Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سعودی عرب ،سزائیں کم کرنیوالے ججوں کو سزائے موت کا سامنا

    سعودی عرب ،سزائیں کم کرنیوالے ججوں کو سزائے موت کا سامنا

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عدالتوں کو بھی اپنے تابع بنانے اور مرضی کے فیصلے کروانے کے لئے ججز کے خلاف بھی کاروائی شروع کر دی ہے، خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کی سزا میں کمی یا نرمی برتنے پر سعودی عرب میں دس ججوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان پر غداری کے مقدمے درج کئے گئے ہیں، ان ججوں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنیوالے افراد کی سزاؤں کو کم کیا،اور نرمی برتی

    جن ججوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں سے ایک عبداللہ بن خالد ال لوحیدان ہیں ، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنیوالی خاتون لوجین کی سزا کم کر دی تھی،لوجین جب عبداللہ بن خالد کی عدالت میں کیس لے کر گئیں تو اسکے دو ماہ بعد ہی اسکو رہا کر دیا گیا، سعودی قوانین کے مطابق لوجین پر جو جرم تھا اسکی سزا چھ سال قید تھی تا ہم عدالت نے اسکے ساتھ نرمی برتی اور صرف دو سال دس ماہ کی قید کے بعد جج عبداللہ بن خالد نے اسکی سزا ختم کر دی جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا،سعودی حکام نے لوجین کو مئی 2018 میں گرفتار کیا تھا، اسکے اہلخانہ نے اس دوران دعویٰ کیا تھا کہ جیل میں اس پر نہ صرف تشدد کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی بھی دھمکیاں دی گئی تھیں،

    مشرق وسطیٰ میں اصلاحات کے لیے مہم چلانے والی ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان ججوں کی جگہ سخت گیر وفاداروں کو جج تعینات کر رہے ہیں جو سیاسی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کے متعدد مقدمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔نئے تعینات ہونے والے ججوں نے سوشل میڈیا کے استعمال پر دو سعودی خواتین پر ڈرامائی طور پر سزائیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔

    نورہ القحطانی، جو پانچ بچوں کی ماں تھیں، نے ملک کے رہنماؤں کو ‘چیلنج’ کرنے کے لیے ٹویٹر استعمال کیا، اس کی سزا 13 سے بڑھا کر 45 سال کر دی گئی ہے، اسی طرح باقی خواتین کی سزائیں بھی نئے ججوں نے بڑھا دی ہیں، جن ججوں پر سنگین غداری کا الزام لگایا گیا ہے، ان میں سے چھ کا تعلق خصوصی فوجداری عدالت سے ہے، جو ‘دہشت گردی’ کے مقدمات چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور چارکا ہائی کورٹ سپریم کورٹ سے ہے

    ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کا دعویٰ ہے کہ اپریل 2022 میں ججوں کی گرفتاری کے بعد سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔ عبداللہ الاؤد کا کہنا ہے کہ ججوں پر مقدمے، اور پھر وہ بھی غداری کے،یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ان ججوں کے خلاف کارروائی ولی عہد کی جانب سے عدلیہ کو مکمل طور پر ان کی خواہشات کے تابع بنانے کی کوششوں کی علامت ہے۔ کوئی چیز سعودی شہری کے زندگی اور آزادی کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کرتی، ان ججوں کے خلاف مقدمہ چلا کر،محمد بن سلمان ملک کے ہر جج کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ انہیں اپنے متاثرین کی قسمت سے بچنے کے لیے ہر ممکن حد تک سفاک ہونا چاہیے۔

    گزشتہ سال سعودی عرب کی جانب سے سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد کم از کم 138 تھی جو کہ 2020 اور 2021 کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

    پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

    سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

    جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

    امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

  • عمران خان کیخلاف نیب مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    عمران خان کیخلاف نیب مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    نیب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف نیب میں دو کیسز ہیں دونوں کیسز پر نیب راولپنڈی تحقیقات کر رہا ہے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے تحائف اور اختیارات سے تجاوز کے معاملے کی انکوائری جاری ہے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مالی فوائد لینے اور ریکارڈ چھپانے کے معاملے پر بھی انکوائری جاری ہے

