گریز کیا ہے تاہم افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے گرلز ہائی اسکولوں کی بندش کی مذمت کی ہے۔

    اس حوالے سے قطر میں موجود امریکی ناظم الامور برائے افغانستان نے کہا کہ افغانستان میں گرلز ہائی اسکولوں کی بندش مایوس کن ہے، طالبان کی یقین دہانیوں اور بیانات میں تضاد ہے۔

    یاد رہے 5 دن پہلے طالبان نے لڑکیوں کو ہائی اسکول بھیجنے کی اجازت دینے کا اعلان کردیا تھا ترجمان وزارت تعلیم کا کہنا تھا کہ اسکول تمام لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کھولے جا رہے ہیں تاہم طالبات کو لڑکوں سے الگ اور صرف خواتین اساتذہ کے ذریعے پڑھایا جائے گا-

    جن علاقوں میں خواتین اساتذہ کی کمی ہے، وہاں بڑی عمر کے مرد اساتذہ کو لڑکیوں کو پڑھانے کی اجازت ہوگی اس سال ایک بھی اسکول بند نہیں ہو گا، اگر کوئی اسکول بند ہوتا ہے تو اسے کھولنا وزارت تعلیم کی ذمہ داری ہے-

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔

  • شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

    شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

    واشنگٹن: امریکا میں افغانستان کے سفارتخانے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث آنے والے ہفتے میں سفارت خانہ بند ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : عالی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کی حکومت قائم ہونے کے باوجود امریکا میں افغان سفارت خانہ آزادانہ طور پر کام کر رہا تھا تاہم طالبان حکومت کے زیر اثر نہ ہونے کے باوجود افغان سفارت خانے کو بھی فنڈز مہیا نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع…

    امریکی وزارت خارجہ میں ایک اعلی سطح کے ذمے دار نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی سفارت خانہ آئندہ ہفتے اپنی خدمات بند کر دے گا اس اقدام کی وجہ افغان سفارت کاروں کا اپنے دارالحکومت سے رابطہ منقطع ہونا اور مالی رقوم ختم ہو جانا ہے۔

    اہلکار نے ہفتے کے روز اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ گذشتہ برس اگست میں کابل کے طالبان کے ہاتھوں میں جانے سے قبل واشنگٹن میں 25 سفارت کار افغان ریاست کی نمائندگی کر رہے تھے ان افراد کو امریکا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ قیام برقرار رکھنے کے لیے جلد ہی نیا ویزا حاصل کرنا ہو گا۔

    محکمہ خارجہ کے اہلکار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ واشنگٹن میں سفارت خانے، لاس اینجلس اور نیویارک کے قونصل خانوں میں موجود 100 سے زائد افغان سفارت کاروں کو ملک بدری سے بچنے کے لیے امریکی ویزے حاصل کرنے ہوں گے جس کے لیے ان کے پاس صرف ایک ماہ کی مہلت بچی ہے اگر ویزے نہ ملے تو انھیں نہ چاہتے ہوئے بھی افغانستان جانا پڑے گا۔

    ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی حکومت کا طالبان کی جانب سے تعینات کیے گئے سفارت کاروں کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ موجودہ سفارت کاروں کے پاس ایک ماہ وقت ہے۔

    امریکی وزیر خاتجہ کے اہلکار نے اپنی نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر تصدیق کی کہ امریکی وزارت خارجہ ان افغان سفارت کاروں کے ساتھ رابطہ کاری کر رہی ہے تا کہ سفارت خانے کا کام منظم طریقے سے بند کرنے کو آسان بنایا جائے۔ اس کا مقصد دوبارہ کام شروع ہونے تک امریکا میں افغان سفارتی مشن کی تمام املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    عالمی برادری نے افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے سابقہ حکومت کے سفارتی مشنوں پر طالبان کا عملی کنٹرول بھی نہیں ہے ان سفارت خانوں کو مغرب کے ہمنوا سفارت کار چلا رہے ہیں۔

    طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    امریکی ذمے دار کے مطابق وزارت خارجہ طالبان کی جانب سے مقرر کیے جانے والے سفارت کاروں کی فی الوقت منظوری دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے یہ اس صورت میں ہو سکے گا جب امریکا کابل میں حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرے۔

    گذشتہ ماہ کے اوائل میں طالبان کے وزیر خارجہ نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے قریب ہے۔ اس سے قبل طالبان کے وفد نے کئی مغربی سفارت کاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ناروے کا دورہ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ برس اگست میں طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے دنیا بھر میں افغان سفارت خانے فنڈز کی کمی کے باعث بند ہو رہے ہیں جب کہ طالبان کے نامزد کردہ سفارت کاروں کو کوئی ملک تسلیم کرنے کا تیار نہیں۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

  • یوم خواتین پرطالبان نےخواتین تنظیموں کوخون کےعطیات کی مہم سے روک دیا

    یوم خواتین پرطالبان نےخواتین تنظیموں کوخون کےعطیات کی مہم سے روک دیا

    کابل: افغانستان میں عالمی یوم خواتین پر سماجی تنظیموں کی جانب سے خون کے عطیات کی مہم کو روک دیا۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا تاہم افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کو ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں دی بلکہ خون کے عطیات جمع کرنے کی مہم کو بھی روک دیا۔

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع…

    افغان دارالحکومت کابل میں خواتین کے حقوق کی تنظیم کے ارکان معروف اسپتال کے باہر خون کے عطیات جمع کر رہے تھے اسپتال انتظامیہ نے بھی اجازت دے دی تھی تاہم بعد میں کیمپ کو بند کروا دیا گیا۔

    تنظیم کی سربراہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پہلے ان کا ارادہ خواتین کے عالمی دن پر ایک مظاہرہ کرنا تھا جس میں طالبان کی جانب سے خواتین پر تعلیم، مکازمت اور کاروبار کے دروازے بند کرنے کے خلاف احتجاج کیا جاتا۔

    چھٹی کے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر،مودی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے

    تاہم طالبان کی جانب سے احتجاج پر کریک ڈاؤن یا تشدد کے باعث احتجاج کے بجائے خون کا عطیات جمع کرنے کی مہم کا فیصلہ کیا لیکن اسے بھی بند کرادیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےعالمی یوم خواتین کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ یوم خواتین افغانستان کی خواتین کے لئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے کا اچھا موقع ہے افغان خواتین کوشریعت کے مطابق حقوق دینے کے لئے پرعزم ہیں ہم اپنی افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کرتے ہیں، انشاء اللہ

    عدالت سے میشا شفیع کی درخواست خارج ،علی ظفر کا رد عمل بھی سامنے آگیا

  • ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    ملک چھوڑنے والے شہری افغانستان واپس آجائیں، افغان وزیر داخلہ

    افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والے سراج الدین حقانی پہلی بار منظر عام پر آگئے۔

    باغی ٹی وی : تفسیلات کے مطابق کابل میں طالبان حکومت میں بڑی سطح پرپہلی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا،تقریب میں امارت اسلامیہ پولیس نے نئے یونیفارم کے ساتھ شرکت کی سراج حقانی کابل میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں میڈیا اور عوام کے سامنے آئے۔

    طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    طالبان حکومت کی وزارت اطلاعات نے تصدیق کی کہ سراج حقانی پہلی مرتبہ عوام اور میڈیا پر آئے ہیں، نائب افغان وزیر اعظم ملا عبد الغنی برادر کے پرنسپل سیکریٹری عبداللہ عظام نے سراج حقانی کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کیں۔

    وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کابل میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب بھی کیا اور خطاب میں افغانستان چھوڑنے والوں کو کہا کہ وہ وطن واپس آجائیں۔

    سراج حقانی نے کابل میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہماری جدوجہد اور واحد آرزو اسلامی نظام کا قیام رہی۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

    انہوں نے کہا کہ جو شہری افغانستان سے باہر جاچکے ہیں وہ اپنے ملک واپس آجائیں، عام معافی کے اعلان کے تحت تمام شہریوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

    سراج حقانی نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ کابل اور دیگر شہروں میں کلیئرنس آپریشن کے دوران پولیس اہلکار شہریوں سے نرم رویہ رکھیں اور اگر آپریشن کلین اپ کے دوران کسی شہری سے کوئی بھی مسئلہ ہو تو علماء سے مشاورت کریں۔

    کابل:آپریشن کلین اپ میں 9 اغوا کاروں سمیت 68 جرائم پیشہ افراد گرفتار

    خیال رہے کہ افغانستان کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پولیس اکیڈمی کی تقریب میں سراج الدین حقانی کو پہلی مرتبہ لائیو دکھایا اس سے پہلے سراج حقانی کی صرف ایک مبہم تصویر میڈیا پر تھی، سراج حقانی آج سے پہلے ہمیشہ کوشش کی کہ ان کی تصویر یا ویڈیو میڈیا پر نہ آئے۔

    طالبان کی امریکا سے جنگ کے دوران امریکا نے سراج حقانی کو انتہائی مطلوب شخص قرار سخص قرار دے رکھا تھا،اور ان کی گرفتاری میں مدد پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام تھا سراج حقانی اب بھی امریکا اور اقوام متحدہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

  • روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

    روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

    ماسکو: طالبان نے روس اور یوکرین تنازع پر غیر جانبدار رہتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین تنازع پر ان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے فریقین مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کریں۔

    یوکرین پر حملہ: میٹا نے روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ایسی اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔

    ترجمان عبدالقہار بلخی نے روس اور یوکرین پر زور دیا کہ وہ خطے میں افغان طلبا سمیت دیگر تارکین وطن کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ روس نے دو روز قبل یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس میں جنگ کے پہلے روز فوجی اہلکاروں سمیت 135 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے-

    دوسری جانب روسی فوج کے یوکرین کے حملے کے بعد اپنے ملک کے دفاع میں سابق صدر پیٹرو پوروشینکو کلاشنکوف اُٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے جب کہ خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک بھی اسلحہ تھام کر جنگ کے لیے تیار ہیں یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو نے براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو میں کلاشنکوف لہراتے ہوئے کہا کہ اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ کو تیار ہوں۔

    یوٹیوب،گوگل اور ٹوئٹر نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دیں

    2014 سے 2019 تک یوکرین کے صدر رہنے والے پیٹرو پوروشینکو نے مزید بتایا کہ ان کے پاس رائفلز اور دو مشین گنیں بھی ہیں جو وہ روسی فوجیوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے استعمال کریں گے جس کے لیے وہ سڑک پر ہر وقت موجود رہیں گے-


    اسی طرح یوکرین کی خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انھیں کلاشنکوف تھامے دیکھا جا سکتا ہے اپنے پیغام میں خاتون رکن اسمبلی نے خواتین کے جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی۔

    یوکرین پارلیمنٹ کی رکن اسمبلی کیرا روڈک نے مزید لکھا کہ وہ کلاشنکوف کا استعمال سیکھ رہی ہیں اور روس کے خلاف جنگ کے لیے ہتھیار اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ مردوں کے شانہ بشانہ جنگ لڑ سکیں۔

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

  • کابل: طالبان نے 2 غیرملکی صحافیوں کورہا کردیا

    کابل: طالبان نے 2 غیرملکی صحافیوں کورہا کردیا

    کابل: طالبان حکومت کے زیرحراست 2 غیرملکی صحافیوں اورایک افغان شہری کو رہا کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ عالمی ادارے کے لئے کام کرنے والی غیرملکیوں کوشناختی کارڈ، لائسنس اوردیگردستاویزات نہ ہونے پرگرفتارکیا گیا تھا تاہم اب غیرملکیوں کی شناخت کی تصدیق ہونے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا ہے۔

