Baaghi TV

Tag: عدالت

  • اظہر مشوانی کی بازیابی کی درخواست پر نوٹس جاری

    اظہر مشوانی کی بازیابی کی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کے فوکل پرسن اظہر مشوانی کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرانے سے متعلق درخواست پر سیشن کورٹ لاہور میں سماعت ہوئی

    سیشن کورٹ لاہور نے واقعے پر پولیس سے 28 مارچ تک جواب طلب کرلیا ،سیشن کورٹ لاہور میں درخواست اظہر مشوانی کے بھائی نے جمع کرائی۔ درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ بھائی کو زمان پارک جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جبکہ پولیس کو ایف آئی ار کے لیے درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا ،درخواست گزار نے عدالت کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے اور مبینہ مغوی کو بازیاب کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد سیشن کورٹ لاہور نے مقدمہ درج نہ کرنے پر پولیس سے 28 مارچ تک جواب اور رپورٹ طلب کرلی

    واضح رہے کہ اظہر مشوانی کو غائب ہوئے دو روز گزر چکے ہیں، کسی بھی ادارے نے اظہر مشوانی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی، تحریک انصاف اظہر مشوانی کی رہائی کےلئے ٹرینڈ چلا رہی ہے ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اظہر مشوانی کو لاہور سے دوپہر میں اغوا کیا گیا، کہاں رکھا گیا، پتہ نہیں چل رہا ہے

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     انتظامیہ نے مختلف سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیئے

    مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

  • اسلام آباد پولیس پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں،ترجمان

    اسلام آباد پولیس پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں،ترجمان

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس عدالتوں کے احکامات کی بجا آوری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھاتی ہے ۔اسلام آباد پولیس پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ پولیس نے عدالتی احکامات پر عمل کیا لیکن دوسری جانب سے مجرمانہ عمل دھرائے گئے۔ الزامات محض تفتیش پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ بے بنیاد الزامات اور پراپیگنڈہ پولیس کو اپنے قانونی اقدامات سے نہیں روک سکتا ۔اسلام آباد پولیس قانون کی عملداری اور عدالتوں سے تعاون کے فرائض سر انجام دیتی رہے گی۔پولیس کا بنیادی فرض عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے جو کہ پولیس بخوبی ادا کرتی رہے گی۔قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائیگا ۔اسلام آباد پولیس کو منصوبہ بندی کے تحت افواہوں اور الزامات کا نشانہ بنایا جارہا ہےجسکی اسلام آباد پولیس مذمت کرتی ہے۔ اسلام آباد کیپیٹل پولیس بیک وقت دہشتگردی ،امن عامہ کے قیام اور جرائم کی سرکوبی کیلئے مصروف عمل ہے

    عمران خان کہتے تھےعدالت جاؤں گا تو قتل ہوجاؤں گا اب کل پیش ہوئے تو کیا قتل ہوگئے؟ مریم اورنگزیب
    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے
    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پیشی کے لئے گئے تھے وہاں تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی تھی، عمران خان عدالت پیش نہیں ہو سکے تھے بلکہ عدالت نے عمران خان کی حاضری کے لئے فائل گاڑی میں بھجوا دی تھی، بعد ازاں فائل بھی گم ہو گئی، عمران خان اسکے بعد لاہور واپس آ گئے، عمران خان کی پیشی کے حوالہ سے ہونیوالی ہنگامہ آرائی پر اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں

  • عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے،تین مقدموں میں ضمانت منظور

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے،تین مقدموں میں ضمانت منظور

    سابق وزیراعظم عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان سخت سیکورٹی میں عدالت پہنچے،عمران خان اپنی بلٹ پروف گاڑی میں احاطہ عدالت میں داخل ہوٸے عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، انسداد دہشتگردی عدالت نے گرفتاری سے روک دیا،عدالت نے چار اپریل تک عمران‌ خان کی ضمانت منظور کر لی،

    عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں تین مقدمات درج ہیں جن میں پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی موت، جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمات ہیں جس میں انسداد دہشتگردی اور اعانت جرم کی دفعات ہیں،

    عدالت پیشی کے موقع پر مختصر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آج اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ ہوگا، یہ ڈراتے رہیں ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں،خوف کی زنجیریں توڑ دی ہیں ہمارے 1600 ورکرز کو پکڑ لیا گیا ہے مگر آج کا جلسہ ہر صورت کامیاب ہوگا،لوگ آٹے کی لائنوں میں مر رہے ہیں، ہم بتائیں گے قوم کو دلدل سے کیسے نکالنا ہے،

    https://twitter.com/TheImranRaj/status/1639541629001293824

    قبل ازیں عمران خان نے لاہور میں درج تین مقدمات میں ضمانت کے لیے انسداد دہشتگری عدالت سے رجوع کر لیا ،عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے عبوری ضمانتیں دائر کر دیں ،عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شامل تفتیش ہونا چاہتا ہوں ،پولیس کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے ۔ عدالت تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گرفتاری سے روکے عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں دہشتگردی دفعات کے تحت تین مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سیکیورٹی کے لیے درخواست داٸر کر دی گئی، وکیل عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان آج انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوں گےعمران خان کو شدید سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں ،پہلے بھی عمران خان پر حملہ ہو چکا ہے عمران خان کو گاڑی سمیت عدالت میں اندر آنے دیا جائے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی عمران خٌان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے، عمران خان کی درخواست ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے منظور کر لی تھی، پانچ مقدمات میں حفاظتی ضمانتوں میں 27 مارچ تک توسیع کر دی گئی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا بھی حکم دیا تھا،

    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا

  • حماد اظہر، فواد چودھری کی ضمانتیں خارج

    حماد اظہر، فواد چودھری کی ضمانتیں خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت ، پاکستان تحریک انصاف کی ریلی کے وقت پولیس پر تشدد٫,اقدام قتل ٫ قتل اور جلاؤ گھیراؤ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کا معاملہ ،عدالت نے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر اور فواد چوہدری کی عبوری ضمانتیں خارج کردیں، عدالت میں عدم پیشی کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کی درخواست ضمانت خارج کی گئی،

    عدالت نے میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کی عبوری ضمانتوں پر 4 اپریل تک توسیع کر دی ،پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ ریس کورس پولیس نے 12 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا مقدمہ میں دہشت گردی ، قتل ،اقدام قتل ، لڑائی جھگڑا ، کار سرکار میں مداخلت سمیت بارہ دفعات شامل ہیں عدالت نے پی ٹی آئی رہنما محمود الرشید اعجاز چوہدری کی عبوری ضمانت 4 اپریل تک منظور کر لی

    تحریک انصاف کے رہنماء محمود الرشید نے انسداد دہشتگردی عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ بحران کا حل صرف انتخابات ہیں ، چیف الیکشن کمیشنر پارٹی بن چکا ہے،امپورٹیڈ حکومت انتخابات سے بھاگ رہی ہے،انتخابات میں جتنی تاخیر ہو گی سیاسی اور معاشی عدم استحکام اتنا ہی بڑھے گا،وکلاء سول سوسائٹی اور عوام مل کر عوامی تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں،ایک سال میں ملک کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے،مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

    علاوہ ازیں سیشن کورٹ لاہور ، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا رکن اظہر مشوانی کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،سیشن کورٹ نے پولیس سے 28 مارچ تک جواب طلب کرلیا ،ایڈیشنل سیشن جج نے اظہر مشوانی کے بھائی کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھائی کو زمان پارک جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے ۔پولیس کو ایف آئی ار کے لیے درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔عدالت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے اظہر مشوانی کو بازیاب کرانے کا حکم دے

  • جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

    جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع ہو گئی ہے

    سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندگان سے ریفرنس کی بابت مزید تفصیلات مانگ لیں ،سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے میاں دائود ایڈووکیٹ کو مراسلہ جاری کر دیا،مراسلہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری رولز کی دفعہ5 کی ضمنی دفعہ 3 کے تحت جاری کیا گیا. میاں داود ایڈووکیٹ سے جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس کی بابت بیان حلفی طلب کر لیا گیا

    میاں داود ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری رولز کے تحت بیان حلفی قانونی تقاضا نہیں ہے،قانونی تقاضا نہ ہونے کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل کو بیان حلفی اسی ہفتے جمع کرا دیں گے،رولز کے تحت شکایت کنندہ نے صرف اپنی شناخت کی تصدیق کرنی ہوتی ہے، ایسی خط و کتابت جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس میں تکنیکی حربوں کے ذریعے تاخیر پیدا کرنے کی کوشش ہے، تاخیر پیدا کرکے سربراہ سپریم جوڈیشل کونسل بدنیتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

  • حسان نیازی کوئٹہ پولیس کے حوالے

    حسان نیازی کوئٹہ پولیس کے حوالے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو کوئٹہ منتقل کئے جانے کا امکان ہے

    حسان نیازی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،کوئٹہ پولیس حسان نیازی کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد کچہری پہنچ گئی ،عدالت نے حسان نیازی کو جیل سے کچہری پیش کرنے کی ہدایت کردی جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے طلبی کا روبکار جاری کیا

    اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے حسان نیازی کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرکے کوئٹہ پولیس کے حوالے کردیا ،عدالت نے حکم دیا کہ تھانہ ائیرپورٹ میں درج مقدمہ میں کل پولیس کوئٹہ کے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے حسان نیازی کو پیش کرے

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حسان نیازی جو وکیل ہے اب انتقامی کاروائی کے تحت 18مارچ کو تھانہ ائیرپورٹ کوئٹہ میں درج مقدمہ میں گرفتار کرکے بلوچستان لے جا رہے ۔پاکستان میں عملی طور پرجنگل کا قانون نافذ ہوچکا ہے۔جعلی مقدمات بنا کرگرفتاریاں ڈالی جارہی ہیں،چیف جسٹس صاحب اس لاقانونیت اور انسانی حقوق خلاف ورزی کو روکیں ،فرح حبیب نے روبکار طلبی بھی ٹویٹ کی،

    قبل ازیں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی ،حسان نیازی نے درخواستِ ضمانت اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں دائر کی عدالت نے حسان نیازی کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری کر دیئے، عدالت نے پولیس کو حسان نیازی سے متعلق ریکارڈ سمیت کل طلب کر لیا ،گذشتہ روز حسان نیازی کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا، فاضل جج نے انویسٹی گیشن افسر کی جانب سے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی

    واضح رہے کہ حسان نیازی کو تین روز قبل گرفتار کیا گیا تھا، حسان نیازی کا عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا جس کے بعد انہوں نے ریمانڈ چیلنج کیا تھا مگر عدالت نے ریمانڈ کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی،

    وکیل نعیم حیدر کا کہنا ہے کہ حسان خان نیازی میرے ساتھ نکلے ، ہم نے بتایا ضمانت ہو گئی ہے ، تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ تمام مقدمات میں ضمانت کے باوجود ایس پی نوشیروان نے دہشت گردی عدالت کے باہر سے حسان نیازی کو اغوا کرلیا ہے۔ پولیس گردی کی انتہا ہوگئی ہے حسان نیازی وکیل جس کی ابھی عدالت نے ضمانت منظور کی ہے اسکو اغوا کرلیا ہے ،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج

    شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 14 مارچ کودرخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے، عدالت نے شاندانہ گلزار کے خلاف اسلام آباد کے ویمن تھانے میں بغاوت کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ سنایا ،شاندانہ گلزار کے خلاف نجی ٹی وی کے پروگرام میں اداروں کے خلاف اکسانے پر اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں 153 اے، 124 اے اور 505 کی دفعات شامل کی گئی تھیں جو بغاوت، اشتعال انگیزی اور منافرت پھیلانے کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جب سے حکومت ختم ہوئی ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت رہنما بھی اداروں پر مسلسل تنقید کررہے ہیں، عمران خان نے پہلے امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ امریکہ نے ہماری حکومت گرائی ، پھر یوٹرن لیا اور چیف الیکشن کمشنر کا نام لے لیا، پھر یوٹرن لے لیا اور جنرل ر باجوہ کا نام لے لیا، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ورکرز بھی اداروں پر تنقید سے باز نہیں آ رہے جب کسی کی گرفتاری ہوتی ہے تو پھر معافیاں مانگ کر انکو رہائی ملتی ہے،

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

  • جنسی زیادتی، قانون موجود،عمل نہیں، عدالت نے کی رپورٹ طلب

    جنسی زیادتی، قانون موجود،عمل نہیں، عدالت نے کی رپورٹ طلب

    سندھ ہائی کورٹ میں سندھ میں اجتماعی زیادتی اور بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق اینٹی ریپ ٹرائل اینڈ انویسٹی گیشن ایکٹ 2021 پر عملدرآمد کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ بدقسمتی سے قانون موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا پولیس اصلاحات کا بھی قانون بنایا گیا مگر مل نہیں ہوا ایک سال سے حکومتی جواب جمع نہیں کرایا جا رہا زیادتی کے کیسز میں عدالتی کارروائیاں بھی قانون کے مطابق نہیں چل رہیں ، پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹس بنائے جانے تھے خاتون پولیس تفتیشی افسر تک تعینات نہیں کی جاتی قانون پرعمل داری نہ ہونے پر روزانہ واقعات ہو رہے ہیں حالیہ دنوں میں کئی علاقوں میں افسوس ناک واقعات رونما ہوئے گینگ ریپ ٹرائل کے لیے قانون بنا مگر عمل درآمد نہیں ہو رہا قانون پرعمل درآمد نہ ہونے سے جنسی زیادتی کے کیسز متاثر ہو رہے ہیں

    عدالت نے سماعت کے بعد پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے زیادتی کے کیسز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ بتایا جائےکہ کتنے کیسز میں ملزمان بری ہوئے یا سزائیں ہوئیں، عدالت نے کیس پر سماعت 9 مئی تک ملتوی کردی

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

  • سعودی عرب ،سزائیں کم کرنیوالے ججوں کو سزائے موت کا سامنا

    سعودی عرب ،سزائیں کم کرنیوالے ججوں کو سزائے موت کا سامنا

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عدالتوں کو بھی اپنے تابع بنانے اور مرضی کے فیصلے کروانے کے لئے ججز کے خلاف بھی کاروائی شروع کر دی ہے، خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کی سزا میں کمی یا نرمی برتنے پر سعودی عرب میں دس ججوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان پر غداری کے مقدمے درج کئے گئے ہیں، ان ججوں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنیوالے افراد کی سزاؤں کو کم کیا،اور نرمی برتی

    جن ججوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں سے ایک عبداللہ بن خالد ال لوحیدان ہیں ، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنیوالی خاتون لوجین کی سزا کم کر دی تھی،لوجین جب عبداللہ بن خالد کی عدالت میں کیس لے کر گئیں تو اسکے دو ماہ بعد ہی اسکو رہا کر دیا گیا، سعودی قوانین کے مطابق لوجین پر جو جرم تھا اسکی سزا چھ سال قید تھی تا ہم عدالت نے اسکے ساتھ نرمی برتی اور صرف دو سال دس ماہ کی قید کے بعد جج عبداللہ بن خالد نے اسکی سزا ختم کر دی جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا،سعودی حکام نے لوجین کو مئی 2018 میں گرفتار کیا تھا، اسکے اہلخانہ نے اس دوران دعویٰ کیا تھا کہ جیل میں اس پر نہ صرف تشدد کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی بھی دھمکیاں دی گئی تھیں،

    مشرق وسطیٰ میں اصلاحات کے لیے مہم چلانے والی ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان ججوں کی جگہ سخت گیر وفاداروں کو جج تعینات کر رہے ہیں جو سیاسی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کے متعدد مقدمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔نئے تعینات ہونے والے ججوں نے سوشل میڈیا کے استعمال پر دو سعودی خواتین پر ڈرامائی طور پر سزائیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔

    نورہ القحطانی، جو پانچ بچوں کی ماں تھیں، نے ملک کے رہنماؤں کو ‘چیلنج’ کرنے کے لیے ٹویٹر استعمال کیا، اس کی سزا 13 سے بڑھا کر 45 سال کر دی گئی ہے، اسی طرح باقی خواتین کی سزائیں بھی نئے ججوں نے بڑھا دی ہیں، جن ججوں پر سنگین غداری کا الزام لگایا گیا ہے، ان میں سے چھ کا تعلق خصوصی فوجداری عدالت سے ہے، جو ‘دہشت گردی’ کے مقدمات چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور چارکا ہائی کورٹ سپریم کورٹ سے ہے

    ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کا دعویٰ ہے کہ اپریل 2022 میں ججوں کی گرفتاری کے بعد سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔ عبداللہ الاؤد کا کہنا ہے کہ ججوں پر مقدمے، اور پھر وہ بھی غداری کے،یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ان ججوں کے خلاف کارروائی ولی عہد کی جانب سے عدلیہ کو مکمل طور پر ان کی خواہشات کے تابع بنانے کی کوششوں کی علامت ہے۔ کوئی چیز سعودی شہری کے زندگی اور آزادی کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کرتی، ان ججوں کے خلاف مقدمہ چلا کر،محمد بن سلمان ملک کے ہر جج کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ انہیں اپنے متاثرین کی قسمت سے بچنے کے لیے ہر ممکن حد تک سفاک ہونا چاہیے۔

    گزشتہ سال سعودی عرب کی جانب سے سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد کم از کم 138 تھی جو کہ 2020 اور 2021 کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

    سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

    بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

    پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

    سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

    جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

    امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

  • عمران خان کیخلاف نیب مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    عمران خان کیخلاف نیب مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    نیب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف نیب میں دو کیسز ہیں دونوں کیسز پر نیب راولپنڈی تحقیقات کر رہا ہے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے تحائف اور اختیارات سے تجاوز کے معاملے کی انکوائری جاری ہے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مالی فوائد لینے اور ریکارڈ چھپانے کے معاملے پر بھی انکوائری جاری ہے

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف دونوں کیسز انکوائری سٹیج پر ہیں، کال آپ نوٹسز جاری کیے گئے، نیب راولپنڈی کے علاوہ پاکستان میں کہیں بھی عمران خان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے نیب نے لاہور ہائیکورٹ سے سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست نمٹانے کی استدعا کر دی

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں بھی نیب کی تحقیقات جاری ہیں،نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو 9 مارچ کو طلب کیا تھا، تا ہم وہ پیش نہ ہوئے، عمران خان کو نیب راولپنڈی کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں ریکارڈ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ملنے والے تحائف کو خلاف قانون فروخت کیا

    قومی احتساب بیورو نے 8 نومبر 2022 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں جس کے بعد کابینہ ڈویژن اور سرکاری توشہ خان سے عمران خان کے تحائف کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن، سرکاری توشہ خانہ کے افسران کا ابتدائی بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، ڈی جی نیب راولپنڈی توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان پر توشہ خانہ کے تحائف لیتے ہوئے اشیاء کے کم ریٹ لگانے کا الزام ہے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،