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف دونوں کیسز انکوائری سٹیج پر ہیں، کال آپ نوٹسز جاری کیے گئے، نیب راولپنڈی کے علاوہ پاکستان میں کہیں بھی عمران خان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے نیب نے لاہور ہائیکورٹ سے سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست نمٹانے کی استدعا کر دی

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں بھی نیب کی تحقیقات جاری ہیں،نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو 9 مارچ کو طلب کیا تھا، تا ہم وہ پیش نہ ہوئے، عمران خان کو نیب راولپنڈی کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں ریکارڈ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ملنے والے تحائف کو خلاف قانون فروخت کیا

    قومی احتساب بیورو نے 8 نومبر 2022 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں جس کے بعد کابینہ ڈویژن اور سرکاری توشہ خان سے عمران خان کے تحائف کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن، سرکاری توشہ خانہ کے افسران کا ابتدائی بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، ڈی جی نیب راولپنڈی توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان پر توشہ خانہ کے تحائف لیتے ہوئے اشیاء کے کم ریٹ لگانے کا الزام ہے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • حسان نیازی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    حسان نیازی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے انہیں عدالت پیش کر دیا

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، حسان نیازی کو ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا، وکلا بھی بڑی تعداد میں عدالت کے باہر موجود تھے، حسان نیازی کو جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت پیش کیا گیا،حسان نیازی کے وکیل فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے انویسٹی گیشن افسر نے موقف اختیار کیا کہ ساتھی ملزم کا پتہ چل گیا ہے اسلحہ اور گاڑی برآمد کرنے ہیں۔ پولیس نے حسان نیازی کے مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور حسان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا

    واضح رہے کہ حسان نیازی کو دو روز قبل گرفتار کیا گیا تھا، حسان نیازی کا عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا جس کے بعد انہوں نے ریمانڈ چیلنج کیا تھا مگر عدالت نے ریمانڈ کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی،

    وکیل نعیم حیدر کا کہنا ہے کہ حسان خان نیازی میرے ساتھ نکلے ، ہم نے بتایا ضمانت ہو گئی ہے ، تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات میں ضمانت کے باوجود ایس پی نوشیروان نے دہشت گردی عدالت کے باہر سے حسان نیازی کو اغوا کرلیا ہے۔ پولیس گردی کی انتہا ہوگئی ہے حسان نیازی وکیل جس کی ابھی عدالت نے ضمانت منظور کی ہے اسکو اغوا کرلیا ہے ،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • حالات کیسے بھی ہوں کرپٹ مافیا کے خلاف باہر نکلنا ہو گا،پرویز الہیٰ

    حالات کیسے بھی ہوں کرپٹ مافیا کے خلاف باہر نکلنا ہو گا،پرویز الہیٰ

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب ، تحریک انصاف کے صدر چودھری پرویز الہٰی سے راجہ محمد بشارت اور میاں محمود الرشید کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ نا اہل حکمرانو ں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے،آئی ایم ایف کے ترلے منتیں بھی کسی کام نہیں آ رہی ہیں،مفت آٹے کے حصول کیلئے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ،تحریک انصاف کو الیکشن مہم سے روکنے کیلئے گرفتاریاں کیا جارہی ہیں ،مریم نواز عدلیہ اور ججز کے خلاف مہم چلا رہی ہیں،نا اہل حکمران جو مرضی کر لیں عوام انہیں الیکشن سے بھاگنے نہیں دینگے،حالات کیسے بھی ہوں کرپٹ مافیا کے خلاف باہر نکلنا ہو گا،آئینی اور سیاسی حقوق کو پامال نہیں ہونے دینگے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے کہا ہے کہ فاشسٹ حکومت عمران خان پر 100جعلی مقدمات کی سنچری مکمل کرچکی ہے پنجاب 84 اور اسلام آباد میں 43مقدمات ملاکے جعلی مقدمات کی 100ہوچکے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان انتقامی کاروائیوں کا سامنا کررہے ہیں، عدلیہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف جعلی مقدمات ختم کرے

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی زیرصدارت سینٹرل پنجاب کی گورننگ باڈی کا اجلاس ہوا.اجلاس میں جلسے کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں جلسے کی سیکیورٹی سے متعلق منصوبہ بندی کی گئی، یاسمین راشد نے کہا کہ مینار پاکستان جلسے کے لیے قوم بے تاب ہے فاشسٹ حکومت نے شہریوں پر ظلم کی انتہاکی،مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ ہو گا،حکومت جتنا دباؤ ڈالے گی اتنا ہی عوام عمران خان کا ساتھ دیں گے، الیکشن میں پی ڈی ایم کو بری طرح شکست ہو گی،مریم صفدر عمران خان فوبیا کا شکار ہیں،

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • لاہورہائیکورٹ، پولیس، ایف آئی اے کوعمران خان کیخلاف کاروائی سے روکنے کا حکم واپس

    لاہورہائیکورٹ، پولیس، ایف آئی اے کوعمران خان کیخلاف کاروائی سے روکنے کا حکم واپس

    لاہور ہائیکورٹ، عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل کی جانب سے بیان حلفی لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دیا گیا، فواد چودھری نے اعتراض کیا کہ یہ بیان حلفی مصدقہ نہیں ہے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بیان حلفی کو دیکھ لیتے ہیں ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ مجھے آج 23کیسز کی لسٹ دی گئی،عدالت نے سرکاری وکیل کو لسٹ ہر بھی دستخط کرنے کا حکم دیدیا

    نیب پراسیکیوٹر اورایڈووکیٹ اظہر صدیق کے درمیان بحث ہوئی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جس آرٹیکل کی یہ بات کر رہے اس کے تحت مجھے کاپی نہیں دی، ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ مولانا عبدالستار نیازی اور چودھری ظہور الہٰی کیس رکھنا چاہتا ہوں،عدالت نے اینٹی کرپشن سے بھی کیسز کا ریکارڈ مانگا ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ کیا اینٹی کرپشن کا جواب آیا ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ اینٹی کرپشن صوبائی ادارہ ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ آپ خود پیش نہیں کر رہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ اس میں ہماری کوئی بدنیتی شامل نہیں ہے، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ میں نے 17 فروری کو عمران خان کے خلاف نیب کیسز کی فہرست کے لیے نیب کو خط لکھا، یہ نیب کی بدنیتی ہے، ہمارا حق ہے کہ بتایا جائے عمران خان کے خلاف نیب میں کتنے کیسز ہیں ،عدالت نے 24 مارچ کو تمام اداروں کو مقدمات سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے دیا،نیب وکیل نے رپورٹ فراہم کرنے کےلیے ایک دن کا وقت مانگ لیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ کیس ابھی ختم کردیں، آپ ریکارڈ فراہم کردیں، سرکاری وکیل نے لمبی تاریخ پر اعتراض کردیا ،وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دیں،پنجاب اور وفاق میں عمران خان سمیت دیگر کے خلاف 130 مقدمات درج ہیں اسلام آباد میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی لیڈر شپ پر 43 مقدمات درج ہیں اسلام آباد میں 9 مقدمات انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہیں، عمران خان کے خلاف ایف آئی اے میں 03 مقدمات درج ہیں عمران خان سمیت دیگر کے خلاف پنجاب میں 84 مقدمات درج ہیں پنجاب میں سب سے زیادہ مقدمات کی تعداد لاہور میں 27 ہے ،

    لاہور ہائیکورٹ نے پولیس اور ایف آئی کو عمران خان کے خلاف کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لے لیا ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے اور پولیس نے مقدمات کی تفصیلات پیش کردی ہے اب حکم امتناعی کو برقرار نہیں رکھ سکتے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • سپریم کورٹ آئینی ادارہ جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ آئینی ادارہ جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کیخلاف اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کی باتوں کو غلط سمجھا جاتا ہے،ہم نے ایک کیس میں کہا کہ 1988 میں ایک ایماندار وزیراعظم تھا ،ہماری ا یماندار وزیراعظم سے متعلق بات کو پارلیمنٹ نےغلط سمجھا ، ہم نے یہ نہیں کہا کہ آج تک صرف ایک ہی ایماندار وزیراعظم آیا ،ہم نے آئینی اداروں کو اپنے فیصلوں میں تحفظ دیا ہے، عدلیہ پر بھی حملے ہو رہے ہیں ، جس کا بھی تحفظ کرینگے سروسز ٹربیونل کے ایک بینچ نے غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا ،سروس ٹربیونل کے دوسرے بینچ نے بحالی کافیصلہ معطل کردیا ،بیوروکریسی میں تبادلوں ں کی منظوری کے بعد آپکا معاملہ ویسے بھی غیر موثر ہو چکا ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے جسے ہم تحفظ فراہم کریں گے، الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں، اگر شفاف انتخابات میں بدنیتی ہوگی تو ہم مداخلت کریں گے،سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے ہم صبر اور درگزر سے کام لے کر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ڈیموکرٹیک پراسس فیئر ہونا چاہیے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو بحال کیا تھا ، سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی بحالی کا تحریری حکم نامہ سپریم کورٹ نے جاری کیا تھا، سپریم کورٹ نے 17 فروری کو سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی بحالی حکم سنایا تھا ،عدالت نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ حقائق کا جائزہ لینے کے بعد واضح ہے کہ غلام محمود ڈوگر ٹرانسفر کی منظوری زبانی کی گئی زبانی منظوری کی بعد میں تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے اجازت حاصل کی گئی بادی النظر میں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر سپریم کورٹ 2 دسمبر کے حکم کی خلاف ورزی ہے ،غلام محمود ڈوگر کا معاملہ پہلے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، ایسے میں غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کیلئے دیا گیا 23 جنوری کا حکم برقرار نہیں رکھا جاسکتا غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا 23 جنوری کا حکم معطل کیا جاتا ہے

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

     ڈاکٹر یاسمین راشد اور سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی آڈیو لیک

  • جلسہ بنیادی آئینی حق وہ شرائط ہونگی جو قانون کے مطابق ہوں گی،عدالت

    جلسہ بنیادی آئینی حق وہ شرائط ہونگی جو قانون کے مطابق ہوں گی،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ڈی سی سے استفسار کیا کہ آپ نے پی ٹی آئی کارکنوں کی کوئی لسٹ تیار کی ہے؟ پی ٹی آئی کاموقف ہے کہ کوئی مقدمہ نہیں ہے پھر بھی لسٹیں بنائی گئیں جلسے کا کیا فیصلہ کیا گیا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر تمام معاملات کو حتمی شکل دی گئی ہے پی ٹی آئی نے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں ہم نے اجازت دے دی ہے ،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا نہ ہی ہم کسی سے ملے ہیں ،عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ تو پھر معاہدے پر دستخط کس کے ہیں ؟صدر پی ٹی آئی لاہور نے عدالت میں کہا کہ یہ سائن پرانے معاہدے کے ہیں،میں گزشتہ روز کسی میٹنگ میں شریک ہوا نہ سائن کیے، جلسے کی اجازت کیلئے بہت شرائط عائد کی گئی ہیں جوقانون کیخلاف ہے،لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوئی غیر قانونی شرائط عائد نہیں کر سکتے ،جلسہ کرنا بنیادی آئینی حق ہے وہ شرائط ہونگی جو قانون کے مطابق ہوں گی،پبلک آرڈر کو برقرار رکھنا ہے تو سب کیلئے ایک جیسا قانون ہونا چاہیے،

    جسٹس کامران راحیل شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل تک تو آپ نے جلسے کی اجازت تک نہیں دی تھی،کیا جو شرائط پی ٹی آئی کیلئے ہیں وہ دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی آپ نے لاگو کی ہیں ، ڈپٹی کمشنر نے عدالت میں کہا کہ جلسے کی اجازت کےلیے ڈپٹی کمشنر یا سی سی پی او کے علاوہ اسٹیک ہولڈرز ہوتے ہیں ،جسٹس راحیل کامران شیخ نے وکیل ڈپٹی کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو بلا کر سن لیتے ہیں ،عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو کون سی شرائط پر اعتراض ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو شرائط عائد کیں اسکا قانون بتائیں،وکیل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اگر عدالت کسی شرط میں ترمیم کرنا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جرم کرتا ہے تو عدالت آپ کو کارروائی سے نہیں روک سکتی ،پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں جلسے کی تیاریوں کے لیے مینار پاکستان کا ہولڈ اج سے ہی دے دیا جائے ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ جلسہ کب کرنا چاہتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ ہمارا جلسہ 25 کی رات کو شروع ہوجائے گا اور 26 کو دوپہر 3 بجے ختم ہو گا ،عدالت نے کہا کہ ہمارے پاس آپ کی درخواست 26 مارچ آئی ہے،آپ پہلے اپنا ذہن بنا لیں ہر4 گھنٹے بعد پوزیشن تبدیل نہ کریں، عدالتیں آپ کی مرضی سے نہیں چل سکتیں، عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو اجازت نامے کی شرائط میں ترمیم کر کے پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے مینار پاکستان کا ہولڈ دینے دے متعلق مناسب وقت دیں،جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقینی بنائیں کہ جلسے میں کوئی غیر مناسب کام نہ ہو ،آپ الیکشن کے درمیان ہیں یہ ناں ہوں آئندہ جلسے متاثر ہوں،

    پی ٹی آئی کارکنوں کو ہراساں کرنے اورگھروں پر چھاپوں کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل کو ہدایت لے کر آج ہی پیش ہونے کا حکم دے دیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا لسٹ بنانے سے پہلے یہ دیکھا گیا کہ موجود افراد کیخلاف کوئی مقدمہ ہے یا نہیں؟ کیا فہرستوں میں موجود افراد کیخلاف کوئی مقدمہ درج ہے یا ایسے ہی اٹھائے جا رہے ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ اسی نوعیت کا کیس جسٹس طارق سلیم شیخ کے پاس موجود ہے ،جسٹس طارق سلیم شیخ کے پاس آئی جی نے آج رپورٹ جمع کرانی ہے، عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کیس ٹرانسفر کر دوں تو کوئی آرڈر دکھائیں،

    سی سی پی او لاہور نے پی ٹی آئی کارکنوں کی جاری کی گئی لسٹ سے اظہار لاتعلقی کر دیا،اور کہا کہ ہم نے کوئی لسٹ تیار کی اور نہ ہی کوئی جاری کی ،پی ٹی آئی کارکنوں نے ہماری 2رائفلز چھینی ، گاڑی کو نہر میں پھینکا کیا گیا ،بہت سے نامعلوم افراد نامزد ہیں جیسے جیسے شناخت ہو رہی ہے کارروائی کر رہے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہریوں کو گرفتار کرنے سے پہلے قانونی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے یا نہیں؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ اسی نوعیت کی درخواست جسٹس طاق سلیم شیخ کے پاس زیر سماعت ہے، عدالت نے درخواست جسٹس طارق سلیم شیخ کے پاس لگانے کےلیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے 11 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ، سابق صوبائی وزیر میاں محمودالرشید کمیٹی کے کنوینئر مقرر کئے گئے ہیں،کمیٹی گرفتار افراد کی رہائی کے انتظامات اور دیگر ضروری اقدامات کرے گی کمیٹی میں ناصرسلمان، وقاص امجد، رانا مدثر، یوسف وائیں شامل ہیں کمیٹی میں وقار مشتاق، میاں بشیر،محمود جوئیہ،سعید بھٹہ اور خالد سندھو شامل ہیں

    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا
    پاکستان اور کرغزستان علاقائی اقتصادی انضمام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے. مہر کاشف
    گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلیسز کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ

  • 1990 سے 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم

    1990 سے 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے 1990 سے 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے حکم دیا کہ جن دوست ممالک نے تحائف دیئے وہ بھی بتائے جائیں توشہ خانہ سے متعلق کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی،2002کے بعد پبلک کیے گئے ریکارڈ کے ذرائع بھی بتائے جائیں،2002 کے بعد پبلک کیے گئے ریکارڈ کے ذرائع بتانے پروفاق نے اعتراض کیا ،وکیل نے کہا کہ ہم نے 2002 کے بعد پبلک کیے گئے ریکارڈ کے خلاف اپیل فائل کرنا ہے، جسٹس عاصم حفیظ نے وفاق کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپیل آپ کا حق ہے ،توشہ خانہ سے معلق سارا ریکارڈ پبلک کیا جائے،بغیر ادائیگی قیمت کوئی تحفہ نہیں رکھ سکتا،لاہورہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے شہری کی درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والی شخصیات کا ریکارڈ پبلک کرنے کا بھی حکم دیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ سے بغیر پیسے کے تحائف لے جانے والوں نے امانت میں خیانت کی ،توشہ خانہ کا ریکارڈ جس حالت میں بھی ہے اسے پبلک کیا جائے،

    واضح رہے کہ عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے 2002 سے 2022 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ بلک کر دیا ہے،لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، آج عدالت نے 2002 سے قبل کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے،

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، عمران خان عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کیا جائے، عدالت نے بھی ایسا کرنے کا حکم دیا تھا

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے گزشتہ روز گرفتار کئے گئے صحافی و یوٹیوبر صدیق جان کو عدالت پیش کر دیا گیا

    صدیق جان کو جب عدالت لایا گیا تو انہیں ہتھکڑی لگائی گئی تھی، صدیق جان کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، صدیق جان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے صدیق جان کی دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی، جج نے صدیق جان سے استفسار کیا کہ آپ پر ٹارچر تو نہیں ہوا ؟ جس پر صدیق جان نے عدالت میں کہا کہ جی تشدد نہیں ہوا ، لیکن میں ایک منٹ کچھ کہنا چاہتا ہوں، جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو موقع ملے گا ،جج نے تفتیشی سے سوال کیا کہ صدیق جان سے کیا برآمد کرنا ہے؟ پولیس نے کہا کہ صدیق جان سے شیلز برآمد کرنے ہیں، صدیق جان کے وکیل نے کہا کہ صدیق جان پر یہ دفعات لگتی نہیں ،صدیق جان پر لگائی گئی دفعات قابل ضمانت ہیں ،صحافیوں کا جرم یہ ہے کہ وہ جرائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ کیس اسلام آباد پولیس نے خود کو شرمندہ کروانے کیلئے بنایا ہے۔ جو کہانی پراسیکیوٹر اور تفتیشی نے سنائی وہ ایف آئی آر کا حصہ ہی نہیں ہے۔ صدیق جان ایف آئی آر میں کسی جگہ نامزد ہی نہیں ہے، نہ ہی نامعلوم نے جو جرائم کیے ان میں سے کوئی جرم کا الزام میرے موکل پر لگایا گیا۔ صدیق جان جوڈیشیل کمپلیکس کی بلڈنگ پر نہیں بلکہ چوہدری پلازہ کی بلڈنگ پر دیگر صحافیوں کے ہمراہ تھا۔ صدیق جان دس اور صحافیوں کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس سے پچاس میٹر دور ایک عمارت کی چھت پر کوریج کررہے تھے۔ صدیق جان شیلنگ سے مدہوش ایک سی ٹی ڈی اہلکار کو پانی پلاتے رہے اسکو ہوا دی۔ جب پولیس والے کا ہوش بحال ہوا تو اس نے شیلنگ شروع کردی تو صدیق نے اسکو منع کیا ،صدیق جان کے وکیل میاں علی اشفاق نے متعلقہ واقعے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی اور کہا کہ اسلام آباد پولیس کا یہ شخص کمانڈو ہے جو بتایا گیا یہ گلگت بلتستان کا ہے لیکن یہ جھوٹ ہے

    تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ویڈیو میں پولیس اہلکار اسلام آباد پولیس کا ملازم ہے ،صدیق جان نے پولیس کو شیل فائر کرنے سے روکا ،ویڈیو کی فرانزک کرانی ہے ان کے فوٹو گرائیمٹری ٹیسٹ بھی کرانے ہیں ،عدالت نے صدیق جان کو روسٹرم پر طلب کر لیا، صدیق جان نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا، صدیق جان نے کہا کہ دروازہ بند کردیا تھا تاکہ کوئی پی ٹی آئی کارکن نہ آجائے یہ پولیس والے آئے اور گر گئے ہم اوپر لے آئے ادریس کو پہلے صدیق جان سمجھا ادریس نے کہا ہاں میں صدیق جان ہوں لیکن بعد میں انہیں سمجھ آئی یہ وہ نہیں لیکن ساتھ لے ائے،جب شیل فائر کیے تو دو دوست بولے کہ یہاں نہ کرو واپس دھواں آتا ہے، پھر میں نے کہا، کیونکہ ہونا یہ تھا کہ وہاں سے پتھر آنے تھے،چوہدری پلازہ کے اوپر صرف میڈیا تھا ،ہم نے چھت پر جاکر ویڈیو بند کردی ، پولیس والا شیلنگ کی وجہ سے گر گیا تھا ،میرے گرفتار کرنے والوں میں فورس کے علاؤہ کچھ اور لوگ بھی تھے

    وکیل پولیس نے کہا کہ یہ ایسا کیس ہے جس میں فرانزک کرانا ہے، اگر ویڈیو میں صدیق جان ثابت نہیں ہوتے تو پھر بعد میں عدالت فیصلہ کرے، ریمانڈ دیں،فوٹو گرامیڑری ٹیسٹ کے لیے صدیق جان کو لاہور لیکر جانا ہے،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹے میں سب کچھ کر لیں،وکیل پولیس نے کہا کہ فرانزک لاہور سے ہوگا، اتنے وقت میں نہیں ہوگا،

    کیس کی سماعت کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے صحافی صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    قبل ازیں ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ صدیق جان کو تھانہ سی ٹی ڈی کے مقدمہ 3/23 میں گرفتار کیا،صدیق جان کو جوڈیشل کمپلیکس جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے تناظر میں گرفتار کیا گیا،

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • حسان نیازی عدالت پیش، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    حسان نیازی عدالت پیش، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو پولیس نے عدالت میں پیش کر دیا، حسان نیازی کو اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا،حسان نیازی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا، ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ چیک پوسٹ پر ملزم کی طرف سے ناکہ توڑا گیا ،ملزم نے چیک پوسٹ پر مزاحمت کی آفیسر کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ،تفتیشی افسر نے حسان نیازی کے 7 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ حسان نیازی کے وکیل نے ریمانڈ کی مخالفت کی، وکیل علی بخاری نے کہا کہ حسان نیازی دیگر وکلاء کے ساتھ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد نے عبوری ضمانت منظور کی، سی سی ٹی وی ویڈیوز منگوا لیں وکلاء کے درمیان سے حسان کو گرفتار کیا گیا،جوڈیشل میجسٹریٹ نے حسان نیازی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، حسان نیازی کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا،،حسان نیازی کی گرفتاری جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سے کی گئی، وکیل نعیم حیدر کا کہنا ہے کہ حسان خان نیازی میرے ساتھ نکلے ، ہم نے بتایا ضمانت ہو گئی ہے ، تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات میں ضمانت کے باوجود ایس پی نوشیروان نے دہشت گردی عدالت کے باہر سے حسان نیازی کو اغوا کرلیا ہے۔ پولیس گردی کی انتہا ہوگئی ہے حسان نیازی وکیل جس کی ابھی عدالت نے ضمانت منظور کی ہے اسکو اغوا کرلیا ہے ،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،