    دو غیرملکی صحافی افغانستان میں غائب کردیئے گئے

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے 2 گرفتارصحافیوں اورایک افغان شہری کی رہائی قابل اطمینا ن ہے ہم ان تمام لوگوں کے مشکور ہیں جنہوں نے تشویش کا اظہار کیا اور مدد کی پیشکش کی۔ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ پرعزم ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں صحافی اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لئے کام کرنے والے کمیشن کے اسائنمنٹ پرافغانستان میں موجود ہیں جبکہ افغان شہری ان کی معاونت کررہے ہیں۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ


    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کیلئے کام کرنے والے دو غیرملکی صحافیوں کو مبینہ طور پر کابل میں حراست میں لے لیا گیا تاہم طالبان نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ افغان حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اوراس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے یا نہیں۔

    کابل ائیر پورٹ دھماکے:امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پنٹاگون کے دعووں کو جھٹلا…

  • تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    سڈنی:طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی لیکچرار نے حکومت کی مدد کرنے کے لیے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے لیکچرار ٹموتھی ویکس تین سال طالبان کی قید میں رہنے کے بعد اہم کمانڈرز کی رہائی کے بدلے آزاد ہوئے تھے قید کے دوران ٹموتھی نے اسلام قبول کرکے اپنا نام جبرائیل عمر رکھ لیا تھا قید سے آزادی ملنے کے بعد سے وہ آسٹریلیا میں ہی مقیم ہیں تاہم اب انہوں نے طالبان حکومت کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    اپنے ایک انٹرویو میں آسٹریلوی لیکچرار کا کہنا تھا کہ میں افغانستان کے بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ہے میں ان کی تعلیم کے لیے حکومت کی مدد کرنا چاہتا ہوں آسٹریلوی لیکچرار نے سکھ برادری سے افغانستان واپس آنے کی اپیل بھی کی اور ایک سابق رکن اسمبلی نریندر سنگھ خالصہ کی طالبان وزیر سراج الدین حقانی سے ملاقات بھی کرانے کا دعویٰ کیا۔

    واضح رہے کہ آسٹریلوی لیکچرار کو 2016 میں کابل یونیورسٹی کے دروازے سے اغوا کیا گیا تھا جب کہ 2019 میں انس حقانی اور خلیل حقانی کے رہائی کے بدلے آزادی ملی تھی۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    دوسری جانب افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا کے لئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ ہوگیا ”الجزیرہ” کے مطابق معاہدے کے کابل ائیرپورٹ سے چارٹرپروازوں کے ذریعے غیرملکیوں کا انخلا دوبارہ سےشروع ہوگا کابل ائیرپورٹ سے قطر ائیرویز کی ہفتے میں 2 چارٹرڈ پروازیں چلائی جائیں گی۔

    چارٹرپروازوں سے امریکا اور دیگر ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سےنکالیں گے۔ ان پروازوں کے ذریعے جان کےخطرے سے دوچار افغانوں کا بھی انخلا کرایا جائےگا قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے طالبان سے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

  • غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    دوحہ: افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا کے لئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے”الجزیرہ” کے مطابق معاہدے کے کابل ائیرپورٹ سے چارٹرپروازوں کے ذریعے غیرملکیوں کا انخلا دوبارہ سےشروع ہوگا کابل ائیرپورٹ سے قطر ائیرویز کی ہفتے میں 2 چارٹرڈ پروازیں چلائی جائیں گی۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    چارٹرپروازوں سے امریکا اور دیگر ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سےنکالیں گے۔ ان پروازوں کے ذریعے جان کےخطرے سے دوچار افغانوں کا بھی انخلا کرایا جائےگا قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے طالبان سے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق Axios نیوز ایجنسی نے قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو اطلاع دی کہ قطر اور طالبان نے ہر ہفتے قطر ایئرویز کی دو چارٹرڈ پروازیں چلانے پر اتفاق کیا ہے۔

    توقع ہے کہ اس معاہدے سے ہزاروں کمزور افغانوں اور غیر ملکی شہریوں کو ملک سے نکالنے کی اجازت دی جائے گی جب گزشتہ سال اگست میں امریکی فوجیوں اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد، طالبان نے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ اپ ڈیٹ گزشتہ ہفتے Axios کی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکہ اپنے انخلاء اور آباد کاری کی کوششوں کو دوبارہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    قطر نے ستمبر سے کابل سےچارٹرڈ پروازیں چلائی تھیں تاہم، خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، طالبان کے ساتھ اس تنازعہ کے درمیان دسمبر کے اوائل میں یہ چارٹرڈ پروازیں بند ہو گئی تھیں جس پر مسافروں کو پروازوں میں جانے کی اجازت دی جا رہی تھی مہینوں میں انخلاء کی پہلی پرواز 26 جنوری کو کابل سے دوحہ کے لیے روانہ ہوئی۔

    شیخ محمد کے ساتھ Axios کا انٹرویو پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد ہوا۔

    امریکی حکام نے بارہا طالبان کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کرنے میں قطر کے کردار کی تعریف کی ہے، جس نے افغانستان میں 20 سال تک امریکہ کے خلاف جنگ کی۔ واشنگٹن، جو ملک میں طالبان کو سرکاری طور پر جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، نومبر میں اعلان کیا کہ قطر افغانستان میں اس کے نمائندے کے طور پر کام کرے گا۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

    پیر کی میٹنگ کے دوران، بائیڈن نے قطر کے رہنما کو یہ بھی مطلع کیا کہ ان کی انتظامیہ خلیجی ملک کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو خطے میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا گھر ہے، ایک "بڑا نان نیٹو اتحادی”۔ کویت کے بعد قطر خلیج کا دوسرا ملک ہے جسے یہ عہدہ ملا ہے یہ درجہ دوحہ کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں خصوصی اقتصادی اور فوجی مراعات دے گا۔

    امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا دباؤ ہے کہ وہ ان افغانوں کے انخلاء میں اضافہ کریں جنہوں نے ملک میں غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کیا اور خاص طور پر طالبان کی طرف سے انہیں نشانہ بنائے جانے کا امکان سمجھا جاتا ہے وکلاء کا کہنا ہے کہ ہزاروں افغان باشندے جن کے امریکی فوج سے قریبی تعلقات ہیں ملک میں موجود ہیں۔

    پیر کےروز، اقوام متحدہ نے کہا کہ اسے طالبان کے ذریعے سابق حکومت سے منسلک تقریباً 100 افغان باشندوں کے قتل کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو اس گروپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہیں جبکہ ملک ایک انسانی بحران کا بھی شکار ہے جس نے 23 ملین افراد کو فاقہ کشی کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

  • طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    کابل:طالبان حکومت نے 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن شیخ عبدالباقی حقانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک بھر کی اگست سے بند جامعات کو فوری طور پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے2 فروری سےتمام جامعات کھول دی جائیں گی تاہم سرد علاقوں کی یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 26 فروری سے ہوگا۔

    شیخ عبدالباقی نے مزید بتایا کہ گرم علاقوں میں یونیورسٹیز 2 فروری سے کھل جائیں گی البتہ سرد علاقوں میں موسم کی سختیوں کے باعث تدریسی عمل کا آغاز 26 فروری سے ہوگا تاہم وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ جامعات میں طالبات کے لیے کیا پالیسی رکھی گئی ہے۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    قبل ازیں طالبان حکام اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ جامعات کے نہ کھلنے کی وجہ طالبات کے لیے اساتذہ اور علیحدہ کلاسوں کا انتظام نہ ہونا ہے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے 15 جنوری کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے افغانستان کے نئے سال سے کھول دیئے جائیں گے-

    طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغان سال نو 21 مارچ کو ہوتا ہے رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    واضح رہے کہ افغانستان عالمی قوتوں نے افغان فنڈز کی بحالی کو لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پر واپسی سے مشروط کیا ہے گزشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خواتین کو حکومت میں شامل کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نےمیڈیا سے گفتگو میں طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں سے متعلق کیے گئے وعدے پورا ہوتے نہ دیکھ کر گھبرا گیا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی انسانی حقوق اور قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جب تک وعدے پورے نہیں ہوتے طالبان سے مطالبے جاری رکھیں گے۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے