Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • شیر افضل مروت،سلمان اکرم راجہ کی لفظی جنگ،بیرسٹر گوہر بھی بول پڑے

    شیر افضل مروت،سلمان اکرم راجہ کی لفظی جنگ،بیرسٹر گوہر بھی بول پڑے

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کی تعیناتی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مرضی سے ہوئی ہے اور کس کو تعینات کرنا یا کس کو ہٹانا یہ مکمل طور پر بانی پی ٹی آئی کا اختیار ہے، اور ایسی تعیناتیاں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت کی جانب سے سلمان اکرم راجہ پر پارٹی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا آئین بانی پی ٹی آئی ہیں اور یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومتی کمیٹی کے ساتھ تیسری میٹنگ کرے گی اور اس میٹنگ میں پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے سامنے اپنے نکات لکھ کر رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات پارٹی کے موقف کو واضح کرنے کے لیے اہم ہیں اور پی ٹی آئی اپنے اصولوں پر قائم رہے گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سلمان اکرم راجہ اور شیر افضل مروت کے درمیان پارٹی امور پر شدید اختلافات دیکھنے کو ملے تھے۔ سلمان اکرم راجہ نے شیر افضل مروت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیر افضل مروت روز ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور انہیں پارٹی پالیسی کا بالکل ادراک نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ شیر افضل مروت جب میڈیا میں آتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ایسا کہہ دیتے ہیں جو پارٹی کے مفاد میں نہیں ہوتا۔

    سلمان اکرم راجہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ پارٹی آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل بن ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پارٹی آئین کو پامال کریں گے تو پھر پاکستان کے آئین کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ ایک سال قبل پارٹی میں شامل ہوئے تھے اور اب وہ پارٹی امور کی سمجھ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ سلمان اکرم راجہ کی پارٹی کے معاملات پر سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باعث وہ اسلام آباد میں رہتے ہوئے صرف 15 دن لاہور میں گزارنے کے بعد ٹی وی چینلز پر آ کر بیانات دیتے ہیں۔

    حمزہ یوسف نے ایلون مسک کو "دنیا کا سب سے خطرناک آدمی” قرار دے دیا

    ٹیکس نہ دینے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا، وزیراعظم

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

  • عمران خان کو رانا ثنا اللہ  کی  پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اور ڈاکٹر عظمیٰ جب اندر گئے تو پہلے ہمیں گیٹ سے اندر جانے سے روکا گیا

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عظمٰی نے جب عمران خان سے کہا کہ علیمہ خان کو آپ سے ملنے نہیں دیا جا رہا تو عمران خان نے عدالت کی کاروائی روک دی۔،مجھ پر آج بین لگا تھا اور عمران خان سے نہیں ملنے دیا جا رہا تھا،سلمان اکرم راجہ کو عمران خان نے نامزد کیا ہے اور اپنے ہی لوگ اُس کے پیچھے لگ گئے ہیں، سلمان اکرم راجہ وہی کرے گا جو عمران خان کہے گا، عمران خان بتا کر بھیجتے ہیں کہ میرے ٹویٹر اکائونٹ پر کیا کرنا ہے،عمران خان کہتے کہتے تھک گئے کہ میں عدالت کے ذریعے اپنے کیسز کا سامنا کر کے باہر نکلوں گا، وہ ڈیل کے تحت نہیں، سرخرو ہو کر جیل سے نکلیں گے، رانا ثنا اللہ کو بتائیں عمران خان سونا نہیں ہیرا ہے، عمران خان کو رانا ثناءاللہ خان کی کی گئی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ۔ہمیں کہا گیا آپ لوگ اکیلے ہیں،عمران خان کا پیغام قوم کو دینا بند کر دیں۔ ہمیں دو مہینے پہلے پیغام دیا گیا تھا کہ آپکی اے آئی ویڈیوز نکال دیں گے۔ ہم نے کہا ہمارے ساتھ پورا پاکستان کے سب بہن بھائی اور پورا سوشل میڈیا کھڑا ہے۔ جب تک عمران خان رہا نہیں ہو جاتے ہم عمران خان کا پیغام ضرور پہنچاتے رہیں گے، عمران خان اڈیالہ میں بیٹھ کر اپنی جماعت چلا رہے ہیں اور تمام فیصلے خود کررہے ہیں،

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

  • توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس 14 جنوری تک ملتوی کر دیا گیا

    سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،عمران خان کو جیل کی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی اور وکلاء غیرحاضر رہے، ایک گواہ پر جرح اور ایک کا بیان مکمل کر لیا، مزید5 گواہ طلب کر لئے گئے، اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی کارروائی ہو رہی ہے۔ سماعت کے دوران ملزمہ بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد احد پر جرح مکمل کی گئی۔ اس جرح کا عمل بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے کیا۔ اس کے علاوہ، استغاثہ کے گواہ طلعت کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید پانچ گواہ طلب کرلئے ہیں جن میں محمد شفقت، قیصر، عمر صدیق، محسن اور فہیم شامل ہیں۔ ان گواہوں کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے انہیں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    جج نے واضح طور پر کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر وکلا نے گواہوں پر جرح مکمل نہ کی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

  • بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر   گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا دن،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات ختم ہو گئی

    ملاقات کرنے والوں میں علیمہ خان، عظمی خانم اور نورین خانم شامل تھے،بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی،ملاقات کے بعد فیملی ممبران اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر علی امین گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے ،صحافی نے سوال کیا کہ واقعی ایسا ہے؟جس پر علیمہ خان نے جواب میں کہا ایسا ہی ہے گنڈاپور ہی آفر لیکر آئے تھے جس کو عمران خان نے مسترد کر دیا تھا اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا کہا.عمران خان کو آفرز آ رہی ہیں لیکن مذاکراتی کمیٹی کو کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا، انکو کیوں آفر نہیں دی جا رہیں،عمران خان کو آفر کی جاتی ہے کہ چپ رہو اور حکومت چلنے دو، یہ آفر تو نہیں ہے،ڈیڑھ سال سے یہ آفر آ رہی ہے،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ مجھے کتابیں پہنچا دیں، کئی مہینوں سے عمران خان کو بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،حالانکہ جیل مینوئل کے مطابق اجازت ہے، نہ ہی انکو ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ہے، عمران خان کے ڈاکٹر کی ملاقات نہیں کروائی جاتی، رہائی بارے عمران خان کو کچھ نہیں پتہ، بہت کیسز ہیں، دنیا ساری دیکھ رہی ہے، کہ آپ کیا کیسز بنا رہے ہیں،کیا مذاق بنا ہوا ہے، ہائیکورٹ میں کیس دم توڑ جاتا، عمران خان بڑے مایوس تھے کہ ان کوسزا نہیں ہوئی،تحریک شروع ہو چکی ہے ، اوورسیز پاکستانی شامل ہو رہے ہیں، پاکستانی پاکستان میں ہوں یا باہر سب سے زیادتی ہو رہی ہے، احتجاج کرنے والوں کو دھمکیاں ملتی ہیں،عمران خان نے کہا ہے کہ باہر سے پیسے نہ بھیجیں.مذاکرات چلانے ہیں تو چلائیں روکا کس نے ہے؟ جیل کے اندر ملاقات کروانے کیلئے صبح 7 بجے دروازے کھلتے ہیں، اب کیوں مذاکراتی کمیٹی کو ملنے نہیں دیا جارہا ہے، عمران خان نے کہا ہے پہلے یہ سنجیدگی دکھائیں پھر دیگر معاملات پر بات ہوگی،

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • جمائما  جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    جمائما جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    جنوبی افریقا کے شہر کیپ ٹاؤن میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ ایک ہائیکنگ کے دوران پہاڑی سے گر کر زخمی ہو گئیں۔

    جمائما گولڈ اسمتھ ہائیکنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوئیں اور انہیں فوری طور پر کیپ ٹاؤن کے ایک مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ اب بہتر محسوس کر رہی ہیں۔ تاہم، تازہ ترین تصاویر میں انہیں وہیل چیئر پر بیٹھا اور بیساکھیوں کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے ان کے زخموں کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جمائما گولڈ اسمتھ جنوبی افریقا میں تعطیلات گزارنے آئی ہوئی تھیں، وہ اپنے بیٹوں سلیمان اور قاسم کے ہمراہ سال نو کے موقع پر جنوبی افریقا میں موجود تھیں۔جمائما گولڈ اسمتھ کی اس حادثے میں زخمی ہونے کی خبر ان کے مداحوں اور اہل خانہ کے لئے باعث تشویش بنی ہوئی ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمائما نے قدرتی مناظرات کے وسط میں ہائیکنگ کرنے کا ارادہ کیا تھا، جو جنوبی افریقا کی خوبصورت پہاڑیوں اور قدرتی ماحول کی وجہ سے مشہور ہیں۔

    جسپریت بمراہ کی انجری،رکی پونٹنگ کا انکشاف

    صاف ستھرا پروگرام ناکام ،قوم کے اربوں روپیہ برباد

  • بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات پر سنجیدہ ہے تو ان کے نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ صرف وقت ضائع کرنے کا عمل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں آیا اور ان کی مذاکراتی کمیٹی صرف دو مطالبات پر بات کر رہی ہے، جو پہلے ہی حکومت کو بتا دیے گئے ہیں۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ "میرے پاس میری مذاکراتی کمیٹی حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں لے کر آئی ہے، اور اگر حکومت انہیں ملاقات کی اجازت دیتی ہے، تو وہ مجھ سے بات کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو اپنی سنجیدگی دکھانی ہوگی اور ان کے مطالبات پر بات کرنی ہوگی تاکہ ایک نتیجے تک پہنچا جا سکے۔عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اس کیس کا فیصلہ کیوں نہیں سنایا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ "یہ مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میں کسی صورت میں ڈیل نہیں کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ "یہ جب بھی فیصلہ سنائیں گے، انہیں بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ بشریٰ بی بی پر مذاکرات کرنے کا کوئی الزام درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو بھی مذاکرات کا عمل ہوگا، وہ میری مذاکراتی ٹیم کے ذریعے ہوگا اور میں خود اس کے حتمی فیصلے کروں گا۔”عمران خان نے جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لا کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ "ان کا مارشل لا اتنا بدترین نہیں تھا، اُس دور میں میڈیا کو آزادی تھی۔ میں خود بھی اُس دور میں جیل گیا تھا۔”

    دوسری جانب، تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اس بات سے آگاہ کیا۔ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کل عمران خان سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ اس ملاقات کے بعد آگے کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔

    عمران خان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل میں اب مکمل طور پر "لیٹ” چکے ہیں

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

  • حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا جو لاپتہ ہیں اُس پرآواز کیوں نہیں اُٹھا رہے؟ پارٹی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی تصاویر جاری کریں، لوگوں کو بتائیں، عمران خان نے کہا، 26 نومبر کا حساب دینا ہوگا، یہ نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ایسا تاثر دیا جائے کہ عمران خان بھی حکومتی این آر او کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عمران خان بیک ڈور چینلز کے ذریعے حکومت سے معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ بالکل غلط ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ حکومت کی طرف سے یہ پیغامات عمران خان تک براہ راست نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے پہنچائے گئے ہیں۔ ان پیغامات میں حکومت نے کئی مرتبہ عمران خان سے کہا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں یا پھر انہیں ہاؤس اریسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ علیمہ خان نے کہا کہ حکومت کے ان پیغامات کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان خاموش رہیں اور حکومت کو چلنے دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت سے کسی بھی بیک ڈور مذاکرات میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عمران خان کے دو بنیادی مطالبات ہیں: پہلا، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر ایک جوڈیشل کمیشن کا قیام، اور دوسرا، بے گناہ افراد کی رہائی۔ علیمہ خان کے مطابق، عمران خان کا خیال ہے کہ جو کچھ بھی ہونا چاہیے وہ عدلیہ اور قانون کے ذریعے ہو، اور وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں۔علیمہ خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی این آر او یا بیک ڈور رابطے کی حمایت نہیں کرتے اور وہ عدالتوں سے سزا سنوانا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ ان کے خلاف الزامات کس نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں فوری فیصلہ سنایا جائے تاکہ اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے۔

    علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کارکنان کے لاپتا ہونے کی صورتحال کا پتہ چلائیں اور اس معاملے کو میڈیا میں اُٹھائیں۔ بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کے واقعات کا حساب لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ اس دن ہونے والے آپریشن کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا موقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا خوف ختم ہو جائے اور وہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں سنجیدگی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی بھی اس پر تیزی سے عمل کرے گی، لیکن اگر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو پھر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے سامنے پی ٹی آئی کے دو مطالبات ہیں، مگر ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ مذاکراتی کمیٹی سے ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے بانی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا، جس سے مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔علیمہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 26 نومبر کے آپریشن کے حوالے سے عمران خان نے کہا تھا کہ اس پر حکومت کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے کارکنان اب مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اس معاملے پر آواز اُٹھائیں گے۔

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • بانی پی ٹی آئی  کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 14 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں لکھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ پر سعودی ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ کا تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا الزام ہے، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے خلاف تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے پر کریمنل کارروائی شروع کی گئی، پراسیکیوٹر کے مطابق تحفہ جمع نہ کروا کر بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے پروسیجر کی خلاف ورزی کی، پراسیکیوٹر کے مطابق تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کروا کر کرمنل بریچ آف ٹرسٹ کیا گیا۔

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ پر پریشر ڈال کر تحفے کی قیمت کم لگوانے کا بھی الزام ہے، الزام ہے کہ جیولری سیٹ کم قیمت لگوا کر لینے سے قومی خزانے کو 3 کروڑ 28 لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا، ایف آئی اے چالان کے مطابق تحفے کی رسید کے ساتھ ساتھ تحفہ جمع کرانا بھی لازم تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے توشہ خانہ رولز کے مطابق تحفہ نہیں بلکہ صرف رسید جمع کرانا لازم تھی، اس بات سے انکار نہیں کیا گیا بانی پی ٹی آئی نے بذریعہ ڈپٹی ملٹری سیکرٹری رسید توشہ خانہ میں جمع کرائی، بادی النظر میں تحفہ جمع نہ کرائے جانے پر کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی تھی اس معاملے سے نکلنے کےلیے 2023 میں کابینہ ڈویژن نے آفس میمورینڈم میں ترمیم کی، آفس میمور ینڈ م میں ترمیم کر کے رسید کی جگہ تحفہ جمع نہ کرانے پر کارروائی کا لکھا گیا۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    فیصلے کے مطابق پراسیکیوٹر نےبھی تسلیم کیا کہ آفس میمورینڈم کا اطلاق دو سال پہلے ہونے والے عمل پرنہیں ہو سکتا، عدالت کے عارضی تعین کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس مزید انکوائری کا کیس ہے، پراسیکیوٹر نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی توشہ خانہ ون میں بھی سزا یافتہ ہیں ضمانت کے حقدار نہیں، بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ون کیس میں سزا نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض نہ کرنے پر معطل ہو چکی ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب پراسیکیوٹر توشہ خانہ ون کیس بےضابطگیوں کے باعث سزا کالعدم کر کے ریمانڈ بیک کرنے کی بھی استدعا کر چکے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے تحفے کی کم قیمت لگوانے میں بانی پی ٹی آئی کے اثرانداز ہونے کے پہلو پر زور دیا، ایف آئی اے کا یہ کیس نہیں کہ بانی پی ٹی آئی یا ان کی اہلیہ نے براہ راست دھمکی دی یا پریشر ڈالا۔

    عامر خان کے بیٹے جنید خان بچپن میں کونسی بیماری میں مبتلا تھے؟

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحفے کی قیمت کا تعین کرنے والے صہیب عباسی کا بیان بھی تاحال ٹرائل کورٹ کے سامنے ریکارڈ نہیں ہوا، صہیب عباسی چیئرمین نیب کیجانب سےمعافی ملنے پر کیس میں وعدہ معاف گواہ بنے،ایف آئی اے حکام کی جانب سے صہیب عباسی کی معافی سے متعلق کچھ سامنے نہیں آیا، بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ پر گراف جیولری سیٹ حاصل کرنے سے متعق الزام لگایا گیا، تحفے کی رقم جمع کرانے کی رسید بانی پی ٹی آئی نہیں بلکہ بشریٰ بی بی کے نام پر جاری کی گئی۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    عدالتی فیصلے میں ہے کہ بانی پی ٹی آئی 72 سال کے ہیں اور اس کیس میں چار ماہ سے زائد عرصے تک زیرحراست رہے، کیس ایف آئی اے کو منتقل ہونے کے بعد تفتیشی افسر نے بانی پی ٹی آئی سے سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس نیب نے دائر کیا تھا اس کا مطلب ہے کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے، بانی پی ٹی آئی پر فرد جرم تاحال عائد نہیں کی گئی، ٹرائل جلد مکمل ہوتا نظر نہیں آ رہا، کیس کے دستاویزی شواہد پہلے ہی پراسیکیوشن کے قبضے میں ہیں، ٹمپرنگ کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

    فیصلے میں لکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال نہ کریں اور ہر سماعت پر ٹرائل کورٹ میں پیش ہوں، بانی پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو پراسیکیوشن ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔

    وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھاتوشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نامزد ہیں۔

  • عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔ تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں رد کر دیں ہیں اور کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غلط خبریں پھیلائی ہیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ "ہمارے کسی بھی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی ہی مذاکرات میں شامل ہے اور وہی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ "ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔” بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اُنہیں امید تھی کہ آج ملاقات ہوگی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کل تک یہ ملاقات ممکن ہو جائے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے دو اہم مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو اسیران کی رہائی اور دوسرا جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے ان مطالبات کے لیے ایک وقت کی حد بھی دی ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کسی بھی ذاتی فائدے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں گواہوں نے عدالت میں بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں امید ہے کہ القادر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں بری ہوں گے۔”اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر فوری طور پر عمل کرے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی